Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, November 18, 2012



خونی انقلاب ....آج کا میرا یہ عنوان کوئی انوکھا نہیں ہے ،،کیونکہ جو لوگ عقلمند یہ سوچتے ہیں کہ الیکشن ہوں گے اور ملک کی تقدیر بدل جاے گی ،،ان سے متفق نہ ہوں ..کیونکے میں زرداری صاحب کے ہوتے ہوے الیکشن آزاد اور فری او فیر نہی دیکھ رہا ،،بلکہ حالات ایسے پیدا کئے جا رہے ہیں ،،جسے جواز بنا کر زرداری صاحب کوئی بی کھیل کھیل سکتے ہیں ،،اور وہ کوئی بھی انوکھا کھیل کھلیں گے ، کہ بڑے بڑے تیس مار خان حیران رہ جائیں گے ،،،اور نواز شریف صاحب کا خواب بھی ادھورا رہ جاۓ گا ،،جو جمہوریت بچاتے بچاتے الٹے چکر میں پڑ جائیں گے ،،زرداری صاحب پورے ملک کو چنے چبا دیں گے ،،،کوئی بھی ادارہ ان کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا ،،سواۓ کیانی صاحب ،،مگر کیانی صاحب کا انوکھا کردار پاکستان کی ساری تاریخ کا کچومر نکالچکا ہے ،،سارے ادارے برباد ہو گیے،،لوٹ لئے گے ،،سارے ملک کا بیڑا غرق کر دیا گیا ،،سپریم کورٹ کے حکموں کی خلاف ورزی کی گئی بار بار ، اور موسلسل کی جا رہے ہے ،، کیا ہوا ،،کچھ بھی نہیں ،،سپریم کورٹ حسین حقانی کا کیا بگاڑ لیا ،،میمو کیس کے سکینڈل کا بنا ،،،ہر قانون کی خلاف ورزی زرداری نیں کی ،،ہر کام میں زرداری نیں من مرضی سے کام لیا ،،کیانی نیں اس کا کیا بگاڑ لیا ،،،اس لئے زرداری صاحب سمجتے ہیں ، کہ وہ اک جمہوری ڈکٹیٹر ہیں ،،اس لئے وہ ہر وہ کام کرتے جائیں گے ،،جب تک عوام اور کیانی صاحب سوتے رہیں گے ،،کیونکہ سپریم کورٹ کو انھوں نیں کافی بدنام کروا دیا ہے ،،،نواز شریف کو نکیلدال چکے ہیں ،،عمران خان کو انھوں نیں دوسری طرف لگا دیا ہے ،،،سرخ ٹوپی والوں کو ڈالر پڑ لگا دیا ہے ،،،مولانا ڈیزل اور کراچی والوں کو ٹریلر بھی دیکھا چکے ہیں ،،جبکہ ان کو بھی حکومت میں رہنے کا چسکا بھی ہے ،،،اور گجرات کے چودھریوں کو بلیک میل کرنا آسان ہے ،،کیونکہ وہ بھی اپنی کرپشن کو بچانا چاہتے ہیں ،،،اس لئے چور تو چور کا ہی ساتھی ہو گا ،،،وہ بھی حکومت میں رہنا چاہتے ہیں ،،اس لئے زرداری سب کو نچا رہا ہے ،،،زرداری کو صرف فاروق لغاری سمجھ گیا تھا ،،اس لئے اس نیں جلدی ان کو گھر بھیج دیا تھا ،،ورنہ اس وقت کا ہی ملک کو لوٹ چکا ہوتا ،، رہے سہی کسر وہ اب نواز شریف کی ناہلی اور بزدلی کی وجہ سے نکال چکا ہے ،،،نہ نواز شریف اس سے ہاتھ ملاتا،،اور نہ قوم کو یہ دن دیکھنا پڑتا ،،،،،اب دیکھتے جاؤ،،،یہ کیسسے جاتا ہے ،،اک تو آسانی سے جانے والا نہیں ہے ،،دوسری بات یہ ہے ،،کہ آخر کار سڑکوں پر خون ہی خون ہو گا ،،اور ہاے ہاے، کتا کتا ، ہو گا ،،تو کوئی غیرت مند آے گا اور کان سے پکڑ کر باھر نکالے گا ، یا راتوں رات بھاگ جاۓ گا ،،موگا ہر صورت میں خونی انقلاب آئی گا،،چاہے الیکشن کی ہیرا پھیری کی وجہ سے آے ،یا لانگ مارچ کی صورت میں آے ،،،،ملک کا تو جو نقصان ہونا ہے ، وہ تو ہو گا ،،اور ہو بھی چکا ہے ،،مگر اس سارے کھیل میں ووہی قوم کا لیڈر ہو گا ،،جو اس مرحلے میں نظام کو بدل دے گا ،،،،،مگر گھاٹے میں نواز شریف رہے گا ،،کیونکہ وہ وعدے کے مطابق لونگ مارچ نہیں کر سکا ،،،،اگر کیانی صاحب چوڑیاں اتار کر پھینک دیں اور ابھی قومی حکومت تشکیل دے دیں اور نظام کو تبدیل کروا کر الیکشن کا اعلان کر دیں ،،تو قوم کے ہیرو بن سکتے ہیں ،،مگر شاید پاکستان کے مقدر میں اب خونی انقلاب لکھا جا چکا ہے ،،،،اس لئے اب اس ملک کے نظام کو بدلنا ہے ،،اس کے لئے اک انقلاب انتہائی ضروری ہو چکا ہے ،،بھلا ہو زرداری اور کراچی والوں کا ، کہ جنھوں نیں راستہ ہموار کر دیا ھے،،،اب انشااللہ کچھ نہ کھچ ضرور ہو گا ،،،میرے مولا کو منظور ہوا تو کچھ بھاگ جائیں گے ،،اور کچھ لٹکاۓ جائیں گے ،،اس ملک کی تقدیر ضرور بدلے گی ،،انشااللہ،، ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،،اٹلی ،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،٣٣٣٩،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،١٤،،١١،،،٢٠١٢،،،

Saturday, November 17, 2012


میاں صاحب کا جلسہ اٹلی ،،،،تیسری قسط ،،
،،،،سواے انقلاب میرے اندر کوئی جذبات نہیں ،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میری موت سے آ جاے انقلاب ایسے بھی کوئی حالات نہیں ،،،،

،،،،قوم کو جگانے کی کوشش تو کی بھوت ،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،شاید میرے مقدر میں کوئی تمغاۓ حادثات نہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،کبھی غمے دنیا میرے اندر کبھی غمے  قوم تھا ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،ٹکڑا جاتا حکمران سے مگر وسایل تعلقات نہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،
میاں صاحب کی کافی سٹوریاں میرے پاس محفوظ ہیں ،،کافی کالم لکھ بھی چکا ہوں ،،مسلن،،ڈی،سی،،گوجرانوالہ ، اختر علی مونگا ،،،،جیل روڈ ،،روزنامہ پاکستان ،،اکبر علی بھٹی ،،نظامی صاحب کیا فرماتے ہیں ،،مشاہد کیسے چمچہ بنا ،،میاں صاحب کی سوچ میں فرق ،،خلافت ،،حُسسیں حقانی کی وفاداریاں ،،جونیجو اور میاں صاحب ،،ضیاء سے وفاداری ،،اور بہوت کچھ ،،،،آپ میری ویب سائٹ پر جا کر ملاھذا کر سکتے ہیں ،،میری انقلاب .بلاگسپاٹ .کم  ،،کھولیں ، یا گوگل پر انقلے زمانہ کلک کریں ،،،میں یہ سب باتوں کا ایک ہی حل انقلاب اس لئے کہتا ہوں ،کہ جب قوم کا رویحہ  او چال چلن دیکھتا ہوں ،،تو برملا کہتا ہوں ،،کہ انقلاب کے سوا نہ تو حکمران بدلے گا اور نہ قوم کو عقل آے گی ،،،،کیونکہ یہ بات اس لئے لکھ ڈی ہے ،،،کہ میاں صاحب کا جلسہ بوہت اچھا ہووا،،مگر یہ لوگ اس وقت کہاں تھے ،جب میاں صاحب ملک بدر تھے ، یا اسلام آباد ائیرپورٹ سے بے یارومدگار واپس کر دے گاہے تھے ،،صرف جاوید ہاشمی کی طرح چند قربانی دینے والے تھے ،،اٹلی میں وہ وقت یاد آ گیا ،،جب شوکت عزیز اور چودری گروپ میلان ہوٹل میں آے تھے ،،تو انہی لوگوں کو میں نے ڈھول کی تھاپ پر نعرے لگاتے دیکھا تھا ،،ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ،،جب ہم مفاد پرستی کی سیاست کریں گے ،، تو ہمارے لیڈر بھی ہمارے ساتھ یہی کریں گے ،جو میاں صاحب اپنے جیالوں سے کر کے گے ہیں ،،نہ ان کی تقریر اور نہ ان کا رویہ ورکر کے معیار پر پورا عطر سکا ،،،ورکر کو افسوس ہوا ،،،،ہم بھی بیوفائی  کرنے میں ماہر ہیں ،،ابھی چند ہفتے پہلے ہم جلسوں میں ،یم،قیو ،یم ،،اور الطاف بھائی کے نعرے لگتے تھے ، کیونکہ قونصل خانہ میلان میں الطاف بھائی کے خاص آدمی تھے ،،تو ہم بھی کبھی کبھی ایسے کام کرتے  ہیں ،،کہ ہماری اپنی وفاداری مشکوک ہو جاتی ہے ،،پھر آپ کہتے ہیں ،کہ انقلاب کے بغیر سب کچھ بدل جایے گا ،،میرے نزدیک ناممکن ہے ،،کیونکہ ہم بحثیت قوم اپنے کلچر سے اپنے مذهب سے بھوت دور نکل چکے ہیں ،،،اب ہم اتنے مادیت پرست ہو چکے ہیں ،،کہ دوست کی گردن کو کاٹنا تو دور کی بات ہے ،،اب تو بیٹا دولت کی خاطر اپنے والدین کو قتل کر دیتا ہے ،،،بیٹی اپنے والدین کو صرف اس لئے راستے سے ہٹا دیتی ہے ،،کیونکہ وہ اس کے عشق میں رکاوٹ بن رہے ہیں ،،،چھوٹ نہیں بول رہا ،،اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ،،،،،حقیقت کو چتھلانا مناسب نہ ہے ،،،جلسے کے سارے کرداروں پر نظر دوڑاتا ہوں ،،تو سوچتا ہوں ،کہ انقلاب ہی واحد حل رہ چکا ہے ،،،کچھ لوگ وہ تھے جو مطلب اور مفاد کی اینٹ رکھ رہے تھے ،،کچھ ان کے کاروباری رکھوالے تھے ،،کچھ عھدوں کے لالچی تھے ،،کچھ بے لوث تھے ،،جن کو کھانے کے لئے اندر بھی جگہ نہ مل سکی ،،بیچارے افسردہ واپس اپنے گھروں کو مایوس چلے گے،،،اس امید پر کہ پھر کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیں گے ،، ملاقات کا ،،ویسے اگر میں آرگنایزر ہوتا ،تو میں دس دس آدمی کی ٹولیوں کی صورت میں سب کی ملاقات  کا انتظام کرتا ،،اس طرح دو فائدے ہوتے ،،ایک تو میاں صاحب کی مقبولیت میں اضافہ ہو جاتا ،،دوسرے تمام ورکر بھی راضی ہو جاتے ،،او سب کی گروپ فوٹو بھی بن جاتی ،،،،ویسے ہر ملک میں جو میاں صاحب کے کاروباری کارندے ہیں ، جو کالا دھن کو سفید کرنے میں مددگار ہوتے ہیں ،،وہ سب سے زیادہ ورکر کے درمیان رکاوٹ کا اور نفرت کا سبب بنتے ہیں ،،اور یہی وہ لوگ ہیں ،،جن کے سپاسنامہ نہ پیش کرنے پر عام ورکر کو دکھ ہوتا ہے ،،اور مسایل حل نہیں ہوتے ،،کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو لیڈروں کو غلط  سبق پڑاہتے ہیں ، جس سے لیڈروں اور ورکر کے درمیان فاصلہ بھڑتا ہے ،،،میاں صاحب کے یہ کاروباری کارندے تقریبن   ہر ملک میں موجود ہیں ،،،اسی وجہ سے لیڈر صہی سمت سفر جاری نہیں رکھ سکتے ،،،،کاش میرے لیڈر اپنی عقل اور ذہنیت کا استمعال کریں ، یا ہر وقت اپنے قول و فھل میں تضاد نہ رکھیں ،،،اور عمر فاروق نہیں بن سکتے تو کوئی بات نہیں ،،کم از کم آخرت اور قبر کو تو یاد رکھیں ،،جب یہ حرکتیں لیڈروں کی دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ انقلاب ہی ان کو راستہ دکھاۓ گا انشااللہ ،،اگلی قسط جاری ہے ،،،،،،،،انشااللہ ،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان،، اطالیہ،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،٣٣٣٩،،،
ہو،،چاہے اپنی پارٹی کا ہو ،،،چاہے کوئی انجمن ،تنظیم ،،یونین ،،یا ویلفیئر ایسوسی ایشن ہو ،،اس ملک میں ہر کوئی عھدہ چاہتا ہے ،،،،مگر افسوس کہ عھدے کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کرتا ،،،عھدے کو استمال کرتا ہے ، صرف اپنے مفاد کی خاطر،،،اور عھدے کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا مرتے دم تک،،،،اس طرح مکمل ملک میں ٹیلینٹ ضائع ہو رہا ہے ،،،کم کرنے والے لوگ اوپر نہ
یں آتے،،،اور نہ کوئی مثبت کام ہوتا ہے ،،،،اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے ،،،یہ وجہ فساد کی جڑھ ہے ،،،اپس میں دشمنی پیدا ہوتی ہے ،،،اگر ہر تنظیم اپنے وقت پر الیکشن ایمانداری سے کرواے،،تو آدےمسایل حل ہو سکتے ہیں ،،اور اگر ہر کوئی اپنے عھدے سے انصاف کرے تو ملک کے تمام مسایل حل ہو سکتے ہیں ،،اے عھدے والو ، کیا آپ انصاف کر رہے ہیں ،،ذرا غور کر لو ،،،اب دیکھ لو ،سارے ملک میں کیا حال ہے ،،،مگر میرا صدر حلوہ کھا رہا ہے ، اور میرے وزیر بین بازی اور TV پر بک بک جاری ہے ،،الزام تراشی پر وقت زائع کیا جا رہا ہے ،،،،چھوٹے لیول پر آپ کو اک مثال دیتا ہوں ،،کہ عھدوں کی خطر جگھڑے بھی ہوۓ اور یہاں تک کے اٹلی میں چھریاں بھی چل چکی ہیں ،،اور پورے اٹلی میں ہمارا مذاق ہر روز ہماری حرکتوں کی وجہ سے اڑایا ب ہم ھی جا رہا ہے ،،مگر کوئی فرق نہیں پڑتا ،کون کہ ہم ابھی ٦٥ سالوں سے قوم بن ہی نہیں سکے ،،،،صرف ہمارے پاسس نعرے ہی نعرے ہیں ،،نعروں کی حد تک ہم آزاد ہیں ،،اور دن منانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ،،،یہ ہے ہماری اصلیت ،،،دکھ ضرور ہو گا ،،مگر سچ تو سچ ہے ،،،،،اے قوم کے ہیررو بدل لو اپنے آپ کو ،،ورنہ انقلاب تم کو مجبور کر دے گا ،،،سبز انقلاب کے لئے جدوجہد کر لو ،،ورنہ خونی انقلاب کے لئے تیار ہو جاؤ،،،اس ملک کے نظام نین تو آخر کر بدلنا ہے ،،تم اپنا حصّہ ڈال دو ،،،،قبر میں سرخرو ہو جاؤ گے ،،،،ورنہ آخرت کو مت بھولو،،،،،،،شکریہ ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میللان،،اٹلی ،،،،٣٢٠،،٣٣٧،،٣٣٣٩،،،،کاش کہ اتر جاے تیرے دل میں میری یہ بات ،،،،،

Friday, November 16, 2012

میاں صاحب کا جلسہ اٹلی ،،،حسبے وعدہ دوسری قسط حاضر ہے ،،،کیونکہ میں عادت سے مجبور جلسہ میں نہ جا سکا ،،کیونکہ بدمزگی پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا ،،اس لئے آج وہ سپاسنامہ جو سوالات کی شکل میں ہے ،،وہ پیش کرنے جا رہا ہوں ،،باقی جو کچھ ہوا ، یا سنا ، وہ اگلی قسط میں ملاحضہ فرمائیں گے ،،ستر ٧٠ کے قریب سوالات تھے ، مگر آپ کا دل نہ دھکھانے کی خطر کم کر رہا ہوں ،،تا کہ آپ ناراض نہ ہوں ،،اور یہ بھی تاثر نہ ملے،،کہ میں اپنی ذاتی نفرت کا اظہار کر رہا ہوں ،،تو ملاحضہ فرمائیں پہلا سوال ،،١،،کیا آپ اقتدار میں آ کر اس دفعہ اس فرسودہ ، گھٹیا ،،جاگیروںوالا نظام تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ،،٢،،کیا کالا باغ ڈیم بنا کر ملک میں انقلاب کی بنیاد رکھیں گے ،،٣،،خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کا عزم ہے یا نہیں ،،٤،،سفارتخانوں میں مشکلات اور ذلالت کو ختم کرنے میں کیا آپ کے ذہن میں کوئی اقدامات ہیں ،،٥،،کیا آپ سمجتے ہیں اور غلطی کا اطراف کرتے ہیں ، کہ آپ نیں پرویز مشرف اور مشاہد سید اور زرداری وغیرہ کو سمجنے میں غلطی کی ،،،٦،،کیا یہ سچ ہے کہ آپ چاپلوسی کو پسند کرتے ہیں ،،٧،،آپ یہ کب اقرار کریں گے کہ گوجرانوالہ کے ڈی،ائی،جی ،،چیمہ صاحب کو تبدیل کرنا آپ کی غلطی تھی ،،٨،،کیا یہ سچ ہے کہ آپ فیصلے کرتے وقت بزدلی ،،ناہلی ،،کمزوری ،،مصلحت پسندی اور ڈر خوف کے ساۓ میں کرتے ہیں ،،ملکی مفاد کو سامنے نہیں رکھتے ،،،٩،،کیا آپ نہیں سمجتے کہ اگر آپ زرداری اور ڈرون حملوں کے خلاف ،،بلوچستان اور کراچی کے مسلہ پر لانگمرچ کرتے تو گراف  میں اضافہ کر سکتے تھے ،،،١٠،،کیا یہ سچ نہیں ہے ،کہ پنجاب میں آپ کچھ بھی تبدیل نہیں کر سکے ،،لاءاور آرڈر کا مسلہ آپ سے حل نہ ہو سکا ،،کیونکہ آپ ہمیشہ فیصلے بیوروکرسی  کی مرضی سے کرتے ہیں ،،١١،،آپ کب تسلیم کریں گے کہ زرداری آپ کو انگلیوں پر نیچا رہا ہے ،،،اور وہ آپ کو مات دے چکا ہے ،،١٢،،آپ چاہتے تو زرداری کی جگہ جاوید ہاشمی کو صدر بنا سکتے تھے ،،مگر آپ ورکر کو آگے نہیں لاتے ،،سب سے قربانی اس نے دی،،آپ نیں کیا صلاح دیا ،،١٣،،پنجاب میں وزارت اولا دینے کے لئے آپ کو کوئی ایماندار ورکر خواجہ آصف یا خواجہ رفیق جیسا نظر نہ آیا ،،آپ کو صرف دوست کھوسہ ہی نظر آیا ،،یہ آپ کی نائنصفی سمجوں یا بد دیانتی یا مفاد پرستی ،،١٤،،کیا آپ کے ذہن میں یہ اتنی سی بات نہیں آ رہی کہ اس وقت ملک کو چوروں لٹیروں سے بچانے کے لئے اک وسیح تر اتحاد کی ضرورت ہے جو ایماندار سیاستدان پر مشتمل ہو ،،مگر آپ عمران خان پر کچر اچھال کر ملک کی کونسی خدمت کر رہے ہیں ،،اگر آپ آپس میں لڑتے رہے تو ملک کا نقصان مزید ہو گا ،،آپ قربانی کیوں نہیں دیتے،،اور عمران خان پر اتماد کیوں نہیں کرتے ،،اس کو موقعہ کیوں نہیں دیتے ،،،١٥،،میرے نزدیک آپ کی ایماندار سیاستانوں کے ساتھ لڑائی ملک کو برباد کر دے گی ،،،آپ کی اکیلی اڑان کا نشہ اقتدار ملک کو لے ڈوبے گا ،،،آپ خلیفہ نہیں بن سکتے تو آپ ہٹ دھرمی کیوں نہیں چھوڑ دیتے ،،١٦،،کیا آپ ١٩٤٧ لے کر اب تک احتساب پر یقین رکھتے ہیں ،،کیا آپ اسلہ اور پلاتّوں کی سیاست ختم کریں گے ،،،،،١٧،،کیا آپ اقتدار میں آ کر بحریہ ٹاون  کو بحریہ کے حوالہ  کر دین گے ،،اور ملک ریاض کے خلاف مقدمہ چلائیں گے ،،١٩،،جب تک انڈیا کشمیر اور پانی جیسے تمام مسلہ حل نہیں کرتا ،،کیا آپ زرداری کی طرح اس کو پسندیدہ ملک کا درجہ دینا پسند کریں گے ،،٢٠،،آپ کے پاس بیروزگاری ختم کرنے کا کیا پروگرام ہے ،،٢١،،اگر آپ باہر کے ملکوں میں رہنے والوں کو پلاٹوں کا کوٹا دینا چاہتے ہیں ، تو پلاٹوں کی تقسیم ہر ملک کے سفارتخانوں میں ضروری ہے ،،ہر کسی کو اس کی ڈیمانڈ پر پلاٹ دو اور ذرے مبادلہ   میں اضافہ کرو ،،٢٢،،اطالیہ میں ہم کو ایک کمرہ سفارتخانے میں آل اطالیہ پریس کلب کو دے دو ،،تا کہ ہم مسایل کے حل کے لئے سفارتخانے کی مدد کر سکیں ،،٢٣،،،اٹلی میں رہنے والوں کو ایک حال خرید کر دیا جاے،،تا کہ ہم اپنے بچوں کو تقریروں سے اقبال کے شاہین بنا سکیں ،،اور آل اطالیہ پریس کلب اس حال کو مئٹ دی پریس کے طور پر بھی استمعال کرے گی ،،کیونکہ ہمارے پاس کوئی پریس کلب کا دفتر موجود نہ ہے ،،،اس لئے مہمانوں سے سوالات نہیں کر سکتے ،،اور نہ صحیح طور پر آواز کو بلند  کر سکتے ہیں ،،اور نہ پاکستان کی آواز عالمی گماشتوں تک پنچا سکتے ہیں ،،،اس لئے جاتے جاتے ہماری یہ مدد کرتے جائیں ،،،آپ کا بے حد شکریہ ،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان اطالیہ ،،،،١٧،،١١،،٢٠١٢،،،،،،

Thursday, November 15, 2012

میاں صاحب کا جلسہ اٹلی ،،،،،،اس جلسے پر میرے دوستوں نیں کافی کچھ لکھا ،،،میں نین بھی لکھا ،،،اور بھوت کچھ مزید آپکو چند دنوں میں تحفہ دوں گا ،،،کیونکہ میں اس جلسے میں ذاتی طور پے نہیں گیا تھا ،،اس کی کافی وجوہات تھیں ،، وہ بھی اپ کے گوش گزار کروں گا ،،بے شک آپ کو ناگوار گزرے ،،،جو کچھ لوگوں سے سنا ہے ،، اس پر کافی کالم لکھے جا سکتے ہیں ،،،،گو کہ میں جلسے میں جانا چاہتا تھا ،،،مگر میرے اندر ایک جنگ جاری تھی ،،ایک تو میں جا کر تقریر کرنا چاہتا تھا ،،دوسرے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا ،،تیسرے دعوت کا بھی انتظار تھا ،،چوتھے اپنے لیڈر کا امتحان بھی لینا چاہتا تھا ،،،جس سے یقینن بد مزگی کا خدشہ تھا ،،جو میں نہیں چاہتا تھا ،،مگر چونکہ میں جذباتی آدمی ہوں ، اس لئے یہ کیسسے ممکن ہوتا ،کہ  میں جاؤں اور سوال بھی نہ کروں ،،اور ہووہ کھچ یوں کہ ایک مہربان نیں وعدہ کیا کہ آپ کو فون کیا جاے گا ،،آپ فکر نہ کریں ،،،اس سے میرا غصہ کھچ ٹھنڈا ہوا ،،اور میں نے اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کوشش کر لی ،،،کیونکہ ایک تو میں اپنی صحافت ،،کالم نگاری ،،اور تجزیہ نگاری کے فرض پر کاربند تھا ،،اور دوسری طرف  مجیے اپنے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کی واردات کا جواب چاہے تھا ،،جو یقینن میاں صاحب کے پاسس نہیں تھا ،،کیونکہ ایک سال گزر چکا ہے ، اور پنجاب گورنمنٹ مجھ کو جواب نہیں دے سکی ،،،،اس کا یہ مطلب نہیں ، کہ شریف برادران سے اس لئے نفرت کرتا ہوں ،،بلکہ یہ سچ ہے ،کہ وہ پنجاب میں قانون کی حکمرانی کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ،،اس کے ساتھ ہی یہ بھی عرض کرتا چلوں ،کہ عمران خان کو اس لئے نرم گوشہ میں رکھتا ہوں ،کیونکہ وہ ابھی بےقصور ہے ،اس کو آزمایا نہیں گیا ،،،جب وہ اقتدار میں آ کر کچھ نہ کر سکا ان کی طرح، تو وہ بھی ہماری قلم سے بچ نہیں سکے گا ،،،اس لئے جس کی منافقت دیکھی نہیں ،،اس کو برا کیوں کہوں ،،،بہرحال  ہوا یوں کہ جلسے سے اک دن پہلے  مہربان کا فون آ گیا ، کہ آپ کے شہر پیولتیلو میں خواجہ آصف اور دوسرے ایم،پی ،اے ، کے ساتھ ہوں ، اور یہاں ایک ڈنر ہے ، اس لئے آپ جلدی جلدی آ جائیں ،،ایک لمحے کے لئے  میں نیں سوچا اور مجھ کو بڑا غصہ آیا  اپنے مہربان پر ،،کہ جب آپ راستے میں تھے ، تب آپ نیں فون کیوں نہیں کیا ،،اور دوسرے میں اپنی ازتےنفس کے ہاتھوں مجبور تھا ، کہ  جو ڈنر کا میزبان ہے ، اس نے تو فون کیا نہیں ، میرا مہربان تو خود مہمان ہے ،اس لئے جاؤں کہ ،، نہ جاؤں ،،،اسی کشمکش میں فیصلہ کیا ،، کہ  نہیں جاؤں گا ،،،جلسے میں جاؤں گا ،،کیونکہ مجھ خواجہ آصف یا دوسرے ،،ایم،پی،،اے،،،کے ساتھ فوٹو کا شوق  تو تھا نہیں ،،اس لئے میں کیوں جاتا ،،،پھر میں نے یہ بھی  فیصلہ کر لیا کہ جلسے میں بھی میری وجہ سے بد مزگی ہو گی ،،اس لئے جانا مناسب نہیں ،،کیونکہ میرے پاس شریف برادران کی کافی کہانیاں موجود ہیں ،،کسی دوسرے کالم میں عرض کروں گا ،،،،،تو جلسے کے ایک ہفتے کے بعد پھر مہربان کا فون آیا ،،کہ ہمارے ساتھی صحافی بھائی اعجاز ورایچ کے بھائی کے افسوس کے لئے آل اطالیہ پریس کلب کی میٹنگ ہے ، آپ آئین،،،،،تو میں جب میٹنگ میں گیا ،،تو میں نیں     اپنی لکھی ہوی تحریر ان کے حوالے کر دی ،، کہ میاں صاحب کے جلسے کے لئے میرے جذبات یہ تھے ،،،،،،،،،،اس کے آگے دوسری قسط کل ملاحضہ کریں گے انشااللہ ،،،کل پیش کروں گا ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان،،اٹلی ،،،،١٥،،١١،،٢٠١٢،،،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،، 

Thursday, November 1, 2012

sharif brothers and naam neehhaadd muslim leage have always destroyed country,,,sharif brothers have done different type of corruption,,, like chhaanghhaa maanghaa,,,every time sharif brothers done corruption in election by the help of bearoucracy,,,i was wittness in one meeting, which was held in gujranwala,,and MPA,mehar saleem have told the chief minister punjab, mr, ghulam haider waaieen
, that DC,akhter ali moounga has recieved 50,000,00,,rupees for vinning the muslim leage in gujranwala,,,so mr,ghulamm haider waaieen CM,,have suspended dc gujranwala at the spot and ordered that why he have taken money,,he should help the muslim leage without recieving money,,,,when i have asked some question,,CM, REPLIED ME , AFTER I WILL SEE YOU,,so what they have done with me ,,tell you after,,,,,tomorrow other story,,,,

Tuesday, March 6, 2012

Bachpan ki wo ameeri na jaany kahan kho gai....Jab paani me hamary bhi jahaz chla krty thy...