Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Friday, May 29, 2015

........انقلاب .راہداری ..گوادر اور انڈیا ..................
.....جب میں انقلاب کی بات کرتا ہوں یا کوئی اور انقلاب کی بات کرتا ہے .تو حکمران کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں .حالانکہ جن لوگوں نے میری ویب سایٹ کو سٹڈی کیا ہے .وہ جانتے ہیں کہ میں نے کتنی تفصیل سے انقلاب پر روشنی ڈالی ہے .انقلاب کیا ہے .انقلاب کس جانور کا نام ہے .انقلاب کتنی قسم کے ہوتے ہیں .زیادہ تر لوگ خونی انقلاب سے ڈرتے ہیں .مگر میرے ملک میں تو خونی انقلاب سے زیادہ خون اب تک بھایا جا چکا ہے .مگر پھر کہتا ہوں کہ اگر آپ کے رویے.آپ کی سوچ .آپ کی اہلیت .آپ کی حب ال وطنی.آپ کی ایمانداری .ملک سے وفاداری .دلیرانہ .جرات والے فیصلوں  کی وجہ سے انقلاب آ سکتا ہے .تو پھر خون بہانے کا کیا فایدہ ..اسی لئے میں اپنی مشھور نظم کا سہارا لیتا ہوں اور حکمران سے کہتا ہوں ..لانا ہے انقلاب تو خون بہانہ کوئی ضروری ہے ..بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے ..حالانکہ دنیا میں مثالیں موجود ہیں کہ انقلاب کے بعد کچھ ملکوں میں حالات بہتر ہووے .تاریخ گواہ ہے .فرانس کی طرح..اور دوسری طرف کوریا کی مثال آپ کے سامنے ہے .کہ وہاں بغیر خونی انقلاب کے انقلابی اقدامات کی وجہ سے ایسا انقلاب آیا کہ وہ کہاں سے کہاں پنچ چکا ہے .ایک بات عرض کرتا چلوں کہ سبز انقلاب ہو یا خونی ..دونوں حکمرانوں کی سوچ .مدبرانہ پالیسی کی وجہ سے آتے ہیں .یہ حکمرانوں پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ وہ ملک کو کس طرف دھکیلنا چاہتے ہیں .مثال کے طور پر ١٩٧٠ کے انتخابات کے بعد اگر غلط فیصلے نہ کئے جاتے .تو انڈیا اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوتا اور بدنام زمانہ اجنسی را کو منہ کی کھانی  پڑتی اور بنگلہ دیش نہ بنتا ..اور دوسری طرف اگر کالاباغ ڈیم کو متنازعہ نہ بنایا جاتا تو ملک میں کب کا سبز انقلاب آ چکا ہوتا .اب اگر گوادر پر کام ہو رہا ہے اور راہداری پر جس طرح میاں نواز شریف نے اقدامات اٹھاے ہیں .یا جس طرح اٹھاۓ جا رہے ہیں .اگر سہی معنوں میں یہ راہداری کا منصوبہ متنازعہ بناۓ بغیر .کرپشن سے پاک بنا لیا جاتا ہے .تو پھر پاکستان کو دوبئی اور ہانگ کانگ .اور سنگاپور سے بڑا ملک بننے سے کوئی نہیں روک سکتا .گوادر فری پورٹ اور یہ راہداری ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے اور یہ ہے انقلاب  جو پاکستان میں بیروزگاری بھی ختم کر سکتا ہے اور دہشت گردی بھی .مگر ہمارا دشمن یہ کبھی بھی نہیں چاہے گا .یہ نقطۂ ہے میرے حکمران کو سوچنے کا .کہ بھارت اس وقت تک اپنی پاکستان دشمنی ختم نہیں کرے گا .جب تک اس کو نکیل نہ دہلی جاۓ گی .انڈیا کے ساتھ اس کی زبان میں اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہو گی .تجارت کرنے سے انڈیا رام نہیں ہو گا .انڈیا کے ساتھ تعلقات کو از سرے نو جائزہ لینا ہو گا .انڈیا کو تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دینا ہو گا .ورنہ یہ جن قابو میں نہیں آنے والا .اس گوادر اور راہداری کی وجہ سے انڈیا کے پیٹ میں جو درد ہے اسے ختم کرنا ہو گا .کیونکہ لاتوں کے بھوت اب باتوں سے ٹھیک نہیں ہوں گے .مگر میں قبل از وقت اس راہداری منصوبے پر بغلیں بھی نہیں بجا سکتا اور نہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا چاہتا ہوں اور نہ حکمرانوں کی نیت پر شک کرنا چاہتا ہوں ..دلی دور است ..کیونکہ میں بھی ٦٥ سال سے اس ملک میں بے پناہ منصوبے کاغذوں میں بنتے دیکھ چکا ہوں .تختیاں لگتے دیکھ چکا ہوں .افتتاح ہی افتتاح ہوتے دیکھ چکا ہوں .بیوروکریسی کی پھرتیاں .چالبازیاں .اور سیاستدانوں کی مکاریاں دیکھ چکا ہوں .مگر اب عمل ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں .افتتاح تو نندی پور .تھر کے کوئلے کا .چنیوٹ کا .چاندی کا .سونے کے زخائر کا.ایران گیس پائپ لاین .پیٹرول اور دوسری معدنیات کا دیکھ چکا ہوں .جو بھی کام حکمران کرے .اگر وہ کاغذی نہ ہو عملی ہو تو اچھا ہے .ہم سب کو کریڈٹ دینا چاہئے .حکمرانوں کی ٹانگیں کھیچنا کوئی اچھی بات نہیں .مگر کچھ ہوتا نظر بھی تو آے.اللہ کرے ملک میں انقلاب آے انقلابی اقدامات سے .اللہ کرے کالاباغ ڈیم بھی بن جاۓ اور گوجرانوالہ کا عزیز کراس بھی بن جاۓ..گوادر اور راہداری منصوبہ ایک بہترین سوچ ہے ..یہ منصوبہ ملک کی ترقی کا ایک روشن پہلو ہے .پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے .مگر انڈیا یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہونے دے گا .اس کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی .میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے حکمرانوں کو جرات دے توفیق دے کہ وہ ملک کے لئے ایسے منصوبے پایا تکمیل تک پنچا سکیں ..آمین ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Wednesday, May 27, 2015

.........انقلابی لوگ اور فرھنگی حکمران ......
........انقلاب زمانہ دیکھئے کہ جو لوگ ١٩٤٧ کے کرب و جوار کے واقعات کو جانتے ہیں یا ہندو.فرھنگی .یا پاکستانی حکمرانوں کی غلیظ سٹوریوں کو جانتے ہیں .کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر .اسلام دشمنی کی خاطر کیا کیا گل کھلاۓ.تھے .تو وہ لوگ جب آج کے منظر کو. ماڈل ٹاون کے واقعہ کو .کراچی کو .لاہور .اسلام آباد .فیصل آباد اور ڈسکہ سیالکوٹ کے واقعات کو دیکھتے ہیں .حکمران اور اداروں کی بر بریت کو  دیکھتے ہیں .تو ان کو اچانک وہ گزرا دور یاد آ جاتا ہے .مغلوں کا دور ہو .فرعون کا دور ہو یا ہو دور فرھنگی .سب میں مشاہبت پائی جاتی ہے .ان حکمرانوں کے رویہ کی وجہ سے ہر دور میں انقلابی لوگوں کو  جنم دیا ..ان انقلابی لوگوں نے ہر دور میں ظالم اور ظلم کے خلاف آواز حق کو بلند کیا .گو کہ ظالم حکمرانوں کی ظلم کی داستانیں بھی کم نہیں ہے .مگر انقلابی لوگوں کی بھی کوئی کمی کسی دور میں بھی نہ ہے نہ تھی .جن میں چند نام انقلابی لوگوں کے لکھ دیتا ہوں .علامہ اقبال .حبیب جالب .فیض احمد فیض .احرار صاحب .عطااللہ شاہ بخاری صاحب .اکبر الہ آبادی .بابا بھلے شاہ .شورش کاشمیری  وغیرہ وغیرہ .اور وہ سب لوگ جنہوں نے فرھنگیوں کے خلاف آواز اٹھائی .اور میرے جیسے انقلابی لوگ جو آج بھی ہیں .جن کو پاگل کہا جاتا ہے .اور مختلف الزامات سے نوازہ جاتا ہے .مثال کے طور پر جب میں نے ١٢ کتابیں مکمل کیں .تو مجھ کو کہا گیا.کہ تم ملک میں انقلاب کی بات کرتے ہو .تم ملک میں خون خرابہ چاہتے ہو .خون بہانا چاہتے ہو ...تو میں نے اسلام اور پاکستان کے غداروں کو اپنی کتاب ..انقلاب پاکستان ..میں یہ پیغام دے کر ان کا منہ بند کر دیا ..کہ ...........................حکمرانوں .........انقلاب کے لئے خون بہانا کوئی ضروری ہے
...بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
..عقل و دانش .اور .فہم و فراست . بھی  ہو جب
..تو جعلی ڈگریوں  کا ڈھونگ رچانا کوئی ضروری ہے
..جب  ہر طرح کی چیر پھاڑ کرنے میں ہو ماہر
..تو پھر نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھوانا کوئی ضروری ہے
..ڈھٹائی سے ہی گر جھوٹ کا کرنا ہے دفاع
..تو حقیقت سے آنکھیں چرانا کوئی ضروری ہے
..گر بیچنا ہی ہے قوم کو ہر حال میں تم نے
..تو  خریداروں کو عیب دکھانا کوئی ضروری ہے .
..جب ارادہ قتل سے ہی نکلے ہو گھر  سے
..تو پھر دل اور درد کا رشتہ ملانا کوئی ضروری ہے .
..جب آگ ہی لگانی ہے ان تختوں  کو
..تو پھر سٹیج کو سجانا کوئی ضروری ہے
..جب یقین ہے کہ موت نے آنا  ہے
..تو پھر زندگی کا جشن منانا کوئی ضروری ہے
..جب لہو سے ہی دینا ہے غسل  جاوید
..تو پھر لاشوں کو کفن پہنانا کوئی ضروری ہے
......جب ملک میں قتل و غارت گری .ناانصافی .چوروں .ڈاکووں .کا راج .پولیس گردی .حکمران گردی .حکمرانوں کی فرونیت .دیکھتا ہوں .تو بر ملا کہتا ہوں کہ اس ملک کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے ..اقبال نے کہا تھا ..جس میں نہیں انقلاب موت ہے وہ زندگی ....شورش کاشمیری کافی انقلابیوں کے الفاظ نوٹ کرتا ہے .............لگا کے آگ مجھے کاروں روانہ ہوا ...پھر لکھتا ہے .
.......نہ ستایش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ ..پھر فرماتے ہیں ..مشردہ باد اہل ریا را کے زمیندان رفتم ..
....کرے قبول اگر دین مصطفے انگریز
....سیاہ روز مسلمان رہے گا پھر بھی غلام ...اکبر الہ آبادی  نے بھی ٹھیک کہا تھا ........................................................................یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
.....افسوس کے فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
.......بابا فرید بھی انقلابی تھا .فرماتے ہیں ...
...........سچ کہندیاں  بھانبڑ مچدا اے
......اکبر الہ آبادی پھر ایک جگہ انقلابی بات کرتے ہیں ..........صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
........لیکن خدا کی بات جہاں تھی ووہیں رہی
.......صدیوں سے ہر دور میں ایک ہی آواز گونج رہی ہے .............................................................
.......تیز رکھنا ہر خار کو اے دشت جنوں
......شاید آ جاۓ کوئی آبلہ پا میرے بعد
....پاکستان میں لوگوں کو فرھنگیوں.ٹوانوں جیسے جاگیردار حکمرانوں کو نہ بھولنا چاہئے ....آج بھی ووہی الفاظ ہیں .....شعلے نہیں ٹوانوں کے طرے ہیں طرے......آج بھی کچھ نہیں بدلا........
......آخری الفاظ آج کے کالم کے شورش کاشمیری کی یاد کو تازہ کرتے ہیں ....یہاں امرا .دوزخ کے کتے اور سیاستدان کھٹی قے ہیں ..ان کے ساتھ نٹ اور ان کے پیچھے لاشیں چلتی ہیں ..ان کی واحد خوبی یہ ہے  کہ ہر نیکی اور ہر برائی کی زبان میں جھوٹ بول لیتے ہیں ...یہ ہے میرے پیارے پاکستان کا اصل چہرہ .........جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Friday, May 22, 2015

......نوجوان نسل کی دہشت گرد را میں شمولیت .......
.....انقلاب زمانہ دیکھئے کہ جس قوم کے نوجوانوں نے قرآن اور نبی کے احکامات کو لے کر چلنا تھا .دنیا کو دعوت اسلام دینا تھی .جنہوں نے نبی پاک .صحابہ کرام .اللہ کے ولیوں والی جرات .دلیری .شجاعت.کو پیدا کرنا تھا .صادق اور آمین بننا تھا .پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈہ بلند کرنا تھا لوگوں کو امن .بھائی چارے کا درس دینا تھا .مسجدوں کو آباد کرنا تھا .مدرسوں کی رونقوں کو بھال کرنا تھا .جہاں دن رات دین محمدی کی تعلیم دی جاتی ہے .جہاں ٢٤ گھنٹے علم کی شمعیں روشن کرنا تھیں .اور اقبال کا شاہین بننا تھا .عمر فاروق .خالد بن ولید.اور غازی علم دین شہید بننا تھا .مگر افسوس کہ مسلمان جوں جوں دین محمدی سے دور ہوتے گیے.مادیت پرست بنتے گیے.اتنے ہی مسایل اور مشکلات میں دھنستے چلے گیے..اگر صرف پاکستانی قوم پر نظر ڈالی جاۓ .تو صاف پتہ چلتا ہے .کہ اس اسلام کے قلعہ کو تباہ و برباد کرنے میں بھی عالمی سازش شامل تھی .اور یہ کام میرے حکمران نے اپنے اقتدار کی خاطر احسن طریقے سے کیا .پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرنے میں گو کہ ہر ادارے نے اپنا اپنا کردار ادا کیا .کئی قسم کی .این.جی.اوز .اور فلاحی تنظیموں نے بھی کردار ادا کیا .مگر ہر کردار سے بڑھ کر حکمران کی نا اہلی کار فرمان رہی .کیونکہ ہر دور میں میرے ہاں میر جعفر .میر صادق .اور پرویز رشید جیسے لوگ اپنی اپنی سازش کرتے رہے .اور عالمی سازشوں کا آجندہ آگے بڑھتا رہا .کیونکہ ہر ادارے کے اوپر ایک ایک ڈاکو بٹھا کر اس سے انصاف کروایا گیا .اور سونے پر سوہاگاہ ..میرے میڈیا کے کالم نگاروں .تجزیہ نگاروں نے بھی بہتی گنگہ میں خوب ہاتھ دھوے اور کچھ نے تو شنان بھی کیا ..وہ لوگ جب تجزیہ کرتے تو کہتے مدرسوں کا قصور ہے .نصاب سے جہاد نکل دو .ماڈرن سوچ پیدا کرو .وغیرہ وغیرہ .انہوں نے کبھی فرھنگی نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی .کبھی او لیول .اے لیول .مہنگی نظام تعلیم والے ماڈرن انگلش .دین سے دور لے جانے والے سکولوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی ..بلکہ میرے تجزیہ نگار یہ بھی نہیں جانتے کہ نوجوان ڈاکو .چور کب بنتا ہے .کلاشنکوف کب اٹھاتا ہے .را میں شمولیت کب اختیار کرتا ہے .دہشت گردی کی سوچ کا محور کب بنتا ہے ...اصل مسلہ سے آنکھیں چرا کر تجزیہ نگار کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں .کہ بھوت بڑا تجزیہ نگار ہے یا قصیدہ خوان ...کیونکہ تجزیہ نگار یہ کیوں نہیں کہتا کہ اصل مسلح بیروزگاری ہے .جب آپ نوجوانوں کو ڈگریاں دے کر بھول جاتے ہیں .کہ حکمران کی ذمہ داری کیا ہے .ان کو ملازمت نہ دے کر ٹیلنٹ کو زنگ لگا دیا جاتا ہے .آخر کار فرسٹریشن کی انتہا اس وقت ہو جاتی ہے .جب نوجوان حکمرانوں کی عیاشیاں دیکھتا ہے .کرپشن دیکھتا ہے .بد عنوانی .اور نا انصافیاں دیکھتا ہے .معاشرے کی بے راہروی .بد چلنی اور مادیت پرستی کی انتہا دیکھتا ہے اور اپنی بے بسی کو دیکھتا ہے .تو پھر ایک تلخ فیصلہ کرتا ہے .اپنے والدین کی .بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کی کفالت کے لئے .اور وہ غلط لوگوں .غداروں .مافیا .کے ہتھے چڑھ جاتا ہے .پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر اور حکمران کی نفرت کی خاطر .یہی نوجوان جب یورپ.امریکا .برطانیہ اور مڈل ایسٹ میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں .تو اپنی ذہانت اپنے ٹیلنٹ کا بھر پور مظاھرہ کرتے ہیں .اور دنیا کو اپنا لوہا منوانے میں کامیاب نظر آتے ہیں .تو میرے خیال میں میرے تجزیہ میں چند وجوہات واضح نظر آتی ہیں .پہلے تو یہ کہ مدرسوں کو بدنام کرنے والے بےغیرت نکلے .دوسرے یونیورسٹیوں کی تعلیم ایک سوالیہ نشان.  قوم کو  .ماڈرن بنانے والوں کے منہ پر تماچہ ہے .تیسرا طبقہ خود حکمران ہے .جو بے حس بھی ہے .کرپٹ بھی ہے .نا اہل بھی ہے اور سب سے بڑھ کر دین اسلام اور نوجوان نسل کا دشمن بھی ہے ....پھر بھی سوچتا ہوں کیا لکھوں .کس کس کے آگے آہو پکار کروں .میرے حکمران تجھے کس طرح سمجھاؤں.کہاں فریاد کروں ..آخر میں اپنی ١٢ کتابوں سے تین اشعار .....نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب افکار نہیں ہوتا ..بھ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو بیکار نہیں ہوتا ......ایک آواز ہے جو تیرے در و دیوار تک پنچے ..ایک سجدہ ہے جو تیرے عتبار تک پنچے .....پھر بھی نا امید نہیں خدا اور نبی سے جاوید ..حکمران سے نا امید لکھوں یا بد گمان لکھوں ...تو ہی بتا میرے حکمران ..تیری تجلیات کہاں کہاں لکھوں ...جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والے ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Wednesday, May 20, 2015

.....پرویز رشید کے نام ..سوچتا ہوں کیا لکھوں ...
....پرویز  تجھے مسخرہ.مکار یا بے ایمان لکھوں
....تجھے کافر .قادیانی یا چیلا شیطان لکھوں
....تیرے نام سے نفرت یا چالباز انسان لکھوں
....فتنہ فساد پھیلانے والا غدار پاکستان لکھوں
....سوچتا ہوں کیا لکھوں اپنا ہی درد پنہاں لکھوں
....کس کرب سے گزرا وہ کرب جہاں لکھوں
....خون میں بکھری لاشوں پے  قوم داستان لکھوں
....یا لکھوں عذاب خدا ہے میرا حکمران لکھوں
....ہے کربلا یا سجا ہے کربلا کا میدان لکھوں
....جس پے ہے شعور مگر نہیں احساس زیاں لکھوں
....رک جاتا ہے قلم بسا اوقات میرے درد کے ساتھ
....روتا ہے دل حکمرانوں کے کارنامے کہاں لکھوں
....کہاں سو گہے ہیں دنیا میں میرے مہربان لکھوں
....زیر عتاب ہے ہر طرف دنیا میں مسلمان لکھوں
....پرویز تو نے  کیا قوم کا برباد سکون لکھوں
....میری خاموشی پے بتا خد کو مسلمان لکھوں
....پھر بھی نا امید نہیں خدا اور نبی سے جاوید
....حکمران سے نا امید لکھوں یا بد گمان لکھوں
....تو ہی بتا پرویز میں غلام سرور کنعان لکھوں
....انسان لکھوں یا حیوان لکھوں یا شیطان لکھوں
........جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, May 19, 2015

....................پرویز رشید کے نام .................
........انقلاب زمانہ دیکھئے کہ یہ شخص زرداری کے زمانہ اقتدار میں قوم کو ایسے ایسے بھاشن دیتا اور سناتا تھا .کہ ہم نے اس کے بارے میں اچھا سوچ رکھا تھا .ہمارا گمان غلط ثابت ہوا .کہتے ہیں جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستے میں بیٹھتا ہے .یہ بھی مشھور ہے کہ اقتدار .دولت اور طاقت کا نشہ انسان کو فرعون بنا دیتا ہے .شیطان مسلمانوں سے وہ کام لیتا ہے جو کافر بھی کرتے شرماتا ہے .اسی لئے تو مختلف اوقات میں زمانے میں کہی شیطان سلمان رشدی جیسے آے.اور مزید آتے رہیں گے .کیونکہ میرے خدا نے شیطان کو کھلی چھٹی دی ہے .کہ وہ جو کام دوزخ  بھرنے کے لئے کر سکتا ہے کر لے ....تو چند الفاظ پرویز رشید کی خدمت اقدس میں مزید حاضر ہیں ...
...........تو بھی ابن شیطان یہ بتا دیا تم نے
..........خدا تو خدا ہے حقیقت کو بھلا دیا تم نے
..........دینی مدرسوں  کی بے حرمتی تم سے کیا ہوئی
........شرمندہ ہے شیطان بھی  جس کو ورغلا دیا تم نے
............تجھ سے شیطان نے یہ کیسا کام لیا
..........کہ سوئے ہووے مسلمان کو جگا دیا تم نے
..........تو نے انسانوں کو جھنجھوڑا ہی  نہیں
.........انسانیت کے منہ پے طمانچہ لگا دیا تم نے
.........پوری دنیا میں امن کا ایک ہی داعی ہے
........اس مسلمان کو دہشت گرد بنا دیا تم نے
........دوزخ میں تو جلاۓ جاؤ گے  یقینن
.......اپنے آپ کو بےغیرت زندہ جلا دیا تم نے
........دنیا میں ظلم تو اور بھی ہو رہے ہیں
.......اپنے ظلم کو حد سے بڑھا دیا  تم  نے
.......پاکستانی حکمران ہمیشہ  فرعون ہوتا ہے
.......فرونیت کا مطلب سمجھا دیا تم  نے
.......اپنے اندر کی آگ میں جل رہا ہو گا تو
.......مجھے تو اپنے اعمال پے چونکا دیا تم نے
.......تو سمجھ رہا تھا کہ مدرسے تو اب مر چکے
.......نہیں مدرسوں کو موت کے منہ سے بچا لیا تم نے
......عالمی سازش کھل کر آ رہی ہے سامنے
.....پھر سے نوشہ دیوار پڑھا دیا  تم  نے
........خدا کو مت للکارو نیست و نابود ہو جاؤ گے
.......زمین و .پہاڑ اور  سمندر  کو ہلا  دیا تم  نے
......مسلمان تو امن امن امن پکار رہا ہے
......کفر و اسلام کی جنگ کا طبل بجا دیا تم نے
......شاید  تیرے دل میں اتر جاۓ جاوید کی یہ بات
..... پاکستانی قوم کو خواب غفلت سے جگا دیا تم نے
....تیرے حواری تو اس ملک میں بھوت ہوں گے
...جن کے سروں کو شرم سے  جھکا دیا تم نے
.....باقی کل انشااللہ ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا
.............٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Sunday, May 17, 2015


.....................امن ہو گا ......................
.........حقایق سے پردہ اٹھنے لگا
........دھوویں کا بدل  چھٹنے  لگا
.......ملک میں امن ہو گا اب جاوید
...... نام غدار زبان حکمران آنے لگا
.......جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا
.......٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨