Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Tuesday, April 22, 2014

............
نواز شریف کو جیو .جنگ گروپ کی دوستی مہنگی پڑے گی ......

.........

غور کریں ذرا انداز حکمرانی پر ..انداز خلافت پر ..انداز فرعونیت پر ..کہاں دوستی نباہی جا رہی ہے .کہاں کیا کاروبار کیا جا رہا ہے .جیو چنیل پر حکمران خود دلچسپی لے رہا اور شامل ہے فوج کے مورال کو نقصان پنچانے کے لئے ..واہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ ..... شریف برادران نے ماضی سے کوئی سبق تو سیکھا..البتہ شاہی محلوں میں رہ کر شہنشاہ بننے اور خلافت قایم کرنے کا طریقہ سیکھ کر آے ہیں ..مگر شاید یہ حسرت پوری نہ ہو ..جس طرح ہیر کی حسرت تھی ..کہ...مر جان سارے کتے ...تے گلیاں ہو جان سنجیاں .جنہاں وچ رانجھا یار پھرے ...شریف برادران کے مشیروں نے اس دفعہ نیا سبق پڑھایا ہے .کہ اپنے کاروباری دوست کے چنیل جیو کو جنگ گروپ کو استمعال کر کے فوج کو اپنا فرمابردار بنایا جاۓ ..اور پاکستان کو انڈیا کی کالونی بنا دیا جاۓ اور یہ کالونی خرید کر ہمیشہ کے لئے پاکستان کو اپنی جاگیر بنا لیا جاۓ .تاکہ الیکشن کے چکروں سے بھی آزادی مل جاۓ ..اور نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ...مگر جس طرح پہلے جہاز والا مشن ناکام ہوا تھا .اب کی بار یہ میڈیا چنیل والا مشن بھی بری طرح ناکام ہو گا ..اور شاید اس دفعہ چند لوگوں کی ہمدردیاں بھی نہ مل سکیں ..کیونکہ جو ڈرامہ حامد میر کے ساتھ ہوا ..وہ بھی کھل کر سامنے آنے والا ہے .کہ اس میں خود جیو کے مالکان شاید شامل ہوں ..یہ جب عامر لیاقت سے تفتیش ہو گی تو منظر نامہ سامنے آ جاۓ گا ..کہ کس کے کہنے پر بڑی پھرتی سے ثبوت ختم کئے گہے اور کیوں ...ایک بات تو کھل کر سامنے آ چکی ہے ..کہ حکومت خود پارٹی مخالف بن کر سامنے آ چکی ہے ..ورنہ اب تک حکمران خود جیو .جنگ گروپ کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروا چکی ہوتی ..مگر یہاں تو الٹ ہوا ہے .نہ چنیل کو بند کیا گیا .نہ وارننگ دی گئی..بلکہ بقول پرویز رشید کہ ہم جیو کے ساتھ کھڑے ہیں ..کیا بات ہے کہ نواز شریف کی اتنی جرات کہ وہ اپنے ٹولے کے ساتھ ملکی سلامتی کی دھجیاں اڑانے نکل کھڑا ہے ..یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ میاں صاحب کے مفادات جیو سے وابستہ ہیں ..ورنہ اب تک خواجہ خالد کے قتل کا پرچہ حامد میر پر درج ہو چکا ہوتا ..یہ ہے حکمران اور اس کا انصاف ...یہ ہے اس ملک کی جمہوریت کا اور حکمران کا غلیظ چہرہ ...جہاں جنرل ظہیر اسلام جیسی شخصیت کو جیو چنیل پر اشتہاری ملزم بنا کر پیش کیا جاۓ .وہاں عام آدمی کا کیا حشر ہو گا ...میاں صاحب حامد میر اور میر شکیل رحمان جیسے غداروں کو ہیرو بنا کر پیش نہ کرو ..اس ملک میں ملالا ..ریمنڈ ڈیوس .حسین حقانی .جیسے کافی ہیرو موجود ہیں ..میر برادری کی بھی تاریخ بھری پڑی ہے ...یہ مٹی سب کے کارناموں سے لہو لہان اور زرخیز ہے ..یہاں ہیرو غدار اور غدار ہیرو کہلاتے ہیں ..اس لئے میاں صاحب یہ انڈیا دشمن والا کھیل پاکستان کے ساتھ نہ کھیلیں ..پاکستان کو کچھ نہیں ہو گا .مگر آپکی مٹی پھر پلید ہو جاۓ گی اور اب کی بار شاید ..........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Monday, April 21, 2014

.....................
عام مارشل لا نہیں انقلابی مارشل لا چاہئے ...............

.......

اس ملک خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بد قسمتی سے جتنے بھی مارشل لا آج تک لگے . فوجی حکومت آئی ...کسی نے بھی کرپشن کا نہ خاتمہ کیا اور نہ کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کیا .اور نہ کوئی مستقل نظام قوم کو دیا اور نہ وڈیرہ شاہی کلچر کو اور نہ جگیردرانہ بد معاشی اور سوچ کو ختم کیا ..قصہ مختصر یہ ..کہ کوئی بھی مارشل لاء اب تک ملک میں نہ تو انقلاب لا سکا اور نہ عوامی امنگوں پر پورا اتر سکا ..اس کی بھوت ساری وجوہات ہیں ..ایک تو یہ اقتدار کو طول دینے کے لئے کچھ پرانے کرپٹ سیاستدانوں کو ساتھ ملا کر حکومت کی گئی..اور کچھ ایسے فیصلے کئے گہے.جن کے دور رس نتایج حاصل نہ ہو سکے ...عوامی مفاد اور قومی مفاد میں کچھ فیصلے جو ضروری تھے وہ بھی منظر پر نہ آ سکے ..مثال کے طور پر کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے .....جہاں تک قوم کی ضرورت تھی ایک انقلاب کی جو اس فرسودہ نظام کو تبدیل کر سکے ..تو انقلاب کے لئے کیونکہ کوئی لیڈر تیار نہیں ہیں ..کیونکہ سب اپنی اپنی باری پر لوٹنے کو تیار ہیں ....اور جمہوریت جمہوریت کا دن رات راگ الاپ رہے ہیں ..جبکہ پاکستان کی اب تک کی تاریخ میں جمہوریت بھی بری طرح ناکام ثابت ہو چکی ہے ..کیونکہ جمہوریت بھی ملک کو کوئی نظام دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے ..بلکہ جمہوریت کا صرف نام استمعال کیا جاتا ہے ..اندر سے ایک جمہوری ڈکٹیٹر اور عام ڈکٹیٹر میں کوئی فرق نہیں ہے ...اس لئے وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کہ ایک انقلابی مارشل لا اس ملک میں آے..جو سب اداروں کا بلا امتیاز احتساب کرے ..خاص کر جیو جیسے میڈیا چنیل اور غداروں کا ...اور ملک میں مستقل بنیادوں پر ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے ..جو نچلی سطح.محلہ کی سطح سے انصاف اور احتساب کا سلسلہ شروح کر سکے ..جس کو ہر آنے والا تبدیل نہ کر سکے .بلکہ بہتری کے لئے مناسب ترامیم کی جا سکیں ..جبکہ بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہ ہو ..اور میریٹ .روزگار .انصاف .احتساب ہر کارپوریشن کے ذمہ ہو ...چھوٹے چھوٹے صوبے بناۓ جایں ...ہر آدمی یورپ کی طرح ٹیکس دے اور پنشن کا حقدار ٹھرے .....یہ کام کوئی اتنا مشکل نہیں ہے ..اگر بھٹو صاحب ایک تقرر میں انڈسٹری کو قومی ملقیت میں لے سکتے تھے تو وہ جاگیریں بھی ضبط کر سکتے تھے .....ملک کو نظام دینا پارلیمنٹ میں وزیر اعظم اپنی ایک تقرر سے دے سکتے ہیں ..مگر ملکی مفاد میں فیصلے جرات .دلیری اور حب ال وطنی کا تقاضہ کرتے ہیں ..یہ کام اب جمہوریت اور کرپٹ حکمران کے بس کی بات نہیں ہے ..اب حالات جس طرف کو جا رہے ہیں .یہ کام اب انقلابی مارشل لا ہی آخر کار کرے گا ..کیونکہ پاکستان اب اپنی بقا کی جنگ لڑے گا ..اور انشااللہ سرخرو ہو گا ...اور پاکستان میں انڈیا کے غدار اب لٹکاۓ جایں گے اور ذلیل و رسوا بھی ہوں گے ..اور ان کی تمام جائداد جو غلط.. حرام کی کمائی سے بنی ہوئی ہے ..وہ ضبط کرنے والا ایک انقلابی مارشل آے گا ..انشااللہ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩...
.............................
انڈیا ..جنگ جیو گروپ اور پاکستانی حکمران .........

............

کہاں ہے ہمارا قومی مفاد ..کہاں گئی قومی سلامتی ...کہاں گئی ہمارے قومی ادارے کی عزت اور وقار ...کافی عرصے سے عالمی طاقتیں ہماری فوج کی طاقت اور جذبے اور ہنر مندی سے خوف کھاتی آ رہی ہیں ..اور وہ ہماری فوج کو کمزور کرنے کے لئے ہر روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں .بہانے ڈھونڈتے اور ڈرامے رچاتے رہتے ہیں ..کیونکہ دنیا کو علم ہے کہ پاکستانی سیاستدان کرپٹ ہے اور پاکستان کی فوج ایک مضبوط ادارہ ہے ..لہٰذہ اگر پاکستان کو توڑنا ہے .اس کے ٹکرے ٹکرے کرنے ہیں ..یا اس کو کمزور کرنا ہے .یا اس کو صومالیہ بنانا ہے ..تو فوج کا مورال ختم کرنا ہو گا ..اس کے لئے عالمی سازش نے انڈیا کو یہ ذمہ داری دے دی جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے ...پوری دنیا جانتی ہے کہ انڈیا سارے پاکستان کے اندر دہشت گردی کر رہا ہے ..مگر کوئی بھی انڈیا کے خلاف ایکشن نہیں لے رہا .کیونکہ انڈیا نے پاکستان کے میڈیا چینل جیو اور جنگ گروپ کو اور حکمران اور کرپٹ سیاستدانوں اور کچھ کاروباری گروپ کو خریدا ہوا ہے .جو انڈیا کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں اور ملک دشمنی کا کردار ادا کر رہے ہیں ..جس طرح حامد میر کا ڈرامہ کھیلا گیا ..اب یہ غدار پوری قوم کے سامنے کھل کر آ چکے ہیں ..آپ غور کریں .کہ اس ڈرامہ کے بعد جو انڈیا .جیو .اور حکمران کی طرف سے رد عمل آیا ..وہ ایک جیسا تھا ..تینوں میں کسی نے بھی پاکستانی فوج کا دفاح نہیں کیا ..حکومت کا کیا کام ہے .کہ وہ چینل پر فوج کے خلاف پراپیگنڈے کو بند کرواتی یا ہوا دیتی ...حکمران نے غداری کر کے اچھالا اور فوج کی بدنامی کا کوئی راستہ بند نہیں کیا .بلکہ الٹا غلط کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا اسی طرح جس طرح انڈیا چاہتا تھا ...اب غدار سامنے ہیں فوج کو ایکشن لینا چاہئے .ورنہ اگر فوج خاموش رہتی ہے تو پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جاۓ گی ..پہلے ہی ہمارا حکمران کچھ ضرورت سے زیادہ انڈیا کے ساتھ پینگیں اڑا رہا ہے ...اب بھی اگر فوج خاموش رہتی ہے ..تو پھر پاکستان کے دن گنے جا چکے ہیں . ہر.عالمی سازش کامیاب ہو رہی ہے ..شریف برادران نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا..اب احتساب ہو جانا چاہئے . دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ....یہی سب سے بڑی غلطی فوج سے ہوئی ..کہ کسی مارشل لا نے چوروں .لٹیروں کا احتساب نہیں کیا ..فوج کو بدنام کرنے میں سب فوجی ڈکٹیٹروں کا ہاتھ ہے ..آج جو کچھ فوج کے ساتھ ہو رہا یہ یہ کرپٹ سیاستدانوں کی اولاد خود فوجیوں کی پیداوار ہے ..لگتا ہے انڈیا .جیو اور حکمران ایک ہی اجنڈے پر کام کر رہے ہیں ..جیو کو بند کرنے میں کیا حکمران کی مصلحت یا مجبوری ہے ..کیونکہ جیو کے مالکان سے شریف برادران کے ذاتی مراسم ہیں ..جیو کی ساری کرپشن اگر حکمران کو نظر نہیں آتی ..تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے .یا حکمران بےغیرت اور غدار ہے ..کیا حکومت انڈیا کے پراپیگنڈے کا جواب نہیں دے سکتی تھی ..اگر حکومت کو پھر ذلیل و رسوا ہونے کا شوق ہے تو میں فوج سے درخوست کرتا ہوں کہ وہ اس کو اس کا مقام دکھا ہی دے ..یہ ووہی حامد میر ہے جس کو خواجہ صاحب قتل کے مقدمہ میں فوج نے مدد کی تھی . ورنہ یہ جیل میں ہوتا ..پھر یہی حامد میر تھا ..جس کو جیو کے مالک نے دبئی بلا کر ملالا کے اوپر زیادہ سے زیادہ پروگرام کرنے کا کہا تھا ..یہ ووہی ہے جس کے والد کو انڈیا نے نوازہ تھا ...اب یہ ہیرو بنا کر انڈیا پیش کر رہا ہے ..یہی اس قوم کی بد قسمتی ہے ..کہ ہماری بیوروکریسی کی شہشھنئٹ نے ہم کو برباد کیا اور ہر غدار کو ہم نے پاکستانی جھنڈے میں لپیٹ کر دفنایا ...اب اگر اس ڈرامے میں جنرل ظہیر صاحب کو مخاطب کیا جا رہا ہے ..تو میں تمام ڈاکے اور قتل و غارت گری پر شہباز شریف اور نواز شریف پر رپورٹ درج کروانے کی درخواست کروں گا ..پھر دیکھیں گے کہ بھٹو کی طرح کتنے پھانسی لگتے ہیں ..جبکہ بھٹو کو پھانسی لگوانے والے بھی سیاستدان تھے ..جو جج مولوی مشتاق کو ساتھ لے کر گھوما کرتے تھے ..بدنام فوج کو کیا گیا ...اگر آج فوج حرکت میں نہ آئی تو سمجھ لو کہ ہمارے تمام ادارے تباہ ہو چکے ہیں ..انڈیا جب چاہے .جہاں چاہے پاکستان کے اندر ہر کھیل کھیلے ..کیونکہ یہاں حکمران اور کئی جیو جیسے چنیل اور غدار دندناتے پھر رہے ہیں ....اس ملک کا اب خدا ہی حافظ ہے ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩...

Sunday, April 20, 2014

....................
میاں نواز شریف ..فوج اور جنگ.جیو گروپ ............

........

شریف برادران کے ذاتی مراسم ہیں .جیو .اور جنگ گروپ کے ساتھ ..جو کچھ بھی یہ گروپ کر رہا ہے .یہ شریف برادران کے اشارے پر کر رہا ہے ...فوج کے خلاف شریف برادران کی نفرت اور انڈیا سے دوستی یہ عالمی آجنڈہ ہے..اور یہ کام نواز شریف آہستہ آہستہ کر رہے ہیں ...میرے خیال میں نواز شریف نہ تو ماضی سے سبق سیکھا اور نہ زرداری صاحب سے کوئی سبق سیکھا..صرف اتنا سیکھا ہے کہ کرپشن کس طرح کرنی ہے مزید اور کرپٹ سیاسدانوں کو کس طرح بچا کر ان کی ہمدردیاں اپنے اقتدار کے لئے حاصل کرنی ہیں ....ہر دفعہ نواز شریف خلافت کے چکر میں گھر جاتے ہیں اور بدنام ملک کو اور فوج کو کرتے ہیں اور ملک کا مزید ستیا ناس بھی شریف برادران کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے ..پاکستان میں فوجی حکومت کبھی اپنی مرضی یا خوشی سے نہیں آتی ..ہمیشہ کرپٹ حکمرانوں کی نا اہلی اور غلط رویہ کی وجہ سے فوج آتی ہے ..سارے جواز کرپٹ حکمران پیدہ کرتے ہیں ..ورنہ انڈیا اور طالبان کو فوج کے خلاف بولنے کی کبھی جرآت نہ ہوتی ...یہ جو کچھ جیو گروپ اور انڈیا کر رہا ہے .اگر میں حکمران ہوتا ..تو جنگ اور جیو کو بند کر دیتا اور انڈیا سے اپنے تعلقات ختم کر دیتا ....مگر نواز شریف بلکل الٹ کر رہا ہے ...اگر نواز شریف کا یہی کردار رہا تو فوج کو مداخلت کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ..فوج کو ان بےغیرت .کرپٹ .نا اہل حکمرانوں اور نام نہاد جمہوریت کا خاتمہ کر دینا چاہئے ....میں تسلیم کرتا ہوں کہ مشرف نے فوج کو بدنام بھی کیا اور کمزور بھی کیا ..کیونکہ چند غلطیاں مشرف نے کیں ...جس کی وجہ سے فوج ہچکچاہٹ کا شکار ہے ..ورنہ فوج اتنی دیر برداشت نہ کرتی ..پہلی غلطی مشرف سے یہ ہوئی کہ ان کرپٹ حکمرانوں کو چھوڑ دیا .اور کچھ کے ساتھ حکومت کا سودہ کر لیا .اور امریکا کو اڈے دے کر کسی کی جنگ کو اپنی بنا لیا اور دہشت گردی کی آگ میں قوم کو پھینک دیا ..اگر یہ چند غلطیاں مشرف نہ کرتا اور ملک کا نظام تبدیل کر دیتا اور کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے بنا دیتا ..تو آج ملک کا ہیرو ہوتا ...اور ملک کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہوتا ...مگر پھر بھی آج کی فوج بھی سب کچھ جانتی ہے ..اسی لئے اب کی بار انقلاب آے گا .اور نظام تبدیل ہو گا .کچھ بھاگ جایں گے کچھ لٹکاۓ جایں گے ..انشااللہ ......گو کہ میں بار ہا اپنی کتابوں میں لکھ چکا ہوں ....ملاحضہ فرما لیں ...................

........................

بے حس ہو گئی قوم احساس زیاں جاتا رہا

.......................

نہ رہا وہ جوش و ولولہ .نعرہ نہاں جاتا رہا

.......................

اب کس سے کیا وابستہ امید کرو گے

.....................

دھڑکتا تھا جس سے خلوص وہ دل ناتواں جاتا رہا

......................

تنظیم .اتحاد .یکجہتی .لکھنے کو تین نقطے تھے

.....................

ایک قول قاعد تھا وہ قول پاسباں جاتا رہا

....................

دور مادیت نے جھکڑا انسان کو کچھ ایسا

....................

آگ شعور بھی بھج گئی وہ دھواں جاتا رہا

...................

بنتی رہی شکستہ ساز میری صدا بے نوائی میرا تماشا

...................

نہ ہمیں ملی منزل اور رایگان خون جواں جاتا رہا

...................

نہ شعور انقلاب نہ نور جمہوریت ہے کہیں

...................

وہ جالب و فیض و شورش کا جنگ میداں جاتا رہا

..................

با ضمیر پہاڑوں کا جہاں وہ غم ناگہاں جاتا رہا

...................

جاوید حکمران سے میرا یقین و منزل گماں جاتا رہا

.........

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩

Saturday, April 19, 2014

.....................
خادم اعلی کی ایک اور پھلچڑی اور مکارانہ کردار ........

......

یوں تو خادم اعلی کی قوم کے ساتھ شوخیوں...جھوٹ .فریب .مکاری کی کافی داستانیں قوم کے سامنے ہیں ..مگر آج انہوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے .نیا نویلا قوم کے سامنے بیان داغا ہے ..کہ دہشت گردی کا مسلہ ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا ..تو جناب سے یہ نہیں پوچھا کسی نے .کہ آپ کو حکمرانی کرتے ہووے اقتدار کے مزے اڑاتے ہووے کتنے دن ہو چکے ہیں ..آپ نے اب تک اور کونسا تیر مار لیا ..کونسا قلعہ فاتح کر لیا ..کونسا نظام تبدیل کر دیا .کونسا ملک میں انقلاب لا دیا .بجلی .گیس .بیروزگاری .مہنگائی . وغیرہ کا کونسا مسلہ کر دیا ..آپ وعدے تو قوم سے بڑی بڑی بھڑکیں مار کر کرتے ہیں .قوم سے جھوٹ بولتے تم کو شرم نہیں ..اگر تم میں ذرا بھی غیرت ہوتی ..تو ڈوب کر اگر نہ مرتے تو کم از کم اقتدار سے ہی علیحدہ ہو جاتے ...اور کسی اور کو موقعہ دے دیتے کہ وہ کوئی بہتر کارکردگی شاید دکھا دیتا ..مگر آپ جناب نہ تو قوم کے مسایل حل کرتے ہیں .نہ اقتدار سے الگ ہوتے ہیں ...نہ کرپشن .نہ بغیرتی نہ جھوٹ چھوڑتے ہیں ...اور نہ مکاری ....جہاں تمہاری اپنی ذات یا مفادات ہوتے ہیں . وہ کام تو بھوت جلد ہو جاتے ہیں ..مگر جہاں عوام کا کوئی عمل دخل ہوتا ہے ..وہاں آپ یا تو مذمت کر دیتے ہو .یا کمیٹیاں بٹھا دیتے ہو یا جھوٹ بول کر آگ پر پانی ڈالنے کا وعدہ کر دیتے ہو ...آخر تم کیا چاہتے ہو .کتنی صدیوں کی حکمرانی چاہتے ہو .نہ تم کو آخرت یاد ہے اور نہ قبر ....جب ١٨ اور ١٩ ترامیم کی ضرورت ہوتی ہے ..وہاں تو کوئی دیر نہیں ہوتی ..کیونکہ وہاں تمہارے اپنے مفادات ہوتے ہیں ...مگر نہ تو چھوٹے چھوٹے صوبے بن سکے .نہ نچلی سطح پر اقتدار منتقل ہو سکا . نہ قانون کی حکمرانی ہو سکی .نہ عوام کو انصاف مل سکا ..مگر تمہارے بیان ہمارا خون جلانے کے لئے ہر روز آ جاتے ہیں .....آخر کب تک .......ایک آواز ہے جو تیرے در و دیوار تک پنچے

................

ایک سجدہ ہے جو تیرے عتبار تک پنچے

............................................................................................................

مجھے نہیں شکوہ نہیں گلہ تم سے

.......

مجھے حوصلہ ہی نہیں ملا تم سے

.....

شمع انقلاب کیا دھوم دھام سے جلتی یہاں

.....

نظام کا اک دیا ہی نہیں جلا تم سے

................................................................................................................

تیری جیل اور اپنی موت کی غار میں ہوں

............

میں مقید تیرے شہر کے در و دیوار میں ہوں

...........

اٹھا تو ہلچل مچا دوں گا تیرے اندر

...........

اب وقت شعور بیدار میں ہوں

...........

تیرے شام و سحر کا لے لوں گا حساب

..........

بدلے گا نظم اس صبح کے انتظار میں ہوں

.........

اجالا اک دن دیکھے گی میری قوم جاوید

........

ابھی تو جکڑا تیرے قول و اقرار میں ہوں

..........................

جاوید اقبال چیمہ ..میلان

Thursday, April 17, 2014

.....................
عوام انقلاب کے آغاز کا دن گیارہ مئی.................

...........

اندھے کو کیا چاہئے صرف دیکھنے کے لئے آنکھیں ..بھوکے کو روٹی ..گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے کسی سایہ دار درخت یا چھت کی تلاش ..عزت نفس بچانے کے لئے انصاف ...اور وغیرہ وغیرہ ..آدمی کو انسان کو ایک پاکستانی کو کسی بھی جگہ بنیاد پرست نہیں ہونا چاہئے ..اچھا کام کوئی بھی کرے .اس کو سراہنا ہماری ذمہ داری ہے .اخلاقی فرض بھی ہے ..چاہے ہمارا کسی بھی پارٹی سے تعلق ہو ..ہم کو صرف اپنی پارٹی یا گروپ کی طرف داری نہیں کرنی چاہئے ...مقصد اور پاکستانی قوم کی منزل کو سامنے رکھنا ہمارا فرض ہے ...اپنا مقصد تو ہر ایک کو عزیز ہوتا ہے . مگر قوم کا مقصد قوم کی منزل بھی عزیز رکھنا ہم سب کا فرض ہے ..اب یہ تو انصاف نہیں ہے کہ ہمارے لیڈر لگاتار ہم سے دھوکہ کرتے جایں .فراڈ کریں .کرپشن کریں .روز جھوٹ بولیں ..اور ہم ان کو الیکشن سے پہلے کئے ہووے وعدے بھی یاد نہ کروایں...تو یہ اپنی ذات سے بھی اور قوم سے بھی زیادتی ہو گی ...اب جبکہ کسی لیڈر کسی ذات سے اختلاف apni جگہ ..کسی کا کردار اپنی جگہ .پہلے کی غلطی اپنی جگہ ...اگر کوئی لیڈر ایک اچھے مقصد کی خاطر ایمانداری کے ساتھ قوم کو لیڈ کرنا چاہتا ہے تو ہم کو اس کا ساتھ دینا چاہئے ..میرا اشارہ قادری صاحب کی طرف ہے ..حالانکہ میں قادری صاحب کے گروپ کا نہیں ہوں .مگر انقلاب کا حامی ہوں نظام کی تبدیلی کا حامی ہوں ..جس کے لئے میں نے زندگی قربان کر رکھی ہے ٣٥ کتابیں انقلاب اور نظام کی تبدیلی پر لکھ چکا ہوں ..اور اگر آج کوئی میرے خوابوں کی تعبیر بن کر میدان میں نکلنا چاہتا ہے تو مجھے اس کا ساتھ دینا ہو گا ..تب یہ پاکستان کا انقلاب اپنے منتقی انجام تک پنچے گا .میری سب صحافیوں .اینکر حضرات.وکیل .ڈاکٹر ..سول سوسایٹی ..پان والے کھوکھے .سے لے کر فوجی جرنیل تک کو گزارش ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لئے میدان میں آؤ..اور اس ملک کو چوروں .لٹیروں .غداروں .جاگیرداروں .وڈیروں سے نجات دے دو ..میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ الطاف حسین کی جماعت متحدہ کو اور عمران خان کو بھی قادری صاحب کا ساتھ دینا چاہئے ..کیونکہ یہ دونوں جماتیں نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگاتی ہیں اور جاگیرداروں وڈیروں کے خلاف ہیں ...تو پھر مقصد تو ایک ہی ہے ..تو کیوں عوام اور قوم کو دھوکے میں رکھا جاۓ ..اگر تینوں کی نیت صاف ہے تو منزل مل سکتی ہے ....ایک اچھا موقعہ بھی ہے وقت بھی ہے دستور بھی ہے رسم دنیا بھی ہے تو کیوں نہ گلے مل لیا جاۓ ...قادری صاحب شیخ رشید کو ساتھ لے کر عمران خان اور الطاف صاحب سے بات کرنی چاہئے ...ویسے بھی چوروں کے پاؤں نہیں ہوتے یہ کرپٹ حکمران جلد بھاگ جایں گے عوامی سمندر کے آگے نہیں ٹھہر سکیں گے ....صرف ہمارے اندر ٹکرانے کا حوصلہ ہونا چاہئے ....انقلاب ناگزیر ہے .....انقلاب کے بغیر پاکستان کا نظام تبدیل کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ...عمران خان کو ٹریپ کیا گیا ہے سازش کے تحت ..ابھی وقت ہے عمران خان اور الطاف صاحب اور قادری صاحب اکھٹے ہو جاؤ....اور قادری صاحب کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ نے ہوم ورک کر لیا ہے کہ نہیں ...وہ مجھ سے زیادہ عقلمند ہیں ...بس کفن باندھ کر نکلنے کی گزارش ضرور کرنا چاہتا ہوں ..کیونکہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے ...انقلاب کے آگے بڑے نامی گرامی فرعون کی دیوار ہے ....جسے گرانا .............عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩.....

Wednesday, April 16, 2014

..................
حکمرانوں کے ظہرانے .عشائیے.اور ہمارا خون ................

........

غریب حکمران جب آپس میں ملتے ہیں .خاص کر پاکستان کا حکمران طبقہ جب سابقہ حکمرانوں سے ملتے ہیں ..ملاقات کرتے ہیں ..آزادی کے جشن مناتے ہیں ..جب عوام عوام کے دکھ درد کے بہانے قانون بناتے ہیں اور پھر چھوٹے بڑے کھانوں کا اہتمام بڑے ہوٹلوں میں کیا جاتا ہے ..الوداعی پارٹیوں کا جشن منایا جاتا ہے ..جب اپنے اپنے محکموں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے ..شہنشاہوں کا قافلہ کبھی ادھر کبھی ادھر جاتا ہے ...تو یہ سب رواں روانی ہمارے تمہارے اور عوام کے خون پسینے سے ہوتی ہے ...حکمران کھاتا .پتا .سوتا .جاگتا .حتہ کہ ٹایلیٹ میں بھی عوام کے دکھ درد کے لئے جاتا ہے ..حکمران کے تمام اثاثے..تمام کرپشن .تمام ناجایز دولت جو یہاں اور باہر ہے ..وہ سب عوام کا دکھ درد بانٹنے کے لئے ہے ...اپنی جیب سے یہ دال اور بھنڈی توری بھی نہیں کھاتے ..اسی لئے سارے خاندان کو وزارتیں دے کر پاکستانی خزانے کو لوٹتے ہیں ..کیونکہ ان کو عوام کا دکھ درد بھوت عزیز ہوتا ہے ...اصل میں یہ منرل واٹر نہیں ہمارا خون پیتے ہیں ...اور پھر حیرانگی کی بات یہ کہ پھر بھی ان کی پیاس نہیں بھجتی ..یہ ہے لمحہ فکر ...کہ حکمران کی پیاس کب بھجے گی .ان کی کرپشن کی فائلیں کب کھلیں گی ..کب انصاف ہو گا ..آخر کب تک عدالتیں اور نیپ کا ادارہ قوم کے ساتھ مذاق کرتا رہے گا ...آخر کب تک ...اگر سب کچھ اسی طرح ہی چلنا ہے تو قانون میں ترمیم کیوں نہیں حکمران کرتا ..کہ حکمران آزاد ہو گا ہر قانون سے ...وہ جو چاہے کرے اسے حق ہو گا ....بس بات ختم ....اس سے حکمران اور عوام کے درمیان جو فاصلے اور دوریاں ہیں وہ ختم ہو جایں گی ...اور ہم کو کوئی حق نہیں ہو گا کہ ہم حکمران کے خلاف بک بک کرتے رہیں ..اور خواہ مخواہ اپنا خون جلاتے رہیں ..کیونکہ ہم کو یقین ہو جاۓ گا کہ یہاں کچھ بھی نہیں بدلے گا ..جس کی لاٹھی اس کی بھینس ...جس کے پاس طاقت ہو گی وہ حکمرانی کا حق رکھے گا ...اس سے قانون کی حکمرانی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ..کیونکہ ویسے تو حکمران نظام کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا ..کیونکہ اس کے اپنے مفادات کو خطرہ ہے ..چلو کم از کم حکمران عوام کے تحفظ کا اگر کوئی قانون نہیں بنانا چاہتا تو اپنی بغیرتی کو ہی تحفظ دے لے ...کم از کم عوام کے ساتھ مذاق تو نہ کرے ..یہ سچ ہے کہ عوام بیوقوف نہیں ہیں وہ حکمران کی ہر ہر بغیرتی سے واقف ہیں .مگر یہ بھی سچ اور حقیقت ہے ..کہ عوام اور پاکستان کا کوئی ادارہ حکمران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..کیونکہ ہر ادارے کے اوپر ڈاکوؤں نے اپنا ڈاکو چور .لٹیرا .کن ٹوٹا بٹھا رکھا ہے ....جو صرف حکمران کے ظہرانے اور عشائیے کا اہتمام کرتا ہے کیونکہ اس سے اس کا کاروبار بھی چلتا ہے ...اگر چھوٹے حکمران کے پاس چند دن کوئی ظہرانہ نہ بن سکے تو وہ اپنے بنگلے کے روغن پر دس کروڑ کا بل وصول کر لیتا ہے یا کسی سڑک کی مرمت سے کاغذی کاروائی کے اپنا ظہرانہ وصول کر لیتا ہے ..آخر حکمران کیا کرے اسے حکمرانی کا حق تو میرے خوں نے دیا ہے ....اب وہ میرے خون سے نھاۓ..یا خون کی بےعزتی کرے ..یہ حکمران کا حق ہے اور میں بے بس .....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ........