Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, December 6, 2012


،،،،،،،،،،،،،،،،عمران خان اور زرداری ،.،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،کراچی میں بد امنی ، پنجاب میں ڈاکوؤں کا ہے جمہ بازار
،،،،،،اسلام آباد  میں کرپشن ، سرحد میں ڈالروں کا ہے کاروبار
،،،،،،ہے عالمی سازش ، شامل   ہے   اس  میں  میرا  بھی  غدار
،،،،بلوچستان میں دوست کے روپ میں دشمن ہے میرا خریدار
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،میں اپنے کئی کالم میں یہ ذکر کر چکا ہوں ،،کہ مجھ کو الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے ،،،اب یہ بھی لکھ دیتا ہوں کہ اگر آپ نے صاف شفاف ، اور خوں خرابے سے پاک  الیکشن کروانے ہیں ،،تو زرداری صاحب کو مزید پانچ سال کے لئے صدر بنانے کی گارنٹی دے دو ،،،کیونکہ آپ جو منافقت کا گڈھ جوڑ دیکھ رہے ہیں ،،اور وازیرے اعظم کے آزاد ہونے کی جو کہانیاں سن رہے ہیں ،،،،یہ سب بکواس ہے ،،،منافقت کا کاروبار صرف صدر صاحب کی اپنی ذات سے وابستہ ہے ،،ملکی مفاد کا اس سے کوئی ہیں ین نہ ہے رح سے خیال رکھنا ہے ،،گیلانی صاحب نے ذولفقار مرزا کے ٹریلر سے بھی سبق نہ سیکھا،،کہ زرداری صاحب نے اپنے خاص دوست کو بھی نہیں بخشه تھا ،،کیونکہ جتنا  کام ان کے سپرد کیا گیا تھا ،،مرزا صاحب اس سے ایک قدم آگے نکل گۓ تھے ،،،مرزا صاحب کو یہ نہیں کہنا چاہے تھا کہ سندھ کو قائم علی شاہ نہیں چلا رہے ، بلکہ بلاول ہاؤس میں بھٹھا ایک دوست چلا رہا ہے ،،،،،تو یہ میں نے سب  جملے ویسے ہی لکھ دے ہیں ،،کیونکہ آپ سب کو پتہ ہے کہ زرداری صاحب کو صرف صدارت کی کرسی سے پیار  ہے ،،اور وہ اپنے چار دوستوں کے علاوہ کسی پر عتماد نین کرتے ،،باقی اگر کوئی نہ سمجہ ،،تو اس کا میرے پاس کوئی حل نہ ہے ،،،اور سیاست میں سارے سیاستدانوں کے باپ ہیں ،،،یہ جو سارے چودری ،،چور اچکے ،،وڈیرے ،،جاگیردار ،،ان کے ارد گرد  جو بھی کام کرنا ہے ،،زرداری صاحب کو ہر بات سے آگاہ رکھنا ہے ،،،,اور جو جو زرداری صاحب کے خاص آدمی ہیں ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہے ،،گیلانی صاحب نے ذولفقار مرزا کے ٹریلر سے بھی سبق نہ سیکھا،،کہ زرداری صاحب نے اپنے خاص دوست کو بھی نہیں بخشه تھا ،،کیونکہ جتنا  کام ان کے سپرد کیا گیا تھا ،،مرزا صاحب اس سے ایک قدم آگے نکل گۓ تھے ،،،مرزا صاحب کو یہ نہیں کہنا چاہے تھا کہ سندھ کو قائم علی شاہ نہیں چلا رہے ، بلکہ بلاول ہاؤس میں بھٹھا ایک دوست چلا رہا ہے ،،،،،تو یہ میں نے سب  جملے ویسے ہی لکھ دے ہیں ،،کیونکہ آپ سب کو پتہ ہے کہ زرداری صاحب کو صرف صدارت کی کرسی سے پیار  ہے ،،اور وہ اپنے چار دوستوں کے علاوہ کسی پر عتماد نین کرتے ،،باقی اگر کوئی نہ سمجہ ،،تو اس کا میرے پاس کوئی حل نہ ہے ،،،اور سیاست میں سارے سیاستدانوں کے باپ ہیں ،،،یہ جو سارے چودری ،،چور اچکے ،،وڈیرے ،،جاگیردار ،،ان کے ارد گرد  دم ہلاتے پھیرے لیتے رہتے ہیں ،،،،اس سے یہ بات ثابت  ہوتی ہے کہ زرداری صاحب  جمہوریت کے آمر ہیں ،،،،یہ سب فوجی آمروں کے ارد گرد رہنے والے ، یہ بات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ،،اسی لئے جب تک زرداری صاحب صدر کی کرسی پر براجمان ہیں ،،یہ سب پانی بھرتے رہیں گۓ ،،اب زرداری صاحب کو کرنا کیا ہے ،،،وہ سب سے بہتر جانتے ہیں ،کہ کرسی کو مضبوط کس طرح کرنا ہے ،،سو وہ  کامیاب جا رہے ہیں ،،ملک رہے یا نہ رہے ،،یا مزید برباد ہو جاۓ ،،ان کی پلاننگ کامیاب جا رہی ہے ،،کیونکہ سب کی کمزوریاں اور شہ رگ زرداری  صاحب کے ہاتھ میں ہیں ،،،بڑے سردار کو کبھی بھی چھوٹے سردار گھاس نہیں ڈالتے ،،جب تک بڑا ان کو کنٹرول نہ کرنا جانتا ہو ،،عمران خان کی سونامی کو زرداری صاحب نے اچھی طرح استمعال کیا ہے ،،وہ جانتے ہیں ،کہ نواز اور عمران خان کی لڑائی ہے ان کے لئے کارآمد  ہے ،،اس لئے میڈیا میں جو بک بک ہوتی ہے ، اس میں عمران خان کے آدمی زرداری صاحب  کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے صرف نواز شریف کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ،،،،حالانکہ ایسا نہیں ہے ،،،،اور یہ بات بھی میں مانتا ہوں ،،کہ نواز گروپ نظام نہیں بدل سکتا ،،اور نہ ملک میں انقلاب لا سکتا ہے ،،،کیونکہ تمام چور لٹیرے ،،وڈیرے ، جاگیردار ،،صرف تین پارٹیوں میں زیادہ ہیں ،،،زرداری صاحب اور گجرات والے چودھری اور نواز شریف  کے پاس ہیں ،،باقی ولی خان گروپ اور کراچی والوں کا اپنا ایک انوکھا سٹائل ہے ،،،اور جس طرح زرداری صاحب کے گروپ نے ایک دینی جماعت کو اپنے ساتھ ملایا  ہے ،،اور جس طرح وہ اپنے خلاف ایک بڑا اتحاد نہ بنانے میں کامیاب ہوتے جایں گۓ ،،ہم الیکشن کی طرف  بڑھتے جایں گے،،،اور جب زرداری صاحب کو یہ نظر آ جاۓ گا ،،کہ شطرنج کا  کھیل ہاتھ سے نکل رہا ہے تو وہ ایسا جال پھیلاۓ گے کہ پاکستانی عوام دیکھتی رہ جاۓ گی ،،اور ھکی بکی رہ جاۓ گی ،،،،،،ایک ایسا کھل کھلا جاۓ گا ،،کہ آپ الیکشن بھول جایں گے ،،،،عمران خان صاحب کی مقبولیت اگر تھوڑی سی کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے ،،کہ انہوں نے زرداری صاحب کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا ہے ،،،ویسے ایک فایدہ تو ہر ایک کو نظر آ رہا ہے ،،جو زرداری صاحب کو  ملے گا ،،وہ ہے ایماندار ووٹ کی تقسیم ،،اگر ،مسٹر طاہر ال قادری صاحب ،،حمد گل ،،شیخ رشید صاحب ،،جماتے اسلامی ،،قدیر خان ،،عمران خان اور سندھ سے یّاز پلیجو وغیرہ ،،مل کر الیکشن لڑیں تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،اور بلوچستان میں بھی دو ایماندار پارٹیاں ہیں ،ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاۓ ،،،،،تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ،،ورنہ ازماے ہووے کھوٹے سکے ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،،،اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں جس طرح زرداری صاحب چاہتے ہیں ،،تو پھر چوں چوں کا مربہ ہو گا اور دم دم مست قلندر اور زرداری صاحب صدر ،،،،اور ہمارا  بیڑا غرق ہو گا ،،،،ہر کوئی بیتاب ہو گا ،،زرداری صاحب سے ملنے کے لئے ،،،،،،،صدر صاحب سے ملنے والوں کی ایک  لمبی قطار ہو گی ،،ہم اس دنیا میں ہوں یا نہ ہوں ،،مگر صدر صاحب کا حلوہ تیار کرنے والے ضرور ہوں گے ،،نواز شریف کے چمچو اور عمران خان کو مشورہ دینے والو آپس میں اتنا لڑو ،،کہ جب تک ملک کو ٹھیکھے پر نہیں دے دیا جاتا ،،،الیکشن کے بعد نواز شریف کا گھمنڈ اور عمران خان کی ہٹ دھرمی ،،دونوں طرف سے نکل جاۓ گی ،،اور ملک کا جنازہ نکل چکا ہو گا ،،،،اور ہم  تماشبین  آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ،،وقت کو  کوئی نہیں پڑھ رہا ،،،پاکستانی عوام کو مرتے ہووے کوئی نہیں دیکھ رہا ،،،اپنی اپنی انا میں خود بھی بہ جایں گے اور ملک بھی بہ جاۓ گا ،،خدا کے لئے حوش کے ناخن  لو ،،،ابھی وقت ہے ،،سنبھل جاو،،،نواز شریف کو قربانی دینی چاہئے ،،کیونکہ اس نے ابھی بھی سبق نہیں سیکھا ، تو  کب سیکھے گا ،،،کیونکہ اکیلا کوئی بھی اس  قابل نہیں ہو گا ،،کہ ملک کا نظام بدل سکے   سارے ملک سے صرف اکیلا شیخ رشید ہی بیچارہ واویلا کر رہا ہے ،،مگر افسوس کہ کوئی  اس کی آواز پر کان نہیں دھرنا چاہتا ،،،تو اگر نظام نہ بدلا ،،تو یہ الیکشن کس کام کے ،،،خدا کے لئے نوشہ دیوار پڑھ لو ،،،،سب کا فرض ہے مگر نواز شریف  پر بڑا  ہونے کے ناتے زیادہ فرض بنتا ہے ،،میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ،،اب تمہاری سمجھ میں بات نہ آے تو میں کیا کروں ،،،،،،،اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ،،ملک پر مزید برا وقت  آنے والا ہے ،،،اللہ خیر کرے ،،اللہ ہم سب کو اپنی حفظ ، امان ، میں رکھے،،،اور اس ملک کی حفاظت فرماے ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،،،،،،،
،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،نائب صدر ،،،آل اطالیہ  پریس کلب اطالیہ،،،،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،،،،،،،٠٦،،١٢،،٢٠١٢،،

،،،،،،،،،،،،،،،،عمران خان اور زرداری ،.،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،کرااور نہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں ،،ہم سب کو بیوقوف سمجہ جھا رہا ہے ،،اور بیوقوف بنایا جا رہا  ہے ،،،یہ وزیرے اعظم بنانے کا مقصد ہی صرف اتنا تھا ،کہ سارے مال پانی کا حساب زرداری صاحب کو دے گا ،،کیونکہ گیلانی صاحب نے کافی مال پانی اکٹھا کیا ،،مگر شاید کچھ حصہ پانی دینا بھول گے تھے ،،اس لئے ان کو گھر کا رستہ دکھانا مجبوری بن گیا تھا ،،اب ناراض ہیں تو ناراض رہیں ،،کیسے فرق پڑتا ہے ،،،جب تک ان کو عقل نہیں آے گی  تب تک وہ اب دھکے ہی کھاتے رہیں گے ،،پہلے   جب گیلانی صاحب  کو نیا نیا نشہ تھا ،،تو وہ رحمان ملک صاحب کی مداخلت کو بھی پسند نہیں کرتے تھے ،،مگرقت کا گڈھ جوڑ دیکھ رہے ہیں ،،اور وازیرے اعظم کے آزاد ہونے کی جو کہانیاں سن رہے ہیں ،،،،یہ سب بکواس ہے ،،،منافقت کا کاروبار صرف صدر صاحب کی اپنی ذات سے وابستہ ہے ،،ملکی مفاد کا او اس کی وجہ صرف یہ ہے ،،کہ انہوں نے زرداری صاحب کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا ہے ،،،ویسے ایک فایدہ تو ہر ایک کو نظر آ رہا ہے ،،جو زرداری صاحب کو  ملے گا ،،وہ ہے ایماندار ووٹ کی تقسیم ،،اگر ،مسٹر طاہر ال قادری صاحب ،،حمد گل ،،شیخ رشید صاحب ،،جماتے اسلامی ،،قدیر خان ،،عمران خان اور سندھ سے یّاز پلیجو وغیرہ ،،مل کر الیکشن لڑیں تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،اور بلوچستان میں بھی دو ایماندار پارٹیاں ہیں ،ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاۓ ،،،،،تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ،،ورنہ ازماے ہووے کھوٹے سکے ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،،،اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں جس طرح زرداری صاحب چاہتے ہیں ،،تو پھر چوں چوں کا مربہ ہو گا اور دم دم مست قلند بعد میں ان کو تھوڑی سی عقل آ گئی تھی ،،مگر دوسری بات کی طرف  ان کا دھیان نہ گیا تھا ،،کہ جو بھی کام کرنا ہے ،،زرداری صاحب کو ہر بات سے آگاہ رکھنا ہے ،،،,اور جو جو زرداری صاحب کے خاص آدمی ہیں ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہے ،،گیلانی صاحب نے ذولفقار مرزا کے ٹریلر سے بھی سبق نہ سیکھا،،کہ زرداری صاحب نے اپنے خاص دوست کو بھی نہیں بخشه تھا ،،کیونکہ جتنا  کام ان کے سپرد کیا گیا تھا ،،مرزا صاحب اس سے ایک قدم آگے نکل گۓ تھے ،،،مرزا صاحب کو یہ نہیں کہنا چاہے تھا کہ سندھ کو قائم علی شاہ نہیں چلا رہے ، بلکہ بلاول ہاؤس میں بھٹھا ایک دوست چلا رہا ہے ،،،،،تو یہ میں نے سب  جملے ویسے ہی لکھ دے ہیں ،،کیونکہ آپ سب کو پتہ ہے کہ زرداری صاحب کو صرف صدارت کی کرسی سے پیار  ہے ،،اور وہ اپنے چار دوستوں کے علاوہ کسی پر عتماد نین کرتے ،،باقی اگر کوئی نہ سمجہ ،،تو اس کا میرے پاس کوئی حل نہ ہے ،،،اور سیاست میں سارے سیاستدانوں کے باپ ہیں ،،،یہ جو سارے چودری ،،چور اچکے ،،وڈیرے ،،جاگیردار ،،ان کے ارد گرد  دم ہلاتے پھیرے لیتے رہتے ہیں ،،،،اس سے یہ بات ثابت  ہوتی ہے کہ زرداری صاحب  جمہوریت کے آمر ہیں ،،،،یہ سب فوجی آمروں کے ارد گرد رہنے والے ، یہ بات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ،،اسی لئے جب تک زرداری صاحب صدر کی کرسی پر براجمان ہیں ،،یہ سب پانی بھرتے رہیں گۓ ،،اب زرداری صاحب کو کرنا کیا ہے ،،،وہ سب سے بہتر جانتے ہیں ،کہ کرسی کو مضبوط کس طرح کرنا ہے ،،سو وہ  کامیاب جا رہے ہیں ،،ملک رہے یا نہ رہے ،،یا مزید برباد ہو جاۓ ،،ان کی پلاننگ کامیاب جا رہی ہے ،،کیونکہ سب کی کمزوریاں اور شہ رگ زرداری  صاحب کے ہاتھ میں ہیں ،،،بڑے سردار کو کبھی بھی چھوٹے سردار گھاس نہیں ڈالتے ،،جب تک بڑا ان کو کنٹرول نہ کرنا جانتا ہو ،،عمران خان کی سونامی کو زرداری صاحب نے اچھی طرح استمعال کیا ہے ،،وہ جانتے ہیں ،کہ نواز اور عمران خان کی لڑائی ہے ان کے لئے کارآمد  ہے ،،اس لئے میڈیا میں جو بک بک ہوتی ہے ، اس میں عمران خان کے آدمی زرداری صاحب  کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے صرف نواز شریف کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ،،،،حالانکہ ایسا نہیں ہے ،،،،اور یہ بات بھی میں مانتا ہوں ،،کہ نواز گروپ نظام نہیں بدل سکتا ،،اور نہ ملک میں انقلاب لا سکتا ہے ،،،کیونکہ تمام چور لٹیرے ،،وڈیرے ، جاگیردار ،،صرف تین پارٹیوں میں زیادہ ہیں ،،،زرداری صاحب اور گجرات والے چودھری اور نواز شریف  کے پاس ہیں ،،باقی ولی خان گروپ اور کراچی والوں کا اپنا ایک انوکھا سٹائل ہے ،،،اور جس طرح زرداری صاحب کے گروپ نے ایک دینی جماعت کو اپنے ساتھ ملایا  ہے ،،اور جس طرح وہ اپنے خلاف ایک بڑا اتحاد نہ بنانے میں کامیاب ہوتے جایں گۓ ،،ہم الیکشن کی طرف  بڑھتے جایں گے،،،اور جب زرداری صاحب کو یہ نظر آ جاۓ گا ،،کہ شطرنج کا  کھیل ہاتھ سے نکل رہا ہے تو وہ ایسا جال پھیلاۓ گے کہ پاکستانی عوام دیکھتی رہ جاۓ گی ،،اور ھکی بکی رہ جاۓ گی ،،،،،،ایک ایسا کھل کھلا جاۓ گا ،،کہ آپ الیکشن بھول جایں گے ،،،،عمران خان صاحب کی مقبولیت اگر تھوڑی سی کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے ،،کہ انہوں نے زرداری صاحب کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا ہے ،،،ویسے ایک فایدہ تو ہر ایک کو نظر آ رہا ہے ،،جو زرداری صاحب کو  ملے گا ،،وہ ہے ایماندار ووٹ کی تقسیم ،،اگر ،مسٹر طاہر ال قادری صاحب ،،حمد گل ،،شیخ رشید صاحب ،،جماتے اسلامی ،،قدیر خان ،،عمران خان اور سندھ سے یّاز پلیجو وغیرہ ،،مل کر الیکشن لڑیں تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،اور بلوچستان میں بھی دو ایماندار پارٹیاں ہیں ،ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاۓ ،،،،،تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ،،ورنہ ازماے ہووے کھوٹے سکے ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،،،اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں جس طرح زرداری صاحب چاہتے ہیں ،،تو پھر چوں چوں کا مربہ ہو گا اور دم دم مست قلندر اور زرداری صاحب صدر ،،،،اور ہمارا  بیڑا غرق ہو گا ،،،،ہر کوئی بیتاب ہو گا ،،زرداری صاحب سے ملنے کے لئے ،،،،،،،صدر صاحب سے ملنے والوں کی ایک  لمبی قطار ہو گی ،،ہم اس دنیا میں ہوں یا نہ ہوں ،،مگر صدر صاحب کا حلوہ تیار کرنے والے ضرور ہوں گے ،،نواز شریف کے چمچو اور عمران خان کو مشورہ دینے والو آپس میں اتنا لڑو ،،کہ جب تک ملک کو ٹھیکھے پر نہیں دے دیا جاتا ،،،الیکشن کے بعد نواز شریف کا گھمنڈ اور عمران خان کی ہٹ دھرمی ،،دونوں طرف سے نکل جاۓ گی ،،اور ملک کا جنازہ نکل چکا ہو گا ،،،،اور ہم  تماشبین  آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ،،وقت کو  کوئی نہیں پڑھ رہا ،،،پاکستانی عوام کو مرتے ہووے کوئی نہیں دیکھ رہا ،،،اپنی اپنی انا میں خود بھی بہ جایں گے اور ملک بھی بہ جاۓ گا ،،خدا کے لئے حوش کے ناخن  لو ،،،ابھی وقت ہے ،،سنبھل جاو،،،نواز شریف کو قربانی دینی چاہئے ،،کیونکہ اس نے ابھی بھی سبق نہیں سیکھا ، تو  کب سیکھے گا ،،،کیونکہ اکیلا کوئی بھی اس  قابل نہیں ہو گا ،،کہ ملک کا نظام بدل سکے   سارے ملک سے صرف اکیلا شیخ رشید ہی بیچارہ واویلا کر رہا ہے ،،مگر افسوس کہ کوئی  اس کی آواز پر کان نہیں دھرنا چاہتا ،،،تو اگر نظام نہ بدلا ،،تو یہ الیکشن کس کام کے ،،،خدا کے لئے نوشہ دیوار پڑھ لو ،،،،سب کا فرض ہے مگر نواز شریف  پر بڑا  ہونے کے ناتے زیادہ فرض بنتا ہے ،،میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ،،اب تمہاری سمجھ میں بات نہ آے تو میں کیا کروں ،،،،،،،اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ،،ملک پر مزید برا وقت  آنے والا ہے ،،،اللہ خیر کرے ،،اللہ ہم سب کو اپنی حفظ ، امان ، میں رکھے،،،اور اس ملک کی حفاظت فرماے ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،،،،،،،
،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،نائب صدر ،،،آل اطالیہ  پریس کلب اطالیہ،،،،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،،،،،،،٠٦،،١٢،،٢٠١٢،،

،،،،،،،،،،،،،،،،عمران خان اور زرداری ،.،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،کراچی میں بد امنی ، پنجاب میں ڈاکوؤں کا ہے جمہ بازار
،،،،،،اسلام آباد  میں کرپشن ، سرحد میں ڈالروں کا ہے کاروبار
،،،،،،ہے عالمی سازش ، شامل   ہے   اس  میں  میرا  بھی  غدار
،،،،بلوچستان میں دوست کے روپ میں دشمن ہے میرا خریدار
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،میں اپنے کئی کالم میں یہ ذکر کر چکا ہوں ،،کہ مجھ کو الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے ،،،اب یہ بھی لکھ دیتا ہوں کہ اگر آپ نے صاف شفاف ، اور خوں خرابے سے پاک  الیکشن کروانے ہیں ،،تو زرداری صاحب کو مزید پانچ سال کے لئے صدر بنانے کی گارنٹی دے دو ،،،کیونکہ آپ جو منافقت کا گڈھ جوڑ دیکھ رہے ہیں ،،اور وازیرے اعظم کے آزاد ہونے کی جو کہانیاں سن رہے ہیں ،،،،یہ سب بکواس ہے ،،،منافقت کا کاروبار صرف صدر صاحب کی اپنی ذات سے وابستہ ہے ،،ملکی مفاد کا اس سے کوئی لیں دین نہ ہے ،،اور نہ وزیرے اعظم آزاد ہیں ،،اور نہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں ،،ہم سب کو بیوقوف سمجہ جھا رہا ہے ،،اور بیوقوف بنایا جا رہا  ہے ،،،یہ وزیرے اعظم بنانے کا مقصد ہی صرف اتنا تھا ،کہ سارے مال پانی کا حساب زرداری صاحب کو دے گا ،،کیونکہ گیلانی صاحب نے کافی مال پانی اکٹھا کیا ،،مگر شاید کچھ حصہ پانی دینا بھول گے تھے ،،اس لئے ان کو گھر کا رستہ دکھانا مجبوری بن گیا تھا ،،اب ناراض ہیں تو ناراض رہیں ،،کیسے فرق پڑتا ہے ،،،جب تک ان کو عقل نہیں آے گی  تب تک وہ اب دھکے ہی کھاتے رہیں گے ،،پہلے   جب گیلانی صاحب  کو نیا نیا نشہ تھا ،،تو وہ رحمان ملک صاحب کی مداخلت کو بھی پسند نہیں کرتے تھے ،،مگر بعد میں ان کو تھوڑی سی عقل آ گئی تھی ،،مگر دوسری بات کی طرف  ان کا دھیان نہ گیا تھا ،،کہ جو بھی کام کرنا ہے ،،زرداری صاحب کو ہر بات سے آگاہ رکھنا ہے ،،،,اور جو جو زرداری صاحب کے خاص آدمی ہیں ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہے ،،گیلانی صاحب ن بات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ،،اسی لئے جب تک زرداری صاحب صدر کی کرسی پر براجمان ہیں ،،یہ سب پانی بھرتے رہیں گۓ ،،اب زرداری صاحب کو کرنا کیا ہے ،،،وہ سب سے بہتر جانتے ہیں ،کہ کرسی کو مضبوط کس طرح کرنا ہے ،،سو وہ  کامیاب جا رہے ہیں ،،ملک رہے یا نہ رہے ،،یا مزید برباد ہو جاۓ ،،ان کی پلاننگ کامیاب جا رہی ہے ،،کیونکہ سب کی کمزوریاں اور شہ رگ زرداری  صاحب کے ہاتھ میں ہیں ،،،بڑے سردار کو کبھی بھی چھوٹے سردار گھاس نہیں ڈالتے ،،جب تک بڑا ان کو کنٹرول نہ کرنا جانتا ہو ،،عمران خان کی سونامی کو زرداری صاحب نے اچھی طرح استمعال کیا ہے ،،وہ جانتے ہیں ،کہ نواز اور عمران خان کی لڑائی ہے ان کے لئے کارآمد  ہے ،،اس لئے میڈیا میں جو بک بک ہوتی ہے ، اس میں عمران خاندم ہلاتے پھیرے لیتے رہتے ہیں ،،،،اس سے یہ بات ثابت  ہوتی ہے کہ زرداری صاحب  جمہوریت کے آمر ہیں ،،،،یہ سب فوجی آمروں کے ارد گرد رہنے والے ، یہ بات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ،،اسی لئے جب تک زرداری صاحب صدر کی کرسی پر براجمان ہیں ،،یہ سب پانی بھرتے رہیں گۓ ،،اب زرداری صاحب کو کرنا کیا ہے ،،،وہ سب سے بہتر جانتے ہیں ،کہ کرسی کو مضبوط کس طرح کرنا ہے ،،سو وہ  کامیاب جا رہے ہیں ،،ملک رہے یا نہ رہے ،،یا مزید برباد ہو جاۓ ،،ان کی پلاننگ کامیاب جا رہی ہے ،،کیونکہ سب کی کمزوریاں اور شہ رگ زرداری  صاحب کے ہاتھ میں ہیں ،،،بڑے سردار کو کبھی بھی چھوٹے سردار گھاس نہیں ڈالتے ،،جب تک بڑا ان کو کنٹرول نہ کرنا جانتا ہو ،،عمران خان کی سونامی کو زرداری صاحب نے اچھی طرح استمعال کیا ہے ،،وہ جانتے ہیں ،کہ نواز اور عمران خان کی لڑائی ہے ان کے لئے کارآمد  ہے ،،اس لئے میڈیا میں جو بک بک ہوتی ہے ، اس میں عمران خان کے آدمی زرداری صاحب  کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے صرف نواز شریف کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ،،،،حالانکہ ایسا نہیں ہے ،،،،اور یہ بات بھی میں مانتا ہوں ،،کہ نواز گروپ نظام نہیں بدل سکتا ، ہر ایک کلک میں انا ہے ،،جو زرداری صاحب کو  ملے گا ،،وہ ہے ایماندار ووٹ کی تقسیم ،،اگر ،مسٹر طاہر ال قادری صاحب ،،حمد گل ،،شیخ رشید صاحب ،،جماتے اسلامی ،،قدیر خان ،،عمران خان اور سندھ سے یّاز پلیجو وغیرہ ،،مل کر الیکشن لڑیں تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،اور بلوچستان میں بھی دو ایماندار پارٹیاں ہیں ،ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاۓ ،،،،،تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ،،ورنہ ازماے ہووے کھوٹے سکے ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،،،اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں جس طرح زرداری صاحب چاہتے ہیں ،،تو پھر چوں چوں کا مربہ ہو گا اور دم دم مست قلندر اور زرداری صاحب صدر ،،،،اور ہمارا  بیڑا غرق ہو گا ،،،،ہر کوئی بیتاب ہو گا ،،زرداری صا گا ،،کہ آپ الیکشن بھول جایں گے ،،،،عمران خان صاحب کی مقبولیت اگر تھوڑی سی کم ہوئی ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے ،،کہ انہوں نے زرداری صاحب کو نشانہ بنانا چھوڑ دیا ہے ،،،ویسے ایک فایدہ تو ہر ایک کو نظر آ رہا ہے ،،جو زرداری صاحب کو  ملے گا ،،وہ ہے ایماندار ووٹ کی تقسیم ،،اگر ،مسٹر طاہر ال قادری صاحب ،،حمد گل ،،شیخ رشید صاحب ،،جماتے اسلامی ،،قدیر خان ،،عمران خان اور سندھ سے یّاز پلیجو وغیرہ ،،مل کر الیکشن لڑیں تو ملک میں انقلاب آ سکتا ہے ،،اور بلوچستان میں بھی دو ایماندار پارٹیاں ہیں ،ان کو بھی ساتھ شامل کیا جاۓ ،،،،،تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے ،،ورنہ ازماے ہووے کھوٹے سکے ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،،،اگر الیکشن ہو بھی جاتے ہیں جس طرح زرداری صاحب چاہتے ہیں ،،تو پھر چوں چوں کا مربہ ہو گا اور دم دم مست قلندر اور زرداری صاحب صدر ،،،،اور ہمارا  بیڑا غرق ہو گا ،،،،ہر کوئی بیتاب ہو گا ،،زرداری صاحب سے ملنے کے لئے ،،،،،،،صدر صاحب سے ملنے والوں کی ایک  لمبی قطار ہو گی ،،ہم اس دنیا میں ہوں یا نہ ہوں ،،مگر صدر صاحب کا حلوہ تیار کرنے والے ضرور ہوں گے ،،نواز شریف کے چمچو اور عمران خان کو مشورہ دینے والو آپس میں اتنا لڑو ،،کہ جب تک ملک کو ٹھیکھے پر نہیں دے دیا جاتا ،،،الیکشن کے بعد نواز شریف کا گھمنڈ اور عمران خان کی ہٹ دھرمی ،،دونوں طرف سے نکل جاۓ گی ،،اور ملک کا جنازہ نکل چکا ہو گا ،،،،اور ہم  تماشبین  آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ،،وقت کو  کوئی نہیں پڑھ رہا ،،،پاکستانی عوام کو مرتے ہووے کوئی نہیں دیکھ رہا ،،،اپنی اپنی انا میں خود بھی بہ جایں گے اور ملک بھی بہ جاۓ گا ،،خدا کے لئے حوش کے ناخن  لو ،،،ابھی وقت ہے ،،سنبھل جاو،،،نواز شریف کو قربانی دینی چاہئے ،،کیونکہ اس نے ابھی بھی سبق نہیں سیکھا ، تو  کب سیکھے گا ،،،کیونکہ اکیلا کوئی بھی اس  قابل نہیں ہو گا ،،کہ ملک کا نظام بدل سکے   سارے ملک سے صرف اکیلا شیخ رشید ہی بیچارہ واویلا کر رہا ہے ،،مگر افسوس کہ کوئی  اس کی آواز پر کان نہیں دھرنا چاہتا ،،،تو اگر نظام نہ بدلا ،،تو یہ الیکشن کس کام کے ،،،خدا کے لئے نوشہ دیوار پڑھ لو ،،،،سب کا فرض ہے مگر نواز شریف  پر بڑا  ہونے کے ناتے زیادہ فرض بنتا ہے ،،میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ،،اب تمہاری سمجھ میں بات نہ آے تو میں کیا کروں ،،،،،،،اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ،،ملک پر مزید برا وقت  آنے والا ہے ،،،اللہ خیر کرے ،،اللہ ہم سب کو اپنی حفظ ، امان ، میں رکھے،،،اور اس ملک کی حفاظت فرماے ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،،،،،،،
،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،نائب صدر ،،،آل اطالیہ  پریس کلب اطالیہ،،،،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،،،،،،،٠٦،،١٢،،٢٠١٢،،

Tuesday, December 4, 2012


،،،،،،،،،،اگر میں وزیرے اعظم ہوتا ،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،پہلے دن ہی چند حکم صادر فرماتا ،،١،،،ہر قسم کے اسلہ پر پابندی  لگا دیتا ،،٢،،.چوبیس گھنٹے کے اندر پولیس سٹیشن میں اسلہ جمع کروانے کا حکم دیتا ،،٣،،فرھنگی نظام تبدیل کر دیتا ،،اس کی تفصیل اگلی قسط میں ،،٤،،تمام یونین قونصل بھال کر دیتا ،،سارے فیصلے یونین کونسل کی سطح پر کروانے کا حکم دیتا ،،٥،ہر یونین کونسل کو آزاد خودمختار بنا دیتا ،،٦،،پی ،ایچ،ڈی،،سے لے کر مزدور تک کی بھرتی کو یونین کونسل کی سطح پر میریٹ پر کر دیتا ،،٧،،ہر یونین کونسل کا اپنا جج ، اور اپنی پولیس اور اپنا انصاف کا نظام بنانے کی درخوست کرتا ،،،٨،،پلاٹوں قرضوں کی سیاست کا خاتمہ کر دیتا ،،٩،،تمام جاگیریں بحق سرکار ضبط کر لیتا ،،١٠،،ہر زمیندار کو بارہ ایکڑ اراضی کا  مالک بنا دیتا ،،١١،،بقیہ زمین آرمی کے کنٹرول میں دے دیتا ،،اس کا علیحدہ نظام بنا دیتا ،،١٢،،کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر شروح کروا دیتا ،،کالاباغ ڈیم پر مخالفت کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکا دیتا ،،١٣،،انڈیا کے ساتھ تمام دروازے بند کر دیتا ،،جب تک مسلہ کشمیر اور پانی کا حل نہ کرتا ، اور پاکستان کے اندر مداخلت بند نہ کرتا ،،سفارت خانے بھی بند کر دیتا انڈیا کے ساتھ ،،،١٤،،حسین حقانی کی ضمانت دینے والی اور بک بک کرنے والی عاصمہ جہانگیر کو پھانسی پر لٹکا  دیتا ،،١٥،،ہر تھانیدار کی تھانے میں مستقل تقرری کر دیتا ،،کوئی اس کو تبدیل نہ کر سکے ،،،١٦،،تھانے دار کو علاقے کی ذمداری دے دیتا ،،،اپنے علاقے کو انصاف نہ دے سکنے پر  تھانے دار یا سیدھا گھر جاتا ، یا جیل میں ،،تیسرا کوئی رستہ نہ ہوتا ،،١٧،،ہر کارپوریشن  کے پاسس اپنی ایک فیکٹری ہوتی ،،١٩،،انصاف سات دن کے اندر ہوتا ،،،٢٠،،ایک دفعہ تمام جیلیں خالی کر دیتا ،،٢١،،٦٥ سالوں سے کرپٹ لوگوں کو سات دن کی مہلت دیتا ،،پاکستان کی رقم واپس کرنے کی ،،،اس کے بعد پھانسی ،،تمام جائداد  ضبط ،،،٢٢،،پاکستان کے ٢٥ صوبے بنا دیتا ،،ان  کا ایک اپنا نظام میرے پاس ہے ،،،٢٣،،ہر یونین کونسل سے برابری کی بنیاد پر لوگوں کو ملازمت کا موقعہ فراہم  کیا جاتا ،،٢٤،،ہر یونین کونسل کے پاس ہر قسم کی گراؤنڈ اور ہر قسم کا کھلاڑی ہوتا ،،٢٥،،،،جج اور دوسرے سیاستدان ایمانداری کی سند لے کر ووٹوں کے زریح منتخب ہوتے ،،٢٦،،کن ٹوٹہ،بدمعاش کو کہہن بھی گنجایش نہ ہوتی ،،،بلکہ جب آپ اسلہ اور جاگیر لے لو گے ،،بدمعاش ختم ہو جایں گے ،،٢٧،،ہر بجلی کا دفتر ،،گیس کا دفتر ،،بلنگ ،،،نفح نقصان یونین کونسل کو دے دیتا ،،،٢٩،،ہر بچے کے پیدا ہونے پر ٹیکس کا نمبر جاری ہو جاتا ،،ہر آدمی ہر مہینے کی بنیاد پر ٹیکس نافذ ہوتا ،،٣٠،،پنشن ،صحت ،تعلیم ،حکومت کی ذمہداری ہو جاتی ،،،اور بھوت سے کام پہلی رات میں ہو سکتے ہیں ،،نظام بدلنا کوئی بڑا کام نہ ہے ،،صرف کپتان کا ایماندار ہونا ضروری ہے ،،،٣١،،سونے تامبے ،اور دوسرے معدنی ذخیروں کے ٹھیکہ منسوخ  کر دیتا ،،نے سرے سے پاکستانی کمپنی کو ایمانداری اور گارنٹی کے ساتھ عوام کی شمولیت سے اس کو چلانے کے لئے نظام دیتا ،،،٣٢،،بجلی ، گیس کا یونین کونسل کی سطح پر پریویٹ کر دیتا ،،چوری ختم ہو جاتی ،،،،٣٣،،گھروں اور پلاٹوں اور زمینوں کا ٹیکس یونین کونسل کی سطح پر اکٹھا  کر کے  کے وفاق کو جاتا ،،٣٤،،ہر یونین کونسل کی کارکردگی کی تشہیر  ہوتی ،،،،٣٥،،حکومت کا اپنا اخبار ہوتا ،،حکومت کسی اخبار کو اشتہار نہ دیتی ،،٣٦،،ٹھیکوں کی کمیٹیوں کے ضریح الاٹ ہوتی ،،کمیشن ختم ،،نگرانی کے لئے عوام کی مدد کا نظام ،،،٣٦،،،تمام ویلفیر ،،رفاہی ادارے ،انسانی حقوق کی تنظیمیں ختم ،،سیکورٹی اور رقم کی گارنٹی سے نیا نظام کے ساتھ روشناس کرواتا ،،،،،،حتہ کہ بوھت سارے کام بڑے دل گردے کے ساتھ کرنے والے ہیں ،،ایک رات میں ہو سکتے ہیں ،،کیسے ،،،،،یہ بعد میں ،،،،،،انشااللہ ،،،،،،،،،،،،
،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،نائب صدر ،،آل اطالیہ پریس کلب اطالیہ ،،،،،،،،
،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،،،،،،٠٤،،١٢،،،٢٠١٢،،،،،

Sunday, December 2, 2012


،،،،،،،،،،،،،،،،،،طالبان اور خلائی مخلوق ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،تیسری اور آخری قسط ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،ہر روز آتی ہے اک تازہ خبر ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،ہر روز آگ میں جلتا ہے میرا گھر،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،ہر روز کھیلی جاتی ہے خون کی ہولی ،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،ہر روز ہوتا ہے اک نےا انقلاب کا گزر ،،،،،،،،،
،،،پچھلے کالم میں خدا سے کیہ رہا تھا ،،کہ یا تو میرے مولا اس ملک میں سبز انقلاب سے نظام بدل دے ،،یا پھر مجھے موت دے دے ،،میں نے بےغیرت خلائی مخلوق کے ہاتھوں مزید اپنے ملک کی  زلالت نہیں دیکھی جاتی ،،خلائی مخلوق اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ملازمت کر رہی ہے ،،یہ کسی جزبہ کے تحت نہیں کر رہے ،،یہ خلائی مخلوق کیوں پاکستان کے خلاف دشمن کی مدد کر رہی ہے ،،یا کیوں ملازم ہو چکی ہے ،،اس کی وجہ واضح ہے ،،جب میرے حکمران خود عالمی سازش کی مدد کر رہے ہیں ،،اور حکمرانوں کی دولت بھر کے ملکوں میں ہے ،،انھیں عوام سے کوئی دلچسپی نہ ہے ،،،نہ بجلی ،گیس،،نہ روزگار ،،،تو پھر عوام نے تو کسی نہ کسی سے تنخاہ لینی ہے ،،اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ کو تو بجھانا ہے ،،،عوام نفرت کے جذبے  سے سرشار  کی گئی ،،،میرے سینے پر نفرت کا میڈل سجانے والا کوئی اور نہیں ،،میرا غدار حکمران ہے ،،،ایک دن میں نے اپنے دوست حامد میر سے ایک پروگرام کرنے کی خواہش  کا اظہار کیا ،،تو اس نے اک لفظ کہا تھا ،،سپونسر ،،،،یہ ہے میڈیا کی مادیت پرستی ،،،،یہ حکمرانوں سے نفرت کا عالم ہے ،،کہ لوگ ریموٹ کونٹرول سے اپنے ساتھ چند  غداروں کو جھنم میں ساتھ لے کر جانا مرنا پسند کرتے ہیں ،،کیونکہ اگر ہم سب ،،،عاصمہ جہانگیر ،،عتزاز حسن،،حسسیں حقانی ،،عامر لیاقت ،اینکر حضرات ،،میڈیا مالکان ،،کالم نگار ،،سب نے یہی کرنا ہے ،،تو خلائی مخلوق بھی سہی کر رہی ہے ،،کیا فرق ہے ان میں اور خلائی مخلوق میں ،،،،جج ،جرنیل ،بیوروکریٹ ،،اگر سب بکتے ہیں تو خلائی مخلوق بھی ڈالر کی خاطر اپنا حصہ ڈال رہی ہے ،،یہ جہادی جزبہ نہ ہے ،یہ جزبہ نفرت ہے ،،پچھلے دنوں اک خبر نظر سے گزری تو حیران ہوا کہ دنیا میں مالی بحران کی وجہ سے صرف چند ملکوں میں ترقی کا کام جاری ہے ،،اس میں افغانستان کا نام تھا ،، واہ میرے پاکستانی عوام تجھے تیری بربادی پر اور امید پر مبارک باد،،،،جشن مناتے جاؤ ،،،ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سکتے کے عالم میں دیکھتے جاؤ ،،یا فالج کے گرنے کا یا اپاہج ہونے کا انتظار کرو ،،،یہ جنگ ہماری نہ ہے ،،یہ بغیرتی ہے ہماری ،،،،یہ تو ہو نہیں سکتا کہ عوام کسی مشن کے لئے سڑکوں پر نکلیں اور کامیاب نہ ہوں ،،،،انقلاب کے لئے نکلنا ہو گا ،تب جا کر نظام بدلے گا ،،،،،پروگرامموں کی اور حکمرانوں کی بک بک سے نظام نہ بدلے گا ،،،،
،،میرا ذوق ے انقلاب اک دن شباب  ے ملت بنا دے گا ،،،،،،،،،،،
،،،حکمران کے لئے سامان  ے ذلت بنا دے گا ،،،،،،،،
،،،،،،،،،قلت ہے ہر شے کی ، ہر طرف ہے  دشمن ،،،،،،
،،،،،،،اک دن غیرت ملی  کی بھی قلت بنا دے گا ،،،،،،،
،،،،،،خود ہی لے آؤ انقلاب ، وقت ہے ابھی ،،،،،،،
،،،،،،ورنہ  دشمن  دہشت گردوں کی  عدالت بنا دے گا ،،،،،،،،،،
،،،،،،،کہاں  چھپاؤ گے  اس دولت کو ہمیشہ ،،،،،،،،،،،،،
،،،،،یہی ڈالر تم کو نشان  ے عبرت  بنا  دے  گا ،،،،،،،
،،،،،،صحیح وقت پر عوام کی مدد کے لئے آے گا دشمن ،،،،،
،،،ووہی دوست  تمہارے لئے قبر ے ندامت بنا دے گا ،،،،
،،،،میرے حکمران سمجھ جا ،،،صدام ،،،قذافی ،،کا جایزہ  لے لے ،،،،،،،وہ بھی اسلہ لگا کر گوما کرتے تھے ،،،اسلہ کسی کی جان نہیں بچا سکتا ،،،،،مت دے لائسنس ،،مت دے عوام کو اسلہ ،،یہی اسلہ تمہارے خلاف استمعال ہو گا ،،،،،مت بنا قوم کو طالبان ،،ورنہ  دشمن  خلائی مخلوق بنا دے گا ،،،،،،،،،سوچ میری درخااست پر ،،،،،،،،
،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،نائب صدر ،،آل اطالیہ پریس کلب اطالیہ ،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،٠٢،،١٢،،٢٠١٢،،،،،

Saturday, December 1, 2012


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،طالبان اور خلائی مخلوق ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،دوسری قسط ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،کچھ تو ہے ،،جس کی پردہ داری ہے ،،ورنہ غیرت مند قومیں فیصلہ کرنے میں اتنی دیر تو نہیں کرتیں ،،کس وقت کا انتظار کیا جا رہا ہے ،،،دشمن اتنے بڑے بڑے منصوبے بنا کر فساد پرپا کر رہا ہے ،،اتنا ہر روز خوں بھا رہا ہے ،،،یہ کون بےغیرت ، کمینہ،،کر رہا ہے ،،کوئی تلاش ہی نیں کر رہا ،،کہ دیکھو کہیں ڈالر کے لالچ میں ہمارے درمیان وہ لوگ تو نہیں ہیں ،،،یقیننن اس میں کوئی شک نہیں ،،ہم اس کھل میں شامل ہیں ،،یہ ایک جال گھنونا  پھیلا دیا گیا ہے ،،،جس کو مرضی مار دو ،،اغواہ کر لو ،،رقم ہتھیا لو ،،قانون اپنے ہاتھ لے لو ، اور بدنام اس خلائی مخلوق کو کر دو ،،،یہ کوئی چھوٹا کام نہیں ہے ،،اس میں پلاننگ کے ساتھ پاکستان کو برباد کیا جا رہا ہے ،،مگر استمعال میں اور آپ ہو رہے ہیں ،،دنیا میں پاکستان کا نام ذلیل ہو رہا ہے ،،،بنگلادیش اگے نکل چکا ہے ،،چند مہینوں بعد آپ دیکھ لیں ،،کہ افغانستان بھی آگے نکل جاۓ گا ،،اور ہم کہاں کس حالت میں ہوں گے ،،یہ کسی دانشور سے پوچھ لیں ،،،یا پھر ناامیدی گناہ ہے کی موم بتی جلا کر اپنی اپنی موت کا انتظار کرو ،،میں خود اتنا دکھی ہوں ، کہ پاکستان کے حاکموں کے لئے دعا بھی نہیں کر سکتا ،،کیونکہ میرے غیر میں بھی آپ کی طرح تین ایم ایس سی اور ایک بی اے ، بیروزگار پڑا ہوا ہے ،،نومید ہو چکا ہوں ،،دیکھ لو بلوچستان اور کراچی میں کیا ہو رہا ہے ،،کبھی کبھی ٹریلر  دوسرے شہروں میں بھی چلا دیا جاتا ہے ،،،اب نہ دوا اور نہ دعا کی ضرورت ہے ،،اب بڑے اپریشن کی ضرورت ہے ،،پارلیمنٹ کے سامنے انقلاب کے لئے آواز بلند کرنا ہو گی ،،یا پھر تھوڑا تھوڑا ٹھیکے پر دینے کی بجاۓ،،اس پیاری مٹی کو ،،خزانوں سے مالا مال سرزمین کو ٹھیکے پر دے دیا جاۓ ،،نہ رہے گا بانس  اور نہ بجے  گی بانسری ،،،ساری مشکلات کا آسان حل ،،،،ورنہ حکمران کہیں گے کہ قوم انقلاب کے لئے خون بہانا چاہتی ہے ،،،،کیونکہ انقلاب کے بغیر جتنا ناحق خوں بہ  چکا ہے ،،وہ حکمران کو نظر نہیں آتا ،،،ٹھیکے پر دینے سے قرضوں کی لعنت ،،بغیرتوں کی لعنت ،،میڈیا کی بک بک  سے چھٹکارا مل جاۓ گا ،،،اگر انقلاب کے لئے کوئی فرشتہ نہ آیا ،،تو ہم دو سو سال کے لئے یرغمال بنا لئے جایں گے ،،اگر ہم ریمنڈ ڈیوس اور رمشا مسیح کے لئے کوئی ڈرامہ رچا سکتے ہیں تو میرے مولا دیر کس بات کی ہے ،،تو بھی یا تو لوط یا نوح الہ سلام کی طرح کوئی طوفان بیجھ دے ،،یا پھر امام حسین کی طرح سر کٹانے کی طرح کا جزبہ دے دے ،،،یا کوئی عمر فاروق بیجھ دے ،،یوروپ میں تو کتا بھی بھوکا نہیں مرتا ،،ہمارے بچے  بھوکے مر رہے ہیں ،،یا اللہ اتنا امتحان نہ لے ،،،اگر ہم سے کوئی بڑا گناہ ہو چکا ہے ،،تو سزا بھی ایک دم دے دے ،،ترسا ترسا کر نہ مار ،،،،دنیا میں پاکستان کی ذلت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ،،طالبان نما خلائی مخلوق کو چلانے والوں کو اور جو اس کی آڑ میں فائدے اٹھا رہے ہیں ،،ان کو خود ہی بےنقاب کر دے ،،مجھ میں ہمت نہ ہے ،،،،،،،،،،،اپنے حکمران سے گزارش کرتا ہوں ،،،،،،میں نے اپنی کتاب انقلاب کارواں  میں لکھا تھا ،،،،،،،،
،،،،،،،،انقلاب کے لئے خون بہانا کوئی ضروری ہے ،،،،،،
،،،،،،،،بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے ،،،،،،
،،،،،،،،جب    یقین     ہے    کہ     موت      نے         آنا       ہے ،،،،،
،،،،،،،،تو پھر زندگی کا جشن منانا کوئی      ضروری   ہے ،،،،،،،
،،،،،،،جاری ہے ،،تیسری قسط کل ملاحضہ فرمایں،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،نائب صدر ،،آل اطالیہ پریس کلب اطالیہ ،،،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،٣٣٧،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،٠١،،١٢،،٢٠١٢،،،،،،،

Friday, November 30, 2012


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،طالبان اور خلائی مخلوق ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،ویسے تو میں نے اپنی ایک  کتاب  انقلاب ے پاکستان  میں ایک غزل لکھی تھی ،،جس میں لکھا تھا ،،کہ ،،،،،،،،،،،،،
،،،،نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب افکار نہیں ہوتا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،، بہہ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو بیکار نہیں ہوتا ،،،،،،،،،
،،اس کے لکھنے سے تو میری زندگی میں اک انقلاب برپا کر دیا تھا ،،،مگر یہاں جو انقلاب طالبان کی شکل میں دیکھ رہا ہوں ،،اس سے کئی سوال جنم لے چکے ہیں ،،یہ اک راز ہے ،،اس سے پردہ اس وقت اٹھے گا ،جب کوئی غیر ملکی جرنلسٹ ، وکی لیک کی طرح راز افشاں کرے گا ،،کیونکہ اگر میری طرح کا کوئی عام آدمی عام کالم نگار کوئی بات لکھے گا تو گراں گزرے گی ،،اور فرعون طیش میں آ جایں گے ، کیونکہ عام آدمی پے ، فرعون کو جلد غصہ آ جاتا ہے ،،،تو میری نظر میں کچھ چند ایک اور سوچ کے لوگ اور کچھ خلائی مخلوق ہیں ،،اس لئے کہ مجھ جیسے بیوقوف کو آج تک یہ پتا نہ ہے ،،کہ کون بیان دیتا ہے ،،اور کون تردید کرتا ہے ،،اور تردید کو میرا حکمران مانتا نہیں اور بیان دینے والے کو سامنے نہیں لاتا ،،یہ طالبان نما خلائی مخلوق کہاں سے فیڈ ہوتی ہے ،،کافی سوالات ہیں ،،جن کے جوابات اک عام آدمی چاہتا ہے ،،مگر میڈیا  کی تیز آندھی ان جوابات کو بھا لے جاتی ہے ،،،ملالہ وغیرہ کے قصہ کہانیاں کیوں بنائی جاتی ہیں ،،،،طالبان کے ہمدرد کہلوانے والے مولانا فضل رحمان جب تک حکومت کا ساتھ دیتے ہیں ،،تو کوئی حملہ نہیں ہوتا ،،جب ساتھ دینا چھوڑنا چاہتے ہیں ،،تو یہی  خلائی مخلوق طالبان کے ذریے حملہ ہو جاتا ہے ،،یہ کون کرواتا ہے ،،،،کبھی کٹی پہاڑی والا ٹریلر ،،کبھی نبیل گبول والا ٹریلر ،،کبھی ذولفقار مرزا والا ٹریلر ،،کبھی فیصل رضا عابدی،،کبھی لیاری والا ٹریلر ،،اور قاضی حسین احمد پر حملہ ،،،،کبھی جماعت اسلامی پر طالبان ہمدرد ہونے کا الزام ،،،کچھ گڑ بڑھ  ہے ،،میری سمجھ سے بالا تر ہے ،،یا میرے اندر حوصلہ ،، طاقت ،،جرات ، نہ ہے ،،میں بزدل ،،کمزور ،،لاچار  ہوں ،،میرے لب سیے ہوۓ ہیں ،،یا میرے قلم کو ڈالروں سے  خریدا گیا ہے ،،،مگر میرے مللک کے نامور کلام نگار تو بکے ہوۓ نہیں ہیں ،،وہ کیوں نہیں بولتے ،،'''،،رہنے دو یار ،،رازوں سے پردہ نہ اٹھاؤ،،،،میں کیوں لکھوں ، میری کیا مجبوری ہے ،،جھنم میں جاۓ ایسا حکمران ے  پاکستان ،،اس نے مجھے کیا دیا ہے ،،،،بھوک ننگ ،،افلاس ،،ساری دنیا میں بغیرتی کا ماڈل یا میڈل،،،،میں بکا ہوا ہوں ،،یا بکنے کے لئے تیار ہوں ،،مادیت پرست ہو چکا ہوں ،،براۓ نام مسلمان رہ چکا ہوں ،،،،کیونکہ جب کبھی یہی طالبان سچ بولنا  ہے ،،تو ختم کر دیا جاتا ہے ،،جس طرح کمانڈر مسعود کے ساتھ ہوا ،،پہلے بینظیر کے قتل کا الزام طالبان پر لگا ،،،پھر تردید آئی،،کہ طالبان نے بینظیر کو قتل نہیں کیا ،،،تو مسعود صاحب کو اڑا دیا گیا ،،،حالانکہ وہ بھی ان دیکھی قوووتوں کے ہاتھوں کھیل رہے تھے ،،،اب حامد میر پر حملہ ،،،،آخر وہ بھٹکتی روحیں کون ہیں ،،،جن کو طالبان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے ،،کوئی تو خفیہ ہاتھ ہے ،،جس کا سب کو پتہ ہے ،،جو ان کو اسلہ ،،روٹی ،،مکان ،،نقشے ،،بری مہارت سے ایڈوانس ٹیکنولوجی ،،،طریقہ واردات کے انوکھ طریقے ،،،دماغ کس کا ،،عقل کس کی ،،ہاتھ کس کے ،،،عام انسان بغیر وسایل کے فی زمانہ  نہیں کر سکتا ،،،،عقل دنگ رہ جاتی ہے ،،اتنی رقم کجوں خرچ کر رہا ہے ،،،گاڑیاں،،پٹرول کیا ہوا سے حاصل کر رہے ہیں ،،تو پھر یقینن ہے کہ طالبان اک خلائی مخلوق ہیں ،،جادو کے عمل کے زریح طالبان کی آسمان اور چاند تک رسائی ہو چکی ہے ،،،میرے پاس نہ عقل ،،نہ سوچ  ہے ،،اگر آپ کے پاس ہے تو سمجھ جایں ،،ورنہ آپ بھی میرے ساتھ جھنم  میں جاؤ،،،،،جاری ہے دوسری قسط کل ملھذا فرمایں،،،،،اپنی اک غزل کے چند فقرے حاضر ہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،لکھنے تو بیٹھا تھا انقلاب ے محبت پے مگر ،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،کیفیت کا عالم کہ تھا حکمران ے نفرت پے مگر ،،،،،،،،،،،،،
،،،،لکھنے پے آتا ہوں جب حکمران کی فطرت پے مگر ،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،ڈوب جاتا ہوں اپنی ہی حیرت پے مگر ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،، نہ طاقت نہ توانائی ،،نہ ہے اسرارے رموزی میرے اندر ،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید ہوتا جزبہ مسلمان ، تو حیران ہو جاتی دنیا میری جرحت پے مگر ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،
،،،نائب صدر ،،آل اطالیہ پریس کلب اطالیہ ،،،،،،،،،،،
،،،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،