Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, May 12, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میاں نواز شریف کا آخری امتحان ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں خدا اور اپنے نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ،،مگر  میاں صاحب سے مجھے  کوئی غیر معمولی تووقوح نہیں ہے ،،کہ وہ پاکستان کو درپیش مسایل سے اچھی طرح نپٹ لیں گے اور جو انھوں نے قوم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے بھی کرتے ہیں یا نہیں ،،خدا کرے وہ فوج سے زیادہ پنگے بازی نہ کریں ،،بیوروکریسی کے سونہری جالوں سے محفوظ رہیں ،،اور تندور روٹی اور لیپ ٹاپ کی بجاے،،کوئی قومی منصوبہ بنانے کی کوشش کریں ،،خلیفہ بننے کی کوشش نہ کریں ،،پٹواری ،،تھانہ  کچہری ،کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا ،،ملک ریاض جیسی مافیا سے دور رہنا ہو گا ،،قرضے اور پلاٹوں اور فنڈ دینے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا ،،زرداری صاحب کے دور کی اس لوٹ مار کا حساب لینا ہو گا جو الزام خود وہ لگاتے رہے ہیں ،،بلکہ خادم اولا تو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے ،،احتساب سب کا انصاف کے ساتھ اور خود کا بھی ،،،،بجلی ،گیس ،،بیروزگاری ،دہشت گردی  کی جنگ ،،کراچی کے حالات اور مہنگائی ، پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ،،ورلڈ بینک سے جان چھوڑنی ہو گی ،،گوادر کو دوبئی بنانے والے وعدے پر بھی عمل کرنا ہو گا ،،ان کو  وعدوں اور منشور کی فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھنا ہو گی ،،،اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم اب جاگ چکی ہے ،،،جھوٹے ،،چوروں ،،غداروں ،لٹیروں ،کو اب برداشت  نہیں کیا جاۓ گا ،،بہتر ہو گا کہ چودھری نثار جیسی اچھی آواز اور شور کو سنا جاے اور اسحاق ڈار کی ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جاۓ اور ان کو دور رکھا جاۓ ،،،جعلی ڈگری والوں،کرپٹ ،نا اہل ،کن ٹوٹے،اور مفاد پرست  سے دور رہا جاۓ ،،،ویسے مجھے تو اس لئے زیادہ تووقوح نہیں ہے ،،کیونکہ پھچلے سالوں کی کارکردگی سامنے ہے ،،اور حسسیں حقانی اور ریمنڈ ڈیوس کا بھی ڈرامہ سامنے ہے ،،حتہ کہ میری اپنی ڈکیتی کی واردات ایک منہ بولتا ثبوت ہے ،جس کا خادم اعلی نے دو سالوں سے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ہے ،،،تو اب آنے والا وقت مزید ہمارے تمام خوابوں کا تجزیہ لے کر آنے والا ہے ،،،سب جھوٹ اپنے تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں ،،اس دفعہ یا میاں برادران سرخورو ہو جایں گے ، یا پھر یہ بھی زرداری ڈرامہ کی طرح یا دوسرے فرعونوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائیں گے ،،یا نشان چھوڑ جاؤ گے یا تاریخ سے سبق سیکھ جاؤ گے یا پھر نشان ے عبرت بن جاؤ گے ،،،،،نظام کو بدلو ،،ورنہ تاریخ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،،،میاں صاحب ہیرو بن سکتے ہیں یا زرداری اور مشرف کی طرح زیرو بن جائیں گے ،،،،پھولوں کی دیوی سدا کسی پر مہربان نہیں رہتی ،،،میاں صاحب اگر اب بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھو گے تو کب سیکھو گے ،،،قوم کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ،،،،،قوم نے تم کو موقعہ دیا ہے ،،اپنے حصے کا کام کرتے جاؤ ،،،زندگی ،موت خدا کے ہاتھ میں ہے ،،،،خدا حافظ ،،ہم قصیدے نہیں لکھ سکتے ،،اچھا کام کرو گے ،تو ہمارا خون بھی حاضر ہے ،،،،تم کو آخرت  یاد کروانا ہمارا فرض ہے اور یہی قوم کا ہم پے قرض ہے ،،،،اللہ  آپ کو ہمت اور استقامت عطا فرماۓ ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میاں نواز شریف کا آخری امتحان ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں خدا اور اپنے نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ،،مگر  میاں صاحب سے مجھے  کوئی غیر معمولی تووقوح نہیں ہے ،،کہ وہ پاکستان کو درپیش مسایل سے اچھی طرح نپٹ لیں گے اور جو انھوں نے قوم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے بھی کرتے ہیں یا نہیں ،،خدا کرے وہ فوج سے زیادہ پنگے بازی نہ کریں ،،بیوروکریسی کے سونہری جالوں سے محفوظ رہیں ،،اور تندور روٹی اور لیپ ٹاپ کی بجاے،،کوئی قومی منصوبہ بنانے کی کوشش کریں ،،خلیفہ بننے کی کوشش نہ کریں ،،پٹواری ،،تھانہ  کچہری ،کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا ،،ملک ریاض جیسی مافیا سے دور رہنا ہو گا ،،قرضے اور پلاٹوں اور فنڈ دینے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا ،،زرداری صاحب کے دور کی اس لوٹ مار کا حساب لینا ہو گا جو الزام خود وہ لگاتے رہے ہیں ،،بلکہ خادم اولا تو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے ،،احتساب سب کا انصاف کے ساتھ اور خود کا بھی ،،،،بجلی ،گیس ،،بیروزگاری ،دہشت گردی  کی جنگ ،،کراچی کے حالات اور مہنگائی ، پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ،،ورلڈ بینک سے جان چھوڑنی ہو گی ،،گوادر کو دوبئی بنانے والے وعدے پر بھی عمل کرنا ہو گا ،،ان کو  وعدوں اور منشور کی فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھنا ہو گی ،،،اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم اب جاگ چکی ہے ،،،جھوٹے ،،چوروں ،،غداروں ،لٹیروں ،کو اب برداشت  نہیں کیا جاۓ گا ،،بہتر ہو گا کہ چودھری نثار جیسی اچھی آواز اور شور کو سنا جاے اور اسحاق ڈار کی ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جاۓ اور ان کو دور رکھا جاۓ ،،،جعلی ڈگری والوں،کرپٹ ،نا اہل ،کن ٹوٹے،اور مفاد پرست  سے دور رہا جاۓ ،،،ویسے مجھے تو اس لئے زیادہ تووقوح نہیں ہے ،،کیونکہ پھچلے سالوں کی کارکردگی سامنے ہے ،،اور حسسیں حقانی اور ریمنڈ ڈیوس کا بھی ڈرامہ سامنے ہے ،،حتہ کہ میری اپنی ڈکیتی کی واردات ایک منہ بولتا ثبوت ہے ،جس کا خادم اعلی نے دو سالوں سے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ہے ،،،تو اب آنے والا وقت مزید ہمارے تمام خوابوں کا تجزیہ لے کر آنے والا ہے ،،،سب جھوٹ اپنے تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں ،،اس دفعہ یا میاں برادران سرخورو ہو جایں گے ، یا پھر یہ بھی زرداری ڈرامہ کی طرح یا دوسرے فرعونوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائیں گے ،،یا نشان چھوڑ جاؤ گے یا تاریخ سے سبق سیکھ جاؤ گے یا پھر نشان ے عبرت بن جاؤ گے ،،،،،نظام کو بدلو ،،ورنہ تاریخ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،،،میاں صاحب ہیرو بن سکتے ہیں یا زرداری اور مشرف کی طرح زیرو بن جائیں گے ،،،،پھولوں کی دیوی سدا کسی پر مہربان نہیں رہتی ،،،میاں صاحب اگر اب بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھو گے تو کب سیکھو گے ،،،قوم کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ،،،،،قوم نے تم کو موقعہ دیا ہے ،،اپنے حصے کا کام کرتے جاؤ ،،،زندگی ،موت خدا کے ہاتھ میں ہے ،،،،خدا حافظ ،،ہم قصیدے نہیں لکھ سکتے ،،اچھا کام کرو گے ،تو ہمارا خون بھی حاضر ہے ،،،،تم کو آخرت  یاد کروانا ہمارا فرض ہے اور یہی قوم کا ہم پے قرض ہے ،،،،اللہ  آپ کو ہمت اور استقامت عطا فرماۓ ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میاں نواز شریف کا آخری امتحان ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں خدا اور اپنے نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ،،مگر  میاں صاحب سے مجھے  کوئی غیر معمولی تووقوح نہیں ہے ،،کہ وہ پاکستان کو درپیش مسایل سے اچھی طرح نپٹ لیں گے اور جو انھوں نے قوم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے بھی کرتے ہیں یا نہیں ،،خدا کرے وہ فوج سے زیادہ پنگے بازی نہ کریں ،،بیوروکریسی کے سونہری جالوں سے محفوظ رہیں ،،اور تندور روٹی اور لیپ ٹاپ کی بجاے،،کوئی قومی منصوبہ بنانے کی کوشش کریں ،،خلیفہ بننے کی کوشش نہ کریں ،،پٹواری ،،تھانہ  کچہری ،کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا ،،ملک ریاض جیسی مافیا سے دور رہنا ہو گا ،،قرضے اور پلاٹوں اور فنڈ دینے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا ،،زرداری صاحب کے دور کی اس لوٹ مار کا حساب لینا ہو گا جو الزام خود وہ لگاتے رہے ہیں ،،بلکہ خادم اولا تو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے ،،احتساب سب کا انصاف کے ساتھ اور خود کا بھی ،،،،بجلی ،گیس ،،بیروزگاری ،دہشت گردی  کی جنگ ،،کراچی کے حالات اور مہنگائی ، پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ،،ورلڈ بینک سے جان چھوڑنی ہو گی ،،گوادر کو دوبئی بنانے والے وعدے پر بھی عمل کرنا ہو گا ،،ان کو  وعدوں اور منشور کی فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھنا ہو گی ،،،اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم اب جاگ چکی ہے ،،،جھوٹے ،،چوروں ،،غداروں ،لٹیروں ،کو اب برداشت  نہیں کیا جاۓ گا ،،بہتر ہو گا کہ چودھری نثار جیسی اچھی آواز اور شور کو سنا جاے اور اسحاق ڈار کی ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جاۓ اور ان کو دور رکھا جاۓ ،،،جعلی ڈگری والوں،کرپٹ ،نا اہل ،کن ٹوٹے،اور مفاد پرست  سے دور رہا جاۓ ،،،ویسے مجھے تو اس لئے زیادہ تووقوح نہیں ہے ،،کیونکہ پھچلے سالوں کی کارکردگی سامنے ہے ،،اور حسسیں حقانی اور ریمنڈ ڈیوس کا بھی ڈرامہ سامنے ہے ،،حتہ کہ میری اپنی ڈکیتی کی واردات ایک منہ بولتا ثبوت ہے ،جس کا خادم اعلی نے دو سالوں سے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ہے ،،،تو اب آنے والا وقت مزید ہمارے تمام خوابوں کا تجزیہ لے کر آنے والا ہے ،،،سب جھوٹ اپنے تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں ،،اس دفعہ یا میاں برادران سرخورو ہو جایں گے ، یا پھر یہ بھی زرداری ڈرامہ کی طرح یا دوسرے فرعونوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائیں گے ،،یا نشان چھوڑ جاؤ گے یا تاریخ سے سبق سیکھ جاؤ گے یا پھر نشان ے عبرت بن جاؤ گے ،،،،،نظام کو بدلو ،،ورنہ تاریخ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،،،میاں صاحب ہیرو بن سکتے ہیں یا زرداری اور مشرف کی طرح زیرو بن جائیں گے ،،،،پھولوں کی دیوی سدا کسی پر مہربان نہیں رہتی ،،،میاں صاحب اگر اب بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھو گے تو کب سیکھو گے ،،،قوم کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ،،،،،قوم نے تم کو موقعہ دیا ہے ،،اپنے حصے کا کام کرتے جاؤ ،،،زندگی ،موت خدا کے ہاتھ میں ہے ،،،،خدا حافظ ،،ہم قصیدے نہیں لکھ سکتے ،،اچھا کام کرو گے ،تو ہمارا خون بھی حاضر ہے ،،،،تم کو آخرت  یاد کروانا ہمارا فرض ہے اور یہی قوم کا ہم پے قرض ہے ،،،،اللہ  آپ کو ہمت اور استقامت عطا فرماۓ ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میاں نواز شریف کا آخری امتحان ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں خدا اور اپنے نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ،،مگر  میاں صاحب سے مجھے  کوئی غیر معمولی تووقوح نہیں ہے ،،کہ وہ پاکستان کو درپیش مسایل سے اچھی طرح نپٹ لیں گے اور جو انھوں نے قوم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے بھی کرتے ہیں یا نہیں ،،خدا کرے وہ فوج سے زیادہ پنگے بازی نہ کریں ،،بیوروکریسی کے سونہری جالوں سے محفوظ رہیں ،،اور تندور روٹی اور لیپ ٹاپ کی بجاے،،کوئی قومی منصوبہ بنانے کی کوشش کریں ،،خلیفہ بننے کی کوشش نہ کریں ،،پٹواری ،،تھانہ  کچہری ،کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا ،،ملک ریاض جیسی مافیا سے دور رہنا ہو گا ،،قرضے اور پلاٹوں اور فنڈ دینے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا ،،زرداری صاحب کے دور کی اس لوٹ مار کا حساب لینا ہو گا جو الزام خود وہ لگاتے رہے ہیں ،،بلکہ خادم اولا تو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے ،،احتساب سب کا انصاف کے ساتھ اور خود کا بھی ،،،،بجلی ،گیس ،،بیروزگاری ،دہشت گردی  کی جنگ ،،کراچی کے حالات اور مہنگائی ، پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ،،ورلڈ بینک سے جان چھوڑنی ہو گی ،،گوادر کو دوبئی بنانے والے وعدے پر بھی عمل کرنا ہو گا ،،ان کو  وعدوں اور منشور کی فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھنا ہو گی ،،،اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم اب جاگ چکی ہے ،،،جھوٹے ،،چوروں ،،غداروں ،لٹیروں ،کو اب برداشت  نہیں کیا جاۓ گا ،،بہتر ہو گا کہ چودھری نثار جیسی اچھی آواز اور شور کو سنا جاے اور اسحاق ڈار کی ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جاۓ اور ان کو دور رکھا جاۓ ،،،جعلی ڈگری والوں،کرپٹ ،نا اہل ،کن ٹوٹے،اور مفاد پرست  سے دور رہا جاۓ ،،،ویسے مجھے تو اس لئے زیادہ تووقوح نہیں ہے ،،کیونکہ پھچلے سالوں کی کارکردگی سامنے ہے ،،اور حسسیں حقانی اور ریمنڈ ڈیوس کا بھی ڈرامہ سامنے ہے ،،حتہ کہ میری اپنی ڈکیتی کی واردات ایک منہ بولتا ثبوت ہے ،جس کا خادم اعلی نے دو سالوں سے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ہے ،،،تو اب آنے والا وقت مزید ہمارے تمام خوابوں کا تجزیہ لے کر آنے والا ہے ،،،سب جھوٹ اپنے تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں ،،اس دفعہ یا میاں برادران سرخورو ہو جایں گے ، یا پھر یہ بھی زرداری ڈرامہ کی طرح یا دوسرے فرعونوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائیں گے ،،یا نشان چھوڑ جاؤ گے یا تاریخ سے سبق سیکھ جاؤ گے یا پھر نشان ے عبرت بن جاؤ گے ،،،،،نظام کو بدلو ،،ورنہ تاریخ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،،،میاں صاحب ہیرو بن سکتے ہیں یا زرداری اور مشرف کی طرح زیرو بن جائیں گے ،،،،پھولوں کی دیوی سدا کسی پر مہربان نہیں رہتی ،،،میاں صاحب اگر اب بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھو گے تو کب سیکھو گے ،،،قوم کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ،،،،،قوم نے تم کو موقعہ دیا ہے ،،اپنے حصے کا کام کرتے جاؤ ،،،زندگی ،موت خدا کے ہاتھ میں ہے ،،،،خدا حافظ ،،ہم قصیدے نہیں لکھ سکتے ،،اچھا کام کرو گے ،تو ہمارا خون بھی حاضر ہے ،،،،تم کو آخرت  یاد کروانا ہمارا فرض ہے اور یہی قوم کا ہم پے قرض ہے ،،،،اللہ  آپ کو ہمت اور استقامت عطا فرماۓ ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،

،،،،،،،،،،،عمران خان اور صوبہ سرحد والوں کو سلام ،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،الیکشن میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا ،،،ابھی شروعات ہیں ،،قوم کے اندر شعور آ رہا ہے،،اور اس قوم کو جگانے کا سہرہ عمران خان کو جاتا ہے ،،اور جن ظلم کے پسے ہوۓ پشاور والوں نے شعور کا آغاز کیا ہے ،،ان کو سلام پیش کرتا ہوں ،،پشاور والوں نے ثابت کر دیا ہے ،،کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،،بلوچستان نے ثابت کر دیا ،،کہ انڈیا اور افغانستان مل کر بلوچستان کے امن کو تباہ کر رہے ہیں ،،اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ بلوچستان والے پاکستان کے وفادار ہیں ،،سندھ ابھی تک جاگیرداروں اور وڈیروں اور لسانی گروپوں کے چنگل میں ہے اور شعور عمران خان نے سندھ اور بلوچستان میں بھی اجاگر کر دیا ہے ،،اور رہی پنجاب کی بات تو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عمران خان کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے ،،شعور آیا ہے ،،مگر تھانے،کچہری ،پٹواری ،،کن ٹوٹے ، بدمعاش اور مافیا کے نظام کی وجہ سے مفادات اور ڈر ، خوف ،کے کلچر سے پنجاب نہیں نکل سکا ،،،پڑھے  لکھے لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دئے،،،جبکہ غریب طبقہ اب کی بار پھر پرانے وعدوں کی طرح جھانسے میں آ گیا ،،اور پکی گلی اور سڑک، نالی ،اور یلو ٹیکسی ، ٹریکٹر ،کے قرضوں کے جھانسے میں آ گیا ،،بھر حال ملک کا مستقبل تو ابھی بھی خطرے میں ہے ،،کیونکہ ابھی زرداری صدرکرسی پر براجمان ہے ،،کوئی انقلاب نہیں آیا ،،اور نہ  میاں صاحب انقلاب لا سکنے کی  جرات رکھتے ہے ،،پہلا امتحان میاں صاحب  کا یہی ہو گا کہ زرداری صاحب کو مشرف کی طرح ووٹوں سے گھر بیجھیں اور لوٹی ہوئی دولت کا احتساب کریں اور باہر بھاگنے نہ دیں،،،اگر وہ یہ شروعات کرتے ہیں تو دوسرے مسایل بھی حل کرنے کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ،،ورنہ روایتی سیاست اور مفاہمت کے روپ میں منافقت میاں صاحب کو بھی ہمیشہ کے لئے لے ڈوبے گی اور جس طرح زرداری گروپ کی کشتی پنجاب میں ڈوب گئی ہے ، میاں صاحب کی بھی انشااللہ ڈوب جاۓ گی ،،اس لئے عمران خان کے نوجوانوں کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے ،انشااللہ مستقبل تمہارا ہے ،،ابھی چوروں ،لٹیروں ،کن ٹٹوں بدمعاشوں کا مکمل پاکستان سے صفایا ہونا ہے ،،،آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ،،،،،فکر مت کرو ،،صرف عمران خان اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ،،یا وہ جو بولڈ فیصلے کرے گا ،،،نہ جھکے گا ،،نہ بکے گا ،،نہ ڈالروں سے کھیلے گا ،،،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،

Thursday, May 9, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب پاکستان کا مقدر بن چکا ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،کچھ لمحوں کے لئے آپ ایمانداری سے بھول جایں ،،کہ آپ کا کس پارٹی سے تعلق  ہے ،،،چند لمحوں کے لئے آپ سچے پاکستانی اور مسلمان بن کر سوچیں کہ کیا یہ بیوروکریسی ،جاگیرداروں ،وڈیروں اور کرپٹ سیاستدانوں والے نظام سے یہ سمجھتے ہیں ،کہ ملک کی تقدیر بدل جاۓ گی اور ملک میں سبز انقلاب آ جاۓ گا ،،دہلیز پر انصاف ،روزگار ،بجلی ،گیس ،مل جاۓ گا ،،لوٹا  ہوا مال واپس مل جاۓ گا اور چوروں ،لٹیروں کا احتساب ہو گا ،،پلاٹوں اور ضمیر فروشوں کی سیاست کا خاتمہ ہو جاۓ گا ،،ملک کو اسلہ سے پاک کر دیا جاۓ گا ،،دہشت گردی کی جنگ کو ختم اور کشمیر ،اور پانی کا مسلہ حل کر لیا جاۓ گا ،،بینظیر سکیم اور لیپ ٹاپ جیسے منصوبوں کی بجاۓ،،،،بجلی ، گیس کے پلانٹ لگاۓ جایں گے ،،،یہ نہیں ہو سکتا ،،جب تک یہ نظام ہے ،،روٹی تندور جیسے گھٹیا منصوبے بنتے رہیں گے اور انڈیا سے بےسود مذاکرات ہوتے رہیں گیں اور ہمارے حکمران چند نادیدہ ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور ملک کی دولت اور وسایل لوٹنے والے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے اور غریب اپنے بچے فروخت کر کے  زندگی موت کی جنگ لڑتا رہے گا ،،،،کئی طرح کے ہر دور میں فرعون،کن ٹوٹے ،بدمعاش ،اور ملک ریاض جیسی مافیا پیدا ہوتے رہیں گے اور عدالتوں اور انصاف اور لاچاروں کو خریدنے کا کاروبار جاری ساری رہے گا ،،اور ہم جیسے بےبس ادھر ادھر دھکے کھاتے اور اپنا خون جلاتے رہیں گے ،،،آپ ایک لمحے کے سوچیں کہ مشرف نے جو کیا غلط کیا ،،دہشت گردی کی جنگ میں دھکیل گیا ،اس نے آہین توڑا ،ملک سے غداری کی ،،مگر اسے اس بات پر مجبور کس نے کیا ،،نواز شریف نے ،،نہ خلیفہ بننے کے خواب دیکھتا ،،نہ ضیاء بٹ کو آرمی کا چیف بنانے کا سوچتا ،نہ یہ ڈرامہ ہوتا ،،اور نہ ملک کا بیڑہ غرق ہوتا ،،نواز شریف کی بد نیتی ،،نا اہلی ،،بزدلی اور مکاری ، کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے یا قصور ہے جتنا مشرف کا ،،باقی رہی سہی کسر ، گجرات والے چودھریوں نے ،،کراچی والوں نے ،،سرحد والے لال ٹوپی والوں نے اور فضل رحمان نے نکال دی ،،،اور سب نے پاکستان کی بربادی میں اپنا حصہ ڈال دیا اور باقی جو بچا تھا وہ زرداری ٹولہ لوٹ کر لے گیا اور ابھی مزید لوٹنے کی کوشش جاری ہے ،،اور میرے بچے ماسٹر کی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے ان کتوں ، بغرتوں کے لئے خدا سے عذاب کی امید اور اپنے اچھے دنوں کی امید پر زندہ ہیں ،،کہ شاید یہ کتے ، بےغیرت، اس ملک سے چلے جایں اور کوئی ایماندار آ جاۓ ،،جو اس نظام کو بدل دے اور سب کو برابر کے حقوق میسّر آ جایں ،،اور ہر کام میرٹ کی بنیاد پر ہو جاۓ ،،،،،،مگر ایماندار کو سیدھے ہاتھوں سے اقتدار ملتا نظر نہیں آ رہا ،،اس لئے کہتا ہوں کہ ایمانداروں کو اپنا حق لینے کے لئے ایک دن سڑکوں پر نکلنا ہو گا ،،تحریر چوک بنانا ہو گا ،،انقلاب لانا ہو گا ،،جس سے نظام بھی بدلے گا ،،اور کتوں کو لٹکانا بھی پڑے گا ،،احتساب کرنا ہو گا ،،زمینیں ،،پلاٹ،،واپس لینے ہوں گے ،،تب جا کر انصاف میل گا ،،،،،،،خدا حافظ،،،،،،،،
،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ،،،،،،،میلان   ،اطالیہ،،،،،،،،،،،،

Wednesday, May 8, 2013


,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,انقلاب  اور احمقوں کی جنت ،،،،،،،،،،
،،،،،،ہم  لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ،،جو ان سیاستدانوں کے منہ سے انقلاب لانے کی امید لگا لیتے ہیں ،،جو لگا تار حکومتوں میں رہتے ہیں اور ہر بار ہمیں بیوقوف بناتے ہیں ،،جو سیاستداں ایک دفعہ بھی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ یا صدر رہ چکا ہے اور وہ اس بےغیرت ، فرسودہ  نظام کو نہیں بدل سکا ،،وہ اب کی بار کیا تیر چلا لے گا ،،اقتدار میں جا کر سب بھول جاۓ گا ،،پھر وہ نظام بدلنے اور انقلاب لانے کی بات کر رہا ہے ، تو وہ بکواس کر رہا ہے اور ہم اس کی بات پر پھر یقین کر رہے ہیں تو ہم بھی بغیرتی کر رہے ہیں اور ملک سے غداری کر رہے ہیں ،،،خاص کر اگر میں زرداری ،نواز شریف اور گجرات والے چودھریوں پر عتماد کر لوں ،،تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھ سے بڑا کوئی بےغیرت نہیں ہے ،،اسی لئے کہتا ہوں کہ ماضی کو دیکھ کر بھی ہم سبق نہیں سکھ رہے ،،تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ،،،یہی وجہ ہے کہ اس الیکشن سے کوئی انقلاب نہیں آے گا ،،بلکہ کھچڑی پکے گی ،،جوتیوں میں دال بٹے گی ،،فایدہ زرداری کو ہو گا ،،ملک میں انارکی ہو گی ،،افراتفری  اور فرسٹریشن میں اضافہ ہو گا ،،دہشت گردی کی آگ میں اضافہ ہو گا ،،اور مشرف کی لگائی ہوئی آگ میں مزید جلیں گے ،،،،اور پھر جو آگ اور خون کی ندیوں سے انقلاب نکلے گا اخیر کار ،،،،کیونکہ سبز انقلاب آ سکتا تھا ،،،اگر زرداری اور کیانی وقت کی آواز کو سن لیتے اور اس جنگ سے باہر نکل جاتے ،،یا نواز شریف ،،عمران خان ، اور جماعت اسلامی میں اتحاد ہو جاتا ،،مگر افسوس ہم جیسے لوگوں کی یہاں کون سنتا ہے ،،،قوم کے رہبر کو ایک پیغام اپنی بارہ عدد کتابوں میں پہلے ہی دے چکا ہوں ،،٢٠٠٧ سے دہرا ہوں ،،پھر دہرا دیتا ہوں ،،،،،
،،،،،،،،،،تو ناحق خون بھا رہا ہے ہمارا ،،،،یہ جنگ ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،،یہ  دہشت گرد  ہے  تمھارا ،،،،،،،یہ  جنگ  ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،یہ  سازش   ہے   تمہاری ،،،،،،،،یہ  جنگ  ہماری نہیں  ہے
،،،،،،،،یہ  امتحان  ہے   ہمارا ،،،،،،،،،،،یہ جنگ  ہماری نہیں  ہے
،،،انقلاب ہی واحد حل ہے میرے ملک کا ،،،،،،،،خدا حافظ ،،،،
،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،٠٨،،٠٥،،١٣،،،