Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, September 24, 2015

==========انقلاب احتساب ========
====== محلوں  سے محلات کا قصہ سفر بتاؤں کیسے
======فخر انسانی کو بتا فخر فرشتہ  بناؤں کیسے
======کئی نسلوں  سے  فرعون  بن  چکے  ہیں  ہم
======خونی چہرہ اور خونی خنجر  چھپاؤں  کیسے
======نچوڑا ہے جو قوم پاکستانی کا خون ہم  نے
======قسمت اور مقدر کے  کھیل سے پردہ اٹھاؤں کیسے
======تو بن کے حاکم اور میں بنا کے تجھے کرتا ہوں کرپشن
======بتا میرے حاکم تجھے کرپشن کا   ذمہدار  ٹھہراؤں  کیسے
======اگر اس گند کو کرنا چاہتا ہے صاف و شفاف کوئی
======انقلاب احتساب ہے حل اس کا یہ تم کو سمجھاؤں کیسے
======بے حس بے شعور تو بھی تھا بے بس جاوید بھی ہے
======ہر فرد ملت ہے اب لاش یہ  منظر تم کو دکھاؤں کیسے
======جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اٹلی ..عید کا تحفه حکمران کیلئے .

Wednesday, September 23, 2015

........................................بکرا ..................................
..............بکرا  عید پر ہم  نے بھی کرنا ہے قربان  اک بکرا
.............سفید پوشی کی  بھرم  کا   ہے قدر دان    اک   بکرا
.............خون تو پہلے ہی بھوت بہ رہا ہے ہر طرف
............چڑھاوا جمہوریت کے لئے  ہے  شان  اک  بکرا
............آمریت  سے نکلا  تو پھنس گیا شکنجہ جمہوریت میں
............مجبوری کے پس منظر میں ہے انقلاب امتحان اک بکرا
...........جب چاہتا ہے یہاں   سارے  گر  آزما  جاتا  ہے
..........واہ  امریکا   کے  لئے   ہے  پاکستان  اک  بکرا
...........ذبح کرنے  سے  ہو  گا  قایم  دنیا  میں  امن
...........اسرئیل  کی  نظر  میں ہے  مسلمان  اک  بکرا
..........اتار  لو کھال میری  بہا دو  خون میرے حاکم
.........تیرے اقتدار کے لئے میں ہوں حکمران . اک  بکرا
.........گو نواز  گو کہتا ہوں مگر تجھے سمجھ  نہیں  آتی
.........انسانوں کی زبان کو بھی سمجھتا ہے زبان  اک  بکرا
.........خرید  لو  مجھے  اور  لے  لو  گوشت  کا مزہ جاوید
........لکھا  لو قصیدہ اپنا کہ میرا بھی ہے   قلمدان  اک بکرا
............جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, September 22, 2015

========اٹلی کی ڈائری =  قسط نمبر دو ============
اس سے پہلے کہ میں اپنے پچھلے کالم کے تسلسل سے آپ کو آگے لے کر چلوں .آپ کو تھوڑا سا یورپ اور پاکستان کا فرق بتا دیتا ہوں .یا اپنی اور یورپ کے نفسیاتی فرق سے آگاہ کر دیتا ہوں .کہ ہم یورپ میں آ کر وہ چیزیں وہ سٹائل کیوں پسند کرنے لگ جاتے ہیں .جن کو ہم پاکستان میں برداشت نہیں کرتے .مسلاً پاکستان میں لائین میں لگنا اپنی باری کا انتظار کرنا ہمارے لئے کیوں مشکل ہوتا ہے .پاکستان میں ٹیکس دینا نہیں چاہتے جب کہ یورپ میں ٹیکس نہ دینے کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہوتا .بھوت سارا فرق ہے پاکستان اور یورپ کے لائف سٹائل میں .تفصیل آہستہ آہستہ اگلی نششت پر انشااللہ.گو کہ میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا کہ پاکستان میں سب اچھا ہے اور یورپ میں برایاں ہی برایاں ہیں .یا پاکستان کو برا لکھوں اور یورپ کو  پاک صاف لکھوں .ایسا نہیں ہے .ہر قسم کی برائی اب پوری دنیا میں پائی جاتی ہے .اب حالات بدل چکے ہیں نہ پاکستان میں اسلامی نظام کا وجود ہے نہ یورپ میں صرف عیسایت ہے .اب پاکستان میں جتنا مسلمان نماز کا پابند ہے اس سے زیادہ یورپ میں ملمان نماز کا پابند ہو رہا ہے .یہ مسلمانوں کی تبلیغ کا اثر ہے .بلکہ ایک دکھ والی بات عرض کرتا چلوں کہ یورپ کو برا اور کافر کافر کہنے والو ذرا اپنے گریبان میں جھانکو کہ اب پاکستانی حکمران کی نا اہلی اور اسلام دشمنی کا یہ عالم ہے .کہ بھوت ساری مسجدوں کا یہ حال ہے کہ صبح تہجد کے وقت مسجد کے دروازوں کو تالے لگے ہوتے ہیں .اس کو مسجد کی بدنصیبی کہو  گے یا مسلمان کی .کہ جس مسجد میں تہجد کی نماز پڑھنے والا کوئی نہ آے.اس مسجد اس محلے داروں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے .میں ابھی پاکستان سے آیا ہوں .تہجد کے وقت میں اپنے محلے کی مسجد کے باہر آدھا آدھا گھنٹہ ٹہلتا رہتا تھا .مگر دروازہ جب کھلتا تھا تو تہجد کا وقت گزر چکا ہوتا تھا .مگر یورپ میں آ کر حیران رہ گیا .کہ آذان کے وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے مسجد گیا تو دروازہ بھی کھلا تھا اور دو نمازی تہجد بھی پڑھ رہے تھے .فورن ذہن پاکستان کی طرف چلا گیا .بھوت ساری یادیں تازہ ہو چکی تھیں .کہ میرے گھر کے ارد گرد چار مسجدوں کا جائزہ لیا تھا .کس کا دروازہ تہجد کے وقت کھلتا ہے .ہاں تو ذکر کر رہا تھا کہ کیوں اپنی باری کا انتظار کیوں نہیں کرتے .اس لئے یورپ میں اک نظام ہے سب اس کے پابند ہیں .کوئی کن ٹوٹا بدمعاش یا سفارشی نہیں ہوتا .جو لائین کو توڑے .مختصر اتنا ہی کافی ہے عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے .میں اگر کتنا ہی مہذب ہوں گا کتنا ہی اخلاق والا ہوں گا مگر جب اپنی حق تلفی ہر ادارے ہر محکمہ ہر دفتر میں ہوتی دکھوں گا تو میرا انداز خود بخود بدل جاۓ گا .اسی لئے جب ہم مہذب قوم کو چھوڑ کر مہذب انداز میں جہاز سے اتر کر لاہور ائیرپورٹ کے حال میں داخل ہوتے ہیں .تو دیکھتے ہیں  کچھ بیوروکریٹ کے کچھ افسر شاہی کے کچھ سیاسدانوں کے لاڈلے تلاش کیے جاتے ہیں اور ان کے پاسپورٹ پر سب سے پہلے بغیر کسی انکورای کے مہریں لگ جاتی ہیں .تو  اس وقت میرا دماغ گھوم جاتا ہے .اور میرا سارا اخلاق ختم ہو جاتا ہے .اس وقت میں دو چار اپنے آپ کو دو چار پاکستانی حکمران کو سنا دیتا ہوں .جس سے اک تماشہ لگ جاتا ہے .یہ شروعات ہوتی ہے پاکستانی سر زمین میں داخل ہوتے وقت .آگے آگے کی کہانیاں آپ سنیں تو مزید حیران ہو جایں گے .تو بھر حال اپنی اصل کہانی کی طرف لوٹتے ہیں .تو جب پولیس والا چلا گیا اور مجھے سیکورٹی والی لڑکی کے سپرد کر گیا تو میں اب اس لڑکی کے رحم و کرم پر تھا .ایک طرف مریض کی پریشانی دوسری طرف ائیرپورٹ سیکورٹی کا معاملہ تھا .نہ اکیلا ائیرپورٹ کے اندر داخل ہو سکتا تھا نہ سیکورٹی والی لڑکی سے یہ کہ سکتا تھا کہ جلدی کرو .کیونکہ اٹالین لوگوں کی عادت ہے کہ یہ بڑے جلدی ڈسٹرب ہو جاتے ہیں .کام آرام آرام سے کرتے ہیں .کام کے دوران کسی کی بے جا مداخلت پسند نہیں کرتے .اٹالین سے بات کرنے سے پہلے معزرت کرنا پڑتی ہے .تب وہ آپ کی مدد کرتے ہیں .ورنہ کبھی کبھی جھاڑ بھی پلا دیتے ہیں .ویسے اخلاق والے لوگ ہیں .میں نے جرات کر کے بڑے پیار اور اخلاق سے اس سے بات کرنے کی پہلے اجازت لی .پھر اس کو اپنی ساری کہانی سمجھائی.باتوں باتوں میں اسے یہ بھی سمجھا دیا کہ ابھی یہ تینوں بیگ باہر لے کر جانے ہیں .باہر بیٹا انتظار کر رہا ہے .اسے بھی ساتھ لے کر چلنا ہے .پھر مریض کے پاس بھی جلدی پنچنا ہے .ڈاکٹر انتظار کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ .میری دکھ بھری کہانی سن کر اس پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے سارے کام چھوڑ دئے اور اپنے ساتھی کو بتا کر میرے ساتھ چل دی .جب ہم سامان لے کر باہر کی طرف نکلے تا کہ بیٹے کو ساری کہانی بتاؤں اور بیگ گاڑی میں رکھ کر جلدی مریض کے پاس پنچا جاۓ .مگر بیٹے کو تو پہلے ہی علم ہو چکا تھا .کیونکہ جو لوگ جہاز سے نکلے تھے انہوں نے باہر نکل کر ساری روادات بیان کر دی تھی .اب تو بیٹا صرف با امر مجبوری میرا انتظار ہی کر  رہا تھا .اس کے پاس اور کوئی چارہ کار نہ تھا .یہاں ایک اور حقیقت بھی بیان کرتا چلوں کہ میں جب بیٹے اور سیکورٹی والی لڑکی کے ساتھ سفر کر رہا تھا .تو بیٹا یقینن اپنی ماں کی صحت  کے بارے میں سوچ رہا ہو گا.مگر میرا ذہن اپنے دونوں ھینڈEبیگ کے بارے میں پریشان تھا .جن کے اندر میری بیوی کا زیور نقدی موبایل کمپیوٹر اور ضروری اشیاء تھیں .اور پھر ووہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا .جب ہم ائیرپورٹ کی ڈسپنسری میں پنچے تو دیکھ کر حیران رہ گے کہ وہاں نہ مریض تھا اور نہ ہینڈ بیگ .وہاں انفورمیشن والوں نے بتایا کہ آپ نے دیر کر دی .ایمبولینس والے کسی کا انتظار نہیں کیا کرتے .اب تم اپنی گاڑی میں فلاں ہسپتال پنچ جاؤ .......باقی آئندہ ...جاری  ہے ...جاوید اقبال چیمہ ..٠٠٣٩٣٨٩٦١٠٧٨١١ 

Sunday, September 20, 2015

====خبریں دینے والے جب خود خبر بنتے ہیں ===
انقلاب زمانہ دیکھئے کہ مٹی کا پتلا کیسے کیسے سہانے خواب ہر روز اپنے دل کے گوشوں میں سجاتا اور سنوارتا رہتا ہے .سو سو سال کی پلاننگ کل کی خبر نہیں .ہر روز یہ پانی کا بلبلہ کئی پانی کے بلبلوں کو نیست و نابود ہوتے دیکھتا ہے .مگر پھر بھی نہ  نصیحت پکڑتا ہے .نہ مادیت پرستی کی نہ خود غرضی کی نہ خود نمائی کی نہ نمود و نمایش کی سوچ کو بدلتا ہے .میں نے بھی جب پاکستان سے اٹلی کے لئے رخت سفر باندھا تو اس دفعہ پروگرام کچھ نرالے ہی تھے . ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے والا معاملہ تھا .کچھ لوگوں سے پرفیوم کا وعدہ کچھ  دوستوں  یہ وعدہ  تھا کہ ہر روز اٹلی کی ڈائری لکھ کر بھیجوں گا کچھ سے سفر نامہ لکھنے کا وعدہ تھا .غرض کہ ہزاروں وعدے.مگر بات ووہی وہ وعدہ  ہی کیا جو وفا ہو جاۓ .کسی سے کہا کہ میں تم کو ہر روز فون کروں گا ..مگر کسی نے سچ کہ ہے کہ دنیا میں اور بھی غم ہیں محبت کے سوا .کسی نے سچ کہا تھا کہ ہر غم کو دھوویں میں اڑاتا چلا گیا جو مل گیا اس کو غنیمت سمجھ لیا جو نہ ملا اس کو بھلاتا چلا گیا .مگر ہم پھر بھی عقلمند کہلوانے کے باوجود عقل سے پیدل  نظر آتے ہیں کبھی کبھی میری طرح..اور خدا کے فرشتے بھی ہم پر دن میں لاکھوں  بار ہنستے ہوں گے کہ دیکھو یہ انسان دنیا کو سمیٹنے کے لئے کتنی منصوبہ بندی  رہا ہے .جب کہ اس کو اگلے لمحے پر بھی اختیار نہیں ہے .اپنے ارمانوں اپنی خواہشات  اپنی دنیاوی سوچوں کو سمیٹتے ہووے  لاہور ائیرپورٹ پنچ چکا تھا  اور بھوت کچھ پہلے سے انوکھا بھی دیکھ چکا تھا .یہ بھی تجزیہ کر چکا تھا کہ کیوں پی.آئی .اے .تباہ و برباد ہوا ہے .بورڈنگ لاونج میں پنچا تو نئی نویلی دلہنیں دیکھنے کو ملیں .جو یقینن سنہرے خوابوں کے ساتھ  اپنے  مجازی خدا سے ملنے ہ  کے لئے یورپ پہلی مرتبہ جا رہی تھیں .ان کو کیا معلوم تھا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے .بھر حال سپنوں پر پابندی تو نہیں  لگائی جا سکتی .کچھ لڑکیوں نے ہاتھوں پر ترو تازہ مہندی لگا رکھی تھی .اور فون پر نہ ختم ہونے والی گفتگو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں .لاہور سے مسقط کا سفر بھی لکھنے کے قابل تھا .پھر مسقط اومان ائیرپورٹ کی رنگینیاں قلمبند کر چکا تھا .گلف اخبار کے تبصرے تجزیے بھی دیکھ اور پڑھ چکا تھا .اپنے تخلیات کے ساتھ جہاز میں بیٹھ چکا تھا جس فلایٹ کا نام ١٤٣ تھا جو میلان مالپینسا اٹلی کی طرف ہواؤں کو چیرتا پھلانگتا اپنی منزل کی طرف رواں دھواں تھا .مسافر پہلے ہلکا پھلکا جوس وغیرہ بھی پی چکے تھے  اور اب کچھ کھانا کھا چکے تھے کچھ تناول فرما رہے تھے .اور میری بیگم صاحبہ جو تین سال سے برین ٹیومر کے آپریشن سے مستفید ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے مجھے یہ سفر کرنا پڑھا تھا .وہ ان لوگوں پر تبصرہ فرما رہی تھیں .مجھ سے کہ رہی تھی کہ فلاں شراب پی رہا ہے فلاں یہ کر رہا ہے فلاں وہ کر رہا ہے .اور میں کہ رہا تھا تم آرام کرو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے .ساڑھے ٦ گھنٹے کی فلایٹ سے ابھی تین گھنٹے باقی تھے .اب کچھ لوگ سو  چکے تھے کچھ اپنی پسند کی فلمیں دیکھ رہے تھے کچھ ذکر اذکار کر رہے تھے .بچے کارٹون دیکھ رہے تھے .میری بیوی خراٹے لے رہی تھی .کہ اچانک جہاز میں چیخ کی آواز آئی کہ مجھے پکڑو .اس کے بعد  آواز بند مگر نہ سمجھ  آنے  والی سسکیاں جاری تھیں.جہاز کے تمام مسافر میری طرف متوجہ ہو چکے تھے .کیونکہ میری بیگم صاحبہ کو فالج کا حملہ ہو چکا تھا ..رایٹ سایڈ اور بازو کی حرکت بند ہو چکی تھی .دو پاکستانی فیملی میری بیوی کو مالش کر رہے تھے .کوئی ہاتھ کی کوئی پاؤں کی کوئی بازو کی .کچھ دیر بیگم صاحبہ خود بھی لیفٹ بازو سے رایٹ بازو سے کشتی اور جنگ لڑتی رہی .مگر آخر کار تھک ہار کر بے سد ہو چکی تھی .اور میں جہاز کے عملے کو ٹرانسلیشن سے تفصیل بتا چکا تھا اور عملے سے متفق تھا کہ انٹرنیشنل کال سے میلان اٹلی ائیرپورٹ کو اطلاح دے دی جاۓ .دوسرے ہی لمحے جہاز میں اعلان کر دیا گیا کہ مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر تشریف رکھیں اور جہاز میں اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ اپنی خدمات پیش کرے .یہ اچھا ہوا میر ے لئے کہ ڈاکٹر اٹالین مل گیا جس کو میں آسانی سے سمجھا چکا تھا .اور کپتان سے فسٹ ایڈ بکس حاصل کرنے کے بعد اعلاج سٹارٹ ہو چکا تھا .اور میں سب سفر نامہ بھول چکا تھا ..جونہی ہم میلان مالپینسا اٹلی کے ائیرپورٹ  پر پنچے .جہاز نے ٹائر زمین کو لگاۓ.تو مکمل خاموشی تھی .جبکہ یورپ کے لوگوں کا اسٹایل ہے کہ وہ تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں جب جہاز ائیرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے .مگر آج سب کچھ مختلف تھا .ہر کوئی پریشان تھا .کپتان نے اعلان کیا کہ مریض کے لئے وہیل چیئر سٹریچر ایمبولینس تیار ہے .اس لئے کوئی اپنی سیٹ سے  نہ اٹھے .جہاز کا ایمرجنسی دروازہ کھولا گیا .اٹلی ہسپتال کا عملہ اندر آیا .مریض کو وہیل چیئر پر ڈالا اور مجھے ساتھ لے کر چل دئے.ہم سیدھے ائیرپورٹ کے اندر والی ڈسپنسری میں پنچ چکے تھے .وہاں سب سے پہلے گلوکوز کی بوتل لگا دی گئی..ڈاکٹر اپنی کاروائی میں مصروف ہو چکے تھے کہ مریض کو کس ہسپتال منتقل کیا جاۓ .جبکہ اخلاقی طور پر انسانی حقوق کی بنیادوں پر امیگریشن پولیس کا ایک آدمی وہاں  ہمارے  پاسپورٹوں پر ایگزٹ سٹیمپ لگانے کے لئے تیار کھڑا تھا . پولیس والے نے مزید اخلاق کا مظا ھرہ یہ کیا کہ اس نے  کہا اپنے ہینڈ بیگ یہاں رکھو اور دوسرے  تین بیگ جو تم نے بک کرواۓتھے وہ وصول کر لو .جب ہم وہاں پنچے تو وہاں نہ کوئی مسافر تھا نہ کوئی سامان .آخر کار پولیس والے نے بڑی تگ و دو کے بعد سیکورٹی والی لڑکی سے ملکر بیگ تلاش کئے.مگر  ایک ضروری فون کال کی وجہ سے وہ چلا گیا اور مجھے لڑکی کے سپرد کر گیا .اور پھر جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے ..کل انشااللہ لکھوں گا ...جاوید اقبال چیمہ .میلان .اٹلی ..٠٠٣٩٣٨٩٦١٠٧٨١١ 

Saturday, September 12, 2015

=====جنرل راحیل شریف تیری جرات کو سلام ==
====میری آنکھوں میں آنسوں ہیں .دل کی دھڑکن تیز ہے .بچوں کی طرح روے جا رہا ہوں .اپنے غم کو پریشانی کو کم کرنے کے لئے پاکستان کی محبت سے سرشار دل کو سکوں دینے کے لئے آنسوؤں کو روکنا نہیں چاہتا .تاکہ جلد از جلد روح کی تسکین میں اضافہ ہو اور دل کا درد تمہارے سامنے کھول کر بیان کر دوں .ان آنسوؤں کے موتیوں کی جو مالا جپ رہا تھا آخر کیوں .تو کچھ سکون ملا ہے تو سن لی جئے.اتنی ساری خوشیاں اور غم اکھٹے  ملے کہ بیان سے باہر .خوشی یہ تھی کہ کہ سوچا کرتا تھا کہ کونسا وقت آے گا اور کون مائی کا لال آے گا .جو پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے والوں کے لئے ایک چیلنج بنے گا .ٹارگٹ کللر.بھتہ خور .دہشت گردوں .کرپٹ لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کرے گا .ان کا جینا حرام کرے گا .ان کو ایکسپوز کرے گا .ان کو بے نقاب کرے گا .اور خاص کر الطاف حسین اور متحدہ کو ایکسپوز کرے گا .کون اس ڈر خوف کے بت کو توڑے گا .آخر آج میں نے اپنی زندگی میں یہ دن دیکھ ہی لیا .جس کی خواہش بڑے عرصے سے تھی .گو کہ میں ایک باغی شخص ہوں بغاوت میرا پیشہ ہے .اس فرسودہ نظام کا باغی ہوں .چوروں لٹیروں غداروں کو ہر چوراہے  پر الٹا لٹکا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں .چلو ساری خواہشیں تو پوری نہیں ہوئیں .مگر جو پوری ہو چکی ہے اس پر خدا کا شکریہ ادا کیوں نہ کروں.کیوں ناشکری کروں .کچھ تو ہوا جس پر خوشی کے آنسو اللہ کی رضا کے لئے پاکستان کی سالمیت کے لئے اپنے بہادر سپاہیوں کے لئے بہاۓ ہیں یا خود بخود آنسو کے قطرے اگر نکلے ہیں تو یہ میرے مولا اور پیارے نبی کا خاص کرم ہے ..اپنے لئے تو ہر کوئی آنسو بھاتا ہے .مزہ تو تب ہے جب کسی اور کے دکھ درد میں آنسو کا قطرہ نکلے . تو غم کیا تھا وہ کہانی سن لیں .چند دنوں سے فوج کے بارے میں فوجی نوجوانوں کے بارے میں رینجر کے کرنل صاحب کے بارے میں میجر جنرل بلال اکبر کے بارے میں جناب جنرل آصف باجوہ صاحب کے بارے میں اور جناب راحیل شریف صاحب کے بارے میں لکھ رہا تھا .رینجر اور فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سراہ رہا تھا .مگر دکھ اس بات پر ہوا کہ میرے دوستوں نے اتنی میل بھیج دی .یہ لکھ کر کہ تم اعجاز چودھری اور طلعت اور دوسرے بکنے والے اینکروں کالم نگاروں کی طرح بک چکے ہو .اور پیڈ قصیدہ خان بن چکے ہو .تو آنکھوں میں بےاختیار آنسو چل نکلے .میرے دوستوں کو میری کتابیں بھول گئیں.کالم بھول گئے .جو ایوب خان .جنرل یحییٰ خان .جنرل رانی .جنرل ضیاء اور مشرف زرداری اور الطاف کی مکاریوں کے خلاف لکھ تھے .بھول چکے ہو جو کچھ حسین حقانی .عاصمہ جہانگیر اور غداروں کے خلاف لکھ تھے .بھول چکے میرے دوست مجھے جو میں ہر وقت حکمران کو وقت کا فرعون لکھتا ہوں اور ہر وقت بیچاری عوام اور قوم کو ڈیفنڈ کرتا ہوں .بھول چکے ہو دوست روزنامہ پاکستان کا قصہ میں نے ہی لکھا تھا .اکبر علی بھٹی کی ہیروئین کا قصہ میں نے ہی لکھا تھا .نواز شریف .جونیجو کے جہاز کا قصہ میں نے ہی لکھا تھا .جنرل یحییٰ اور جنرل رانی کی کہانیاں میں نے ہی لکھی تھیں .وہ چکلے چلانے والی جنرل رانی حکمرانوں کو عورتیں سپلائی کیا کرتی تھی .آج بھی بڑے بڑے سیاستدان اور بیوروکریٹ کو رانی کی یاد بھی ستاتی ہے اور کچھ آج بھی بڑے لوگوں کے گھروں میں بیٹھ کر قوم کے راز افشا کرتی ہیں .جنرل یحییٰ ایک عیاش شرابی شخص تھا .زرداری نواز شریف سے زیادہ نقصان اس ملک کو یحییٰ .ضیاء اور مشرف نے پنچایا ہے .ضیاء نے الطاف کی غداری والا پودا لگایا اور مشرف نے صرف آبیاری ہی نہیں کی .بلکہ مکتی باہنی کا تناور درخت بنانے میں اپنا مکروہ کردار ادا کیا .ہم کو دہشت گردی کی آگ میں مشرف نے جھونکا .جس کو بجھانے کے لئے جنرل شریف اگر کوئی نامور کردار ادا کر رہا ہے .تو پھر میرے لکھنے پر اعتراض کیوں .جو اچھا کرے اس کو اچھا نہ کہنا بھوت بڑا جرم ہے .میرے نزدیک بغض حسد کمینہ پن ہے .کہ میں جنرل راحیل شریف اور اس کی پوری ٹیم کو سلام پیش نہ کروں..جنرل راحیل شریف کے خاندان کی قربانیوں کو بھول جاؤں .یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا .جو کام  ٦٥ سالوں سے کوئی نہ کر سکا .اور اگر وہ کر رہا ہے تو میں اس جرنیل کو سلام پیش نہ کروں .یہ میری قوم کی توہین ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا .چاہے میری جان چلی جاۓ .جو شخص دہشت گردوں .کرپٹ لوگوں .غداروں اور ہندوستان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر رہا ہے .میں اس شخص کو سلام پیش نہ کروں.یہ نہیں ہو سکتا .میں اس جرنل کے قصیدے بھی لکھوں گا جو حق سچ  پر مبنی ہوں گے .انشااللہ جب تک میری جان میں جان ہے .سانس چل رہی ہے .اس وقت تک اپنی سچائی کا کردار ادا کرتا رہوں گا .ہاں ایک بات میں اپنے دوستوں کی خدمت میں ضرور عرض کر دوں .کہ اگر میں بکا ہوں .لفافہ وصول کیا ہے یا کسی نے مجھ کو خریدا ہے .تو مجھ پر بغاوت کا مقدمہ چلنا چاہئے .ساری زندگی جیل میں جانے کو تیار ہوں .یا پارلیمنٹ کے سامنے مجھے پھانسی بھی قبول ہے .میں تو سیدھی بات کرتا ہوں .آپ نے اگر اس ملک کو بچانا ہے تو کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا .کرپٹ لوگوں .چوروں .لٹیروں .کا احتساب کرنا ہو گا .سخت فیصلے کرنے ہوں گے .اس آپریشن کو اپنے منتقی انجام  تک پنچانا ہو گا .جنرل راحیل شریف کو مزید تین سال کی اکسٹنشن دینا ہو گی .اگر کیانی صاحب کو تین سال مزید دئے گہے تھے تو راحیل شریف کو کیوں نہیں .اس میں کوئی شک نہیں .بلکہ میرا ایمان ہے .کہ اس پاکستان نے دنیا کے نقشے پر قیامت تک رہنا ہے .اللہ نے اس دھرتی سے کوئی کام لینا ہے .یہ اسلام کا قلعہ ہے .مگر عالمی سازشیں اور بھارت اپنی مکتی باہنی کے زریعہ اس ملک کو کمزور کرنا چاہتیں ہیں معاشی طور پر مذھبی طور پر .آخر کسی پاکستانی حکمران .لیڈر یا جرنیل نے تو اپنا کردار ادا کرنا ہے پاکستان کی سالمیت کو بچانے کے لئے .تو اگر اللہ اور میرا پیارا رسول یہ کام جنرل راحیل شریف سے لے رہا ہے .تو پوری قوم کا فرض ہے کہ جو شخص یا ادارہ اس ملک کا گند صاف کر رہا ہے .اس ملک کا امن واپس لا رہا ہے اس کو سراہے اس کی مدد کرے .ہم سب کو اس ملک کی بقا کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے . اچھی  قوموں کا یہی وطیرہ  ہوتا ہے .اگر میرے نبی کی مدد  ابوبکر صدیق .عمر فاروق .عثمان غنی .حضرت علی اور دوسرے صحابہ کرام نہ کرتے .تو اسلام پوری دنیا میں کیسے پھیلتا .اور آج ہم کس منہ سے فخر سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے .اللہ نے جس سے کام لینا ہوتا ہے لے لیتا ہے .تو میرے خیال میں اللہ نے جنرل راحیل شریف کو جس کام کے لئے چن لیا ہے .وہ اس سے اپنا کام ضرور لے گا .چاہے میں راحیل شریف سے حسد کروں یا بغض رکھوں .میں جو دیکھتا ہوں ووہی لکھتا ہوں .میں یہ دیکھ رہا ہوں .نندی پور پراجیکٹ بند ہو چکا ہے .سٹیل مل بند ہونے والی ہے .پی.آئی .اے .بربادی کے کنارے پر ہے .وزارت پٹرولیم وزارت بجلی فلاپ ہو چکی ہے .کاپر تامبا لوہا سونے کے زخائر بد حالی کا شکار ہیں .پنجاب میں مگر مچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا .میاں نواز شریف با امر مجبوری راحیل شریف کا ساتھ دے رہا ہے .جمہوریت ناکام ہو چکی ہے فلاپ ہو چکی ہے ڈلیور نہیں کر سکی .نیشنل ایکشن پلان پر ابھی آدھا بھی کام نہیں ہوا ..مگر اس کے باوجود جنرل راحیل شریف لولی لنگڑی جمہوریت کی رسی مضبوطی سے تھام کر آہستہ آہستہ چل رہا ہے .اور بھوت کچھ نا چاہتے ہووے بھی برداشت کر رہا ہے .یہ سارے کریڈٹ جنرل راحیل شریف کو جاتے ہیں .آخری بات دوستو یاد رکھو اگر میرا خدا نواز شریف اور راحیل شریف کو عزت سے نوازنہ چاہتا ہے .تو ساری دنیا کے دشمن مل کر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے .اللہ اس ملک کو دیانت دار حکمران عطا کرے .ملک کی حفاظت فرماے .تا قیامت اس کو آباد رکھے .پاکستان زندہ باد.پایندہ باد ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Wednesday, September 9, 2015

======جنرل راحیل شریف کے نام =========
=====تو شاہین  اقبال  پیغام نوجوان  ہے  تو
=====کرتا ہوں ناز کہ فخرے پاکستان ہے تو
=====دوستوں  کے  دل  کی  دھڑکن  ہے تو
=====دشمن  کے  لئے  ایک  چٹان  ہے  تو
===== حاکموں  نے تو کر دیا تھا سودا میرا
=====لکھوں گا جو حقیقت وہ عنوان  ہے  تو
=====میری  پہنچ  تو  صرف آنسوؤں تک ہے
=====میری بے بسی بے حسی کا امتحان ہے تو
=====کیسے کب کون بدلے گا نظام  فرسودہ
=====میرے لئے اک سوالیہ نشان ہے  تو
=====حق اور سچ کا بول بالا جو کرتے ہیں
=====ان شعلہ نواؤں کی  پہچان  ہے  تو
===== دشمن دہشت گردوں کا مقابلہ جو کرے
=====خالد بن ولید جیسا شیر دل نگران ہے تو
=====دشمن تو کھینچ رہا ہے لہو سے لکیریں میری
=====تاریخ کا محمد بن قاسم ٹیپو سلطان ہے تو
=====چوروں لٹیروں سے بھی واقف ہے راحیل
=====ہر کرپشن کے بھی جانتا نشان  ہے تو
=====اللہ اور نبی پے رکھ کے  بھروسہ راحیل
=====بدل دے نظام کہ نیا قاعد نیا پاکستان ہے تو
=====قاعد اعظم  تو  قاعد اعظم  تھا  جاوید
=====راحیل میرے خواب انقلاب کا نگہبان ہے تو
=======جاوید اقبال چیمہ اٹلی والا
=======٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Wednesday, September 2, 2015

=تشویش .مذمت .سیاسی انتقامی کاروائی .مفاہمت جمہوریت کے بونوں کے یہ الفاظ مجھے زہر لگتے ہیں .جس نے کرپشن کرنی ہو .ملک سے غداری کرنی ہو .پیسہ کمانا ہو .دوبئی لندن امریکا میں محل بنانے ہوں .تو وہ سیاست میں آ جاۓ .یا سیاسی گماشتوں کی چمچہ گیری کرے تو سیاستدان کا سیکٹری بن جاۓ اور خوب مال کماۓ.یا بیوروکریسی کی طرح ہر آنے والے سیاستدان  کی تیمارداری کرے اس کو مکڑی کا جال میں رکھے اور سیاستدانوں کو تندور روٹی اور جنگلہ بس .ناظم .کونسلر .کبھی جماتی اور کبھی غیر جماتی الیکشن کے چکروں میں ڈالے رکھے.اور خود صاحب کی آنکھ کا تارا دل کا دولارا بن کر عیش کرے اور کبھی اپنی  بیوی کو صاحب سے متعارف کروا دے اور خود عیش بھی کرے اور اپنے حلقہ میں اپنی کرسی پر مشہور ہو جاۓ کہ صاحب فلاں فلاں افسر کی بات نہیں ٹالتا .بیوروکریسی ایسی بلا کا نام ہے جو آمریت میں بھی خوش جمہوریت میں بھی خوش .خدا غارت کرے ایسی جمہوریت کو کہ جس میں فیصلے آمریت والے ہوں .خدا غارت کرے ایسی جمہوریت کو کہ جس میں ڈکٹیٹر کے ساتھی ہوں .جس جمہوریت کو ڈکٹیٹر کی پیداوار چلا رہے ہوں اس جمہوریت پر ہزار بار نہیں کروڑوں دفعہ لعنت .لعنت .لعنت .جس جمہوریت میں سارے مامے چاچے وزیر مشیر ہوں .اداروں کے سربراہ ہوں .اس جمہوریت میں کرپشن پر کنٹرول نہیں ہو سکتا .نہ احتساب ہو سکتا ہے .نہ انصاف .ہم جو سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کرپشن والے کرپٹ لوگ پکڑے جایں گے .تو ہم سب کسی اور ہی دنیا میں رہتے ہیں .پاکستان میں جو پانچ پرسنٹ کرپٹ مچھلیوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی ہے .یہ صرف اور صرف راحیل شریف کو کریڈٹ جاتا ہے .اور جس دن یہ کاروائی پنجاب تک نہ پنچھی .نواز شریف کے خاندان تک نہ پونچی.یا یہ آپریشن دہشت گردی والا کرپشن والا بھتہ خوری والا ٹارگٹ کلنگ والا اپنے منتقی انجام تک نہ پنچا.تو میں اس کا ڈیسکریڈیٹ بھی راحیل شریف کو ہی دوں گا .اس وقت قوم  اپنے سارے مسایل بھول چکی ہے .ہر فرد ہر شخص کی نظریں راحیل شریف پر لگی ہوئی ہیں .کہ کب وہ بڑی مچھلیوں مگر مچھوں کو پکڑتا ہے .قوم کو حکمران کی طرح کوئی فکر نہیں کہ بھارت پاکستان کے امن کو تباہ و برباد کر رہا ہے .جنگ کے بادل ہمارے اوپر چھائے ہووے ہیں .ہمارے پاس ١٥ دن کی جنگ لڑنے کے لئے پیٹرول کا سٹاک بھی نہیں ہے .دوسرے زخائر بھی کم ہیں .راشن وغیرہ .اور باڈر تک پونچھنے والی سڑکیں بھی تباہ ہالی کا شکار ہیں .ہر شہر کو ٹریفک کے مسایل ہیں .کیونکہ ساری رقم ہم صرف لاہور پر خرچ کرنا چاہتے ہیں .پاکستانی قوم کو بچے بچے کو بس ایک ہی فکر لا حق ہے .کہ زرداری اور شریف خاندان کب احتساب کی چکی یا شکنجے میں آتے ہیں .جبکہ رانا سناالله نجومی ولی اللہ نے پشین گوئی کر دی ہے کہ پنجاب میں کراچی کی طرح کوئی کاروائی نہیں ہو گی .بتاؤ میرے پاکستانیو میں اس بیان پر تشویش کا اظہار کروں یا مذمت کروں یا سندھ میں انتقامی کاروائی لکھوں .پنجاب میں کیوں نہیں .بلکہ میرے خیال میں فوری کاروائی ہونی چاہئے .تاکہ سیاسی پنڈتوں کو مداری گروں مکاروں کو شور مچانے کے لئے کوئی جواز میسر نہ آے.اور ہمارے سینے میں بھی ٹھنڈ پڑ جاۓ .کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ میری اور میری قوم کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں .جس سے ہم اپنے دل کو بھلا لیتے ہیں .کہ آج فلاں سکینڈل آ گیا آج فلاں کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا .ہم کو اس رات نیند پیاری آ جاتی ہے .جبکہ ہم کو معلوم ہے اور ہوتا ہے کہ ہونا وغیرہ کچھ نہیں .بس چند دن شور رہنا ہے .کیونکہ یہ ہماری بھی غذا ہے .اور ہماری غذا کا بندوبست ہمارے ادارے ہمارے لئے کرتے رہتے ہیں .یہی ہماری اوقات ہے .کہ ایس.ایس.پی.ہم کو چاۓ پر بلاۓ اور ہمارے سامنے میز پر چند کلاشنکوف اور پستول گولیاں اور چار ڈاکو دکھاۓ .فوٹو سیشن ہو اور سب گھروں کو چلے جایں یہ سمجھ کر کہ اب  چوریوں ڈکیتیوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو چکا ہے .کسی چور لٹیرے ڈاکو یا کرپشن کے بادشاہ کو پکڑنے سے مسایل حل نہیں ہوں گے .کرپشن مافیا کا قله قمعہ نہیں ہو گا جب تک ان لوگوں کو فوری انصاف کے تحت عبرت کا سامان نہیں بنایا جاتا .عبرت کا نمونہ بنا کر کسی چوراہے میں الٹا لٹکا کر عوام کو دکھایا جاۓ کہ ہم کرپشن کو روکنے میں مخلص ہیں .ورنہ یہ ڈرامے ہم تشویش .مذمت اور سیاسی انتقامی کاروائی کے الفاظوں سے تنگ آ چکے ہیں .بس کریں یا ملک کے چپے چپے کی حفاظت کریں یا سب کے لئے فری سٹیٹ بنا دین .جس کی جو مرضی کرے وہ کرنے میں آزاد ہو .تا کہ سب کو یکساں ملک کو لوٹنے کا موقعہ مل سکے .پھر جو ہو گا تم بھی دیکھو گے ہم بھی دیکھیں گے .اس سے پہلے کہ عوام جاگ جاۓ میرے حکمران تم جاگ جاؤ...جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..