Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, August 20, 2015

 ======گوجرانوالہ عزیز کراس چوک ======
گوجرانوالہ عزیز کراس چوک اور فللائی اوور کی تعمیر صرف گوجرانوالہ کے شہریوں کے لئے ہی نہیں ہے .بلکہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کے عوام کے لئے ایک بہترین منصوبہ ہے اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے وقت کی بچت کے لئے اور آے دن کی ٹریفک جام اور عوام کی پریشانی کو کم کرنے کے لئے ایک گوجرانوالہ کی تقدیر بدلنے کے لئے سنہری موقعہ ہے حکمرانوں کے لئے .گوجرانوالہ کے باسیوں کے لئے یہ ایک تحفہ سے کم نہیں .مگر افسوس سال ہا سال سے یہ منصوبہ سیاست کی نذر ہوتا جا رہا ہے .خادم اعلی اس کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں .اور پواینٹ سکورنگ کے لئے تاخیری حربے استمعال کئے جا رہے ہیں .کہ کب اس کو سٹارٹ کیا جاۓ کب مکمل کیا جاۓ کب اس کو کیش کروایا جاۓ .کس کس بیوروکریٹ کو کس کس سیاستدان کو اس سے نفح و نقصان ہو گا .کس طرح کمائی کب اور کیسے کی جاۓ .اصل منصوبہ بندی فلائی اوور کی تعمیر کی نہیں بلکہ اصل منصوبہ بندی یہ ہے کہ کس طرح چند انویسٹروں کو نوازہ جاۓ کس طرح سیاست کھیل کر مفاد کو بھی کیش کروایا جاۓ .پاکستان کی بدقسمتی ہی یہی ہے کہ پیسہ اور خون پسینہ عوام کا اور تختیاں حکمرانوں کی .اور پھرتیاں بیوروکریسی کی .کئی سالوں سے گوجرانوالہ کے عوام کے لئے اور جی .ٹی.روڈ کی ٹریفک کے لئے اس چوک کی وجہ سے مسایل ہی مسایل ہیں .کبھی کوئی میٹنگ ہوتی ہے کبھی کوئی احتجاج ہوتا ہے کبھی کوئی وفد بیوروکریسی سے ملتا ہے کبھی کوئی وفد خادم اعلی سے ملتا ہے .کبھی فنڈ ریلیز ہونے کی کبھی روکنے کی خبریں آتی ہیں .کبھی یہ خبر آتی ہے کہ اس منصوبے کی رقم لاہور پر خرچ کر دی گئی ہے .کبھی خبر آتی ہے کہ ایک ہفتہ بعد تعمیر شروح ہونے والی ہے .کبھی بڑے بڑے بینر مبارک بادوں کے بھی لگا دئے جاتے ہیں .بلکہ اس عزیز کراس کی وجہ سے ملھکه سڑکوں کی تعمیر کا بھی سنا جاتا ہے کہ سمن آباد روڈ کے بھی فنڈ آ چکے ہیں .مگر تا حال کاغذی کاروائی سے آگے بات پنچھی نہیں .آخر کب تک کتنے سال مزید فائلیں دفتروں کے چکر لگاتی رہیں گی .خدا بہتر جانتا ہے .اس ملک میں نام عوامی مفادات کا ہی لیا جاتا ہے .مگر مک مکا کے بغیر کوئی منصوبہ کیسے شروح ہو سکتا ہے .حالانکہ یہ منصوبہ اگر اپنی اصل شکل و صورت میں بنتا تو یہ بین ال اقوامی منصوبہ بھی بن سکتا تھا .جس سے گوجرانوالہ کی تقدیر بھی بدلتی اور دنیا میں نام بھی ہوتا .مگر میرے منصوبہ سازوں کی واہ واہ بلے بلے کہ انہوں نے ایک نہر کے ساتھ ملھکه روڈ بنا کر ہی سارے منصوبے کو تہس نہس کر دیا ہے .اور اس فلائی اوور کی افادیت کو خوبصورتی کو ایک آدھی سڑک بنا کر ہی تباہ کر دیا ہے .کیا ہی اچھا ہوتا کہ سمن آباد کا روڈ دونوں اطراف کا بنتا اور گندہ پانی نظر بھی نہ آتا .کیونکہ گوجرانوالہ کا گندہ ترین یہ علاقہ ہے اور پسماندہ بھی ہے .اگر گوندلانوالہ روڈ ڈسپوزل سے سٹارٹ کر کے سمن آباد روڈ کا گند ختم کر کے عزیز کراس چوک کی ٹریفک کو اس طرف سے بھال کر دیا جاتا تو پل کے بننے سے شہریوں کو ٹریفک کا مسلح بھی پیدا نہ ہوتا .خیر ابھی تو لگتا ہے دلی دور است ..ابھی یہ کراس کن کن مراحل سے گزرے گا کس طرح کی پلاننگ ہو گی .کیا واقعی انٹرنیشنل طرز پر بنایا جاتا ہے یا چند ترامیم کر کے ڈھنگ ٹپاؤ پیسہ کماؤ کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے .کئی ڈپٹی کمشنر اور کئی کمشنر اس فلائی اوور کو بناتے بناتے کہیں اور چلے گہے ہیں .اب دیکھنا یہ ہے کہ ملک رفاقت الی نسوانہ صاحب کیا گل کھیلاتے ہیں .ہم تو اس منصوبے کے بارے میں سنتے سنتے بھونکتے بھونکتے اگلے جہان کا سفر باندھنے والے ہیں .ہزاروں دوست اس پل کو دیکھنے کی خواہش دل میں لے کر قبروں میں جا چکے ہیں .خدا جانے ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے .ہم جیسے تارکین وطن کے لئے تو یہ منصوبہ اور بھی اہمیت کا حامل تھا .کہ ہم فخر سے یورپ امریکا مڈل  ایسٹ والوں کو بتا سکتے کہ ہمارے گوجرانوالہ میں آ کر ہمارے فلائی اوور کو دیکھو .جس کے اوپر میٹرو چلتی ہے جو پورے گوجرانوالہ کی گول دائرے کی سیر کرواتی ہے .کیونکہ یہ ہم لوگوں کی خواہش تھی کہ یہ پل بنتا تو پھر ایک ایسی میٹرو گول دائرے میں چلتی جو سارے گوجرانوالہ کے بائی پاس کو اپنے اندر سمو لیتی .لوہیانوالہ بائی پاس سے سیالکوٹ بائی پاس سے چاندہ قلہ سے کھیالی سے عالم چوک سے گزرتی بل کھاتی گزرتی تو کیسا منظر نامہ پیش کرتی .مگر کیا کریں ہر پھول کی قسمت میں ناز عروساں .خادم اعلی کو لاہور سے فرصت ملے تو تب بات بنے .یا گوجرانوالہ کے سیاستدانوں کو سماجی کارکنوں کو اپنے اپنے خول سے باہر جھانکنے کی فرصت ملے تو تب کوئی بات بنے .مفادات ہی مفادات .ہر گروپ کی اپنی اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجد .اپنی اپنی چدھراہیٹ.اس قوم کے پاس وقت ہی اتنا اہم نہیں ہے کہ چاہے لوہیانوالہ  بائی پاس پر دو گھنٹے بھی ٹریفک جام رہے کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی .کیونکہ پروٹوکول والوں کے لئے ٹریفک کوئی مسلہ ہی نہیں ہوتی .پہلے میں نے جب کالم لکھا تھا کہ گوجرانوالہ کس کا گڑھ ہے اور اس کو برباد کرنے میں کس کس کا ہاتھ تھا .تو کچھ لوگوں کو سچ سننا گوارہ نہ لگا .اب اس عزیز کراس کے چند حقایق آپ کے سامنے لاؤں گا تو آپ کو سیاستدانوں کی مکاریاں نظر آ جایں گی مزید .ابھی تو وفود سے جو افسران ملاقاتیں کر رہے ہیں .ان میں کمشنر گوجرانوالہ .ڈپٹی کمشنر .ایکسین پراونشل ہائی وے جمشید خان .لینڈ ایکوزیشن کلکٹر محمد رمضان .ڈی .آر .اے .صابر علی چٹھہ .انفارمیشن افسر محمد حسین .اور بورڈ آف ریونیو اس میں شامل ہیں .ابھی گیند بورڈ آف ریونیو کی کورٹ میں ہے .نہ جانے خادم اعلی کو کب خواب میں وہ فایل نظر آے گی .ابھی خادم اعلی رانا سناالله اور شیر علی کے سکینڈل میں الجھے ہووے ہیں ..جب خادم اعلی کو پتہ چل گیا ان کے علم میں نوٹس میں کسی نے یہ بات ڈال دی .تو بس سمجھو گوجرانوالہ کی قسمت کا ستارہ چمک گیا .بس اسی دن ریونیو بورڈ حرکت میں آے گا .اور بات آگے بڑھے گی .فلحال سب افواہیں ہی  افواہیں ہیں .عزیز کراس چوک فلائی اوور کی تعمیر کے بارے میں آج بس اتنا ہی کہ ...کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک ......جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 
===ملٹری کورٹ پاکستان کی ضرورت =======
میرے بھوت سارے دوستوں مہربانوں محب وطن غیرت ملی کے جذبے سے بھر پور پاکستانیوں نے ای میل سے نوازہ ہے .میں ان سب کا تہہ دل سے مشکور بھی ہوں اور دعا گو بھی ہوں اور ان کے جذبات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو میری طرح اور کروڑوں پاکستانیوں کی طرح درد دل رکھنے والے اور پاکستان سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں .اور پاکستان میں انصاف اور احتساب کا قانون دیکھنا چاہتے ہیں .قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں .ہر  روز کی کرپشن اور سکینڈلوں سے تنگ آ چکے ہیں .کرنل غلام یوسف صاحب .کے ایچ شیخ صاحب اور سعید قریشی صاحب آپ سب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں .آپ سب نے ملک میں ملٹری کورٹ کی حمایت کی ہے آواز اٹھائی ہے .کہا ہے کہ یہ وقت کی اہم اور اشد ضرورت ہے .میں آپ لوگوں کی سب ای میل کو جلد ہی لفظ بلفظ قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں گا .مگر آج دکھ کے ساتھ یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بچے کو خدا سے مانگا .بڑے جتن کے .پیروں فقیروں کے پاس گہے.دم درود کرواۓ کہ ہم کو اولاد نرینہ سے نوازہ جاۓ .اور جب خدا نے بچہ دے بھی دیا اور پھر ایک وقت زندگی میں یہ بھی آیا کہ ہم اللہ سے شکوہ کر رہے تھے کہ خدا ایسی اولاد سے نہ ہی نوازتہ جو ہمارے لئے درد سر بنی ہوئی ہے .ایسی اولاد سے کیا فایدہ جو ماں باپ خاندان کے لئے خوشی کا سبب بننے کی بجاۓ مسایل کا سبب بن جاۓ .ایسی اولاد سے اولاد کا نہ ہونا ہی بہتر تھا .مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سارے رونے دھونے میں خدا کا کیا قصور ..قصور تو ہماری تربیت کا تھا .ہمارے شعور کا تھا ہمارے عمل کا تھا .ہم نے کلمہ اسلام کے نام پر دین محمدی کے نام پر اسلامی نظام کے نام پر پاکستان کی دھرتی کو خدا سے مانگا .جہاں انصاف ہو گا جمہوریت ہو گی حکمران عمر فاروق ہو گا .یہاں سے دین اسلام دین محمدی کی شمعہ روشن ہو گی جو پوری دنیا کی رہنمائی اور بھلائی کا کام کرے گی .مگر سب کچھ غلط ہو گیا الٹ ہو گیا ہم سب کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے .حکمران نے وہ کام نہ کیا جو اس کو کرنا تھا .اگر عمر فاروق سختی نہ کرتے انصاف نہ کرتے نبی پاک کے فرمان کو فوقیت نہ دیتے تو معاشرہ اس وقت بھی بے قابو ہو جاتا .اگر میرا حکمران احسن طریقے سے اپنا کام سنت رسول پر کرتا .انصاف و احتساب پر مبنی فیصلے کرتا تو آج نہ مولانا فضل رحمان ڈیزل جیسے منافق پیدا ہوتے نہ حسین حقانی اور الطاف حسین جیسے غدار پیدا ہوتے.اگر نواز شریف زرداری کرپٹ نہ ہوتے تو بیوروکریسی کو بھی نکیل ڈالی جا سکتی تھی .عدالتوں پر پریشر نہ ہوتا نظریہ ضرورت ان کی مجبوری نہ بنتا تو آج پورے پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان اور ملٹری کورٹ کی ضرورت نہ ہوتی .میں دوستوں سے یہ کہتا ہوں کہ ذرا گہرائی میں جاؤ.اور سوچو اسحاق خان .ضیاء اور مشرف نے جمہوریت کو گھر کیوں بیجھا تھا .ہم نے خوشی میں مٹھایاں کیوں تقسیم کی تھیں .کیونکہ حکمران سیاستدان ڈیلیور نہ کر سکا .ماضی سے سبق نہ سیکھ سکا .عالمی طاقتوں کے آگے کھلونا بنتا رہا .کرپشن کے جن کو قابو نہ کر سکا .کیونکہ خود کرپشن میں ملوث رہا .عوام نے ہر ایک حکمران پر اعتبار کیا مگر اس نے اپنے قول و فعل سے کردار سے عوام کو دھوکہ دیا .پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شب خون مارنے کے بغیر تخت و تاج پر قبضہ کے بغیر پاکستان کے ایک غیور محب وطن سپاہی جرنیل راحیل شریف نے اپنے عمل اور کردار سے کچھ کر کے دکھایا .مگر جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو پھر یہ عزت بھی راس نہیں آ رہی .ہونا تو یہ چایئے تھا کہ جمہوری حکمران راحیل شریف سے کندھا بھی ملاتا اور دو قدم آگے نکل کر اگلے مورچوں پر پاکستان کی جمہوریت کی نمایندگی کرتا اور اس سنہری موقعہ سے فایدہ اٹھاتا .پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا کر حکمران تاریخ رقم کر جاتا .مگر آج حالت یہ ہے کہ امریکا سے بات کرے .عالمی گماشتوں سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرے .افغانستان سے بات کرے تو راحیل شریف .انڈیا کو اس کی اوقات یاد کرواۓ تو راحیل شریف .داخلی خارجی سطح پر جنگ لڑے تو راحیل شریف .پاکستان کے اندرونی غداروں کے بارے میں سوچے تو راحیل شریف .اگر فوری انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے دہشت گردوں کو اپنے انجام کو پنچانے کی بات کرے تو راحیل شریف .اگر بلوچستان کراچی فاٹا اور پنجاب کے اندر آپریشن کی بات کرے تو راحیل شریف .تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا کہ حکمران کدھر ہے حکمرانی کدھر ہے بیوروکریسی پولیس کدھر ہے ادارے کدھر ہیں .نواز شریف اور وزارتوں کی فوج ظفر موج کدھر ہے .خادم اعلی کدھر ہیں ان کی پھرتیاں کدھر ہیں .کیا وہ اب تک پنجاب میں دہشت گردوں کا صفایا نہیں کر سکتے تھے .تو اگر بد قسمتی سے سارا کام فوج اور رینجر نے ہی کرنا ہے اور باڈر پر ہر روز انڈیا کے منہ پر بھی تمانچہ بھی  مارنا ہے .مودی کو نکیل بھی فوج نے ڈالنی ہے .تمام کورٹ انصاف بھی فراہم نہ کر سکیں .تو پھر شرم حیا عزت غیرت بغیرتی کے سارے مناظر کہاں فلماۓ جایں گے .تو پھر مجھے یہ حق پنچتا ہے یہ کہنے کا کہ میرا اعتماد اس منافقت کی نام نہاد جمہوریت اور عدالتوں اداروں سے اٹھ چکا ہے .بہتر ہے ہر شہر میں ملٹری کورٹ فوری طور پر بنا دی جایں .یہ کام حکمران کرے جمہوریت کرے .ورنہ اگر اس ملک پر حکمرانی اگر راحیل شریف نہیں کرے گا تو پھر اس خلاء کو پر کرنے کے لئے کوئی اور آ جاۓ گا .جس کے کردار سے ہم واقف نہ ہوں گے .بہتر ہے جس کے کردار سے سوچ سے لگن سے ہم واقف ہو چکے ہیں .اس راحیل شریف کو موقعہ دیا جاۓ .اس وقت پاکستانیوں کی دل کی دھڑکن بن چکا ہے .اس وقت پاکستان کا مقبول ترین سپاہ سلار راحیل شریف ہے .اگر وہ حکمران بن جاتا ہے تو شاید پھر ملٹری کورٹ کی بھی ضرورت نہ رہے .سب ادارے خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں جب ان سے کام لینے والا خود بد دیانت نہ ہو .جمہوریت کے ٹھیکیدارو سوچو ذرا .تم کیا چاہتے ہو .جو تم چاہو گے .ووہی ہو گا .تمہارے بوئے ہووے بیج کا پھل قوم کھاۓ گی اور کھا رہی ہے .تمہاری نا انصافیوں کی سزا قوم بھگت رہی ہے .تمہارے لئے ہووے قرضے اور لوٹا ہوا مال کی قسطیں قوم کب تک ادا کرتی رہے گی .اب بس کرو مزید ہمارا خون پینا بند کر دو .انتہاء ہو چکی .ادھر دشمن سرحدوں پر للکار رہا ہے .ادھر تم حلوہ کھا رہے ہو ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, August 18, 2015

====جوڈیشنل  کمیشن میں خود کفیل پاکستان====
جوڈیشنل کمیشن کی افادیت پاکستان میں ختم ہو چکی ہے .جوڈیشنل کمیشن کے نام پر جمہوریت کے عالمی ٹھیکیداروں کو ورڈ ریکارڈ بنانے پر پاکستان کو تمغہ حسن کارکردگی دینا ہو گا .اگر نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہے کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ کی طرح حسد بغض کمینہ پن سے کام لے رہے ہیں .خیر یہ تو عالمی مافیا کا کام ہے کہ کچھ کرے یا نہ کرے مگر میرے عنوان کے مطابق اب کتنے اور جوڈیشنل کمیشن بنانے ہوں گے .اور جو اب تک بن چکے ہیں ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہو گا .کہ ہم نے ان سب جوڈیشنل کمیشن سے کیا کھویا کیا پایا.اور کیا سبق سیکھا.اب اس سے اوپر کوئی کمیشن کا نام ڈھونڈنا ہو گا .یہ تو ایسے ہی ہے کہ رشوت کو روکنے اور پکڑنے کے لئے انٹی کرپشن بنایا گیا .جو مزید رشوت کا سبب بنتا چلا گیا .کرپشن کو پکڑنے اور جڑھ سے اکھاڑنے کے لئے نیپ کا ادارہ بنایا گیا جو از خود کرپشن کا ذخیرہ بن چکا ہے .اگر جوڈیشنل کمیشن بنانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے ادارے اپنا کام نہیں کر رہے اور ووہی سپریم کورٹ جو عام حالات میں انصاف دینے سے قاصر ہو وہ جوڈیشنل کمیشن میں کیا تیر مار لے گی .اور پھر بتا دیں کہ کس کس چور.لٹیرے .غدار پر .کرپشن پر کتنے کمیشن بٹھاؤ گے .آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے .یہ چھوٹے موٹے آپریشن کا کام نہیں ہے .کسی بڑے آپریشن کی ضرورت ہے .اگر ملک میں خون خرابہ نہیں کرنا تو پھر جنرل راحیل شریف .فوج اور رینجر کو مزید اختیارات دینا ہوں گے ..جو متفق ہیں ان کا شکریہ .جو نہیں متفق وہ مجھے بتا دیں کہ کتنے جوڈیشنل کمیشن اور بناؤ گے .مصلاً دھرنے پر جوڈیشنل کمیشن .ڈھاکہ پر کمیشن .جنرل درانی پر کمشن .اصغر خان پر کمیشن .جاوید ہاشمی پر .رانا سناالله پر .شیر علی کے بیان پر .کالاباغ ڈیم پر .سونے چاندی .پیٹرول .معدنیات کے ٹھیکوں پر کمیشن .قصور کے سکینڈل پر .نندی پور بجلی گھر پر .زرداری .گیلانی .راجہ رینٹل .آیان علی پر کمیشن .افتخار چودھری .ارسلان افتخار اور ملک ریاض پر .بحریہ پراجیکٹ پر .سٹی ہاوسنگ کے فراڈ پر .زمین مافیا .لینڈ مافیا .پلاٹ مافیا .ہاوسنگ سکیموں پر کمیشن .پلاٹ.زمینوں .پلازوں .اور قرضوں کی بندر بانٹ پر کمیشن .مسلم کمرشل بینک پر اور نج کاری والے کارخانوں پر اور دوسرے بینکوں پر .پنجاب بینک پر کمیشن .حمزہ شہباز پر .مونس الہی پر .رانا مشہود پر .پنجاب حکومت کے حکم امتنائی پر .بلدیاتی الیکشن پر .بجلی .گیس .پیٹرول.مہنگائی اور بیروزگاری پر کمیشن .بیوروکریسی کی نا انصافیوں پر کمشن .نیپ نادرہ .پی.آئی .اے..سٹیل مل پر کمیشن .ایکسپورٹ امپورٹ کی بد عنوانیوں پر کمیشن .بلاول ہاؤس زرداری ہاوس کس نے کیوں بنایا کیسے بنایا کمیشن بننا چائیے.بھٹو .بینظیر .ضیاء .مشرف پر کمیشن .را کی پاکستان میں مداخلت پر کمیشن .بلوچستان پر کھلم کھلا مداخلت پر کمیشن .انڈیا کی ہر روز بغیرتی پر کمیشن کیوں نہیں بنتا .الطاف کی غداری پر کمیشن .افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کمیشن .اور افغان مہاجرین پر آنے والے اخراجات پر کمیشن .کس کس نے کتنا مال بنایا افغان مہاجرین کے نام پر .کمیشن کیوں نہیں بنا .این .آر .او .کیوں بنا کمشن کی ضرورت .حسین حقانی کو واپس کیوں نہیں بلایا گیا کمیشن .میرے پاس تین ڈاکے کی وارداتوں کی تین ایف .آئی .آر .ہیں .تین سال سے خادم اعلی کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے .کمیشن کی ضرورت .کراچی پر کمشن .ماڈل ٹاؤں کے کمیشن کا کیا بنا .٣٥ سال سے میاں برادران کی حکومت پر کمیشن بننا چاہئے .آزاد کشمیر کے نام پر چند لوگوں کی لوٹ مار پر کمیشن .گیس کے کوٹے نا جایز دئے گہے.کمیشن کی ضرورت ہے .نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا .کمیشن کی ضرورت ہے .مولانا فضل رحمان سمیت سب لوگوں کے لئے کمیشن کی ضرورت ہے .جن جن لوگوں نے ٢٠٠ روپے کے حساب سے زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی .کیا حکمران مجھے ٢٠٠ روپے کا ایکڑ زمین دے سکتا ہے اگر نہیں تو دوسروں کو کیوں .کیا اس پر کمیشن کی ضرورت نہیں .منی لانڈرنگ پر کمیشن .اسحاق ڈار کے  قرضوں پر کمیشن .کشکول پر کمیشن .عدالتوں کے نظریہ ضرورت والے فیصلوں پر کمیشن کی ضرورت ہے .غرض کہ کتنے کمیشن بناؤ گے .کتنے فیصلے لو گے کس سے اچھے فیصلوں کی امید رکھو گے .بندر سے کہتے ہو کہ روٹی کے ٹکرے کا فیصلہ کر دو .اس لئے اس ملک کو مزید کتنے کمیشن بنانے ہوں گے .اس ملک کو چند انصاف پسند ہمدرد لوگوں کی ضرورت ہے .کسی عام آدمی پارٹی کی ضرورت ہے .مگر مجبوری ہے کہ سرمایا کہاں سے آے.انقلاب کی ضرورت ہے اس نظام کو بدلنے کے لئے .مگر افسوس کہ وہ جزبہ جنوں اقبال والا کہاں سے لاؤں .اس لئے تھک ہار کر جنرل راحیل شریف کو اپنا نجات دھندہ سمجھ لینے میں کوئی ہرج نہیں .آخر کسی نے تو اس ملک کو پٹری پر ڈالنا ہے .اور اگر جنرل راحیل شریف .فوج اور رینجر یہ کام کر رہی ہے تو مجھے ان کی مدد بھی کرنا ہو گی .اور خدا سے دعا بھی کہ خدا ہم سب کی مدد کرے .قوم کو یہ سمجھ لینا چاہئے حکمران سمجھے یا نہ سمجھے کہ انڈیا ہر روز باڈر پر حملے کیوں کر رہا ہے .تا کہ پاکستان میں امن نہ ہو .اور جو لوگ ملک میں افرا تفری پھیلا رہے ہیں وہ دراصل انڈیا کے مشن کو آگے چلا رہے ہیں .جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو نیشنل ایکشن پلان پر ہنڈریڈ پرسنٹ عمل کرنا ہو گا .ورنہ سب سے بڑا جوڈیشنل کمیشن ہو گا مارشل لا..جو اس ملک میں ٦٥ سالوں سے نہیں لگ سکا .میں مشرف اور ضیاء کے مارشل لا کو جوڈیشنل کمیشن نہیں سمجھتا .وہ اقتدار کی جنگ تھی .انہوں نے خرابیاں پیدا کیں جن کا ازالہ آج کی فوج کر رہی ہے .اللہ کرے یہ آپریشن کامیاب ہو .ورنہ ملک کو صرف ایک جوڈیشنل کمیشن ہی بچا سکتا ہے .جو سب جوڈیشنل کمیشن کی رپورٹ کو اپنے انجام کو پنچاۓ گا .میرے حکمران یہ کام تم کر لو .میری زبان خود بخود بند ہو جاۓ گی .اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی پر لٹکا دو .کچھ تو کرو جمہوریت کے ٹھیکیدارو .اگر الطاف کا .چوروں .لٹیروں کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو میری گردن کا ناپ ہی لے لو .حکمران کے لئے یہ آخری موقعہ ہے کہ جمہوریت کو بچا لے .عوام کو انصاف اور احتساب کے ساتھ .میرے حکمران کو شاید بدنامی کا شوق ہے .عزت شرم .حیا.غیرت ملی سے روشناس ہو جا میرے حکمران .ورنہ جوڈیشنل کمیشن اب تیرے لئے بھی بنے گا .جس کے سامنے تجھے خود احتساب کے لئے پیش ہونا ہو گا .شاید کہ اتر جاۓ تیرے دل میں میری یہ درخواست.جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ .
جنرل راحیل شریف کی مقبولیت سے حکمران خائف
جنرل راحیل شریف کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے .حکومت بوکھلاھٹ کا سکار بھی ہے اور خائف بھی ہے .اس کی بھوت ساری وجوہات ہیں .١.کرپشن .٢.نا اہلی .٣.حکمرانوں کی بزدلی .٤.بجلی اور گیس کی اووربلنگ ٥.اسحاق ڈار کی پھرتیاں ٦.قرضے لینا اور ان کی تفصیلات عوام سے چھپانا ٧.داخلہ اور خارجہ پالیسی پر کنٹرول نہ ہونا .٨.انڈیا اور مودی سے تعلقات کی وجہ .٩.عدالتوں .نیپ .نادرہ .الیکشن کمیشن .غرض ہر ادارے سے اپنی مرضی کے فیصلے لینا .١٠.غرض کہ کوئی بھی حکومت کی ترجیحات عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں . آخر اس کی وجہ کیا ہے .وجہ صرف اقتدار سے کھیلنا .مال بنانا اور ہر وقت چمچوں سے یہ مشورے لینا کہ عوام سے کون کون سا کھیل کھیلا جاۓ کہ جس سے جمہوریت کو بادشاہت یا خاندانی خلافت کے اندر قید کر کے رکھا جاۓ .اس سوچ اور منصوبوں پر ساری انرجی کو زایاح کیا جا رہا ہے .کچھ میرے مہربان مجھے کہتے ہیں کہ چیمہ صاحب عوام کا قصور ہے حکمران کا کوئی قصور نہیں ہے .چلو میں مان لیتا ہوں کہ عوام کا قصور ہے کہ عوام نے کالاباغ ڈیم نہیں بنایا .یہ بھی عوام کا قصور ہے کہ رانا سناالله قاتل ہے کچھ لوگوں کو استمعال کر رہا ہے .اپنی من مرضی کر رہا ہے عوام کے بل بوتے پر یا خادم اعلی کی آشیر باد پر .جب ایک قاتل عدالت میں رانا سناالله کی وارداتوں کو تفصیل سے بیان کر دیتا ہے .تو پھر کہاں چلے گہے ادارے .میڈیا کی بک بک .اور کہاں چلی گئی حکمران کی حکمرانی اور خادم اعلی کی پھرتیاں اور انصاف اور احتساب .کیا یہ سب عوام کا قصور ہے .کیا جوڈیشنل کمشن عوام بناتی ہے اور کمیشن کے فیصلوں پر اثر انداز عوام ہوتی ہے .کیا عوام نے حکمران سے کہا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرو .را کے خلاف نہ بولو اور انڈیا سے پینگیں بڑھاؤ.اور اپنی فوج کو اور چند جرنیلوں کو ہر روز بدنام کرو .اگر حکمران میں جرت ہے تو سب کا احتساب ٦٥ سالوں کا کیوں نہیں کرتی .کیا عوام نے روکا ہے .نیپ کی پھرتیاں ہم ٦٥ سالوں سے دیکھتے اور سنتے آ رہے ہیں .کیوں کسی کے خلاف کچھ نہیں ہوا کیوں کوئی بھی بےغیرت کرپٹ اور غدار لٹکایا نہیں گیا .کیا آپ عوام سے یہ توقوہ کرتے ہیں کہ عوام چوروں لٹیروں کو لٹکاۓ.تو پھر اس کا مطلب ہے آپ ملک میں خون خرابہ کروانا چاہتے ہیں .خونی انقلاب چاہتے ہیں .انارکی چاہتے ہیں .جب حکمران کے پاس طاقت ہے مینڈیٹ ہے اہلیت ہے جمہوریت ہے .میدان صاف ہے فوج ہر طرح جمہوریت کی مدد کرنے کے لئے شانہ بشانہ حکمران کے ساتھ کھڑی ہے تو حکمران فایدہ کیوں نہیں اٹھاتا.اور ہر روز فوج کے خلاف بیان بازی کیوں کرتا اور کرواتا ہے .پہلے زرداری سے فوج کے خلاف بیان دلوایا گیا پھر الطاف غدار کو میدان میں اتارا گیا .پھر خواجہ سعد رفیق .خواجہ سیالکوٹی. سے فوج کو للکارا گیا .پھر خادم اعلی کی طرف سے الزام تراشیں کروائی گئی.پہلے بلنگ باغ دعووں کو سیاسی قلابازیوں کا نام دیا گیا .مگر اب زبیر عمر اور اب  مشاھدللہ صاحب سے یہ کام الزام کی صورت میں اور چیلنج کی صورت میں اور حکمران کی پلاننگ کے ساتھ کروایا گیا .فوج کو نکیل ڈالنے کے لئے .مگر کوئی جوڈیشنل کمیشن کیوں نہیں بنایا .گو کہ آج تک کسی کمیشن کا کوئی فیصلہ عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا .مگر حکمران کی نیت پر شک تو ختم کیا جا سکتا تھا .وزیروں کی وزارتیں ختم کر دی جاتیں .زبیر عمر اور مشاہد صاحب کو مکمل گھر بھیج دیا جاتا تو بہتر تھا .مگر یہ قوم اور فوج کے ساتھ کیا مذاق ہے کہ وزیروں مشیروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ رانا سناالله کو کسی نے نکیل ڈالی.اور نہ انڈیا را کو نکیل ڈالی.بلکہ سارا زور فوج کے خلاف ..اور وہ بھی اس لئے کہ ملک میں پہلی بار کسی جرنل نے صفائی کرنے کا گند صاف کرنے کا پروگرام بنایا ہے اس لئے فوج اور رینجر کے کام میں روڑے اٹکااۓ جا رہے ہیں .کیونکہ چوروں لٹیروں کی کرپشن سامنے آ رہی ہے .بھتہ خور .ٹارگٹ کالر پکڑے جا رہے ہیں .یہ کام جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے کرنے کا تھا مگر کر فوج رہی ہے .اس لئے حکمرانوں کے پیٹ میں درد ہے .یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کا گراف اپنی بلندیوں تک پنچا ہوا ہے .اور میرے کرپٹ حکمران کو یہ بات گوارہ نہیں .٦٥ سالوں میں کسی جرنل نے ایسا منفرد کارنامہ سر انجام نہیں دیا جو جنرل راحیل کر رہا ہے .اس لئے عالمی طاقتوں اور انڈیا کے پیٹ میں جو درد ہے وہ سمجھ میں آتا ہے .مگر کیوں جنرل صاحب سے خائف ہے یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے .یہ بات مجھے وہ طبقہ بتا سکتا ہے جو مجھے ہر وقت یہ میل پر میل کرتے ہیں کہ حکمران کا کوئی قصور نہیں سارا قصور عوام کا ہے .مجھے میرے پیارے کالم نویس تجزیہ نگار بتا دیں.کہ معاشرے کو ملک کو تباہ و برباد کرنے میں حکمران کا کیا کوئی کردار نہ ہے .کیا دہشت گردی کی جنگ میں چھلانگ لگانے سے پہلے عوام سے پوچھا گیا تھا کیا افغان مہاجرین کو ٣٥ سال سے واپس نہ بیجھنا عوام کا قصور تھا .کیا ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑنے کے لئے آدھی رات کو عدالت لگانے کے لئے عوام نے کہا تھا .میں تو کہتا ہوں  .حکمران اب منافقت چھوڑ دے .یا خود صفائی کر .انصاف کر.احتساب کر .یا جو مینڈیٹ فوج اور رینجر کو دیا ہے .ان کو کرنے دو .اگر جنرل راحیل شریف کو کچھ ہو گیا یا یہ آپریشن اپنے منتقی انجام کو خدا نخواستہ نہ پنچ سکا تو ملک میں وہ بحران آے گا وہ خون خرابہ ہو گا .جس کا حکمران تصور بھی نہیں کر سکتا .کیونکہ ابھی ملک کے اندر بھوت سارے غدار .کرپٹ .چور.لٹیرے .قاتل .بھتہ خور .ٹارگٹ کیللر.موجود ہیں .ہزاروں حسین حقانی .ریمنڈ ڈیوس.اور ہزاروں قصیدہ خوان موجود ہیں .جو انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے حامی ہیں .اور فوج اور رینجر کی کاروائی سے نا خوش ہیں .جنرل راحیل شریف تیری جرات کو سلام .خدا تجھ کو میری زندگی بھی دے دے .اس خدا داد پاکستان کے لئے مزید کچھ کر جا .اگر صفائی اب کی بار نہ ہوئی تو پھر نہ جانے کب اور کیسے ہو گی ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Thursday, August 13, 2015

========١٤ اگست ٢٠١٥ ===========پاکستان  اور پاکستان کی آزادی بے شک اللہ کی طرف سے کسی تحفہ سے کم نہیں اور میرے پیارے نبی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے .یہ دھرتی قیامت تک زندہ رہنے قائم و دائم رہنے کے لئے معرض وجود میں آئی ہے مگر ہمارے سیاستدانوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہم وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے جو قاعد اعظم اور علامہ اقبال کے نظریات و خیالات تھے .کیونکہ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لئے جو خواب دیکھ تھے وہ پورے نہیں ہووے اور آج کی نوجوان نسل بد دل بھی ہے اور فرسٹریشن کا شکار بھی ہے .مگر میں پھر بھی اللہ سے نا امید نہیں ہوں .میں پر امید ہوں کہ انشااللہ جلد پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست دیکھیں گے ..مجھے معلوم ہے کہ عوام  كواس حال مين پنچانے والے یہی سیاستدان ہیں .جو اپنے اپنے مفادات کے لئے تو اکھٹے ہو جاتے ہیں مگر قوم کے مفاد میں یہ کالا باغ ڈیم بھی نہیں بنا سکتے .سیاستدانوں کے دل میں درد صرف ماڈل آیان علی کا اور اس کے ڈالروں کا ہے .واہ میرے سیاستدان تیری غلط سوچ اور تیری کرپٹ جمہوریت پے لعنت .تیرے بیہودہ کردار پے لعنت .تیری عیاشی تیری مکاری تیری ملک دشمنی پے لعنت ..اب جو میری بہادر فوج صفائی کر رہی ہے .اگر یہ آپریشن کا عمل صفائی کا عمل جاری رہا تو انشااللہ یہ ملک غداروں چوروں ڈاکوؤں لٹیروں سے پاک ہو جاۓ گا .ہم اس ملک میں بھوت جلد سبز انقلاب دیکھ رہے ہیں .اور انقلابی اور مثبت سوچ رکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں .جس طرح اقبال صاحب نے فرمایا تھا ..موت ہے وہ زندگی جس میں نہیں انقلاب ...تو ہم اقبال کے انقلاب کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی قوم صحیح معنوں میں اس دن آزادی کے مطلب سے روشناس ہو گی .جس دن کشکول کو توڑیں گے .اپنی گیس اپنا پیٹرول اپنا سونا چاندی اپنے ڈیم بنانے اپنی معدنیات  نکالنے میں آزاد ہوں گے .نظام کو تبدیل کرنا ہو گا انصاف و احتساب کا قانون لاگو کرنا ہو گا .اگر آزاد و غیور قوم بن کر زندہ رہنا ہے تو .ہم جدو جہد کر رہے ہیں اس قوم کی صحیح آزادی کے لئے ..آخر میں اپنے بزرگوں کے چند الفاظ یاد کروانا چاہتا ہوں جو انہوں نے پاکستان کے سیاسدانوں کے بارے میں ادا کئے تھے اور اسلامی حکومتوں کے کردار کے بارے میں .  .مصال کے طور پر جب مودودی صاحب کو جیل کی کالی کوٹھری میں ڈالا گیا تو انہوں نے ایک دن اپنے بیٹے سے کہ اگر مجھے پھانسی کا اعلان کر دیا جاۓ تو اپیل نہ کرنا اور مجھے انہی کپڑوں میں دفنا دینا .حالانکہ ستار نیازی صاحب نے بھی جیل کی کوٹھری سے کہ تھا کہ جو حکمران مجھے پھانسی نہیں دے سکتا وہ مودودی صاحب کو کیا پھانسی دے گا کیونکہ حکمران نا آیهل اور بزدل ہے .ایک دفعہ عطااللہ شاہ بخاری کو جیل میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی حکومت میں اسلامی تحریکیں نہیں چلایا کرتے .اس لئے چند الفاظ لکھو اور گھر جاؤ .تو انہوں نے معافی نامہ کی بجاۓ جو چند الفاظ لکھ تھے وہ یہ تھے .میں جانتا ہوں کہ مسلمانوں کی حکومت ہے اور پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے مگر ...سبو اپنا اپنا ہے جام اپنا اپنا ہے .آج کے آزاد پاکستان اور انگریزوں کی غلامی کا واقعہ ملاحضہ فرمایں اور موازنہ کریں .انگریزوں کے زمانہ میں لاہور کا شاہی قلعہ میں آج کے دور کی طرح جھوٹے مقدمات بنا کر بند کر دیا جاتا تھا .اور ایسے پولیس افسران کو لگایا جاتا تھا جو جھوٹے مقدمات بنانے کے ماہر ہوا کرتے تھے .ایک دن ایک بےغیرت مسلمان پولیس افسر نے انگریز کی خوشنودی کی خاطر اس نے علما کے خلاف اس قسم کی واہیات زبان استمعال کی جس کا شریف آدمی تصور نہیں کر سکتا .مثلا اس نے چند خوبصورت لڑکے جیل کی کوٹھریوں میں ڈال دئے.اور شداد و فرعون کے قہقے سے یہ کہ ان سے پار کرو اور امیر شریعت کی سنت تازہ کرو .کتنے واقعات لکھوں کہ آج کا حکمران بھی آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کیا کیا گل کھیلا رہا ہے .ابو العباس فرماتے تھے کہ ہم بادشاہوں کی صحبت اختیار کریں تو عزت نفس مرتی ہے .تاجروں میں بیٹھیں تو دل کے غریب ہونے کا اندیشہ ہے .ہماری ہم نشین کتابیں ہیں جن سے کسی فتنے اور بد مزگی کا اندیشہ نہیں نہ ان کی زبان اور ہاتھ سے کوئی خطرہ ہے .کتابوں کو ہم نے پڑھنا کب کا چھوڑ دیا ہے ..سورش کاشمیری نے آج کل کے حکمرانوں کے بارے میں کہا تھا ..یہاں امراء دوزخ کے کتے اور سیاستدان کٹھی قے ہیں .ان کے ساتھ نٹ اور ان کے پیچھے لاشیں چلتی ہیں .ان کی واحد خوبی یہ ہے کہ ہر نیکی اور ہر برائی کی زبان میں جھوٹ بول لیتے ہیں .یہ سب کچھ آزاد پاکستان میں دیکھ بھی رہے ہیں مزہ بھی چکھ رہے ہیں .دکھ بھی ہے درد بھی ہے .مگر اس امید پر جی رہے ہیں اور اپنا حصہ ڈال رہے ہیں کہ ایک دن امن کا .آزادی کا سکھ کا انصاف کا احتساب کا سورج ضرور طلوح ہو گا اور ہم ضرور بحثیت قوم سرخرو ہوں گے ..اسی لئے کہتا ہوں ...نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب افکار نہیں ہوتا ..بہہ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو بیکار نہیں ہوتا ..پاکستان زندہ باد.پاکستان پانندہ باد..افواج پاکستان زندہ باد ..سارے پاکستانیوں کو آزادی مبارک .

Monday, August 10, 2015

===سکینڈل ہی سکینڈل نتیجہ صفر=========
.......قصور ہو یا پتوکی .رایونڈ ہو یا ماڈل ٹاؤں لاہور .ڈسکہ ہو یا سیالکوٹ .راولپنڈی ہو یا پشاور .کوئٹہ ہو یا فیصل آباد .جہلم ہو یا گوجرانوالہ .کراچی ہو اسلامآباد .آزاد کشمیر ہو گلگت .غرض کہ کوئی بھی شہر ہو .کوئی بھی گاؤں ہو .کوئی بھی ادارہ ہو .کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو .ہر جگہ سکینڈل ہی سکینڈل ہیں .مگر افسوس اس بات پر ہے کہ آج تک کسی سکینڈل کا کسی بڑے کیس کا کوئی فیصلہ نہیں آیا .وجہ ہی یہی ہے کہ ہمارے ملک میں جزا اور سزا کا قانون .انصاف اور احتساب کا قانون ہی غریب کے لئے ہے .بدقسمتی سے یہاں بڑے چھوٹے .اور غریب امیر کے لئے قانون ایک جیسا نہیں ہے .انصاف سب کے لئے نہیں ہے .اور سب سے زیادہ قانون کی اخلاق کی دھجیاں اڑانے والے بھی ووہی ہیں جو قانون کو سمجھتے ہیں .پاکستان میں سب سے زیادہ قانون سے جن لوگوں نے کھیلا .وہ حکمران طبقہ ہے .وکلا اور جج ہیں .سرمایا دار .جاگیر دار .کن ٹوٹے بدمعاش اور بیوروکریسی ہے .باری باری سب کی کارگزاریاں لکھوں گا تو کالم لمبا ہو جاۓ گا .اس لئے صرف ایک مثال دیتا ہوں .کہ پاکستان کے غیوور عوام سے پوچھتا ہوں کہ کوئی ایسے غداری کے کیس .جنسی سکینڈل کے کیس یا کرپشن کے سکینڈل کا بتا دیں.جس کو کسی وکیل نے لڑنے سے انکار کر دیا ہو کہ یہ کیس اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے .میں اس کو ڈیفنڈ نہیں کروں گا .یا یہ جنسی سکینڈل پاکستان کے مسلمانوں پر کالا  دھبھ ہے .یا یہ کیس پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے .اس لئے میں اس کیس کو عدالت میں ڈیفنڈ نہیں کروں گا .ہماری شرم و حیا.عزت و غیرت .ملکی وقار و سالمیت کے کیا معنی ہیں .کیا مطلب ہے .کچھ بھی نہیں .ہر چیز سے آگے جس چیز کی اہمیت ہے .وہ ہے مادیت پرستی .پیسہ پیسہ دولت ہی دولت ہی سب کچھ ہے .نہ میرا دین نہ ایمان .نہ عزت نہ غیرت .نہ ماں نہ بہن نہ بیٹی نہ باپ نہ بھائی .کوئی رشتہ نہیں اگر کوئی رشتہ ہے تو وہ پیسہ ہے مال و دولت ہے .آج یہ بات سچ ثابت ہو چکی ہے کہ جس کے پاس دولت ہے .عھدہ ہے حکمرانی ہے .کن ٹوٹا بدمعاش ہے ووہی عزت والا ہے .جو شریف ہے .ایماندار ہے غریب ہے .اس کی عزت نہیں ہے .وہ ہر دنیا کی عدالت میں اپنا کیس جیت نہیں سکتا .اب عدالتوں کا تقاضہ ہی یہی ہے .فرض ہی یہی ہے .ذمہ داری سمجھتے ہیں اپنا حق سمجھتے ہیں .کیونکہ اگر سفارش سے جج بن چکا ہے تو وہ اس کا ہے جن مافیا نے اسے یہاں تک پنچایا ہے اور اگر وہ رقم لگا کر آیا ہے رشوت دے کر .تو وہ اپنا لگایا ہوا مال وصول کرے گا .یہ اس کا حق ہے .اب حقوق و فرایض کے معنی تبدیل ہو چکے ہیں .پاکستان میں ہر سکینڈل کا شور چند دن رہتا ہے تبصرے تجزیہ ہوتے ہیں .پھر ہر فایل دفتر داخل ہو جاتی ہے .سکینڈل ہی ماشااللہ اتنے ہیں کہ کس کس کو یاد رکھیں کس کس کو بھول جایں.مگر ہر جگہ وکیل ڈیفنڈ کرتا نظر آتا ہے .چاہے ریمنڈ ڈیوس کا کیس ہو .مردے سے زنا کا کیس ہو .گینگ ریپ کا کیس ہو .ایان علی ماڈل کا کیس ہو .غدار وطن الطاف کا کیس ہو .یا بھتہ خوری .ٹارگٹ کلنگ ہو یا دہشت گردی کا کیس ہو .ہر جگہ کوئی نہ کوئی بیرسٹر آپ کو ڈیفنڈ کرتا نظر آے گا .مسلمان پاکستانی قوم کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو گی .کہ اخلاقیات کا معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ قصور میں بچوں کے جنسی سکینڈل میں بھی آپ کو ڈیفنڈ کرنے والے وکیل بھی نظر آے.سیاستدان اور بیوروکریسی بھی نظر آئی .اب فیصلہ آپ کر لیں کہ پاکستانی قوم جو نبی کے امتی ہیں اور کام لوط آلے سلام کی قوم جیسے کر رہی ہے .کیا ہم کو زیب دیتا ہے .یہ ہے مذھب اسلام سے دوری کا نتیجہ .جس بات کا رونا ہمارے مولوی دن رات روتے ہیں .مگر فرق کیوں نہیں پڑتا .اس کی بھوت ساری وجوہات ہیں .جس میں مولویوں اور ماں باپ کا کردار بھی مشکوک ہے .مگر سب سے زیادہ معاشرے کے بگھاڑ کی ذمہداری بد کردار حکمران پر ہے .میرا حکمران بد کردار .کرپٹ اور بد دیانت ہے .اس کی ترجیحات ہی مسلمان قوم کے نوجوان کے حق میں نہیں ہے .اس کی ترجیحات مال بنانا اور اقتدار کے مزے لینا ہے .اس لئے میرا حکمران نہ خالد بن ولید بن سکا اور نہ عمر فاروق .میرا دوست اٹلی سے لکھتا ہے چیمہ صاحب ہمارا سر شرم سے مزید جھک گیا ہے .میں کہتا ہوں دوست شرم غیرت کو چھوڑ .یہ انسانوں کے لئے ہوتی ہے .ہم جانور ہیں اور حکمران درندے ہیں .تو کس شرم کی بات کرتا ہے جب حکمران کشکول لے کر ساری دنیا میں گھومتا ہے .تو وہ بھیک نہیں لیتا بلکہ ہم کو گروی رکھ کر ہماری عزتوں کا سودا کرتا ہے .ہم کو نیلامی پر رکھتا ہے .پھر جس کی مرضی وہ ہماری بولی لگاۓ.اقبال نے ٹھیک کہا تھا .تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من ......جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .

Sunday, August 9, 2015

=========آزادی ١٤ اگست ==========
..........بڑے شوق سے ١٤ اگست منا جاتا ہوں
.........تقریروں سے دل تمہارا  بہلا جاتا  ہوں
.........بچے بچے کو کیوں یاد ہے یہ  دن  ہمارا
........کیونکہ  چھٹی میں اس دن  منا جاتا  ہوں
........پراڈو سے اترتا ہوں  چار غنڈوں کے ساتھ
........قاعد کے احسان سے چہرہ اپنا چمکا جاتا ہوں
.......کرپشن اور نا انصافی کو فرض سمجھتا ہوں
.......اور مجبوری سے فوٹو قاعد کی لگا جاتا ہوں
.......روٹی کپڑا مکان بجلی گیس ہیں وعدے میرے
.......یہ بتا کر فرض کو روشناس کروا جاتا ہوں
........آزاد ہوں آزادی میں ہر کام کر جاتا ہوں
.......منا کے ١٤ اگست  میں گھر کو چلا جاتا ہوں
.......تقریر شعروں سے شروح اور ختم کر کے
.......ملت کی حالت فقیری کو  بھلا  جاتا ہوں
.......چاند  جیسی  پیاری  دھرتی  ہے  میری
......یہ سنہری بات بھی تم کو بتا جاتا ہوں
......حصے بخرے کرنے کی سازش میں ہوں شامل
......پھر بھی حق پیدایش جتا کے آزادی منا جاتا ہوں
......لاشوں پے کرتا ہوں سیاست حالت جنگ میں بھی
......کیٹ واک اور میوزک شو کروا جاتا ہوں
......لوگوں کو غداروں منافقوں کی کہانیاں سنا کر
......خود آزادی میں میر جعفر صادق کو بھلا جاتا ہوں
.........حکومت  میں   پاکستان  میں کرتا ہوں
........کاروبار امریکا یورپ میں کرتا  ہوں
.......پیسہ  میرا  محفوظ  نہیں  ہے  یہاں
...... پیسہ باہر کے ملکوں میں رکھتا ہوں
......ملک  سے بڑی محبت  ہے مجھ  کو
......بنگلہ محل باہر کے ملک رکھتا  ہوں
......عقلمند ہوں  مظاھرہ عقلمندی کا کرتا ہوں
.....عزیز  خوشنودی لیکچر امریکا میں کرتا ہوں
......حق دار کا حق دبا کر خوش رہتا ہوں
......زمین اس کی اکڑ کر اس پر میں  چلتا ہوں
......وعدے کا  پاس  میں  نہیں  کرتا
.....جھوٹ منافقت پے گزارہ کرتا ہوں
.....جاوید دکھ کی کہانی ہے ١٤ اگست اور آزادی
.....تم بہلنے کے لئے آے تھے میں تم کو جلاتا ہوں
....تم آزاد ہو مناؤ آزادی جاوید تمہیں کچھ نہیں کہتا
...قاعد نے جو دی آزادی اس کی تلاش میں رہتا ہوں
...یارو نفرت ہے مجھے اس لفظ  آزادی سے
...منافقت نہیں آتی اس لئے سچ کہتا ہوں
....واقعہ قصور یا ماڈل ٹاون ہو اور ہو رانا سنا اللہ
....اس تبصرے تجزیہ پر بے موت مر جانا چاہتا ہوں
...جاوید تو اس آزادی سے خوش نہیں یارو
...تم بھی خون اپنا جلاؤ میں بھی خون اپنا جلاتا ہوں
...........تم دھوم دھام سے ١٤ اگست مناؤ
..........میں رو  رو  کے ١٤ اگست مناتا ہوں
..........جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..