Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Tuesday, April 15, 2014

.................
عنقریب انقلاب انقلاب ہر پاکستانی کی زبان پر ہو گا ......

........

آخر کار بڑی انتظار کے بعد قادری صاحب کی طرف سے گیارہ مئی کو انقلاب کے آغاز کا عندیہ دے دیا گیا ہے ..پاکستانی قوم اتنی ڈری اور سہمی ہوئی ہے .کہ وہ اب ہر اچھے اقدام کو بھی شک کی نظروں سے دیکھتی ہے ..کیونکہ اندرونی اور بیرونی غداروں نے عالمی سازشوں کے زریعہ اس قوم کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے ہیں ..کہ اب لیڈروں کے نعروں سے عتبار اٹھتا جا رہا ہے ..بھر حال حالات جو بھی ہوں .قادری صاحب کے ہر معاملے کو خدا پر چھوڑتا ہوں ..ان کے دل میں کیا ہے .پروگرام کیا ہے کیا نہیں ہے ..اندر کی کہانی کیا ہے ..ہم تو عام آدمی ہیں ..اور عام آدمی کی سوچ یہ ہوتی ہے ..کہ ملک میں بہترین نظام ہو ..انصاف .روزگار .سب کے لئے ہو .بنیادی سہولتیں ..عزت کی روٹی اور امن و امان ہو ..ہم انقلاب کے لفظ اور نظام کی تبدیلی پر اپنا خون بھا دینے والی قوم ہیں ..جو اس اچھے مقصد کے لئے لیڈ کرے گا ..ہم اس کے ساتھ ہیں ..بس قادری صاحب سے اتنی گزارش ہے ..کہ اس انقلاب کا بھی حشر پہلے جیسا نہ ہونے پاۓ..اور ان کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کرنا ..کفن باندھ کر نکلو گے تو کامیابی ہو گی .قوم ہر اس کا ساتھ دے گی جو ان لٹیروں کے خلاف میدان میں نکلے گی ...انقلاب کے لئے چند الفاظ اپنی بارہویں کتاب سے ........ملاحضہ فرما لیں ...میری کتاب کا نام ...انقلاب کا دیا ........

........................

انقلاب آے گا .............................

...............

عقل نہیں تمہاری سوچ کی بات کرتے ہیں

..............

دنیا داری نہیں تمہارے دل کی بات کرتے ہیں

.............

ہمیں چہروں سے کچھ نہیں لینا

.............

ہم تبدیلی نظام کی بات کرتے ہیں

.............

ہم تمہارا ناحق خون بہانا نہیں چاہتے

.............

بس اک قطرہ خیرات کی بات کرتے ہیں

.............

سر پر منڈلاتے ان خطرات کی بات کرتے ہیں

.............

آگاہ کر کے آنے والی آفات کی بات کرتے ہیں

.............

سمندر میں اترنے سے روکا نہیں تم کو

............

ہم تو آنے والے طوفان کی بات کرتے ہیں

............

اترنا ہی چاہتے ہو تو کفن باندھ کر اترو

...........

ہم تو کشتیاں جلانے کی بات کرتے ہیں

...........

نہیں تم کو یقین کہ بدل جاۓ گا نظام اک دن

.........

خدا پے کر لو یقین .نظام قدرت کی بات کرتے ہیں

..........

اب جو بدلے گا نظام وہ آمر نہیں امر ہو گا

..........

ہم اس آنے والے انقلاب کی بات کرتے ہیں

...........

جاگے گا ساری رات .روے گا قوم کی خاطر جاوید

.........

آ جاۓ وہ ہم اس عمر خطاب کی بات کرتے ہیں

..............

ویسے انقلاب کے الفاظ سے حکمرانوں میں اور اسلام آباد میں درجہ حرارت تیز ہو چکا ہے .کل زرداری .نواز مل کر قادری صاحب کے بارے میں منصوبہ بندی کریں گے ...آج نہیں تو کل انقلاب نے تو اک دن آنا ہے ..قوم کو اس امتحان سے گزرنا ہو گا ....انشااللہ .........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...

Friday, April 11, 2014

.............
یہ ہے حکمران اور جمہوریت کا اصل چہرہ .................

........

میرے ہر کالم پر جو ای میل اور کومنٹ موصول ہوتے ہیں .وہ اچھے بھی ہوتے .برے بھی ہوتے ہیں ..عوام کے سہی جزبات بھی ہوتے ہیں .اور نام نہاد جمہوریت پسند لٹیروں .چوروں .غداروں .کی طرف سے گالیاں بھی ہوتی ہیں ..جو میں خندہ پیشانی سے سنتا ہوں ..کیونکہ جب سمندر میں رہنا ہے تو مگر مچھوں سے دشمنی تو رنگ لاتی ہے ..ویسے بھی اس زمانے میں سچ بولنے پر کوئی پھول تو نچھاور نہیں کرے گا ..پہچے کالموں پر میں نے تفصیل سے لکھا تھا کہ کس طرح مجھے نامعلوم کالیں کر کے اذیت دی گئی..مگر میں نے کالیں کرنے والوں کو فون پر بھی حقایق ہی بتاۓ ...جبکہ وہ چاہتے تھے کہ بتا .تیرے کردار کے پیچھے کون ہے .تو میں نے سچ کہا...کہ صرف اللہ اور نبی پاک ......تو مختصر یہ ہے بھائی .کہ یہ سچ اور حقیقت ہے ..کہ اگر ان چوروں .لٹیروں .بغرتوں .کے بعد ان کی کرپٹ اولاد نے ہم پر حکومت کرنی ہے ..تو پھر ملک کی اس سے زیادہ اور کیا بدقسمتی ہو گی ..نامعلوم ان کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں پھر اس ملک کا نقشہ کیا ہو گا ...اسی لئے میں ایسے انقلاب کا حامی ہوں .جو نظام تبدیل کرے اور چوروں .لٹیروں .کرپٹ کا احتساب کر کے ان کو الٹا لٹکا پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ .تاکہ جرائم کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جاۓ اور لوگوں کا انصاف پر یقین .....اس وقت تک قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی ..اسی لئے مجھے ضیاء اور مشرف سے تکلف پونچی...کہ وہ یہ کام کر سکتے تھے ..مگر انہوں نے نہ نظام بدلہ .نہ احتساب کیا ..بلکہ الٹا انہی چوروں کو ساتھ ملا کر حکمرانی کے مزے لئے ...مگر اب کی بار مجھے یقین کامل بھی ہے ..کہ اب جو فوجی نوجوان ماں کا لاڈلا آے گا ..وہ ہماری توقعات پر پورا اترے گا ..........................انشااللہ ...یہ چند دوستوں کے خیالات ملاحضہ کریں ..

 

 


واہ چیمہ صاحب واہ میرے دل کی بات کی ہے آپ نے ۔ میں نے بھی اس پر ایک کالم لکھاتھا کہ ہمیں جمہوریت نہیں بلکہ سخت ترین آمریت چاہیے ۔کہ ان سب کو الٹا لٹکا دے ۔ وہ آمر جو مفاہمت کے نام پر منافقت سے عاری ہو ۔ جو لوگ اس ملک میں جمہوریت جمہوریت کا رٹھا لگا کر نہیں تکتے ۔ ان لو گوں کے جمہوریت میں اپنے مفاد ہوتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے لیے ایک ڈیکٹیٹر چاہیے جو کسی پارٹی کا دوست اور خیر خواہ نہ ہو ۔ اور پاکستان پر ایک قومی حکومت بنا لے ۔ جو اچھے او ر ایماندار لوگوں پر مشتمل ہو ۔ او ،زرداری ،عمران ،فضل ،شجاعت ،پرویز ،رشید ، پیر پگاڑو ،اچکزئ ،اسفندیاراور دوسرے کھانے پینےوالے نام نہاد لیڈروں کو پاکستان کے کسی چوراہے پر الٹا لٹکا کر پھانسی دے دے ۔ یہی اس پاکستان کے سالمیت کی ضمانت ہے ۔ ورنہ اسی طرح یہ لو گ نسل درنسل ہم پر حکومت کرتے رہیں گے ۔ اور ہمارے سروں کے سودے کر کے ہمھیں دشمن کو ڈالروں میں بھیچتے رہیں گے ۔


...........

 

 

By: syed abubakar ali shah, sadat nazar swabi kpk on Apr, 11 2014

...................

عنقریب انشااللہ .اس ملک میں ایک ایسا انقلاب آنے والا ہے ...جیسا میں نے اپنی بارویں کتاب ..طوفان انقلاب ...کے ٹائٹل پر لکھا تھا .......

........

انقلاب تو آے گا آتش نمرود کو بجھا کے آے گا

.......

آنے سے پہلے تیرے اندر ہلچل مچا کے آے گا

..........................

اب تاج اچھالے نہیں جایں گے

.........................

اب تاج و تخت جلا کے آے گا

.........

جاوید اقبال چیمہ ..میلان...اطالیہ..

Tuesday, April 8, 2014

.............
لگتا ہے جمہوریت کے دن گنے جا چکے ہیں ..............

..........

فوج اور جمہوریت کے درمیان چند معاملات ایسے تھے .جن کو آرام سے تحمل سے .بردباری سے .عقل و دانش سے .حل کرنا ضروری تھا ...چند لکھ دیتا ہوں .باقی نہیں لکھ سکتا ...١...مشرف کا معاملہ تھا .جسے آرمی چیف سے ملاقات پر حل کیا جا سکتا تھا .صرف عتماد میں لینا تھا ...مگر ......٢....دوسرا معاملہ ١.٥ ملین ڈالر کا تھا .نمک کا حق ادا کرنا تھا .جس میں شریف برادران کے مشیر ناکام ہو گہے...وہ چیف کو اعتماد میں نہ لے سکے ..یا یہ کہہ لیں کہ چیف سے مذاکرات کرنے میں اپنا نقطۂ نظر بیان نہ کر سکے ..٣...تیسری بات انڈیا کی تھی ..پاکستان کی فوج اور عوام کبھی یہ نہیں چاہے گی .کہ پاکستان ہر معاملہ میں انڈیا کے مفاد کو آگے رکھے..مگر یہ حکومت یہی چاہتی ہے ..٤..دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات میں بھی فوج اور حکمران ایک سٹیج پر نہیں ہیں ..کیونکہ فوج کو معلوم ہے .کہ دہشت گردوں کو انڈیا فنڈنگ کرتا ہے ..٥..قیدی چھوڑنے پر بھی فوج کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ..٦..بجٹ میں فوج اضافہ چاہتی تھی ..مگر.......خیر کچھ اور معاملات تھے عالمی آجنڈہ وغیرہ ....وغیرہ ....سرحدوں پر ہونے والے وقیعات ....اصل مسلہ یہ تھا .کہ جمہوریت کے چیمپئن اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی طاقت کا سر چشمہ سمجھ بیٹھے تھے ..قوم سے جھوٹ بھی بولا جا رہا تھا کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں ..تیسری بات یہ تھی کہ جرنل کیانی کے دور کو دیکھا جا رہا تھا .مگر ہر دفعہ شریف برادران بھول جاتے ہیں .کہ ہر دفعہ ہر ڈرامہ ہٹ نہیں ہوتا ..کچھ ڈرامے فلاپ بھی ہو جاتے ہیں ...آخر کار جمہوریت کے چیمپئن کو خود ہی اپنے کپڑے پھاڑ کر رونا پڑا جان بوجھ کر ..کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ...جس طرح ایک کنجری کسی شریف آدمی کے ساتھ رنگ رلیاں منانا چاہتی تھی .مگر وہ شریف آدمی بیچارہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت بچانا چاہتا تھا اور وہ کچھ کرنے کو تیار نہ تھا جو کنجری چاہتی تھی .تو جب کنجری نے دیکھا کہ یہ تو کچھ نہیں کر رہا . تو اس نے شریف آدمی کو بدنام کرنے کے لئے شور مچا دیا ..تاکہ لوگوں کی ہمدردیاں وقتی طور پر حاصل کر لے ..یہ تھی پارلیمنٹ میں آج کی خواجہ صاحب کی جمہوریت کی طرف سے تقریر ....صرف لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کہانی .....گو کہ بھوت سی باتیں جزبات میں وہ سچ بھی بول گہے..مگر وہ باتیں اس وقت اچھی لگتی ہیں .کہ جب جمہوریت کے چیمپئن خود بھی پاک صاف ہوں .باکردار ہوں ..انصاف اور سچائی کو اپناتے ہوں ...جن جمہوریت کے چیمپئن کی کوئی کارکردگی ہی نہ ہو ..سواۓ کرپشن کے ..وہ کسی اور ادارے کو کیا نکیل ڈالیں گے .....اب جب کہ جمہوریت کی بلی تھیلے سے نکلی ہے تو شور تو مچے گا ..اور ہم جیسوں کو تو مزہ آے گا ..جو ان جمہوریت کے کرپٹ چیمپئن سے پہلے ہی نالاں ہیں ...کیونکہ یہ ٦٥ سالوں سے ملک کو کوئی نظام نہیں دے سکے ...اللہ کرے فوج آے اور اب کی بار ان جمہوریت کے سب چیمپئن کو لٹکا دے ....آمین ..ثم آمین ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٩٣٠٣٣٧٣٣٣٩ ....
....................
پارلیمنٹ نظام کو کیوں تبدیل نہیں کرتی ..............

.....

آخر کیا وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں کوئی بھی پارٹی نظام کی تبدیلی کے لئے کوئی بات نہیں کرتی .کوئی شور نہیں مچاتی ..کوئی پریشان نہیں ہوتی ..صرف ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کی جنگ .اور مراعات کی جنگ تو لڑتا ہے ..مگر نظام کی تبدیلی کی کوئی بات نہیں کرتا .بلیو پاسپورٹ کی بات ہوتی ہے .،..کروڑوں کے فنڈ کی بات ہوتی ہے ..پارلیمنٹ کا ہر ممبر اپنے مفادات کو حاصل کرنے کے لئے وزیر اعظم سے ملنے کے لئے پریشان ہوتا ہے .مگر نظام کی تبدیلی پر سب خاموش ..کبھی سوچا ہے اس کی وجہ کیا ہے ..جبکہ عوام عوام کا درد ہر ایک کے پیٹ میں ہچکولے کھاتا ہے ..سب پارٹیوں کے منشور دیکھو ..آسمان سے ستارے اتار کر لانے کی بات کرتے ہیں ..باہر تبدیلی کے نعرے لگاتے ہیں .پارلیمنٹ کے اندر مگر مچھ کے آنسو بھی نہیں بہاتے..ہر کام کمیٹیوں کے سپرد ..اور سمجھو مردہ قبر میں چلا گا .ہزاروں من مٹی کے نیچے ..یہ ہے پارلیمنٹ اور کمیٹیوں کی کارکردگی ...کدھر گا جمشید دستی کا شور ..کمیٹیوں کے سپرد ....سابقہ حکومت میں افضل چن صاحب کی کمیٹی نے اربوں کی کرپشن سے پردہ اٹھایا ..مزید کمیٹیوں نے قبر میں دفن کر دیا . میڈیا بھی اب تک کھربوں کے گھپلے .اور کہانیاں دے چکا ہے .مگر کیا ہوا ..یہ ہے پارلیمنٹ کا کمال ..یہ مقدس ادارہ نہیں .ایک بغرتوں کا بغیرتی کرنے کا ادارہ ہے .پارلیمنٹ عوام کے حقوق غصب کرنے والا ادارہ ہے ..یہ بیوروکریسی کا بھی کمال ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو اتنا کاغذوں میں الجھا دیتے ہیں ..کہ ایک کمیٹی کے اوپر پھر ایک کمیٹی بنانی پڑتی ہے ..تاکہ وقت گزرتا جاۓ اور شور پیشاب کی جاگ کی طرح بیٹھتا جاۓ ..اسی طرح پارلیمنٹ کی بیحرمتی میں ٦٥ سال گزر چکے ہیں ..اور آج بھی پرویز رشید جیسے لوگ عوام کے منہ پر تھپڑ مار رہے ہیں یہ کہ کر کہ عوام کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے ...آخر کیا وجہ ہے کہ فوجی حکومت اقتدار نچلی سطح تھوڑا بھوت منتقل کرتی ہے جبکہ جمہوریت ڈرتی ہے ..زرداری کا پانچ سالہ دور بھی گیا اور شریف برادران بھی بانسری بجا رہے ہیں ...کیا یہ صرف کارپوریشن کو آزاد نہیں کر سکتے ..باقی نظام تبدیل کرنا تو دور کی بات ہے ..یہ حکمران اتنا بےغیرت ہے کہ ٦٥ سالوں میں کارپوریشن کا ایک نظام نہیں دے سکا ..یہ ہر اختیار ہر ٹیلنٹ پر اپنا قبضہ چاہتے ہیں ..نچلی سطح پر اتنا پاکستانی قوم کے بچے بچے میں ٹیلنٹ ہے کہ وہ دنیا کو حیران کر سکتے ہیں ..مگر افسوس کہ میرا حکمران اتنا بےغیرت ہے کہ وہ ہر ٹیلنٹ کا گلا گھونٹ رہا ہے ..صرف اپنی موناپلی اپنی کرپشن اور اپنے اقتدار کی خاطر ...میں آپ کو اگلے کالم میں کل کارپوریشن کے نظام کا ایک نقشہ ایک جھلک دکھاؤں گا ...کہ کس طرح کا نظام ہونا چاہئے ....کل انشااللہ ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ .....
...................
عوام کو پارلیمنٹ پر اعتماد نہیں ہے ...............

..........

میں پرویز رشید کے بیان سے متفق نہیں ..کہ عوام کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے ...کیونکہ پارلیمنٹ اپنی افادیت کھو چکی ہے .کونسا پارلیمنٹ نے اب تک کارنامہ انجام دیا ہے .جس سے عوام کا اعتماد بھال ہو ...کونسا قانون غریب کے حق میں آیا ہے .کونسا نظام تبدیل کیا گیا ہے .کونسے نئی منصوبہ بندی کی گئی ہے ..کونسا نچلی سطح پر انتقال منتقل کیا گیا ہے .کونسے مزید صوبے بناۓ گہے ہیں .کونسا اختیارات کی بندر بانٹ پر نظام تبدیل کیا گیا ہے ..امن .انصاف .تعلیم .صحت .بجلی .گیس .بیروزگاری ..مہنگائی..کے لئے کیا اقدامات کئے گہے ہیں ..کس کارکردگی پر قوم سے یہ سفید جھوٹ بولا جا رہا ہے .کہ قوم کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے .پرویز رشید صاحب ٹھنڈے بہادر کو معلوم ہی نہیں ..کہ عوام تو خدا کی طرف دیکھ رہی ہے ..کسی انقلاب کی دعا مانگ رہی ہے ..آپ لوگوں کی کرپشن .بد عنوانی کا احتساب چاہتی ہے ..اور چند میرے جیسے پاگل حکمران کو پھانسی پر لٹکا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ..اور آپ پھر ہماری عزت نفس کو مجروح کر رہے ہیں ..ہم کو چیلنج کر رہے ہیں .ہم کو دھوکہ دے رہے ہیں .فراڈ کر رہے ہیں .عوام کے ساتھ یہ که کر منافقت کر رہے ہیں کہ عوام کو آپ پر اعتماد ہے .بہتر ہو گا کہ آپ قوم سے معافی مانگیں ...شرم .غیرت تو تم میں ہے ہی نہیں کہ تم عزت سے کرسی کو چھوڑ دو ..کونسا تیر مارا ہے تمہاری حکومت نے جس کی بنا پر تم کو اتنا جھوٹ عوام سے بولنا پڑ گیا .یہ ہر حکمران کی بغیرتی ہوتی ہے کہ وہ ذاتی مفاد کو بھی عوام کے مفاد سے جان بوجھ کر نتھی کر دیتے ہیں ..بلکہ پرویز رشید جیسے ٹھنڈے بہادر حکمران تو باتھ میں پاخانہ بھی عوامی مفاد میں کرتے ہیں بیچارے ......ان کو عوام کے غم و فکر میں نیند بھی نہیں آتی ....میرے حکمران نہ کر میرے ساتھ یہ مداری اور مذاق ..نہ دے فریب مجھ کو .نہ میری غیرت کو جگا.....میں اپنے جنجال میں پڑا ہوا ہوں .پڑا رہنے دے .سونے دے نہ جگا ..جاگ گیا تو تیرے لئے مسایل پیدا کر دوں گا ...شیخ رشید کو جہاز سے اس لئے اتار دیا گا .کہ حکمران تجھ کو ڈر تھا کہ شیخ رشید . قادری صاحب سے مل کر انقلاب کی بات کرے گا ...پرویز رشید تیرے جیسے حکمران انقلاب کے آگے بند نہیں باندھ سکتے ..انقلاب اگر عمران خان .شیخ رشید .جماعت اسلامی .قادری صاحب .مل کر بھی نہ لا سکے ..تو تیار ہو جاؤ کرپٹ حکمرانوں اس دفعہ آنے والا مارشل لا عوام کی امیدوں پر پورا اترے گا .انشااللہ .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ .....

Monday, April 7, 2014

..............
عمر اکمل اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے ....................

.......

عمر اکمل جس قسم کی حرکتیں کر رہا ہے ..اس طرح کوئی سلجھے ہوۓ اور خاندانی لوگ نہیں کرتے ..اس طرح کی حرکتیں یا نو دولتی قسم کی اولاد یا بگڑی ہوئی وڈیروں . جاگیرداروں یا بیوروکریسی یا حکمرانوں یا سیاسدانوں کی اولاد کرتی ہے ..یا یہ چھچھور پن شودے لوگ کرتے ہیں .جو کن ٹٹوں بدمعاشوں کی اولاد ہوتے ہیں ..مہذب قوموں کے مہذب لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے ..اگر عمر اکمل کو ہماری طرح یورپ میں مزدوری کرنی پڑتی ..تو ان کی ساری بدمعاشی پہلے ہی دن ختم ہو جاتی ..جہاں وہ لوگ دوسری تیسری بات نہیں سنتے ..نہ کسی کی. بک بک سنتے ہیں ...بس سب سے پہلے کاغذات مانگتے ہیں ..اخلاق سے بات کرتے ہیں اور اخلاق اور نرمی سے جواب مانگتے ہیں ..چاہے کوئی ملک کا ہیرو ہو .ماڈل ہو . ماڈلا ہو .پاپ سنگر ہو .یا فیشن شو کا دلدادہ ..کنجری ہو عزت دار ہو .جوان ہو ہو ..جج ہو یا وکیل ..بیوروکریٹ ہو یا جرنیل ...جب عام سپاہی نے کھڑا کرنا ہے .روکنا ہے .تو اس کو کاغذات چیک کروانے ہوں گے .ہر دفتر میں اپنی باری پر کھڑکی کی طرف جانا ہو گا ..ورنہ وہ غیر مہذب اور جاہل یا پاگل تصور کرتے ہیں ..پھر اسے ایک ہی فقرے سے مٹی پلید کر دیتے ہیں .کہ اپنی باری کا انتظار کر ..یا چلا جا ...وہاں ساری جلدی اور پھرتیاں نکل جاتی ہیں ..اونچی آواز کا استمال اور شور پسند نہیں کرتے ..فٹ بال کا ہیرو بھی کوئی نمبر کے بغیر کھڑکی کے نزدیک نہیں آ سکتا ..یہ عمر اکمل اپنے آپ کو کہاں فٹ کرتا ہے ..نہ یہ خاندان کوئی آسمان سے سپیشل نازل ہوا ہے اور نہ یہ قوم کا ہیرو ہے ..دس میچوں میں سے ایک میں کھیل لیا اور باقی میں سٹے بازی سے مال کما لیا..یہ ہے ان کی اوقات ..یہ خاندان سٹے بازی میں اکثر شامل رہتا ہے ..خاص کر اس کے بھائی کے سسرال ....نہ اس میں اخلاق ہے نہ تمیز ..اگر اتنی گرم جوشی تھی ..تو کرکٹ کے میدان میں نکالتے ..جہاں اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ مل کر پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ..ہارنا یا جتنا معنی نہیں رکھتا ..عزت اور وقار سے جیت اور ہار معنی رکھتی ہے ..ہم بنگلہ دیش سے ذلیل و رسوا ہی اسی لئے ہوۓ ہیں ..کہ ان دونوں میں سے ایک کو بھی ٹیم میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا ..پھر ایسے بد تمیز انسان کو ٹیم سے نکال کر باہر کرنا ہو گا ..جو بڑی گاڑی کے غرور میں نہ پولیس وارڈن کی عزت کرتا ہے اور نہ سیکورٹی گارڈ کی ...اگر اتنا ہی غصہ تھا ..تو نجم سیٹھی پر نکالتے .جس نے آرڈر دیا ہوا ہے .سیکورٹی گارڈ کا کیا قصور ..وہ تو حکم کا پابند ہے ..عمر اکمل اور سعید اجمل کے اخلاق میں زمین آسمان فرق خبر میں نمایاں دیکھ لو ..حالانکہ میرے نزدیک اجمل جیسے لوگ قوم کے ہیرو ہیں ..نجم سیٹھی میں بھی اگر غیرت یا اخلاق ہے تو اس بات کا نوٹس لینا ہو گا ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩
........................
غریبوں کی جمع پونجی لٹ گئی..................

........

حیرانگی ہے کہ یہ کیسا ملک ہے ..جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس سے بھی معاملہ آگے نکل چکا ہے ..نہ کوئی عدالت .نہ حکمران .نہ کوئی ادارہ .نہ کوئی قانون کی حکمرانی .نہ سیدھا نہ الٹا راستہ ...جب بھی بجلی گرتی ہے بیچارے غریب پر .پستا بھی غریب .ذلیل و خار بھی غریب اور در در کے دھکے بھی غریب کھاتا..کوئی آہو زاری سننے والا نہیں ..حکمران مذاکرات مذاکرات کی بنسری بجا رہا ہے ..بس ...کوئی ملاوٹ کرے .کوئی ذخیرہ اندوزی کرے .کوئی کرپشن کرے .کوئی مرچوں میں اینٹوں کا رنگ ملاۓ.کوئی کھانے والے تیل میں .اچار میں . دھودھ میں .جہاں مرضی گٹر کے پانی کو استمعال کرے .کوئی پوچھنے والا نہیں .کوئی قاعد کے مزار پر .کوئی بنگلوں پر .کوئی سڑکوں پر .کوئی محلوں میں .کوئی پارلیمنٹ کے ہوسٹل میں مجرا کرے اور کرواۓ ..کوئی پوچھنے والا نہیں ...بڑے بڑے بنگلوں میں دہشت گرد اپنے کمنکیشن نظام چلایں..کوئی پوچھنے والا نہیں ..روزانہ ہر محلے ہر شہر میں ڈاکے اور قتل و غارت گری ہو .کوئی پوچھنے والا نہیں ..حکمران کہتا ہے .یہ سب کچھ ورثے میں ملا ہے ..آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا .یہ ٦٥ سالوں سے سنتے آ رہے ہیں ..آج مسلم کمر شل بینک کے لاکر ڈاکو لے گہے..کوئی ذمہ دار نہیں .آخر کیوں ..کس کی ذمہ داری ہے .کون حکمران ہے .کس کی غلطی ہے ..نہ بینک کا مالک اور نہ حکمران .....کیونکہ حکمران کی ذمہ داری صرف مال بنانے ..عالمی سودوں میں کمیشن لینا .دولت کو باہر کے ملکوں میں منتقل کرنا اور باری باری اقتدار کے مزے لینا ...بس.....کسی کی زمین ..پلاٹ .گھر پر کوئی قبضہ کر لے .کسی کو ڈاکو لوٹ کر لے جاۓ .کوئی قتل ہو جاۓ .سب کو پوری قوم کو چوروں .لٹیروں .درندوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ..بس عوام بجلی .گیس .استمال کریں یا نہ کریں مگر حکمران کو بل ادا کرتے رہیں ...حکمران کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی حکمرانی میں کسی کی عزت محفوظ ہے یا نہیں ..حکمران کو خدا کا خوف بھی نہیں ہے ..اگر خوف ہے تو اپنی فوج کا یا امریکا کا ..اگر یہ دونوں خوش ہیں ..تو پھر اس فرعون کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..یہ ہے میرے حکمران کا اصل چہرہ ......صرف اس ملک کا ایک ہی حل ہے وہ ہے انقلاب ....دیکھنا یہ ہے انقلاب کب اور کون لاتا ہے .امریکا یا اپنی فوج ....اگر تو آنے والے انقلاب سے ان حکمرانوں کا احتساب ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے ..اور اگر انقلاب مشرف اور ضیاء جیسا آتا ہے ..تو پھر پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ......٠٠٣٩..٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..