Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Saturday, November 29, 2014

.................ایسی جمہوریت پے لعنت .............
....یہ کیسی جمہوریت ہے .یہ آمریت ہے .بادشاہت ہے .یا فرعونیت ہے .جس میں سڑکوں پر کنٹینر .لاری اڈے بند .روٹ پرمٹ کینسل .ورکروں کی پکڑ دھکڑ.کسی کو دھمکیاں .کسی کو فون کال .کسی کے ساتھ بد تمیزی .کسی کو وارننگ .کسی کا کاروبار بند .جج اپنی مرضی کے .کمشن اپنی مرضی کے .فیصلے اپنی مرضی کے .ٹھیکے من پسند لوگوں کو .مذاکرات نہیں کرنے بد تمیزی .بے غیرتی کی .جھوٹ کی .سینہ زوری کی انتہا .کرپشن کی انتہا .پولیس .انتظامیہ کو اپنی مرضی سے استمعال کرنا .انصاف کی دھجیاں اڑانا .دورے مہنگے .جہاز مہنگے .ہوٹل مہنگے اپنے خاندان کے ساتھ .اقتدار اور کاروبار .بلدیاتی الیکشن نہیں کروایں گے .نچلی سطح کو اقتدار منتقل نہیں کریں گے .جب مرضی ہو گی .جب چاہیں گے کریں گے .اور جو چاہیں گے کریں گے .ہر ادارے پر حکمران کا خاص چمچہ .جس کو چاہو اندر کر دو .جس کو چاہو باہر بھجوا دو .آدھی رات کو بھی عدالت لگانی پڑے تو لگا کر ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو با عزت باہر بھجوا دو .ہر روز عوام کو دھوکہ دینا .عوام سے جھوٹ بولنا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں .اور جب عدالت یہ کہے کہ یہ مجرم ہے .اس کو جیل میں بند کر دو .تو بادشاہ سلامت اس کو جہاز پر بٹھا کر بھگا دیتا ہے .واہ رے میری جمہوریت .کہاں دفن ہو ہو گیا.قرضے معاف کروانے والا کیس .کہاں چلا گیا اصغر خان کیس .کہاں دفن ہو گیا گیلانی .راجہ رینٹل کیس .کہاں چلا گیا منصور .حقانی .وغیرہ کا کیس .جس کا بڑا شور سنا تھا .کہاں دفن ہو چکا .منی لانڈرنگ .حدیبیہ شوگر مل کا کیس .سٹیل مل کے گپلے .نادرہ اور پی .آئی .اے.اور ارسلان افتخار کے گپلے .کہاں تیرے وعدے.کہاں تیری بکواس .کہاں تیرے نعرے.کہاں روٹی .کپڑا .مکان .کہاں پھانسی .کہاں احتساب .کہاں نیپ .کہاں ہے سپریم کورٹ کی پھرتیاں جو افتخار چودھری کے دور میں ہوا کرتی تھیں .کیونکہ افتخار چودھری نے بھی قوم کے ساتھ وہ ہاتھ کیا.کہ اب ہمارا عتبار ہی اچھے الفاظوں سے اٹھ چکا ہے .کہاں ہیں وہ لٹیرے جو دھرتی ماں کے نعرے لگایا کرتے تھے .کہاں چلی گئی وہ سکینڈل ہی سکینڈل والی کہانیاں .اب کوئی میڈیا والا بھی نہیں پوچھتا کہ فلاں کا فلاں کا ..کیا بنا .بس پہلے پہلے ایک سکینڈل پورا ہفتہ چلتا ہے .بعد میں مک مکا ..ہر بات پر مٹی ڈالو .پھر کچھ تجزیہ نگار جو پہلے شور کرتے ہیں .بعد میں کہتے ہیں کہ گڑھے مردے رہنے دو .نظام کو چلنے دو .پھر ان کو بھی جمہوریت کا راگ الاپنا یاد آ جاتا ہے .جو جتنا برا لکھتا ہے .جتنا برا چیختا ہے .اتنا ہی بڑا وقت آنے پر عھدے کا وارث بنتا ہے .پی.ٹی.وی .کے مالک صاحب کو دیکھ لو اور نجم سیٹھی کو دیکھ لو .یہ ہے جمہوریت .جو زرداری کے خلاف لکھے اور بولے .وہ شریف برادران سے پھل پاۓ.اور جو میاں صاحب کی کرپشن کی فایل زرداری صاحب کو پنچاۓ.وہ زرداری صاحب سے وقت آنے پر پھل پاۓ.اور جو میری طرح بے لوث خون جلاۓ.وہ جلاتا رہے .لعنت ہے ایسی جمہوریت پر .جس کو رانا سنا اللہ کہتا ہے کہ جمہوریت کا مطلب ہے وفاداری ..اس پر کسی چینل .میڈیا والے کو لکھنے اور بولنے کی توفیق نہیں ہوئی .اور اگر کوئی بول بھی لیتا تو کیا ہوتا .ہمیشہ کی طرح نتیجہ صفر.جس ملک میں عمران خان اور قادری صاحب کو اتنے زور دار احتجاج کے باوجود انصاف نہ ملے.اس حکمران سے .اس جمہوریت سے آپ کیا توقوح کر سکتے ہیں .اور اس جمہوریت اور کرپٹ .بد کردار حکمران پر لعنت نہیں بھیجیں گے تو کیا پھولوں کے ہار بھیجیں گے .یا کونسا درود بھیجیں گے .میں تو خدا سے یہی درخوست کر سکتا ہوں .کہ خدا غارت کرے ایسی جمہوریت کو اور ایسے حکمرانوں کو .یا پھر میرے جیسے غریبوں کو ہی ملیا میٹ کر دے جو بد کردار حکمران سے انصاف تو حاصل نہیں کر سکے ..لعنت ہے ایسی جمہوریت پر .جو غریب کو دو وقت کی روٹی عزت سے نہ دے سکے .. اس سے موت بہتر ہے .بھوک ہڑتالی کیمپ سپریم کورٹ کے سامنے لگا دینا چاہئے .شاید عدالت کو موت پر ترس آ جاۓ .کیونکہ دھرنہ تو سپریم کورٹ کو نظر نہیں آتا .کیونکہ یہ پر امن ہے .اور پر امن مہذب احتجاج تو پر امن مہذب قوموں کے سامنے کیا جاتا ہے .جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا
...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Monday, November 24, 2014

...........میاں نواز شریف کے نام ...................
..لانا ہے انقلاب تو خون بہانا کوئی ضروری ہے
..بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
......جب کرنا چاہتے ہو مذاکرات آخر
.....تو پھر ڈنگ ٹپانا کوئی ضروری ہے
......جب ہے جمہوریت اور حق آزادی
.....تو پھر کنٹینر لگانا کوئی ضروری ہے
..آئین و قانون کی بالا دستی چاہتے ہو تم
..تو نا انصافی سے  روڑے اٹکانا کوئی ضروری ہے
..جب تم کو خدا واحد پر ہے یقین مکمل
تو پھر اقتدار کو فرعون بنانا کوئی ضروری ہے
جب تم کو ہے یقین کہ موت نے آنا ہے
تو پھر گردن میں سریا لٹکانا کوئی ضروری ہے
مہذب پر امن احتجاج ہے حق ہمارا
اس کو فرعونیت دکھانا کوئی ضروری ہے
انصاف کے طلبگار ہیں جو تم سے
ان کو جیلوں میں بند کروانا کوئی ضروری ہے
............جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...
................پرویز رشید کے الزامات .............
........مبارک ہو صاحب بہادر کو .کہ کچھ نہ کچھ تو عمران خان کے دھرنوں کے جراثیم حکومت اور حکومت کے کارندوں تک  پنہچنے شروع ہو چکے ہیں .جو کہتے تھے کہ دھرنہ فضول ہے .احتجاج بیکار ہے .ان کو خود ہی یہ اقرار کرنا پڑ گیا ہے .اور سمجھ آنی شروع ہو چکی ہے .کہ قوم اب حکمرانوں کا احتساب چاہتی ہے .انکم ٹیکس ریٹرن ہر حاکم کی دیکھنا چاہتی ہے .وی .آئی .پی.کلچر.کا خاتمہ چاہتی ہے .اور پروٹوکول پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب قوم مانگ رہی ہے .یہ اچھا ہوا کہ پرویز رشید نے بغض .حسد .عمران خان سے نفرت اور خان کے خوف سے کچھ نہ کچھ اگلنا شروع کر دیا ہے .یہ بات اب بھوت دور تک جاۓ گی .لندن .سوئزر لینڈ کے اور دیگر بنکوں تک بھی جاۓ گی .اور جن جن ملکوں میں شریف برادران کے چیلے ہیں .میاں صاحب کی دولت کو سنبھالنے والے وہ سب آخر کار منظر پر آ جایں گے .جو اٹلی میں شریف برادران کی دولت کو سفید کرنے میں میاں صاحب کی مدد کرتے ہیں .ان کو میں جانتا ہوں .کیونکہ میں اٹلی میں رہتا ہوں .اس طرح شریف برادران نے ہر ملک میں اپنے کارندے پالے ہووے ہیں .جو کرپشن کی رقم کو پوری دنیا میں ایڈجسٹ کرتے ہیں .مجھے کیا  ملال ہے کہ جہانگیر ترین پر الزام لگے یا نہ لگے .جہانگیر ترین میرے چچا کا بیٹا تھوڑا ہی ہے .مجھے خوشی تو اس بات کی ہے .کہ چلو انقلاب کا .احتساب کا .نظام کی تبدیلی کا راستہ تو ہموار ہو رہا ہے .کیونکہ اسی طرح پرویز رشید .اور شریف برادران کی ٹیکس ریٹرن بھی  تو سامنے آ جاۓ گی .پھر ہم دیکھیں گے .کہ باہر کے ملکوں میں جو پاکستانی خون بنکوں میں جمع ہے .اس کی تفصیل کیا ہے .اور آہستہ آہستہ قوم کو یہ بھی علم ہونا شروع ہو جاۓ گا .کہ حکمران کے ہر غیر ملکی دورے پر قوم کا کیا نفح نقصان ہوا .کون کون دورے میں شامل تھا اور کیوں ..یہ عمران خان کے دھرنے کا نتیجہ ہے .یہ وہ شعور ہے کہ جو عوام میں پہلے آیا اور حکمرانوں تک دیر سے پنچ رہا ہے .کیونکہ پہلے حکمران حلوہ کھاتے تھے اور گہری نیند سو جاتے تھے .راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی .مخمل کے گدے تھے اور ریشمی بستر تھا .بس عیاشی ہی عیاشی تھی .اب سڑکوں پر سپیڈ بریکر اور کنٹینر ہیں .جو حکمران کو عمران خان کی اسلام آباد میں موجودگی کا احساس دلواتے رہتے ہیں .پہلے گردن میں سریا والے فرعون بادشاہ کو علم ہی نہیں تھا کہ دھرنے والوں کا آجنڈہ کیا ہے .اب علم ہو چکا ہے .چلو اچھا ہوا دیر آید درست آید..ویسے پرویز رشید نے یہ نہیں بتایا قوم کو ..کہ جو عدالت سے پرویز رشید کے ورنٹ نکلے تھے ان کا کیا بنا ..کیا دو کروڑ پرویز رشید نہ جمع کروا دے ہیں .یا ہڑپ کر چکے ہیں .اتنے پاک صاف پرویز رشید بھی نا دھندہ ہیں .ویسے پرویز رشید کی انکم ٹیکس ریٹرن بھی سنبھال کر رکھنے والی ہے .کیونکہ اس میں بھی بھوت کچھ پوشیدہ راز ہیں .ذرا پردہ اٹھا ہی دیں جناب کسی دن .ورنہ ہم کہیں گے تو برا مان جاؤ گے ..کیونکہ عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ عمران خان کیا ہے .کون ہے .پیدل جلسے کرے یا جہاز پر .عوام کو صرف اس بات سے اتفاق ہے .کہ جو عمران خان کہ رہا ہے وہ درست ہے .کیونکہ ہر پاکستانی یہ سمجھ چکا ہے .کہ ہمارا ملک اب مزید کرپٹ حکمران کرپٹ نظام کے ساتھ نہیں چل سکتا .یہ سچ ہے یہی حقیقت ہے .اس کو تسلیم کرنا پڑے گا ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Saturday, November 1, 2014

.........رانا سناالله کے مطابق جمہوریت کیا ہے .....
.......ٹاک شو پر گفتگو کرتے ہووے رانا  سناالله صاحب فرماتے ہیں .کہ جمہوریت کا نام ہے وفاداری .یہ قول انہوں نے اس وقت فرمایا .جب وہ نون لیگ میں فارورڈ بلاک بننے پر تبصرہ کر رہے تھے .آج کل کی جمہوریت کا صحیح نقشہ کھینچا ہے جناب نے .بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی .ساتھ ہی انہوں نے فرمان جاری کیا  کہ کوئی فارورڈ بلاک نہ بن سکتا ہے نہ طاقت پکڑ سکتا ہے .کیونکہ طاقت کا سر چشمہ شریف برادران کے پاس ہے .گو کہ رانا صاحب نے آزادی راۓ کو تبدیل کر کے وفاداری کا نام رکھ دیا ہے .مگر موصوف نے سچ فرمایا ہے .کیونکہ جب ہم جیسے عام لوگ جمہوریت پر نقطۂ چینی کرتے ہیں تو کوئی غور نہیں کرتا .بلکہ ہم کو پاگل کہا جاتا ہے جب ہم جمہوریت کو چند کلمات سے نوازتے ہیں .کہ پاکستان میں کوئی جمہوریت نہیں صرف بادشاہت ہے .فرعون کی طرح فرمان جاری کئے جاتے ہیں .اور جو شریف برادران چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے .بغیر کسی کے مشورے کے .اور اس جمہوریت کو چند گھر کے افراد اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں .جس طرح زرداری صاحب سارے ملک کو صدارتی ہاؤس سے پانچ سال چلاتے رہے .دنیا میں کہیں بھی پاکستان کی طرز کی جمہوریت نہیں ہے .اللہ بھلا کرے رانا صاحب کا .کہ جنہوں نے ایک ہی فقرے میں ہمارا بھرم بھی رکھ دیا .اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے منہ پر تھپڑ بھی رسید کر دیا .اور پاکستان کے کرم فرماؤں کی اصلاح بھی کر دی اور جمہوریت کا مطلب بیان کر کے ڈکشنری میں اضافہ کر دیا .اگر ہم کہتے تو تخت شاہی کو تکلیف بھی ہوتی اور کئی لوگ برا مان جاتے ..چلو اچھا ہوا کہ رانا سناالله نے خود ہی پاکستانی جمہوریت سے پردہ اٹھا دیا .یہ بتا کر کہ پاکستانی جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے .وفاداری .خوشامد پرستی .مفاد پرستی .اللہ بھلا کرے رانا صاحب آپ کا ..اب آپ کے فارورڈ بلاک کو سمجھ آ چکی ہو گی .کہ پرویز رشید کیوں وزیر بنے .اور پرویز مشرف کے ساتھی شریف برادران کو کیوں پیارے ہیں ...وغیرہ وغیرہ ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .

Monday, October 27, 2014

.............................دھرنے والے دھرے رہ جایں گے ...................
............یہ فرمان ہے میرے مغرور .فرعون .تکبر سے سر  شار .گردن میں سریا رکھنے والے .اقتدار کے بھوکے.کرپشن کے  بادشاہ .حکمران کا ..کہ دھرنے والے رہ جایں گے .ساتھ یہ بھی فرمایا کہ پچھلی حکومت کے کرپشن کے سکینڈل تھے .ہمارا کوئی کرپشن کا سکینڈل سامنے نہیں آیا ..واہ قربان جاؤں .میرے پیارے حکمران کے جھوٹ پر .جو خود بھی اور شاہ کے وفادار بھی شریف برادرن کو عمر فاروق اور ابوبکر صدیق کے درجہ پر پنچتے اور پنچاتے ہیں .واہ ان کو میں کیا عرض کروں .پوری قوم جانتی ہے .کہ یہ تو بیچارے کھوتی رہڑھی پر آے تھے اور آج  بھی گدہ گاڑی پر سفر کرتے ہیں .بیچارے کھدر کا لباس پہنتے ہیں .صوم و صلات کے پابند ہیں .میاں صاحب کی زکات .صدقات اور ٹیکس پر ملک چل رہا ہے .ملک میں نہ کوئی ظلم ہوتا ہے نہ نا انصافی ہے .ہر طرف دودھ .شہد کی نہریں به رہی ہیں .سارے کے سارے جج قاضی ہیں .نچلی سطح پر اقتدار منتقل ہو چکا ہے .ہر کام میرٹ ہو رہا ہے .نظام کو ہم نے عوام کی امنگوں کے مطابق تبدیل کر دیا ہے .واہ میرے پاک صاف حکمران اگر تم دیانت دار ہو .نڈر ہو .جرات والے ہو .انصاف پسند ہو .کرپشن سے پاک ہو .تو پھر اس ملک میں کوئی خرابی نہیں ہے اور نہ اس ملک میں کوئی بد دیانت ہے نہ لٹیرا ہے .ہر طرف شانتی ہی شانتی ہے .واہ قربان جاؤں تیری جمہوریت پر ..کیونکہ ہر وزیر ہر ادارے کا سربراہ میرٹ پر براجمان ہے .میاں نواز ..میاں شہباز صاحب .اگر آپ اتنے ہی دیانت دار تھے تو عمران خان کے کہنے پر چار حلقے کھول دیتے اور دنیا کو دکھا دیتے .انصاف کسے کہتے ہیں .اگر جرات تھی تو کرپشن کے کھلاڑی زرداری کو پھانسی پر لٹکا دیتے .اور سچ سننا گوارا کر لیا کریں .اتنے سکینڈل آپ کے چینل پر دکھاۓ جا چکے ہیں .مگر میاں صاحب آپ کو شرم نہیں آتی .نہ الیکشن کمیشن .نہ سپریم کورٹ .نہ نیپ .کو شرم آنے دیتے ہیں .کیوں آپ سب عوام کو قوم کو بیوقوف بناتے ہیں .کیوں ہم سب کو آپ جانور سمجھتے ہیں .کیوں ہمارے حقوق سلب کرتے ہو .کیوں ہمارے ساتھ جھوٹ بولتے ہو .آپ ٢٠ کروڑ کے نمایندے نہیں ہو .آپ دھاندلی کی پیداوار ہو .چھانگا مانگا سیاست گرو ہو .ضیا کی پیداوار ہو .اس بار بھی اگریمنٹ دھاندلی سے آے ہو .کرپشن سے آے ہو .اداروں کی ملی بھگت سے آے ہو .پہلے اجنسیوں کے زریعہ آیا کرتے تھے .اس بار ایک نیا ڈرامہ رچایا گیا .مگر میاں صاحب ماننے کو تیار نہیں .قوم کی آواز سننے کو تیار نہیں .پھر کہتے ہیں کہ دھرنے والے ملک کو نقصان پنچا رہے ہیں ..نہیں میاں صاحب آپ دونوں ہمارے ملک کو نقصان بھی پنچا رہے ہیں اور خون میں بھی نہلا رہے ہیں .اور آپ مزید خون بہائیں گے .کیونکہ آپ کے اندر اتنی غیرت نہیں تھی کہ آپ ماڈل ٹاؤن اور اسلامآباد میں خون بہانے کے بعد قوم سے معافی مانگ کر مستعفی ہو جاتے .کیونکہ آپ ملک کو تباہ و برباد کرنے جا رہے ہیں اور مزید کریں گے .آپ ملک کی بربادی کے ذمہدار ہیں .آپ اپنی انا اور خود غرضی کو ملکی سالمیت پر ترجیح دے رہے ہیں .وقت کم ہے .سوچ سمجھ لیں میاں صاحب ...یہاں ١٠٠ سال کسی نے حکومت نہیں کرنی .آخر ایک دن آپ نے جانا ہے .عزت سے جایں .فرعون کی طرح جانے کی کوشش نہ کریں .مجھے دکھ ہوا ہے .آپ کے بیان سے .الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے کردار سے ..یہ سپریم کورٹ بھی آپ کی طرف داری کر رہی ہے .جس دن میری طرف داری کرے گی .میں فخر کروں گا .ابھی تیرے انصاف سے شرمندہ ہوں .مجبور ہوں .لاچار ہوں ..کہ میاں صاحب  تمہارا بیان سن کر اپنا .ٹی.وی .بھی توڑ نہیں سکا ..میں تمہارا کیا بگاڑ سکتا ہوں ..واقه تم شیر ہو جنگل کے ..انڈے دو یا بچے دو ..تم کو کوئی نہیں روک سکتا ..سب تم سے ڈرتے ہیں .جس طرح فرعون سے ڈرتے تھے ....پکڑ کو یاد رکھنا ..خدا کی پکڑ ہو گی .انشااللہ ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .......٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Saturday, October 25, 2014

............................ایوولوشن اور ریوولوشن ..قسط نمبر دو .............
..............بھوت نمایاں فرق ہے .ان دونوں میں .اس وقت ملک میں ایوولوشن اپنے سارے سازو سامان اور رنگ ڈنگ سے نمایاں ہے .٦٠ سالوں سے اقتدار ان لوگوں کے قبضہ میں ہے .جو وی .آئی .پی..کلچر .پروٹوکول .جاگیردار اور وڈیرے اور شاہانہ بیوروکریسی کے قبضہ میں ہے .اور ملک مافیا ایوولوشن کے شکنجے میں جھکڑا ہوا ہے .پہلے ایوولوشن کی تعریف حاضر ہے .ایوولوشن .انقلاب کے اثرات و مقاصد مٹانے کا نام ہے ..عوام کو طاغوت کے اندر رکھ کر طفل تسلیاں دے کر سلانے کا نام ہے ..یہ ایوولوشن نظام کی مہربانی ہے کہ حکمران کو نشہ ہو جاتا ہے جب وہ عوام کو لوریاں دے کر سلاتا بھی ہے اور خون بھی چوستا ہے .ملک کے غریب عوام کو شیعہ..سنی ..وہابی ..دیوبندی .مسلمان .غیر مسلمان .سرائکی .پنجابی .سندھی .مہاجر .بلوچ .پٹھان ..کی بنیاد پر قتل و غارت کروانے کا نام ہے ..ہر بات پر مٹی ڈالنے کا نام ہے ..جمہوریت اور آمریت کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا نام ہے .اپنے پسندیدہ افراد .اعلی فوجیوں .بیوروکریٹ اور پرانے  فیوڈرل لارڈز میں لاکھوں ایکڑ زمین بانٹنے کا نام ایوولوشن ہے .چند ہزار من پسند لوگوں کو لیپ ٹاپ .روٹی تندور .مریم نواز سے قرضے اور بینظیر سکیم سے ایک ایک ہزار روپے زکات دینے اور خزانہ لوٹانے کا نام ہے ..دس بیس کنال کے عشرت کدوں اور ہزاروں ایکڑ کے محلات بناننے کا نام ہے .غریبوں کے مسایل کو حل کرنے کے جھوٹے وعدے..جھوٹے چیک تقسیم کرنا .چند روٹیاں فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہووے فقیروں کو تقسیم کرنے کا نام ہے ایوولوشن ..عدم ثبوت.کی بنا پر .چوروں .لٹیروں .ڈاکووں .قاتلوں .دہشت گردوں .کو چھوڑنے کا نام اور گواہی دینے والوں کو خوف زدہ.کرنے اور راستے سے ہٹانے کا نام ایوولوشن ہے ..ایسے ملک میں جہاں نہ قاتل کا پتہ .نہ مقتول کی داد رسی .اور وزیر داخلہ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازہ جاتا ہے .یہ ہے ایوولوشن کے کمالات ..ظالموں .غاصبوں .کے بچوں پر لاکھوں .کروڑوں .خرچ ہوتے ہیں .اور باقی ملک کے ٦٠ فیصد غریب بچے پرائمری سکول میں بھی نہیں جا پاتے ..ملک میں اگر کوئی پلانٹ  بیس  بیس  ہزار میگاواٹ بجلی  پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے .اور ایک پاور سٹیشن میں اگر ١٤ یونٹ ہیں .تو دو کو چلایا جاتا ہے تاکہ ملک لوڈ شیڈنگ کا شکار رہے اور فیکٹریاں بند ہوں اور عوام کو تکلیف پنچائی جاۓ .اور ملک کے نیرو خوش ہو کر عیش کی بانسری بجایں..اس طرح عوام ریلیاں نکالتی رہے احتجاج کرتی رہے اور سٹیٹس کو .والے محلات میں عیش کریں .بیروزگار نوجوان در در کی ٹھوکریں کھاتے رہیں .کچھ نشہ کریں کچھ ڈاکے ماریں اور حکمران ان کی لاشوں پر سیاست کریں .فوٹو سیشن کریں .عوام سے ہمدردی ظاہر کریں اور اسی طرح دھوکہ دیتے رہیں .بجلی بند .گیس بند .کارخانے بند .لاکھوں مزدور .کسان بیروزگار .اور حکمران اپنا بینک بیلنس امریکا .لندن اور سوئزر لینڈ منتقل کرتے رہیں .یہ نظام ایک دھوکے اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں .ایوولوشن کی وجہ سے ملک کے ٹکڑے ہووے .امریکا نے فوجی اڈے بناۓ.افغان مہاجرین کو یہاں کھلا چھوڑا گیا.دہشت گردی کو غداروں کی وجہ سے عام کیا گیا ..اس میں مصلحت اور منافقت ہے .خرید و فروخت کا کاروبار ہر ادارے میں کیا گیا .عدالتوں .میڈیا میں بھی وغیرہ وغیرہ .پارلیمنٹ اور سینٹ کو خوشامدیوں سے فل کیا گیا .زرد صحافت اور حکمران کے قصیدہ خوان پیدا کئے گہے.طاغوتی قوتوں کی چال تھی یہ نظام ..جس صوبے میں ٢٠ افراد ہر روز اغوا ہوں .٢٠ حادثہ سے مر جایں .٢٠ خود کشی کریں .ہزاروں ڈکیتیاں ہوں .ہزاروں روپے کی کرپشن ہر روز ہو .نا انصافی .چور بازاری زوروں پر ہو .طالب علم اپنے مسایل سے پریشان ہوں .وہاں کا انچارج خود کو خادم اعلی کہلاتا ہو .وہاں انصاف کس کو ملے گا .اور اس کو گڈ گورنس کہا جاۓ .تو آپ اس نظام کو کیا کہیں گے .اور تبدیلی کا نعرہ لگایں.یا نظام بدلنے کے لئے احتجاج کریں تو آپ پر گولیاں چلیں ..تو آج کل کے حکمران اور فرعون میں کا فرق رہ جاتا ہے ..جاری ہے ..کل آپ کو ریوولوشن کا مطلب سمجھاؤں گا ....جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 
....................عمران تیرے جذبے اور جرات کو سلام .....................
..........گجرات کے جلسہ میں تقریر کرتے ہووے ایک بار پھر سٹیٹس کو .کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ..قادری کے دھرنے سے جانے کے بعد نواز شریف کے وفاداروں کے چہروں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی .جو عمران خان کے گجرات میں خطاب کے بعد ختم ہو گئی.اور سب افواہوں کا خاتمہ ہو گیا.اور میدان کا مرد مومن ایک دفعہ پھر عمران خان ہی ٹھہرا ..عمران خان نے ٹھیک کہا اور ووہی کہا جو قوم کی ایک ہی آواز ہے .کہ اگر الیکشن کی دھاندلی ہو .یا قتل و غارت گری ہو .یا نا انصافی ہو .یا کرپشن ہو .یا ملک کی سالمیت کو خطرہ ہو .تو کوئی تو ادارہ ایسا ہو جو قوم کو انصاف کی امید دے .اگر کوئی ادارہ بھی عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے میں تعاون نہ کرے .تو عوام سڑکوں پر ہی آئیں گے .کہاں احتجاج کریں گے .صاف ظاہر ہے عوام امریکا سے مدد تو نہیں مانگیں گے ..سوال یہ پیدا ہوتا ہے .کہ اگر اس ملک میں عمران اور قادری کو نواز شریف .شہباز شریف .سپریم کورٹ .نیپ .یا الیکشن کمیشن .یا کوئی اور ادارہ انصاف نہیں دے سکتا .تو پھر قوم کس کی طرف دیکھے.کہاں احتجاج کرے .کس  سے فریاد کرے .تو پھر عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا .الیکشن میں دھاندلی ثابت ہو چکی ہے ..نواز شریف کی نا اہلی .کرپشن ثابت ہو چکی ہے .پارلیمنٹ میں جھوٹ بولنا ثابت ہو چکا ہے .ہر چیز واضح ہے .مگر پھر بھی الیکشن کمیشن .سپریم کورٹ .اپنا فرض منصبھی ادا نہیں کر سکتی .تو کیا حل ہے ..ہے کسی کے پاس اس کا حل ...یا صرف باتیں ہی ہیں .یا فضول .ٹی.وی .شوز ہیں ..یا شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری ہے .یا میں نہ مانوں..یہ میرے نزدیک فرعون کی بادشاہت ہے ..کیونکہ جو فرعون نے حکم صادر کرنا ہے .ووہی قانون  و آئین ہے ..باقی سب بکواس ہے .تو کیا اس کا نام جمہوریت ہے ..نہیں یہ غلط ہے .جو کچھ بھی ہو رہا ہے .ملک کے حق میں نہیں ہے .کل کو کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے .مگر نواز شریف اقتدار کا بھوکا ہے .اسے پاکستان کی سالمیت یا ترقی سے کوئی غرض نہیں .اگر ذرا بھی نواز شریف قوم کا مخلص ہوتا .تو اصلاحات کرنے اور مڈ ٹرم کروانے میں کیا  ہرج ہے .مگر اس میں نواز شریف کا کوئی قصور نہیں .کیونکہ بیوقوف دوستوں سے عقلمند دشمن اچھا ہوتا ہے .نواز شریف کے ارد گرد مفاد پرست ٹولہ ہے .خود نواز شریف بھی اپنی کرپشن کی گارنٹی چاہتا ہے .کچھ جب آدمی فرعون ہوتا ہے تو سمجھتا ہے .کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے .مگر خدا کی لاٹھی بے آواز ہے .اگر ٣٠ نومبر کو جوش جزبہ پھر آخری حدود کو پنچتا ہے .اور حکمران کی غلط حکمت عملی سے کوئی لاشیں پھر گر جاتی ہیں .تو حکمران تو پھر بھی جاۓ گا .کیا یہ بہتر نہیں کہ عمران خان سے ملاقات کر کے کوئی بہتر راستہ تلاش کیا جاۓ .اگر دوبارہ عمران خان کا ہر ٹکٹ ہولڈر اپنا اپنا ٹینٹ ڈی چوک لگا لیتا ہے  .تو بلے ہی بلے ..دما دم مست قلندر ہوتا ہے .تو تیرا کیا بنے گا کالیا.یہ دھرنے کا کرشمہ دیکھئے .کہ ڈپلو میٹ پاسپورٹ .بلیو پاسپورٹ بن رہے ہیں .گردن کا سریا اور اکڑ کم ہو رہی ہے .بلدیاتی الیکشن کی بھی تیاری ہو رہی ہے .تو عمران خان سے معاملات طے کیوں نہیں کئے جاتے .کب تک جلوسوں کو روکو گے .کنٹینر لگاو گے .حکومت کب تک اپنی انرجی زیہ کرتی رہے گی .پرویز رشید کو چاہئے کہ عمران خان کو مشورے نہ دے .اپنی کرپشن کم کر کے مہاجرین کی مدد کرے .عمران خان اگر لاڑکانہ اور سندھ میں تنظیم سازی وقت پر کر لیتا ہے .ممبر شپ اور کافی ذمہ دار ٹکٹ ہولڈر بمعہ بلدیاتی سطح کے تلاش کر لیتا ہے .اپنی کور کمیٹی کے چند لوگوں کو مستقل سندھ میں بٹھا دیتا ہے .تنظیم سازی کے لئے ..تو پی.پی.پی.کو ہرانے میں کامیاب ہو سکتا ہے .کیونکہ سندھ میں لوگ کسی مسیحا کے انتظار میں ہیں .کیونکہ مک مکا اور گٹھ جوڑ کی سیاست کی وجہ سے نواز شریف کا بوریا بستر گول ہو چکا ہے .اب نواز شریف کے لئے ایک ہی راستہ ہے .کہ مستعفی ہو کر اپنی ساکھ بچاۓ..ورنہ قوم بھی اور عمران خان بھی یہ جانتا ہے .کہ پہلے نواز شریف کو ووٹ ملے تھے .وہ زرداری کی مخالفت کے تھے ..اب عمران خان کو نواز .زرداری گٹھ جوڑ کے ووٹ ملیں گے .بلکہ نواز .زرداری .نفرت کے ووٹ ملیں گے .اس لئے وقت پر مستعفی ہونے سے نواز شریف کا پھر پلہ بھاری ہو سکتا ہے .مگر جتنا نواز شریف اقتدار سے چمٹے گا .اقتدار کو طول دے گا .اتنا ہی عمران خان کا گراف اوپر جاتا جاۓ گا .اور نواز شریف مزید ذلیل و رسوا ہوتا جاۓ گا .اور الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ بھی اپنی ساکھ برباد کرتے جایں گے ..کیونکہ عمران خان کے انقلاب . نظام .تبدیلی .آزادی .اصلاحات .نیا پاکستان کے آگے جتنی دیواریں .رکاوٹیں کھڑی کرو گے .یہ سونامی نہیں روک سکتا ..کیونکہ عوام کے شعور کو اس حد تک پنچا دیا گیا ہے .کہ اب انقلاب .اور تبدیلی نا گزیر ہو چکی ہے ..یہ ہے عمران خان کے آزادی دھرنے کی کامیابی ..عمران تیری جرات تیرے جذبے کو سلام ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨