Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, September 12, 2013

،،،،،،،،،،، ، ، ،، ، ،،،کیا ہے مجھ میں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،، لگتا  ہے  رقص  کرتی  ہے آگہی  مجھ  میں
،،،،،،،،،،،کہاں ہوں شاعر ، کہاں ہے شاعری مجھ میں
،،،،،،،،،، گر نہ ہوتا  دکھ  درد ، جزبہ حب ال وطنی
،،،،،،،،،،کہاں  اٹھاتا  قلم کہاں آتی  کالم نگاری مجھ میں
،،،،،،،،،ٹھوکروں  سے  پتھر  جب بن  گیا  میں
،،،،،،،،.تو  سما  گئی  نفرتوں جیسی سختی مجھ میں
،،،،،،،،،، جھوٹے ظالم  کو  بدکردار ظالم جو  کہتا ہوں
،،،،،،،،،بس  اتنی سی آ  گئی ہے  روشنی  مجھ میں
،،،،،،،،،،کرچیاں کرچیاں ہو چکا ہوں پھر بھی
،،،،،،،،،رہ گئی ہیں کچھ  صورتیں دھندلی مجھ میں
،،،،،،،،،،ناحق قتل و غارت گری  سے لڑتا  ہوں ہر  روز
،،،،،،،،،جھانک کر دیکھ وہ میدان کربلا  کبھی مجھ میں
،،،،،،،،،سہتا اور سنتا ہوں وہ بھی ہر روز
،،،،،،،،،جو دکھوں کی ہے راگنی مجھ میں
،،،،،،،،،،،در در ٹھوکریں کھاتے ہیں جس کے لئے
،،،،،،،،،،اب کہاں ہے وہ چاہت ے زندگی مجھ میں
،،،،،،،،،،ساری زندگی نہیں ڈھلا منظر تپش ے سورج
،،،،،،،،،،دن  کو بھی رات  جیسے  سما گئی  مجھ میں
،،،،،،،،،،ڈھونڈتا رہا دوست  میں دوستی کو جاوید
،،،،،،،،،،کہاں ہے آگہی کہاں شعور آشنائی مجھ میں
،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان،،اطالیہ،،،،،،،
......................پاگل ہے جاوید ..................
....................پاگل ہے جاوید کہ انقلاب دعا مانگ رہا ہے
...................چوروں .لٹیروں  سے انقلاب وفا مانگ رہا ہے
..............................وہ جو ظلم بھی سہتے ہیں بھوک و ننگ میں
.............................دیکھو جاوید ان سے بھی انقلاب جفا مانگ رہا ہے
................جاوید یہ تیرا دل  کوئی  رہزن   ہے     یا   رہبر  
..............جو ظلمت کے اندھیروں سے بھی انقلاب ضیاء مانگ رہا ہے
...........................دیکھ  اندھیر نگری اور لاشوں کو ہر طرف
.........................جاوید تو ان لاشوں سے انقلاب قضا  مانگ رہا ہے
.............جاوید دیکھ حکمرانوں کے طوفانی دوروں اور بیانات کو
............پھر بھی پاگل آغوش طوفان میں انقلاب قبا مانگ رہا ہے
.....................جس سے آ جاۓ جرات  میرے  حکمران کے اندر
...................پلا دوں حکمران کو بس ایسی  کوئی دوا مانگ رہا ہے
...........سدا رہے سلامت میرا وطن میری  دھرتی  میرا پاکستان
.........جاوید. عمر فاروق یا حضرت علی  جیسا شیر خدا مانگ رہا ہے
..........................جاوید اقبال چیمہ ....میلان ..اطالیہ 

Monday, September 9, 2013

..........................اے . پی .سی ..بے فایدہ ................
................پہلے  کی طرح  کھاؤ . پیو ..موج اڑاؤ .....نہ کچھ ہونا ہے اور نہ کوئی نتیجہ نکلنا ہے ...ڈرون  کو تم فوری طور پر روک نہیں سکتے ..نیٹو سے تم نکل نہیں سکتے ....نیٹو سپلائی تم  بند نہیں کر سکتے ..ملک  میں غیر قانونی  اجنسیوں  کو تم نکال نہیں سکتے ..غداروں  اور ٹارگٹ کلر کو تم پھانسی پر نہیں لٹکا سکتے ..انڈیا  کی مداخلت کو تم روک نہیں سکتے ...بلوچستان اور کراچی میں مشرقی پاکستان والا کھیل جاری ہے ..اس کو تم کنٹرول نہیں کر سکتے .....پنجاب میں اغوا اور ڈاکے تم روک نہیں سکے ...بھوت ساری  چیزیں جو تمہارے بس میں ہیں ان کو تم کنٹرول نہیں کر سکے ..طالبان کو کیا کنٹرول کرو گے ....طالبان کو جو امداد دے رہا ہے ...اسلہ دے رہا ہے ..جدید ٹیکنولوجی دے رہا ہے ...اتنا نیٹ ورک دے رہا ہے ..اس کے خلاف بات کرتے وقت تمہارے ہاتھ پاؤں کامپتے ہیں ....تم تو سیاسی بیغرتوں  کے چمچوں کو چھوڑ  رہے ہو جو دہشت گردی ..بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں ....تم تو ایک علاقے کے مالک  تھانیدار کو کنٹرول نہیں کر سکے . جس کی ناک کے نیچے اور سرپرستی میں ہر کام ہو رہا ہے ..تم طالبان کو کیا کنٹرول کرو گے ...تم تو اسلہ کے کنٹینر  خود غائب  کرتے اور کرواتے ہو اور بازار میں فروخت کرتے ہو ....ہمارے اپنے ملازم شامل ہیں ...کیا طالبان بیروزگاری اور مہنگائی  کے ذمہ دار ہیں ..کیا بجلی اور گیس کی  چوری  اور مہنگائی  میں طالبان ہیں ....کیا نظام تبدیل نہ کرنے میں طالبان کا قصور ہے ...کیا طالبان نے کھا تھا ..کہ تم اس جنگ میں چھلانگ لگاو جو تمہاری نہیں ہے .....کیا طالبان کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم اور بھاشا ڈیم نہ بناؤ ....کیا تھر  کے علاقے میں کوئلے  سے بجلی پیدا  کرنے سے ہم کو طالبان نے روک رکھا ہے ..کیا ایران سے گیس لینے میں طالبان رکاوٹ ہیں .....کیا روٹی تندور اور لیپ ٹاپ طالبان کے کہنے پر کیا گیا .....جو ہم کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں ..جو ذاتی اور کرسی کے مفاد میں نہیں ہوتا ..وہ نہیں کرتے .بلکہ اس پر بہانے بناتے ہیں ..میٹنگ کرتے ہیں اجلاس پر اجلاس بلاتے ہیں ..جو کام نہیں کرنا چاہتا میرا حکمران ..اس کو کمیٹیوں کے سپرد کر دیتا ہے ...میرا حکمران بھگیوں  پر سفر کرتا ہے ..شہنشاہوں کی طرح  زندگی بسر کرتا ہے ..پاکستان سے مراعات  لیتا ہے ...بلو پاسپورٹ حاصل کرتا ہے ..جب اور جہاں جانا چاہتا ہے ..جاتا ہے عیاشی کرتا ہے اور قوم کی خاطر  دورے کرتا ہے سیر سپاٹے کرتا ہے ......کوئی ڈنر دیتا ہے کوئی  کرسی پر بیٹھنے پر کھانے  کھلاتا  ہے اور کوئی  کرسی خالی کرنے پر  کھانے تقسیم کرتا ہے ...بیڑہ غرق تو ملک کے خزانے کا ہوتا ہے ...اور جو میرے بھائی صحافی بھی کھاتے پیتے  ہیں ..ہم نے بھی کبھی یہ نہیں کھا کہ اس طرح قوم کے خون سے یہ ہولی نہیں کھیلنی چاہئے ...یہ سب اجلاس صرف بکواس ہیں ..اصل مسلۂ  اس ملک کا نظام ہے ....جو تبدیل کرنے کے بغیر کچھ بھی انقلاب نہیں آئے  گا ....جب تک بیوروکریسی ..جاگیردار ..وڈیرے  کو لگام نہیں ڈالی جاتی ..تب تک کچھ تبدیل نہیں ہو گا ...اور یہ کام صرف انقلاب کرے گا ..ووہی نظام کو تبدیل کرے گا ...اور جرات والے لیڈر پیدا کرے گا ...جو قوم کی خاطر  فیصلے کرنے میں کسی  کے محتاج نہیں ہوں گے .....وہ کون سا  افسر اور سیاسدان ہے جو صحافیوں  کو اپنی جیب سے کھانے  کھلاتا  ہے ...اور خزانے کو نقصان نہیں پنچاتا ..........اس نظام کی یہ خوبی ہے کہ زرداری  صاحب کو اتنے   میڈل  دئے  جا رہے ہیں ..یہ ہمارے نظام کی خوبی ہے کہ ہم بڑی  مہارت  سے غداروں کو بھی پاکستانی جھنڈے میں دفنا دیتے ہیں .....جب تک یہ ہوتا رہے گا ...ملک کا کوئی مسلۂ  حل نہیں ہو سکتا ....جب تک احتساب نہیں ہو گا ..سب کے ساتھ انصاف نہیں ہو گا ..اس ملک کے حالات نہیں بدلیں گے .......حکمران اس ملک کے ساتھ کھیلتا رہے گا ......انقلاب ..انقلاب ....صرف انقلاب  ہی نظام تبدیل کرے گا .... جو چوروں  ..لٹیروں ..بغیرتوں غداروں اور دہشت گردوں کو لٹکاۓ  گا .......جو مرضی کر لو ....کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا ..........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ ........

Thursday, August 29, 2013

............................انقلاب کس جانور کا نام ہے .........
..............کئی لوگوں کو انقلاب کے نام سے چڑ ہے ..ڈر  ہے .خوف ہے اور کچھ شرمندہ ہیں ....کئی قسم کی شخصیات  ہیں ..اور ان کی اپنی کاروباری دوکانیں انقلاب کی مخالفت اور حق میں چلتی رہتی ہیں ...میں نے تفصیل سے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ..کہ انقلاب کتنی قسم کے ہوتے ہیں ..انقلاب کیوں آتے ہیں ..اور انقلاب سے خوف صرف امیر آدمی ..جاگیردار .وڈیرہ شاہی ..چور اچکے ..بد کردار .کرپٹ حکمران کو اور بیوروکریسی کو ہوتا ہے ..تفصیل میں جانا  نہیں چاہتا   ..کافی کومنٹ  وصول ہوتے رہتے ہیں ..اچھے بھی برے بھی ....نہ فکر کرتا ہوں نہ برا مانتا ہوں ..کیونکہ میرے پاس طاقت نہیں ہے ..کہ میں نظام سے لڑ سکوں ...سمجھانے  کی کوشش کرتا ہوں ..اگر نہ سمجھے تو جھگڑا کس بات کا .....مجھے  غصہ صرف اس وقت آتا ہے جب مجھے فون پر دھمکیاں دی جاتی ہیں اور کال کرنے والا اپنے نمبر کو چھپاتا  ہے ..میں صرف اتنا کہتا ہوں ..کہ یہ گالیاں تم فیس بک پر یا میری میل پر بھی بھیج سکتے ہو ..تو جب تم کو یقین ہے کہ میں بے ضرر انسان اور کمزور انسان ہوں ..تو نمبر چھپانے کا فایدہ .. آج  جب  گھر سے نکلا  تو موسم تو خوشگوار تھا ..مگر میں کل  کے آنے والے  کومنٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا ..کہ اچانک  فون کال آ گئی ...غصہ آ گیا کہ ایک تو میں گاڑی  چلا رہا تھا دوسرا کال نمبر کے بغیر تھی ...گاڑی  چلاتے فون سننا اٹلی میں جرم ہے ..چلان  ہو جاتا ہے ...اگر نہ سنتا تو کال کرنے والا سوچتا کہ بزدل ہے .اس میں سننے کا حوصلہ نہیں ہے ..آخر کار فیصلہ کیا .کہ سن لیا جاۓ .شاید  میرا اندازہ غلط ہو ..مگر نہیں ووہی ہوا جس کا اندیشہ تھا ...دوسری  طرف سے جونہی غلط آغاز ہوا ..میں نے فوری طور پر گاڑی  کو سائیڈ میں کھڑا  کر کے اس کو سنا ...یہ کوئی نواز شریف کا خیر خواہ تھا ...مگر اس نے ووہی باتیں دہرائی ..جن کا میں عادی ہو چکا ہوں ...پھچلے دنوں اسلامآباد سے جو کومنٹ موصول ہووے تھے .یہ ان سے مختلف تھے .....تم کون ہو کیا ہو ..کس کے لئے کام کرتے ہو ....چند گالیاں  وغیرہ وغیرہ .....مگر آخر میں جب اس کو میں نے ٹھنڈہ کیا تو اس نے ایک بات کی .....جس کا میں نے  اس کو جواب دیا تو اس نے میرے جواب کو لگتا تھا ..کہ بڑی  مشکل سے ہضم کیا ہو گا ...وہ بھی فکر مند  ہو گیا ہو گا ..کیونکہ وہ فون بند کرنے سے پہلے جب حسب م  تو میں سمجھ گیا کہ وہ میرے جواب سے اگر مطمئن  نہیں ہوا تو سوچنے پر مجبور ضرور ہو گیا ہے ...میرا جواب صرف اتنا تھا ..کہ بھائی  میرے انقلاب لانے والوں کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لو ..یا جس ملک میں بھی خون بھا یا بہایا  گیا ...جن میکوں کی تم مثال  دے رہے ہو کہ میں پاکستان کو مصر  بنانا چاہتا ہوں ......تو صرف ایک بات ذہن میں رکھو کہ انقلاب ہمیشہ حکمران کی غلطیوں .نا اہلی ..کرپشن..نا انصافی ..بد کرداری . اور ظالمانہ رویہ کی وجہ سے آتا ہے ..وہ چاہے فرانس ہو ..ایران  ہو .مصر  .عراق .لیبیا  یا .شام  یا کوئی دنیا کا اور ملک ہو ...اس لئے مجھ  پر الزام مت دو ....حکمران کو فرعون  بننے سے روکو ..عوام کو بنیادی سہولتیں دو ...کوئی انقلاب نہیں آے  گا ..اور خون کی ندیاں  کو بہنے سے روکو ..شاید تم کو اندازہ نہیں ہے ..کہ میں پاکستان میں انقلاب سے زیادہ خون بہتا  دیکھ رہا ..ظلم ہوتا دیکھ رہا ہوں ..شاید آپ کی آنکھوں پر پٹی  بندھی  ہوئی ہے ..یا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہماری مجبوری یا روایت  بن چکی ہے ..یا پھر ہم پڑوسی کے گھر میں لگی ہوئی آگ کو تماشائی بن کے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں ..یا بے حس ہو چکے ہیں ..یہی آگ جب ہمارے گھر کو جلاے  گی ..تو ہم فرعون  کی طرح  خدا کو یاد کریں گے ...جس وقت کوئی فایدہ نہ ہو گا .....اس نے تو فون بند کر دیا ..مگر میں پھتر کی طرح  ساکت ہو چکا تھا ..مجھے  وقت کا اور سڑک کے ساتھ گاڑی  کھڑی کرنے   کا کوئی احساس نہ تھا ..کہ میں کب سے سوچوں میں گم اپنی قوم کے شعور کے بارے میں پریشان تھا ..کہ اچانک چونک گیا ..جب پولیس والا مجھ سے پوچھ رہا تھا ..کہ کیا معاملا  ہے ...انھوں  نے میری پریشانی کو بھانپ لیا اور میری سوری کو قبول کرتے ہووے جانے کی اجازت دے دی ...اور ساتھ یہ کہا ....کہ احتیاط سے ......میں منزل کی طرف بڑھتے یہی سوچ رہا تھا ..کہ پاکستانی قوم کو ایک انقلاب کی اشد ضرورت ہے ..انقلاب کے بغیر کچھ بھی ہم تبدیل نہیں کر سکیں گے ...نہ نظام ..نہ معاشرہ ..نہ سوچ .......کیونکہ یہاں اٹلی میں ہر کام اپنی باری میں اور قطار  کے انتظار میں کرتا ہوں ..حتہ کہ میلان ائیرپورٹ پر بھی اور راستے میں ٹرانزٹ پر بھی  کچھ اصول ہوتے ہیں ..مگر جونہی اپنی ائیرپورٹ پر جاتے ہیں ..تو دھکم پیل کا کام سٹارٹ   ہو جاتا ہے . سفارش اور یاری دوستی  میں  سب اصول اور باری  کے انتظار  والی سوچ ختم ہو جاتی ہے ...اور میرا شعور مجھے دیکھتے رہ جاتا ہے ....گھر تک پںچتے  پںچتے  کئی  کہانیاں جنم  لے چکی ہوتی  ہیں .............انقلاب کے لئے خون بہانا  کوئی ضروری  ہے
..........بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
...........جب  یقین  ہے   کہ  موت  نے  آنا  ہے
........تو پھر زندگی کا جشن منانا کوئی ضروری ہے
.............................جاوید اقبال چیمہ ...میلان ...اطالیہ
...............................٠٠٣٩....٣٢٠......٣٣٧....٣٣٣٩...........





............................انقلاب کس جانور کا نام ہے .........
..............کئی لوگوں کو انقلاب کے نام سے چڑ ہے ..ڈر  ہے .خوف ہے اور کچھ شرمندہ ہیں ....کئی قسم کی شخصیات  ہیں ..اور ان کی اپنی کاروباری دوکانیں انقلاب کی مخالفت اور حق میں چلتی رہتی ہیں ...میں نے تفصیل سے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ..کہ انقلاب کتنی قسم کے ہوتے ہیں ..انقلاب کیوں آتے ہیں ..اور انقلاب سے خوف صرف امیر آدمی ..جاگیردار .وڈیرہ شاہی ..چور اچکے ..بد کردار .کرپٹ حکمران کو اور بیوروکریسی کو ہوتا ہے ..تفصیل میں جانا  نہیں چاہتا   ..کافی کومنٹ  وصول ہوتے رہتے ہیں ..اچھے بھی برے بھی ....نہ فکر کرتا ہوں نہ برا مانتا ہوں ..کیونکہ میرے پاس طاقت نہیں ہے ..کہ میں نظام سے لڑ سکوں ...سمجھانے  کی کوشش کرتا ہوں ..اگر نہ سمجھے تو جھگڑا کس بات کا .....مجھے  غصہ صرف اس وقت آتا ہے جب مجھے فون پر دھمکیاں دی جاتی ہیں اور کال کرنے والا اپنے نمبر کو چھپاتا  ہے ..میں صرف اتنا کہتا ہوں ..کہ یہ گالیاں تم فیس بک پر یا میری میل پر بھی بھیج سکتے ہو ..تو جب تم کو یقین ہے کہ میں بے ضرر انسان اور کمزور انسان ہوں ..تو نمبر چھپانے کا فایدہ .. آج  جب  گھر سے نکلا  تو موسم تو خوشگوار تھا ..مگر میں کل  کے آنے والے  کومنٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا ..کہ اچانک  فون کال آ گئی ...غصہ آ گیا کہ ایک تو میں گاڑی  چلا رہا تھا دوسرا کال نمبر کے بغیر تھی ...گاڑی  چلاتے فون سننا اٹلی میں جرم ہے ..چلان  ہو جاتا ہے ...اگر نہ سنتا تو کال کرنے والا سوچتا کہ بزدل ہے .اس میں سننے کا حوصلہ نہیں ہے ..آخر کار فیصلہ کیا .کہ سن لیا جاۓ .شاید  میرا اندازہ غلط ہو ..مگر نہیں ووہی ہوا جس کا اندیشہ تھا ...دوسری  طرف سے جونہی غلط آغاز ہوا ..میں نے فوری طور پر گاڑی  کو سائیڈ میں کھڑا  کر کے اس کو سنا ...یہ کوئی نواز شریف کا خیر خواہ تھا ...مگر اس نے ووہی باتیں دہرائی ..جن کا میں عادی ہو چکا ہوں ...پھچلے دنوں اسلامآباد سے جو کومنٹ موصول ہووے تھے .یہ ان سے مختلف تھے .....تم کون ہو کیا ہو ..کس کے لئے کام کرتے ہو ....چند گالیاں  وغیرہ وغیرہ .....مگر آخر میں جب اس کو میں نے ٹھنڈہ کیا تو اس نے ایک بات کی .....جس کا میں نے  اس کو جواب دیا تو اس نے میرے جواب کو لگتا تھا ..کہ بڑی  مشکل سے ہضم کیا ہو گا ...وہ بھی فکر مند  ہو گیا ہو گا ..کیونکہ وہ فون بند کرنے سے پہلے جب حسب م  تو میں سمجھ گیا کہ وہ میرے جواب سے اگر مطمئن  نہیں ہوا تو سوچنے پر مجبور ضرور ہو گیا ہے ...میرا جواب صرف اتنا تھا ..کہ بھائی  میرے انقلاب لانے والوں کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لو ..یا جس ملک میں بھی خون بھا یا بہایا  گیا ...جن میکوں کی تم مثال  دے رہے ہو کہ میں پاکستان کو مصر  بنانا چاہتا ہوں ......تو صرف ایک بات ذہن میں رکھو کہ انقلاب ہمیشہ حکمران کی غلطیوں .نا اہلی ..کرپشن..نا انصافی ..بد کرداری . اور ظالمانہ رویہ کی وجہ سے آتا ہے ..وہ چاہے فرانس ہو ..ایران  ہو .مصر  .عراق .لیبیا  یا .شام  یا کوئی دنیا کا اور ملک ہو ...اس لئے مجھ  پر الزام مت دو ....حکمران کو فرعون  بننے سے روکو ..عوام کو بنیادی سہولتیں دو ...کوئی انقلاب نہیں آے  گا ..اور خون کی ندیاں  کو بہنے سے روکو ..شاید تم کو اندازہ نہیں ہے ..کہ میں پاکستان میں انقلاب سے زیادہ خون بہتا  دیکھ رہا ..ظلم ہوتا دیکھ رہا ہوں ..شاید آپ کی آنکھوں پر پٹی  بندھی  ہوئی ہے ..یا حقیقت سے آنکھیں چرانا ہماری مجبوری یا روایت  بن چکی ہے ..یا پھر ہم پڑوسی کے گھر میں لگی ہوئی آگ کو تماشائی بن کے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں ..یا بے حس ہو چکے ہیں ..یہی آگ جب ہمارے گھر کو جلاے  گی ..تو ہم فرعون  کی طرح  خدا کو یاد کریں گے ...جس وقت کوئی فایدہ نہ ہو گا .....اس نے تو فون بند کر دیا ..مگر میں پھتر کی طرح  ساکت ہو چکا تھا ..مجھے  وقت کا اور سڑک کے ساتھ گاڑی  کھڑی کرنے   کا کوئی احساس نہ تھا ..کہ میں کب سے سوچوں میں گم اپنی قوم کے شعور کے بارے میں پریشان تھا ..کہ اچانک چونک گیا ..جب پولیس والا مجھ سے پوچھ رہا تھا ..کہ کیا معاملا  ہے ...انھوں  نے میری پریشانی کو بھانپ لیا اور میری سوری کو قبول کرتے ہووے جانے کی اجازت دے دی ...اور ساتھ یہ کہا ....کہ احتیاط سے ......میں منزل کی طرف بڑھتے یہی سوچ رہا تھا ..کہ پاکستانی قوم کو ایک انقلاب کی اشد ضرورت ہے ..انقلاب کے بغیر کچھ بھی ہم تبدیل نہیں کر سکیں گے ...نہ نظام ..نہ معاشرہ ..نہ سوچ .......کیونکہ یہاں اٹلی میں ہر کام اپنی باری میں اور قطار  کے انتظار میں کرتا ہوں ..حتہ کہ میلان ائیرپورٹ پر بھی اور راستے میں ٹرانزٹ پر بھی  کچھ اصول ہوتے ہیں ..مگر جونہی اپنی ائیرپورٹ پر جاتے ہیں ..تو دھکم پیل کا کام سٹارٹ   ہو جاتا ہے . سفارش اور یاری دوستی  میں  سب اصول اور باری  کے انتظار  والی سوچ ختم ہو جاتی ہے ...اور میرا شعور مجھے دیکھتے رہ جاتا ہے ....گھر تک پںچتے  پںچتے  کئی  کہانیاں جنم  لے چکی ہوتی  ہیں .............انقلاب کے لئے خون بہانا  کوئی ضروری  ہے
..........بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
...........جب  یقین  ہے   کہ  موت  نے  آنا  ہے
........تو پھر زندگی کا جشن منانا کوئی ضروری ہے
.............................جاوید اقبال چیمہ ...میلان ...اطالیہ
...............................٠٠٣٩....٣٢٠......٣٣٧....٣٣٣٩...........





Tuesday, August 27, 2013

..................نواز شریف کی سیاست ........................
............سیاست کرنا آسان ہے وہ بھی منافقت  کی ...مگر اس سے یہ مت سمجھو کہ جو منافقت کی سیاست کرتا ہے وہ بھوت بڑا  لیڈر ہے ...شریف برادران کے پاس پیسہ ہے ..اور وہ بھی کس طرح  بنا اور بنایا گیا ..یہ بھی الگ بحث  ہے ....شریف برادران چاپلوسی کو پسند کرتے تھے اور کرتے ہیں ..نہ پہلے بدلے تھے اور نہ اب کوئی فرق آیا ہے ..ہاں اگر فرق آیا ہے تو یہ کہ چاپلوسی کرنے والے اور مشورہ دینے والے اور تقریر لکھ کر دینے والے چہرے تبدیل ہو چکے ہیں .نواے وقت والے نظامی صاحب ان کی خوبیوں اور خامیوں سے جتنے واقف ہیں ..شاید ہی کوئی اور ہو ...میں خود جب جوانی کے وقت صحافت کرتا تھا ..تو بھوت سے قصہ کہانیاں سنا کرتا تھا ...مسلاً  جیل روڈ پر روزنامہ پاکستان کی کہانی ..کہ کس طرح یہ جگہ دی گئی ...کس طرح  اکبر علی  بھٹی  مالک  اور چیف اڈیٹر بنے ...بعد میں کس طرح ضیاء شاہد وہاں ملازم ہووے ....کس طرح نواز شریف نے اپنے پیاروں  کو ہر وقت ہر حکومت کے دور میں نوازہ ...اور بنکوں سے قرضے بھی دلواۓ گے ...بعد میں واپس بھی نہیں کئے  گے ..کہاں  سے اٹھا کر کہاں  تک لوگوں کو پنچایا ...دوبئی  سے بھی  پاکستان کے بنکوں سے قرضے دلواۓ گے ..وغیرہ وغیرہ ....اس وقت بھی امپورٹ اور ایکسپورٹ  کے لاسنس  من پسند لوگوں کو دیۓ  گہے ....حتہ کہ دوائیوں کے معاملہ میں بھی کافی مال بنایا گیا ....بھوت سارے جراثیم حکومت کرنے کے اور خلیفہ  کے خواب دیکھنے کے شریف برادران میں ابھی بھی موجود ہیں ....بھوت ساری تبدیلی ان میں جلاوطنی کے بعد آئی ہے ...وہ یہ کہ  دھیمے دھیمے  سے کچھ کام کرنے لگے ہیں ..شور نہیں مچاتے ..بیان بازی  زیادہ نہیں کرتے ..اقتدار کے لئے منافقت زیادہ کر رہے ہیں ..پرویز رشید اور بیوروکریسی پر زیادہ مہربان ہو چکے ہیں ..پہلے کبھی مشاہد حسین اور شیخ رشید کی سنا کرتے تھے ....چھانگا مانگا والا ذہن اب بھی ہے ...ضیاء والی حکمرانی کے نقوش مٹنے کا نام ہی نہیں لیتے ...پہلے  ایم .پی .اے اور ایم .این .اے  کی سنا کرتے تھے ..اب زیادہ لفٹ نہیں کراتے ...اب بھوت سارے لوگوں کو حمزہ شہباز کے ساتھ تعلقات بنانے پڑتے ہیں ...اب اقتدار کی خاطر  کسی چور کو لٹکانے کی بات نہیں کرتے ..بلکہ احتساب کو تو وہ اقتدار کی خاطر بھول ہی چکے ہیں ...اب اسحاق ڈار  کے کہنے پر شیر نے کشکول کو بھی عالمی طاقتوں کے کہنے پر مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے اور ہر روز بیوروکریسی کے بھی کہنے پر بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاتے رہتے ہیں ...نواز شریف کا اصل چہرہ کچھ اور بھی ہے مگر اقتدار کی مجبوریاں کچھ زیادہ ہی بزدل بنا چکی ہیں ..ویسے تو ہمیشہ ہی اقتدار کو اولیت دیتے ہیں ..جو بات ابھی تک نہیں بدلی ..یعنی کے وہ جراثیم آج بھی موجود ہیں ..مسلاً  مجھے نظامی صاحب کا وہ واقعہ یاد آ گیا ہے ..جو گوجرانوالہ انہوں نے ہم کو سنایا تھا ..جس محفل میں مشاہد حسین بھی مجود تھے ....کہ جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ  تھے ..اور جونیجو صاحب وزیر اعظم .....تو ضیاء صاحب نے نواز شریف کو اسلام آباد بلا کر کہا  تھا ..کہ صبح  کو جب جونیجو صاحب چین سے واپس آ رہے ہوں گے تو میں ان کے اسلام آباد آنے سے پہلے حکومت ختم کر دوں گا ..اور تم بدستور پنجاب کے وزیر اعلیٰ  رہو گے ...اسلام آباد سے واپسی پر اسی جہاز پر نظامی صاحب بھی سفر کر رہے تھے ..تو میاں  صاحب نے جب یہ بات خفیہ نظامی صاحب سے کہی ..تو نظامی صاحب نے میاں صاحب کو جو مشوره دیا ..وہ یہ تھا کہ آپ ملک کی سالمیت کی خاطر اپنی پنجاب کی وزارت سے علیحدہ ہو جایں ...مگر اس وقت بھی نواز شریف نے اقتدار کو سامنے رکھا .....اسی واقعہ کے ساتھ  وہ مشرف والا واقعہ منسلک ہے ..کہ نواز شریف ضیاء کی طرح  کھیل  کھیلنا چاہتے تھے ..مگر ضیاء والا سبق الٹا پڑ  گیا ...مگر اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے......کہ نواز شریف اور شہباز شریف اب بھی کچھ خفیہ ہاتھوں میں کھیل  رہے ہیں ..لگتا ہے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ....اگر سیکھا ہے تو صرف اتنا کہ زرداری کی طرح  اقتدار کے لئے منافقت کس طرح  کرنی ہے اور ذات کے لئے سمجھوتے کس طرح  کرنے ہیں اور لوٹ مار کس طرح  مزید کرنی ہے ..اور اپنے لوگوں کو کس طرح  نوازنا ہے ...رینگتے جاؤ ..مال بناتے جاؤ ...عالمی ٹھیکیداروں اور اندر کی مافیا سے بناتے جاؤ ..ملک کی اور عوام  کی پرواہ مت کرو ..یہ سبق جس نے بھی پڑھا ..وہ فی زمانہ کامیاب ہو گیا فرعون سے بھی چند قدم آگے ...فرق صرف اتنا ہے ...وہ برملا ظلم کرتا تھا ..مگر میرا حکمران مجھ سے ہمدردی بھی کر رہا ہے ..غالب کی شعاری  بھی کر رہا ہے اور مہنگائی  بیروزگاری دے کر ظلم بھی کر رہا ہے .....بھوت ساری شریف برادران کی کہانیاں میرے پاس محفوظ ہیں ..پھر کسی وقت ....بھر حال مجھے اس دفعہ شریف برادران سے کافی توقعات تھیں ..مگر افسوس کے ابھی تک میں نے مشرف اور زرداری کی پالیسی کو نہ بدلتے دیکھا ہے ...اور نہ کوئی نواز شریف کی ترجیحات میرے سامنے آئی ہیں ....یقین ہے کہ شعور رکھنے والا نواز شریف کا ورکر بھی پچھتا  رہا ہو گا ...بھر حال اگر یہی جمہوریت اسی طرح  منافقت کا سفر طے  کرتی رہی تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ..پھر اس ملک میں سیاستدان ..جاگیر دار ..وڈیرے ..بیوروکریسی  اپنی خیر مناے ....ملک میں انقلاب بھوت جلد آے  گا ..جو سب تخت اور خلافت کے تابوت بھا کر لے جاۓ گا .....نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب افکار نہیں ہوتا
.....بہ جاۓ  جو قوم کی خاطر وہ لہو بیکار نہیں ہوتا
........................نواز شریف کے نام کر دیا ہے .........اب   تاج  اچھالے  نہیں جایں  گے .....اب تاج و تخت  جلا کے  آے  گا ..........
.........جاوید  اقبال چیمہ ..میلان ....اطالیہ .

Sunday, August 25, 2013

..........................ملک کیسے چل رہا ہے .......................
............اگر آپ کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں ...اور  ملک صحیح سمت میں چل رہا ہے ..بھوت جلد سب ٹھیک ہو جاۓ  گا ....تو یہ تجزیہ اور راۓ  آپ کو مبارک ....میں تو صرف خدا اور نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ..مگر حکمران سے مکمل طور پر ناامید ہوں ...کیونکہ ہر ادارے کا حکمران تنخواہ تو لیتا ہے ..مراعات  تو لیتا ہے ..مگر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ....انڈیا ہر روز پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دروازوں سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان بھی پنچا  رہا ہے اور الزام بھی پاکستان پر لگا رہا ہے ..مگر ہم خاموش ہیں ..بلکہ یارانے بڑھانے  کی بات کر رہے ہیں ....ہر روز دہشت گردی ہو رہی ہے ..ٹارگٹ کلنگ سے لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں ..بھتہ خوری عروج پر ہے ..افراتفری ..فرسٹریشن عروج  پر ہے .....ملاوٹ سے زہر کھلایا جا رہا ہے ...کتوں اور گدھوں   کا گوشت کھلایا جا رہا ہے ...کھانے  پینے والی ہر چیز میں ملاوٹ ..پانی منگا خون سستا ہے ...روٹی مہنگی اسلہ سستا ہے ...بڑوں  کے لئے کوئی قانون نہیں ..غریب کے لئے ہر قانون ہے ....عدالتیں اور تھانے  ہی نہیں بکتے ..بلکہ ہر ادارے کا حکمران بکتا ہے ..اس کا سودہ ہوتا ہے ..بھرتی سے ٹرانسفر ..اور ٹرانسفر سے اچھی جگہ .......ہر پسند اور ناپسند پر بھی گروپ بنے ہووے ہیں ..یہ افسر زرداری گروپ کا ہے ..یہ نواز شریف اور فلاں گجرات والوں کا ہے ..... یہی حال مزبھی گروپوں کا ہے ......اس کو ملک چلنا کہتے ہیں ....بجلی اور گیس چوری حنا ربانی کھر  کر  رہی ہے ..کوئی لاشاری ..لغاری ..زرداری  ..کوئی جاگیر دار ..کوئی وڈیرہ ..کوئی کن ٹوٹا  بدمعاش کر رہا ہے .....جتنی علاقے میں بجلی چوری ہوتی ہے ...ہر واپڈا ملازمین کی ملی بھگت سے ہوتی ہے .....علاقے میں ہر ہونے والی واردات کا پولیس کو علم ہوتا ہے .....ہر اڈہ  پولیس کی نگرانی میں چلتا ہے .....مگر پستا عام  آدمی ہے ..اس کو ملک چلنا کہتے ہیں ..اگر اس کو ملک چلنا کہتے ہیں ..تو مبارک ہو آپ کو اور ضیاء .مشرف .زرداری .نواز شریف اور گجرات گروپ کو ..کیونکہ یہی سارے گروپ ہیں جنہوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا ..اور مزید بھی کرتے رہیں گے ....کیونکہ ان سارے گروپوں کے بیوروکریسی میں بھی طاقتور گروپ ہیں ...جو اپنی اپنی ریاست یعنی ادارے کے حکمران ہیں ..یہی سارے حکمران مل کر اب نواز شریف کو منافقت کی چال چلا رہے ہیں ..یہ حکمران کو حکومت کرنے کے گر سکھاتے ہیں ....اور یہ دنیا کے عقلمند ترین لوگوں میں اپنا شمار کرتے ہیں ..کیونکہ ان لوگوں نے باہر کے ملکوں کے کافی دورے کے ہوتے ہیں ..کافی کورس ان کو کرواۓ جاتے ہیں ..جن پر عوام  کے خون پسینے کی کمائی  کی خطیر رقم صرف  ہوتی  ہے ..پھر یہی عوام کو بیوقوف بنا کے ان سے کھلتے ہیں ...آپ کو یاد ہو گا ....آپ حسین حقانی کی مثال  لے لیں ..کس کس حکومت نے اس کے مفید مشوروں پر عمل نہیں کیا ..اس لئے تو پاکستان ترقی کے منازل طے  کر چکا ....کیونکہ ہر کرپٹ  سیاستدان کے مفادات  بیوروکریسی کی چالبازیوں پر انحصار کرتے ہیں ..اسی لئے تو کبھی روٹی کے تندور لگاۓ  جاتے ہیں ..اور کبھی  یوٹیلیٹی سٹور پر چینی کے کوٹے مقرر کئے  جاتے ہیں ..مگر یہ یاد رکھو کہ یہ کوٹے شوٹے  صرف غریب کی زندگی اجیرن کرنے کے لئے ہوتے ہیں .....کیا یہ نظام آپ کو پسند ہے ..اس کو ملک چلنا کہتے ہیں ..کہ جس میں لاکھوں غریب بیوہ اپنے پلاٹ  اور زمین کا قبضہ  چھڑاتے  چھڑاتے  قبر میں پنچ جاتی ہیں اور انصاف ان کی اولاد کو بھی نہیں ملتا ......غریب اغواہ ہوتے رہیں ..ان کے گھروں میں ڈاکے پڑتے رہیں ..مگر قانون حرکت میں نہ آے ....اور جب حکمران کو پتہ چلے کہ  حمزہ  شہباز  کو اغواہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تو قانون حرکت میں آ جاۓ .......کیا اس طرح  ملک چلتے ہیں ..کیا اس کو ملک کا چلنا کہتے ہیں ...اس ملک میں انقلاب نے ہر حال میں آنا ہے ..جس نے نظام تبدیل کرنا ہے ..کچھ کو لٹکانا ہے ..کچھ کا احتساب ہونا ہے ...تب جا کر اس ملک نے اپنی پٹری پر چڑنا  ہے ..یہ ملک پٹری سے اتر  چکا ہے ..یہ حکمران ..یہ سیاستدان اس قابل  نہیں ہیں ....کوئی جرات والا با کردار حکمران ہی اس نظام  کو تبدیل کر سکتا ہے .........جاوید اقبال چیمہ ...میلان ......اطالیہ .....