Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Saturday, April 5, 2014

............
نظام کی تبدیلی کے لئے موزوں دور حکومت ..................

.......

میں نے اس سے پہلے کئی تحریروں میں عرض کیا تھا کہ زرداری صاحب کو ہیرو بننے کا خدا نے بہترین موقعہ عطا کیا تھا .جس دور میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی .جو تھی اس نے مکمل زرداری کو سپورٹ کیا .مگر وہ ملک کے لئے کوئی کارنامہ تو انجام نہ دے سکے . مگر اپنے لئے انہوں نے اتنا کچھ کر لیا .جس کا وہ زندگی میں وہ کبھی شاید شوچ بھی نہ سکتے تھے ..مگر پھر بھی شاید ابھی ان کی خواہشات اور ہوں .جو وہ بقایا پوری کر لیں گے .مشرف زیرو ہوا .زرداری زیرو ہوا ..اور غبارے سے ہوا نکل گئی..کیونکہ عالمی ریفری اور اجنسیوں کو نیا کھلاڑی چاہئے تھا ...مگر اب پھر مشرف کے غبارے میں ہوا بھر کر تیار کیا جا رہا ہے .دیکھنا یہ ہے .کہ یہ غبارہ ہوا میں چھوڑنے کے کتنے عرصے تک پھٹتا ہے ..دیکھیں پرانے غبارے کا تجربہ کامیاب رہتا ہے یا نہیں ....مگر اب یہ نواز شریف کا دور حکومت میرے نزدیک بھوت ہی سنہری اور موزوں دور حکومت ہے .نظام کی تبدیلی کے حوالے سے ..کیونکہ نواز حکومت خوش قسمت ہے .کہ وہ ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں .کوئی اپوزیشن نہیں ہے ..پھر بھی اگر نواز حکومت کچھ تبدیل کرنے اور ڈلیور کرنے میں ناکام ہوتے ہیں ..تو یہ نواز شریف کی .اس ملک کی ..عوام کی اور جمہوریت کی انتہائی بد قسمتی ہو گی ..جب بھی جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو موقعہ ملا .یہ فایدہ نہ اٹھا سکے ...شاید ان کو سلاخوں کے اندر کی کوئی فوٹو نہیں دکھاتا یا ان کو پھر خدا بھول جاتا ہے ..آخر یہ کیسے انسان ہیں .کیسے مسلمان ہیں .کیسے محب وطن پاکستانی ہیں کہ اقتدار میں آ کر صرف مال بناتے ہیں .دوستوں کو راضی کرتے ہیں ..اور پاکستان سے مال باہر منتقل کرتے ہیں ..اور جب ان کو کان سے پکڑ کر اقتدار سے الگ کر دیا جاتا ہے .تو یہ شور مچاتے ہیں عوام سے جھوٹ بولتے ہیں کہ اگر ان کو ٥ سال کا موقعہ ملتا .تو یہ دودھ کی نہریں بھا دیتے ...آخر کب تک یہ ملک کی تقدیر سے کھیلتے رہیں گے ..اور کب تک ان کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ گا ..کیوں ان کو لٹکانے والا کیوں نہیں آتا ...کیوں ان کا احتساب نہیں ہوتا .کیوں میاں منشاء جیسے لوگوں سے سہی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا ..آخر کیوں اور کب تک ..یہ ہے مشرف اور ضیاء کی بغیرتی اور غداری ..کہ انہوں نے چوروں کو رعب.دبدبے اور کرپشن سے ساتھ ملا کر حکومت تو کی ..مگر نظام نہ بدلا ..اور نہ احتساب کیا ..بلکہ کہتا ہوں کہ جن سے توقعہ تھی .ووہی پتے ہوا دے گہے.....اب جبکہ عمران خان بھی شریف برادران سے ہاتھ ملا چکا ہے ..تو پھر کیا وجہ ہے نظام کو تبدیل کیوں نہیں کروایا جا رہا ..کیا رکاوٹ ہے یہ تو عمران خان کیوں عوام کو نہیں بتا رہے ..بلکہ افسوس ناک خبر یہ ہے کہ عمران خان نے نواز شریف سے ملاقات پر نظام کی تبدیلی کی بات نہیں کی ..بلکہ بنی گالا بنگلے کے لئے سڑک کا مطلبہ کیا ہے ..اگر یہ سہی ہے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے ..اور پھر الطاف حسین کا مطلبہ ٹھیک ہے .کہ فوج آ کر اقتدار سبھال لے ..یہی بہتر ہے ..کیونکہ سیاستدان بندر بانٹ میں مصروف ہے ........انقلاب ہی اس ملک کی ضرورت اور مجبوری بن چکا ہے .......جاوید اقبلل چیمہ ..میلان .....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Friday, April 4, 2014

.............
مشرف کا کوئی قصور نہیں ہے ...........

......

میرے لئے نہ یہ لمحہ فکریہ ہے اور نہ کوئی عجوبہ ..یہ جو کچھ میرے ملک میں کھیل کھیلا جا رہا ہے .یہ کھیل ٦٥ سال سے جاری ہے .یہاں سارے کھیل آجنزیاں اندرونی اور بیرونی اور امریکہ کھیلتا ہے ..سب الیکشن اور جمہوریت ایک ڈھونگ تماشا ہے ..ہوتا ووہی ہے جو عالمی سازش چاہتی ہے ..میرے ہاں کوئی بھی حکومت امریکہ کی آشیر باد کے بغیر بن ہی نہیں سکتی ..جتنا مشرف اور ضیاء نے امریکہ کو فایدہ پنچایا تھا ..کسی نے نہیں پنچایا ..اب میڈیا بھی اس سازش میں شامل ہو چکا ہے ..مشرف کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے .یہ لمحۂ فکریہ عمران خان ..نواز اور زرداری کے لئے ہے ..مجھے کیا فرق پڑتا ہے ..میں تو ایک ایسا جانور ہوں کہ جس کا مالک چور ہو کرپٹ ہو غدار ہو ..مجھے تو چند کلو گھاس چاہئے . پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ....نہ مجھے انصاف ملنا ہے نہ روزگار نہ عزت کی روٹی ..مجھے کیا .اگر اجنسیاں وزیر داخلہ کو غلط کہانی سنا دیں یا سچی ..یا مشرف کے راستہ میں بمب تہماکہ کر کے قوم کو کوئی پیغام دے دیں..مجھے کیا ..میں جب پیدا ہوا ہوں .یہ ڈرامے سنتا چلا آ رہا ہوں ..میں اتنا جانتا ہوں کہ اگر مشرف قصور وار نہیں .کرپٹ اور غدار نہیں ..تو پھر میں ہوں .مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ .اور مشرف کو باہر بھیج دیا جاۓ .مگر خدا کے واسطے ہیرو بنا کر پیش نہ کیا جاۓ .ورنہ یہ ملک ٹوٹ جاۓ گا ..اگر تم یہی چاہتے ہو .شوق سے یہ کام انجام دے لو ..کیونکہ اگر مجھے کوئی لا علاج مرض لاحق ہو جاۓ .تو میں خدا سے یہی عرض کروں گا .کہ میرے مولا مجھے موت دے دے .مگر اس اذیت سے نجات دے دے .یا ڈاکٹر کو زہر کا ٹیکہ لگانے کا کہوں گا ..اور اگر آپ مرض کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا مردے کو آکسیجن کے کمرے میں رکھ کر دنیا کو دکھا رہے ہو .کہ مریض صحت یاب ہو رہا ہے ..تو بڑے شوق سے یہ ڈرامہ کرتے رہیں .کیونکہ یہ ڈرامہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا ..آخر کار سب مکاری .اور چلاکیاں کا راز فاش اک دن ہونا تھا ..سو ہو چکا ..بہتر ہے حکمران بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بروۓ کار لاۓ..آنکھیں کھولے اور دیکھے کہ ملک میں کہاں کہاں کیا کیا ہو رہا ہے ...جمہوریت کے ٹھیکیدار یہ مت سمجھیں کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے سکون سے ہیں ..مت بھول کہ یہاں ہر مہرے سے ایک خاص وقت تک کام لیا جاتا ہے .جب وہ مہرہ پر پرزے نکالنا شروع کرتا ہے .تو یا پر کاٹ دے جاتے ہیں یا نیا مہرہ لایا جاتا ہے ..اس وقت پھر مستقبل کے لئے مشرف کو تیار کیا رہا ہے ..اور کراچی اور گجرات والے اور کچھ اینکر اس چھتری کے نیچے ہوں گے ..ظاہر ہے جب نواز شریف نے چمچہ گیر صحافیوں کو شورا لگا دیا ہے .تو اب یہ نیا ٹرینڈ چلے گا .کہ کس کے لئے لکھتا تھا ..وہ میرا ہے وہ تیرا ہے ..آج جو چنیل .ادارہ اور ذات . جس کے لئے کام کرے گا کل کو پھل پاۓ گا ..کافی چیئرمین اور مشیروں کی سیٹ آپ کا انتظار کر رہی ہیں ..ایک غدار کو ہیرو بناؤ ..تاکہ پھر اس ملک میں لگائی ہوئی آگ پر پیٹرول ڈالے..اور ڈالر لے کر امن امن خوشحالی کے گیت گاۓ...انقلاب کے بغیر کوئی آپریشن اس ملک کی مرض کو تندرست نہیں کر سکتا ....جو مرضی کر لو .جتنے مرضی پروگرام کر لو ..محلے کی مسجد سے جب تک انقلاب کی سوچ بیدار نہیں ہو گی .نہ معاشرہ ٹھیک ہو گا اور نہ حکمران کا احتساب ہو گا ..نہ یہ پتہ لگے گا کہ کون کرپٹ ہے کون غدار ..............جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ..٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ...
...............
ڈکٹیٹر مشرف اور جمہوری ڈکٹیٹروں کی کرپشن ...............

........

آج کل میڈیا ایک ایسا طاقتور جن ہے . جس کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ ہے .وہ جس کو چاہے ہیرو بنا دے .جس کو چاہے زیرو ....آجکل مشرف کے عدالت میں دئے ہووے بیان پر اس کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے .کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی ...کرپشن ہے کس بلا کا نام جس سے ہر حکمران انکار کرتا ہے اور ہر روز کرتا بھی ہے ..مشرف نے جو اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے نام غلط مراعات لیں .جو پلاٹ لئے .جو فارم ہاؤس بنایا .جو بچے پر امریکا میں خرچہ ہوا .جو لندن وغیرہ میں جائداد بنائی ..جو بچی کے سسرال والوں نے مشرف کی حکمرانی میں ناجایز فائدے لئے ..مراعات لیں ..جو قومی خزانے کو نقصان پنچایا .جو غلط فیصلے کئے.جس سے ملک کو نقصان پونچھا ..جو گیس کے بے انتہا رشوت دے کر سٹیش لگے .جو ترقیاتی فنڈ جاری کئے..اور ان میں بے قایدگیاں ہوئیں ...جو جو لوگوں اختیارات کا ناجایز فایدہ اٹھایا ..جو تھرکول جیسے پروجیکٹ کو نقصان ہوا ..یا جہاں جہاں مشرف کی تختیاں لگیں ..جہاں جہاں وزیروں مشیروں نے بے ایمانی کی خرد برد کی ...یہ سب کرپشن نہیں ہوئی ..تو کیا ہوا تھا ..تو اس کا مطلب ہے کہ مشرف اور گجرات والے چودھری خلیفہ وقت تھے ..جن کے دور حکومت میں کوئی کتا بھی بھوکا پیاسا نہیں تھا ..یہ سب جھوٹ ہے..جو قوم کے سامنے عدالت میں بولا گیا ..پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ..ہر وزیر نے کرپشن کی .حتہ کہ مونس الہی نے کرپشن کی ..جس جس جلسہ میں مشرف گیا .وہاں ہر جگہ قومی خزانے کو نقصان پنچایا گیا .کیونکہ مشرف کو خود نمائی کا دوسرے حکمرانوں کی طرح شوق تھا ..اور چمچوں کو مشرف کی چمچہ گیری کرنا تھی .کیونکہ اقتدار میں رہنا ہے تو ڈکٹیٹر کی مالش ضروری ہے ..اس کا یہ مطلب ہے کہ مشرف کے ساتھ جو چور لٹیرے تھے وہ ولی اللہ تھے ..اور جو مشرف کے ساتھ نہ بیٹھ سکے ..وہ کرپٹ تھے یا پھر جاوید ہاشمی کی جگہ باغی ..واہ قربان تیری کرپشن کے بیان پر مشرف ...کہ تجھے کرپشن کے لفظ کے مطلب کا بھی پتہ نہیں ..اور تو عدالت میں قوم کے سامنے جھوٹ بھی بول گیا ...اور کسی کو تیرے خلاف عدالت میں جانے کی بھی زحمت نہیں ہوئی ...میرے بچپن کا دوست ایک ریٹایرڈ ونگ کمانڈر تھا جو اس نے تیرے بارے میں کہانیاں سنائی تھیں کاش میں تم کو سنا سکتا ...کاش میں تمہارے خلاف عدالت میں جا سکتا ...آخر میں ایک اور بات کہ وہ دو پلاٹ بھی میرے گھر کے سامنے تھے .جو تیرے دوست فروخت کر کے گہے تھے ..یہاں میرے ملک میں کوئی حکمران یہ جھوٹ نہیں بول سکتا کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..مگر تم نے ڈھٹائی سے یہ بھی کر دکھایا ..کیونکہ حکمران کرپٹ ہے ..ڈرا ہوا ہے ..سہما ہوا اپنی کرپشن اور اقتدار کے چھن جانے کے خوف سے ..ورنہ تم نے یہ جو عدالت میں بیان دیا ہے . یہ صرف بد کردار حکمرانوں کے منہ پر تھپڑ نہیں ہے ..بلکہ پوری قوم کے منہ پر تم نے پھر تھپڑ رسید کر دیا ہے ...جاری ہے ..دوسری قسط کل انشااللہ ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩
...............
ڈکٹیٹر مشرف اور جمہوری ڈکٹیٹروں کی کرپشن ....قسط ٢.

........

تو بتا رہا تھا مشرف کی کرپشن کے بارے میں ..کہ میڈیا مشرف کو ہیرو بنا کر پیش نہ کرے کیونکہ کوئی کارکردگی مشرف کی ایسی نہیں ہے جو اس کو ہیرو بنا دے اور تاریخ میں اس کا نام لکھا جاۓ .اس نے غلطیاں کیں .سزا اس کو ملے گی ..اگر یہاں نہ بھی ملی تو خدا کی عدالت سے نہیں بچ سکے گا ...کیونکہ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے ..کیونکہ عدالت میں اس نے جھوٹ بولا ہے کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..چند سیاستدان اور چند میڈیا والے اس کو ہیرو کیوں بنا رہے ہیں . یا اس کی طرفداری کیوں کر رہے ہیں ..اس لئے پاکستانی قوم کی یہی کہانی ہے .کہ اقتدار تک پنچنے کے یہی طریقہ کار ہیں ..کہ آج کسی کی خوشامد کرو کل کو پھل پاؤ گے ..جو چور لٹیرے اس وقت اقتدار میں نہیں ہیں .ان کو آنے والے وقت کے لئے کسی نہ کسی چھتری کی تلاش ہے ..جس کے نیچے رہ کر سہارا لے کر اقتدار تک پنچ سکیں ..وہ مشرف کا سہارا ڈھونڈ رہے ہیں ..جن کو کسی پارٹی میں جگہ نہیں ملی .اور اپنی پارٹی سے تانگے کی سواریاں اتر چکی ہیں ..وہ مشرف کی کوچوانی میں دوبارہ تانگے کی سواریاں چاہتی ہیں .اصل وجہ مشرف سے ہمدادی کی یہ ہے کہ فوج کے حق میں بیان دو اور اپنے آپ کو محب وطن ثابت کرو ..حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد نے ایوب خان کی کرپشن میں حصہ لیا تھا ...کیا ایوب خان نے ممبر راتوں رات خرید کر فاطمہ جناح کو شکست نہیں دی تھی ..کیا وہ روٹ پرمٹ پر بکنے والے اس کو کرپشن نہیں کہتے ..کیا ضیاء نے جو غیر جمایتی لوگوں کو ٥٠ لاکھ میں فی کس کمشنر کی مدد سے خریدے تھے .جمایتی جونیجو کے لئے ..کیا وہ کرپشن نہیں تھی ..کیا قران پاک کی آیتیں پڑھ کر قوم سے جھوٹ بولنا کرپشن نہیں تھی ..کیا مشرف کا قوم سے جھوٹ بولنا بھی کرپشن نہیں ہے ..کیا فوجی پہن کر دوسرے سینئر جرنل کا حق مارنا کرپشن نہیں ہے .کیا کسی جرنیل کو مخالفت کرنے کی بنیاد پر گھر بھیج دینا .کرپشن نہیں تھی ..اس جرنیل کا قصور کیا تھا کہ اس نے امریکا کو اڈے دینے کی مخالفت کی تھی ..کرپشن میرے حکمران کے بزدیک کیا ہے ..مشرف جھوٹ بولتا ہے کہ اس نے کرپشن نہیں کی ..اس نے لوگوں کا حق غصب کر کے بھی کرپشن کی اور اس کے ساتھیوں نے بھی ...کرپشن میں ہر حکمران ملوث ہے ..جو ڈالروں کے بدلے سر فروخت کئے.کیا وہ کرپشن نہیں تھی ..قانون اور آئین کو ہر حکمران نے پامال کیا ..مگر سزا اس لئے نہیں ہوتی ..کہ نظام کی خرابی ہے .حکمرا اور عام آدمی کے لئے قانون مختلف ہے ..اسی لئے عرض کرتا ہوں کہ احتساب کے لئے قانون کی پاسداری کے لئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے ..جو ایک دفعہ اس ملک کو پٹری پر چڑھا دے ..تاکہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے والی ریت ختم ہو جاۓ .سب کے لئے قانون برابر ہو جاۓ ...اور یہ روز روز کی بک بک ہو جاۓ ..کون غدار ہے کون نہیں ہے ..خرابی نظام میں ہے جس سے ساری کرپشن کی دکانیں چل رہی ہیں ..جاوید اقبال چیمہ ..ملن ..اطالیہ...٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩..

Thursday, April 3, 2014

..................
عمران خان کے لئے سوچنے یا ڈوب مرنے کا مقام ہے ...........

..........

عمران خان کو شاید غلط فہمی لے ڈوبی ..یا اندر کی کالی بھیڑوں کو نہ سمجھ سکا ..یا عوام کی نبض کو نہ سمجھ سکا ..یا پھر بڑا لیڈر بننے کے طریقے کو بھول گیا ..یا پھر پرویز رشید جیسے ٹھنڈے بغرتوں کی چال میں آ گیا ..کیا ہوا ..ہر نقطۂ پر ہمیشہ لیڈر ہی ذلیل ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے ..کیونکہ کوچوان نے گھوڑے کو چلانا ہوتا ہے .گھوڑا خود سر ہو جاۓ ..تو لگامیں کھینچ کر رکھتے ہیں ...ڈرائیور نے گاڑی کے سٹیئرنگ کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے ..منزل کا اسے پتہ ہونا چائیے...کچھ بھی ہو ..یا عمران خان ٹریپ ہو چکے ہوں ..یا نہیں ...تحریک انصاف کا مستقبل عمران خان سے لنک کرتا ہے .عمران خان ہے تو تحریک انصاف ہے ..ورنہ ایک دن میں ایسے بکھرے گی یا ہوا میں اڑ جاۓ گی ..جیسے پتنگ ڈور سے کٹ کر ہوا میں دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ....عمران خان کو شاید قوم سے وابستگی کا اندازہ ہی نہیں تھا .یا وہ گمنڈ اور غرور میں آ گے .یا سازش کرنے والے کامیاب ہو گہے...لیڈر کو پتہ ہونا چاہئے کہ عوام ان پرانے چوروں .لٹیروں .بغرتوں .غداروں..کرپٹ ..سیاستانوں مداری گروں سے تنگ آ چکی ہے ..اس لئے جو بھی ان سے ہاتھ ملاۓ گا .وہ سیاسی طور پر عوام میں مقبول نہیں رہے گا ..ابھی تو تحریک کے اندر دھڑے بننے شروع ہووے ہیں ..مگر ابھی نوجوانوں کا خوں نہیں کھولا ...جب نوجوان جذباتی ہو گا پھر دیکھنا تحریک انصاف کے لیڈروں کا کیا حال ہوتا ہے ...عمران خان کو اتنی بات مشورہ دیا ..کہ الیکشن کے نتایج مت تسلیم کرو .پوری قوم تمہارے ساتھ ہے .اور الیکشن میں قوم کے ساتھ ہاتھ ہوا ہے ..پھر کہ کہ مرکز میں تمہاری حکومت اگر سازش کے تحت نہیں بننے دی گئی.تو تم صوبے کی حکومت نہ لو .ذلیل ہو جاؤ گے ..اپنی پارٹی سے کالی بھیڑوں اور قبضہ گروپ کو نکال باہر کرو .ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے .لوگوں نے تبدیلی کے نام پر ووٹ دے ہیں ..مگر عمران خان نے ایک بات پر بھی غور نہیں کیا ...عوام ان پرانے بغیرتوں کی چالبازیوں سے واقف تھے ..جبکہ قادری صاحب کے ساتھ ہوا ..وہ بھی عمران خان کے سامنے تھا ..مگر پھر بھی سمجھ نہ آئی ..میاں محمود رشید جیسے لوگوں کے بارے میں کئی بار بتایا ..کہ یہ گروپ شریف برادران کے لئے کام کر رہا ہے اور فروخت ہو چکے ہیں ..چھانگا مانگا کا کھیل جاری ہے ..نکلو نکلو میدان میں نکلو ..تبدیلی کے لئے ..اپنا اور عوام کا حق ان غاصبوں سے چھین لو .ورنہ یہ تم کو اتنا گندہ کر دیں گے .کہ تم قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گے ..عمران خان نے ہماری سنی اور نہ شیخ رشید کی ....اب اور ملاؤ ہاتھ شریف برادران سے اور ذلیل ہوتے جاؤ ....اب جب سڑکوں پر احتجاج کے لئے .تبدیلی کے لئے .انقلاب کے لئے .ان چوروں کے خلاف نہیں نکلو گے ..تم قوم کے ہیرو نہیں بن سکتے ..اور ایک دن تمہارا جنازہ بھی انہی بغرتوں کے ساتھ دھوم دھام سے اٹھے گا ..تیار ہو جاؤ ..کسی جلسہ میں زرداری .نواز اور عمران کو جوتا دکھایا جانے والا ہے ...انشااللہ ......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ....

Wednesday, April 2, 2014

...........
سنہری ملک جس میں اپوزیشن ہے ہی نہیں ..............

......

جمہوریت کے ٹھیکیدار ہمیشہ یہ رونا روتے بہآنے بناتے تھے ..کہ ہم کو فوجیوں نے کچھ کرنے ہی نہیں دیا .اور یہاں ہمیشہ قانون کی جمہوریت کی حکمرانی نہیں رہی ..حالانکہ یہ جمہوریت کے سب ٹھیکیدار انہی فوجی آمروں کی پیداوار ہیں .اور ہمیشہ اقتدار میں رہے ہیں ..مگر چونکہ فرعون کی کرسی کا شوق ہر ایک کو ہوتا ہے ..اس لئے یہ عوام سے ہر دفعہ جھوٹ بولتے تھے اور بولتے ہیں ..اب سارے قلی طور پر اس حمام میں ننگے ہو چکے ہیں ..مگر ڈھیٹ اور بےغیرت اتنے ہیں کہ مانتے پھر بھی نہیں ..ہر دفعہ قوم سے یہی وعدے کرتے ہیں کہ اگر موقعہ ملا تو نظام بدل دیں گے ..عوام کے لئے یہ کریں گے . وہ کریں گے .کشکول توڑ دیں گے .دودھ کی نہریں بھا دیں گے .کالا باغ بنا دیں گے .انڈیا کو سبق سکھا دیں گے ...وغیرہ ..وغیرہ ...مگر اندازہ کریں اور ان کے جھوٹ ..فراڈ .بیمانی ..پر ابھی تک قوم نے ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہیں دی ..مگر کچھ اداروں نے یہ حق بھی ادا کر دیا ...یعینی نمک ہلالی .....اب جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو پھر موقعہ ملا ہوا ہے .اور سواۓ کرپشن کے ابھی تک عوام کو کوئی تحفہ نہ مل سکا ہے ..ویسے تو بجلی .گیس .مہنگائی .بیروزگاری .چوری .ڈاکے .قتل و غارت گری .ملاوٹ .بے حیائی .ناچ گانے ..ڈانس ..فیشن شو اور بھوت سے تحفے قوم کو دے جا سکے ہیں .جن کا ہم حکمران کا جمہوریت کا شکریہ ادا نہیں کر سکے ..جس کے ہم قصور وار ہیں اور پھانسی کے غداری کے حق دار ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں ..حکمران جو مرضی قانون کی شق لگا لے .ہمارے گلے میں پھندہ فٹ آتا ہے ...سارا قصور ہمارا ہے ..کیونکہ ہم بار بار ایک ہی فقرہ دوہرا کر بری ذمہ ہو جاتے ہیں کہ جیسی عوام ویسا حکمران ...جانے کب تک یہ گالی سنتے رہیں گے ..مگر کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا ..کہ ہم کو اس حال تک پنچایا کس نے ..اسی بےغیرت حکمران کی چال بازی سے مکاری سے ہم اس حال کو پنچے ہیں ..اب دیکھو کتنے خوش قسمت ہیں شریف برادران ...ان کی ساری تمنائیں پوری ہو چکی ہیں ..اور وقت کے خلیفہ بنے ہووے ہیں .جو چاہتے ہیں ہو جاتا ہے اور جو کچھ کرنا چاہ رہے ہیں وہ کھلم کھلا کر رہے ہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ..نہ کوئی اپوزیشن ہے اور کوئی ان کے مقابلے کا کوئی لیڈر ...سب جمہوریت بچاؤ .جمہوریت بچاؤ ..کا ورد کر رہے ہیں ..کیونکہ جمہوریت کے ٹھیکیدار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آپس میں اتحاد ختم کر دیا تو مارشل لا کے ساتھ جو جمہوریت کے چیمپئن اور ٹھیکیدار بن جایں گے ان میں نمایاں کردار گجرات اور کراچی والوں کا ہو گا اور فضل رحمان تو اپنا جمہوری چمچہ ہر جگہ جیب میں رکھتے ہیں ..یہ ہے عمران خان کو اندر کے لوگوں کا مشورہ ..کہ اگر عمران خان اپنے اور قوم کے حق کے لئے احتجاج پر نکلے تو اس عوامی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر فوجی جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے سپرد کر دی جاۓ گی ....یہ ہے ہماری اپوزیشن اور ہمارے لیڈر کا عوامی اور قومی جزبہ ..جس کے سہارے میاں صاحب عیاشی کر رہے ہیں اور دونوں بھائی فرعون بنے ہووے ہیں ..آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ...مگر مارشل لا ہمیشہ اس وقت آتا ہے .جب جمہوریت کے چیمپئن ڈلیور نہیں کر سکتے ...حقیقت .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ........٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ............
...........
سنہری ملک جس میں اپوزیشن ہے ہی نہیں ..............

......

جمہوریت کے ٹھیکیدار ہمیشہ یہ رونا روتے بہآنے بناتے تھے ..کہ ہم کو فوجیوں نے کچھ کرنے ہی نہیں دیا .اور یہاں ہمیشہ قانون کی جمہوریت کی حکمرانی نہیں رہی ..حالانکہ یہ جمہوریت کے سب ٹھیکیدار انہی فوجی آمروں کی پیداوار ہیں .اور ہمیشہ اقتدار میں رہے ہیں ..مگر چونکہ فرعون کی کرسی کا شوق ہر ایک کو ہوتا ہے ..اس لئے یہ عوام سے ہر دفعہ جھوٹ بولتے تھے اور بولتے ہیں ..اب سارے قلی طور پر اس حمام میں ننگے ہو چکے ہیں ..مگر ڈھیٹ اور بےغیرت اتنے ہیں کہ مانتے پھر بھی نہیں ..ہر دفعہ قوم سے یہی وعدے کرتے ہیں کہ اگر موقعہ ملا تو نظام بدل دیں گے ..عوام کے لئے یہ کریں گے . وہ کریں گے .کشکول توڑ دیں گے .دودھ کی نہریں بھا دیں گے .کالا باغ بنا دیں گے .انڈیا کو سبق سکھا دیں گے ...وغیرہ ..وغیرہ ...مگر اندازہ کریں اور ان کے جھوٹ ..فراڈ .بیمانی ..پر ابھی تک قوم نے ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری نہیں دی ..مگر کچھ اداروں نے یہ حق بھی ادا کر دیا ...یعینی نمک ہلالی .....اب جمہوریت کے ٹھیکیداروں کو پھر موقعہ ملا ہوا ہے .اور سواۓ کرپشن کے ابھی تک عوام کو کوئی تحفہ نہ مل سکا ہے ..ویسے تو بجلی .گیس .مہنگائی .بیروزگاری .چوری .ڈاکے .قتل و غارت گری .ملاوٹ .بے حیائی .ناچ گانے ..ڈانس ..فیشن شو اور بھوت سے تحفے قوم کو دے جا سکے ہیں .جن کا ہم حکمران کا جمہوریت کا شکریہ ادا نہیں کر سکے ..جس کے ہم قصور وار ہیں اور پھانسی کے غداری کے حق دار ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں ..حکمران جو مرضی قانون کی شق لگا لے .ہمارے گلے میں پھندہ فٹ آتا ہے ...سارا قصور ہمارا ہے ..کیونکہ ہم بار بار ایک ہی فقرہ دوہرا کر بری ذمہ ہو جاتے ہیں کہ جیسی عوام ویسا حکمران ...جانے کب تک یہ گالی سنتے رہیں گے ..مگر کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا ..کہ ہم کو اس حال تک پنچایا کس نے ..اسی بےغیرت حکمران کی چال بازی سے مکاری سے ہم اس حال کو پنچے ہیں ..اب دیکھو کتنے خوش قسمت ہیں شریف برادران ...ان کی ساری تمنائیں پوری ہو چکی ہیں ..اور وقت کے خلیفہ بنے ہووے ہیں .جو چاہتے ہیں ہو جاتا ہے اور جو کچھ کرنا چاہ رہے ہیں وہ کھلم کھلا کر رہے ہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ..نہ کوئی اپوزیشن ہے اور کوئی ان کے مقابلے کا کوئی لیڈر ...سب جمہوریت بچاؤ .جمہوریت بچاؤ ..کا ورد کر رہے ہیں ..کیونکہ جمہوریت کے ٹھیکیدار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آپس میں اتحاد ختم کر دیا تو مارشل لا کے ساتھ جو جمہوریت کے چیمپئن اور ٹھیکیدار بن جایں گے ان میں نمایاں کردار گجرات اور کراچی والوں کا ہو گا اور فضل رحمان تو اپنا جمہوری چمچہ ہر جگہ جیب میں رکھتے ہیں ..یہ ہے عمران خان کو اندر کے لوگوں کا مشورہ ..کہ اگر عمران خان اپنے اور قوم کے حق کے لئے احتجاج پر نکلے تو اس عوامی جمہوریت کی بساط لپیٹ کر فوجی جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے سپرد کر دی جاۓ گی ....یہ ہے ہماری اپوزیشن اور ہمارے لیڈر کا عوامی اور قومی جزبہ ..جس کے سہارے میاں صاحب عیاشی کر رہے ہیں اور دونوں بھائی فرعون بنے ہووے ہیں ..آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ...مگر مارشل لا ہمیشہ اس وقت آتا ہے .جب جمہوریت کے چیمپئن ڈلیور نہیں کر سکتے ...حقیقت .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ........٠٠٣٩٣٢٠٣٣٧٣٣٣٩ ............