Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, March 3, 2014

.....................
اسلام آباد محفوظ ترین جگہ ہے ........................

.........

میں نے پہلے بھی نثار صاحب سے گزارش کی تھی کہ بڑے بول نہیں بولا کرتے ..آپ اچھے انسان ہیں مگر آہستہ آہستہ رحمان ملک بنتے جا رہے ہو ..اور پنجاب کے خادم اعلیٰ اور رانا سناالله کی طرح بھڑکیں مارنا بند کرو ..اور میاں نواز شریف..زرداری کی طرح ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر چلنے کی کوشش کرو ..کیونکہ جب حکمران دشمن کو نہیں پہچانے گا .اس سے تجارت کے معاہدے کرے گا اس کو پسندیدہ ملک قرار دے گا .دشمن کے تلوے چاٹے گا ..تو پھر یہی کچھ ہو گا ..جب آپ کے مکمل ناکے موجود ہیں . ٢٦ کم از کم آجنزیاں موجود ہیں .آپ کو اسلام آباد کے ہر گھر کا پتہ ہے ..کہ کون کہاں کہاں رہ رہا ہے ..تو پھر آسمان سے فرشتے اتر کر کاروایاں کر کے چلے جاتے ہیں ..نہیں ایسا نہیں ہے ..ہماری صفوں میں دشمن گھسا ہوا ہے .جس طرح کرپشن میرے حکمران کے خون میں گھسی ہوئی ہے ..اس لئے یہاں کسی وقت کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے ..جب حکمران ہر معاملہ میں اپنا ذاتی مفاد دیکھے گا . وہاں یہی کچھ ہو گا ..جب حکمران ملک کی ترقی . فلاح کی خاطر کوئی پروجیکٹ شروع کرنے سے پہلے اپنی کمیشن کی بات کرے گا ..تو پروجیکٹ کون شروع کرے گا ..حکمران کی نہ کوئی منزل ہے .نہ ذوق ..شوق.نہ ولولہ نہ بردباری . نہ دلیرانہ صلاحیت نہ قوم کی خاطر قربانی کا جزبہ ..وہاں کیا ہو گا ..پہلے میں کہا کرتا تھا ..اکیلا افتخار بیچارہ کیا کرے اب کہتا ہوں .اکیلا نثار بیچارہ کیا کرے ....بڑے صاحب کا کوئی ویزن نہیں سواۓ مال بنانے کے ...اس قوم کے لئے اب کوئی شرم اور غیرت ملی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ...جس قوم کا حکمران جھوٹ بولتا ہو فراڈ کر رہا دھوکا دے رہا ہو .اس سے کیا توقع کرو گے ..جو ساری دنیا سے سرمایا داروں کو دعوت دے کہ آؤ میرے ملک میں سرمایا لگاو اور خود پاکستان سے کرپشن کر کے اپنا سرمایا دوسرے ملکوں میں منتقل کرے اور دوسرے ملکوں میں فیکٹریاں لگانا اپنے لئے بہتر خیال کرے ..جو اپنا سرمایا پاکستان میں محفوظ نہ سمجھتا ہو ..وہ ملک کے ساتھ کیا مخلص ہو سکتا ہے ..جس حکمران نے لکھی ہوئی تقریر کرنی ہو .اپنے ہی خاندان اور چمچوں کو ترجیح دینی ہو ..وہ ملک کو کیا نظام دے گا کیا.. امن ..روزگار دے گا ...جو دہشت گردوں سے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی بھیک مانگتا ہو ..وہ ملک سے مہنگائی کیا ختم کرے گا ...جو حکمران اسلہ پر پابندی نہ لگوا سکتا ہو ..جو بلدیاتی الیکشن نہ کروا سکتا ہو جو اپنے ہاؤس کے اخراجات کم نہ کروا سکتا ہو ..جرات سے فیصلے نہ کر سکتا ہو ..وہ کیا خاک حکمرانی کرے گا ...واہ رے میرے حکمران تو کے ٹو کی پہاڑی سر کرنے چلا ہے پہلے اسلام آباد کی پہاڑیاں تو سر کر لے ..پاکستان پر حکومت کرنے والو صرف اسلام آباد پر تو حکومت کر لو ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان....اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..

Saturday, March 1, 2014

..................
فیوڈرل ذہنیت اور عام پاکستانی .....................

.............

ملک تو ہم نے اسلام کے نام پر اور قاعد اعظم کی جد و جہد کے بعد بڑی قربانیوں سے حاصل کر لیا .مگر افسوس کہ قاعد کو اللہ نے نظام تبدیل کرنے کا موقعہ نہ دیا اور کچھ سازشوں کا سلسلہ بھی پہلے دن سے ہی شروع ہو چکا تھا ..بد قسمتی سے انگریزوں اور ہندو ذہن کی پیداوار جاگیردار . وڈیرہ شاہی اور بیوروکریسی کی گندی ذہنیت کو نہ بدل سکے .کیونکہ فرھنگی نظام کے دئے ہووے تحفه سے کھیلتے رہے اور قوم کو قاعد کے بعد کوئی رہنما نہ مل سکا جو اس فیوڈرل گندی ذہنیت سے نجات دلواتا ..ایک عام پاکستانی کی سوچ اور جاگیردار . وڈیرے .بیوروکریٹ اور افسر کی سوچ میں بھوت فرق ہے ..گھومنے والی کرسی پر جب ایک عام آدمی بڑی مشکل سے پنچتا ہے تو اس کی سوچ گندہ نظام ہونے کے باوجود ایک کرپٹ خاندانی وڈیرے کی سوچ سے مختلف ہو گی ..اور ہوتی ہے .کچھ بدل جاتے ہیں چکنا چوند روشنیوں میں ..اور کچھ ادب آداب اور اپنی اوقات کو اور خدا کو نہیں بھولتے ..کیونکہ میں خود بھی کبھی گھومنے والی کرسی کا ساتھ دے چکا ہوں اس کا حصہ تھا . اس لئے قریب سے جانتا ہوں ..یہ سب کچھ تمہید مجھ کو اس لئے تفصیل کرنا پڑی..کیونکہ جمشید دستی نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ سب کچھ حقیقت ہے اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جمشید دستی ایک پارلیمنٹرین ہونے کے باوجود ایک عام آدمی کی سوچ رکھتا ہے ..گو کہ گندی ذہنیت کے لوگوں کو جمشید دستی کی بات پسند نہیں آئی ہو گی ..مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام آباد اور پورے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر برائی اپنے عروج پر ہے مگر شراب اور شباب کی محفلیں تو فیوڈرل ذہنیت کی ہی پیداوار ہیں ..جنرل یحییٰ کے دور میں جنرل رانی کا نام روشن تھا . جس کے گاہکوں میں سیاستدان کچھ بیوروکریٹ اور کچھ جج بھی ہوا کرتے تھے ..مگر وقت نے ایسا پلٹا کھایا..کہ اب یہ بیماری پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ..کچھ ایسے حکمرانوں کو میں zati طور پر جانتا ہوں جو باہر کے ملکوں میں صرف شراب اور شباب کے لئے آتے ہیں مگر ان کا خرچہ سرکاری بھی ہوتا ہے اور کچھ یہاں اٹلی .فرانس .جرمنی .لندن . وغیرہ میں رہنے والے میرے دوست بھی ان پر خرچ کرتے ہیں .مگر میں نے ان کی کبھی ویڈیو نہیں بنائی نہ ان پر کالم لکھتا ہوں کوںبکہ ایک تو میں ملک ریاض کی طرح کا کوئی مافیا کا کردار یا بلیک میلر نہیں ہوں دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ میں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..کیونکہ میرے حکمرانوں کے کالے دھن کو محفوظ کرنے والے ہر ملک میں موجود ہیں ..جن کے بارے میں بھوت کچھ جانتا ہوں . میرے پاس بھوت ان گنت کہانیاں موجود ہیں مگر جس ملک میں انصاف اور احتساب نام کی کوئی چیز ہی نہ ہو ..وہاں اس طرح کی حقیقتیں صرف قصے کہانیاں رہ جاتی ہیں ....میں تو ان بےغیرت حکمرانوں کے کردار سے اور نام نہاد جمہوریت سے اتنا ناامید ہو چکا ہوں کہ صرف انقلاب کو ملک کا حل سمجھتا ہوں ..کیونکہ جب تک یہ نظام ہے یہ ملک میرے جیسے غریب کے لئے جھنم سے کم نہیں ہے .حکمران کے لئے جنت ہے ...اگر یہ بد کردار چہرے اور نظام نہ بدلہ تو یہ حکمران ملک کے ٹکرے ٹکرے کر کے فروخت کر دے گا ....اگر میں حکمران ہوتا تو پہلا قانون یہی بناتا کہ ہر وہ خاندان جس کی دولت باہر کے ملکوں میں ہے جس کے پاس دو پاسپورٹ ہیں ..وہ ملک کی کسی بھی کرسی پر بھیٹنے کا اہل نہیں ہے اور تمام انگریزوں کی دی ہوئی جاگیریں بھی ضبط کر لیتا ..کل بطور وزیر اعظم اپنی پہلی تقرر لکھوں گا ..انشااللہ....جاوید .اقبال چیمہ ..میلان .اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩..

Thursday, February 27, 2014

.....................
جمہوریت کا بسترہ بوریا مارشل لا لپیٹ دے .................

.........

یہ کہنا ہے پاکستان کے ایک ایسے لیڈر کا جو لندن میں بیٹھ کر پاکستان کو اپنے رعب و دبدبے سے چلاتا ہے اور کئی کئی گھنٹے میڈیا کے سب چنیل پر اپنی تقریر مسلط کرتا ہے . پاکستان میں کوئی فرد کوئی حکمران اس کے آگے بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ..وہ میڈیا بھی بھیگی بلی بن جاتا ہے بغیر رقم کے ..جو میرے جیسے فرد کو ایک منٹ بھی دینے کو تیار نہیں ہوتا ..مگر آج میں بھی الطاف بھائی کے حق میں قصیدہ لکھوں گا ..اس امید پر کہ نجم سیٹھی کی طرح خریدہ جا سکوں . کیونکہ متحدہ کے مطابق جو لکھتا ہے وہ بکتا ہے ..ویسے حکمران نے الطاف بھائی کے بیان کا نوٹس کچھ اس طرح لیا ہے کہ جس طرح ہم نے دنیا کو دکھانے کے لئے ایٹم بمب چھپا کر رکھا ہوا ہے اس طرح متحدہ کو دبانے کے لئے رحمان ملک نے عمران کے دو قاتلوں کو چھپا کر رکھا ہوا تھا کہ بوقت ے ضرورت یہ گیڈر سنگھی کام آے گی ..کیونکہ نثار صاحب نے لندن والوں کو دعوت دے دی ہے کہ وہ آ کر دونوں قاتلوں سے مزید تفتیش کر لیں ..یہ تو تھا حکمران کا رد عمل الطاف حسین کے خلاف ..اب بات کرتے ہیں الطاف صاحب کے بیان کی .....کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ......میں الطاف صاحب کے بیان کو تین پہلو میں دیکھتا ہوں ..پہلی بات تو یہ ہے .کہ یہاں تک تو سچ ہے کہ زرداری اور نواز شریف .گجرات والے چودھری .مذھبی جمایتیں اور نام نہاد جمہوریت اس ملک کو ابھی تک ٦٥ سالوں سے کچھ نہیں دے سکی .حکمران اس وقت بھی ڈیلیور نہیں کر سکا .یہاں تک تو ٹھیک ہے ..مگر غلطی الطاف صاحب سے یہ ہوئی کہ ان کو نواز شریف کے مستعفی ہو جانے کا اور مڈ ٹرم الیکشن کا حکم صادر کرنا چاہئے تھا ...دوسری غلطی یہ ہوئی کہ نظام کی تبدیلی . جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کی تبدیلی کے لئے فوج کو دعوت دینی چاہئے تھی ..تیسری غلطی یہ کر گہے.کہ فوج کو اقتدار دیتے وقت وہ یہ بھول چکے تھے کہ دہشت گردی کا تحفہ دینے والے بھی وہ خود تھے ..کیونکہ فوج کے اقتدار میں گجرات والے چودھریوں اور متحدہ کا حصہ ہے ..کیونکہ ملک میں جو خرابیاں ہو چکی ہیں اور ہر طرف جو آگ لگی ہوئی ہے یہ سب بیج مشرف کے دور میں بویا گیا تھا ..فوج کے ساتھ یکجہتی منانے والوں اور فوج کی اقتدار میں دعوت دینے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سوات .اسلام آباد .کراچی اور بلوچستان اور باقی ملک میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانے مشرف کی حکومت کے کارنامے ہیں جس میں متحدہ کا کردار بھی شامل ہے ..اس لئے فوج کو اقتدار سمبھالنے کے مشورے سے پہلے ان سیاسدانوں کو اپنے اندر بھی جھانکنا ہو گا ..یہ کریڈٹ زرداری صاحب کو جاتا ہے کہ انہوں نے سوات کو دہشت گردوں سے خالی کروایا یہ حکومت اس لئے ناکام ہے کہ اس کی کوئی پالیسی واضح نہیں ہے ....اور ہاں باقی رہا معاملہ فوج کے اقتدار کو سنبھلنے کا ..تو الطاف صاحب کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ جمہوریت نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اس لئے فوج کو اقتدار سنبھال لینا چاہئے تاکہ نظام تبدیل کر سکے ...مگر فوج اقتدار لے کر کسی سیاستدان کو حکومت میں شامل نہ کرے ..اور الطاف حسین کو یہ بھی کہ دینا چاہئے تھا کہ متحدہ قوم سے وعدہ کرتی ہے کہ فوجی حکومت میں شامل نہیں ہو گی اور فوج کو آزاد چھوڑے گی تاکہ فوج آرام سکون سے ہر جگہ فوجی آپریشن کر سکے اور ہر نو گو ایریہ بھی صاف کر سکے اور صاف شفاف الیکشن بھی کروا سکے ..مگر الیکشن اس وقت ہوں گے جب سب قاتل. بھتہ خور .ہر قسم کی دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ ہو گا ..اگر تو متحدہ اس پر راضی ہے تو پھر فوج کے آنے میں کوئی ہرج نہیں ہے .......کیونکہ آخر انقلاب نے بھی تو آنا ہے اگر ایسے ہی نظام تبدیل ہو جاۓ..تو بہتر ہے .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان..اطالیہ.

Tuesday, February 25, 2014

....................
عمران خان کو کون سمجھاۓ..........................

............

میرے ہمدرد بھی کہیں سو گیے ہیں

.........

اپنی ہی بھول بھلیوں میں گم ہو گیے ہیں

........

بدلنے نکلے تھے نظام فرسودہ کو

.......

انقلاب کا راستہ ہی کہیں کھو گیے ہیں

............

دنیا بھی خان صاحب کو سمجھا رہی ہے اور شیخ رشید صاحب بھی گاہے بگاہے خان صاحب کو ان کے عوام سے کئے ہووے وعدے یاد کرواتے رہتے ہیں ..مگر عمران خان صاحب عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنا تو درکنار . وہ تو عوامی جزبات سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں ..میں یہ بھی جانتا ہوں کہ خان صاحب چند مفاد پرست ٹولے کے ہاتھوں یرمغال ہو چکے ہیں ..ذاتی طور پر خان صاحب میں بھوت خوبیاں ہیں مگر انہوں نے جو راستہ نظام کی تبدیلی کا چنا ہے یا چنا تھا ..اس کا انجام انہوں نے دیکھ لیا ہے مگر اس کے باوجود بھی جمہوریت . جمہوریت کا راگ الاپنا میری سمجھ سے باہر ہے .یہ جمہوریت .یہ عدالتیں . یہ نظام کس طرح کس کے غیبی اشاروں پر چلتا ہے . اب تک تو خان صاحب کو سمجھ آ جانا چاہئے تھا .جبکہ میری طرح کا ایک اس نظام سے باغی جاوید ہاشمی بھی خان صاحب کے ساتھ ہے ..میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے پشاور کی حکومت نہ لینے اور الیکشن کے نتایج تسلیم نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ..مگر خان جس دل دل میں داخل اور دھنس چکے ہیں ..وہاں سے نکلنے میں اب تکلیف ہو رہی ہے .کیونکہ اقتدار کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے ..اور جن لوگوں نے خان صاحب کو اس میں داخل ہونے کا مشورہ دیا تھا ووہی چہرے خان صاحب کو لے ڈوبے .....پچھلے الیکشن میں جو کھیل تحریک انصاف کے ساتھ کھیلا گیا ..کیا گارنٹی ہے کہ دوبارہ بھی کوئی ڈرامہ کسی اور اداکار کے ساتھ نہیں کھیلا جاۓ گا ...٦٥ سالوں سے اس ملک میں الیکشن کے نام پر ڈرامے ہوتے رہے ہیں اب کیوں نہیں ہو گا ....یہ اس وقت تک ہو گا .جب تک یہ نظام تبدیل نہیں ہو گا اور نظام اس بےغیرت منافقت کی جمہوریت سے نہیں ہو گا ..یہ نظام انقلاب کے بغیر تبدیل نہیں ہو گا ..یہ بات عمران خان کی عقل میں ہے . مگر وہ کہاں کہاں جھکڑا ہوا ہے یہ سوچنے والا مقام ہے ..آخر وہ کونسی طاقت ہے کون سے خفیہ ہاتھ ہیں ...جو فیصلہ کرنے سے روک رہے ہیں ...عمران خان لیڈر بن چکا تھا .اللہ نے موقعہ دے دیا تھا مگر افسوس خان صاحب اپنی لیڈری کو برقرار نہ رکھ سکے ..اور موقعہ سے فایدہ نہ اٹھا سکے ..جبکہ سارے جواز موجود تھے ..ایسی جمہوریت جاۓ جھنم میں جس سے نظام ہی نہ بدل سکے ...اسی لئے اقبال صاحب نے فرمایا تھا ...جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی ..............فیصلہ آپ کریں کہ خان صاحب کو کون سمجھاۓ..ورنہ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک .............

............

خدا اور نبی سے تو نا امید نہیں جاوید

.........

حکمران سے نا امید لکھوں یا بد گمان لکھوں

........

کہاں سو گہے ہیں میرے مہربان لکھوں

......

سوچتا ہوں کیا لکھوں سوچتا ہوں کیا لکھوں

............

جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧...٣٣٣٩...

Monday, February 24, 2014

........................
انقلابی اقدامات کے بغیر ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی ........

..............

میں کیسے تسلیم کر لوں .کہ یہ حکمران اور یہ نظام ملک کی تقدیر بدل دے گا ..کیونکہ حکمران نظام کو بدلنے کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھاتا ..بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا معامله ہے حکمران کہتا ہے کہ میرے ہاتھ ومیں کوئی جادو کی چھڑی یا الہ دین کا چراغ نہیں ہے ..تو میں اپنے حکمران سے بڑے ادب کے ساتھ کہتا ہوں کہ تیرے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے تو استعفیٰ دے دو اور گھر چلے جاؤ ..کسی دوسرے کو موقعہ دے دو ..مگر ایک طرف تیری یہ ہٹ دھرمی ..دوسری طرف کرپشن اور ناانصافی میں خودمختاری ..میری سمجھ سے بالا تر ہے ...واپڈا ...سٹیل مل ...پی.آئی.اے ..نیپ .اور نادرا اور نج کاری وغیرہ میں چیئرمین لگانے میں تیری یہ پھرتیاں .خودمختاری دیکھتا ہوں تو مجھے تیرے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ نظر آتا ہے ..مگر جب عوام کو ڈیلیور کرنے کی باری آتی ہے ..تو حکمران واہ رے تیری بغیرتی ..کہ تیرے ہاتھ سے الہ دین کا چراغ گر جاتا ہے ..میرے حکمران بتا تو سہی کہ وزیروں کے شاہانہ .صدارتی ہاؤس .وزیر اعظم ہاؤس اور بیوروکریسی کے شاہانہ اخراجات پر کونسا نظام بنایا ہے ..انسصف کی امید میں ٣٥ سالوں سے جاری مقدمات کا کیا بنایا ہے .جاگیرداروں وڈیروں کی گندی ذہنیت کو بدلنے کے لئے اور ان کی بےلگام اولاد کو لگام ڈالنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں ..گھر کی دہلیز تک انصاف پنچانے کے لئے یونین کونسل میں کونسا نظام مستقل بنیادوں پر دیا ہے ..کیونکہ بیوروکریسی نہیں چاہتی ..کونسی تیری داخلہ اور خارجہ پالیسی ہے ..کیسے تو لوگوں کو سفارت خانوں میں لگاتا ہے .کیا نظام ہے کیا معیار ہے ..صرف سفارش . رشوت اور چاپلوسی کا تیرے ہاں معیار ہے ..نہ تیرے پاس کوئی بیروزگاری .بدامنی اور مہنگائی کو کونٹرول کرنے کا نظام ہے ..نہ کوئی اداروں .انجمن .تنظیموں کو دیکھنے کا نظام ہے ..نہ کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے ..حتہ کہ ابھی تک تو ملک کو اسلہ سے پاک نہیں کر سکا ...بلکہ الٹا اسلہ کے لاسنس دے کر امن لانا چاہتا ہے ..واہ کیا بات ہے ہر ایک کے ہاتھ میں اسلہ دے کر کہتے ہو کہ اپنی جان کی حفاظت خود کرو ..حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے اسلہ کسی کو موت کے منہ سے نہیں بچا سکتا ..میرے پیارے لاڈلے حکمران اگر تو صحت تعلیم اور صاف پانی جیسی سہولتیں بھی عوام کو نہیں دے سکتا تو تیرا حکمرانی کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے ..کونسا بےغیرت آئین ہے جو تجھ جیسے بےغیرت حکمران کو حکمرانی کا حق دیتا ہے ..مجھے بتا دے ورنہ میں بھی ناانصافی کے لئے ناانصافی کی عدالت میں ایک نئی نویلی بمعنی پٹیشن لے کر تیرے خلاف عنقریب جا رہا ہوں ..جس طرح نئی نویلی دلہن سسرال کے لئے سوہانے خواب لے کر جاتی ہے ..مگر سات دن بعد سارے سپنے کانچ کی طرح ٹوٹ جاتے ہیں ....تو مجھے پتہ ہے انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے مگر پھر بھی میں جاؤں گا ضرور ...تیری ان تقریروں کا سہارا لوں گا جو تو نے عوام سے چھوٹ بولا تھا اور تیرے منشور کی کاپی بھی جج صاحب کو دکھاؤں گا جس منشور کو تو نے خود بھی نہیں پڑھا.....انشااللہ .............جاوید اقبال چیمہ .میلان.اطالیہ ..........٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧...٣٣٣٩....

Thursday, February 20, 2014

.............................
اسلام آباد شدید خطرے میں ہے .........................

.........

میرے لئے یہ ایک مضحکہ خیز خبر ہے ..کیونکہ میرے نزدیک تو پورا پاکستان اور ہر فرد خطرے میں ہے ..پاکستان میں کونسا علاقہ اور کونسی جگہ محفوظ ہے .مگر حکمران کو شاید اس بات کا اندازہ اور فکر نہیں ہے .کیونکہ حکمرانوں کے اپنے بچے امریکا اور لندن میں پڑتے ہیں وہ ان کی دولت کی طرح محفوظ ہیں .اور باقی یہاں اقتدار میں ہوتے ہیں تو اپنے محافظوں . پروٹوکول کی وجہ سے محفوظ ہوتے ہیں . اس لئے ان کو سب اچھا نظر آتا ہے ..اور آج اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز خبر یہ ..کہ چودہری نثار صاحب فرما رہے ہیں کہ اسلام آباد سب سے محفوظ جگہ ہے ..مزید فرما رہے تھے کہ ان کو ہر گھر کے بارے میں علم ہے .کہ کون کہاں رہ رہا ہے .مگر افسوس کہ نثار صاحب بھی رحمان ملک کی طرح ہی نکلے ..اللہ کرے اسلام آباد میں کچھ نہ ہو اور نہ ان کی عزت خاک میں ملے ..کیونکہ رانا ثنا اله بھی یہی کہتے تھے کہ لاہور محفوظ ہے .بعد میں پتہ چلا کہ ١٧٠ جگہوں میں طالبان کے ٹھکانے موجود ہیں .وزیر داخلہ صاحب یہ تو بتا دیں.کہ آپ کو ہر گھر کا پتہ ہے .مگر یہ نہیں پتہ کہ اسلام آباد میں جو شراب اور لڑکیاں سپلائی کرتے ہیں وہ کہاں رہتے ہیں ..میں تو حیران ہوں کہ یہاں تو باباۓ قاعد ے اعظم کا جسد خاکی محفوظ نہیں ہے .وہاں کیا ہونے والا ہے .یہاں تو ہزاروں طرح مافیا کی طرز پر دہشت گردی ہر جگہ ہو رہی .ہم کس کس دہشت گردی کا رونا رویں..مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں کل کو ہمارا دشمن ہم سے اچانک یہ مطلبہ نہ کر دے . کہ تمہارے قاعد اعظم کا جسد خاکی ہمارے پاس ہے .بولو کتنے میں خریدو گے ..کیونکہ اگر اس قبر والے کمرے میں زنا اور شراب کا کاروبار ہو سکتا ہے .تو وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے .اب کسی کیا پتہ کہ ہمرے درباروں اور مدرسوں اور امام بارگاہوں . اسمبلیوں اور ٹی وی چنیل کے تہ خانوں میں کیا کچھ ہوتا ہے ..ملک اور اسلام آباد اس وقت بھی محفوظ تھا .سب اچھا کی رپورٹ تھی .جب مشرف کی حکومت تھی اور دشمن سوات پر قبضہ جما چکا تھا اور لال مسجد اسلہ کا گودام بن چکا تھا .اب بھی اسلام آباد محفوظ ہے مگر ہر بڑے کو لڑکی اور شراب آسانی سے دستیاب ہے .بلوچستان اور کراچی پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے .مگر افسوس بنگلہ دیش بننے سے پہلے بھی اسی طرح کی خبریں آیا کرتی تھیں ..غدار اس وقت بھی ہماری صفوں میں موجود تھے اور آج بھی ہیں ..پچھلے تمام بےغیرت حکمرانوں کی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ مرض اس حد تک پنچ چکا ہے .کہ اب چھوٹا موٹا آپریشن نہیں .اس قوم کو صرف ایک انقلاب ہی جگا سکتا ہے ..وہ انقلاب بھی اب شاید عمران خان اور قادری صاحب نہ لا سکیں ..اب یہ آخری انقلاب بھی فوج میں سے ہی چند پاگلوں کا ٹوللا ہی لاۓ گا .کیونکہ سیاستدان مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ..سیاستدان ملک کو اپنے مفاد میں ٹکرے ٹکرے کر کے بیچنے والا ہے ....بہتر ہے اس کو ٹھیکے پر دے دیا جاۓ ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩....

Tuesday, February 18, 2014

............................
این . جی .اوز کا کردار پاکستان میں ................

........

اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے تحفه کے ساتھ ساتھ وافر مقدار میں . این .جی اوز . کا تحفہ بھی جناب مشرف صاحب کا تھا ..کیونکہ عالمی ٹھیکیداروں نے یہ سمجھ لیا تھا .کہ دہشت گردی سے پاکستان کو تباہ برباد تو کیا جا سکتا ہے . مگر مسلمان کی انسانیت اور اخلاقیات اور اسلامیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا . تو انہوں نے فحاشی پھیلانے کے آجنڈہ کو اس طریقہ کار کو ترجیح دی .اور پاکستان میں . این جی .اوز . کا جال بچھا دیا .بڑے بڑے اداروں کو اور نامور لوگوں کو اس میں شامل کیا .تاکہ کوئی پوچھ گچھ نہ ہو اور نہ کوئی آڈٹ ہو ..اگر کبھی چھان بین ہوئی .تو دیکھنا ایسے ایسے مناظر اور گپلے سامنے این گے کہ عقل دنگ رہ جاۓ گی ..مگر پاکستان کا حکمران کب جاگے گا .جب چڑیاں چگ گئی کھیت ....معاشرہ تو تباہی کے دھانے پر پنچ چکا ہے . مگر حکمران تو خود یہی چاہتا ہے .اور جو میرے مہربان یہ کہتے ہیں کہ معاشرہ کیوں برباد ہو رہا ہے .انقلاب کیوں نہیں آیا .اور مشرف کا دور تھوڑا سا خوشحال کیوں تھا .ان سب رازوں سے پردہ چاک ہو سکتا ہے .گو کہ نظر آنے والی دہشت گردی سے بھی ان کا کردار زیادہ برا ہے .آپ . این .جی . اوز .چلانے والوں کی لسٹ رجسٹر کریں .پھر دیکھیں . کہ ان میں کتنے پارلیمنٹ . بیوروکریسی اور شہنشاہ شامل ہیں .اور کون کس کس طرح مال بھی بنا رہا ہے اور اپنے ڈالر دینے والے آقا کو بھی خوش کر رہا ہے .اگر نجم سیٹھی جیسے چمچے نوازے جا سکتے ہیں .تو ڈالر دینے والے اتنے بیوقوف ہیں کہ اپنا کام نہیں لے سکتے .میں نے جب اپنے دوست وہاں کام کرنے والے سے پوچھا کہ آپ کی اجینسی کیا کام کرتی ہے .تو اس نے کہا.اور کاموں کے علاوہ ہمارا کام الیکشن پر نظر رکھنا بھی تھا .تو میں نے سوال کیا کہ میوزک شو . فیشن شو پر تم نے خرچہ کیا .فحاشی پھیلانے کے لئے .مگر الیکشن پر آپ نے صرف نظر رکھی اور دھاندلی کو نظر انداز کر دیا یا دھاندلی کروائی .تو وہ ہنس پڑا..واہ میری قوم بغیرتی والے اقدامات سے خوشحالی چاہتی ہے مگر اپنے معدنی وسایل کو بروۓ کار لا کر خوشحال نہیں ہونا چاہتی ..قناعت پسندی پر جی کر دنیا آخرت سرخرو نہیں ہونا چاہتی . بلکہ دوسروں کے حقوق غصب کر کے اور حرام کی عیاشی کی کمائی سے دنیا آخرت بنانا چاہتے ہیں .ہر دور میں حکمرانوں کو ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ فنڈنگ ہوئی ..مگر قوم کی بد قسمتی کہ آج تک یہاں کبھی کسی کا احتساب نہیں ہوا ..اسی لئے ہمارا دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب جا رہا ہے ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩...