Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, April 7, 2014

..............
عمر اکمل اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے ....................

.......

عمر اکمل جس قسم کی حرکتیں کر رہا ہے ..اس طرح کوئی سلجھے ہوۓ اور خاندانی لوگ نہیں کرتے ..اس طرح کی حرکتیں یا نو دولتی قسم کی اولاد یا بگڑی ہوئی وڈیروں . جاگیرداروں یا بیوروکریسی یا حکمرانوں یا سیاسدانوں کی اولاد کرتی ہے ..یا یہ چھچھور پن شودے لوگ کرتے ہیں .جو کن ٹٹوں بدمعاشوں کی اولاد ہوتے ہیں ..مہذب قوموں کے مہذب لوگ ایسی حرکتیں نہیں کرتے ..اگر عمر اکمل کو ہماری طرح یورپ میں مزدوری کرنی پڑتی ..تو ان کی ساری بدمعاشی پہلے ہی دن ختم ہو جاتی ..جہاں وہ لوگ دوسری تیسری بات نہیں سنتے ..نہ کسی کی. بک بک سنتے ہیں ...بس سب سے پہلے کاغذات مانگتے ہیں ..اخلاق سے بات کرتے ہیں اور اخلاق اور نرمی سے جواب مانگتے ہیں ..چاہے کوئی ملک کا ہیرو ہو .ماڈل ہو . ماڈلا ہو .پاپ سنگر ہو .یا فیشن شو کا دلدادہ ..کنجری ہو عزت دار ہو .جوان ہو ہو ..جج ہو یا وکیل ..بیوروکریٹ ہو یا جرنیل ...جب عام سپاہی نے کھڑا کرنا ہے .روکنا ہے .تو اس کو کاغذات چیک کروانے ہوں گے .ہر دفتر میں اپنی باری پر کھڑکی کی طرف جانا ہو گا ..ورنہ وہ غیر مہذب اور جاہل یا پاگل تصور کرتے ہیں ..پھر اسے ایک ہی فقرے سے مٹی پلید کر دیتے ہیں .کہ اپنی باری کا انتظار کر ..یا چلا جا ...وہاں ساری جلدی اور پھرتیاں نکل جاتی ہیں ..اونچی آواز کا استمال اور شور پسند نہیں کرتے ..فٹ بال کا ہیرو بھی کوئی نمبر کے بغیر کھڑکی کے نزدیک نہیں آ سکتا ..یہ عمر اکمل اپنے آپ کو کہاں فٹ کرتا ہے ..نہ یہ خاندان کوئی آسمان سے سپیشل نازل ہوا ہے اور نہ یہ قوم کا ہیرو ہے ..دس میچوں میں سے ایک میں کھیل لیا اور باقی میں سٹے بازی سے مال کما لیا..یہ ہے ان کی اوقات ..یہ خاندان سٹے بازی میں اکثر شامل رہتا ہے ..خاص کر اس کے بھائی کے سسرال ....نہ اس میں اخلاق ہے نہ تمیز ..اگر اتنی گرم جوشی تھی ..تو کرکٹ کے میدان میں نکالتے ..جہاں اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ مل کر پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ..ہارنا یا جتنا معنی نہیں رکھتا ..عزت اور وقار سے جیت اور ہار معنی رکھتی ہے ..ہم بنگلہ دیش سے ذلیل و رسوا ہی اسی لئے ہوۓ ہیں ..کہ ان دونوں میں سے ایک کو بھی ٹیم میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا ..پھر ایسے بد تمیز انسان کو ٹیم سے نکال کر باہر کرنا ہو گا ..جو بڑی گاڑی کے غرور میں نہ پولیس وارڈن کی عزت کرتا ہے اور نہ سیکورٹی گارڈ کی ...اگر اتنا ہی غصہ تھا ..تو نجم سیٹھی پر نکالتے .جس نے آرڈر دیا ہوا ہے .سیکورٹی گارڈ کا کیا قصور ..وہ تو حکم کا پابند ہے ..عمر اکمل اور سعید اجمل کے اخلاق میں زمین آسمان فرق خبر میں نمایاں دیکھ لو ..حالانکہ میرے نزدیک اجمل جیسے لوگ قوم کے ہیرو ہیں ..نجم سیٹھی میں بھی اگر غیرت یا اخلاق ہے تو اس بات کا نوٹس لینا ہو گا ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩
........................
غریبوں کی جمع پونجی لٹ گئی..................

........

حیرانگی ہے کہ یہ کیسا ملک ہے ..جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس سے بھی معاملہ آگے نکل چکا ہے ..نہ کوئی عدالت .نہ حکمران .نہ کوئی ادارہ .نہ کوئی قانون کی حکمرانی .نہ سیدھا نہ الٹا راستہ ...جب بھی بجلی گرتی ہے بیچارے غریب پر .پستا بھی غریب .ذلیل و خار بھی غریب اور در در کے دھکے بھی غریب کھاتا..کوئی آہو زاری سننے والا نہیں ..حکمران مذاکرات مذاکرات کی بنسری بجا رہا ہے ..بس ...کوئی ملاوٹ کرے .کوئی ذخیرہ اندوزی کرے .کوئی کرپشن کرے .کوئی مرچوں میں اینٹوں کا رنگ ملاۓ.کوئی کھانے والے تیل میں .اچار میں . دھودھ میں .جہاں مرضی گٹر کے پانی کو استمعال کرے .کوئی پوچھنے والا نہیں .کوئی قاعد کے مزار پر .کوئی بنگلوں پر .کوئی سڑکوں پر .کوئی محلوں میں .کوئی پارلیمنٹ کے ہوسٹل میں مجرا کرے اور کرواۓ ..کوئی پوچھنے والا نہیں ...بڑے بڑے بنگلوں میں دہشت گرد اپنے کمنکیشن نظام چلایں..کوئی پوچھنے والا نہیں ..روزانہ ہر محلے ہر شہر میں ڈاکے اور قتل و غارت گری ہو .کوئی پوچھنے والا نہیں ..حکمران کہتا ہے .یہ سب کچھ ورثے میں ملا ہے ..آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا .یہ ٦٥ سالوں سے سنتے آ رہے ہیں ..آج مسلم کمر شل بینک کے لاکر ڈاکو لے گہے..کوئی ذمہ دار نہیں .آخر کیوں ..کس کی ذمہ داری ہے .کون حکمران ہے .کس کی غلطی ہے ..نہ بینک کا مالک اور نہ حکمران .....کیونکہ حکمران کی ذمہ داری صرف مال بنانے ..عالمی سودوں میں کمیشن لینا .دولت کو باہر کے ملکوں میں منتقل کرنا اور باری باری اقتدار کے مزے لینا ...بس.....کسی کی زمین ..پلاٹ .گھر پر کوئی قبضہ کر لے .کسی کو ڈاکو لوٹ کر لے جاۓ .کوئی قتل ہو جاۓ .سب کو پوری قوم کو چوروں .لٹیروں .درندوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ..بس عوام بجلی .گیس .استمال کریں یا نہ کریں مگر حکمران کو بل ادا کرتے رہیں ...حکمران کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کی حکمرانی میں کسی کی عزت محفوظ ہے یا نہیں ..حکمران کو خدا کا خوف بھی نہیں ہے ..اگر خوف ہے تو اپنی فوج کا یا امریکا کا ..اگر یہ دونوں خوش ہیں ..تو پھر اس فرعون کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..یہ ہے میرے حکمران کا اصل چہرہ ......صرف اس ملک کا ایک ہی حل ہے وہ ہے انقلاب ....دیکھنا یہ ہے انقلاب کب اور کون لاتا ہے .امریکا یا اپنی فوج ....اگر تو آنے والے انقلاب سے ان حکمرانوں کا احتساب ہو جاتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے ..اور اگر انقلاب مشرف اور ضیاء جیسا آتا ہے ..تو پھر پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ......٠٠٣٩..٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Saturday, April 5, 2014

............
نظام کی تبدیلی کے لئے موزوں دور حکومت ..................

.......

میں نے اس سے پہلے کئی تحریروں میں عرض کیا تھا کہ زرداری صاحب کو ہیرو بننے کا خدا نے بہترین موقعہ عطا کیا تھا .جس دور میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی .جو تھی اس نے مکمل زرداری کو سپورٹ کیا .مگر وہ ملک کے لئے کوئی کارنامہ تو انجام نہ دے سکے . مگر اپنے لئے انہوں نے اتنا کچھ کر لیا .جس کا وہ زندگی میں وہ کبھی شاید شوچ بھی نہ سکتے تھے ..مگر پھر بھی شاید ابھی ان کی خواہشات اور ہوں .جو وہ بقایا پوری کر لیں گے .مشرف زیرو ہوا .زرداری زیرو ہوا ..اور غبارے سے ہوا نکل گئی..کیونکہ عالمی ریفری اور اجنسیوں کو نیا کھلاڑی چاہئے تھا ...مگر اب پھر مشرف کے غبارے میں ہوا بھر کر تیار کیا جا رہا ہے .دیکھنا یہ ہے .کہ یہ غبارہ ہوا میں چھوڑنے کے کتنے عرصے تک پھٹتا ہے ..دیکھیں پرانے غبارے کا تجربہ کامیاب رہتا ہے یا نہیں ....مگر اب یہ نواز شریف کا دور حکومت میرے نزدیک بھوت ہی سنہری اور موزوں دور حکومت ہے .نظام کی تبدیلی کے حوالے سے ..کیونکہ نواز حکومت خوش قسمت ہے .کہ وہ ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں .کوئی اپوزیشن نہیں ہے ..پھر بھی اگر نواز حکومت کچھ تبدیل کرنے اور ڈلیور کرنے میں ناکام ہوتے ہیں ..تو یہ نواز شریف کی .اس ملک کی ..عوام کی اور جمہوریت کی انتہائی بد قسمتی ہو گی ..جب بھی جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو موقعہ ملا .یہ فایدہ نہ اٹھا سکے ...شاید ان کو سلاخوں کے اندر کی کوئی فوٹو نہیں دکھاتا یا ان کو پھر خدا بھول جاتا ہے ..آخر یہ کیسے انسان ہیں .کیسے مسلمان ہیں .کیسے محب وطن پاکستانی ہیں کہ اقتدار میں آ کر صرف مال بناتے ہیں .دوستوں کو راضی کرتے ہیں ..اور پاکستان سے مال باہر منتقل کرتے ہیں ..اور جب ان کو کان سے پکڑ کر اقتدار سے الگ کر دیا جاتا ہے .تو یہ شور مچاتے ہیں عوام سے جھوٹ بولتے ہیں کہ اگر ان کو ٥ سال کا موقعہ ملتا .تو یہ دودھ کی نہریں بھا دیتے ...آخر کب تک یہ ملک کی تقدیر سے کھیلتے رہیں گے ..اور کب تک ان کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ گا ..کیوں ان کو لٹکانے والا کیوں نہیں آتا ...کیوں ان کا احتساب نہیں ہوتا .کیوں میاں منشاء جیسے لوگوں سے سہی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا ..آخر کیوں اور کب تک ..یہ ہے مشرف اور ضیاء کی بغیرتی اور غداری ..کہ انہوں نے چوروں کو رعب.دبدبے اور کرپشن سے ساتھ ملا کر حکومت تو کی ..مگر نظام نہ بدلا ..اور نہ احتساب کیا ..بلکہ کہتا ہوں کہ جن سے توقعہ تھی .ووہی پتے ہوا دے گہے.....اب جبکہ عمران خان بھی شریف برادران سے ہاتھ ملا چکا ہے ..تو پھر کیا وجہ ہے نظام کو تبدیل کیوں نہیں کروایا جا رہا ..کیا رکاوٹ ہے یہ تو عمران خان کیوں عوام کو نہیں بتا رہے ..بلکہ افسوس ناک خبر یہ ہے کہ عمران خان نے نواز شریف سے ملاقات پر نظام کی تبدیلی کی بات نہیں کی ..بلکہ بنی گالا بنگلے کے لئے سڑک کا مطلبہ کیا ہے ..اگر یہ سہی ہے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ..اور پھر الطاف حسین کا مطلبہ ٹھیک ہے .کہ فوج آ کر اقتدار سبھال لے ..یہی بہتر ہے ..کیونکہ سیاستدان بندر بانٹ میں مصروف ہے ........انقلاب ہی اس ملک کی ضرورت اور مجبوری بن چکا ہے .......جاوید اقبلل چیمہ ..میلان .....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Friday, April 4, 2014

.............
مشرف کا کوئی قصور نہیں ہے ...........

......

میرے لئے نہ یہ لمحہ فکریہ ہے اور نہ کوئی عجوبہ ..یہ جو کچھ میرے ملک میں کھیل کھیلا جا رہا ہے .یہ کھیل ٦٥ سال سے جاری ہے .یہاں سارے کھیل آجنزیاں اندرونی اور بیرونی اور امریکہ کھیلتا ہے ..سب الیکشن اور جمہوریت ایک ڈھونگ تماشا ہے ..ہوتا ووہی ہے جو عالمی سازش چاہتی ہے ..میرے ہاں کوئی بھی حکومت امریکہ کی آشیر باد کے بغیر بن ہی نہیں سکتی ..جتنا مشرف اور ضیاء نے امریکہ کو فایدہ پنچایا تھا ..کسی نے نہیں پنچایا ..اب میڈیا بھی اس سازش میں شامل ہو چکا ہے ..مشرف کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے .یہ لمحۂ فکریہ عمران خان ..نواز اور زرداری کے لئے ہے ..مجھے کیا فرق پڑتا ہے ..میں تو ایک ایسا جانور ہوں کہ جس کا مالک چور ہو کرپٹ ہو غدار ہو ..مجھے تو چند کلو گھاس چاہئے . پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ....نہ مجھے انصاف ملنا ہے نہ روزگار نہ عزت کی روٹی ..مجھے کیا .اگر اجنسیاں وزیر داخلہ کو غلط کہانی سنا دیں یا سچی ..یا مشرف کے راستہ میں بمب تہماکہ کر کے قوم کو کوئی پیغام دے دیں..مجھے کیا ..میں جب پیدا ہوا ہوں .یہ ڈرامے سنتا چلا آ رہا ہوں ..میں اتنا جانتا ہوں کہ اگر مشرف قصور وار نہیں .کرپٹ اور غدار نہیں ..تو پھر میں ہوں .مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ .اور مشرف کو باہر بھیج دیا جاۓ .مگر خدا کے واسطے ہیرو بنا کر پیش نہ کیا جاۓ .ورنہ یہ ملک ٹوٹ جاۓ گا ..اگر تم یہی چاہتے ہو .شوق سے یہ کام انجام دے لو ..کیونکہ اگر مجھے کوئی لا علاج مرض لاحق ہو جاۓ .تو میں خدا سے یہی عرض کروں گا .کہ میرے مولا مجھے موت دے دے .مگر اس اذیت سے نجات دے دے .یا ڈاکٹر کو زہر کا ٹیکہ لگانے کا کہوں گا ..اور اگر آپ مرض کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا مردے کو آکسیجن کے کمرے میں رکھ کر دنیا کو دکھا رہے ہو .کہ مریض صحت یاب ہو رہا ہے ..تو بڑے شوق سے یہ ڈرامہ کرتے رہیں .کیونکہ یہ ڈرامہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا ..آخر کار سب مکاری .اور چلاکیاں کا راز فاش اک دن ہونا تھا ..سو ہو چکا ..بہتر ہے حکمران بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بروۓ کار لاۓ..آنکھیں کھولے اور دیکھے کہ ملک میں کہاں کہاں کیا کیا ہو رہا ہے ...جمہوریت کے ٹھیکیدار یہ مت سمجھیں کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے سکون سے ہیں ..مت بھول کہ یہاں ہر مہرے سے ایک خاص وقت تک کام لیا جاتا ہے .جب وہ مہرہ پر پرزے نکالنا شروع کرتا ہے .تو یا پر کاٹ دے جاتے ہیں یا نیا مہرہ لایا جاتا ہے ..اس وقت پھر مستقبل کے لئے مشرف کو تیار کیا رہا ہے ..اور کراچی اور گجرات والے اور کچھ اینکر اس چھتری کے نیچے ہوں گے ..ظاہر ہے جب نواز شریف نے چمچہ گیر صحافیوں کو شورا لگا دیا ہے .تو اب یہ نیا ٹرینڈ چلے گا .کہ کس کے لئے لکھتا تھا ..وہ میرا ہے وہ تیرا ہے ..آج جو چنیل .ادارہ اور ذات . جس کے لئے کام کرے گا کل کو پھل پاۓ گا ..کافی چیئرمین اور مشیروں کی سیٹ آپ کا انتظار کر رہی ہیں ..ایک غدار کو ہیرو بناؤ ..تاکہ پھر اس ملک میں لگائی ہوئی آگ پر پیٹرول ڈالے..اور ڈالر لے کر امن امن خوشحالی کے گیت گاۓ...انقلاب کے بغیر کوئی آپریشن اس ملک کی مرض کو تندرست نہیں کر سکتا ....جو مرضی کر لو .جتنے مرضی پروگرام کر لو ..محلے کی مسجد سے جب تک انقلاب کی سوچ بیدار نہیں ہو گی .نہ معاشرہ ٹھیک ہو گا اور نہ حکمران کا احتساب ہو گا ..نہ یہ پتہ لگے گا کہ کون کرپٹ ہے کون غدار ..............جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ...
...............
ڈکٹیٹر مشرف اور جمہوری ڈکٹیٹروں کی کرپشن ...............

........

آج کل میڈیا ایک ایسا طاقتور جن ہے . جس کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ ہے .وہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے .جس کو چاہے زیرو ....آجکل مشرف کے عدالت میں دئے ہووے بیان پر اس کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے .کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی ...کرپشن ہے کس بلا کا نام جس سے ہر حکمران انکار کرتا ہے اور ہر روز کرتا بھی ہے ..مشرف نے جو اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے نام غلط مراعات لیں .جو پلاٹ لئے .جو فارم ہاؤس بنایا .جو بچے پر امریکا میں خرچہ ہوا .جو لندن وغیرہ میں جائداد بنائی ..جو بچی کے سسرال والوں نے مشرف کی حکمرانی میں ناجایز فائدے لئے ..مراعات لیں ..جو قومی خزانے کو نقصان پنچایا .جو غلط فیصلے کئے.جس سے ملک کو نقصان پونچھا ..جو گیس کے بے انتہا رشوت دے کر سٹیش لگے .جو ترقیاتی فنڈ جاری کئے..اور ان میں بے قایدگیاں ہوئیں ...جو جو لوگوں اختیارات کا ناجایز فایدہ اٹھایا ..جو تھرکول جیسے پروجیکٹ کو نقصان ہوا ..یا جہاں جہاں مشرف کی تختیاں لگیں ..جہاں جہاں وزیروں مشیروں نے بے ایمانی کی خرد برد کی ...یہ سب کرپشن نہیں ہوئی ..تو کیا ہوا تھا ..تو اس کا مطلب ہے کہ مشرف اور گجرات والے چودھری خلیفہ وقت تھے ..جن کے دور حکومت میں کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا نہیں تھا ..یہ سب جھوٹ ہے..جو قوم کے سامنے عدالت میں بولا گیا ..پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ..ہر وزیر نے کرپشن کی .حتہ کہ مونس الہی نے کرپشن کی ..جس جس جلسہ میں مشرف گیا .وہاں ہر جگہ قومی خزانے کو نقصان پنچایا گیا .کیونکہ مشرف کو خود نمائی کا دوسرے حکمرانوں کی طرح شوق تھا ..اور چمچوں کو مشرف کی چمچہ گیری کرنا تھی .کیونکہ اقتدار میں رہنا ہے تو ڈکٹیٹر کی مالش ضروری ہے ..اس کا یہ مطلب ہے کہ مشرف کے ساتھ جو چور لٹیرے تھے وہ ولی اللہ تھے ..اور جو مشرف کے ساتھ نہ بیٹھ سکے ..وہ کرپٹ تھے یا پھر جاوید ہاشمی کی جگہ باغی ..واہ قربان تیری کرپشن کے بیان پر مشرف ...کہ تجھے کرپشن کے لفظ کے مطلب کا بھی پتہ نہیں ..اور تو عدالت میں قوم کے سامنے جھوٹ بھی بول گیا ...اور کسی کو تیرے خلاف عدالت میں جانے کی بھی زحمت نہیں ہوئی ...میرے بچپن کا دوست ایک ریٹایرڈ ونگ کمانڈر تھا جو اس نے تیرے بارے میں کہانیاں سنائی تھیں کاش میں تم کو سنا سکتا ...کاش میں تمہارے خلاف عدالت میں جا سکتا ...آخر میں ایک اور بات کہ وہ دو پلاٹ بھی میرے گھر کے سامنے تھے .جو تیرے دوست فروخت کر کے گہے تھے ..یہاں میرے ملک میں کوئی حکمران یہ جھوٹ نہیں بول سکتا کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..مگر تم نے ڈھٹائی سے یہ بھی کر دکھایا ..کیونکہ حکمران کرپٹ ہے ..ڈرا ہوا ہے ..سہما ہوا اپنی کرپشن اور اقتدار کے چھن جانے کے خوف سے ..ورنہ تم نے یہ جو عدالت میں بیان دیا ہے . یہ صرف بد کردار حکمرانوں کے منہ پر تھپڑ نہیں ہے ..بلکہ پوری قوم کے منہ پر تم نے پھر تھپڑ رسید کر دیا ہے ...جاری ہے ..دوسری قسط کل انشااللہ ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩
...............
ڈکٹیٹر مشرف اور جمہوری ڈکٹیٹروں کی کرپشن ....قسط ٢.

........

تو بتا رہا تھا مشرف کی کرپشن کے بارے میں ..کہ میڈیا مشرف کو ہیرو بنا کر پیش نہ کرے کیونکہ کوئی کارکردگی مشرف کی ایسی نہیں ہے جو اس کو ہیرو بنا دے اور تاریخ میں اس کا نام لکھا جاۓ .اس نے غلطیاں کیں .سزا اس کو ملے گی ..اگر یہاں نہ بھی ملی تو خدا کی عدالت سے نہیں بچ سکے گا ...کیونکہ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے ..کیونکہ عدالت میں اس نے جھوٹ بولا ہے کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..چند سیاستدان اور چند میڈیا والے اس کو ہیرو کیوں بنا رہے ہیں . یا اس کی طرفداری کیوں کر رہے ہیں ..اس لئے پاکستانی قوم کی یہی کہانی ہے .کہ اقتدار تک پنچنے کے یہی طریقہ کار ہیں ..کہ آج کسی کی خوشامد کرو کل کو پھل پاؤ گے ..جو چور لٹیرے اس وقت اقتدار میں نہیں ہیں .ان کو آنے والے وقت کے لئے کسی نہ کسی چھتری کی تلاش ہے ..جس کے نیچے رہ کر سہارا لے کر اقتدار تک پنچ سکیں ..وہ مشرف کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں ..جن کو کسی پارٹی میں جگہ نہیں ملی .اور اپنی پارٹی سے تانگے کی سواریاں اتر چکی ہیں ..وہ مشرف کی کوچوانی میں دوبارہ تانگے کی سواریاں چاہتی ہیں .اصل وجہ مشرف سے ہمدادی کی یہ ہے کہ فوج کے حق میں بیان دو اور اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرو ..حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد نے ایوب خان کی کرپشن میں حصہ لیا تھا ...کیا ایوب خان نے ممبر راتوں رات خرید کر فاطمہ جناح کو شکست نہیں دی تھی ..کیا وہ روٹ پرمٹ پر بکنے والے اس کو کرپشن نہیں کہتے ..کیا ضیاء نے جو غیر جمایتی لوگوں کو ٥٠ لاکھ میں فی کس کمشنر کی مدد سے خریدے تھے .جمایتی جونیجو کے لئے ..کیا وہ کرپشن نہیں تھی ..کیا قران پاک کی آیتیں پڑھ کر قوم سے جھوٹ بولنا کرپشن نہیں تھی ..کیا مشرف کا قوم سے جھوٹ بولنا بھی کرپشن نہیں ہے ..کیا فوجی پہن کر دوسرے سینئر جرنل کا حق مارنا کرپشن نہیں ہے .کیا کسی جرنیل کو مخالفت کرنے کی بنیاد پر گھر بھیج دینا .کرپشن نہیں تھی ..اس جرنیل کا قصور کیا تھا کہ اس نے امریکا کو اڈے دینے کی مخالفت کی تھی ..کرپشن میرے حکمران کے بزدیک کیا ہے ..مشرف جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..اس نے لوگوں کا حق غصب کر کے بھی کرپشن کی اور اس کے ساتھیوں نے بھی ...کرپشن میں ہر حکمران ملوث ہے ..جو ڈالروں کے بدلے سر فروخت کئے.کیا وہ کرپشن نہیں تھی ..قانون اور آئین کو ہر حکمران نے پامال کیا ..مگر سزا اس لئے نہیں ہوتی ..کہ نظام کی خرابی ہے .حکمرا اور عام آدمی کے لئے قانون مختلف ہے ..اسی لئے عرض کرتا ہوں کہ احتساب کے لئے قانون کی پاسداری کے لئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے ..جو ایک دفعہ اس ملک کو پٹری پر چڑھا دے ..تاکہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والی ریت ختم ہو جاۓ .سب کے لئے قانون برابر ہو جاۓ ...اور یہ روز روز کی بک بک ہو جاۓ ..کون غدار ہے کون نہیں ہے ..خرابی نظام میں ہے جس سے ساری کرپشن کی دکانیں چل رہی ہیں ..جاوید اقبال چیمہ ..ملن ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Thursday, April 3, 2014

..................
عمران خان کے لئے سوچنے یا ڈوب مرنے کا مقام ہے ...........

..........

عمران خان کو شاید غلط فہمی لے ڈوبی ..یا اندر کی کالی بھیڑوں کو نہ سمجھ سکا ..یا عوام کی نبض کو نہ سمجھ سکا ..یا پھر بڑا لیڈر بننے کے طریقے کو بھول گیا ..یا پھر پرویز رشید جیسے ٹھنڈے بغرتوں کی چال میں آ گیا ..کیا ہوا ..ہر نقطۂ پر ہمیشہ لیڈر ہی ذلیل ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے ..کیونکہ کوچوان نے گھوڑے کو چلانا ہوتا ہے .گھوڑا خود سر ہو جاۓ ..تو لگامیں کھینچ کر رکھتے ہیں ...ڈرائیور نے گاڑی کے سٹیئرنگ کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ..منزل کا اسے پتہ ہونا چائیے...کچھ بھی ہو ..یا عمران خان ٹریپ ہو چکے ہوں ..یا نہیں ...تحریک انصاف کا مستقبل عمران خان سے لنک کرتا ہے .عمران خان ہے تو تحریک انصاف ہے ..ورنہ ایک دن میں ایسے بکھرے گی یا ہوا میں اڑ جاۓ گی ..جیسے پتنگ ڈور سے کٹ کر ہوا میں دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ....عمران خان کو شاید قوم سے وابستگی کا اندازہ ہی نہیں تھا .یا وہ گمنڈ اور غرور میں آ گے .یا سازش کرنے والے کامیاب ہو گہے...لیڈر کو پتہ ہونا چاہئے کہ عوام ان پرانے چوروں .لٹیروں .بغرتوں .غداروں..کرپٹ ..سیاستانوں مداری گروں سے تنگ آ چکی ہے ..اس لئے جو بھی ان سے ہاتھ ملاۓ گا .وہ سیاسی طور پر عوام میں مقبول نہیں رہے گا ..ابھی تو تحریک کے اندر دھڑے بننے شروع ہووے ہیں ..مگر ابھی نوجوانوں کا خوں نہیں کھولا ...جب نوجوان جذباتی ہو گا پھر دیکھنا تحریک انصاف کے لیڈروں کا کیا حال ہوتا ہے ...عمران خان کو اتنی بات مشورہ دیا ..کہ الیکشن کے نتایج مت تسلیم کرو .پوری قوم تمہارے ساتھ ہے .اور الیکشن میں قوم کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے ..پھر کہ کہ مرکز میں تمہاری حکومت اگر سازش کے تحت نہیں بننے دی گئی.تو تم صوبے کی حکومت نہ لو .ذلیل ہو جاؤ گے ..اپنی پارٹی سے کالی بھیڑوں اور قبضہ گروپ کو نکال باہر کرو .ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے .لوگوں نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دے ہیں ..مگر عمران خان نے ایک بات پر بھی غور نہیں کیا ...عوام ان پرانے بغیرتوں کی چالبازیوں سے واقف تھے ..جبکہ قادری صاحب کے ساتھ ہوا ..وہ بھی عمران خان کے سامنے تھا ..مگر پھر بھی سمجھ نہ آئی ..میاں محمود رشید جیسے لوگوں کے بارے میں کئی بار بتایا ..کہ یہ گروپ شریف برادران کے لئے کام کر رہا ہے اور فروخت ہو چکے ہیں ..چھانگا مانگا کا کھیل جاری ہے ..نکلو نکلو میدان میں نکلو ..تبدیلی کے لئے ..اپنا اور عوام کا حق ان غاصبوں سے چھین لو .ورنہ یہ تم کو اتنا گندہ کر دیں گے .کہ تم قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گے ..عمران خان نے ہماری سنی اور نہ شیخ رشید کی ....اب اور ملاؤ ہاتھ شریف برادران سے اور ذلیل ہوتے جاؤ ....اب جب سڑکوں پر احتجاج کے لئے .تبدیلی کے لئے .انقلاب کے لئے .ان چوروں کے خلاف نہیں نکلو گے ..تم قوم کے ہیرو نہیں بن سکتے ..اور ایک دن تمہارا جنازہ بھی انہی بغرتوں کے ساتھ دھوم دھام سے اٹھے گا ..تیار ہو جاؤ ..کسی جلسہ میں زرداری .نواز اور عمران کو جوتا دکھایا جانے والا ہے ...انشااللہ ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ....