Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, September 14, 2014


...........................تحریر اسکوائر..انقلاب اور نظام ................................
...........ہم جھوٹے فریبی مکار سیاستدان سے لڑیں گے
.........کرپٹ مافیا منافق سرمایا دار خاندان سے لڑیں گے
..........ہم انصاف و احتساب کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں
........ہم خاندانی سیاست کے ماہر قانون دان سے لڑیں گے
..........ہم ظلم کی آگ بجھانے نکلے ہیں
.........ہم آتش نمرود اور فرعون سے لڑیں گے
...........ہم  شاہین  ہیں  ہماری  پرواز  ہے  بلند
.........کسی کے سہارے نہیں اپنے خون سے لڑیں گے
.........ہم نظام کی تبدیلی سبز انقلاب چاہتے  ہیں
......با کردار نوجوان .بد کردار حکمران سے لڑیں گے
.........ہم مزدوروں غریبوں یتیموں کے ساتھ  ہیں
.......ہم انسان کے روپ والے شیطان سے لڑیں گے
.........ہم انصاف و قانون  کی حکمرانی  چاہتے  ہیں
........ہم  نا انصافی  والے ہر  قلمدان  سے  لڑیں  گے
.........ہم  ڈنڈوں  اور  گولیوں  کے  ساتھ  نہیں جاوید
........ہم  جوش  و جزبہ  جنون  سے  لڑیں  گے
...جب میں نے یہ نظم لانگ مارچ ١٤ اگست ٢٠٠١٤ کے لئے لکھی تھی  اور میں نے جب پہلی مرتبہ ١٥ اگست کی صبح ٧ بجے چاندہ قلہ چوک جی .ٹی روڈ  گوجرانوالہ میں عمران خان کے استقبال سے چند لمحے قبل پڑھی تھی .تو مریں فہم و گمان میں بھی نہیں تھا ..کہ میں اس نظم کو اسلام آباد دھرنے میں بھی پڑھوں گا .اور اپنے کارکنوں کی صحیح ترجمانی کروں گا اور مجھے پزیرائی بھی میری توقوح سے بڑھ کر ملے گی ..اور نہ میں نے یہ کبھی سوچا تھا کہ اسلام آباد .ڈی چوک بھی کبھی تحریر اسکوائر بن جاۓ گا ..جو لوگ نہیں جانتے تھے .کہ انقلاب .نظام اور تحریر اسکوائر کیا ہوتا ہے ..آج اللہ کے فضل و کرم سے ہر زی شعور اور ان پڑھ بھی یہ جان چکا ہے .مان چکا ہے .تسلیم کر چکا ہے ..کہ پر امن احتجاج کیسے کہتے ہیں اور جمہوریت میں آمریت کیسے کہتے ہیں .ہر کوئی پہچان چکا ہے .کہ اس ملک میں انصاف .احتساب اور نظام نام کی کوئی چیز نہیں ہے ..اگر یہ آسان سی بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی ..تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے مفاد پرست ٹولے کی سمجھ میں نہیں آئی اور شاید سپریم کورٹ کی سمجھ میں بھی نہیں آئی ..اگر میں غلط کہ رہا ہوں اور سپریم کورٹ میں ذرا سی بھی غیرت ہے .تو بہتر ہو گا کہ .سو موٹو ایکشن لے کر مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ .تا کہ انصاف ہوتا نظر تو آے ..باقی رہا معاملہ نظام کی تبدیلی کا ..تو میرا ایمان و یقین ہے .کہ اس ملک میں نظام تو اب تبدیل ہونا ہے اور جمہور کے ٹھیکیدار یہ کلہاڑی اپنے پاؤں پر چلانے کو تیار نہیں لگتے ..اس لئے میں دیکھ رہا ہوں یہ کام مجبوری سے تنگ آمد بجنگ آمد .اب کی بار تیسری قوت ہی کرے گی .کیونکہ سیاستدان حکمران عقل سے عاری یا عقل سے پیدل..یا گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ..ویسے اس دفعہ جتنی برداشت تیسری قوت نے دکھائی ہے ..عام آدمی کی سوچ سے باہر ہے ..حکمران نے خود بھی .اپنے وزیروں مشیروں کے ذریعہ بھی اور اپنے ذاتی چینل .جیو اور جنگ گروپ کے ذریعہ بھی جتنا زہر تیسری قوت کے خلاف اگلنا تھا .اگلا مگر تیسری قوت کی برداشت ..اور برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ..ابھی والوں پر پھر طاقت کا استمال جاری ہے ..مگر ابھی وہ وقت بھی آنے والا ہے ..کہ جب میرے جیسوں کی خود گرفتاریاں دینے والوں کی لاین لگ جاۓ گی ..حکمران کو پیشگی خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں ..کہ ایوب خان کے آخری وقت کے نعرے اور قومی اتحاد کی گرفتاریاں بھٹو صاحب کے خلاف ...وہ وقت آنے والا ہے ..اور کتا .کتا ..ہائے .ہائے...سڑکوں پر ہونے والا ہے ..میرے حکمران ذرا سبھل جا ..چھوڑ دے ہٹ دھرمی ...جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Saturday, September 13, 2014


.........................گو نواز گو اور اخلاقی غیرت کا تقاضہ .......................
............جب ہم چھوٹے لوگ دھرنے میں . گو نواز گو ..اور  . کتا کتا ہائے ہائے...کے نعرے لگا رہے تھے .تو حکمران کی سوچ میں بھی نہیں تھا .کہ کبھی فیلڈ میں عام نواز شریف یا شہباز شریف کے جلسوں میں بھی یہ نعرے لگ سکتے ہیں ..جب پارلیمنٹ سے حکمران کے وفادار یہ نعرے سن رہے تھے تو وہ دھرنے والوں کو خانہ بدوش کہ رہے تھے ..کیونکہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے وفادار یہ سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں ..کہ یہ نعرے صرف خانہ بدوش لگا سکتے ہیں ..مگر سیلاب کے جلسے میں تو کوئی خانہ بدوش نہیں تھا .سب با عزت لوگ تھے جو گو نواز گو کے نعرے لگا رہے تھے ..مگر حکمرانوں کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا .حکمران کو اپنے کانوں پر بھی یقین نہیں آ رہا ..بلکہ چند مشیر میاں صاحب کو بتا رہے تھے .کہ چند شرپسند تھے جو عمران خان اور قادری صاحب نے بھیجے ہووے تھے ..اسی طرح کے مشیر ہر دور میں کرپٹ حکمرانوں کے کان بھرتے ہیں .اور اپنا مطلب نکالنے کے لئے حکمران کو غلط مشورے دیتے ہیں .اور آخر کار حکمران کو لے ڈوبتے ہیں ..کرپٹ حکمران تو اس قابل ہوتا ہی نہیں کہ وہ وقت کو بھانپتے ہووے نوشہ دیوار پڑھ لیں اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا لیں ..بلکہ وہ تو آخر دم تک اقتدار کی طاقت کے نشے میں سر شار ہوتے ہیں ..اور ان کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ آج یہ نعرہ لگا ہے .کل کو دوسرا بھی لگ سکتا ہے ..جبکہ میرے اندازے کے مطابق غریب اس حد تک پنچ چکا ہے .کہ عنقریب سڑکوں پر کتا کتا ہائے ہائے..ہونے والا ہے ..اور حکمران کو جس دن کا انتظار ہے اور تھا ..وہ جلد آنے والا ہے ..کیونکہ نہ تو دھرنے ساری زندگی پر امن رہیں گے ..نہ مطالبات کی بھیک مانگنے کے لئے ٥ سال انتظار کیا جاۓ گا ..اور نہ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ پر یوں خاموشی اختیار کی جاۓ گی .اور نہ سلطنت کا کاروبار اس طرح چلے گا ..آخر کار تنگ آمد بجنگ آمد ..ایک دن وہ طبل بجے گا جو خونی انقلاب کی راہ ہموار کرے گا ..کیونکہ بھوک .پیاس.سردی .گرمی .بارش .اور موسم کی تکالیف .اور حکمران کی عیاری.مکاری .آنسو گیس .شیلنگ اور برہمی اور ہٹ دھرمی اک دن یہ چنگاری جلد شعلوں میں تبدیل ہونے والی ہے ..کیونکہ قوم جان چکی ہے کہ حکمرانوں کے مذاکرات اور کمشن بنانے کے حربے صرف بد نیتی پر مبنی ہوتے ہیں اور ڈنگ ٹپاؤ کے لئے صرف بہانے ہوتے ہیں ..نہ اس ملک میں اب دھرنے ٥ سال جاری رہ سکتے ہیں .نہ مطالبات  کو اب قبر میں دفنایا جا سکتا ہے ..اب یہ آئین و قانون .پارلیمنٹ .جمہوریت .دھاندلی کی بحث چل نکلی ہے .اب یہ اپنے منتقی انجام کو اگر نہ پنچ سکی . تو ملک ضرور ٹھیکے پر چلا جاۓ گا ..کیونکہ اس طرح نہ ملک چل سکتے ہیں نہ اقتدار سے اربوں روپے ہر روز کماۓ جا سکتے ہیں ..اب اس ملک میں انارکی آے.یا سبز انقلاب یا خونی انقلاب یا سول وار آے..جو مرضی ہو اب یہ بات طے ہے ..کہ ملک میں غریب کا سوچنا پڑے گا .اصلاحات کرنا ہوں گی .نظام کی تبدیلی لازمی ہے ..چند ترامیم لازمی ہیں ..اور چوروں .لٹیروں کا محاسبہ ہونے کو ہے ..اگر میاں صاحب اس معاملہ کو طول نہ دیتے .فہم و فراست سے بر وقت حل کر لیتے ملک کی خاطر..تو عین ممکن تھا .کہ اپنی اور دوستوں کی کرپشن کو بچا لیتے اور اپنی عزت کو بھی بچا لیتے ..اور اپنے قد کاٹھ میں بھی اضافہ کر لیتے ..مگر اب محسوس ہو رہا ہے .کہ صنم ہم تو ڈوبے .تم کو بھی لے ڈھوبیں گے ..اب لگتا ہے نہ میاں صاحب بچ پایں گے اور نہ حواری ..کیونکہ تیسری قوت بغور جایزہ لے رہی ہے اور چارج شیٹ تیار کر رہی ہے .اب کی بار چند ایک کو کرپشن کا پیسہ واپس بھی کرنا ہو گا اور چند ایک کو  پھانسی بھی ہونے والی ہے ..کیونکہ ٦٥ سال بھوت ہو چکے ..آخر کب تک ...اب یہ ملک ساری زندگی کرپٹ مافیا .کرپٹ خاندان کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا ...اب ملک فیصلہ کن گھڑی کے کنارے پر پنچ چکا ہے ..اب فیصلہ یہ ہو گا .کہ آیا غریب کا کچھ حصہ اس ملک میں ہے یا اشرافیہ ہی اس ملک کو لوٹنے میں مصروف رہے گا ...اب کچھ نہ کچھ جلد ہونے والا ہے ..انشااللہ ..چند دن کی دیر ہے .. ڈراپ سین ہونے کو ہے ..............................تیسری قوت کے سوا اب کوئی چارہ کار نہ ہے ........جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Friday, September 12, 2014


.......................................خونی انقلاب  تو آئے گا ............................
..............اگر کرپٹ حکمرانوں نے اپنی ہٹ   دھرمی  نہ چھوڑی..اگر کرپٹ خاندان اپنی  بادشاہت اور خلافت کے چکر سے باز نہ آئے ..اگر دھرنوں کا معاملہ  عزت و آبرو اور اہلیت .دانشمندی .اور بردباری سے حل نہ کیا گیا..اگر طاقت کا استمعال اسی طرح جاری رہا .اگر اسی طرح ناجایز گرفتاریاں ہوتی رہیں .اگر پولیس کا رویہ تبدیل  نہ ہوا ..اگر حکمرانوں نے قبلہ درست نہ کیا..اگر پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں نے اپنے اپنے مفادات کو پش و پشت نہ ڈالا..اگر عمران خان اور قادری صاحب  سے پارلیمنٹ  والوں کی نفرت کا عمل برقرار رہا ..اور دھرنے والوں کو خانہ بدوش کہا جاتا رہا ..تو  میرے جسے  لوگوں کو حکمرانوں سے نفرت کرنے سے کوئی نہیں  روک سکتا ..پہلے  میں  دھرنے میں  .گو نواز  گو اور کتا کتا ہاے ہاے .ہونے کی پیش گوئی کرتا تھا .اب گو نواز گو کے نعرے سیلاب کے جلسوں میں شروح ہو چکے ہیں ..اور کتا کتا ہاے ہاے .ہونا باقی ہے ..دیکھتے جاؤ..اگر وزیروں  مشیروں .کالم نگاروں .تجزیہ نگاروں اور چند اینکروں کو ہوش نہ آیا ..تو عنقریب  غریب  غربت کے مارے .بجلی کے   بلوں کے  مارے جب سڑکوں پر آئیں گے ..تو سڑکوں پر .کتا کتا  ہاے ہاے .ہو گا ..پھر تجزیہ نگاروں اور بادشاہت کے  طلبگاروں  کو ہوش آے گی ..مگر اس وقت تک  پلوں کے  نیچے سے کافی پانی بہ چکا ہو گا ..اس لئے کہتا ہوں کہ  میرا پیارا بد کردار .کرپشن والا .دولت کا پجاری حکمران بذات خود   خونی انقلاب  لانے کی کوشش میں  مصروف ہے ..الزام عمران  خان اور قادری  صاحب  پر لگانے کی کوشش کی  جا رہی ہے ..جن لوگوں  کو عمران خان اور قادری  صاحب  کے  چہرے اچھے نہیں لگتے . .ان سے   مجھے  کوئی  گلہ نہیں ..مجھے گلہ تو ان عقلمندوں  سے ہے .جو ان کے الفاظوں سے اختلاف کرتے ہیں ..کیونکہ جو وہ اصلاحات  چاہتے ہیں .نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں .ملک میں انصاف اور احتساب  کا قانون چاہتے ہیں ..کیا پارلیمٹ کے غنڈے وہ نہیں  چاہتے..اگر نہیں چاہتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ مولویوں کے حجروں میں شراب دیکھنا چاہتیں ہیں .. مولویوں کو صرف ڈیزل کے پرمٹ سے دلچسپی ہے ..کیا یہ  سچ  نہیں ہے .کہ اسمبلی اور سینٹ کے ٹکٹ فروخت ہوتے ہیں ..اور من پسند افراد کا انتخاب  کیا جاتا ہے ..اگر یہ  سچ  ہے .تو یہ  کیسا  نظام ہے ..قادری صاحب جو ہر روز آئین و قانون کی خرابیاں  گنوا  رہے ہیں . .اگر کسی کے  اندر  غیرت ہے تو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے ...اگر چیلنج بھی نہیں  کرنا .اور آئین پر  عمل بھی نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے تو پھر  خونی انقلاب  تو آئے گا .اس کو کون کب تک روکو گے ..انقلاب کا تمسخر اڑانے  والو ..اگر میری پوری نظم جو میں نے  دھرنے کے شرکا کے سامنے پڑھی تھی .اگر سن لو تو شاید تم کو عقل آ جاۓ .......صرف دو الفاظ سن لو .................................انقلاب تو آئے گا آتش نمرود کو بجھا کے آئے  گا
...............................آنے سے پہلے  تیرے  اندر  ہلچل   مچا  کے آئے گا
...............................اب  تاج   اچھالے  نہیں  جایں  گے
..............................اب  تاج  و تخت   جلا  کے  آئے  گا
.......اور آخر میں  پھر حکمران اور حکمران کے  گماشتوں  کو یہ پیغام  دینا   چاہتا  ہوں .کہ آپ عمران خان کے  دھرنے کو معمولی مت سمجھو ..تحریک انصاف  پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی ہے .دھاندلی کے باوجود ..اگر عمران خان کے       مطالبات تسلیم  نہیں کئے جاتے ..تو یہ ملک چل ہی نہیں سکتا ..اگر عمران خان کل کو  راوی کے پل کو بلاک کر دیتا ہے اور حکومت طاقت کا استمعال کرتی ہے .تو خون خرابہ ہو گا اور خونی انقلاب کا آغاز ہو جاۓ گا ..یہ آگ پورے ملک میں لگنے کے لئے بیتاب ہے ..حکمران اور اس کے حواری ہوش کے ناخن لیں ..اور دھرنوں کو با عزت منتقی انجام تک پنچایا جاۓ ..وزیر اعلی اور وزیر اعظم..ایک مہینے کے لئے منظر سے ہٹ جایں .ہٹ دھرمی چھوڑ دی جاۓ .ملک کا بیڑہ غرق نہ کریں اور ملک کو خونی انقلاب سے بچایا جاۓ ....جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Thursday, September 11, 2014


...............................لکھاری  تجزیہ نگار اور اینکر حضرات..................
..............پاکستان میں بد قسمتی سے بڑا لکھاری بڑا تجزیہ نگار اور بڑا اینکر ووہی ہے جو بڑے چینل اور بڑے اخبار سے تعلق رکھتا ہے ..اور ہم بھی کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی بیوقوف بن بھی چاہتے ہیں اور ہر روز بناۓ بھی جاتے ہیں ..حالانکہ اگر کچھ لوگوں کی چھان بین کی جاۓ تو وہ اخلاقی اور انسانی لحاظ سے اتنی گری ہوئی حرکتوں کے ساتھ سامنے آ جایں گے کہ شاید ہماری  آنکھیں چندھیا جایں ..ہم جن کو بڑے قد والے . بڑی فہم و فراست والی شخصیات سمجھتے ہیں .اندر سے کتنے کھوکھلے ہوتے ہیں .اخلاق سے عاری .عقل سے بھی خالی ہوتے ہیں ..ہمارا امج کچھ اور ہوتا ہے اور وہ نکلتے کچھ اور ہیں ..کبھی کبھی تو ہمارے شفاف ذہن کا آئنہ پاش پاش ہو جاتا ہے کرچی کرچی ہو جاتا ہے .اس قدر یہ نام نہاد مایوس کرتے ہیں کہ ہم کو ان لوگوں سے نفرت ہو جاتی ہے .نہ کوئی منطق سمجھ میں آتی ہے نہ یہ کوئی حل دیتے ہیں ..بس فرسٹریشن ہی فرسٹریشن میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں .کرپٹ سیاست دان کی طرح ..ابھی رات کو ہی کاشف عباسی کا شو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو حیران ہوا .جب جاوید چودھری صاحب یہ فرما رہے تھے کے اگر عمران خان کے کہنے پر ٣٠ حلقے کھول دئے جایں.تو ان میں دھاندلی پکڑی جاتی ہے تو پھر بھی ملک میں نیا الیکشن کیوں کروایا جاۓ .کیونکہ ٣٠ حلقوں کے بعد باقی ٢٤٠ حلقوں کا کیا قصور ہے ..واہ واہ جاوید چودھری تیری سوچ پر .تیری عقل و دانش پر ..تیری فہم و فراست سے یہ لگتا ہے کہ اگلا .پی.ٹی.وی ..کا ایم.ڈی..شاید تم کو ہی لگا دیا جاۓ گا .....کیونکہ حکمران کو ایسے لوگوں کی ہر دور میں ضرورت ہوتی ہے ہیں ..کیونکہ مجھے تو جاوید چودھری کی منطق کی سمجھ نہیں  آئی ..ہم نے بچپن میں  سنا  تھا کہ کسی دیگ کو چیک  کرنے کے لئے چند چاول کے دانے ہی کافی ہوتے ہیں ..مگر یہ اینکر کہتا ہے کہ اس الیکشن والی دیگ میں زہر ہے اس لئے ٣٠ پلیٹ زہر کی چیک کر لی جایں .اگر ٣٠ اسمبلی کے ممبر فوت ہو جاتے ہیں تو الیکشن کی زہر والی دیگ کو نہ پھینکا جاۓ .بلکہ سبھال کر رکھ لی جاۓ ..واہ کیا بات ہے ..کیا تجزیہ ہے ..مبارک ہو جاوید چودھری صاحب .اگر ٣٠ ممبر اسمبلی اگر دھاندلی ثابت ہونے پر فوت ہو جاتے ہیں تو بہتر ہے آپ بھی ایک زہر والی پلیٹ ضرور چیک کر لیں ..یہ بھوت ضروری ہے کیونکہ جب ٣٠ پلیٹ میں زہر تھا .تو کوئی ضروری تو نہیں کہ ٣١ نمبر پلیٹ جو آپ کی ہے اس میں بھی زہر ہو ..بہتر ہے آپ  اسمبلی کو بچانا چاہتے ہیں تو اس پلیٹ کو ضرور چکھ لیں ..تاکہ کنفرم ہو جاۓ کہ زہر صرف ٣٠ پلیٹ میں تھا ..باقی حلقے دھاندلی سے پاک ہیں ..کیونکہ بقول آپ کے  آزمایش شرط ہے .جاوید چودھری اور پرویز رشید اور احسن اقبال اور دوسرے وزیروں کے خیالات ملتے جلتے ہیں ....مبارک ہو ایسے  لکھاریوں .تجزیہ نگاروں اور اینکروں کو ..جو ملک کے ٢٠ کروڑ عوام کو بیوقوف بھی سمجھتے ہیں اور اپنا گندہ  تجزیہ بھی ہر روز ٹھونستے رہتے ہیں ..کیونکہ چینل پر عام آدمی کی بات کوئی نہیں سنتا ..صرف چند مکروہ چہرے ہی قوم کی تقدیر سے کھیل رہے ہوتے ہیں ..اور پارلیمنٹ میں بھی بیٹھے ہووے لوگ جو اپنے گھر کی نمایندگی نہیں کر سکتے وہ بھی دعوه کرتے ہیں کہ ہم ٢٠ کروڑ کی نمایندگی کرتے ہیں ..یہی حال ہمارے لکھاریوں .تجزیہ نگاروں اور اینکروں کا ہے .....اللہ کرے  ٹی.وی .چینل کو کبھی یہ خیال آ جاۓ یا شعور آ جاۓ .کہ وہ عام آدمی کا تجزیہ بھی سن لیں ..کاش کبھی ایسا ہو ...ہم ان بکاؤ مال سے تنگ آ چکے ہیں جو بد کردار حکمرانوں کا منجن بیچتے ہیں ...................
.................................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.................
..............................٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ ............................

Wednesday, September 10, 2014


..................................انقلاب جاوید ......................
..............................اٹھو ہم وطنوں اب انقلاب کی ریاضت کر لو
.............................عمر فاروق جیسی اب دعوت خلافت  کر لو
.............................با ضمیرو وقت ہے اب ضمیر  کی سخاوت کر لو
............................مکر و فریب کی سیاست کے خلاف اب بغاوت کر لو
............................اپنے  لئے  تو  سبھی  کرتے  ہیں
...........................حکمران کے لئے بھی تھوڑی سی عبادت کر لو
.........................ہر  روز  کے مرنے  سے  بهتر  ہے
........................اب  موت  کی  بھی  عیادت کر  لو
........................یہ  فرسودہ  نظام ایسے نہیں بدلے گا
.......................اب  قطرہ خون  کی بھی خیرات کر لو
......................اب تجزیہ نگار بھی  ہیں براۓ فروخت
......................لفظوں کی نہیں اب  عملی  خطابت کر لو
.....................قبر کی جگہ ملے  نہ  ملے جاوید
.....................اب کفن  باندھنے  کی  استقامت کر لو
.............................جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ...

.....................................آزادی کے لئے ..........................................
.....................اونچے اونچے ناموں کی بس  تختیاں جلا دینا
....................ظلم کرنے والوں کی بس وردیاں جلا دینا
..................ان  سے پوچھو جن کی کائنات جل  چکی
................حکمران آسان سمجھتا ہے بستیاں جلا دینا
................در بدر نہ بھٹکنا دفتروں کے جنگل  میں
..............بہتر ہے بیلچے اٹھا لینا ڈگریاں جلا  دینا
..............موت سے جو ڈر جاؤ تو زندگی  نہیں ملتی
..............جنگ سے جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا
.............ظلم کے منظر سے نہ کبھی ہارنا سیکھو
.............جب چراغ بجھ جاۓ  تو انگلیاں جلا دینا
............جب  نا انصافی کا تخت تم کو راس نہ آے
............تو تبدیلی نظام کی خاطر انقلاب کا دیا جلا دینا

.................................آزادی .آزادی .آزادی ................................
....................خدا کا شکر کہ آزاد ہو گہے ہم بھی
...................پھر اس کے بعد شداد ہو گہے ہم بھی
...................قیس سے نکلنے کی دیر  تھی بس  پھر
...................چمن میں اپنے ہی صیاد ہو  گہے ہم بھی
................. امیر شہر  کو جب روشنی نہ راس آئی
................بجھا کے گھر کے دئے شاد ہو گہے ہم بھی
................بدنام مذهب اور دین کو بھی کیا ہم  نے
................شریک سازش اتحاد ہو گہے ہم  بھی
.................سراغ جنت ارضی  ہم سے ہی ملتا ہے
................سو اس خزانے میں آباد ہو گہے ہم بھی
...............کبھی تو لگتا ہے کہ دنیا سنور  گئی
..............کبھی لگتا ہے برباد ہو گہے ہم  بھی