Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Wednesday, March 20, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،دولت اور بھوک ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،دولت انسان کو کبھی  فرعون بنا دیتی ہے
،،،،،،،بھوک و ننگ بھی کبھی عزت مٹا دیتی ہے
،،،،،دولت  بھی کسی کسی کو شیطان بنا دیتی ہے
،،،،،بھوک  و ننگ بھی کسی کو انسان بنا دیتی ہے
،،،،،،دولت انسان کو کبھی کبھی  حیوان بنا دیتی ہے
،،،،،دولت کبھی کبھی انسانوں کو با ادب بنا دیتی ہے
،،،،بھوک  و ننگ کبھی کبھی ہر آداب بھلا دیتی ہے

Saturday, March 16, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،عمران خان کے خیالات ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،پاکستانی سیاست میں ہلچل اور تبدیلی کے اثرات دن بدن نمایاں ہوتے جا رہے ہیں ،،اور زرداری صاحب مہارت سے  اپنے پتے کھلتے جا رہے ،،،انہوں نے حفیظ شیخ کو نگران سیٹ اپ کا انچارج بنانے کے لئے کوشش تو کی ہے ،،مگر زرداری صاحب دکھاتے ہمیشہ سجی ہیں اور مارتے خبھی ہیں ،،،ان کے دل میں جو ہو گا وہی نگران وزیر اعظم بنے گا ،،میرے انقلاب کے لئے بھی اب راہ ہموار کرنے میں زرداری صاحب کا ہی گولڈ میڈل ہو  گا ،،،پاکستان میں شایدکبھی انقلاب نہ آتا ،اگر زرداری صاحب صدر نہ بنتے ،،اور نہ سیاستدان جوتوں میں دال بانٹتے ،،اور  نہ اتنی قتل و غارت ہوتی ،،اور نہ ہر کوئی مادر پدر آزاد فیصلے کرتا اور مال پانی کمانے کا سنہری دور بھی شاید دیکھنے کو نہ ملتا اور نہ سندھ اسمبلی اپنی مراعات میں اتنا اضافہ کر پاتے،،،اور نہ اتنی دفعہ بجلی ، گیس ، کے نرخ میں اضافہ ہوتا ،،،اور نہ فیکٹریاں بند ہوتیں اور نہ ہر گھر میں اسلہ کی فیکٹریاں لگتیں ،،،،یہ سب  اس لئے دوہرا رہا ہوں ،،،کہ  عمران خان صاحب کو بڑی دیر بعد یہ  آیا ہے ،،کہ اختیارات کا اصل منبہ زرداری صاحب ہیں ،،،عمران خان صاحب کو مبارک   بادہ  پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ سٹینڈ لیا ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد  وہ زرداری صاحب سے حلف نہیں لیں گے ،،دیر آید درست آید ،،،،ویسے زرداری صاحب اس وقت پاکستان میں رہیں گے جب تک ان کے اتحادی ان کے ساتھ مفاہمت والی منافقت جاری رکھنے کے لئے عوام کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوتے رہیں گے ،،،اگر الیکشن ہووے ،،اور خون خرابہ نہ ہوا ،،،اور اگر الیکشن کمیشن نے آزادانہ الیکشن کروا لئے ،،اور اگر فوج نے الیکشن کمیشن کا ساتھ دے دیا ،،اور اگر باسٹھ، تریسٹھ ، کی شق  پر عمل ہو گیا ،،جو کہ نظر نہیں آ رہا ،،تو  عمران خان صاحب کی حلف والی پریشانی کی نوبت نہیں آے گی ،،،،،کیونکہ اگر اس ٹولے کو نظر آ گیا کہ وہ اقتدار سے محروم ہونے والے ہیں تو یہ ملک کو چھوڑنے کے لئے ایک منٹ بھی انتظار نہیں کریں گے ،،،کیونکہ اب آئین اور قانون کی بات کرنے والوں کو یہ معلوم ہے ،،کہ اب پائی پائی کا حساب دینے کا وقت آ چکا ہے ،،،عمران خان صاحب کو پتہ ہے کہ یہ کہاں کا قانون ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات سے نوازہ جاۓ ،،،،سندھ اسمبلی نے تو حد کر دی ہے ،،،اتنی مراعات حاصل کرنے کا آخر مقصد کیا ہے ،،،اسلام آباد والے بھی مراعات لینے میں بازی لے چکے ہیں ،،،شکر ہے خدا کا کہ عمران خان صاحب کو میاں برادران کے علاوہ بھی  کچھ اور چور نظر آ چکے ہیں ،،مگر قادری صاحب کی سوئی ابھی میاں صاحب  پر ہی اٹکی ہوئی ہے ،،نہ جانے قادری صاحب کو زرداری صاحب اور دوسرے منافقوں کا ٹولہ نظر کیوں نہیں آتا ،،،صرف یہی وجہ ہے کہ قادری صاحب کا انقلاب فیل ہو گیا ،،،،کیونکہ ان کا ٹارگٹ غلط تھا ،،،قادری صاحب پہلے عمران خان اور جنرل حمید جیسے ایماندار لوگ تلاش کرو ،،پھر دیکھو ملک میں انقلاب آتا ہے کہ نہیں ،،،میری سمجھ میں عمران خان ایک دیانت دار ،،محب وطن اور سچا ، مخلص ، لیڈر ہے ،،جو واقعی ملک میں نظام تبدیل کر سکتا ہے ،،،اور اگر قادری صاحب جیسے لوگ اور جماعت اسلامی ،،عمران صاحب کے ساتھ ہو جاۓ ،،تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ،،،اور چوروں ،بے غیرتوں .غداروں کو لٹکا کر پائی پائی وصول کی جا سکتی ہے ،،،جنہوں نے عوام کا خون پیا ہے ،،ملک سے غداری کی ہے ،،دہشت گردی کی جنگ میں ہم کو دھکیلا ہے ،،تمام اداروں کو برباد کیا ہے ،،ان کو لٹکانا کوئی بری بات نہیں ہے ،،،آخر کسی نے تو یہ کام کرنا ہے ،،،،،،اب یہ عوام کا اور حکومتی اداروں کا احتساب ہے ،،کہ وہ ووٹ دیتے وقت کیا انصاف کرتے ہیں ،،،،اور اپنی ذات کو کہاں تک لے جا سکتے ہیں ،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان،،اطالیہ،،،،،،
،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،

Tuesday, March 12, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،پرویز مشرف کے نام ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،آج ٹی،وی ، پر مشرف صاحب فرما رہے تھے کہ وہ واپس آ کر پاکستان کی تقدیر  بدل دیں گے اور زرداری صاحب کراچی میں اتحادیوں کے ساتھ امن لانے کی قوم کو نوید دکھا رہے تھے ،،،،واہ جی واہ ،،،خوشی سے مرنے کو جی چاہ رہا ہے ،،،میرے پیارے لیڈروں کو اس بات کا علم نہیں ہے ، کہ منافقت سے اور چوروں لٹیروں کے اتحاد سے ملک کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی صرف اقتدار بچایا جا سکتا ہے ،،،اور معذرت کے ساتھ مشرف صاحب آپ کو اقتدار اب نہیں مل سکتا ،،،بلکہ زرداری صاحب بھی جو مرضی چالیں چل لیں ،،،بس حساب کتاب کی تیاری کریں اور اگر بد قسمتی سے آپ لوگ دوبارہ اقتدار میں آ گہے،،تو ملک کا پھر اللہ ہی حافظ ہے ،،،،بلکہ میرے جیسے پاگل تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی  بھی حکمران یا لیڈر جو پہلے حکمرانی کر چکا ہے ،،اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آ بھی جاتا ہے ،،تو ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا نہ ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،،کیونکہ آزماے  ہوۓ حکمرانوں کو کون نہیں جانتا ،،کہ وہ دوبارہ آ کر کیا انقلاب لا سکتے ہیں ،،،،مشرف  کو اس بات کا اندازہ ہو جاۓ گا کہ اس ملک میں صرف تبدیلی نیا خون ہی لا سکتا ،،یہ پرانے چہرے نہیں ،،،،کرپٹ ،،بد دیانت، سیاستدان کیا تبدیلی لیں گے ،،،،ہاں ایک بات واضح ہے کہ اگر پارٹی کا لیڈر نڈر ،بے باک ،،ایماندار ہو ،،تو اس کے نیچے اگر چند لوگ غلط بھی ہوں ،تو وہ لیڈر ملک میں انقلاب لا سکتا ہے ،،تبدیلی لا سکتا ہے ،،،،،مگر مشرف صاحب اگر مجھ سے آپ یا کوئی اور یہ بات کہے کہ گجرات والے چودھری ،یا ولی خان گروپ ،،یا زرداری ،یا فضل رحمان ،یا الطاف حسین ،یا رائونڈ والے میاں صاحب ،،ملک میں جاگیرداروں ، وڈیروں کے ساتھ یا مفاہمت کے نام کو استمعال کرنے والے ملک میں انقلاب یا تبدیلی لائیں گے ،،تو معذرت کے ساتھ میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں ،،،آپ کو اور دوسرے لیڈروں کو خدا نے موقعہ دیا ،،مگر آپ سب نے اقتدار کو طول دینے کے لئے کام کیا ،،مگر ملک کے لئے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ،،بلکہ آپ ہم کو ایک ایسی آگ میں دھکیل کر چلے گہے ،،،کہ ہمارا خون ہر روز سڑکوں پر بیہ رہا ہے ،،آپ کا ایک فیصلہ پوری قوم کو تباہ و برباد کر چکا ہے ،،،دوسرا فیصلہ ،،این ،،آر ،،و،،،بھی قوم کا ستیا ناس کر چکا ہے ،،،شرم کرو مشرف صاحب ،،تم سب آزماے ہوۓ اور چلے ہوۓ   کارتوس  ہو ،،،،تم کیا ملک کی تقدیر بدلو گے ،،تم سب لیڈر اپنی اپنی خیر مناؤ ،،،،اگر مجھ جیسا کوئی پاگل حکومت میں آ گیا تو آپ کا احتساب ہی آپ سب کو صدام حسین کی طرح انجام کو پنچا دے گا ،،تم سب ہیرو  ہمارے ہیرو تھے مگر اپنی کارکردگی کی وجہ اب تم سب ہماری نظر میں زیرو ہو چکے ہو ،،،،خدا کی لاٹھی بڑی بے آواز ہوتی ہے ،،ڈرو اس وقت سے جب کوئی احتساب والا آ گیا ،،،،اور میرا ایمان ہے کہ اس ملک نے رہنا ہے تو احتساب ہونا ہے ،،اور کوئی نہ کوئی مرد ے قلندر انقلاب اور تبدیلی لاۓ گا اور انصاف سے احتساب کرے گا ،،،،،،،میرا دکھ بھی یہی ہے کہ ہم نے تمہارے آنے پر بھی مٹھائی تقسیم کی تھی،،،مگر تم نے ہمارے جزبات کو مجروح کیا ،،اور چوروں ،لٹیروں کو ساتھ ملا کر حکومت کرتے رہے ،،ایک بھی انقلابی کام سر انجام نہ دیا ،،حتہ کہ اتنی طاقت رکھنے کے باوجود تم کالا باغ ڈیم نہ بنا سکے ،،،،،میں نے اپنی تمام کتابوں میں تمہارے بارے میں بھوت کچھ لکھا ہے ،،میری ویب سائٹ پر پڑھ لینا ،،،آنے والے دن اس ملک کے لئے انتہائی خطر ناک ہیں ،،،بھوت خطر ناک کھیل حکمران قوم کے ساتھ  کھیلنے والا ہے ،،جو انشااللہ انقلاب کا سبب بنے گا ،،،،تم بھی دیکھو ،،ہم بھی دیکھیں گے ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان،،اطالیہ،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،

Monday, March 11, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،پاک ایران گیس منصوبہ ،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،زرداری صاحب کا ایک اور سیاسی کھیل اور سیاسی سٹنٹ ،،،،آپ اندازہ کریں کہ یہ شخص کیسے کیسے پتے کھیل رہا ہے ،،،ملک کے ساتھ بھی اور عوام کے ساتھ بھی کھیل پھچلے پانچ سال سے کھلا جا رہا ہے ،،،جو شخص اربوں روپے رشوت سے حاصل کر کے محل بنا رہا ہو ،،،ملک کا پیسہ بے نظیر سکیم میں اڑا دیا گیا اور بجلی اور گیس کے پلانٹ کو ڈیزل فراہم کرنے کے لئے پیسہ نہ دیا گیا ،،،ریلوے ،پی ،آئی،اے ، اور دوسرے اداروں کو تباہ کر دیا گیا ،،مفاہمت ہوتے ہوۓ بھی کالا باغ ڈیم تو زرداری صاحب بنا نہیں سکے ،،،اس منصوبے کا حشر بھی کالا باغ ڈیم جیسا ہو گا ،،،زرداری صاحب اگر مخلص ہوتے تو پانچ سال کے اندر منصوبہ بنا کر چلا کر دکھا سکتے تھے ،،،اس ملک میں کئی تختیاں لگتی ہیں ،،بڑی بڑی رقمیں افتتاح کے منصوبوں پر لگتی ہے ،،،مگر بعد میں صرف ویرانی ہی ویرانی رہ جاتی ہے ،،،،زرداری صاحب اپنی کرسی کے لئے شاطر کھلاڑی ضرور ہیں ،،مگر ملک کے لئے مخلص نہ ہیں ،،،نگران وزیر اعظم بھی حفیظ شیخ بنے یا کوئی اور ،،،،آخری فیصلہ زرداری صاحب کا ہو گا ،،،،،یہ علیحدہ بات ہے کہ ماہر سے ماہر ،،شاطر سے شاطر کھلاڑی نے بھی اک دن جانا ہے ،،،،اقتدار سدا کسی کا ساتھ نہیں دے سکتا ،،،،،پاک ایران منصوبہ کوئی ایماندار ،،نڈر ،،بے باک اور مخلص لیڈر ہی بنا سکتا ہے ،،،،ورنہ یہ انقلابی فیصلے تو کوئی انقلابی لیڈر ہی کر سکتا ،،،،زرداری صاحب کے بارے میں میں یہی کہ سکتا ہوں ،،کہ ،،،پلے نہیں تیلہ تے کردی پھرے میلہ میلہ ،،،،،،،یہ منصوبہ بغیر رقم کے اور بغیر امن کے پایہ تکمیل کو نہیں پنچ سکتا ،،،،،،جلسوں کی سیاست کے لئے یہ پاک ایران گیس منصوبہ چلے گا ،،،،،،،،،کاغذوں میں زندہ رہے گا ،،،،آنے والی حکومت کے لئے ایک عذاب اور امتحان ہو گا ،،،،،،اس ملک کو اک انقلاب کی ضرورت ہے ،،،جو کالا باغ ڈیم اور دوسرے سب منصوبے بنانے کی جرات رکھتا ہو ،،،،،ورنہ یہ کاغذی منصوبے ہی رہیں گے ،،،،،،جب تک چور لٹیرے اس ملک کے اقتدار میں ہیں ،،یہ ملک نہیں چل سکتا ،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،

Sunday, March 10, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،بے حس قوم ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،ہر محلے میں ہر قسم کے لوگ رہایش پزیر ہوتے ہیں ،،سیاستدان ،،ڈاکٹر ،،وکیل ،،اینکر حضرات ،،بڑے بڑے نامور صحافی،،،مگر افسوس کے ان کی ناک کے نیچے بڑی بڑی مافیا اپنا غلیظ دندھہ جاری رکھے ہوۓ ہوتے ہیں ،،،اور ہم سب کچھ جانتے ہوۓ بھی خاموش رہتے ہیں ،،،اور معاشرہ تباہ و برباد ہوتا جا رہا ہے ،،،اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی کالا دھندھہ پولیس کی سر پرستی کے بغیر جاری نہیں رکھا جا سکتا ،،،،میڈیا آزاد ہے ،،اور مخلص ہے ،،دانت دار ہے ، مگر میں یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوں ،،چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی ہم سب کرپٹ ہو چکے ہیں ،،چھوٹ ،منافقت ،بد دیانتی ،،لاپرواہی ،،مصلحت پسندی ،،اقرباپروری ،اور بھوت سے عوامل مل کر ہم سب کو کرپٹ بنا چکے ہیں ،،برائی کو دیکھتے ہوۓ آنکھیں بند کر لینا ،،،،اور پھر کہنا کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہو جایں گے ،،نہیں یہ نہیں ہو سکتا ،،اگر ہم نے حق کے لئے اپنی آواز کو بلند نہ کیا ،،،بےحسی سے باہر نہ نکلے ،،حق کا ساتھ نہ دیا ،،تو ہم سب نیک و بد مزید تباہ و برباد ہو جایں گے ،،ویسے جو لوگ بڑے پر امید ہیں ،،،،وہ اس لئے کہ آگ ابھی ان کے گھر تک نہیں پنچھی،،،جب آگ ان کے گھر تک پنچے گی تو کوئی ڈھونڈھنے پر بھی آگ کو بھجانے والا نہیں ملے گا ،،،کیونکہ جن کے گھر میں ابھی تک جوان لاش خون میں لوٹ پت نہیں پنچی،،ان کے گھر ابھی ڈاکہ نہیں پڑا،،اور کوئی حکمرانوں کا دہشت گردی کا تحفہ نہیں ملا ،،وہ واقیہی پر امید ہیں کہ ملک صحیح سمت جا رہا ہے ،،، کیونکہ ان بے حس لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے محلہ میں کوئی فحاشی کے اڈہ کام کر رہے ہیں اور وہاں اغواہ کی ہوئی بچیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ہو رہا ہے یا منشیات سرے عام فروخت ہو رہی ہے یا اسلہ کا کاروبار ہو رہا ہے ،،،ملک سے ایسی ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے ،،،ہم یورپ کو برا بھلا کہتے تھکتے نہیں ،،،ملادیں مناتے تھکتے نہیں ،،اسلام پر تقریریں کرتے تھکتے نہیں ،،مگر کردار اتنا گھٹیا ہے کہ یورپ والے بھی ہماری خبریں سن کر ہم پر تھوکتے ہیں ،،،گو کہ حکمرانوں نے ہمیں اس حال تک پنچایا ہے ،،مگر افسوس کہ ہم پھر انھیں لوگوں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس مقام عبرت تک پنچایا ہے ،،،واہ میری بے حس قوم  تو اپنے لئے خود ہی گھڑے کھود رہی ہے ،،،،کب سڑکوں پر کتا کتا اور ہاے ہاے ہو گی ،،کب انقلاب کے لئے یہ قوم اپنے گھروں سے کفن باندھ کر نکلے گی ،،کب یہ بے غیرت حکمران اور نظام تبدیل ہو گا ،،کب کوئی ایماندار ،مخلص ، دیانت دار ،،نڈر ،،بیباک ،،اور مسلمان حکمران آے گا ،،جو ہماری تقدیر کا آخری فیصلہ کرے گا ،،،،اس  وقت تو صرف چیف جسٹس ھے،،،جس کے ہاتھ بھی بندھے ہوۓ ہیں ،،وہ ہر بات کا نوٹس لیں تو بات آگے بڑتی ھے ،،ورنہ ہر بے غیرت دھندھے پر مٹی ڈال دی جاتی ھے ،،کاش جنرل پرویز کیانی صاحب نے چیف جسٹس کا اتنا ساتھ دیا ہوتا کہ صدر صاحب کو فون کر کے کہتے کہ سنو کہ عدالت کیا کہ رہی ھے ،،،کاش کسی نے اس بے لگام جمہوریت کی  گردن میں پٹہ دال کر اس کو صحیح سمت میں ڈال دیا ہوتا ،،،،کاش ،،،کاش ،،،کوئی میرے جیسا پاگل حکمران بن جاتا ،،،،،تو ایک ہفتے میں ہر سمت درست ہو جاتی ،،،،جس کو یہ بے غیرت پینسٹھ سالوں میں نہیں کر سکے ،،،حیدر آباد میں صرف ایک چکلہ نہیں ،بلکہ سارے ملک میں بغیرتی کا  ہر کھیل پولیس اور حکمرانی ادارے اور مافیا کے کہنے پر ہو رہا ھے ،،،پیسہ دین اور ایمان بن چکا ھے ،،،اور یہی حکمران اپنے حلف میں چھوٹ بولتا ھے ،،،،،،،،،اس ملک نے تباہ ہونا ھے ،،انقلاب نے آنا ھے ،نظام نے بدلنا ھے اور بے غیرتوں نے پھانسی کے پھندے میں جانا ھے ،،،،ورنہ میں پاکستان کے مستقبل سے ناامید ہو چکا ہوں ،،،،،،عنقریب چند  مزید ہولناک کھیل حکمران کھیلنے والا ھے ،،جس سے آپ کو بھی جلد پتہ چل جاۓ گا ،،کہ انقلاب کیا ہوتا ھے اور کیوں آتا ھے ،،،وہ دن اس قوم کے لئے سنہری ہو گا ،،جب ہر کوئی دوسرے کا دکھ محسوس کرے گا ،،،اپنا درد کو محسوس کرنا کوئی بڑی بات نہیں  ھے ،،،،،،،اس دن قوم بے ہسی کے خول سے باہر نکلے گی ،،،،پاکستان میں نظام بدلے گا تو دنیا تمہارے قدم چومے گی ،،،،،،،،انشا اللہ ،،،،،،،وہ دن عنقریب آنے والا ھے ،،،،،میں حکمرانوں کی طرف سے مکمل نا امید ہو چکا ہوں ،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،٣٣٧ ،،،٣٣٣٩،،،،

Wednesday, March 6, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،چیف جسٹس افتخار چودہری کو سلام ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،صرف ایک انسان اپنی ذمہ داری کو بڑی مشکل سے پورا کر رہا ہے ،،غداروں نے افتخار چودھری کے خلاف ہر حربہ استمعال کیا ،،،اٹارنی جنرل نے بڑی خوبصورتی سے ولن کا رول ادا کیا ،،اور حکومت نے اور مافیا نے نہ تو ان کے حکم پر عمل کیا اور نہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ،،،،کاش اس ملک کے کچھ اور کردار بھی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ،،،،کاش صدر پاکستان ملک کے لئے مخلص ہوتے ،،کاش جنرل کیانی بھی تھوڑی سی افتخار چودھری کی مدد کر دیتے ،،تو نتیجہ مختلف ہوتا ،،،،میں تو چیف جسٹس کو مرد ے آہن  بھی کہتا ہوں اور بیچارہ بھی کہتا ہوں ،،اور ان کو سلام بھی پیش کرتا ہوں ،،،اس لئے کہ  انہوں نے کسی مافیا کے سردار کی پرواہ نہ کی ،،،او بیچارہ اس لئے کہ ان کے کسی حکم پر عمل نہ کیا گیا ،،،میرے حساب سے ملک برباد نہیں ہو سکتا تھا ،،اگر افتخار چودھری ،،جنرل اشفاق پرویز کیانی اور زرداری مل بیٹھ کر کوئی ملک کے حق میں فیصلہ کرتے ،،،تو آج ملک کا نقشہ یہ نہ ہوتا ،،،اور نہ اتنا ناحق خون بہتا  ،،،،،افسوس کسی نے بھی افتخار چودھری کا ساتھ نہیں دیا ،،،،اس لئے ملک برباد ہو گیا اور حسین حقانی اور مشرف جیسے غداروں کو بڑی آسانی سے ملک سے باہر بھیج دیا گیا ،،اور جنہوں نے ضمانت دی تھی ،وہ بڑی بغیرتی سے اپنا کھیل کھیلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں ،،،،اسی لئے کہتا ہوں کہ ملک کو انقلاب کی ضرورت ہے ،،الیکشن کی نہیں ،،،،انقلاب کا لیڈر اگر افتخار چودھری جیسا کوئی آ جاۓ ،،تو دیکھ لینا کہ سب چوروں کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں ،،،،بغیر احتساب کے یہ ملک مزید برباد ہو گا ،،،،،،،،،،،لاشوں کے انبار ہر طرف دیکھ رہا ہوں ،،اس لئے لکھا نہیں جا رہا ،،،، کیا  کیا  لکھوں  اپنا ہی درد پنہاں لکھوں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،کس کرب سے گزرا وہ کرب جہاں لکھوں
،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان،،اطالیہ،،،،،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،

Monday, March 4, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،جمہوریت کے پانچ سال ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،ہمیشہ بد دانت ،بد کردار ،،نا اہل ،،کرپٹ  حکمرانوں کی وجہ سے ڈکٹیٹر  آتا ہے ،،اور حکومت بھی بےغیرت سیاستدان کو ٹکڑا ڈال کر کرتا ہے ،،،اب ایک بار پھر سیاستدانوں کو آزمایا گیا ،،،مگر ایک دفعہ پھر سیاستدانوں نے مفاہمت کے نام پر عوام کے ساتھ منافقت کی ،،،،اور جمہوریت کو ناکام بھی کیا ،،نام کو بدنام بھی کیا ،،اور جمہوریت کے نام پر عوام کو ذلیل بھی کیا ،،،اور آمرانہ طرز کے فیصلے بھی کئے،،،،،،،،،،،،کاش اس جمہوریت نے اسلہ کے لاسنس فروخت کرنے کی بجاۓ اسلہ پر پابندی لگائی ہوتی ،،،کاش ڈکٹیٹر کی پالیسی تبدیل کر دی جاتی ،،،کاش اس جنگ سے علیحدہ ہو چکے ہوتے ،،،،کاش امن کے لئے جمہوریت نے کوئی کام کیا ہوتا ،،،،کاش کراچی اور بلوچستان میں قتل و غارت کو جمہوریت نے  ختم کر دیا ہوتا ،،،،کاش جمہوریت نے ہر ادارے کو لوٹ کر کنگال نہ کیا ہوتا ،،،،کاش جمہوریت کے ٹھیکیدار نے ملک کا سوچا ہوتا ،،صرف اپنے پیٹ کا نہ سوچا ہوتا ،،،،،کاش دہشت گردی کی جنگ کو جمہوریت نے کاروبار نہ بنایا ہوتا ،،،،کاش جمہوریت نے پانی ، بجلی ،،گیس ،،روٹی ،کپڑا ،،مکان ،،کا مسلہ حل کیا ہوتا ،،،،،کاش جمہوریت نے بینظیر انکم سکیم فنڈ  میں پیسہ  زیاح نہ کیا ہوتا ،،،،کاش جمہوریت نے پہلے سال ہی آل پارٹی کانفرنس بلا کر فیصلے کئے ہوتے ،،،،کاش سرحد حکومت ڈالر کا کاروبار نہ کرتی ،،کاش  وفاق پاکستان کو سول وار ،،انارکی ،،خونی منظر کی طرف نہ دھکیلتی اور ملک سے پرانے بدلے نہ لیتی ،،،،کاش وفاق بلوچستان کو بھی پاکستان کا حصہ سمجھ کر اس سے اچھا سلوک کرتا اور دشمن کو بےنقاب کرنے کا حوصلہ کرتا ،،کاش  گجرات کے چودھری ،،فضل رحمان ،،اور ، ایم،،قیو،،ایم ،،،نے صرف  اپنا مفاد آگے نہ رکھا ہوتا ،،کچھ ملک کا بھی سوچا ہوتا ،،،مگر افسوس ،،،،کاش پنجاب حکومت نے کمپوٹر ،،روٹی پلانٹ اور جنگلا بس ، پر اتنی رقم خرچ نہ کی ہوتی ،،،اور نہ بیوروکریسی کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوتے ،،،،کاش پنجاب حکومت لا اینڈ آرڈر  کو کنٹرول کرتی ،،اور بجلی کا کوئی پلانٹ لگاتی ،،جس سے غریب کی مزدوری تو نہ جاتی ،،فیکٹریاں نہ بند ہوتی ،،،،،،کاش جمہوریت کے ہوتے ہوتے اسلہ کے کنٹینر کراچی میں غائب نہ ہوتے ،،،،،کاش جمہوریت  غلط نظام کو بدل دیتی,،،،،،کاش جمہوریت عدالتوں کو لگام ڈالنے کی بجاۓ،،،اپنے آپ کو لگام ڈال لیتی ،،،،،،،،،،،،اس کا یہ مطلب نہیں ہے ،،کہ میں اشفاق پرویز کیانی کو دعوت دے رہا ہوں کہ وہ آے  اور اقتدار سنبھال لے ،،،،،نہیں ،،،،،،میں تو خدا سے اس شخس کو مانگ رہا ہوں ،،جو آے اور سب لٹیرے ،،بےغیرت ،،،غداروں اور منافق سیاستدانوں کو الٹا لٹکا دے ،،اور فرسودہ نظام کو تبدیل کر دے ،،،احتساب کرے اور لوٹی ہوئی دولت واپس وصول کرے ،،یا ان کی تمام جائداد ظبط کر لے ،،،اس دہشت گردی کی جنگ سے نکلے اور سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہو ،،،یہ کام جو بھی کرے گا ووہی پاکستانی عوام کا نجات دھندہ ہو گا ،،،،،،یہ ہونا ہے ہو کر رہے گا ،،انقلاب ناگزیر ہے ،،،،،چوروں ،لٹیروں کا صفایہ ہو گا ،،تو پاکستان پٹری پر چڑھے گا ،،،ورنہ پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے ،،،،،الیکشن کو خونی بنایا جا رہا ہے ،،،،الیکشن نہ کروانا زرداری کے حق میں ہے ،،،،کیونکہ اگر پاکستان میں الیکشن صاف اور شفاف ہوتے ہیں تو کرپٹ لیڈروں کے لئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے ،،،،،،،سب فرعون اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں ،،،،،،،،اور اقتدار کو طول جب دینے کی تیاری ہوتی ہے ،،تو خون خرابہ ہوتا ہے اور کروایا  جاتا ہے ،،،،،،،اور مزید کروایا جاۓ گا ،،،،،،،،،مگر دنیا میں سب فرعون  نے ایک دن جانا ہے ،،اور جاۓ گا ،،انشا اللہ ،،،،،الیکشن کو  ملتوی  کرنے کی کوشش جاری ہے ،،،،،،،دیکھتے جاؤ ،،،یہ جمہوریت اپنا انتقام لے رہی ہے اور اپنے انجام کو پونچھنے والی ہے ،،،،،کچھ بھاگ  جائیں گے کچھ لٹکاۓ جایں گے ،،،،،انشاء الله ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،م،،،