Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, May 12, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،میاں نواز شریف کا آخری امتحان ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں خدا اور اپنے نبی سے تو ناامید نہیں ہوں ،،مگر  میاں صاحب سے مجھے  کوئی غیر معمولی تووقوح نہیں ہے ،،کہ وہ پاکستان کو درپیش مسایل سے اچھی طرح نپٹ لیں گے اور جو انھوں نے قوم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے بھی کرتے ہیں یا نہیں ،،خدا کرے وہ فوج سے زیادہ پنگے بازی نہ کریں ،،بیوروکریسی کے سونہری جالوں سے محفوظ رہیں ،،اور تندور روٹی اور لیپ ٹاپ کی بجاے،،کوئی قومی منصوبہ بنانے کی کوشش کریں ،،خلیفہ بننے کی کوشش نہ کریں ،،پٹواری ،،تھانہ  کچہری ،کے فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا ،،ملک ریاض جیسی مافیا سے دور رہنا ہو گا ،،قرضے اور پلاٹوں اور فنڈ دینے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہو گا ،،زرداری صاحب کے دور کی اس لوٹ مار کا حساب لینا ہو گا جو الزام خود وہ لگاتے رہے ہیں ،،بلکہ خادم اولا تو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے ،،احتساب سب کا انصاف کے ساتھ اور خود کا بھی ،،،،بجلی ،گیس ،،بیروزگاری ،دہشت گردی  کی جنگ ،،کراچی کے حالات اور مہنگائی ، پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ،،ورلڈ بینک سے جان چھوڑنی ہو گی ،،گوادر کو دوبئی بنانے والے وعدے پر بھی عمل کرنا ہو گا ،،ان کو  وعدوں اور منشور کی فوٹو کاپی کر کے اپنے پاس رکھنا ہو گی ،،،اور یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم اب جاگ چکی ہے ،،،جھوٹے ،،چوروں ،،غداروں ،لٹیروں ،کو اب برداشت  نہیں کیا جاۓ گا ،،بہتر ہو گا کہ چودھری نثار جیسی اچھی آواز اور شور کو سنا جاے اور اسحاق ڈار کی ورلڈ بینک کی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جاۓ اور ان کو دور رکھا جاۓ ،،،جعلی ڈگری والوں،کرپٹ ،نا اہل ،کن ٹوٹے،اور مفاد پرست  سے دور رہا جاۓ ،،،ویسے مجھے تو اس لئے زیادہ تووقوح نہیں ہے ،،کیونکہ پھچلے سالوں کی کارکردگی سامنے ہے ،،اور حسسیں حقانی اور ریمنڈ ڈیوس کا بھی ڈرامہ سامنے ہے ،،حتہ کہ میری اپنی ڈکیتی کی واردات ایک منہ بولتا ثبوت ہے ،جس کا خادم اعلی نے دو سالوں سے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ہے ،،،تو اب آنے والا وقت مزید ہمارے تمام خوابوں کا تجزیہ لے کر آنے والا ہے ،،،سب جھوٹ اپنے تمام ثبوتوں کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں ،،اس دفعہ یا میاں برادران سرخورو ہو جایں گے ، یا پھر یہ بھی زرداری ڈرامہ کی طرح یا دوسرے فرعونوں کی طرح صفہ ہستی سے مٹ جائیں گے ،،یا نشان چھوڑ جاؤ گے یا تاریخ سے سبق سیکھ جاؤ گے یا پھر نشان ے عبرت بن جاؤ گے ،،،،،نظام کو بدلو ،،ورنہ تاریخ تم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ،،،میاں صاحب ہیرو بن سکتے ہیں یا زرداری اور مشرف کی طرح زیرو بن جائیں گے ،،،،پھولوں کی دیوی سدا کسی پر مہربان نہیں رہتی ،،،میاں صاحب اگر اب بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھو گے تو کب سیکھو گے ،،،قوم کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے ،،،،،قوم نے تم کو موقعہ دیا ہے ،،اپنے حصے کا کام کرتے جاؤ ،،،زندگی ،موت خدا کے ہاتھ میں ہے ،،،،خدا حافظ ،،ہم قصیدے نہیں لکھ سکتے ،،اچھا کام کرو گے ،تو ہمارا خون بھی حاضر ہے ،،،،تم کو آخرت  یاد کروانا ہمارا فرض ہے اور یہی قوم کا ہم پے قرض ہے ،،،،اللہ  آپ کو ہمت اور استقامت عطا فرماۓ ،،آمین ،،ثم آمین ،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،٣٣٣٩،،،،،،،

،،،،،،،،،،،عمران خان اور صوبہ سرحد والوں کو سلام ،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،،،،،،الیکشن میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا ،،،ابھی شروعات ہیں ،،قوم کے اندر شعور آ رہا ہے،،اور اس قوم کو جگانے کا سہرہ عمران خان کو جاتا ہے ،،اور جن ظلم کے پسے ہوۓ پشاور والوں نے شعور کا آغاز کیا ہے ،،ان کو سلام پیش کرتا ہوں ،،پشاور والوں نے ثابت کر دیا ہے ،،کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،،بلوچستان نے ثابت کر دیا ،،کہ انڈیا اور افغانستان مل کر بلوچستان کے امن کو تباہ کر رہے ہیں ،،اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ بلوچستان والے پاکستان کے وفادار ہیں ،،سندھ ابھی تک جاگیرداروں اور وڈیروں اور لسانی گروپوں کے چنگل میں ہے اور شعور عمران خان نے سندھ اور بلوچستان میں بھی اجاگر کر دیا ہے ،،اور رہی پنجاب کی بات تو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عمران خان کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے ،،شعور آیا ہے ،،مگر تھانے،کچہری ،پٹواری ،،کن ٹوٹے ، بدمعاش اور مافیا کے نظام کی وجہ سے مفادات اور ڈر ، خوف ،کے کلچر سے پنجاب نہیں نکل سکا ،،،پڑھے  لکھے لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دئے،،،جبکہ غریب طبقہ اب کی بار پھر پرانے وعدوں کی طرح جھانسے میں آ گیا ،،اور پکی گلی اور سڑک، نالی ،اور یلو ٹیکسی ، ٹریکٹر ،کے قرضوں کے جھانسے میں آ گیا ،،بھر حال ملک کا مستقبل تو ابھی بھی خطرے میں ہے ،،کیونکہ ابھی زرداری صدرکرسی پر براجمان ہے ،،کوئی انقلاب نہیں آیا ،،اور نہ  میاں صاحب انقلاب لا سکنے کی  جرات رکھتے ہے ،،پہلا امتحان میاں صاحب  کا یہی ہو گا کہ زرداری صاحب کو مشرف کی طرح ووٹوں سے گھر بیجھیں اور لوٹی ہوئی دولت کا احتساب کریں اور باہر بھاگنے نہ دیں،،،اگر وہ یہ شروعات کرتے ہیں تو دوسرے مسایل بھی حل کرنے کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ،،ورنہ روایتی سیاست اور مفاہمت کے روپ میں منافقت میاں صاحب کو بھی ہمیشہ کے لئے لے ڈوبے گی اور جس طرح زرداری گروپ کی کشتی پنجاب میں ڈوب گئی ہے ، میاں صاحب کی بھی انشااللہ ڈوب جاۓ گی ،،اس لئے عمران خان کے نوجوانوں کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے ،انشااللہ مستقبل تمہارا ہے ،،ابھی چوروں ،لٹیروں ،کن ٹٹوں بدمعاشوں کا مکمل پاکستان سے صفایا ہونا ہے ،،،آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ،،،،،فکر مت کرو ،،صرف عمران خان اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ،،یا وہ جو بولڈ فیصلے کرے گا ،،،نہ جھکے گا ،،نہ بکے گا ،،نہ ڈالروں سے کھیلے گا ،،،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،
،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،

Thursday, May 9, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب پاکستان کا مقدر بن چکا ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،کچھ لمحوں کے لئے آپ ایمانداری سے بھول جایں ،،کہ آپ کا کس پارٹی سے تعلق  ہے ،،،چند لمحوں کے لئے آپ سچے پاکستانی اور مسلمان بن کر سوچیں کہ کیا یہ بیوروکریسی ،جاگیرداروں ،وڈیروں اور کرپٹ سیاستدانوں والے نظام سے یہ سمجھتے ہیں ،کہ ملک کی تقدیر بدل جاۓ گی اور ملک میں سبز انقلاب آ جاۓ گا ،،دہلیز پر انصاف ،روزگار ،بجلی ،گیس ،مل جاۓ گا ،،لوٹا  ہوا مال واپس مل جاۓ گا اور چوروں ،لٹیروں کا احتساب ہو گا ،،پلاٹوں اور ضمیر فروشوں کی سیاست کا خاتمہ ہو جاۓ گا ،،ملک کو اسلہ سے پاک کر دیا جاۓ گا ،،دہشت گردی کی جنگ کو ختم اور کشمیر ،اور پانی کا مسلہ حل کر لیا جاۓ گا ،،بینظیر سکیم اور لیپ ٹاپ جیسے منصوبوں کی بجاۓ،،،،بجلی ، گیس کے پلانٹ لگاۓ جایں گے ،،،یہ نہیں ہو سکتا ،،جب تک یہ نظام ہے ،،روٹی تندور جیسے گھٹیا منصوبے بنتے رہیں گے اور انڈیا سے بےسود مذاکرات ہوتے رہیں گیں اور ہمارے حکمران چند نادیدہ ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور ملک کی دولت اور وسایل لوٹنے والے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے اور غریب اپنے بچے فروخت کر کے  زندگی موت کی جنگ لڑتا رہے گا ،،،،کئی طرح کے ہر دور میں فرعون،کن ٹوٹے ،بدمعاش ،اور ملک ریاض جیسی مافیا پیدا ہوتے رہیں گے اور عدالتوں اور انصاف اور لاچاروں کو خریدنے کا کاروبار جاری ساری رہے گا ،،اور ہم جیسے بےبس ادھر ادھر دھکے کھاتے اور اپنا خون جلاتے رہیں گے ،،،آپ ایک لمحے کے سوچیں کہ مشرف نے جو کیا غلط کیا ،،دہشت گردی کی جنگ میں دھکیل گیا ،اس نے آہین توڑا ،ملک سے غداری کی ،،مگر اسے اس بات پر مجبور کس نے کیا ،،نواز شریف نے ،،نہ خلیفہ بننے کے خواب دیکھتا ،،نہ ضیاء بٹ کو آرمی کا چیف بنانے کا سوچتا ،نہ یہ ڈرامہ ہوتا ،،اور نہ ملک کا بیڑہ غرق ہوتا ،،نواز شریف کی بد نیتی ،،نا اہلی ،،بزدلی اور مکاری ، کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے یا قصور ہے جتنا مشرف کا ،،باقی رہی سہی کسر ، گجرات والے چودھریوں نے ،،کراچی والوں نے ،،سرحد والے لال ٹوپی والوں نے اور فضل رحمان نے نکال دی ،،،اور سب نے پاکستان کی بربادی میں اپنا حصہ ڈال دیا اور باقی جو بچا تھا وہ زرداری ٹولہ لوٹ کر لے گیا اور ابھی مزید لوٹنے کی کوشش جاری ہے ،،اور میرے بچے ماسٹر کی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے ان کتوں ، بغرتوں کے لئے خدا سے عذاب کی امید اور اپنے اچھے دنوں کی امید پر زندہ ہیں ،،کہ شاید یہ کتے ، بےغیرت، اس ملک سے چلے جایں اور کوئی ایماندار آ جاۓ ،،جو اس نظام کو بدل دے اور سب کو برابر کے حقوق میسّر آ جایں ،،اور ہر کام میرٹ کی بنیاد پر ہو جاۓ ،،،،،،مگر ایماندار کو سیدھے ہاتھوں سے اقتدار ملتا نظر نہیں آ رہا ،،اس لئے کہتا ہوں کہ ایمانداروں کو اپنا حق لینے کے لئے ایک دن سڑکوں پر نکلنا ہو گا ،،تحریر چوک بنانا ہو گا ،،انقلاب لانا ہو گا ،،جس سے نظام بھی بدلے گا ،،اور کتوں کو لٹکانا بھی پڑے گا ،،احتساب کرنا ہو گا ،،زمینیں ،،پلاٹ،،واپس لینے ہوں گے ،،تب جا کر انصاف میل گا ،،،،،،،خدا حافظ،،،،،،،،
،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ،،،،،،،میلان   ،اطالیہ،،،،،،،،،،،،

Wednesday, May 8, 2013


,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,انقلاب  اور احمقوں کی جنت ،،،،،،،،،،
،،،،،،ہم  لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ،،جو ان سیاستدانوں کے منہ سے انقلاب لانے کی امید لگا لیتے ہیں ،،جو لگا تار حکومتوں میں رہتے ہیں اور ہر بار ہمیں بیوقوف بناتے ہیں ،،جو سیاستداں ایک دفعہ بھی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ یا صدر رہ چکا ہے اور وہ اس بےغیرت ، فرسودہ  نظام کو نہیں بدل سکا ،،وہ اب کی بار کیا تیر چلا لے گا ،،اقتدار میں جا کر سب بھول جاۓ گا ،،پھر وہ نظام بدلنے اور انقلاب لانے کی بات کر رہا ہے ، تو وہ بکواس کر رہا ہے اور ہم اس کی بات پر پھر یقین کر رہے ہیں تو ہم بھی بغیرتی کر رہے ہیں اور ملک سے غداری کر رہے ہیں ،،،خاص کر اگر میں زرداری ،نواز شریف اور گجرات والے چودھریوں پر عتماد کر لوں ،،تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھ سے بڑا کوئی بےغیرت نہیں ہے ،،اسی لئے کہتا ہوں کہ ماضی کو دیکھ کر بھی ہم سبق نہیں سکھ رہے ،،تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ،،،یہی وجہ ہے کہ اس الیکشن سے کوئی انقلاب نہیں آے گا ،،بلکہ کھچڑی پکے گی ،،جوتیوں میں دال بٹے گی ،،فایدہ زرداری کو ہو گا ،،ملک میں انارکی ہو گی ،،افراتفری  اور فرسٹریشن میں اضافہ ہو گا ،،دہشت گردی کی آگ میں اضافہ ہو گا ،،اور مشرف کی لگائی ہوئی آگ میں مزید جلیں گے ،،،،اور پھر جو آگ اور خون کی ندیوں سے انقلاب نکلے گا اخیر کار ،،،،کیونکہ سبز انقلاب آ سکتا تھا ،،،اگر زرداری اور کیانی وقت کی آواز کو سن لیتے اور اس جنگ سے باہر نکل جاتے ،،یا نواز شریف ،،عمران خان ، اور جماعت اسلامی میں اتحاد ہو جاتا ،،مگر افسوس ہم جیسے لوگوں کی یہاں کون سنتا ہے ،،،قوم کے رہبر کو ایک پیغام اپنی بارہ عدد کتابوں میں پہلے ہی دے چکا ہوں ،،٢٠٠٧ سے دہرا ہوں ،،پھر دہرا دیتا ہوں ،،،،،
،،،،،،،،،،تو ناحق خون بھا رہا ہے ہمارا ،،،،یہ جنگ ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،،یہ  دہشت گرد  ہے  تمھارا ،،،،،،،یہ  جنگ  ہماری نہیں ہے
،،،،،،،،یہ  سازش   ہے   تمہاری ،،،،،،،،یہ  جنگ  ہماری نہیں  ہے
،،،،،،،،یہ  امتحان  ہے   ہمارا ،،،،،،،،،،،یہ جنگ  ہماری نہیں  ہے
،،،انقلاب ہی واحد حل ہے میرے ملک کا ،،،،،،،،خدا حافظ ،،،،
،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،،،٣٣٧،،،،،٣٣٣٩،،،،،،،،،،،،٠٨،،٠٥،،١٣،،،

Monday, April 15, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب  نا  گزیر  ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،کل مورخہ چودہ اپریل کو عرض کیا تھا ،کس اس ملک میں جتنے مرضی الیکشن کروا لو ،،ملک کی اور غریب کی حالت نہیں بدلے گی ،،جب تک آپ اس فرسودہ گلے سڑے بےغیرت نظام کو تبدیل نہیں کرتے ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کو کون  بدلے گا ،،،اس کے پوری دنیا میں دو ہی طریقے ہیں ،،ایک اماندار ،،بے لوث،نڈر ،قیادت ، جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہو ،،،اور دوسرا طریقہ انقلاب کا ہے ، جو عوام کی طرف سے لایا جاتا ہے ، یا راتوں رات ایک موہب وطن آتا ہے ،،جو بے غیرتوں ،غداروں ،،چوروں ،،کرپٹ لوگوں کو لٹکاتا ہے ،،اور فیصلے کر کے ان پر امپلمنٹ کرواتا ہے ،،،جو کام ضیا، اور مشرف کر سکتے تھے ،مگر انھوں نے ملک سے غداری کی اور کرسی سے سمجھوتہ کیا اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتے رہے ،،اور بیوروکریسی کے ہاتھوں میں یر غمال بنتے رہے ،،،انقلاب کون نہیں چاہتا،،صرف جاگیر دار ،،وڈیرے ،،چودھری لٹیرے ،،کن ٹوٹے بدمعاش ،،بیوروکریسی ،،اور کرپٹ ،بےغیرت ،غدار ،حکمران ،،،،،یہ سب چاہتے ہیں کہ نظام تبدیل نہ ہو ،،اس لئے انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،،،اور انقلاب کو روکنے کے لئے ان طاقتوں نے شریف برادران اور عمران خان اور جماعت اسلامی کو آپس میں الجھایا ہوا ہے ،،تاکہ نہ ہو بانس اور نہ  بجے بانسری ،،اسی لئے ان طاقتوں نے بڑی منصوبہ بندی سے ان پارٹیوں کے اندر ان لوگوں کو داخل کیا ہوا ہے ،،جو پارٹی قیادت کو غلط مشورے بھی دیتے ہیں اور ورکروں کی بھی حق تلفی کرواتے ہیں ،،،اور عوام کو تقسیم کر کے اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں ،،وہ مقصد کیا ہے کہ نہ ایماندار قیادت کے پاس  اکثریت ہو گی اور نہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہو گی ، نہ نظام بدلے گا نہ ملک کی تقدیر ،،،اسی لئے کہتا بلکہ بکواس کرتا ہوں ،،کہ انقلاب ناگزیر ہے ،،،کیونکہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ،،اس لئے اپنا خون جلاتا رہتا ہوں ،،انشا اللہ ،اس ملک میں انقلاب آے گا ،،نظام بدلے گا ،،،تب یہ بےغیرت پرانے  چہرے نہ الیکشن لڑیں گے نہ الیکشن لڑنے کے قابل رہیں گے ،،تب جا کر فیصلے سہی ہوں گے جب ایماندار لوگ اقتدار میں ہوں گے ،،الیکشن کے بعد دیکھ لینا جب جوتوں میں دال بانٹی جاۓ گی ،،،اس منظر کے  بعد انقلاب آے گا ،،انشا الله ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب  نا  گزیر  ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،کل مورخہ چودہ اپریل کو عرض کیا تھا ،کس اس ملک میں جتنے مرضی الیکشن کروا لو ،،ملک کی اور غریب کی حالت نہیں بدلے گی ،،جب تک آپ اس فرسودہ گلے سڑے بےغیرت نظام کو تبدیل نہیں کرتے ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کو کون  بدلے گا ،،،اس کے پوری دنیا میں دو ہی طریقے ہیں ،،ایک اماندار ،،بے لوث،نڈر ،قیادت ، جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہو ،،،اور دوسرا طریقہ انقلاب کا ہے ، جو عوام کی طرف سے لایا جاتا ہے ، یا راتوں رات ایک موہب وطن آتا ہے ،،جو بے غیرتوں ،غداروں ،،چوروں ،،کرپٹ لوگوں کو لٹکاتا ہے ،،اور فیصلے کر کے ان پر امپلمنٹ کرواتا ہے ،،،جو کام ضیا، اور مشرف کر سکتے تھے ،مگر انھوں نے ملک سے غداری کی اور کرسی سے سمجھوتہ کیا اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتے رہے ،،اور بیوروکریسی کے ہاتھوں میں یر غمال بنتے رہے ،،،انقلاب کون نہیں چاہتا،،صرف جاگیر دار ،،وڈیرے ،،چودھری لٹیرے ،،کن ٹوٹے بدمعاش ،،بیوروکریسی ،،اور کرپٹ ،بےغیرت ،غدار ،حکمران ،،،،،یہ سب چاہتے ہیں کہ نظام تبدیل نہ ہو ،،اس لئے انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،،،اور انقلاب کو روکنے کے لئے ان طاقتوں نے شریف برادران اور عمران خان اور جماعت اسلامی کو آپس میں الجھایا ہوا ہے ،،تاکہ نہ ہو بانس اور نہ  بجے بانسری ،،اسی لئے ان طاقتوں نے بڑی منصوبہ بندی سے ان پارٹیوں کے اندر ان لوگوں کو داخل کیا ہوا ہے ،،جو پارٹی قیادت کو غلط مشورے بھی دیتے ہیں اور ورکروں کی بھی حق تلفی کرواتے ہیں ،،،اور عوام کو تقسیم کر کے اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں ،،وہ مقصد کیا ہے کہ نہ ایماندار قیادت کے پاس  اکثریت ہو گی اور نہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہو گی ، نہ نظام بدلے گا نہ ملک کی تقدیر ،،،اسی لئے کہتا بلکہ بکواس کرتا ہوں ،،کہ انقلاب ناگزیر ہے ،،،کیونکہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ،،اس لئے اپنا خون جلاتا رہتا ہوں ،،انشا اللہ ،اس ملک میں انقلاب آے گا ،،نظام بدلے گا ،،،تب یہ بےغیرت پرانے  چہرے نہ الیکشن لڑیں گے نہ الیکشن لڑنے کے قابل رہیں گے ،،تب جا کر فیصلے سہی ہوں گے جب ایماندار لوگ اقتدار میں ہوں گے ،،الیکشن کے بعد دیکھ لینا جب جوتوں میں دال بانٹی جاۓ گی ،،،اس منظر کے  بعد انقلاب آے گا ،،انشا الله ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

Monday, April 1, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،نظام کی تبدیلی ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،نظام کی تبدیلی کے بغیر ہم قوم نہیں ایک ہجوم ہیں ،،جس ہجوم کو حیوانوں کا ریوڑھ سمجھ کر چند بےغیرت ، غدار ،،کرپٹ ،جاگیردار ،،وڈیرے ، اور بیوروکریسی کے فرعون، پھچلے کئی سالوں سے ہانک رہے ہیں ،،یہ بےغیرت ، کتے ،چور ،لٹیرے،اس کو نظام کہتے ہیں ،،جس میں نہ روٹی ،کپڑا ،مکان ،،نہ ،بجلی ،پانی ، گیس اور نہ روزگار ، نہ انصاف ،،یہ نظام فرھنگی  چند خاندانوں کو تو توھفظ دیتا ہے ،،مگر غریب کے لئے صرف دھکے ہی دھکے ہیں ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کب بدلے گا ،،کب جاگیریں واپس لی جایں گی ،،کب قرضے واپس لئے جایں گے ،،کب پلاٹ دینے کا سلسلہ بند ہو گا ،،،یہ نظام ہے کہ جمشید دستی جب تک پارٹی میں رہتا ہے ،،تو کوئی کیس نہیں بنتا ،،چھوڑتا ہے تو جعلی ڈگری یاد آ جاتی ہے ،،یہ نظام ہے کہ حنا ربانی کھر اپنی فیکٹری کے کروڑوں واجبات ادا نہ کرے تو کوئی کچھ نہیں کہتا ،،،یہ نظام ہے کہ ہر کوئی غیر ملکی دوروں پر کروڑوں خرچ کرے ،،بنگلوں کو رنگ روغن سرکاری خرچ پر ،،بچے سرکاری خرچ پر ،،سکول اور شاپنگ کے لئے مفت پیٹرول ،مفت ٹرانسپورٹ ،،مفت علاج ،،،،،مفت بجلی ، گیس ،ٹیلی فون ،،،،اب تو ماشااللہ بیوروکریٹ ،جرنیلوں ،سیاستدانوں ، کے بچے لندن ،امریکا ، دوبئی، میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ،،یہ نظام ہے کہ وزیر تعلیم کی بھی جعلی ڈگری ہوتی ہے ،،،جج کچہری میں آنے سے پہلے ہی رات کو بک چکے ہوتے ہیں ،،کچہری میں لوگ وکیل اس کو کرتے ہیں ، جس کےتعلقات جج کے ساتھ ہوں ،،اب تعلیم اور قانون کی کتابوں پر کیس نہیں جیتے جاتے بلکہ رشوت اور سفارش سے فیصلے ہوتے ہیں ،،یہ نظام ہے کہ گاؤں کا ایک بدمعاش سارے گاؤں کو یرغمال بنا کر رکھتا ہے ،،ہر کوئی اس سے ڈرتا ہے ،،ووٹ بھی ووہی لیتا ہے ،،کسی کی کیا مجال کہ کن ٹوٹے بدمعاش کے خلاف جاۓ،،،یہ نظام ہے کہ جس نے معاشرے کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ،،ڈگری رکھنے  والے بھی روٹی کے لئے چور ،ڈاکو ،،بناۓ جا چکے ہیں ،،یہ نظام کی خرابی اور حکمرانوں کی بد مستی کہ فرسٹریشن اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے ،،یہ نظام ہے کہ حسین حقانی ،ریمنڈ ڈیوس،کو واپس بھیج دیا جاتا ہے ،،یہ نظام ہے کہ بڑے بڑے چوروں اور غداروں کو وزیر اعظم ہاؤس میں رکھا جاتا ہے ،،یہ نظام ہے کہ جس جج کو ،،تفتیشی  افسر کو ،،تھانیدار کو جب چاہو اپنی مرضی سے تبدیل کر دو اور اپنی مرضی کے فیصلے کروا لو ،،یہ نظام ہے جب چاہو جس کو چاہو وزیر ، مشیر بنا لو ،اپنا پیسہ بناؤ ،،،قوم کا پیسہ ، لیپ ٹاپ اور بینظیر سکیم میں برباد کر دو ، مگر بجلی کا پلانٹ نہ لگواؤ ،،،،یہ نظام ہے کہ چوروں ،منافقوں کو اپنی کرسی کے لئے ہڈی ڈال کر اپنا مفاد حاصل کرو ،،مگر کالا باغ ڈیم پر بات مت کرو ،،یہ نظام ہے کہ اپنے مفاد کی خاطر ڈرون حملے ملک میں کرواتے رہو اور جنگ ہماری کہ کر ڈالر بناتے رہو ،،یہ نظام ہے کہ عاصمہ جہانگیر جیسے غداروں کی بات سنی جاۓ اور عام آدمی کی بات کی پرواہ نہ کی جاۓ ،،،یہ نظام ہے کہ ملک ریاض جیسے لوگوں کی جیب میں جرنیل ،جج اور بیوروکریٹ بھی ہوں پرویز مشرف  اور میاں شہباز شریف اور زرداری صاحب بھی ہوں ،،یہ نظام ہے کہ نگران کابینہ بھی سیاسی لوگ اپنے آدمی بھیج کر مکمل کریں ،،،،واہ کیا بات ہے کہ چوروں کو ملک کے خزانے کا رکھوالا بنا دیا گیا ہے ،،یہ ہے ہمارا نظام جس نے ایک دن تبدیل ہونا ہے ،،اور وہ تبدیلی اب نزدیک ہے ،،چند کو پھانسی پر لٹکایا جاۓ گا ،،باقی خود ہی سیدھے ہو جایں گے ،،سوال یہ ہے کہ یہ کون کرے گا ،،،تو یہ سارا کام  کرپٹ حکمران کرنے جا رہا ہے ،،جمہوریت ،جمہوریت اور الیکشن کا راگ الاپنے والوں کی آنکھوں سے پردہ اٹھنے والا ہے اور اقتدار سے چمٹے رہنے والوں کا منصوبہ اور کافی راز فاش ہونے والے ہیں ،،جب یہ سب دُندہ عمران خان ،جماعت اسلامی ،شیخ رشید ،اور جنرل حمید جیسے لوگوں کی آنکھوں سے صاف ہو جاۓ گی ،،تو پھر اسلامآباد کی طرف مارچ بھی ہو گا اور تحریر چوک بھی بنے گا اور پھر اس وقت کچھ لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو گا اور وہ اماندار لوگوں کو دو سال کے لئے اقتدار دیں گے ،،تاکہ نیا نظام تشکیل دیا جاۓ اور جاگیروں ،وڈیروں اور فرھنگی کے بیوروکریٹ اور پلاٹوں کا کاروبار بند کیا جاۓ  گا اور پھر آرٹکل ٦٢ اور ٦٣ اور احتساب کی شقوں پر عمل بھی ہو گا ،،جس کے اوپر صدر زرداری صاحب بھی پورے نہیں اترتے ،،،اور سب غداروں کو پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ گا مشرف کے ساتھ ،،،،،،،،،،تب فیصلہ کرنے والے آئیں گے کہ اس جنگ میں کس حکومت نے کیا کیا کیا گل کھلاۓ اور یہ جنگ کس کی ہے ،،جس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہم دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں ،،حتہ کہ جس سانپ کو ہم چلوں سے دودھ پلاتے رہے ،،آج ووہی ہمارا  دشمن بن چکا ہے اور انڈیا کی مدد کر رہا ہے ،،تاکہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہر روز لاشوں کے اٹھانے کا کاروبار جاری رہے اور وہ کشمیر ،،پانی ،،اور کارگل کی طرف نہ سوچے ،،پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے ،،اگر نظام تبدیل کرنے کے لئے جنرل اشفاق کیانی نے کوئی کردار ادا نہ کیا تو ،،،،،،میں یہ نہیں کہتا کہ کیانی صاحب حکومت سبھال لیں اور چوروں ،کتوں ،بے غیرتوں کو مشرف کی طرح ساتھ ملا لیں ،،،ورنہ انقلاب سب کو بھا کر لے جاۓ گا ،،اس کا انجام برا ہو یا اچھا نکلے ،،یہ بھی حکمرانوں کی سوچ کا منہ بولتا سبوت ہو گا ،،،،،آئندہ کوئی بھی کسی طرح کی حکومت بنے ،اگر اس میں پرانے چہرے ہوتے ہیں ،،تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ،،ہمیں تباہ ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی ،،سواۓ اللہ  کے ،،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،،٣٣٧ ،،٣٣٣٩ ،،،،،،،،،،،،،،،،،یکم اپریل ،،،،،،،،،،،،،،،،