Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, March 31, 2014

...................
مشرف کو آئینہ دکھانا ضروری ہو چکا ہے ..................

.......

ویسے تو ذاتی طور پر میں نے ٣٠ سے زیادہ کتابوں کا مواد لکھا ہے .مگر ١٢ عدد کتابیں ایسی ہیں جو پبلش کر سکا ہوں .یہ سب الفاظ .شاعری.کالم .تجزیے میری ویب سائٹ پر بکھرے پڑے ہیں .جن میں کافی کچھ جناب مشرف کے بارے میں لکھا ..آج صرف ان ہی کی چند باتوں کا جواب دینے جا رہا ہوں .معذرت کے ساتھ ..١.مشرف صاحب نے عدالت میں فرمایا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا اس لئے میں نے یہ اقدام کیا ..جبکہ غلط کہا اور جھوٹ کہا ..ان کو ٣ تاریخ اور ١٢ تاریخ کا فرق بھی کسی وکیل نے نہیں بتایا ..ویسے بھی وہ اور ان کے وکیل یہ سہی نقطۂ بھول چکے ہیں . کہ میں جہاز میں.. ہوا میں.. آسمان اور زمین کے درمیان تھا . تو میری جگہ کوئی بھی ہوتا .یہی فیصلہ با امر مجبوری کرتا ..میں نے بھی مجبوری کے تحت یہ فیصلہ کیا .جبکہ وہ یہ نقطۂ بھول چکے ہیں ..٢..وہ کہتے ہیں کہ غازی اور شہید کا چناؤ کرنے والے غدار نہیں کہلاتے .یہ بھی غلط ہے ..ہر حکمران کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں وہ قوم سے کمٹمنٹ کرتا ہے اور معاوضہ لیتا ہے ..اور قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کا اختیار اس کو کوئی قانون اجازت نہیں دیتا ..کیونکہ جب تم پروٹوکول کے بغیر ہو گے تو تم کو ہر ٹریفک کے اشارے پر رکنا ہو گا ..قانون سب کے لئے برابر ہے ..ایک گورنمنٹ کے ملازم کو قانون سے ٹکراؤ کی اجازت کہاں ہے ٣......اور کارگل کی بات بار بار نہ کرو .یہ تمہاری ڈیوٹیka حصہ تھا ..٤..جہاں تک حرام کی کمائی کے ایک روپے کی بات ہے .تو اصل فیصلہ ہلال حرام کا خدا کی عدالت میں ہو گا ..میں اتنا جانتا ہوں کہ طارق عظیم جو آپ کے کروڑوں روپے کے پلاٹ فروخت کر کے تم کو رقم پنچاتا تھا ..وہ بھی .فارم ہاؤس بھی ..لندن کی پراپرٹی بھی .اور دبئی .امریکہ کے اخراجات ..یہ سب کچھ ہلال حرام سوچنے کا ہے . بات کرنا آسان ہے ..اتنا کچھ لکھ سکتا ہوں تمہارے اور دوسرے حکمرانوں کے حرام کے بارے میں کہ تم سن بھی نہیں سکو گے ..بہتر ہے منہ بند ہی رکھوں ..میں نے تو یہ بھی سنا تھا ...کہ امریکہ میں تمہارے بیٹے کو بھی کوئی اور رقم بھیجتا رہا ہے ..٥..تم کہتے تھے میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں .یہ بھی جھوٹ ساری دنیا نے دیکھ لیا ..٦.پھر کہا کہ میں باہر جانے کی حکمران سے التجا نہیں کروں گا ..یہ کام بھی تم نے کر دکھایا ..٧..تم کہتے ہو میں بزدل نہیں ..یہ بھی جھوٹ ...میرے نزدیک کالا باغ ڈیم نہ بنانا ..نظام کو تبدیل نہ کرنا ..امریکا کی ہر بات مان لینا ..کسی کی جنگ کو اپنی جنگ کہنا ..یہ سب کچھ اگر بزدلی نہیں ..تو پھر تم واقیی غدار بھی ہو ..٩..اپنی کتاب خود پڑھ لو ..تم خود فیصلہ کر لینا اپنے ضمیر کے ساتھ کہ غدار تم ہو یا میں ہوں ..جس جاوید ہاشمی کو تم نے بغاوت کے مقدمے میں اندر کیا ..ووہی شخص سلوٹ کے قابل ہے ..اور محب وطن ہے تم سے جرات والا ..جبکہ تم نے میرے جیسے لاکھوں کے جزبات کو ٹھیس پنچائی .اور ہمارے ارمانوں خواہشات کا خون کیا ..اس لئے تم میرے اخلاقی .قانونی اور دینی مجرم بھی ہو ..جس کا فیصلہ خدا کی عدالت میں ہو گا .دیکھنا کتنے ہاتھ تیرے گریبان تک پنچتے ہیں ..کیونکہ ہم لوگوں نے تمہارے آنے پر مٹھایاں تقسیم کی تھیں .تم نے نظام تبدیل کرنے کی بجاۓ ..چوروں .لٹیروں کو ساتھ ملا کر اقتدار کے مزے لیتے رہے اور پاکستان کو صومالیہ بنانے کی طرف دھکیل چکے ہو ..تھر کے پروجیکٹ کا افتتاح کیا مگر ویران چھوڑ دیا ..کیوں...انڈیا نے ہمارے پانی پر قبضہ جما لیا اور تم بزدل دیکھتے رہے ..دہشت گردی کی جنگ میں ٤٠ ہزار جانیں رائگاں چلی گئیں ..ان کا لہو کس کے ہاتھ تلاش کروں .ابھی وہ آگ بھجی نہیں ہے جس آگ میں تم نے ہم کو پھینک دیا تھا ..اس کا جواب کون دے گا ..جو ٩٠ ارب کا ملک کے خزانے کا نقصان ہو چکا ہے .اس کا حساب کون دے گا ..تم تو حسین حقانی کی طرح کسی بےغیرت کی ضمانت پر باہر چلے جاؤ گے .ہمارا کیا ہو گا ..ہم تو تم سب غداروں کا بویا ہوا بیج کاٹتے رہیں گے .اور تمہاری لگائی ہوئی آگ میں جلتے رہیں گے .....تم سب حکمران ایک جیسے ہو .ہم کو تلاش کسی انسان ..کسی مرد مومن کی ہے ..دیکھتے ہیں وہ کب اس دھرتی پر خدا بھیجتا ہے ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧٣٣٣٩ ...

Saturday, March 29, 2014

.......................
پاکستان میں عام آدمی پارٹی کیوں ضروری ہے ..........

............

پہل تو پاکستان کو کرنی چاہئے تھی مگر انڈیا اس معاملہ میں بھی حسب روایت نمبر لے گیا ..اور ہم دیکھتے رہ گہے....اس کی بھی وجوہات تھیں ..کیونکہ یہاں زرداری صاحب کی منافق جمہوریت کی اور مشرف کی غلط پالیسیوں اور نام نہاد اپوزیشن کی منافقت کی وجہ سے ایک قیادت کا خلا پیدا ہو چکا تھا ..وقت کی اہم ضرورت تھی کہ خلا کو پر کیا جاتا ...اتنے میں عوامی مسلم لیگ ..دفاع پاکستان .قادری صاحب اور عمران خان متحرک ہووے ..تاکہ قوم کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھا جاۓ ..مگر بد قسمتی سے پاکستان میں پارٹیوں کو عروج و زوال کی دو کہانیاں ہیں ..یا تو عالمی طاقتیں پاکستان کی مافیا کو سپورٹ کریں اور انویسٹر میدان میں اتریں اور فیصلہ کریں کہ کس موھرے پر رقم لگانی ہے ..یا پھر پاکستان کی بڑی اجنسی اپنا کردار ادا کرے ..اور پھر ایسا ہی کچھ ہوا ..جو عالمی طاقتیں زرداری صاحب کو لے کر آئی تھیں وہ شریف برادران کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکی تھیں ..اسی لئے پاکستان کی بڑی اجنسی کے سربراہ پاشا صاحب ناکام ہو گہے..کیونکہ چھوٹی اجنسیاں اور اس وقت کے چیف کیانی صاحب کچھ اور چاہتے تھے ..پاشا صاحب کو کافی جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا..کیونکہ کافی معاملات میں وہ اور کیانی صاحب ایک پیج پر نہیں تھے ..مگر پھر بھی وہ جاتے جاتے تحریک انصاف کے مردے میں اتنی جان پھونک چکے تھے کہ وہ گرتا پڑتا ٹکرانے کے قابل ہو چکا تھا اور زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے قابل ہونا ہی چاہتا تھا ..کہ کچھ اور اجنسیوں نے اپنا کام کر دکھایا اور اپنے اپنے موھرے گھوڑے عمران خان کو دے دے ..جس سے شطرنج کی جیتی ہوئی بازی عمران خان کو ہرا دیا گیا ..پرانے جان نثار ورکر کو بد زن کر دیا گیا .بلکہ الیکشن سے پہلے آپس میں گتھم گتھا بھی کروا دیا گیا .جس سے نوجوان بد دل بھی ہوا ..اور بھوت سے ایسے اقدامات پارٹی کے اندر اور باہر کئے اور کرواۓ گہے..جو نہیں لکھ سکتا ....بھر حال غبارے میں ہوا بھری کسی اور نے اور نکالی کسی اور نے ...یہ ایک لمبھی کہانی ہے اور درد ناک بھی ہے ..کہ کون کون سی گیم الیکشن کے دن اور اس کے بعد اور اب تک کھیلی جا رہی ہے ..یہ اک دکھ بھری داستان ہے ...مگر اصل نقصان شعور والے نوجوان کا ہوا ..میرے جیسے انقلابی لوگوں کا ہوا .جو اس ملک سے دقیانوسی فرسودہ بیوروکریسی کے نظام کا خاتمہ چاہتے تھے ..قصہ مختصر یہ کہ عمران خان جھکڑے جا چکے ہیں .قادری صاحب عالمی نوبل انعام کے بھوکے ہیں ..ضرورت اب اس وقت ایک عام آدمی پارٹی کی بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے ...جو نظام کی تبدیلی کے لئے میدان میں آے..اور ان چوروں لٹیروں سے نجات کا کوئی راستہ نکالے ..اس کے لئے کافی ہوم ورک بھی کر چکا ہوں ..دن رات منشور کو ترتیب دے رہا ہوں ..ویسے تو امریکا میں رہنے والے ایک مہربان پراچہ صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے نظام ترتیب دیا ہوا ہے ..وہ بھی دیکھ لیں گے ....اور اگر کوئی مہربان مزید رہنمائی کرنے والے میسر آ گہے..تو ان سے بھی مشوره کیا جا سکتا ہے ..کافی لوگ اس بارے میں سوچ رہے ہیں .دیکھتے ہیں ..کیا بنتا ہے ..ووہی ہو گا جو خدا کو منظور ہو گا ..اس ملک کو ایک انقلاب کی اشد ضرورت ہے ..انقلاب اور انقلابی سوچ کے بغیر یہ نظام اتنی آسانی سے تبدیل ہونے والا نہیں ..کافی رکاوٹیں کھڑی کرنے والے غدار اس ملک میں وافر مقدار میں موجود ہیں ..دیکھتے ہیں اگر خدا نے زندگی کی مہلت اور بغیرتوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیا تو یہ انقلاب پاکستان اور نظام کی تبدیلی کی جنگ لڑنا ہو گی ..کفن باندھ کر نکلنا ہو گا ..انشااللہ .........جاوید اقبال چیمہ...میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩...
..........................
یہ میاں محمود رشید کس کے آدمی ہیں ..................

.........

کل ایک خبر سنی .اللہ کرے کہ خبر غلط ہو ..مگر شاید غلطی سے چنیل پر نشر ہو گئی ہو ...کہ راۓ ممتاز صاحب جہاں پناہ عزت مآب جناب سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے اپنے دو صاحب زادوں سمیت ایک ٹریفک وارڈن کی پٹائی کی .اور روڈ پر وہ تماشہ دکھایا کہ جسے فرعون بھی دیکھ کر شاید شرمندہ ہو چکا ہو گا ..میں پولیس کی تعریف تو نہیں کروں گا .کیونکہ میں خود پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں ..مگر جس طرح کی بیہودگی ممتاز کے بیٹوں نے وارڈن کے ساتھ کی وہ بھی قابل تعریف نہیں ہے ..بلکہ یہ چیز اس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے کہ حکمران طبقہ کیا چاہتا ہے اور یہ کس قماش کے لوگ ہیں ..اسی طرح کی حرکتیں بیوروکریسی کی بیگمات .جاگیرداروں . وڈیروں .کن ٹٹوں بد ماشوں کی اولاد کرتی ہے ...پاکستان میں ہر روز کا معمول ہے ..ایک تھانے کا سپاہی سے لے کر میٹر ریڈر تک ..اور گریڈ ١٦ سے لے کر ٢٢ گریڈ تک ..سب کا ایک ہی رویہ ہے ..جس جس کے پاس اختیار ہے .وہ جس کرسی پر بیٹھا ہے ..اسی کا ناجایز استمال کر رہا ہے ....اسی لئے میڈیکل سٹور پر غلط دوائی بڑے اچھے انداز میں بغیر کسی خوف کے بک رہی ہوتی ہے ..کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ..کیونکہ مافیا کا ایک جال پھیلا ہوا ہے ..صاحب خوش تو کوئی پرواہ نہیں ...مگر جس خبر پر حیرانگی ہوئی ..وہ یہ تھی ..کہ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر جناب میاں محمود رشید صاحب نے ممتاز صاحب کی بر طرفی پر تحریک التوا جمع کروا دی ہے .کہ ممتاز صاحب کو ان کی کرسی پر بھال کیا جاۓ ...حالانکہ خادم اعلی نے ممتاز صاحب کی بر طرفی کے احکامات صادر کئے تھے ..مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اپوزیشن لیڈر کس کی حمایت اور کیوں کر رہے ہیں ..یہ کس کے آدمی ہیں اور اندر کھاتے کس کے لئے کام کرتے ہیں اور کس کی بدنامی کا موجب بن رہے ہیں ..ویسے تو پہلے بھی ان کے اوپر کافی الزامات لگ چکے ہیں ..مگر افسوس کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے ان کے خلاف ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیا ..اور اگر یہی کارکردگی اور چہرہ ہے تحریک انصاف کا ..تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے .اگر تحریک انصاف نے چوروں ڈاکووں کا ساتھ دینا ہے ..تو پھر واقعی نتیجہ نکل چکا ہے ..ہمارے ارمانوں کا خون تو پہلے ہی ہو چکا تھا ..اب رہی سہی اور لوگوں کی تمناؤں کا بھی خون ہو جاۓ گا ..اس طرح اور بھوت سے کردار عمران خان کو جھکڑے ہووے ہیں ..جس کی وجہ نظام کی تبدیلی اب خواب بن کر رہ چکی ہے ..نوجوان کی امیدوں پر پانی پھر دیا گیا ہے ..کچھ اندر کے لوگوں نے صہی فیلڈنگ نہیں کی اور کیچ چھوڑ کر عمران خان کی بولنگ کو تباہ کیا اور کچھ میاں شریف کے چھکے نے عمران خان کی کمر توڑ دی ہے .اور اب وہ مذاکرات مذاکرات کا ورد کرتے ہووے ٣٥ پنچر بھول چکے ہیں ...اللہ اللہ خیر سللہ ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧...٣٣٣٩...
...................
عوام کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ............

........

اب یہ نقطۂ جانے کب شعور کی سطح تک پنچے گا کہ ہمارا حکمران طبقہ صرف اقتدار کے لئے جد و جہد کرتا ہے .حکمرانی اور فرعون کی ذہنیت کے مزے لینا چاہتا ہے ..وہ بلنگ بانگ دعوے تو کرتا ہے .پھل چڑیاں تو چھوڑتا ہے .الفاظوں کے گولے تو برساتا ہے ..دودھ کی نہریں تو کھود کر لانے کے خواب تو دکھاتا ہے ..مصنوئی جنت کی سیر بھی کراتا ہے ..مگر یہ سب کچھ میرا حکمران الیکشن سے پہلے اپنے جلسوں میں اداکاری کرتا .مداری دکھاتا نظر آتا ہے ...ایسے مداری گر کی طرح جو مجمعہ تو اکٹھا کرتا ہے یہ کہ کر کہ ابھی آپ کو سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھاۓ گا ..مگر وہ مجمے سے اپنا الو تو حاصل کر لیتا ہے .کسی کی جیب کاٹ کر . کسی کو مزے لینے والا تیل بیچ کر ..مگر آخر دم تک پبلک کو اک ہیجیاں میں رکھتا ہے ..اور اپنا سامان سمیٹنے سے پہلے وہ پبلک کو بیوقوف بنا کر لوٹ چکا ہوتا ہے ..یہی کام بڑی خوش اسلوبی سے میرا حکمران ٦٥ سالوں سے کرتا آ رہا ہے ..مگر وہ نہ تو تھکتا ہے نہ اکتاہٹ محسوس کرتا ہے .نہ شرم اور غیرت کا مظاہرہ کرتا ہے ..کیونکہ یہ اس کا پیشہ ہے ..روٹی روزی کا سامان وہ ہم کو بیوقوف بنا کر کرتا ہے ..مگر ہم نے کبھی اس کے مجمے کا نہ تو بایکاٹ کیا ہے اور نہ اس مداری کے مجمے میں آواز اٹھائی ہے ..کیونکہ مجمعہ کے اندر اس نے ہم کو رام کرنے کے لئے اپنے چمچے .وغیرہ چھوڑے ہوتے ہیں ..کیونکہ وہ مداری گر کی طرح ہر وقت نئی منجن کے ساتھ آتا ہے ..لیبل کو تبدیل کر دیتا ہے ..اور اس طرح وہ عالمی گماشتوں کی مدد سے اور ہماری بیوقوفی سے اقتدار تک تو آ جاتا ہے .مگر مسایل کو حل کرنے کی بجاۓ.مزید الجھا دیتا ہے اور عوام کو درندوں اور پالے ہووے بھیڑیوں کے آگے چھوڑ دیا جاتا ہے ..تاکہ ہم اپنے حکمران کی طرف رجوع کرتے رہیں .فریاد کرتے رہیں .انصاف کی بھیک مانگتے رہیں ...اس طرح میرے مسایل سے حکمران کی دکان اور کاروبار چلتا رہتا ہے ..اس لئے حکمران ملک میں امن نہیں چاہتا .اس طرح تو حکمران کی افادیت ختم ہو جاتی ہے ..اگر درندے چیر پھاڑ نہ کر رہے ہوں .انصاف کی دھجیاں نہ اڑای جا رہی ہوں تو عوام کا دھیان حکمران کی کرپشن اور اقربا پروری پر جاۓ گا .اس لئے بہتر ہے کہ معاشرے کو بد عنوانی .ملاوٹ .ذخیرہ اندوزی .مہنگائی .بیروزگاری کے چنگل سے نہ نکالا جاۓ ..اسی لئے میں نے کل کے کالم میں لکھا تھا کہ ملک میں اتنی اجنسیاں ہونے کے باوجود حکمران کو سب اچھا کی خبر دی جاتی ہے ..کیا یہ حیران کن صورت حال نہیں ہے .کہ معاشرہ تباہی کے دھانے پر ہو .ہر برائی ایسی جنم لے چکی ہو ..جس سے عالمی لیول پر ہر روز بدنامی ہو رہی ہو .مگر خفیہ اجنسیاں ملک میں سب اچھا کی رپورٹ دے رہی ہوں ...تو دال میں کالا ضرور ہے ..یا ہم من حیث ال قوم ختم ہو چکے ہیں .یا ذمہ داری کچھ اور ہے اور کام کچھ اور لیا جا رہا ہے ...یا ہمارا حکمران عالمی گماشتوں کے ہاتھوں کھیل رہا ہے ..جس کا اینڈ بھوت خطر ناک ہونے والا ہے ...مگر وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب محب وطن پاکستانی بھی حکمران کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ اس آزادی سے غیر کی غلامی ہی بہتر ہے ..ہمارا سفر اسی منزل کی طرف جاری ہے .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧...٣٣٣٩....

Friday, March 28, 2014

......................
خفیہ اجنسیاں..حکمران اور بیچاری عوام ...............

............

کہتے ہیں .کہتے تھے ..سنا تھا .اور ہر روز سنتے ہیں کہ ہماری کوئی ٢٦ کے قریب اجنسیاں ہیں .جو اپنے فرایض بڑی خوش اسلوبی ..خندہ پیشانی اور ماہرانہ طریقے سے انجام دے رہی ہیں ..لازمی بات ہے جو مختلف انداز میں کام کرتی ہوں گی .کچھ سرحدوں کی اور سرحد پار کی خبر رکھتی ہوں گی .کچھ حکمرانوں کے چال چلن اور سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہوں گی .کچھ حکمرانوں کی جان کی حفاظت کرتی ہوں گی اور کچھ غداروں پر کرپشن پر کچھ معاشرے میں ہونے والی بغیرتی پر نظر رکھتی ہوں گی ..کچھ کا کام ہے کہ حکمران کو بتایں کہ تیرے کردار سے تیرے اقتدار سے عوام کتنے تنگ ہیں اور کتنے خوش ہیں ..اور کچھ کا یہ کام ہے کہ ملک کے اندر کون کون سے لوگ اور ادارے اور فلاں فلاں اداروں کے سربراہ کون کون سی سازش اور شورش میں شامل ہیں ..اور فلاں فلاں مافیا ہے جو زمینوں پر ناجایز قبضے کرتی ہے اور فلاں فلاں مافیا دہشت گردی کے اڈے .جوے اور قمار بازی کے اڈے چلا رہی ہے ..اور کچھ اجنسیوں کے پاس یہ معلومات ہوتی ہیں کہ کون کون سی مافیا کس کس روپ میں حکمرانوں اور عدالتوں سے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں ..غرض کہ ہر ہر سازش جو ملک اور قوم اور معاشرے کے خلاف ہو رہی ہے اور کہاں کہاں ہو رہی ہے .ان سب کہانیوں کا اجنسیوں کو علم ہوتا ہے ..مگر افسوس کہ مشرقی پاکستان الگ ہو جاتا ہے ہم کو اندر کی کہانی کا علم نہیں ہوتا یا ہم اتنے نا اہل ہیں کہ ہم حالات کے رخ کو سمجھ نہیں پاتے..ایبٹ آباد کا واقعہ ہو جاتا ہے ہم قوم کو جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ..ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ بھی دیتے ہیں اور اس نے جو دوست بناۓ تھے ان کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں ہوتی ..بلوچستان کی شورش کو ختم کرنے کی بجاۓ بے گناہ لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں .اصل مرض کی طرف کوئی توجوہ نہیں کرتا ..مشرف امریکا کو اڈے دے دیتا ہے .دہشت گردی کی جنگ تو شروح کر لیتا ہے مگر آپریشن نہیں کرتا .بعد میں زرداری بھی آنکھیں بند کر پانچ سال نکال لیتا ہے صرف کرپشن کرتا ہے کسی اجنسی کو کچھ نظر نہیں آتا ..عام آدمی کی زندگی کتنی اجیرن ہو چکی ہے کسی خفیہ ادارے کو علم نہیں ..چودھری نثار اجنسیوں کی جھوٹی کہانیاں پارلیمنٹ میں سنا دیتے ہیں .مگر ذرا بھی کسی سیاستدان کو شرم نہیں آتی ..یا حکمران خود بےضمیر اور بےغیرت ہو چکا ہے یا بے حس ہو چکا ہے یا اجنسیوں کے ہاتھوں یرمغال ہو چکا ہے .یا حکمران کے پاس اپنی کوئی سوچ ہی نہیں ..آخر کیا وجہ ہے کہ شیخ رشید .مبشر لقمان اور اقرار ال حسن .کو کرپشن اور معاشرے میں ہونے والے جرائم کا پتہ چل جاتا ہے .مگر حکمران اور اجنسیوں کو کچھ علم نہیں ہوتا ...واہ اس بات پر اپنی اجنسیوں اور حکمران پر فخر کروں یا چلی میں پانی لے کر خود ڈوب کے مر جاؤں ...مجھے اسی لئے اپنی آزادی پر .آزادی کے جشن پر اور قوم کے دوسرے جشنوں پر دکھ ہوتا ہے اور رونا آتا ہے ...کہ ہم قوم ہیں ہجوم ہیں یا حیوانوں کا ریوڑھ ہیں ..جن کو ہانکنیں کے لئے کبھی کوئی شیر آ جاتا ہے کبھی کوئی بھیڑیا..ہم کیا ہیں اور کیوں تباہ ہو رہے ہیں ...میں تو یقین جانئے..کہ اے .آر .وائی. والے اقرار حسن اور سلیم بخاری اور انصار عباسی وغیرہ وغیرہ لوگوں کی باتیں سنتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ پاکستان کا قایم رہنا واقیی کسی معجزے سے کم نہیں ہے ...میں آخر میں میاں صاحب اور عمران خان سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ نظام تبدیل نہیں کر سکتے .فلاپ ہو چکے ہو .کہیں جھکڑے ہووے ہو .تو خدا راہ..مجھے ٩٠ دن کے لئے حکومت دے دو یا اقرار ال حسن کے سپرد کر دو ..تاکہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ووہی کر لے ..کیونکہ آپ سرکس چلا رہے ہیں .موت کے کنویں میں خود نہیں اترنا چاہتے ..حکومت اس کے سپرد کر دو جو موت کے کنویں میں خود اترنا چاہتا ہے ...ایک ہفتے کے اندر سب کچھ ہو سکتا ہے مگر شرط یہ کہ..کوئی اقرار ال حسن جیسا نڈر اور غیرت مند تو ہو ..لیاری کے اندر کیا ..پورے ملک کے اندر کیا کچھ رہا ..کیا اجنسیاں بےخبر ہیں .........جاوید اقبال چیمہ ..میلان .اطالیہ...٠٠٣٩...٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩....

Wednesday, March 26, 2014

.........................
انقلاب نا گزیر ہے مگر ...................

............

اس ملک کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے ..اس ملک کی قسمت کے فیصلے کے لئے انقلاب نا گزیر ہے . مگر ایسا کوئی لیڈر نظر نہیں آ رہا جو قوم کو سہی منزل کی طرف گامزن کر سکے اور جرات سے انصاف کے ساتھ احتساب کر سکے ...بظاھر تو یہ کام کسی سویلن لیڈر سے ہوتا نظر نہیں آتا اور مشکل بھی لگتا ہے .مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے ٹھاٹھے مارتے ہوۓ سمندر کے آگے بند باندھنا اتنا آسان نہیں ہوتا ..اور عوام جب نکلتے ہیں تو پھر کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے ...پھر لیڈ کرنے والے پر منحصر ہوتا ہے .کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے .اگر وہ جرات سے دلیری سے عوام کی ترجمانی کرتے ہوۓ اور خدا اور اس کے رسول کی پیروی کرتے ہوۓ فیصلہ کرتا ہے اور حق پر ڈٹ جاتا ہے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کرتا تو انقلاب بھی آ جاتا ہے نظام بھی بدلہ جا سکتا ہے اور ملک کی تقدیر بھی بدلی جا سکتی ہے ...ایک چھوٹی سی مثال وکیلوں کی جد و جہد آپ کے سامنے ہے .کہ آخر حکمران کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا..تو یہی وجہ ہے کہ جن لیڈروں کے اوپر ہمارا بھروسہ تھا . عتماد تھا ..ان ہی کی طرف سے ہم نا امید ہو چکے ہیں ..بلکہ شریف برادران نے تو ثابت کر دیا ہے کہ ہم تو انقلاب کا ذکر صرف اقتدار کے لئے کرتے تھے.. سو رات گئی بات گئی....باقی رہا معاملہ عمران خان صاحب اور قادری صاحب کا ...تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ عمران خان صاحب کے آس پاس عالمی سازش کے اجنٹ بھرتی ہو چکے ہیں .اس لئے معذرت چاہتا ہوں میرا آخری سہارا عمران خان تھے جو انقلاب لا سکتے تھے مگر افسوس وہ ہائی جیک ہو چکے ہیں اور میں ان سے بھی نا امید ہو چکا ہوں ..کیونکہ وہ جمہوریت سے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ..واہ کیا جملہ ہے ..کبھی کبھی اس جملے پر میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں اور خون کے آنسو تو ہر روز بہانے کی بجاۓ پی جاتا ہوں ...اور رہا قادری صاحب کا معاملہ ..تو وہ شاید مرنے سے پہلے پہلے انقلاب کی نہیں ..عالمی نوبل انعام کی خواہش رکھتے ہیں ...تو اس طرح تو میرے انقلاب کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا ....تو پھر انقلاب کیسے آے گا ..جبکہ انقلاب نا گزیر بھی ہے ..تو صاف ظاہر ہے اب بار بار بےغیرت اور کھسی مارشل لا تو بدنام ہونے کے لئے نہیں آے گا ...اب کی بار مارشل لا نظام بدلنے کے لئے آے گا ..اور گجرات .کراچی والے بھی خاطر جمع رکھیں جو دن رات فوج کو بلا رہے ہیں .ان کو فوج اقتدار میں اس دفعہ کوئی حصہ نہیں دے گی ..کیونکہ میرے نزدیک جو مارشل لا بےغیرت سیاستدانوں کو ساتھ ملاۓ گی ..وہ نظام نہیں بدل سکتی اور ملک کی تقدیر ..کیونکہ یہ سیاستدان ہی تو نظام کی تبدیلی میں رکاوٹ ہے ..اس لئے آخری مارشل لا اور انقلاب نا گزیر ہے ....کیونکہ جب سیاستدان ڈیلیور نہیں کر سکتے تو کسی بھی ملک کے پاس ایک ہی طاقتور ادارہ ہوتا ہے ..جو ڈنڈے کے زور پر ریوڑھ کو ہانکتا ہے ....اس لئے انقلاب نا گزیر ہے ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..
..............
انقلاب ناگزیر ہے .............

............

یا تو ہم لوگوں کو انقلاب کے نام سے چڑ ہے ...یا خوف زدہ ہیں ..یا انقیاب کو صرف خون بہانے کا نام دیتے ہیں ..یا پھر دنیا کی تاریخ کو اٹھا کر نہیں دیکھتے یا تاریخ سے سبق سیکھنا گوارہ نہیں کرتے یا پھر آنکھیں بند کر کے جینا چاہتے ہیں یا من و سلوا کے انتظار میں ہیں ....اتنے سوالات ان ان لوگوں کی طرف سے موصول کرتا ہوں جن کو میں تعلیم یافتہ سمجتا ہوں ...تو کئی دفعہ اپنی قوم کے شعور سے پریشان ہو جاتا ہوں ..کہ ہم کس دنیا میں سفر کر رہے ہیں .....ایک دوسرے سے اختلاف کرنا ہم سب کا حق ہے ..مگر حقیقت سے آنکھیں چرانا ہمارا حق نہیں ہے ..یہ بد دیانتی ہے ..منافقت ہے اور قوم سے پاکستان سے غداری ہے ..میں نے اپنے ہزاروں کالم میں تفصیل سے لکھا کہ انقلاب کیا ہے ..کس جانور کا نام ہے ........انقلاب کیوں ضروری ہے ..انقلاب آنے والا ہے اور انقلاب کے بغیر ہماری کوئی بھی پالیسی نہیں بن سکتی ..اور نہ ہم اپنا وقار دنیا میں بھال کر سکتے ہیں ..وغیرہ وغیرہ .....مگر آج میں آپ کے سامنے کافی سوال چھوڑے جا رہا ہوں ..آپ لوگوں کے جوابات کا انتظار رہے گا....اور امید کرتا ہوں کہ آپ مجھ سے اختلاف رکھنے کے باوجود سوچنے پر مجبور ضرور ہو جائیں گے .......مزید تفصیل میری ١٢ کتابوں میں ہے اور میری ویب سائٹ میں ہے ..........١..کیا ہم اس طرح کی منافقت والی ..خود غرضی والی ..بادشاہت والی جمہوریت سے نظام تبدیل کر سکتے ہیں .٢..کیا ہم اس بےغیرت.فرسودہ ..گندے بیوروکریسی کے نظام سے ملک کو ایک اچھا نظام دے سکتے ہیں ..٣..کیا ہم اس بےغیرت جمہوریت سے عدالتوں سے انصاف لے سکتے ہیں ..٣..کیا ٦٥ سالوں کا گند ختم کر سکتے ہیں ..٤..کیا انقلاب کے بغیر اس نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں ..٥..کیا ہم عدالتوں کے تمام مقدمات ایک مہینے میں ختم کر سکتے ہیں ..٦..کیا انقلاب کے بغیر سارے ملک میں ایک اسلامی طریقہ تعلیم رائج کر سکتے ہیں ..٧..کیا ملک کو مذھبی تفرقہ بازی سے پاک کر سکتے ہیں ..٨..کیا انقلاب کے بغیر سیاسی اور بیوروکریسی کی مافیا سے ٦٥ سالوں کے قرضے واپس لے سکتے ہیں ...٩..کیا ہم قرضے دینے اور واپس لینے اور قرضے معاف کروانے والوں کو کوئی قانون کا صفہ یا آرٹیکل دکھا سکتے ہیں ..١٠..کیا کسی قرض نا دہندہ کو پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں ....١١..کیا ملک کے خزانے کو لوٹنے والوں کے لئے پھانسی کا قانون بنا سکتے ہیں ....١٢....کیا ایم....این ..اے....اور ایم...پی ..اے ...کے فنڈ بند کر کے یونین کونسل کو دے سکتے ہیں ..١٣....کیا انقلاب کے بغیر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے اور ضیاء دور والی جنگ بھی ہماری نہیں تھی ...١٤...کیا انقلاب کے بغیر ہم کہ سکتے ہیں کہ ضیاء اور مشرف دونوں نے غلط جنگ کا بیج بھویا ....١٥..کیا نظام تبدیل کئے بغیر ہم نوجوانوں کو میرٹ پر ملازمت دے سکتے ہیں ...کیا گورنر اور صدر کا انتخاب عوام کر سکتے ہیں ..١٦....کیا دہلیز پر انصاف دے سکتے ہیں ..١٨..کیا انقلاب کے بغیر وارثت کی سیاست اور چند خاندانوں کی سیاست کی اجارہ داری خگتم کر سکتے ہیں ..١٩..کیا زرداری اور نواز شریف سے لوٹی ہوئی رقم واپس لے سکتے ہیں ...٢٠...کیا انقلاب کے بغیر ہم انڈیا سے دو ٹوک بات کر سکتے ہیں ..٢١..کیا کالا باغ ڈیم بنا سکتے ہیں اور کیا کالاباغ ڈیم پر ہونے والے اخراجات کا حساب چکا سکتے ہیں ..٢٢..کیا کشمیر کا مسلہ حل ہو سکتا ہے ..٢٣..کیا عام آدمی کو اقتدار مل سکتا ہے ..٢٤..کیا انقلاب کے بغیر آپ تمام گیس.پٹرول پمپ اور دوسری اجنسیاں ختم کر سکتے ہیں ..٢٥.کیا یورپ کی طرز کا یا اسلامی ٹیکس کا نظام دے سکتے ہیں ..٢٥..کیا ہر آدمی کو پنشن اور فری ہسپتال کی سہولت دے سکتے ہیں ..٢٦..کیا کسی تھانیدار اور پٹواری کو سیاست سے پاک کر سکتے ہو ...٢٧..کیا کسی محکمے کے سربراہ کو لگانے کے لئے کوئی سیاست کے بغیر قانون بنا سکتے ہو ..٢٨..کیا نوجوان کو یونیورسٹی سے نکلنے کے ساتھ اس کو ٹریننگ دے سکتے ہو ...٣٠..کیا میڈل سیاسی وابستگی کے بغیر دے سکتے ہو ..٣١..کیا کبھی کسی اخبار یا چنیل کے مالک کی دولت کا حساب لے سکتے ہو ..٣٣..کیا دوبئی..جدہ .انگلینڈ ..امریکا ..سویزرلنڈ اور دوسرے ملکوں میں پڑی ہوئی پاکستانی دولت کو واپس لا سکتے ہو..٣٤..کیا بیوروکریسی کے شہنشاہوں سے پوچھ سکتے ہو کہ ان کے بچے کس کی دولت سے باہر کے ملکوں میں پڑھ رہے ہیں ...٣٥..کیا کالے دھن کو سفید بنانے کے کاروبار کو ختم کر سکتے ہو اور سب سے بڑی بات کہ کیا ایک با عزت قوم ہونے کے ناتے کشکول توڑ کر امریکا کی غلامی سے نکل سکتے ہو اور کیا انقلاب کے بغیر نظام تبدیل کر سکتے ہو ....جاری ہے ...باقی کل انشااللہ ..........

..............

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...نایب صدر آل اطالیہ پریس کلب ........

...........

٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧.....٣٣٣٩...
.............................
پنجاب پولیس کی کارکردگی زیرو ہے .............

..............

کیوں صفر ہے .کیوں کچھ بھی نہیں بدلہ ..کیوں بہتری نہیں آئی ..کیوں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا . کیوں کرپشن ختم نہیں ہوئی ..کیوں روایتی انداز اپناۓ جاتے ہیں .کیونکہ حکمران کسی بھی ادارے کو نہ نظام دے سکی ہے اور نہ لگام ..کسی پولیس افسر کی کیا ذمہ داری ہے . کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں ..کیا دائرے میں رہنے کے حدود ہیں .اور کہاں حدود سے تجاوز کیا جاتا ہے اور کیوں ..کیونکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس .....کسی بھی حکمران نے کرپشن . سفارش .ختم نہیں کی ..کیونکہ حکمران خود کرپشن اور سفارش میں ملوث ہوتا ہے ...کچھ نفری کم ہے کچھ حکمرانوں کی سیکورٹی ضروری ہے اور کچھ پروٹوکول میں ہوتے ہیں .جو باقی بچ جاتے ہیں .وہ افسروں اور جاگیرداروں . وڈیروں کی خوشامد میں لگے ہوتے ہیں ..اوپر والے خوش تو تھانیدار کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی ...جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خادم اعلی بھوت کام کر رہا ہے .وہ میرے نزدیک بکواس کرتے ہیں . جھوٹ بولتے ہیں ..ہر کام کے لئے کارکردگی بولتی ہے ..جس کے بعد میری طرح کے لوگ نہ تنقید کر سکتے ہیں نہ بکواس ...کیونکہ سیاسی آدمی سیاسی حکمران کے خلاف تو بکواس یا تنقید خواہ مخواہ کر سکتا ہے ..مگر عوام حقایق کو دیکھتے ہیں ..ضرورت اس بات کی تھی کہ پولیس کے نظام میں بھی کچھ تبدیلی لائی جاتی ..مگر افسوس خادم اعلی پنجاب یہ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ....بلکہ پہلے سے زیادہ پولیس کی بد معاشی بڑھتی جا رہی ہے ...میں نے پہلے بھی ایک کالم میں عرض کیا تھا ..کہ صرف اگر پولیس کے تھانیدار کے لئے یہ قانون بنا دیا جاتا ..کہ تھانے دار کو اتنے سال کے لئے تبدیل نہیں کیا جاۓ گا .تھانے دار کا موبائل نمبر تھانے کے باہر لکھ دیا جاۓ .علاقے میں ہونے والی واردات پر تھانے دار .یا گھر جاۓ گا ہمیشہ کے لئے .یا پروموشن کا حق دار ہو گا .یا سیدھا جیل جاۓ گا سزا کے لئے .....اگر صرف اتنی ہی ذمہ داری تھانے دار کو دے دی جاۓ .تو حالات کافی حد تک کونٹرول ہو سکتے ہیں ..کیونکہ میرے نزدیک علاقے کے ہر بد ماش کو پولیس جانتی ہوتی ہے ..نوے پرسنٹ ہونے والی واردات پولیس کے نوٹس میں ہوتی ہیں ..کیونکہ کچھ تو تھانے دار کی مجبوری کہ اس کو منتھلی بھی دینا ہوتی ہے اور کچھ اپنے گھر بھی افسروں کی نظر سے بچا کر لیجانا ہوتا ہے ..اس لئے جرائم تو اس وقت کم ہوں گے .جب آپ علاقے کے چند شریف آدمیوں کو بھی کچھ ذمہ داری دیں گے یا اختیارات ....ورنہ انصاف اس قوم کا خواب ہی رہے گا ...چاہے خادم اعلی ہو یا خادم اعلی کا باپ حکمران بن جاۓ ....جب تک آپ اقتدار عوام کی نچلی سطح پر منتقل نہیں کریں گے ....نہ انصاف نہ امن ہو گا ...نہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہو گی .....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩...

Wednesday, March 19, 2014

..................
معاشرے کی بربادی اور حکمران کا کردار ................

........

زنا . گینگ ریپ .چوریاں . ڈاکے .دہشت گردی .ہر دفتر میں کرپشن .قتل و غارت گری .چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا .چھریاں چاکو چل جانا ..غرض ہر برائی کے پیچھے حکمران کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا .خاص کر پاکستان کی بات کر رہا ہوں ..گو کہ میں نے ذاتی طور پر یورپ اور پاکستان کا موازنہ اپنے کافی کالم میں بھی کر چکا ہوں ..جس میں بھی برائیوں کے لحاظ سے پاکستان یورپ سے بھی آگے ہے ..ظاہر ہے فرسٹریشن کا بڑا اہم رول ہے ..اور فرسٹریشن کو پیدا بھی حکمران بد کردار ہی کرتا ہے ..گو کہ معاشرہ کی بربادی والدین کی نا فرمانی اور اسلام سے دوری کا نتیجہ بھی ہے .مگر زندگی کے باقی سارے لوازمات میں بنیادی سہولتوں کا بھی عمل دخل ہے .جو حکمران کے ذمہ ہیں ..کیونکہ حکمران اپنی نا اہلی . بد کرداری اور کرپشن کی وجہ سے ملک کو کوئی بہتر نظام ہی نہیں دے سکا .جس سے ہر ایک کی سنوائی ہو .تو جب نا انصافیاں حد سے تجاوز کر جایں گی .تو لوگ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں گے ..خود کشی کریں گے .بچوں کو فروخت کریں گے اور جان سے مار دیں گے ..نوجوان ڈگریوں کو بغل میں لے کر بےغیرت .چور .لٹیرے .حکمران کے پیچھے بھاگے گیں..اور تھک ہار کر قاتل.بھتہ خور اور ڈاکو بننے پر مجبور ہوں گے ..میں پوچھتا ہوں اپنے اینکر حضرات اور تجزیہ نگاروں سے کہ اگر آپ کا واسطہ ان حالات سے ہو تو آپ کیا کریں گے ..بھوکے مریں گے یا بھیک مانگو گے یا بندوق اٹھاؤ گے ..دے دو جواب اس بے چاری قوم کو ...میں بھی عوام کو برا بھلا کہتا ہوں آپ کی طرح..کہ لوگ بے حس ہو چکے ہیں .سڑکوں پر نہیں نکلتے ..انقلاب کیوں نہیں لاتے ..تو یہ جان لو .ملک کے سفید پوشو کہ غریب کو تو اپنے پیٹ کی آگ سے فرصت نہیں ..وہ کیا احتجاج کے لئے نکلے گا .جبکہ کوئی ایماندار لیڈر بھی لیڈ کرنے والا نہ ہو ..ایک اور مثال دیتا ہوں کہ عوام نے کافی مجبوریوں اور مشکلات سے اس الیکشن میں نظام کی تبدیلی کے لئے ووٹ دے ..مگر جو ہیرا پھیری اور دھاندلی الیکشن میں ہوئی ..اس کے لئے میرے لیڈروں اور حکمرانوں نے کیا کیا ..تو پھر سارا قصور میں اپنے اوپر اور بے چاری عوام پر کیوں لاد دوں ...آپ ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کریں ..کہ جو کام ایک منٹ میں ایک تقریر میں چند فقروں اور جملوں سے ہو سکتا تھا . وہ میرے بد کردار حکمران نے ٦٥ سالوں سے نہیں کیا ..کیونکہ میرا حکمران بیوروکریسی کی لکھی ہوئی تقریر ہے ..اگر صرف ایک کام کر دیا جاتا تو آج ملک کی بربادی کی یہ حالت نہ ہوتی ..وہ کام تھا .نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی ...محلے کی اور مسجد کی یا یونین کونسل کی سطح پر ...مگر افسوس بیوروکریسی نہیں چاہتی کہ حکمرانی اس کے ہاتھ سے نکل جاۓ ...میرا بد کردار حکمران تو چھوٹے چھوٹے صوبے نہیں بنا سکا وہ محلے کی سطح پر ٹیلنٹ کو پمپنے کا موقعہ کیوں دے گا . وہ تو ساری قوم کو دہشت گرد بنانے کی طرف گامزن ہے ......اس ملک کی تقدیر کا حل صرف انقلاب میں پوشیدہ ہے ..انقلاب نا گزیر ہے .....جاوید اقبال چیمہ .میلان .اطالیہ..٠٠٣٩ .٢٠. ٣٣٧ .٣٣٣٩ ..

Monday, March 17, 2014

......................
یہ جمہوریت اور حکمران بےغیرت ہے ...............

........

اگر سہی معنو میں دیکھا جاۓ تو یہ جمہوریت ہے ہی نہیں ..یہ ایک سول ڈکٹیٹر شپ ہے .یہ جمہوریت کے نام پر سیاه دھبہ ہے ..اور میرے نزدیک حکمران صرف بےغیرت ہی نہیں .بلکہ غدار بھی ہے .کیونکہ وہ ملک سے اور قوم سے بیک وقت دھوکہ اور فراڈ کر رہا ہے جھوٹ بول رہا ہے اور بیوروکریسی کے ساتھ مل کر قوم کی تقدیر سے کھیل رہا ہے .کیونکہ یہ نظام نہ فرھنگی ہے اور نہ اسلامی ..کیونکہ اگر فرھنگی ہوتا . تو کوئی غیرت مند حکمران ڈیلیور نہ کرنے پر اور عوام کو انصاف نہ دینے پر گھر چلا جاتا .مگر ایسا نہیں ہوا .اور اگر اسلامی ہوتا تو اب تک ہزاروں کرپٹ تختہ دار پر لٹکاۓ جا چکے ہوتے .ہاں البتہ یہ نظام بیوروکریسی .جاگیرداروں .وڈیروں .چوروں .لٹیروں .کن ٹٹوں .بد معاشوں.بغرتوں .غداروں کو تحفظ ضرور مہیا کرتا ہے ..اور یہ کام کمال مہارت سے بیوروکریسی انجام دے رہی ہے کہ لاکھوں ٹن گندم گوداموں میں ہر سال سڑ گل جاتی ہے .کچھ کرپشن کی نظر ہو جاتی ہے .مگر بھوک و افلاس اور ضرورت مندوں تک نہیں پنچ پاتی..کیونکہ صاحب سے چھٹی آ رہی ہے اور جا رہی ہے .یہ بیوروکریسی کی خط و کتابت کی مہربانی ہے کہ سیاستدان بھی خوب قوم سے کھیل رہا ہے ..ملٹری ڈکٹیٹر شپ ہو سول .دونوں میں بیوروکریسی کا بےغیرت کردار صدا رہتا ہے کیونکہ یہ اس بےغیرت نظام کی مہربانی ہے اور حکمران بےغیرت ہے جو اس نظام کو تبدیل کرنا نہیں چاہتا ..بھٹو بدلنا چاہتا تھا مگر بیوروکریسی کے ہتھے چڑھ گیا ..ضیاء سے بیوروکریسی نے وہ کام لئے جو ملک کو بربادی کی طرف گامزن کر گہے..ایک غیر جمایتی الیکشن اور دوسرا مولویوں کو چندہ ..ضیاء نے اسلام کو بھی بدنام کیا ..بعد میں اسحاق خان .بینظیر .اور شریف برادران ملک کو کچھ بھی ڈیلیور نہ کر سکے .اور کرپشن میں نمایاں کردار ادا کیا .اور فائلیں ادھر ادھر اور چمچہ گیری کا کردار بیوروکریسی نے ادا کیا ..اور ہر حکمران کی کانا پھوسی کر کے اپنے مفادات حاصل کئے.اور آج تک کر رہے ہیں .اور ہر حکمران کے اپنے اپنے بیوروکریسی کے گروپ ہیں .جن کے سہارے بےغیرت حکمران چلتا ہے .پھر مشرف آیا .اور ملک کو قوم کو ایک ایسی آگ میں پھینک دیا .جس میں ہم جل رہے ہیں اور نہ جانے کب تک جلتے رہیں گے ..کیونکہ اس نا اہل حکمران کے پاس پھر کرپشن کے علاوہ کوئی فرصت نہیں ہے ..اور آ جا کے اب کی بار قوم کو بھٹو کے بعد ایک عمران خان کا سہارا ملا تھا .کہ شاید کوئی نظام تبدیل ہو جاۓ ..مگر بد قسمتی سے پھر دشمن کی چال کامیاب ہو گئی..اور عمران خان کو ایک صوبے کی حکومت دے کر اتنا گندہ کر دیا گیا ہے ..کہ اب دوسروں کے پاس یہ جواز موجود ہے .کہ کیا تبدیلی اور کیسی تبدیلی ....اب عمران خان صاحب بھی بھول چکے ہیں .کہ تبدیلی کس جانور کا نام ہے ..یہ ہے کمال ے بیوروکریسی ...کہ نظام تبدیل کرنے والوں کو اس بات کا بھی علم نہیں ہے .کہ پاکستان میں وہ قوت اتنی طاقتور ہے جو دیوار بن کر تبدیلی کے آگے آ کھڑی ہوتی ہے ..اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اس بےغیرت جمہوریت کی مدد سے نظام تبدیل کروا لیں گے .وہ احکموں کی جنت میں رہتے ہیں ..اس ملک کے نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے ..جو سب سے پہلے ان بغیرتوں کا احتساب کرے گا ..اور بیوروکریٹ کی کمیٹیوں سے اجتناب کرے گا ..کیونکہ یہ وہ کمیٹیاں ہوتی ہیں جس طرح بلی کو دودھ کا رکھوالا بنا دیا جاتا ہے ..جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠

Saturday, March 15, 2014

............................
خادم اعلی اور انصاف ...............

..............

حالات کس طرف جا رہے ہیں اور کیا نشاندہی کر رہے ہیں ..سنا ہے خادم اعلی بڑا دوڑتے ہیں ..پنجاب کے عوام کے لئے بڑی دوڑ دھوپ کرتے ہیں ..جو وہ مرضی کرتے پھریں . مجھے کوئی غرض نہیں . نہ ان کی ذات سے دلچسپی ہے ..ہر آدمی کے اپنے اپنے فرایض ہوتے ہیں . ہر ایک کی اپنی زندگی ہے .خدا کو حساب ہر ایک نے دینا ہے .مجھے ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی حق نہیں ..مگر وہ آدمی نہیں ہے . وہ پنجاب کا لگاتار ٣٠ سال سے بلواسطہ بلاواسطہ حکمران چلا آ رہا ہے ..اسے کوئی یہ حق نہیں پنچتا کہ وہ اپنے آپ کو بہترین حکمران کہلواۓ..مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کتنا پسینہ بھاتا ہے اور کتنا صاف کرتا ہے .کتنے مائک توڑتا ہے .کتنی دن میں میٹنگ کرتا ہے .کتنے اجلاس بلاتا ہے .کتنا پروٹوکول پر خرچ کرتا ہے . کتنا عوام کے لئے بھوکا مرتا ہے اور کتنے آنسو بھاتا ہے . وہ کتنا اچھا .برا . اور کتنا ایماندار اور کتنا کرپٹ ہے ..مجھے حالات کو دیکھنا ہے .انصاف کو دیکھنا ہے .اپنی بنیادی سہولتوں کو دیکھنا ہے ..اگر کچھ نہیں بدلہ ..سب کچھ ایسے ہی ہے جیسے پہلے تھا ..تو یہ میرے نزدیک خادم اعلی کی بغیرتی ہے .کہ وہ پھر بھی کرسی سے چمٹا ہوا ہے ..اگر حکمران میں ذرا بھی غیرت..اخلاق ..اور انسانیت ہے تو اقتدار سے علیحدہ ہو جانا چاہئے ..مگر وہ کیوں جاۓ .جس ملک کے حکمران کراچی کے حالات ٹھیک نہ کر سکے اور وہ بھی حکمرانی کر رہے ہوں ..تو وہاں ہر حکمران ہی خادم اعلی کہلانے کا حق دار ہے ...فیصلہ آپ کر لیں .کہ حکمران کو ہم نے کونسا مقام دینا ہے ...کیا حکمران نے کل مظفر گھڑھ میں خود کشی کرنے والی لڑکی کو انصاف دیا..جبکہ جنوری میں اس کے ساتھ چار لڑکوں نے زیادتی کی تھی .تین مہینے وہ انصاف کی تلاش میں رہی .جب اس کو انصاف سے ناامیدی ہو گئی..تو اس نے اپنی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کیا ..اب ہم سب کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں ..یا حکمران انصاف دے . یا انصاف ہوتا نظر آے..یا میں خود ہتھیار اٹھا لوں ..یا شکست خوردہ ہو کر دل برداشتہ ہو کر خود کشی کر لوں ..دیکھنا یہ ہے کہ حکمران نے کیا ایکشن لیا ہے ..کیا نظام تبدیل کر دیا ..کیا آئندہ کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کر دئے..نہیں کچھ بھی نہیں ..اور میرا حکمران اس قابل ہے ہی نہیں ..کیونکہ یہ بھڑکیں مار سکتا ہے ..بیوروکریسی کی طرح صرف تقریریں کر سکتا ہے ..میرے پاس میری دو دفعہ ہونے والی ڈکیتی کی واردات کی رپورٹ موجود ہے .مگر خادم اعلی بے بس ہے ..٦٥ سال سے میرا حکمران بیوروکریسی کو لگام نہیں ڈال سکا ..چھوٹے چھوٹے صوبے تم بنانا نہیں چاہتے .یونین کونسل کو تم اختیار دینا نہیں چاہتے ..تھانیدار کو تم نتھ ڈالنا نہیں چاہتے ..میرا حکمران اگر تھانیدار کو نکیل ڈال دے . سیاست اور سفارش سے تھانے کو پاک کر دے ..اور تھانیدار کا موبائل نمبر تھانے کے بھر آویزاں کر دے اور تھانیدار کے لئے علان کر دیا جاۓ .کہ علاقے میں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار صرف تھانیدار ہے ..اور تھانیدار کی پوسٹنگ نہیں ہو گی ..تھانیدار کے لئے صرف تین آپشن پر عمل ہو گا .....علاقے میں ہونے والی واردات پر ....تھانیدار کی کارکردگی یا تو پروموشن کی حق دار ہو گی ..یا جیل جانا ہو گا ..یا ملازمت کی بیلٹ اتار کر ہمیشہ کے لئے گھر کو جانا ہو گا ..اگر خادم اعلی میں ہمت اور انسانیت ہے تو یہ کر دے ..یا خادم اعلی بھی غیرت کا مظاھرہ کرتے ہووے اقتدار چھوڑ دے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ ..٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩

Thursday, March 13, 2014

..............
نظام کی تبدیلی اب انقلاب کی تلاش میں ..............

......

کہتے ہیں ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے .پھر ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.....کافی حدیث کا معاملہ تو اپنی جگہ پر اٹل ہے ..وہ تو بر حق ہے .مگر عام حالات میں جو پرانے زمانے میں بزرگوں نے اپنے طور پر جو اقوال بناۓ تھے .وہ بھی کافی حد تک بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ بھی سچ ثابت ہوتے رہتے ہیں .مصلاً چور آچکا چودھری تے غنڈی رن پردان ...یا بارہ سال بعد تو روڑھی کی بھی سنی جاتی ہے .وغیرہ وغیرہ ..مگر پاکستانی عوام کی نہیں سنی جا رہی ..چکی میں پستے اور خون میں نہاتے اور ہر روز لاشیں اٹھانے والی عوام کی نہیں سنی جا رہی ..زرداری صاحب کے کرپٹ ترین دور میں بھی اک ہوا کا جھونکا اس وقت آیا .جب اجنسیوں کی مہربانی سے نظام کی تبدیلی کو سپورٹ کیا گیا اور عمران خان کو تقویت ملی ..مگر پھر عالمی سازش نے بڑی مہارت سے بیوروکریسی کے ساتھ مل کر اپنے پتے کھیلے اور الیکشن میں خوبصورتی سے دھاندلی کروا کے نظام کی تبدیلی والا دروازہ بند کروا دیا ..اور سیاست کے پرانے کھلاڑی نے بڑی مہارت سے دھیمے دھیمے منافقت کی سیاست کا آغاز کر دیا ..اور الیکشن کے دنوں میں عوام سے کیے ہووے تمام وعدے بھول کر اپنے مال سمیٹنے اور بیوروکریسی والے اجنڈے پر چلنا شروع کر دیا ..اب اس وقت شریف برادران کی کامیاب دھیمی دھیمی منافقت کی پالیسی جاری ہے .جس کی وجہ سے ان کے اپنے اور عالمی مفاد والے کام تو جاری ہیں . مگر نظام کی تبدیلی والا معاملہ ٹھپ ہو چکا ہے ..جو نمایاں کارکردگی اب تک منظر پر آ چکی ہے ..وہ یہ ہے..١..زرداری صاحب سے گٹھ جوڑ مضبوط کیا گیا ہے ..٢..جرنل صاحب سے ملاقاتیں زیادہ ہو رہی ہیں ..٣.اندر کھاتے کرپشن کا کام جاری ہے .٤.دوستوں کو نوازنے کا کام جاری ہے .٥.منصوبہ وہی شروع ہو گا جس سے کمیشن ملے گی .٦.کراچی میں آپریشن آپریشن کا نہ ختم ہونے والا کھیل جاری ہے .٧.اب تھر میں بھی قحط زادہ لوگوں کے ساتھ مذاق جاری ہے ..٩..نہ کوئی پالیسی ہے نہ ویزن....١٠..مہنگائی اور بیروزگاری کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے ..١١..لا اینڈ آرڈر کی کوئی پرواہ نہیں . صرف اپنی حفاظت کے لئے پروٹوکول پر کروڑوں خرچ ہو رہے ہیں ..١٢ ..زرداری کو لٹکانے والے اب صرف اپنی گارنٹی مانگتے نظر آتے ہیں ..١..مذاکرات مذاکرات کی رٹ لگا کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ..١٤..پہلے بھی لکھی ہوئی تقریر کیا کرتے تھے اب بھی ووہی شغل جاری ہے ..١٥ ..سب سے بڑا کارنامہ جو میاں صاحب نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان صاحب سے چند ملاقاتیں کر کے ان کو رام کر لیا گیا ہے اور نظم کی تبدیلی والی کتاب چھین کر ان کے ہاتھ میں بےغیرت منافقت والی جمہوریت کی کتاب تھما دی ہے ..اب عمران خان صاحب بھی تبدیلی کو بھول چکے ہیں اور دن رات جمہوریت جمہوریت الاپ رہے ہیں .اور عوام جو انقلاب کے لئے عمران اور قادری کی طرف دیکھ رہی تھی ..اب خدا کی طرف دیکھ رہی ہے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩ .........

Monday, March 10, 2014

...................
بےغیرت حکمران پانچ سال مانگتا ہے ...................

..........

٦٥ سالوں سے جتنے بھی حکمران آے..وہ سب انقلاب لانے کے لئے نظام تبدیل کرنے کے لئے قوم سے یہی گلہ کرتے نظر آتے ہیں ..کہ ہماری حکومت کو وقت نہیں ملا .اگر وقت ملتا تو ہم فلاں فلاں تیر مار سکتے تھے ..مگر افسوس کہ ہر دفعہ قوم کو الیکشن کے دنوں میں بیوقوف بناتے چلے جاتے ہیں اور گو کہ ہم تھوڑا بھوت تو ضرور بنتے ہیں ..اور کچھ غداروں کی وجہ سے قوم کے ساتھ زبردستی بھی ہوتی ہے ..کیونکہ فیصلے اقتدار کے کہیں اور ہوتے ہیں اور قوم پر مسلط کر دئے جاتے ہیں ..پھر حدیث پاک کا حوالہ دے دیا جاتا ہے .کہ جیسی قوم ویسے حکمران ..جبکہ پاکستانی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے ..اس میں سب سے بڑی وجہ کرپٹ اور بےغیرت حکمران تھا ..چاہے وہ تیر چلا کے آیا . یا سائکل چلا کر یا شیر پر بیٹھ کر آیا یا راتوں رات شب خون مار کر آیا ..سب نے اس قوم کے ساتھ ظلم کیا . جھوٹ بولا .بغیرتی کی انتہا کی ..ملک دو لخت ہوا . سیاستدانوں کی غلطیوں کی وجہ سے ..عالمی آجنٹوں نے مداخلت کی . غدار اپنے ساتھ ملاۓ.اور پھر اپنا کام کر دکھایا ..آج بھی ووہی کھیل جاری ہے ..یہاں اب مادیت پرستی کی وجہ سے ہر شخص بکتا ہے ..کیونکہ جب ادارے کا انچارج بکے گا . تو کلرک کیا کرے گا .جب حکمران بکتا ہے تو میں انصاف کس سے مانگوں گا ..٦٥ سالوں سے ہر ایک نے جی بھر کر لوٹا .مگر نظام تبدیل کرنے کے لئے وقت مانگتا ہے ..مجھے ایک ہفتہ دے دو . نظام اسی پارلیمنٹ سے تبدیل کر کے دکھا دوں گا .....١٩٩٧ کے لگ بھگ کوریا میں ریاست جب معشیت کی وجہ سے ڈانواڈول ہوئی ..تو پوری قوم کے بچے اور بچوں نے اور ہر جوان بوڑھے نے اپنے ہاتھوں کی سونے کی انگوٹھی اتار کر قومی خزانے کو سہارا دینے کے لئے جمع کروا دی ..مگر میرے حکمران کی بد کردار . بغیرتی مجھے اس انتہا پر لے آئی ہے کہ شاید حکمران قوم کو کال دے تو ہم وہ جزبہ شاید نہ پیدا کر سکیں ..کیونکہ سیدھا سیدھا قوم سے روزانہ سفید جھوٹ بولتا ہے .تو قوم کیسے ان حکمرانوں پر عتبار کرے گی ..اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم بھی تقسیم ہے .ورنہ اب تک کرپٹ حکمرانوں کا جنازہ اٹھا چکی ہوتی ..اور آخری بات عرض کر دوں کہ اگر قوم اسی ایک جملے پر سوتی رہی کہ جیسی عوام ویسا حکمران ..تو پھر بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے ..کیونکہ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ جب معاشرہ اتنا بے حس ہو جاتا ہے تو پھر زوال کی طرف چلا جاتا ہے ...نہ جانے کب کوئی لیڈر اس قوم کو جگانے کے لئے میدان میں آے گا .کیونکہ انقلاب کے بغیر نظام کی تبدیلی کے بغیر اس قوم کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں .........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..
.............
پاکستانی حکمران بیوروکریسی کے سہارے چلتا ہے ............

......

پاکستان کا بیڑہ غرق کرنے میں حکمران کی نا اہلی اس لئے اہم ہے .کہ وہ اپنا کوئی ویزن نہیں رکھتا اپنی کوئی عقل نہیں رکھتا . تقریر بیوروکریسی سے لکھواتا ہے .روٹی تندور ہو یا پیلی ٹیکسی سکیم ..سب کام بیوروکریسی کے کہنے پر کرتا ہے .تھر کا قحط زدہ علاقہ ہو .سیلاب ہو .ڈینگی وائرس ہو .. کوئی بھی آفت ہو .زلزلہ ہو ...ہر جگہ پر دکھاوے کے لئے ٹینٹ لگانا اور پھر اکھاڑ کر لے جانا .گندم دکھانا مگر تقسیم نہ کرنا ..یہ سب بیوروکریسی کے پروٹوکول کا حصہ ہے ..یہ سب کمالات بیوروکریسی کے ہیں .کہ میڈیکل سٹوروں پر .ملاوٹ پر .بد دیانتی پر . ناانصافی پر کوئی کنٹرول نہیں ہے .بس اوپر کے افسر کو منتھلی ملنی چاہئے ..یہ بیوروکریسی کا کمال ہے کہ کس پارلیمینٹ کے ممبر کو پروٹوکول یا گھاس ڈالنی ہے یا کس کو نہیں ..ملک کو کس طرح چلانا ہے کیا منزل ہے .یہ سب بیوروکریسی طے کرتی ہے ..کس طرح اور کب بھرتی کھولنی ہے ..اور کیسے کرنی ہے ..یہ سب داؤ پیچ بیوروکریسی سیاستدان کو سکھاتی ہے ..حتہ کہ سیاستدان کرپشن کر ہی نہیں سکتا بغیر بیوروکریسی کی ملی بھگت سے ..پنجاب کے خادم اعلی کو دیکھ لیں .جنگلہ سکیم ہو یا لیپ ٹاپ ..یہ سب بیوروکریسی کی پٹیاں پڑھی ہوئی ہیں ..آج دیکھ لو .وزیر اعظم کے تھر جانے سے پہلے ٦٠٠٠٠ گندم کی بوریاں گودام میں پڑھی ہوئی تھیں ..ایک بوری بھی تقسیم نہیں ہوئی ..بعد میں بندر بانٹ ہو گی .گھپلے ہوں گے ..وہ سامان جو امداد کے لئے آیا ہے .وہ بازاروں میں فروخت ہو گا ..جس طرح پشاور میں افغان مہاجرین کو ملنے والے کمبل لاہور میں فروخت ہوتے تھے ..جعلی پاسپورٹ ..جعلی شناختی کارڈ بھی اور جعلی سند بھی سیاستدان بغیر بیوروکریسی کی مدد سے نہیں بنوا سکتا ..ملک میں آفتیں .سیلاب آتے رہیں ..یہ حکمرانوں کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہوتیں..کیونکہ اس طرح حکمران کی کمائی میں اضافہ ہو جاتا ہے ..میں جب چھوٹا تھا .تو میں اپنے حصے کی دس کلو چینی سیاسی راشن ڈپو سے لینے جاتا تھا .مگر وہ پانچ کلو مجھے دیتا تھا .باقی میرے حصے کی بلیک کر دیتا تھا اور جب میں بکواس کرتا تھا یا بھونکتا تھا .تو وہ مجھے کہتا تھا .اوپر جو تیرے مامے بیٹھے ہیں . ان کو کون کھلاۓ گا ...اس لئے افسر کو کوئی میرے جیسے بھونکنے والے کی پرواہ نہیں ہوتی ..کیونکہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں فیصلے کرنے والے کرپٹ سیاستدان ہوتے ہیں ..اس لئے افسران کی تو چاندی ہوتی ہے ..وہ سارا مال ہڑپ کر جاتے ہیں .چاہے وہ امداد کسی سماجی ادارے سے آئی ہو .یا ریاست کی طرف سے ...اسی لئے تو ہم یہ دہشت گردی کی جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتے ..کیونکہ دونوں کو ڈالر مل رہے ہیں ..اسی لئے تو ہم کسی کی جنگ کو ہماری جنگ کہ کر قوم کو خون میں بھی نہا رہے ہیں اور بے وقوف بھی بنا رہے ہیں ..اور ڈالر بھی کما رہے ہیں ...بیوروکریسی کیوں طاقتور ہے ..کیونکہ فرہنگی کے نظام میں ہم جھکڑے ہووے ہیں ..اور نظام صرف دیانت دار سیاستدان ہی تبدیل کر سکتا ہے ..یا پھر انقلاب ....مگر انقلاب اس وقت آتے ہیں جب کوئی قوم ہوتی ہے .مگر ہم ہجوم ہیں ..قوم بنانے کے لئے کوئی زندہ دل لیڈ کرنے والا چاہئے ......جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩...

Sunday, March 9, 2014

..................
اے .آر. وائی.کے اقرار حسین کی جرات کو سلام .............

.........

ویسے تو محب وطن .شوشل ورکر .انصاف کے رکھوالے وکیل اور جج .انجینیر .ڈاکٹر .سرمایا دار . جاگیردار .وڈیرے ..ہر ادارے چنیل کے ہزاروں اینکر حضرات.ہر ادارے کے حکمران .بیشمار . این .جی . اوز .اور ریاست کے وزیر اور بادشاہ سلامت اور اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور بھوت سے اس ملک کو چلانے والے اور ملک کے رکھوالے اور سب سے بڑی بیوروکریسی جس نے اس ملک کو اپنے مضبوط کاندھوں پر اٹھایا ہوا ہے ..اور جب چاہیں گے اس ملک کا نام و نشان مٹا دیں گے ..کیونکہ ان سب ملک کے خیر خاہوں کے ہوتے ہوۓ جو کچھ ہو رہا ہے .یہ اس بات کا سبوت ہے کہ ہم مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکے ہیں اور اس بات کی پشین گوئی ہے کہ اس قوم کو ختم کرنے میں ہم سب شریک ہیں . کیونکہ ہم ایسے بد کردار حکمرانوں کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکے اور نہ اس نظام کے خلاف بغاوت کر سکے .کیونکہ اس قوم کو لیڈ کرنے والا کوئی لیڈر ہی میسر نہ آ سکا ..اقرار صاحب نے جس جرات اور دلیری اور شب و روز کی انتھک محنت سے جتنے بھی اشو قوم کے سامنے رکھے ہیں .وہ واقیی قابل ے رشک بھی . تعریف کے قابل بھی .اور حیرت انگیز .رونگٹے کھڑے کر دینے انکشافات ہیں ...مگر افسوس اس بات کا ہے .کہ برائی اداروں کی ناک کے نیچے نہیں ہوتی ..بلکہ اداروں کی سرپرستی میں ہوتی ہے ..ہر علاقے کے تھانہ انچارج کو بھی علم ہوتا ہے کہ اس کے علاقہ میں کیا کیا اور کہاں کہاں ہو رہا ہے ..کیونکہ اس انچارج کو باقائدہ حصہ ملتا ہے ..اقرار صاحب نے جس طرح عملی اقدام اٹھایا ہے یہ سب سے حیران کن بات ہے .ورنہ خبریں دینے والے .لکھنے والے .تقریریں کرنے والے تو اس ملک میں بھوت ہیں .مگر عمل کرنے والے اور کروانے والے بھوت کم ہیں ..سب سے بڑی خرابی جو قوم کی تباہی کی طرف لے گئی..وہ یہی تھی کہ حکمران صرف تختیاں لگاتے ہیں .تقریریں کرتے ہیں اور ہم عملی اقدامات کے بغیر یہ سمجھتے ہیں کہ بس فلاں حکیم نے کہ دیا .بس کل اس قوم کی تقدیر بدل جاۓ گی ..تو ٹھیک کہا تھا میرے دوست نے ..کہ باتوں سے بھی بدلی ہے کبھی کسی قوم کی تقدیر ...تو یہ جو قاعد کے مزار پر اقرار صاحب نے عملی مظاھرہ کیا ہے میں اس پر . ان کی پوری ٹیم کو .ان کے پروڈیوسر کو ..اے .آر .وائی کے چنیل کو سلام پیش کرتا ہوں اور مبارک باد دیتا ہوں ..اس عزم..حوصلے .ایمانداری اور خلوص کے ساتھ ..کہ الله آپ کی دنیا اور آخرت سنوار دے اور الله آپ سے اس قوم کے لئے اور بڑا کام لے لے ..میں ٣٥ سال سے انقلاب کے لئے لکھ رہا ہوں .مگر لکھنے کے سوا کوئی کام نہیں کر سکا . کیونکہ کوئی پلیٹ فارم ہی نہیں ملا ..آپ کو ملا ہے تو الله کرے کہ آپ سوئی ہوئی قوم اور حکمران کو جگانے میں کامیاب ہو جایں ..میری صرف دعا ہے .کیونکہ اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ..میں تو کفن باندھ کر بھی نظام کی تبدیلی کے لئے نکلنا چاہتا ہوں مگر عملی اقدامات والا لیڈر ہی ملک میں نہیں ہے ..الله آپ کی مدد کرے ..اور ہر آفت سے محفوظ رکھ ..آمین ..ثم امن .....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩...

Friday, March 7, 2014

..................
سری لنکا کیا چیز ہے میرے آگے ...............

 

........

ایشیا کپ میں بھی تھا عالمی ایجنڈا میرے آگے

.......

بگ تھری کی نفرت کا بھی تھا پلندا میرے آگے

.........

اک قوم ایسی جس میں تھے جراثیم ہمارے جیسے

.......

اس افغانستان کا افغانی جنگجو تھا درندہ میرے آگے

.......

سر زمین اپنی کا غرور و تکبر تھا جس کے پاس

 

.......

اپنی کہانی کا کردار تھا ٹائیگر بنگلا میرے آگے

 


.....

ہم تو دوڑا دیتے ہیں سمندر میں بھی گھوڑے

.....

دشمن کو بتایا کیا چیز ہے تیری گنگا میرے آگے

.....

جب دشمن اور دوست بھی کھا گہے شکست

....

تو پھر کیا چیز ہے سری لنکا میرے آگے

...........

جاوید اقبال چیمہ ..میلان...اطالیہ.....

Thursday, March 6, 2014

................
انڈیا کے تھپڑ اور پاکستانی حکمران کی غیرت.....................

..........

کاش ہندوستان کے تھپڑوں سے پاکستانی حکمران کی غیرت جاگ جاۓ ..انڈیا ہر روز کسی نہ کسی بہانے پاکستانی حکمرانوں کو ان کی اوقات یاد کرواتا رہتا ہے ..مگر پاکستانی حکمرانوں پر کوئی جوں تک نہیں رینگتی ..نہ جانے اندر کھاتے کیا کہانی ہے .میرے حکمران کی کیا مجبوری ہے .کیوں اتنا لاچار اور بے بس ہے ..کہ اتنا بھی نہیں کہ سکتا کہ میرے دوست انڈیا تو جو کچھ کر رہا ہے غلط کر رہا ہے ہم شرافت کا دامن تھامے ہووے ہیں.ہم کو بدمعاش مت بناؤ .خطے کا امن جو تم تباہ کر رہے ہو اس کو مزید تباہی کی طرف لے کر نہ جاؤ ..مگر ہم تو بھیگی بلی بنے ہوۓ ہیں ..نہ کوئی خارجہ پالیسی ہے نہ خارجہ آفس میں کوئی مرد ہے ..جنگ کھیڈ نہیں ہوتی جنانیاں دی ....مگر ہم نے ایک بیان دینے کے لئے بھی خارجہ آفس میں ایک بیوروکریٹ عورت کا سہارا لیا ہوا ہے تاکہ انڈیا کو ھمارا بیان عزت و احترام والا میسر آے..تاکہ انڈیا کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہونے پاۓ..ویسے جو حکمرانوں کی چنیل پر نمایندگی کرتی ہیں وہ تو مردوں کو چنے چبا جاتی ہیں ..مگر خارجہ آفس والے اپنوں پر تو خوب چڑھائی کرتے ہیں مگر انڈیا کے خلاف بولنا شاید ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے .اس لئے وہ جو چاہے کرے ..انڈیا ہمارے جرنیلوں کو پراپرٹی ڈیلر کہتا ہے .ہر روز قیدیوں کو ٹارچر کر کے بیگناہ قتل کر دیتا ہے .ہر روز ہمارے ملک کے اندر دہشت گردی کرتا ہے .بارڈر پر سرحدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ..تجارت کے معاہدے کرنے والے بےغیرت حکمران کے منہ پر ہر روز تاجروں کو تنگ کر کے تھپڑ مارتا ہے ..کشمیر کے رہنے والے یا انڈیا کے مسلمان جب پاکستان کے حق میں ایک جملہ ادا کرتے ہیں .تو یا تو ان کو ناحق قتل کر دیا جاتا یا پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے .یا کالجوں ..یونیورسٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے یا بغاوت کے مقدمے بنا دئے جاتے ہیں .مقبوضہ کشمیر پر ہر روز ظلم و بربریت کے مظاہرے کر رہا ہے ..مگر عالمی طاقتیں تو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں ..مگر پاکستانی حکمران بھی بغیرتی کا وہ کردار ادا کر رہا ہے جس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی ..پاکستانی حکمران کے علاوہ پاکستان کی اپوزیشن جماعت بھی کوئی مذمت نہیں کرتی سواۓ جماعت اسلامی . حافظ سعید.اور جنرل حمید گل.شیخ رشید کے کوئی نہیں بولتا ...سمجھ نہیں آ رہا کہ میرے حکمران آخر چاہتے کیا ہیں ..کیوں انڈیا کے تلوے چاٹے جا رہے ہیں ..کاش انڈیا پاکستان پر حملہ کر دے اور سرد جنگ بھی ختم ہو جاۓ اور میرے حکمران کی غیرت بھی جاگ جاۓ ..میں اگر حکمران ہوتا ..تو کچھ بھی نہ کرتا صرف اپنے سفارتی اور ہر طرح کے تعلقات ختم کر دیتا اور انڈیا سے کہتا کہ اب بھونک جتنا بھونکنا چاہتا ہے ..کیونکہ پانی پر تو انڈیا پہلے ہی قبضہ کر چکا ہے .جب چاہے پاکستان کو صومالیہ بنا دے ..میرا اپنے حکمران سے سوال ہے کہ جب پانی والا فارمولہ انڈیا آزماے گا تو پھر کونسی اداکاری کر کے انڈیا سے بھیک مانگے گا ..اگر تیرے پاس جواب ہے تو ٹھیک ورنہ میرے حکمران انڈیا سے چلی پانی لے کر ڈوب کر غیرت سے مر جا ........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩...

Wednesday, March 5, 2014

.........................
مذاکرات کی اصل حقیقت کیا ہے .......................

.........

اب وہ بات پرانی ہو چکی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا ناکام .جبکہ میں نے مذاکرات کے پہلے دن ہی یہ لکھ دیا تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے .اب یہ بحث ہی نہیں ہے . اب حکمران کی لچک اور روئیے نے اور کئی سوالات کا اضافہ کر دیا ہے .بات واضح ہو چکی ہے کہ حکمران کیا چاہتا ہے اور دہشت گرد کیا چاہتا ہے .دونوں ہی اپنے اپنے مفاد کے مذاکرات کر رہے ہیں ..دہشت گرد اپنے آدمیوں کی رہائی چاہتے ہیں ان کا اسلامی نظام کا کوئی مطلبہ ہی نہیں ہے اور امن سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے وہ جس دشمن کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں وہ دشمن پاکستان کے ٹکرے ٹکرے کرنا چاہتا ہے .اس لئے چند دوستوں کی رہائی کے بعد ارادے واضح ہو جایں گے ...دوسری طرف حکمران اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کی گارنٹی چاہتا ہے ..حکمران کو بھی نظام کی تبدیلی اور بلوچستان میں کھلم کھلاہ دشمن کی مداخلت اور ملک میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ..دونوں طرف سے ڈنگ ٹپاؤ .وقت کا زیاہ..اور اپنے اپنے مفادات اور مقاصد کا حصول ہے ..حکمران کو مزید فایدہ یہ ہے .کہ عوام جس ظلم .بربریت .مہنگائی.بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں . ان کو وقتی طور پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے ..تاکہ عوام کو دوسرے مسایل سے دور رکھا جا سکے .اور اندر کھاتے اپنا نج کاری کا کام بھی جاری رہے ..امن کے لئے ایک بھی سنجیدہ کوشش ابھی تک سامنے نہیں آئی ..اور نہ پنجاب اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے گہے ہیں ..جبکہ پنجاب کی حکومت کئی دفعہ خود ہی فرما چکی ہے کہ صرف پنجاب میں تقریبا ١٨٠ کے قریب دہشت گردوں کے اڈے موجود ہیں .اس نیٹ ورک کو ختم کیوں نہیں کیا جا سکتا ..سوچو اور نتیجہ اخذ کر لو ..سمجھنے کے لئے کسی .پی.ایچ .ڈی. کی ڈگری کی ضرورت بھی نہیں ...میرا اقتدار بچاؤ .میری حکومت میرا خاندان بچاؤ اور میں تمہارے آدمیوں کو رہا کر دوں گا ..بعد میں مذاکرات کو ناکام ہو جایں گے .عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی خاطر ہم کاروائی کا علان کر دیں گے ..تم وقتی طور پر ادھر ادھر ہو جانا ..٣٥ لاکھ افغان مہاجرین کی طرح اب وزیرستان کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر کے چند ڈالر اپنے لئے اور بیوروکریسی کے لئے اور کما لیں گے ...بس اللہ اللہ خیر سلا..مسلح جوں کا توں ہی رہے گا اور ہم اگلے الیکشن میں پھر کسی اور چھوٹ کا سہارا لے کر . اندر کھاتے آپ کی مدد سے پھر اقتدار میں آ جایں گے ...مذاکرات پھر ہوں گے پھر ہوتے رہیں گے .کیونکہ مذاکرات تو ٤٠ سال مزید بھی چلتے رہیں گے اگر زندگی رہی تو ..یار زندہ صحبت باقی ..................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..٠٠٣٩...٣٢٠..٣٣٧...٣٣٣٩..........

Tuesday, March 4, 2014

........................
پارلیمنٹ پر حملہ متوقع ہے .........................

...........

جی .ایچ. کیو..سے اہم ادارہ میرے نزدیک کوئی نہیں ہے .اگر وہ نہیں بچ سکا تو پارلیمنٹ پر حملہ کیوں نہیں ہو سکتا ..میں مانتا ہوں کہ یہ دہشت گردی کی آگ مشرف کے ایک بزدل فیصلے کی وجہ سے لگی ہوئی ہے ..مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ کون کون سے حکمران ہیں جنہوں نے ٣٥ لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی . اور ان کی رقم یونائیٹڈ نیشن سے کھاتے رہے اور افغان مہاجرین کے جعلی پاکستانی کارڈ اور پاسپورٹ بناۓ گہے..کون ان رازوں سے پردہ اٹھاۓ گا .کون ان حکمرانوں کا احتساب کرے گا .سیاستدان اور بیوروکریسی اس کرپشن میں شامل ہے ..پاکستان میں کوئی عدالتی .تعلیم کا . صحت کا ..نظام نہیں ہے ..اسی لئے میں دہشت گردوں کو برا بھلا کہتا ہوں ..کیونکہ اگر وہ اس قابل ہیں کہ جہاں مرضی خون کی ندیاں بھا دیں..تو وہ پارلیمنٹ پر حملہ کیوں نہیں کرتے ..یہ وہ عمارت ہے ادارہ ہے .جو کرپٹ ہے .غدار ہے .لٹیرہ ہے .چور اچکا ہے . پاکستانی قوم کی تقدیر سے کھیلتے ہیں .قوم کا مذاق اڑاتے ہیں اور چھوٹ بول کر فراڈ کر کے دھوکا دے کر پارلیمنٹ میں پنچتے ہیں .شراب اور شباب کی محفلیں جماتے ہیں اور غریبوں پر کتے چھوڑ کر ظلم کرتے ہیں .سکولوں میں گدھے باندھ کر قوم کو نظام پر چیلنج کرتے ہیں .. پارلیمنٹ میں بیٹھ کر کاروبار کرتے ہیں .پلاٹ اور زمینیں الاٹ کرواتے ہیں . قرضے لیتے ہیں اور پھر معاف کروا کر قوم کے خوں سے عیاشی کرتے ہیں ..اسی لئے کہتا ہوں کہ دہشت گرد قوم کے دشمن ہیں جو غریبوں کو تو خون میں نہلاتے ہیں مگر قوم کے دشمن ان لٹیروں پارلیمنٹیرن کو ہی ختم کیوں نہیں کر دیتے ..اس لئے بہتر ہے پارلیمنٹ پر حملہ ایسا ہو .کہ کوئی چور لٹیرا بچ نہ سکے ..یہ صرف میری ہی بد دعا یا خواہش نہیں ہے . بلکہ ہر فریادی کی آواز ہے .کہ جب تم اقتدار میں جا کر ڈیلیور نہیں کر سکتے . تو پھر کرسی سے چمٹے رہنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے ..مگر استفه تو وہ لوگ دیتے ہیں . جو عزت دار . قوم کے مخلص . ہوتے ہیں..کرپٹ اور مفاد پرست ٹولے کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ملک چل رہا ہے یا رینگ رہا ہے ..ہزاروں مرتے رہیں .لوگ لاشیں اٹھاتے رہیں .احتجاج کرتے رہیں .رو رو کر دوہائی دیتے رہیں ..مگر حکمران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ..یہ حکمران نہیں یہ ظالم بےغیرت بھی ہے ...آخر کب تک صرف غریب ہی انصاف مانگتے رہیں گے ..حکمران کب عدالت کے کٹہرے میں یہ آرزو کرے گا کہ انصاف ہو ...وہ وقت کب آے گا ..جب حکمران کا احتساب ہو گا ..اگر نہیں تو اپنے رب سے یہ التجا کرتا ہوں ..کہ اب انتہا ہو چکی ہے . اب اس پارلیمنٹ کا بندوبست ہو ہی جاۓ تو بہتر ہے ..دہشت گرد تو سیکورٹی کی وجہ سے یہاں نہیں پنچ سکتا ..پارلیمنٹ کی عمارت تو ان پر گر سکتی ہے نہ ........جب یہ عمارت کے نیچے دب جایں گے تو نظام بھی خود بخود بدل جاۓ گا ....ورنہ اس ملک کے حالات نہیں بدل سکتے ..یہ پارلیمنٹ کی عمارت ہی سب برایوں کی جڑ ہے ...........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧..٣٣٣٩...
...........................
سیاسی مفادات کا مارشل لا یا انقلابی مارشل لا

............

اس میں تو کوئی شک کی گنجایش نہیں کہ پاکستان کی تقدیر سے نام نہاد جمہوریت نے بھی کھیلا اور مارشل لا والوں نے بھی ایسا کھیل کھیلا اور ایسی آگ میں اس قوم کو پھینک دیا . جس میں ہم مسلسل جل رہے ہیں . اور کون جانے کہ یہ آگ کیسے بھجے گی . یا سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی ..اگر کسی دل جلے یا میرے جیسے نظام سے باغی اور حکمران سے ناامید والوں سے پوچھیں تو وہ یہی کہتا ہے کہ کوئی غیبی طاقت ہی اب ہم کو بچا سکتی ہے ..مارشل لا سے ہم کیوں متنفر ہوۓ..کیونکہ عوام کو قوم کو جو توقعات تھیں وہ پوری بھی نہ ہویں اور فوج کے منظم ادارے کو بھی بدنام کیا گیا ..اسی لئے اب جب کوئی فوج کو دعوت دیتا ہے کہ آ کر اقتدار سنبھال لے تو اس کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے ..آخر کیا وجہ ہے کہ مارشل کے شب خون مارنے پر میرے جیسے مٹھایاں بھی بانٹتے ہیں اور پھر مارشل لا کے پھندے سے اس کی غلاظت سے جان جھڑوانے کے لئے سڑکوں پر بھی احتجاج کے لئے آتے ہے ..اب جب کہ پھر مارشل لا کی چاپ سنائی دے رہی ہے اور کچھ لوگ دعوت بھی دے رہے ہیں .تو دیکھنا یہ ہے کہ مارشل لا ہمیشہ نام نہاد جمہوریت کے ٹھیکیداروں . کرپٹ سیاستدانوں کی نا اہلی کی وجہ سے آتا ہے اور بدنام بھی اسی لئے ہوتا ہے کہ پھر مارشل لا والے بھی انھیں کرپٹ حکمرانوں کو ساتھ ملا کر اقتدار سے کھیلتے ہیں .مارشل لا لگانے والوں کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ قوم تبدیلی چاہتی ہے .نظام کی .ان بےغیرت .چور اچکوں کے چہرے کی .جاگیردار اور وڈیرے اور کن ٹٹوں سے نجات چاہتی ہے ..مگر جمہوریت اور مارشل لا دونوں ہی جب مفادات کی حکمرانی کریں گے تو ملک کا بیڑہ غرق تو ہو گا سو ہو چکا .اب یہ ناسور بن چکا ہے ..تو اس کا حل کیا ہے ..حل یہ ہے بڑا آسان ..کہ جمہوریت کے چیمپئن فلفور نظام کو تبدیل کر دیں..اقتدار چھوٹے چھوٹے صوبوں اور یونین کونسل کو منتقل کر دیں.زمین کی تقسیم دوبارہ کی جاۓ ..کالا باغ ڈیم بنایا جاۓ .تمام عدالتوں میں پڑے ہووے سال ھا سال سے مقدمات کا فیصلہ کر کے جیلوں کو خالی کر دیا جاۓ .انصاف اور احتساب کو یقینی بنا دیا جاۓ ..ورنہ یہ کام وہ اب کریں گے . جن کے بوٹوں کی چاپ اسلام آباد میں سنی جا رہی ہے .ورنہ انڈیا کے پالتو کتے دہشت گرد جو پورے ملک اور خاص کر بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں یہ مشرقی پاکستان والی سازش سے زیادہ خطرناک ہے .اب کی بار آنے والے مارشل سے قوم کی یہ توقعات ہیں کہ وہ نظام تبدیل کریں اور کسی بھی سیاسی پارٹی کو اقتدار میں شامل نہ کریں .یہ مشرف والا سیاسی مفادات والا مارشل لا نہ ہو . بلکہ انقلابی مارشل لا ہونا چاہئے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧..٣٣٣٩..

Monday, March 3, 2014

.....................
اسلام آباد محفوظ ترین جگہ ہے ........................

.........

میں نے پہلے بھی نثار صاحب سے گزارش کی تھی کہ بڑے بول نہیں بولا کرتے ..آپ اچھے انسان ہیں مگر آہستہ آہستہ رحمان ملک بنتے جا رہے ہو ..اور پنجاب کے خادم اعلیٰ اور رانا سناالله کی طرح بھڑکیں مارنا بند کرو ..اور میاں نواز شریف..زرداری کی طرح ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر چلنے کی کوشش کرو ..کیونکہ جب حکمران دشمن کو نہیں پہچانے گا .اس سے تجارت کے معاہدے کرے گا اس کو پسندیدہ ملک قرار دے گا .دشمن کے تلوے چاٹے گا ..تو پھر یہی کچھ ہو گا ..جب آپ کے مکمل ناکے موجود ہیں . ٢٦ کم از کم آجنزیاں موجود ہیں .آپ کو اسلام آباد کے ہر گھر کا پتہ ہے ..کہ کون کہاں کہاں رہ رہا ہے ..تو پھر آسمان سے فرشتے اتر کر کاروایاں کر کے چلے جاتے ہیں ..نہیں ایسا نہیں ہے ..ہماری صفوں میں دشمن گھسا ہوا ہے .جس طرح کرپشن میرے حکمران کے خون میں گھسی ہوئی ہے ..اس لئے یہاں کسی وقت کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ..جب حکمران ہر معاملہ میں اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا . وہاں یہی کچھ ہو گا ..جب حکمران ملک کی ترقی . فلاح کی خاطر کوئی پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اپنی کمیشن کی بات کرے گا ..تو پروجیکٹ کون شروع کرے گا ..حکمران کی نہ کوئی منزل ہے .نہ ذوق ..شوق.نہ ولولہ نہ بردباری . نہ دلیرانہ صلاحیت نہ قوم کی خاطر قربانی کا جزبہ ..وہاں کیا ہو گا ..پہلے میں کہا کرتا تھا ..اکیلا افتخار بیچارہ کیا کرے اب کہتا ہوں .اکیلا نثار بیچارہ کیا کرے ....بڑے صاحب کا کوئی ویزن نہیں سواۓ مال بنانے کے ...اس قوم کے لئے اب کوئی شرم اور غیرت ملی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ...جس قوم کا حکمران جھوٹ بولتا ہو فراڈ کر رہا دھوکا دے رہا ہو .اس سے کیا توقع کرو گے ..جو ساری دنیا سے سرمایا داروں کو دعوت دے کہ آؤ میرے ملک میں سرمایا لگاو اور خود پاکستان سے کرپشن کر کے اپنا سرمایا دوسرے ملکوں میں منتقل کرے اور دوسرے ملکوں میں فیکٹریاں لگانا اپنے لئے بہتر خیال کرے ..جو اپنا سرمایا پاکستان میں محفوظ نہ سمجھتا ہو ..وہ ملک کے ساتھ کیا مخلص ہو سکتا ہے ..جس حکمران نے لکھی ہوئی تقریر کرنی ہو .اپنے ہی خاندان اور چمچوں کو ترجیح دینی ہو ..وہ ملک کو کیا نظام دے گا کیا.. امن ..روزگار دے گا ...جو دہشت گردوں سے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی بھیک مانگتا ہو ..وہ ملک سے مہنگائی کیا ختم کرے گا ...جو حکمران اسلہ پر پابندی نہ لگوا سکتا ہو ..جو بلدیاتی الیکشن نہ کروا سکتا ہو جو اپنے ہاؤس کے اخراجات کم نہ کروا سکتا ہو ..جرات سے فیصلے نہ کر سکتا ہو ..وہ کیا خاک حکمرانی کرے گا ...واہ رے میرے حکمران تو کے ٹو کی پہاڑی سر کرنے چلا ہے پہلے اسلام آباد کی پہاڑیاں تو سر کر لے ..پاکستان پر حکومت کرنے والو صرف اسلام آباد پر تو حکومت کر لو ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان....اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..

Saturday, March 1, 2014

..................
فیوڈرل ذہنیت اور عام پاکستانی .....................

.............

ملک تو ہم نے اسلام کے نام پر اور قاعد اعظم کی جد و جہد کے بعد بڑی قربانیوں سے حاصل کر لیا .مگر افسوس کہ قاعد کو اللہ نے نظام تبدیل کرنے کا موقعہ نہ دیا اور کچھ سازشوں کا سلسلہ بھی پہلے دن سے ہی شروع ہو چکا تھا ..بد قسمتی سے انگریزوں اور ہندو ذہن کی پیداوار جاگیردار . وڈیرہ شاہی اور بیوروکریسی کی گندی ذہنیت کو نہ بدل سکے .کیونکہ فرھنگی نظام کے دئے ہووے تحفه سے کھیلتے رہے اور قوم کو قاعد کے بعد کوئی رہنما نہ مل سکا جو اس فیوڈرل گندی ذہنیت سے نجات دلواتا ..ایک عام پاکستانی کی سوچ اور جاگیردار . وڈیرے .بیوروکریٹ اور افسر کی سوچ میں بھوت فرق ہے ..گھومنے والی کرسی پر جب ایک عام آدمی بڑی مشکل سے پنچتا ہے تو اس کی سوچ گندہ نظام ہونے کے باوجود ایک کرپٹ خاندانی وڈیرے کی سوچ سے مختلف ہو گی ..اور ہوتی ہے .کچھ بدل جاتے ہیں چکنا چوند روشنیوں میں ..اور کچھ ادب آداب اور اپنی اوقات کو اور خدا کو نہیں بھولتے ..کیونکہ میں خود بھی کبھی گھومنے والی کرسی کا ساتھ دے چکا ہوں اس کا حصہ تھا . اس لئے قریب سے جانتا ہوں ..یہ سب کچھ تمہید مجھ کو اس لئے تفصیل کرنا پڑی..کیونکہ جمشید دستی نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ سب کچھ حقیقت ہے اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جمشید دستی ایک پارلیمنٹرین ہونے کے باوجود ایک عام آدمی کی سوچ رکھتا ہے ..گو کہ گندی ذہنیت کے لوگوں کو جمشید دستی کی بات پسند نہیں آئی ہو گی ..مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام آباد اور پورے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر برائی اپنے عروج پر ہے مگر شراب اور شباب کی محفلیں تو فیوڈرل ذہنیت کی ہی پیداوار ہیں ..جنرل یحییٰ کے دور میں جنرل رانی کا نام روشن تھا . جس کے گاہکوں میں سیاستدان کچھ بیوروکریٹ اور کچھ جج بھی ہوا کرتے تھے ..مگر وقت نے ایسا پلٹا کھایا..کہ اب یہ بیماری پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ..کچھ ایسے حکمرانوں کو میں zati طور پر جانتا ہوں جو باہر کے ملکوں میں صرف شراب اور شباب کے لئے آتے ہیں مگر ان کا خرچہ سرکاری بھی ہوتا ہے اور کچھ یہاں اٹلی .فرانس .جرمنی .لندن . وغیرہ میں رہنے والے میرے دوست بھی ان پر خرچ کرتے ہیں .مگر میں نے ان کی کبھی ویڈیو نہیں بنائی نہ ان پر کالم لکھتا ہوں کوںبکہ ایک تو میں ملک ریاض کی طرح کا کوئی مافیا کا کردار یا بلیک میلر نہیں ہوں دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..کیونکہ میرے حکمرانوں کے کالے دھن کو محفوظ کرنے والے ہر ملک میں موجود ہیں ..جن کے بارے میں بھوت کچھ جانتا ہوں . میرے پاس بھوت ان گنت کہانیاں موجود ہیں مگر جس ملک میں انصاف اور احتساب نام کی کوئی چیز ہی نہ ہو ..وہاں اس طرح کی حقیقتیں صرف قصے کہانیاں رہ جاتی ہیں ....میں تو ان بےغیرت حکمرانوں کے کردار سے اور نام نہاد جمہوریت سے اتنا ناامید ہو چکا ہوں کہ صرف انقلاب کو ملک کا حل سمجھتا ہوں ..کیونکہ جب تک یہ نظام ہے یہ ملک میرے جیسے غریب کے لئے جھنم سے کم نہیں ہے .حکمران کے لئے جنت ہے ...اگر یہ بد کردار چہرے اور نظام نہ بدلہ تو یہ حکمران ملک کے ٹکرے ٹکرے کر کے فروخت کر دے گا ....اگر میں حکمران ہوتا تو پہلا قانون یہی بناتا کہ ہر وہ خاندان جس کی دولت باہر کے ملکوں میں ہے جس کے پاس دو پاسپورٹ ہیں ..وہ ملک کی کسی بھی کرسی پر بھیٹنے کا اہل نہیں ہے اور تمام انگریزوں کی دی ہوئی جاگیریں بھی ضبط کر لیتا ..کل بطور وزیر اعظم اپنی پہلی تقرر لکھوں گا ..انشااللہ....جاوید .اقبال چیمہ ..میلان .اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..