Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, February 18, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،شرم کرو حکمرانوں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،شرم کرو حکمرانوں اور شرم کرو دانشورو ،،سیاستدانوں ،سول سوسایٹی والو ،،شرم کرو انڈیا سے پینگیں اڑانے والو ،،شرم کرو دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ کہنے والو ،،افغان مہاجرین کو واپس نہ بھیجنے والو ،،پرویز مشرف اور زرداری کے ارد گرد پھیرے لینے والو  شرم کرو اور ڈوب کر مر جاؤ ،،،ہر طرف لاشیں خون میں لت پت بکھری پڑی ہیں ،،پنجاب میں ڈاکوؤں کا راج ہے ،،سندھ ،سرحد ،بلوچستان ،،کو خون میں نہایا جا رہا ہے ،،،شرم کرو یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،،اس جنگ کو اپنی جنگ صرف وہ لوگ کہ رہے ہیں ،،جو ڈالروں کا کاروبار کر رہے ہیں ،،اور ڈالروں سے اپنی قبر کو بھر رہے ہیں ،،ہم اپنے غداروں کی وجہ سے اس جنگ میں کودے ،،اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کروانے کے لئے کچھ غدار عالمی سازش کا ساتھ دے رہے ہیں ،،،کوئی شیعہ، سنی ،،جھگڑا نہیں ہے ،،یہ عالمی سازش ہے اور انڈیا اور میرا غدار اس میں شامل ہے ،،ہم کھلونا بنے ہوۓ ہیں ،،ہم سمجھوتے کر کے حکومتوں میں آتے ہیں ،،،جس اگریمنٹ کے ذریح اقتدار حاصل کرتے ہیں ،،ان کے لئے کام کرتے ہیں ،،اس دہشت گردی کا ذمہ دار پرویز مشرف ،،زرداری اور اتحادی ہیں ،،ان لوگوں کو اقتدار عزیز ہے ،،ملک عزیز نہیں ہے ،،،اب اندرونی سازش کے تحت ملک میں مزید خون حکمران بھاۓ گا ،،تاکہ الیکشن ملتوی کرنے کا بہانا تلاش کیا جاۓ ،،غور کرو اور شرم کرو تمام سیاستدانوں ،،،،اپنوں سے فوری طور پر مذاکرات کرو اور دہشت گردی سے نکلنے کا بندوبست کرو ،،،ورنہ اندرونی غدار عالمی سازش کے ساتھ مل کر الیکشن کو خونی بنا دے گا ،،،اور ایک بڑے سیاستدان کو بینظیر کی طرح قتل کروا دیا جاۓ گا اور الیکشن ملتوی کروانے کا بہانا مل جاۓ گا ،،،،یہی میرا غدار چاہتا ہے ،،،شرم کریں وہ بھی جو سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر نقطۂ چینی کرتے ہیں ،،صرف ایک ادارہ کام کر رہا ہے تم اس کو بھی برباد کر کے پاکستان کے جلد ٹکڑے کرنا چاہتے ہو ،،چیف جسٹس کے حمایتی اپنے مفاد کی خاطر چیف جسٹس پر تنقید کرتے ہیں ،،،واہ میری قوم ،،تیرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اور کیوں ہو رہا ہے ،،پہلے حکمران غلط فیصلے کرتے ہیں اور پھر ان پر ڈٹ جاتے ہیں اور پھر اپنی حمایت کے لئے اتحادی کو خرید کر اس سے بیان بازی کرواتے ہیں ،،،شرم کرو ، مذمت کرنے والو ،،آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والو ،،کمیٹیاں بنانے والو ،،کمشن بٹھانے والو ،،،،قوم ان فقروں سے تنگ آ چکی ہے ،،اگر عمل کرنے کی جرات ہے تو حکومت کرو ورنہ اقتدار سے علیحدہ ہو جاؤ ،،،تم تو پانچ سالوں میں اسلہ پر پابندی نہ لگا سکے ، بلکہ اسلہ کے لاسنس بچتے رہے اور پھر کہتے ہو ملک میں امن ہو جاۓ گا ،،،،امن کبھی گولی سے نہیں آتا ،،ڈالر کے کاروبار سے نہیں آتا ،،لوگوں کو خرید کر نہیں آتا ،،بلکہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے ،،لچک سے آتا ہے ،،ہٹ دھرمی سے نہیں آتا ،،،امن ہمیشہ دیانت دار ،،ایماندار ،،ملک کی مخلص  قیادت لاتی ہے ،،،جن کو اقتدار سے زیادہ ملک عزیز ہوتا ہے ،،،،فیصلے کرنے کے لئے جرات کی ضرورت ہوتی ہے ،،سارے ملک میں خون کی ندیاں بھائی جا رہی ہیں ،،اور ہمارے حکمران اقتدار کو مزید پانچ سال کے لئے حاصل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں ،،،میں نے ٢٠٠٩ میں اپنی پہلی کتاب، خون کے آنسو ، میں لکھا تھا اور آج بھی یہی کہتا ہوں ،،،کہ ،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،یہ  دہشت گرد ہے تمہارا ،،،،،یہ جنگ ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،،،،،،،تو خون بھا رہا ہے ہمارا ،،،،،یہ  جنگ ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،،،،،،یہ  مشن ہے تمہارا ،،،،،،،،،،،،یہ جنگ ہماری  نہیں ہے
،،،،،،،،،،،،یہ  امتحان ہے  ہمارا ،،،،،،،،،،،یہ جنگ  ہماری نہیں ہے
،،،،،شرم کرو بےغیرت شرم کرو ،،اس خون کی آگ میں جانے والو شرم کرو ،،،جس دن ڈالر  کا سوچنا چھوڑ دو گے ،،ملک کا سوچنا شروح کر دو گے ،،،دہشت گردی ختم ہو جاۓ گی ،،ملک میں اور سارے خطے میں امن ہو جاۓ گا ،،،،شرم کرو مذمت کے الفاظ چھوڑ دو ،،،،عمل کرو مذاکرات کرو ،،امن کے لئے ،،،،صرف امن کے لئے ،،،ہٹ دھرمی چھوڑ دو ،،خدا کا واسطہ ہے اتنا خون مت بھاؤ ،،اتنا دشمن کے ہاتھوں مت کھیلو ،،،،،،،کہ قبر بھی تم کو قبول کرنے سے انکار کر دے ،،فرعون مت بنو ،،ہر فرعون نے اک دن خدا کی عدالت میں جانا ہے ،،،دہشت گردوں سے بھی کہتا ہوں کہ دشمن کا آلہ کار مت بنو ،،آخر کار تم کو اسلہ تو میرا دشمن ہی دیتا ہے نہ ،،،،،میرا حکمران سب کچھ جانتا ہے ،،،،مگر اقتدار کے لئے زبان بند کر لیتا ہے ،،،،،مذمت ،،مذمت ،،لعنت ہے تیری مذمت پر ،،،،تیری مذمت میری لاشوں کو کفن بھی نہیں پہنا سکتی ،،،،،،،،
،،،،،،،،بتا میں کیا کر سکتا ہوں تیرے لئے ،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،٠٠٣٩،،،،٣٢٠،،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،

Sunday, February 17, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،مفادات کا انقلاب ،،،،،،،،،،
،،،،،،اسے کہتے ہیں مفادات کا گورکھ دھندہ ،،کہ ملک آگ میں جلتا رہے ،،لوٹ کھسوٹ ہوتی رہے ،،بندر بانٹ جاری رہے ،،غدار اپنا مشن جاری  رکھیں ،،،قتل و غارت ہوتی رہے ،،ملک کی معیشت تباہ و برباد ہو جاۓ ،،،ہر محکمہ کنگال ہو جاۓ ،،صرف سپریم کورٹ ایک ادارہ تھوڑا بھوت رکاوٹ ڈال رہا ہو ،،تو اس پر بھی آوازیں کسی جایں ،،انصاف نہ ہونے دیا جاۓ ،،اور ہر اچھے فیصلہ پر بھی اس کو متضاد بنایا جاۓ ،،،،مگر ،،ایم،،قیو ،،ایم ،،،مولانا ڈیزل ،،اور گجرات والے چودھریوں پر کوئی اثر نہ ہو ،،اور جب اپنی ذات کو ،اپنے مفاد کو نقصان پونچھنے کا خدشہ ہو تو حکومت پر چارج شیٹ لگا دی جاۓ ،،،اور ، ایم ،،قیو ،،ایم ،،حکومت سے علیحدہ ہو جاۓ ،،،،اور آنسو ملک کی خاطر بھاۓ جایں ،،،کراچی والے اور دوسرے زرداری صاحب کے اتحادی سمجھتے ہیں ،،کہ عوام بیوقوف ہے ،،،،،،یہ سارا کھل ایک زرداری صاحب کی پلاننگ پر کھلا جا رہا ہے ،،،ایم ،،قیو ،،ایم ، کی قلابازیاں جاری رہیں گی ،،ان پر اب کوئی بھی زی شعور عتبار نہیں کر سکتا ،،،،کیونکہ ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں صرف زرداری کا حصہ نہیں ہے ،،بلکہ اتحادی برابر کے شریک ہیں ،،،اور تاریخ ان سب کو کبھی بھی معاف نہیں کر سکتی ،،،ان کا ڈرامہ سب کی سمجھ میں آ چکا ہے ،،،زرداری صاحب بڑی مہارت سے اپنے پتے کھلتے جا رہے ہیں ،،لیکن کب تک ،،،،آخر کار ماہر سے ماہر شکاری بھی اس دنیا سے خالی ہاتھ گیا ،،اور اپنے انجام کو پنچا ،،،خدا کی لاٹھی بڑی بے آواز  ہے ،،جب حرکت میں آے گی ،،تو سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے ،،،،جو خون پورے پاکستان میں بہ رہا ہے ،،،،جو ملک کو لوٹا گیا ہے ،،آخر کار کوئی تو حساب لینے آے گا ،،،احتساب ضرور ہو گا ،،انشااللہ ،،،،،جس ملک میں ملک ریاض جیسی مافیا ہو ،،اور ہر کام ان کے اشاروں پر ہو ،،اور صدر زرداری کو محل بنا کر گفٹ دیں اور کچھ کو پلات گفٹ کریں ،،وہاں ہم کو انصاف کہاں ملے گا ،،،یہ ہے ہمارے ملک کی شکل ،،نظام ،،،جو ملک حسسیں حقانی اور عاصمہ جہانگیر جیسے غداروں کے رحم و کرم پر چل رہا ہو ،،اس کا اللہ ہی حافظ ہے ،،،،،
،،،،،،،امیر شہر سے سائل بڑا ہے ،،،بھوت نادار لیکن دل بڑا ہے
،،،،،جمنے سے پہلے خون بھا دے ،،،،یہاں انصاف سے قاتل بڑا ہے
،،،،چٹانوں میں گھرا ہے اور چپ ہے ،،،،سمندر سے کہیں ساحل بڑا ہے
،،،،کس بستی میں ہو گی سچ کی حرمت ،،،ہمارے شہر میں باطل بڑا ہے
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،پھر کہتا ہوں ،،،،،،،،
،،،،،،،جستجو کھوۓ ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
،،،،،،چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
،،،،،،راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
،،،،،،شہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
،،،،،،،،،،،اور آخر میں قوم کے نام ایک بار پھر درخوست ،،کہ ہم انقلاب تو نہ لا سکے ،یہ ہے اب قوم کی حالت،،،،،،،،،،،،،،،،،،ابھی کچھ دیر جینا چاہتا ہوں
،،،،،،،،،،،،،،،،،خدا وند مجھے پتھر بنا دے
،،،،،،،،،،،،خدا حافظ ،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،١٧،،،٠٢،،،،٢٠١٣،،،،،،،،،

Sunday, February 10, 2013


,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،انقلاب نے آخر کار آنا ہے ،،اس ملک کے مسایل کا واحد حل انقلاب میں ہے ،،نہ اس طرح کی بےغیرت جمہوریت ،،نہ اس طرح کی خاندانی وراثت ،،نہ اس طرح کے بےغیرت سیاستداں ،،نہ اس طرح کے نظام کے الیکشن ،،نہ اس طرح کی بیوروکرسی ،،ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور نہ نظام ،،،نظام بدلنے کے لئے کم از کم تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،،١،عوام کا شعور سے لبریز ہونا ،،مادیت پرستی سے پاک ،،،٢،،نڈر بیباک ،ایماندار ،لیڈر کا ہونا ،،جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتا ہو ،،٣،،ایک ایسا جرنیل جو ہر لالچ سے پاک ہو ،،،اور صرف پاکستان کی تقدیر بدلنا ،اس کا مشن ہو ،،،جس ملک میں یورپ سے زیادہ برائی ہو ،،وہاں معاشرہ اس طرح تباہ ہوتا ہے ، جس طرح ہم ہر شعبے میں تباہ ہو چکے ہیں ،،اس بات کا بھی کریڈٹ بےغیرت حکمرانوں کو جاتا ہے ،،ان لوٹوں کو جاتا ہے ،،جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ہر آمر کا ساتھ دیا ،،اور ابھی تک دے رہے ہیں ،،،عوام کو بنیادی سہولتوں سے نہ آراستہ کیا اور نہ شعور دینے کی کوشش کی ،،حکمرانوں کی ناہلی کا منہ بولتا سبوت ہے ،،اور جن کو شعور تھا ،،انہوں نے بھی مادیت پرستی سے اپنے آپ کو نتھی کر لیا ،،،عتزاز حسن اور عاصمہ جہانگیر جیسی مثالیں آپ کے سامنے ہیں ،،جنہوں نے اپنے شعور کو زرداری سے اور بال ٹھاکھڑے سے کیش کروایا ،،،،زرداری صاحب نے جس کمال مہارت سے ہر طبقا کے لوگوں کو خریدا اور خاص کر سیاست کے بازیگروں کو جس انداز سے کھلایا ،،وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے ،،جس طرح کے پتے انھوں نے کھیلے اور کھیل رہے ہیں ،،وہ نقابل فراموش ہیں ،،،کون ان پانچ سالوں کا احتساب کرے گا ،،کون لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاۓ گا ،،جو حکمرانوں کے جہازوں میں بھر بھر کر باہر کے ملکوں میں منتقل کی گئی ،،،،کس کس توقیر صادق کو پکڑو گے ،،ابھی تک تو سٹیل مل کے سابق چیرمین  لٹیروں کو پھانسی نہیں ہوئی ،،،اس خونی انقلاب والے الیکشن کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے ،،تم بھی دیکھو ،،،میں بھی دیکھوں  گا ،،،انقلاب کے بغیر اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی ،،،،کیا قوم یہ سمجھتی  ہے ،،کہ بلاول زرداری ،،حمزہ شہباز ،،سپوت گیلانی ،،مونس الہی ،،قوم کی تقدیر بدلیں گے ،،تو لعنت ہے ایسی قوم کی سوچ پر ،،میرا امان ہے کہ جب تک یہ لوگ پاکستان کی تقدیر سے کھیلیں گے ،،اس وقت تک ملک برباد ہوتا رہے گا ،،،اور جو دانشور ان کے قصیدہ پڑتا ہے ،،،اس کے بارے میں آپ اندازہ لگا لیں ،،کہ وہ ایمان کی کس سٹیج پر ہیں ،،،،،،خدا خیر کرے پاکستانی قوم پر جو اپنے اپنے مفاد میں اپنے وطن کو اور اپنے نبی کے دین کو  بھول  چکی ہے ،،،،،مت بھول جانا کہ انقلاب نے اس ملک میں آنا ہے ،،کب آنا ہے ،،جب قوم اسلامآباد میں تحریر چوک بناۓ گی ،،اور کفن باندھ کر نکلے گی ،،،،انشااللہ انقلاب اس ملک کی تقدیر بدلے گا ،،،،،،،،میرا حکمران خونی انقلاب چاہتا ہے ،،جبکہ میں سبز انقلاب کا حامی ہوں ،،،،،،مگر احتساب کے لئے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کے لئے اور غداروں کا حساب بیباک کرنے کے لئے اگر چند  کو لٹکانا بھی پڑے تو کوئی حرج نہیں ،،،،،،،،انصاف اگر سب کے لئے یکساں نہ ہو گا تو حکمران ملک کی تقدیر سے کھلتا رہے گا ،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،انقلاب نے آخر کار آنا ہے ،،اس ملک کے مسایل کا واحد حل انقلاب میں ہے ،،نہ اس طرح کی بےغیرت جمہوریت ،،نہ اس طرح کی خاندانی وراثت ،،نہ اس طرح کے بےغیرت سیاستداں ،،نہ اس طرح کے نظام کے الیکشن ،،نہ اس طرح کی بیوروکرسی ،،ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور نہ نظام ،،،نظام بدلنے کے لئے کم از کم تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،،١،عوام کا شعور سے لبریز ہونا ،،مادیت پرستی سے پاک ،،،٢،،نڈر بیباک ،ایماندار ،لیڈر کا ہونا ،،جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتا ہو ،،٣،،ایک ایسا جرنیل جو ہر لالچ سے پاک ہو ،،،اور صرف پاکستان کی تقدیر بدلنا ،اس کا مشن ہو ،،،جس ملک میں یورپ سے زیادہ برائی ہو ،،وہاں معاشرہ اس طرح تباہ ہوتا ہے ، جس طرح ہم ہر شعبے میں تباہ ہو چکے ہیں ،،اس بات کا بھی کریڈٹ بےغیرت حکمرانوں کو جاتا ہے ،،ان لوٹوں کو جاتا ہے ،،جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ہر آمر کا ساتھ دیا ،،اور ابھی تک دے رہے ہیں ،،،عوام کو بنیادی سہولتوں سے نہ آراستہ کیا اور نہ شعور دینے کی کوشش کی ،،حکمرانوں کی ناہلی کا منہ بولتا سبوت ہے ،،اور جن کو شعور تھا ،،انہوں نے بھی مادیت پرستی سے اپنے آپ کو نتھی کر لیا ،،،عتزاز حسن اور عاصمہ جہانگیر جیسی مثالیں آپ کے سامنے ہیں ،،جنہوں نے اپنے شعور کو زرداری سے اور بال ٹھاکھڑے سے کیش کروایا ،،،،زرداری صاحب نے جس کمال مہارت سے ہر طبقا کے لوگوں کو خریدا اور خاص کر سیاست کے بازیگروں کو جس انداز سے کھلایا ،،وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے ،،جس طرح کے پتے انھوں نے کھیلے اور کھیل رہے ہیں ،،وہ نقابل فراموش ہیں ،،،کون ان پانچ سالوں کا احتساب کرے گا ،،کون لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاۓ گا ،،جو حکمرانوں کے جہازوں میں بھر بھر کر باہر کے ملکوں میں منتقل کی گئی ،،،،کس کس توقیر صادق کو پکڑو گے ،،ابھی تک تو سٹیل مل کے سابق چیرمین  لٹیروں کو پھانسی نہیں ہوئی ،،،اس خونی انقلاب والے الیکشن کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے ،،تم بھی دیکھو ،،،میں بھی دیکھوں  گا ،،،انقلاب کے بغیر اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی ،،،،کیا قوم یہ سمجھتی  ہے ،،کہ بلاول زرداری ،،حمزہ شہباز ،،سپوت گیلانی ،،مونس الہی ،،قوم کی تقدیر بدلیں گے ،،تو لعنت ہے ایسی قوم کی سوچ پر ،،میرا امان ہے کہ جب تک یہ لوگ پاکستان کی تقدیر سے کھیلیں گے ،،اس وقت تک ملک برباد ہوتا رہے گا ،،،اور جو دانشور ان کے قصیدہ پڑتا ہے ،،،اس کے بارے میں آپ اندازہ لگا لیں ،،کہ وہ ایمان کی کس سٹیج پر ہیں ،،،،،،خدا خیر کرے پاکستانی قوم پر جو اپنے اپنے مفاد میں اپنے وطن کو اور اپنے نبی کے دین کو  بھول  چکی ہے ،،،،،مت بھول جانا کہ انقلاب نے اس ملک میں آنا ہے ،،کب آنا ہے ،،جب قوم اسلامآباد میں تحریر چوک بناۓ گی ،،اور کفن باندھ کر نکلے گی ،،،،انشااللہ انقلاب اس ملک کی تقدیر بدلے گا ،،،،،،،،میرا حکمران خونی انقلاب چاہتا ہے ،،جبکہ میں سبز انقلاب کا حامی ہوں ،،،،،،مگر احتساب کے لئے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کے لئے اور غداروں کا حساب بیباک کرنے کے لئے اگر چند  کو لٹکانا بھی پڑے تو کوئی حرج نہیں ،،،،،،،،انصاف اگر سب کے لئے یکساں نہ ہو گا تو حکمران ملک کی تقدیر سے کھلتا رہے گا ،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،انقلاب ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،انقلاب نے آخر کار آنا ہے ،،اس ملک کے مسایل کا واحد حل انقلاب میں ہے ،،نہ اس طرح کی بےغیرت جمہوریت ،،نہ اس طرح کی خاندانی وراثت ،،نہ اس طرح کے بےغیرت سیاستداں ،،نہ اس طرح کے نظام کے الیکشن ،،نہ اس طرح کی بیوروکرسی ،،ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور نہ نظام ،،،نظام بدلنے کے لئے کم از کم تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ،،١،عوام کا شعور سے لبریز ہونا ،،مادیت پرستی سے پاک ،،،٢،،نڈر بیباک ،ایماندار ،لیڈر کا ہونا ،،جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتا ہو ،،٣،،ایک ایسا جرنیل جو ہر لالچ سے پاک ہو ،،،اور صرف پاکستان کی تقدیر بدلنا ،اس کا مشن ہو ،،،جس ملک میں یورپ سے زیادہ برائی ہو ،،وہاں معاشرہ اس طرح تباہ ہوتا ہے ، جس طرح ہم ہر شعبے میں تباہ ہو چکے ہیں ،،اس بات کا بھی کریڈٹ بےغیرت حکمرانوں کو جاتا ہے ،،ان لوٹوں کو جاتا ہے ،،جنہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ہر آمر کا ساتھ دیا ،،اور ابھی تک دے رہے ہیں ،،،عوام کو بنیادی سہولتوں سے نہ آراستہ کیا اور نہ شعور دینے کی کوشش کی ،،حکمرانوں کی ناہلی کا منہ بولتا سبوت ہے ،،اور جن کو شعور تھا ،،انہوں نے بھی مادیت پرستی سے اپنے آپ کو نتھی کر لیا ،،،عتزاز حسن اور عاصمہ جہانگیر جیسی مثالیں آپ کے سامنے ہیں ،،جنہوں نے اپنے شعور کو زرداری سے اور بال ٹھاکھڑے سے کیش کروایا ،،،،زرداری صاحب نے جس کمال مہارت سے ہر طبقا کے لوگوں کو خریدا اور خاص کر سیاست کے بازیگروں کو جس انداز سے کھلایا ،،وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے ،،جس طرح کے پتے انھوں نے کھیلے اور کھیل رہے ہیں ،،وہ نقابل فراموش ہیں ،،،کون ان پانچ سالوں کا احتساب کرے گا ،،کون لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاۓ گا ،،جو حکمرانوں کے جہازوں میں بھر بھر کر باہر کے ملکوں میں منتقل کی گئی ،،،،کس کس توقیر صادق کو پکڑو گے ،،ابھی تک تو سٹیل مل کے سابق چیرمین  لٹیروں کو پھانسی نہیں ہوئی ،،،اس خونی انقلاب والے الیکشن کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے ،،تم بھی دیکھو ،،،میں بھی دیکھوں  گا ،،،انقلاب کے بغیر اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی ،،،،کیا قوم یہ سمجھتی  ہے ،،کہ بلاول زرداری ،،حمزہ شہباز ،،سپوت گیلانی ،،مونس الہی ،،قوم کی تقدیر بدلیں گے ،،تو لعنت ہے ایسی قوم کی سوچ پر ،،میرا امان ہے کہ جب تک یہ لوگ پاکستان کی تقدیر سے کھیلیں گے ،،اس وقت تک ملک برباد ہوتا رہے گا ،،،اور جو دانشور ان کے قصیدہ پڑتا ہے ،،،اس کے بارے میں آپ اندازہ لگا لیں ،،کہ وہ ایمان کی کس سٹیج پر ہیں ،،،،،،خدا خیر کرے پاکستانی قوم پر جو اپنے اپنے مفاد میں اپنے وطن کو اور اپنے نبی کے دین کو  بھول  چکی ہے ،،،،،مت بھول جانا کہ انقلاب نے اس ملک میں آنا ہے ،،کب آنا ہے ،،جب قوم اسلامآباد میں تحریر چوک بناۓ گی ،،اور کفن باندھ کر نکلے گی ،،،،انشااللہ انقلاب اس ملک کی تقدیر بدلے گا ،،،،،،،،میرا حکمران خونی انقلاب چاہتا ہے ،،جبکہ میں سبز انقلاب کا حامی ہوں ،،،،،،مگر احتساب کے لئے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کے لئے اور غداروں کا حساب بیباک کرنے کے لئے اگر چند  کو لٹکانا بھی پڑے تو کوئی حرج نہیں ،،،،،،،،انصاف اگر سب کے لئے یکساں نہ ہو گا تو حکمران ملک کی تقدیر سے کھلتا رہے گا ،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،

Saturday, February 9, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،پاکستان میں تیسری قوت ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،میاں صاحب کو تیسری قوت سے خوف آ رہا ہے ،،کیونکہ اپنی باری ہاتھ سے جاتی نظر آ رہی ہے ،،،،چند چیزوں کی طرف میاں صاحب کا دھیان  نہیں گیا ،پہلی بات تو یہ ہے ، کہ حقیقت میں تیسری قوت عمران خان ہے ،،جس کا تجزیہ نگار بخل سے کام لے رہے ہیں ،،،اگر قادری صاحب ایمانداری سے زرداری کے کھیل کو کھیلنا چھوڑ دیں،،اور کراچی اور گجرات والوں سے دور ہو جایں،،ایمانداری سے عمران خان کا ساتھ دیں اور جماعت اسلامی بھی عمران خان سے اتحاد کر لے ،،تو ملک میں نظام بدلا جا  سکتا ہے ،،اور میاں صاحب کو دن میں تارے نظر آ سکتے ہیں ،،٢،،الیکشن میں میاں صاحب کا مقابلہ زرداری سے نہیں عمران خان سے ہو گا ،،٣،،اس میں کوئی شک نہیں کہ  ایک نیا ،،،این ،آر ،و ،،لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،،مگر عمران خان اس میں شامل نہیں ہے ،،کیونکہ عمران خان الیکشن کے ذریھہ اقتدار میں آنا چاہتا ہے ،،کسی چور دروازے سے نہیں ،،،،چور دروازے سے پرویز مشرف اور اس کے حواری گجرات والے چودھری ، زرداری کے ساتھ مل کر آنا چاہتے ہیں ،،تاکہ زرداری کو مزید پانچ سال کے لئے تحفظ فراھم کیا جا سکے اور میاں صاحب  کو ہر اقتدار سے دور رکھا جا سکے ،،،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ قوتیں  ہیں جو میاں صاحب کو اقتدار میں  نہیں دیکھنا چاہتی ،،،کیونکہ مشرف کو پھانسی کے پھندے سے بچانا چاہتی ہیں ،،جبکہ میاں صاحب جیسے بزدل لیڈر کسی کو پھانسی پر نہیں لٹکا سکتے ،،،یہ کام صرف انقلاب سے ہو گا ،،،اور جاگیرداروں ، وڈیروں کے ساتھ چلنے والے انقلاب نہیں لا سکتے ،،،،،الیکشن کے التوا کا فایدہ صرف زرداری صاحب کو ہو گا ،،اس لئے عمران خان کو قادری کے ساتھ سپریم کورٹ میں جانے سے پہلے قادری صاحب کے ساتھ اتحاد کا ایگریمنٹ  کرنا چاہئے تھا ،،ورنہ میرے جیسے  پاگل  کل کو عمران خان سے پوچھیں گے ،کہ اسلام آباد میں نہ جانے کا فیصلہ درست تھا یا سپریم کورٹ میں جانے کا ،،،،،عمران خان کو یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ قادری صاحب کس کا کھیل،،،،کھیل رہے ہیں ،،،،،کیونکہ  زرداری صاحب  اتنی آسانی سے الیکشن کروانے کا رسک نہیں لے سکتے ،،،جب  تک ان کو مزید پانچ سال کی گارنٹی نہیں مل جاتی ،،،،،،زرداری صاحب ایسا کھیل کھیلیں گے کہ عمران خان اور میاں برادران دیکھتے رہ جایں گے ،،،،،،،خون خرابہ اور انارکی میں مزید اضافہ ہونے والا  ہے ،،،صدارت کی کرسی کو بچانے کی خاطر زرداری صاحب آخری حد تک جایں گے ،،،میاں صاحب اور عمران خان کی لڑائی  زرداری کو فایدہ اور ملک کے لئے نقصان کا سبب بنے گی ،،،ملک کا مزید بیڑہ غرق ہو گا ،،،،پنجاب میں لا قانونیت بڑھتی جا رہی ہے ،،،،پولیس نکام ہو چکی ہے ،،اگر یہی حال رہا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا ،،،،دما دم مست قلندر کا طبل بجنے والا ہے ،،،،،،،کیونکہ زرداری صاحب اور منافق اتحادی صرف اپنے اقتدار کے بارے میں سوچ رہے ہیں ،،،ملک یا عوام کے بارے میں ان کے پاس  کوئی وقت نہیں ہے ،،،،،،،ملک رہے یا نہ رہے ،،کسی کو دلچسپی نہ ہے ،،،اپوزیشن کی جماعتوں کی اکیلی اکیلی پرواز اس ملک کو مزید تباہ برباد کر دے گی ،،،اپوزیشن کی جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا ،،ان منافقوں کے خلاف ،،،،،،،ورنہ ملک کی بربادی لکھی جا چکی ہے ،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،٠٩،،،٠٢،،،٢٠١٣ ،،،،،،

Sunday, February 3, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،منافقت  سے مفاہمت  والے پانچ سال ،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،میں نے اپنی کتاب طوفان انقلاب میں عرض کیا تھا ،،،،کہ ،،،،،
،،،،،،،،،انقلاب تو آے گا ، آتش  نمرود  کو بجھا کے آے  گا
،،،،،،،،آنے سے پہلے تیرے اندر ہل چل  مچا  کے  آے  گا
،،،،،،،قسم خدا کی  اب تاج  اچھالے  نہیں  جایں  گے
،،،،،،اب کی بار  تاج  و  تخت  جلا  کے   آے   گا
،،،،،،،،،،،،،،،،پانچ سال کی منافقت نے صرف زرداری صاحب کی کرسی کو کندھا دیا ،،،،کوئی قانون سازی نہ عوام کے مفاد میں کی گئی اور نہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے کی گئی ،،،سترویں ، اٹھارویں ،،انیسویں  ترامیم صرف اپنے مفاد کے لئے کی گئی ،،،،یہ چھوٹے چھوٹے دھرنے ، چیخ  و پکار ،،قتلو غارت گری  زرداری صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ،،،اب سب کے پیٹ میں درد ہو گی ،،،سب رونے کے لئے اکھٹے ہو جایں گے تو انقلاب آے گا ،،،عمران خان ،،جماعت اسلامی اور نواز شریف کو اکٹھا ہونا پڑے گا ،،،،عنقریب اس ملک میں انقلاب کا طبلہ بجنے والا ہے ،،،،کتا کتا ،،ہاے ہاۓ،،ہونے والا ہے ،،،سڑکوں پر اب وہ لوگ بھی آئیں گے جو پہلے جمہوریت کو بچانا چاہتے تھے ،،،کیونکہ زرداری صاحب ہر کسی کو مجبور کر دیں گے ،،،،میں ہر بار یہی کہتا ہوں کہ زرداری صاحب کو آئندہ پانچ سال اور لوٹنے کی گارنٹی دے دو ، ملک میں الیکشن ہو جایں گے ورنہ اپنا اپنا کفن تیار کر لو ،،،یاد رکھو تاریخ لکھنے والو کہ یہ منافق اسلہ پر پابندی لگا سکتے تھے ،،،مگر انہوں نے اسلہ کے لاسنس بیچنے تھے ،،کالا باغ ڈیم بنا سکتے تھے ،،دہشت گردی ختم کر سکتے تھے ،،مگر ڈالر کیسے کماتے ،،،،بجلی ، گیس ،پانی ،،ریلوے ،،ایئر لاین،،بیروزگاری ،،مہنگائی  کا مسلہ ھل کر سکتے تھے ،،اگر کرپشن نہ کرتے تو ،،،حکومت ہر کسی کو اسلہ کے لاسنس فروخت کر کے ٹارگٹ کلنگ ختم کرنا چاہتی ھے،،،واہ کیا بات ھے ،،،پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہیں ،،،میں حکومت کے منافقوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ مجھے سات دنوں کے لئے حکومت دے دی جاۓ،،،میرے پاس جادو کی چھڑی ھے ،،،سات دن بعد میں حکومت واپس کر دوں گا ،،،آزمایش شرط ھے ،،،ملک میں اس وقت صرف سپریم کورٹ ایک واحد ادارہ کام کر رہا ھے ،،مگر ان کے فیصلوں پر عمل کون کرواۓ ،،،،،جس ملک میں عاصمہ جہاں گیر جیسے غدار ،بال ٹھاکرے  کے دوست مجود ہوں ،،وہاں سپریم کورٹ پر عمل کون کرواۓ گا ،،،سپریم کورٹ کے  دوست اب اپنا اپنا حصہ وصول کر چکے ہیں ،،اب ان کو انصاف سے کوئی غرض نہیں ھے ،،،،یہی پاکستان کی بد قسمتی ھے ،،اور اسی منافقت کی وجہ سے پاکستان برباد ہو چکا ھے ،،،،اب صرف ایک ہی ھل ھے ،،اور وہ ھے انقلاب ،،،،،،انقلاب ہی نظام کو بدلے گا ،،قرضے واپس لے گا ،،احتساب کرے گا ،،،جاگیریں اور وڈیرہ شاہی کا خاتمہ کرے گا ،،،کوئی الیکشن ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا ،،،،،زرداری صاحب کا ساتھ دینے والے منافق جب تک ہیں ،،ملک کا مزید بیڑہ غرق ہو گا ،،ملک تباہی کی طرف گامزن  ھے ،،،،،،،مزید برا وقت آنے والا ھے ،،،،دیکھتے جاؤ ،،،جب تک ایماندار ،،دانت دار لوگ اتحاد نہیں کرتے ،،ملک میں انقلاب نہیں آے  گا ،،،،،،عنقریب  محب وطن اکھٹھے ہونے والے ہیں ،،،،،،،پھر دیکھنا منافقوں کا کیا حال ہو گا ،،،،قادری صاحب کا انقلاب قادری صاحب کی غلطی کی وجہ سے فلاپ ہوا ،،کیونکہ  انہوں نے منافقوں کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،٠٣،،٠٢،،،٢٠١٣ ،،،،،،،،،،،،،،،،