Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, May 1, 2014

.......................
عمران خان کو پھر غلط مشورہ دیا گیا ہے ............

...........

سمجھ میں نہیں آ رہا ..اتنا بڑا لیڈر بننے کے باوجود اب کن ہاتھوں میں جھکڑا ہوا ہے ..نہ جانے عمران خان کو کا ہو چکا ہے ..جب بھی کوئی بیان دیتا ہے ..اس کے دل کی اب سہی عکاسی نہیں کر رہا ..یا پھر میرے جیسے لوگوں کی سمجھ کا قصور ہے .کچھ تو دال میں کالا داخل ضرور ہو چکا ہے ..کیونکہ اب نظام کی تبدیلی سے دوری سمجھ سے باہر ہے .کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ..یہ کا بیان ہے..بلکہ میرے نزدیک ایک بیہودہ سا ..سمجھ سے باہر بیان ہے کہ احتجاج دھاندلی کے خلاف ہے .مقصد مڈٹرم الیکشن نہیں ..تو مقصد کیا ہے .بھائی مقصد تو واضح کرو ..بغیر اقصد اور منزل کے ..کوئی بھی کام شروح نہیں کرتا ..احتجاج سے اگر کوئی حکمران کو پیغام ہی نہیں دینا ..احتجاج کی وجہ کا نتیجہ ہی درکار نہیں ہے .جب کوئی مطلبہ ہی نہیں ہے ..تو حکمران کی بلا سے ..تم احتجاج کرتے رہو .دھوپ میں جلتے رہو .اور پھر گھر جا کر شنان کر لو .ٹھنڈہ پانی پیو..اور سو جاؤ..نہ ہینگ لگی نہ پھٹکری .....اللہ اللہ..خیر سللہ ....حکمران .قوم .عوام ..اور عمران خان صاحب مطمئن.....یہ کا ٹوپی ڈرامہ ہے ..احتجاج کی وجہ بتاؤ .مطلبہ رکھو .تاکہ حکمران تم سے بات کرے .تو کوئی مسلح حل ہو .نظام کی تبدیلی کے لئے احتجاج کرو .پارلیمنٹ میں بل لاؤ.حکمران سے منظور کرواؤ .تو کوئی بات بنے ..خان صاحب عوام کو حکمران کی طرح بیوقوف مت بناؤ ..عوام تم پر بھی حکمران کی طرح لعنت بھیج دے گی ..اب قادری صاحب کا راستہ روکنے کی بجاۓ..قادری صاحب کا ساتھ دو .اگر مخلص ہو تو ملکر خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لئے احتجاج کرو .حکمران کو بتاؤ .کہ اگر حکمران جمہوریت بچانا چاہتا ہے .تو نظام کو تبدیل کرے ..خان صاحب ایسے قوم کے جزبات سے مت کھیلو ..احتجاج نہ بجلی .گیس .بیروزگاری .مہنگائی اور نہ نظام کے خلاف ہے ..تو پھر احتجاج کیا ہے .بچہ روتا ہے .ماں دودھ .پانی یا روٹی دیتی ہے یا کھلونہ دیتی ہے .جب بچہ پھر بھی روتا ہی جاتا ہے .تو پھر ڈاکٹر سے مشورہ کا جاتا ہے ..جب آپ کچھ مانگ ہی نہیں رہے تو پھر رونا کیسا .احتجاج کیسا ...اسی لئے میں نے پھچلے کالم میں لکھا تھا .کہ میں اگر کسی کی تعریف میں کوئی جملہ لکھتا ہوں تو جب اس انسان کے اندر وہ چیز دوبارہ نہیں دیکھتا تو مجھے اپنے لکھنے میں شرمندگی ہوتی ہے .دکھ ہوتا ہے ..جیسے پرویز رشید کو دو سال پہلے میں غیرت مند لکھ بیٹھا تھا .مگر اب جب اس نے فوج کے خلاف بیان دیا تو مجھے غیرت مند کی بجاۓ بےغیرت لکھنا پڑ گیا..تو خان صاحب آپ نواز شریف سے چاہتے کیا ہیں ..اگر بنگلہ بنی گالا کی طرف جانے والی سڑک چاہتے ہیں .تو احتجاج کے بغیر گھر چلے جایں .لندن سے سیر کر کے واپس آتے ہیں تو سڑک بن جاۓ گی ..کیونکہ عوام نے دیکھ لیا ہے کہ آپ پارلیمنٹ پر اور جمہوریت پر یقین تو رکھتے ہیں .مگر آپ نے ایک بھی بل نظام کی تبدیلی کا پیش نہیں کیا ہے ..کیوں ...خدا بہتر جانتا ہے .دلوں کے حالات ووہی بہتر جانتا ہے ..قادری صاحب کا راستہ نہ روکیں خان صاحب ...بہتر ہے روزے رکھو اور اتکاف کر لو ....ہم کو یہ دیکھنے دو کہ قادری صاحب حکمران کو کیا آجنڈہ دیتے ہیں اور قوم کو کیا خوشخبری سناتے ہیں ....قوم تو ہر نکلنے والے پر ہمیشہ عتبار کرتی ہے ...مگر نتیجہ خیز مذاکرات تو لیڈر نے کرنے ہوتے ہیں ..وہ عوام کا خون فروخت کرے یا کیش کرواۓ ...یہ کام لیڈر کرتے ہیں ..مگر خان صاحب قوم کو لیڈر ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگاتا .........شکریہ .....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩
...................
کون کہتا ہے میرا حکمران بد دیانت ہے .................

...........

سیاستدان سے پوچھو کہ تم سیاست کس لئے کرتے ہو .سیاست میں کیوں داخل ہووے .تو وہ جواب دے گا .کہ عوام اور ملک کی خدمت کرنے کے لئے ..مگر ہوتا کیا ہے ..کاروبار ....انویسٹمنٹ ..ایک لاکھ لگاؤ ..ایک کروڑ کماؤ .اب زمانہ تبدیل ہو چکا ہے .اب اربوں کمانے کی بات کرو ..جو سمجھنا چاہتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے .کہ نظام تبدیل کیوں نہیں ہوتا ..کیونکہ ان سب چوروں کے مفادات ملک کو لوٹنے کے یکساں ہیں ..ہر ایک سیاستدان نے اپنی باری پر قرضے لینے اور معاف کروانے ہوتے ہیں ..یہ غریب لوگ آخر کیا کریں .کدھر سے اپنے گھر کا خرچہ چلایں...بنگلے .کوٹھیاں ..کاریں ..فیکٹریاں ..زمینیں .جاگیریں .کہاں سے بنایں...بیچارے غریب ..ایماندار .میرے سیاسدان .کشکول کیوں توڑیں ...کیونکہ پہلے عالمی بینک سے قرضے لیں گے .پھر اپنے بنکوں سے خود قرضے لیتے ہیں ..جن سے عیاشی کرتے ہیں .بعد میں وہ قرضے معاف کروا کر مال ہضم .قصہ ختم ...اس حمام میں یہ سارے ایماندار ننگے ہیں ..بلکہ اب تو سنا ہے .کہ بڑا چور حکمران اپنے چھوٹے چور سیاسی ورکر سے کہتا ہے کہ اتنے پرسنٹ مجھے دے دو تو قرضہ معاف کروا لو ..باقائدہ بولی لگتی ہے ..یہ کاروبار ہر حکمران کے ہاں ہو رہا ہے ..اب خبر آئی ہے .کہ شریف برادران نے ٦ ارب کا سود معاف کروا لیا ہے ..اسے کہتے ہیں .کہ خود ہی مدعی خود ہی ملزم ..میاں بیوی راضی کیا کرے گا قاضی ....تم بھی کھاؤ.ہم بھی کھاتے ہیں ..چور مچاۓ شور .....باری اپنی اپنی ...تم ہم کو نہ چھیڑو..ہم تم کو نہ تنگ کریں گے ..یہ ہے میرے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چہرہ ..یہ ہے جمہوریت ..کہاں احتساب .کہاں عدالتیں .کہاں گئی بیوروکریسی کی پھرتیاں ..یہ ہے ملک کا آئین..قانون ..نظام ..پارلیمنٹ اور سپریم ادارے ....کیا مذاق غریب کے ساتھ ہو رہا ہے ..ہم شاید بھیڑ ..بکریوں سے بھی بد تر ہیں ...کئی قسم کے شیر اور شکاری آتے ہیں .شکار کرتے ہیں .خون پیتے ہیں .چلے جاتے ہیں ..کہ جدھر کوئی چاہتا ہے ..ہانک کر لے جاتا ہے ....مداری گر آتے ہیں .تماشہ دکھاتے ہیں .جیب کاٹتے ہیں .چلے جاتے ہیں ...اب کون جاۓ گا ..عدالت میں ..جو عدالت سے یہ کہے ..کہ جناب جج صاحب ..کیا غریب ہی قرضہ واپس کرے گا سود کے ساتھ ...جو بینک کو ایک لاکھ کے بدلے یا ایک لاکھ مزید سود دے گا ..یا اپنا مکان بینک کے حوالے کرے گا ....کیونکہ امیر ..سیاستدان ..جاگیردار .وڈیرے .اور بیوروکریٹ کے لئے تو قانون مختلف ہے یہاں ......واہ میرے ملک ..واہ میرے سیاستدان ..واہ میرا نظام ..واہ میری مضبوط جمہوریت اور آمریت ....یہ ہے میرا سیاستدان جس کا آمریت بھی کچھ نہ بگاڑ سکی ....وہ اب مزید اربوں کھاۓ.یا کھربوں ...اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..کیونکہ وہ خود ہی عدالت اور خود ہی جج ہے ..جس کی لاٹھی اس کی بھینس ....چور اچکا چودھری تے غنڈی رن پردان ہے یہاں ..بتا کونسا آئین اور قانون ہے یہاں ...........javed iqbal cheemah ..milan،italia..

Sunday, April 27, 2014

...................
مجھے خود اپنے لکھنے پر کئی دفعہ افسوس ہوتا ہے ..........

..........

یہ اقبال جرم میں اس لئے کر رہا ہوں .کہ مجھے کئی بار اپنے لکھے ہوئی تحریروں پر شرمندگی اور افسوس ہوتا ہے ..کیونکہ کافی دوست کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی کتابوں اور اپنے کالموں میں شریف برادران اور ان کے ساتھیوں پرویز رشید اور احسن اقبال وغیرہ کی تعریفیں لکھی ہوئی ہیں..تو آج کیوں مختلف ...تو اس کی وجہ دوستو یہ ہے ...کہ جب میڈیا کی خبریں پڑھتا اور سنتا ہوں ..تو جب ان لوگوں کے متضاد بیانات سنتا ہوں ..تو مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے .مگر افسوس ان بےغیرت .کرپٹ .چور.لٹیروں .مالشیوں اور اقتدار کے بھوکوں کو نہ شرم آتی ہے نہ اپنے پرانے دئے ہووے بیانات پر افسوس ہوتا نہ ان کی غیرت جاگتی ہے نہ ان کو کوئی پشیمانی ..کیونکہ ہم ووہی لکھتے ہیں جو یہ اقوال زریں اپنے منہ مبارک سے نکالتے ہیں ..مگر ہم کو غیب کا علم نہیں ہوتا کہ یہ جو زرداری کو الٹا لٹکانے کی باتیں کرتے ہیں .نظام کو تبدیل کرنے کی باتیں کرتے ہیں .امیری غریبی کے فرق کو مٹانے یا کم کرنے کی باتیں کرتے ہیں ..یہ جھوٹ بولتے ہیں یا سچ ..مگر جب اقتدار حکمرانی .تاج و تخت .ان کے پاس آتا ہے .تو ان کی سوچ جب بدلتی ہے تو ہمارا قلم بھی اپنی تحریر ووہی رقم کرتا ہے جو ان کا موجودہ کردار ہوتا ہے ..کالم نگار .صحافی .تجزیہ نگار .اینکر کو کوئی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہوتی ..اس کا فرض ہے کہ جب تک بکتا نہیں .تب تک سچ لکھے اور سچ بولے ...مگر حکمران کو ہمیشہ بکے ہووے قصیدہ خان اچھے لگتے ہیں ..کل تک ہم شریف برادران کو اچھے لگتے تھے جب زرداری اور مشرف کے خلاف لکھتے تھے ..اور آج اگر پرویز رشید کے سنہری الفاظوں پر تنقید کرتے ہیں تو ہمارے اوپر لعن تان ہوتی ہے ہم کو پیالی میں طوفان لانے کا مشوره دیا جاتا ہے ..اگر پرویز رشید اور احسن اقبال کو جیو .جنگ گروپ کی یاری عزیز ہے دوستی عزیز ہے ان کی کرپشن عزیز ہے ..تو ہم کو اپنے حق کے مطابق فوج عزیز ہے اور ہم کو اپنی فوج پر فخر کرنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے .جتنا بےغیرت میڈیا اور کرپٹ سیاستدان کو ہے ..آج یہ لٹیرے سیاستدان کہتے ہیں کہ چند کالم نگار اور اینکر بات کو اچھال رہے ہیں ..شرم آنی چاہئے ان سیاستدانوں کو ...شاید انہوں نے کبھی میڈیا میں ہر روز رونما ہونے والے واقعات کو غور سے نہیں دیکھا ..یا یہ اندھے بھرے ہو چکے ہیں اقتدار کے نشے میں ..یا یہ اپنی اوقات بھول چکے ہیں .جو ہم کو ہماری اوقات یاد دلا رہے ہیں ..یہ ہر وقت خلافت کی غرض میں یہی چاہتے ہیں کہ سب ان شہنشاہوں کا قصیدہ لکھا اور پڑھا کریں .بجلی ہے نہ گیس .نہ روزگار ..غریب اپنے گھر کے برتن کیا اپنے بچے فروخت کر رہے ہیں ..نہ قانون ہے نہ قانون کی حکمرانی ..خبریں دیکھ کر سن کر صرف خون کھولتا ہے اور رونے کو جی کرتا ہے ..مگر حکمران کہتا ہے کہ ملک میں سب اچھا ہے .صرف چند اینکر اور کالم نگار حالات کو خراب کر رہے ہیں اور پیالے میں طوفان لانے کی کوشش کر رہے ہیں ..واہ حکمران شرم تم کو مگر نہیں آتی ....عمران خان اور قادری صاحب کی غیرت جس دن جاگ گئی.اور وہ میدان میں نظام کی تبدیلی کے لئے نکل آے..تو کرپٹ .بد کردار حکمران اور جمہوریت کے ٹھیکے داروں کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاۓ گا ..اسی ڈر اور خوف میں اقتدار کے بھوکے پاگل ہو چکے ہیں ...اب دیکھ تیری الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن اور فوج سے غداری کا تماشہ .....جیو سے تیری دوستی اور فوج سے دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے ..اس حکمران کا کردار ہی اس کو قبر میں اتارے گا ..انشااللہ .....جاوید اقبال cheemah ..milaan ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩...

Saturday, April 26, 2014

.........................
نظام کی تبدیلی یا قوم کے ساتھ مذاق ...................

...........

آپ نے جو کومنٹ مجھے بھیجے ہیں کہ یہ جمہوریت بھی نظام تبدیل کر سکتی ہے ...جبکہ میں سمجھتا ہوں اپنی ناقص عقل کے مطابق کہ یہ نام نہاد جمہوریت نظام تبدیل نہیں کر سکتی ..کیونکہ حکمران کرپٹ ہے ..چلو میں پھر بھی آپ کی بات مان لیتا ہوں .تو میرا سوال حقیر سا . سادھا سا یہ ہے ..کہ اب تک کیوں نہیں بدلا ..کس نے بل پیش کیا ..کیا کیا کوشش نظام کی تبدیلی کے لئے کی گئی ..اگر نہیں تو پھر قوم کے ساتھ تبدیلی کا مذاق کیوں کا گیا ..اب مجھ کو یہ نہ کہنا کہ وقت درکار ہے .جبکہ میں چیلنج کرتا ہوں .حکومت میرے حوالے کر دو .میں ٩٠ دن میں سب کچھ بدل دوں گا ..یہ جھوٹ اور قوم کے ساتھ مذاق اور غداری ہے کہ مزید وقت چاہئے ..میں ایک پہلی تقریر میں پولیس کا ایک ایسا نظام دے سکتا ہوں کہ آپ حیران ہو جایں ..پہلی تقریر میں پارلیمنٹ کے ممبر اور الیکشن کے متعلق ایسا نظام دے سکتا ہوں کہ آپ اسی روز نظم بدل کر سرخرو ہو سکتے ہیں ..مزید واپڈا بجلی چوری .گیس چوری ..کارپوریشن ...ٹیکس ..پراپرٹی ..زمین ..وغیرہ کا ایک ایسا نظام دے سکتا ہوں .جس سے ڈاکے .لاقانونیت اور ناجایز دھندے سب ختم ہو سکتے ہیں ..نظام بدلنے کے لئے حکم کرنے کے لئے .آرڈر کرنے کے لئے ..صرف ایک تقریر اور نوٹیفکیشن چاہئے ..جس طرح جج بھال ہووے تھے ...باقی رہا مسلح ..املیمنٹیشن کا ..اور اس کے لئے جرات .ایمانداری اور حوصلہ چاہئے ..جو بیوروکریسی کو کونٹرول کر سکے .راستہ ڈریکشن دے سکے اور عمل کروانے کی جرات ہو ..اور جو نہیں کر سکتا .وہ گھر چلا جاۓ ..نوجوان ٹیلنٹ موجود ہے ..بہترین صلاحیت اور مدد کرنے والی فوج موجود ہے ..اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ..صرف جھوٹ بول رہے ہیں ..ہاں دوسری بات کہ آپ قوم کو یہ کہیں کہ حکمران بل پاس نہیں ہونے دیتا یا نظام تبدیلی کے آگے رکاوٹ ہے ..تو اس کا بھی حل ہے میرے پاس ...آپ بغیر گملا توڑے ..بغیر قوم کی املاک کو نقصان پنچاۓ.بغیر کسی جلاؤ .گھیراؤ .کے اپوزیشن یہ علان کر دے ..کہ بجلی . گیس کے بل اس وقت تک ادا نہیں کئے جایں گے ..جب تک نظام کی تبدیلی والا بل پاس نہیں کر دیا جاتا ...یا جب تک انگونتھوں والا کام اور ٣٥ پنکچر والے حلقوں والا فیصلہ نہیں ہو جاتا ..صرف یہ کہ دینا کہ اقدار نہیں ملا .اس لئے نظام تبدیل نہیں کروا سکے .یہ غلط ہے .جھوٹ ہے .ملک سے غداری ہے ..اپوزیشن اور حکومت کرنے والے دونوں برابر کے مجرم ہیں ..میں پھر چیلنج کرتا ہوں کہ مجھے صرف ایک ہفتہ دے دو ..اسی پارلیمنٹ سے نواز شریف اور عمران خان کی موجودگی میں نظام تبدیل کر سکتا ہوں ..صرف ایک ہفتہ نواز شریف کی جگہ پر بٹھا دو ..یا عمران خان اور نواز شریف مخلص ہو کر وہ تقریر کر دیں پارلیمنٹ میں ..جو میں لکھ کر دوں گا ..پھر دیکھ نظارہ کہ نظام کس طرح تبدیل ہوتا ہے ...ورنہ قادری صاحب اور عمران خان کو بجلی اور گیس کے بل ادا نہ کرنے کا علان کرنا ہو گا ..کیونکہ مکھن اگر سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلتا تو .....تنگ آمد .........جنگ آمد .بجنگ آمد............انقلاب زندہ باد......اسلام . زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩...
................
عوامی انقلاب ..گیارہ مئی...نظام کی تبدیلی ................

........

گو کہ میں ذاتی طور پر تمام سیاسی پارٹیوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں ..کیونکہ وہ سب الیکشن کے دوران انقلاب لانے اور نظام کو تبدیل کرنے کے حق میں تھے ..مگر جونہی الیکشن میں شاطر کھلاڑیوں نے ایسی چال چلی ..کہ سب پارٹیوں کو چھوٹے چھوٹے روٹی کے ٹکرے اپنے اپنے اقتدار کے مزے لینے کے لئے ڈال دئے..اور سب نے نظام کی تبدیلی کو بھول کر روٹی کے ٹکرے قبول کئے...جو ظاہر ہے عوام کے خون میں ڈھبو کر دئے گیے تھے ..اور جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنا شوروح کر دیا اپنی اگلی باری کے انتظار میں ..یہ ایک کھیل تھا جو پوری قوم اور کچھ پارٹیوں کے ساتھ پلاننگ سے کھیلا گیا تھا اور سازش کامیاب ہو چکی تھی ..اور سازش کا انکشاف پہلے ہو چکا تھا ..مگر ....جبکہ قادری صاحب اور دوسرے کافی لوگوں نے اور میں نے خود بھی کئی مرتبہ یہ عرض کیا ..کہ یہ نام نہاد جمہوریت اور کرپٹ نظام صرف کرپٹ سیاسدان ہی پیدہ کر سکتا ہے ..اگر کوئی ایماندار اس نظام کے تحت پارلیمنٹ میں آ بھی جاۓ .تو وہ نظام کی تبدیلی کے لئے کچھ نہیں کر سکتا ..وہ اس کرپٹ نظام میں اور اپنے پارٹی سربراہ کے نیچے جھکڑا رہے گا ..یہ نظام اس ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتا ..پہلے نظام تبدیل کرنا ہو گا .پھر الیکشن اور جمہوریت کی بات کریں ..ورنہ سب ڈرامہ اور الیکشن فضول ہیں ..کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی ..اب ان سب پارٹیوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ..کہ گیارہ مئی کو اگر قادری صاحب میدان میں نکلتے ہیں اور عمران خان اور الطاف صاحب ان کا ساتھ نہیں دیتے ..تو نتیجہ کیا نکلے گا ..کیا قادری صاحب اکیلے حکمرانوں سے ٹکرا پایں گے ...یہ عوامی انقلاب کامیاب ہو سکتا ہے ..اگر عوام اپنی پسند نا پسند کو ایک طرف رکھ دیں...اور نظام کی تبدیلی کے لئے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف میدان میں آ جایں ..میں ذاتی طور پر بھی اس عوامی انقلاب کا حصہ بنوں گا ..گو کہ میں عوامی تحریک یا منہاج ال قرآن کا حصہ نہیں ہوں ..مگر میں سمجھتا ہوں .کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم کو ہر اچھے مقصد کے لئے متحد ہونا پڑے گا ..اپنے اپنے مفادات کو اور گروپ کو پش پشت ڈال کر ...ورنہ اگر ساری زندگی ہم کنویں کے مینڈک بنے رہے .یا ہم اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد کے چکر میں رہے ..تو نہ نظام تبدیل ہو گا نہ یہ کرپٹ .چور.لٹیرے .حکمران ہمارا پیچھا چھوڑیں گے اور نہ ملک کی تقدیر بدلے گی .نہ انصاف اور نہ احتساب ہو گا ...آئیں سب ملکر عہد کریں کہ اتحاد .یکجہتی .سے اس عوامی انقلاب کو کامیاب بنایں..کیونکہ صرف باتیں کرنے سے اور کالم لکھنے سے اس قوم کی تقدیر نہیں بدلے گی اور نہ نظام تبدیل ہو گا ..ہم سب کو عملی مظاھرہ کرنا ہو گا ..تب یہ کام آسان ہو گا انشااللہ ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Friday, April 25, 2014

..........
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اصل چہرہ دیکھ لو ..............

.......

دنیا میں سب سے کرپٹ مافیہ پاکستان میں ہے ..جو ہر طبقہ اور تقریبآ ہر ادارے میں پائی جاتی ہے ..مگر جس کو اوپر سے نیچے تک کرپٹ حکمرانوں کی ہمیشہ سرپرستی رہی ہے ..زمینوں .پلاٹوں .قبضہ گروپ کی مافیہ .ہو یا میڈیا جیسے جیو اور جنگ گروپ کی مافیہ ہو .دیکھ لو ..فوج بھی بے بس نظر آ رہی ہے ..حتہ کہ وزیر داخلہ بھی بے بس نظر آ رہا ہے .جبکہ پرویز رشید واضح علان کر چکے ہیں کہ ان کے مفادات جیو اور جنگ گروپ کے ساتھ ہیں ..کیونکہ اقتدار کی کرسی تک پنچانے تک جیو اور جنگ گروپ نے شریف برادران کا ساتھ دیا تھا ..اس میڈیا گروپ کو دیکھ لو .اس مافیہ گروپ کے اثاثے پوری دنیا میں ہیں .خاص کر دوبئی کو ہی دیکھ لو .کتنی پراپرٹی ہے ..اربوں روپے کے گھپلے ان کے خلاف ہیں .بلکہ باقائدہ مقدمات عدالتوں میں سالہاسال سے چل رہے ہیں .اور مزید اضافہ کے ساتھ چلتے رہیں گے ..مگر فیصلہ یا پکڑ کوئی نہیں ہو گی ..عدالتوں میں مقدمات کا ہر روز اضافہ ہو رہا ہے .مگر انصاف ناپید ..عدالتیں بکتی ہیں .انصاف بکتا ہے .غریب کا خون بھی کمیٹیوں کی نظر ہو کر بکتا ہے .کچھ ہڑتالیں ہوتی ہیں.کچھ احتجاج ہوتے ہیں .کچھ جلوس نکلتے ہیں .کچھ جلسے ہوتے ہیں .کہیں تقریریں ہوتی ہیں .کہیں تختیاں لگتی ہیں ..مگر ایکشن کوئی نہیں ہوتا ..اگر کہیں کوئی گولی اور انصاف کی بھینٹ چڑتا ہے .تو صرف غریب میرے جیسا ..جس کی کوئی سفارش نہ ہو یا پنچ نہ ہو یا جیب میں رشوت کے لئے پیسے نہ ہوں ..جتنی مرضی دوہائی دے لو .دھرنے دے لو .حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتا ..وہ عالمی بینک سے قرض بھی لے رہا ہے .اور ٨٠ پرسنٹ کرپشن کر کے خرد برد بھی کر رہا ہے ..اور پھر مزید قرضے لے کر ہضم بھی کرتا جا رہا . عوام پر مزید بوجھ بھی بنا رہا ہے .مگر کرپشن کی رقم واپس وصول نہیں کرتا اور نہ اس کی دلچسپی ہے ..کیونکہ یہ رقم قومی خزانے کا حصہ بنتی ہے ...یونیورسٹیاں ڈگریاں دیتی جا رہی ہیں .مگر نوجوانوں کے لئے نہ کوئی فیلڈ ٹریننگ اور نہ ملازمت اور نہ کوئی مستقل بنیادوں پر پلاننگ ...ہسپتال اور سکول نہ حکومت بناتی ہے .نہ آج تک کوئی تعلیم کا نظام قوم کو دیا گیا ہے .اور جو ہسپتال .سکول بناۓ جاتے ہیں .وہاں ڈاکٹر اور استاد کی بجاۓ گدھے باندھ دئے جاتے ہیں ..تمام حکومت کی پراپرٹی پر جاگیرداروں اور وڈیروں نے قبضے جماۓ ہوۓ ہیں ..یہاں تک کہ فوج جیسے مظبوط ادارے کی میڈیا نے ایسی تیسی کر دی ..مگر میڈیا مافیہ کا فوج اگر کچھ نہیں بگاڑ سکی ..تو آپ اندازہ کر لیں .اس مافیہ کے آگے ایک عام کی کیا حیثیت ہو گی ..کیسے یہ ملک چل رہا ہے اور کیوں چل رہا ہے .کون چلا رہا ہے .کس طرز پر چل رہا ہے .اور کیا ہونے والا ہے ..بھوت سوالات ہیں ..مگر جواب ......آخر کب تک ....کب .کیوں .کیسے .اور کون ...کیا ہو گا .کون آپریشن کرے گا ...انقلاب نا گزیر ہے .مگر آے گا کب اور کیسے ....اس ملک کے ماتھے کی سیاھی کون صاف کرے گا ..کرپٹ کب لٹکاۓ جایں گے .انصاف اور احتساب کب ہو گا ..اس ملک کا چہرہ کون تبدیل کرے گا ....آگ اور خون کا کھیل کب ختم ہو گا .کب یہ اندھیری رات ختم ہو گی ....آخر کب تک یہ سسکیوں .چیخوں کا سلسلہ چلتا رہے گا ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Thursday, April 24, 2014

....................
خادم اعلی کا ایک اور ریکارڈ .جوتا لسٹ میں نام درج ........

..........

خادم اعلی کی تقریر ان ہی زبانی سنئے....ملاحضہ فرمایں..ہم نے نوجوانوں کے لئے روٹی پلانٹ لگاۓ..تاکہ وہ بھیک مانگنے کی بجاۓ اور کلانشنکوف اٹھانے کی بجاۓ.ڈاکو اور چور بننے کی بجاۓ..اپنا ٹیلنٹ زیاح نہ کریں اور سستی روٹی سے اپنا اور گھر والوں کا روزگار چلایں..تاکہ ہم کو جالب .فیض اور اقبال کے اشعار پڑھنے میں آسانی ہو .ہم نے امیروں اور افسروں کے لئے جنگلہ بس سروس چلائی..تاکہ جب وہ حکومت کے مفت بنگلوں میں رہ رہ کر اکتا جایں .مفت ٹیلیفون .مفت گیس .بجلی اور مفت شاپنگ اور سیر و سپاھٹ سے تنگ آ جایں تو غریبوں کی حالت دیکھنے لئے جنگلہ بس کی سیر کو جایں .اور تھوڑے سے غریبوں کے جراثیم سے فایدہ اٹھایں.کیونکہ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ مکھی اگر کھانے پر بیٹھ جاۓ تو کافی جراثیم صحت کے لئے اچھے بھی چھوڑ جاتی ہے .اور ایک دو صاف کپڑے والوں سے ہاتھ ملا کر لطف اندوز ہوں .گھر جا کر بیشک وہ ڈیٹول سے اچھی طرح ہاتھ صاف کر لیں اور نہا بھی لیں تاکہ غریبوں کے مکمل جراثیم کا خاتمہ ہو سکے ..اور بوڑھوں .اور نوجوان لڑکیوں کو ہم نے لیپ ٹاپ تقسیم کئے..تاکہ یہ دونوں طبقے خاندان کے لئے کوئی بوجھ نہ بن سکیں .اور اپنے راستے تنہائی کے خود تلاش کریں ..اور ہم اس ملک کو جمہوریت اور آمریت سے ہمیشہ کے لئے نجات دینا چاہتے ہیں اور اس ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں ..جونہی یہ فقرہ .جملہ .اپنی تمام تر روانیوں سے شہباز شریف کے منہ مبارک سے جاری ہوتا ہے تو جیو .جنگ گروپ کا ایک جیالا طیش میں آ جاتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کو انڈیا کی کالونی بنانا چاہتا ہے اور خادم اعلی اسلامی فلاحی ریاست ..تو وہ جذباتی ہو کر ایک عدد جوتا خادم اعلی کو دے مارتا ہے اور ساتھ جیو زندہ باد کا نعرہ بھی لگا دیتا ہے ..تو خادم اعلی خوشی سے نرمی سے جذباتی جیو کے نوجوان سے فرماتے ہیں کہ میں تو آج فسٹ اپریل فول سمجھ کر قوم سے مذاق کر رہا تھا ..مگر اب مجھے یاد آ گیا ہے .کہ ٢٤ اپریل ہے ....پھر جیو کے نمایندے کو سمجھایا اور تسلی دی .کہ تم اطمینان رکھو ..اور میرے الفاظوں کی گہرائی تک جاؤ..کہ جب ہم اسلامی ریاست کا شوشہ چھوڑتے ہیں ..تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم خلافت چاہتے ہیں .وہ چاہے امن کی أشه سے مل جاۓ کوئی ہرج نہیں ..اس پر جیو کا نمایندہ خوش ہو گیا اور حال تالیوں سے گونج اٹھا ..اور ناظرین نے خادم اعلی کو خوب داد دی .اور جالب کے فرمان کی فرمایش کر دی ..جس کو خدام اعلی نے یہ کہ کر ٹال دیا ..اور کہا کہ آج میں جیو کے نمایندہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھے عالمی لیڈر بش کی اور جوتوں والی لسٹ میں درج کروا دیا ..امید کرتا ہوں کہ عوام ہم کو عزازات سے نوازتی رہے گی ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..