Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, January 19, 2014

........................نواز شریف کا قوم سے خطاب .......................
..............ظاہر ہے اگر میں وزیر اعظم کی حثیت سے تقریر کرتا ..تو میں تو تقریر سے پہلے سب چوروں .لٹیروں .غداروں .کو پکڑنے کا اور پھانسی پر تقریر کے دوران لٹکا کر عوام کو دکھا دیتا ..مگر چونکہ جمہوریت کو بھی اور عدالتوں کا بھی احترام نواز شریف نے کرنا ہے .تو کچھ یوں ہو گا ..میرے عزیز ہموطنوں تم مجھ کو زرداری صاحب کو چور لٹیرے سمجھتے ہو اور مجھے بزدل بھی کہتے ہو ..دہشت گردوں کا ساتھی کہتے ہو .تم مجھے ٦ مہینے کی حکومت میں کرپٹ کہتے ہو .خاندانی حکومت کہتے ہو .قوم نے مجھ سے نظام کی تبدیلی کی توقعات کی تھیں ...تو سنو کہ یقینن مجھ سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی ..میں فرشتہ نہیں ہوں ..میں ماضی کی غلطیوں کی قوم سے معافی چاہتا ہوں ..میں اقتدار کے لالچ میں آخرت کو بھول گیا تھا اور فوج سے ڈر رہا تھا ..کہ پھر کہیں مارشل لا نہ آ جاۓ..مگر اب میں نے بولڈ فیصلے کرنے کا تہیہ کر لیا ہے ..جان جاتی ہے تو جاۓ..اگر میری قوم اور میرا خدا یہی چاھتا ہے .تو ایسے ہی سہی ...١..میں عمران خان کو آزاد وزیر خارجہ بنانے کا علان کرتا ہوں ..٢....جنرل حمید گل کو وزیر دفاع ..٣..لال ٹوپی والے زاہد حامد کو نیپ کا چیئرمین مقرر کرتا ہوں ..٤..شیخ رشید کو وزیر بجلی .اور تمام اسلامی جماعتوں کے لیڈروں سے کہتا ہوں کہ سود سے پاک نظام کی تشکیل نو کریں ..٥..کالا باغ ڈیم بنانے کا علان کرتا ہوں ..٦.کراچی اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا علان کرتا ہوں .چاہے سیاسی لیڈروں کی چیخیں نکل جایں..تمام نو گو ایریا کراچی میں ایک دن میں ختم ..٧..تمام جیلوں کے قیدیوں کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر ختم ..٨.جو  جج اپنے تمام کیس ایک ہفتے میں ختم نہیں کر سکتے . وہ گھر جا سکتے ہیں ...٩..پھانسی کا قانون بھال کرتا ہوں ..١٠..٦٥ سالوں کا احتساب کیا جاۓ..تمام لئے ہووے . معاف کرواۓ ہووے قرضے واپس کریں یا پھانسی پر چڑنے کے لئے تیار ہو جایں...١١.کوئی ملک سے باہر نہیں جا سکتا . جب تک حکومت کا لوٹا ہوا مال واپس نہ کر دے ...١٢..سب سے پہلے میرے ذمہ جو رقم ہے میں واپس کرنے کے لئے تیار ہوں ..١٣...اقتدار فوری طور پر محلے کی ہر مسجد کے سپرد کرتا ہوں .١٤..ہر یونین کونسل میں ایک قاضی مقرر کرتا ہوں ..سارے فیصلے بلدیاتی سطح پر ہوں گے ..١٥....سارے ملک میں ایک ہی نظام تعلیم ہو گا ..١٦..سٹیڈیم اور دوسرا تمام ٹیلنٹ بلدیاتی سطح سے اوپر آے گا ..١٧..کشکول توڑنے کا . نیٹو سپلائی بند کرنے کا اور ڈرون گرانے کا علان کرتا ہوں ..١٩..ہم نے انڈیا کے ساتھ اخلاقی نرم رویہ رکھا ..جس کو ہماری بزدلی کمزوری سمجھا گیا ..مگر اب اگر انڈیا نے ہمارے ہاں دہشت گردی کی تو اس کا  جواب دیا جاۓ  گا ...٢٠.اگر انڈیا باز نہ آیا تو تمام تعلقات ختم کر دے جایں گے ..٢٠..پاکستان اپنی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے اس لئے تمام ملکوں کو درخوست کی جاتی ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے پرہیز کیا جاۓ...ہم اپنی بقا کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں اس لئے تمام کابینہ ختم اور قومی حکومت کا علان کرتا ہوں ..نظام کی تبدیلی اور احتساب تک ....آؤ ملکر نیا پاکستان بنانے کے لئے میرے ساتھ چند مہینے دو ...٢٣..سرحدوں اور ایٹم بمب کی حفاظت کے لئے فوج کو تیار رہنے کا حکم اور ملک میں ایمرجنسی کا علان کرتا ہوں...٢٥......٢٠  عدد... مزید صوبے بنانے کا علان کرتا ہوں جو نظام کی تبدیلی والے یہ بھی علان کریں گے ...٢٦..تمام محب وطن کو اپنے مشورے دینے کے لئے درخوست کرتا ہوں ..٢٧...فرھنگی کے دئے ہووے بیوروکریسی کے نظام کے خاتمے کا علان کرتا ہوں ...٢٩...آج کے بعد صرف سینئر کو ہیڈ بنایا جاۓ گا ..٣٠..گورنر اور صدر کا انتخاب عوام کریں گے .......باقی کل ....جاری ہے .................
.............جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩....

Saturday, January 18, 2014

.........................
جمہوریت خلافت کی طرف گامزن ....................

..........

ملک میں سب اچھا ہے ..حکمران حلوہ کھا رہے ہیں .امن کی بانسری بجا رہے ہیں .کھاتے جاؤ اور لوٹتے جاؤ ..اور جمہوریت جمہوریت کی تسبیح کرتے جاؤ ..عوام کو مہنگائی کی گولی دیتے جاؤ ..پشاور میں پولیو سے آنے والی نسل برباد ہو رہی ہے .عالمی سازش زوروں پر ہے ..کبھی شیعہ.کبھی سنی .کبھی تبلیغی اجتمع.کبھی چرچ .کبھی مارکیٹوں پر بم دھماکے .پنجاب میں چوروں . ڈاکووں کا راج .بلوچستان میں خون کی ہولی اور کراچی میں ہر طرح کا منفرد کھیل ہر روز ہوتا ہے ..مگر اس کے باوجود حکمران اپنی کرپشن میں مصروف ہے اور جمہوریت کے گن گاتا جا رہا ہے ..لوگ مر رہے ہیں حکمران اقتدار میں خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے ..قادری صاحب کا انقلاب کینیڈا سے ابھی باہر نہیں نکلا ..شاید قادری صاحب کو موت کے وقت کا علم ہے ..عمران خان ایک صوبے کی حکومت لے کر پھنس چکے ہیں ..اور جنہوں نے عمران خان سے الیکشن کے نتایج تسلیم کرواۓ تھے ..وہ خوش ہیں ..اب عمران خان اونگھوٹھوں کی تصدیق کرواتے کرواتے پانچ سال گزر جایں گے ..تب تک لوگ عمران خان سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور سٹیج سجانے والے کوئی نیا سٹیج سجا چکے ہوں گے ..اسی طرح انقلاب اور نظام کی تبدیلی پھر ایک خواب بن کر رہ جاۓ گی ..عمران خان صاحب اس خلافت والی جمہوریت کا راستہ روک سکتے ہیں اور اپنی زندگی کے آخری ایام کو ہیرو بنا کر پیش کر سکتے ہیں ..اگر وہ کفن باندھ کر انقلاب کے لئے تیار ہو جایں...ورنہ وہ بھی زرداری . شریف خاندان کی طرح زیرو ہونے والے ہیں ..عمران خان کے پاس نکلنے کے لئے تمام جواز موجود ہیں ..انگھوٹھے ..جعلی الیکشن ..ڈرون..نیٹو سپلائی ..مذاکرات .مہنگائی.بیروزگاری .بد امنی .وغیرہ وغیرہ ...اور بھوت سے جمہوریت کے قانونی نکات موجود ہیں ...پھر کیا وجہ ہے ..کہ عمران خان جیسا دلیر .نڈر .بیباک اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے ...کہیں دال میں کوئی کالا تو نہیں . غیر ملک طاقتوں نے عمران خان کو بھی گولی تو نہیں کھلا دی ہے ..یا پارٹی میں شامل چند کالی ب بھیڑوں کے جھانسے میں پھر تو نہیں چلا گیا ..انقلاب کے بغیر نظام تبدیل نہیں ہو گا اور نظام کی تبدیلی کے بغیر ملک نہیں چلے گا .........javed iqbal cheema .milaan ................٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩...

Tuesday, January 14, 2014

.................................................
انقلاب اور جشن عید میلاد ............................................

................

دوسری قسط ...............ہاں تو لکھ رہا تھا ....کہ افراتفری ہے ..بدامنی ہے ..قتل و غارت گری ..ڈاکے .. زنا .ریپ ..چوریاں ..ٹارگٹ کلنگ ..بھتہ خوری ..مہنگائی..بیروزگاری ..لا قانونیت بھی ہے ...اور بڑے بڑے جلوس ..ریلیاں ..جشن ..افراتفری ..ملاوٹ ..ذخیرہ اندوزی ..حتہ کہ ہر بیماری ہمارے معاشرے میں ہے اور اسلام بھی ہے ..مگر پھر بھی انقلاب نہیں آ رہا ...شاید مسلمان کم ہیں اور فرقے زیادہ ہیں ...مگر کہتا ہر فرقے اور پارٹی کا سربراہ یہی ہے ..کہ ہم انقلاب لایں گے ..نظام تبدیل کریں گے ..مگر ہوتا کچھ نہیں ....سواۓ بری خبروں کے .........وجہ کیا ہے ...میری نظر میں صرف عمل کی کمی ہے اور خود نمائی اور خود غرضی حاوی ہے ...نام اسلام کا ..مسلمان ہونے کا دعوا.........اور کام اپنی دیڑھ انچ کی مسجد کا مینار اونچا کرنے کے اور کچھ نہیں .....کبھی کبھی تو ہمارے کرتوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہم مسلمان کہلانے کے بھی حق دار نہیں ہیں .....طالبان کی کہانی ہمارے سامنے ہے ....اول تو وہ خود بھی سب ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہیں ...یکجا نہیں ہیں ....ایک قوت نہیں ہیں ...ایک منزل نہیں ..ایک مشن نہیں ....ان کو خود نہیں پتہ سواۓ چند ایک کے ..کہ ان کو کون استمال کر رہا ہے ..ہم کو تنخواہ اور اسلہ کون دے رہا ہے .....اتنا بڑا نیٹ ورک کیسے چل رہا ہے ....اگر یہ لوگ ملک میں نظام کی تبدیلی چاہتے ..تو کب کا نظام تبدیل ہو چکا ہوتا ...مذاکرات کرتے ..حکمران سے اپنی بات منواتے اور ملک میں امن کی کوشش کرتے اور ملک ترقی کرتا ..خوشحال ہوتا ..روزگار ہوتا ..اقتدار میں اپنا حصہ ڈالتے ....مگر یہاں تو کاروباری دکانیں کھلی ہیں ..عالمی اجنڈے کو تقویت دی جا رہی ہے ....دوسرے مزھبھی جماعتوں کے سیاسی لیڈر یہ سمجھتے ہیں ..کہ ہم نے انقلاب کے نام پر جلسہ کر لیا ..جلوس نکال لیا ..اور تقریر کر لی ..بس اب گھر کو چلتے ہیں ..صبح انقلاب آ جاۓ گا ...جس طرح حکمران آزادی کے نام پر تقریر کر کے اگلے سال کے انتظار تک سو جاتا ہے ...اسی لئے آج تک انقلاب نہیں آیا اور نہ نظام تبدیل ہوا ہے .....کیونکہ قادری صاحب سنجھتے ہیں کہ اگر وہ انقلاب کے لئے نکلے اور کوئی گملہ ٹوٹ گیا .............تو ان کا نوبل انعام چلا جاۓ گا ....یہاں بھی خود غرضی نظر آتی ہے .....عمران خان سمجھتا ہے ..کہ وہ اس جمہوریت سے ملک میں تبدیلی لاۓ گا ..یہ اس کی بھول ہے .....زرداری اور نواز شریف کو اور دوسرے جاگیردار ..سرمایا دار کو نظام کی تبدیلی سے غرض نہیں ہے ....اس لئے وہ مافیا کے سجے سجاۓ سٹیج پر آتے ہیں ...تقریریں کرتے ہیں ..عوام کو بیوقوف بناتے ہیں اور انقلاب لانے .روٹی . کپڑا .مکان دینے کی خوشخبری دے کر چلے جاتے ہیں ..اور ہم غریب سمجھتے ہیں ..یہ نجات دہندہ ہے ..کل ہماری تقدیر بدل جاۓ گی ........مگر افسوس یہ بڑے بڑے جلوس ..جلسے ..جشن ..سیمینار نہ ہماری تقدیر بدل سکے نہ نظام اور نہ انقلاب ہی آ سکا اور بد قسمتی سے سے نہ یہ جشن ہم کو مسلمان ہی بنا سکے ...لگتا ہے اینکروں کی اور سیاستدانوں کی اور مزھبھی لیڈروں کی تقریروں والی کاروباری اور نمایشی دکان اسی طرح چلتی رہے گی اور ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہو گا ..جو راتوں رات آے گا ......اور انقلابی اقدامات سے ہی نظام تبدیل کر کے رکھ دے گا ....پاکستانی لیڈر دیکھتے رہ جایں گے ........پھر جو جلوس اور جشن نکلے گا .......وہ مسلمانوں کا جشن دیکھنے کے لایق ہو گا ..........وہ سورج نکلنے والا ہے ...انشااللہ .................

......................

جاوید اقبال چیمہ ..میلان......اطالیہ......٠٠٣٩....٣٢٠....٣٣٧.....٣٣٣٩....
...............................................
انقلاب اور جشن عید میلاد .............................

.................

ذرا تھوڑی کے لئے غور کریں اور سوچئے ..کہ ان جلوسوں ..واشگاف نعروں ..سڑکوں پر پڑتے ہووے درود پاک ..مسلمانوں کا ولوۂ انگیز رویہ ..جزبہ شوق آپ کو کیا درس دیتا ہے اور کیا پیغام دیتا ہے ...پیارے محبوب کی ولادت پر نکلنے والا جشن آپ کو کن زاویوں پر سوچنے کا موقعہ دیتا ہے ....کروڑوں تجزیے ہو سکتے ہیں اور کروڑوں کتابیں لکھی جا سکتی ہیں .....میری اپنی ناقص کم علمی کچھ اس طرح ہے .....١.....پاکستانی قوم کو اس طرز پر دیکھ کر لگتا ہے ..کہ پاکستان میں کوئی مسایل نہیں ہیں ..٢...اگر یہ جزبہ ٢٤ گھنٹے کے لئے سنت رسول پر گزارنے کی استقامت دے دے ..تو یقینن ہم دنیا میں سرخرو بھی ہو سکتے ہیں اور دنیا پر چھا بھی سکتے ہیں اور اپنا لوہا بھی منوا سکتے ہیں ..٣....مگر کیا ہم نے صرف جزبہ ظاہر کیا یا ٢٤ گھنٹے پیارے محبوب کی سنت پر عمل بھی کیا ..٤...کیا ہم اس کو فیشن سمجھ کر منا رہے ہیں یا اک دن موج میلا اور سہی ..یا اپنی اپنی دوکان چمکانے کا اک اور موقعہ ....٥.....بھوت سارے سوالات یہ جشن اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے ..٦...حکمران یہ جشن اور جلوس دیکھ کر بھوت خوش ہوتا ہے ..وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کی خلافت میں رعایا بھوت خوش ہے ....٧...بینر ..ٹوپیاں ..رنگ برنگے جھنڈے اور کپڑے دیکھ کر لگتا ہے ..کہ مہنگائی..بیروزگاری ..گیس ..بجلی .پانی اور پٹرول ..وغیرہ کا کوئی مسلہ اس ملک میں سرے سے ہے ہی نہیں .٨.........ٹھاٹھیں مارتا ہوا عوام کے ہجوم کا سمندر دیکھ کر چند سوالات پھر پیچھا کرتے ہیں ..کہ ملک میں انقلاب کیوں نہیں آیا ..اسلامی نظام کیوں نہیں آیا ..٩...صاف ظاہر ہے ...لوگ نکلنے کو تیار ہیں ..اسلامی نظام لانے کے لئے بیتاب ہیں ..مگر کوئی لیڈ کرنے والا نہیں ہے ...لیڈر کی کمی محسوس ہو رہی ہے ..١٠...آج لوگ نکلے ہیں تو پیارے محبوب کے لئے نکلے ہیں ...١١...کیا وجہ ہے کہ مسلمان ووٹ دیتے وقت تقسیم ہو جاتا ہے اور غیر اسلامی قوتیں آگے آ جاتی ہیں ....١٢....ایمان کی کمی ہے ..یا مزبھی جماتیں تفرقہ بازی کا شکار ہیں ..یا ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے یا اپنی اپنی دکان چمکانے کا کاروبار ہو رہا ہے ..یا خود نمائی..خود غرضی کا پیش خیمہ ہے ....کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ..کوئی نہ کوئی خرابی تو مزبھی لیڈروں میں ہے ...١٣...اگر اتنے بڑے جلوس اسلامآباد پارلیمنٹ کی طرف اپنا رخ پیارے محبوب کی خاطر کر لیں تو نظام تبدیل ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے .....مگر جان ہتھیلی پر کون رکھے گا ...لیڈ کون کرے گا .........کربلا کا میدان کون سجانے کو تیار ہے .....١٤.....جلوس اور اتنے بڑے بڑے جشن کو دیکھ کر لگتا ہے ..کہ ہمارا پیارے محبوب کے ساتھ پیار سچا نہیں ہے ..اسی لئے ہم تباہ و برباد ہو رہے ہیں ............انقلاب پاکستان چند قدم کے فاصلے پر ہے ..اگر ہم اپنی اداؤں پر غور کر لیں ...........جاری ہے .......دوسری قسط..................جاوید اقبال چیمہ ..میلان..اطالیہ.....
.................................
قوم کے ساتھ مذاق .................................

.............

شریف برادران اور زرداری صاحب کی ملی بھگت سے قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے ....نظام کی تبدیلی کرنے والے بلدیاتی الیکشن کے خوف سے کانپ رہے ہیں .....یہ ہے بےغیرت حکمران اور جمہوریت میں منافقت کا کردار ......مشرف کا پنڈورا بکس کھول رکھا ہے ..حالانکہ سب کو علم ہے ..کہ بزدل حکمران مشرف کو پھانسی پر لٹکانے کی طاقت نہیں رکھتا ....پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے ....کئی پاکستان میں اور کئی باہر بیٹھ کر مشرف کی ہمدردی میں قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں ...حالانکہ قوم جانتی ہے ..کہ یہ لوگ صرف آنے والے کل کے مارشل لا میں حصہ ڈالنے کے لئے مشرف کی حمایت میں بیان بازی کر رہے ہیں ...ان بیوقوف سیستدانوں کو کون سمجاۓ..کہ اب کی بار آنے والے مارشل لا میں چوروں ..لٹیروں .غداروں .بغرتوں .جاگیرداروں .وڈیروں کو حلوہ کھانے کو نہیں ملے گا ......بلکہ احتساب ہو گا ..الٹے لٹکے جایں گے ...آج جو بیان بازی کر کے فوج کے آگے نمبر بنا رہے ہیں یہی لوگ چیخیں گے ...ان کی چیخیں بھوت دور دور تک سنی جایں گی .....فوج کو ایک طرف رہنے دو بغرتو .....مشرف کو فوج کے ساتھ مت نتھی کرو .....پاکستانی فوج ایک واحد ادارہ ملک کی حفاظت کا رہ گیا ہے اس کو متنازعہ مت بناؤ ....مشرف نے تو آج بھی باہر جانا ہے ..کل کو بھی جانا ہے ...حکمران میں اتنی سکت نہیں ہے کہ اس کو روک سکے ....ویسے مشرف بھی بزدل نکلا ہے ..بیماری کا ڈرامہ کر کے اپنی ساری عزت اور بہادری کا جنازہ نکال چکا ہے ...ٹاک شو والے بھی ڈالر لے کر مشرف کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں .....عمران خان ..جماعت اسلامی ..قادری صاحب ..دفاہ پاکستان .شیخ رشید ..جیسے لوگ بھی اگر انقلاب کے لئے ..نظام تبدیل کرنے کے لئے قوم کے ساتھ مذاق کرتے رہے اور سڑکوں پر کفن باندھ کر نہ نکلے ..تو قوم ان کو بھی معاف نہیں کرے گی ...تاریخ ..دنیا ..قبر ..آخرت ..کوئی چیز بھی ان کو معاف نہیں کرے گی .........قادری صاحب کو اور دوسرے سب سے یہی سوال کرتا ہوں ..کہ کیا تم سب کو اپنی اپنی موت کے وقت کا علم ہے ..اگر موت کا تم کو نہیں پتا ...تو انقلاب کے لئے نکلنے کے لئے کونسا وقت کا انتظار ہے .....اگر نکلنا ہے تو کفن باندھ کر نکلو ..ورنہ ٹاک شو اور اینکروں کی طرح قوم کے ساتھ مذاق مت کرو .....اسلام کے نظام کے علاوہ کوئی نظام بہتر نہیں ہے ..مسجد میں ہونے والے فیصلوں سے ہی ہماری تقدیر بدلے گی ...عاصمہ جہانگیر وکیل جیسی کش لگانے والی عورتوں کا دیا ہوا نظام یہاں نہیں چلے گا ...انسانی اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کے ساۓ تلے جو گھونونے کھیل کھیلے جا رہے ہیں ..وہ سب کے علم میں ہیں ......چند ایک چنیل ..چند انکر ..چند سیستدان ..چند بیوروکریٹ..چند ڈاکٹر اور مافیا اور چند غدار ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں ........اس لئے نظام تبدیل نہ کر کے قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے ....مگر یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے .....زیادہ دیر یہ بغیرتی والا نظام نہیں چل سکے گا .......میرا اپنے رب سے نا امیدی والا کوئی رشتہ نہیں ہے ....حکمران سے میں مکمل نا امید ہو چکا ہوں ....اب میں اپنے رب سے یہی التجا کرتا ہوں ..کہ تجھے اپنے پیارے محبوب کا واسطہ دیتا ہوں ..کہ یا میرے جیسے غریبوں کو ختم کر دے یا پاکستانی حکمرانوں کے لئے کوئی موسیٰ بھیج دے ........یا میرے ملک کو امریکا کے آگے ٹھیکے پر دے دے ........یا ہم سب کو ختم کر کے نئی پاکستانی قوم کو جنم دے دے ..جو کم از کم اپنا نظام تو تبدیل کر سکے ...اور اس ٦٥ سالوں کی بک بک سے تو چھٹکارا مل جاۓ.....ویسے میری اور آپ کی بک بک اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی ...جب تک یہ فرسودہ نظام تبدیل نہیں ہوتا اور ٦٥ سالوں والے چوروں کا احتساب نہیں ہوتا ..........................جب کفن باندھ کر نکلو گے ..تو مجھ کو اسی قافلے میں پاؤ گے ..انشااللہ .................قوم کے ساتھ مذاق اب ختم کر دو ...ورنہ تم سب کو خدا غرق کر دے گا .......

..............

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ...اطالیہ......٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩.....

Saturday, January 11, 2014

..........................................
انقلاب کیوں ضروری ہے ............................

.............

جمہوریت کا مزہ بھی لے لیا ..آمریت بھی ملک میں انقلاب نہ لا سکی ..بلکہ الٹا مزید چور ..لٹیرے ..ڈاکو ..صرف آمریت نے پیدا کئے.....طالبان بھی عالمی طاقتوں کے اجنڈے پر کام کر رہی ہیں ..انقلاب سے ان کو بھی کوئی دلچسپی نہ ہے ...پیسہ کماؤ ...نمبر بناؤ ہر طبقہ فکر کا شیوا ہے ...اپنی اپنی کاروباری دوکان چل رہی ہے ..اور بیوروکریسی مزے میں ہے وہ جمہوریت . آمریت اور غیر ملکی اجنڈے اور ہر طرح کے ماحول میں خوش ہے ...کیونکہ جو بھی نظام نہ بدلے گا ..بیوروکریسی اس کے ساتھ تو خوش ہو گی ....اسی لئے بیوروکریسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جمہوریت ہو یا آمریت ......ملک میں ہر طرف کرپشن اور نا انصافی کی کاروباری دوکانیں چل رہی ہیں ....انقلاب سے زیادہ خون ہر روز سڑکوں پر بہتا ہے ...مگر ان بغیرتوں کو شرم نہیں آتی جو انقلاب کا نام لینے والوں کو طعنہ خون بہانے کا دیتے ہیں .....مگر نظام تبدیل کرنے کی بات نہیں کرتے ....کیونکہ نظام بدل دیا جاۓ....تو عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیلنے والوں بغیرتوں. غداروں کی کاروباری دوکانیں بند ہو جایں گی ...٣٥ سالوں سے جاری افغان مہاجرین کی دوکان ..جنگ ہماری کہنے والوں کی دوکان ..بھتہ خوری کی دوکان اور بھوت سی کرپشن والی دوکانیں بند ہو جایں گی ......جو لوگ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور ملک میں امن نہیں دیکھنا چاہتے ..وہ کب چاہیں گے کہ عوام کو محلے کی ہر مسجد سے انصاف ملے...اقتدار کارپوریشن اور یونین کونسل کو منتقل کر دیا جاۓ ...تاکہ عوام کے جھوٹے جھوٹے مسایل کا حل ہر مسجد کو منتقل ہو جاۓ ..ہر کارپوریشن کے پاس اپنا قاضی اپنا پولیس کا نظام ہو ...اپنا اسٹیڈیم اپنا ٹیلنٹ اپنے علاقے سے بغیر کسی سفارش سے نمودار ہو .....کب یہ دہلیز پر ملنے والے انصاف کا نظام ہو گا ..کب سارے ملک میں ایک ہی تعلیم کا نظام ہو گا ...کب اپنی قومی زبان والا نظام ہو گا ...کیونکہ کوئی قوم اپنی زبان کے نظام کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی ....ہم ٦٥ سالوں سے فرھنگی کے نظام کے ساتھ پینگیں لے رہے ہیں ..کیونکہ یہ نظام ہماری بیوروکریسی کو سوٹ کرتا ہے ....ہر برائی کی جڑ یہ نظام ہے ..اس کو بدلنے کے لئے ایک انقلاب کی ہر حالت میں ضرورت ہے ..انقلاب ناگزیر ہے ..اسی لئے میں ہر وقت اپنے حکمران اور عقلمند عوام سے یہ بکواس کرتا ہوں ..کہ انقلاب کے بغیر اس جمہوریت سے یہ امید رکھنا بیوقوفی ہے ....نہ عمران خان کے فلسفہ جمہوریت سے ..نہ قادری صاحب کے فلسفہ امن مارچ سے اور نہ طالبان کے اجنڈے سے نظام تبدیل ہو گا ......نظام جب بھی تبدیل ہو گا ..عوامی یکجہتی اور اتحاد سے آے گا ..سب کو اپنی اپنی دیڑھ انچ کی مسجد ختم کرنا ہو گی ....انقلاب کے لئے کفن باندھ کر نکلنا ہو گا اور اس کا نتیجہ صرف مذاکراتی ٹیم کی شکل کا نہیں ہو گا ..بلکہ آئین کی نئی کتاب کی شکل میں ہو گا ......ورنہ دوسرا رستہ خدا خود کھول دے گا ......اور ایک دن اس بیچاری لاغر . مہنگائی.بیروزگاری . بدامنی کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام کو انصاف دینے کوئی راتوں رات آے گا ..جو نظام بھی تبدیل کر دے گا اور نظام کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کو پھانسی کے پھندے پر بھی لٹکا دے گا ..انشاءللہ...........ذرا غور کرو کہ جنرل ضیاء ..مشرف ..زرداری اور نواز شریف کو کونسی مجبوری تھی ..کہ وہ نظام کو تبدیل نہیں کر سکے....یہ مجھے بتانا ضروری نہیں ہے ..آپ خود عقلمند ہیں .......

............

جاوید اقبال چیمہ ..میلان..اطالیہ....٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩.....

Thursday, January 2, 2014

................
یہ بڑے لوگ جب قتدار میں ہوتے ہیں ..تو شیر ہوتے ہیں ..اور ان کو کوئی نہ بخار ہوتا ہے اور نہ یہ بیمار ہوتے ہیں ..اور نہ کوئی دل کی بیماری ہوتی ہے ...جونہی ان کو جیل کی سلاخیں نظر آتی ہیں ..ان کو دل کے دورے پڑنے شورع ہو جاتے ہیں ..چاہے نواز شریف ہو ..یا چودھری شجاعت ..یا زرداری .یا پرویز مشرف.....غور کرو جب ملک میں انقلاب آے گا ..نظم بدلے گا اور ان سب کا احتساب ہو گا ..تو پھر کیسا منظر ہو گا .....ان سب کے وکیل میڈیکل سرٹیفکٹ لینے کے لئے دوڑ لگایں گے ..اور بیماری کا شور مچایں گے ...میں چھوٹ بول رہا ہوں ..کیا یہ نہیں ہو چکا .....ذرا سب کا پچھلا ریکارڈ چیک کر لو .....اور جب کوئی مائی کا لال ان کو لٹکانے کی تیاری کرے گا ..تو ان میں سے کتنے ہوں گے ..جو بھٹو کی طرح موت کو قبول کریں گے ...دیکھتے جاؤ ....انقلاب نے اس ملک میں آنا ہے ..نظم نے تبدیل ہونا ہے ..انقلاب ناگزیر ہے ..چاہے کسی کو دل کا دورہ پڑے یا نہ پڑے.....اگر اس ملک نے رہنا ہے ..اگر ملک کی تقدیر بدلنی ہے .تو انقلاب نا گزیر ہے ..ورنہ ہر روز لاشیں اٹھانا ہمارا مقدار بن چکا ہے ..مہنگائی..اور بیروزگاری ...فرسٹریشن ...ڈاکے ...بھتہ خوری ..قتل و غارت گری ہی ہمارا مقدر ہے .....ٹاک شو ...مافیا اور سیاستدانوں کے بیانات اسی طرح چلتے گے ......اور ہم سب اپنی اپنی آخرت اور دنیا خراب کرتے رہیں گے مذمت ..مذمت ...کرتے کرتے ..........کیونکہ مذمت سے چنیل پر خبر تو آ سکتی ہے ..مگر میری تقدیر مذمت سے نہیں بدل سکتی ......اب دیکھنا ہے کہ عمران خان اور قادری صاحب کب مل کر انقلاب لاتے ہیں ...یا یہ دونوں بھی اپنی دنیا اور عاقبت اسی طرح برباد کرتے ہیں ....ویسے مجھے رب سے امید ہے ..کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی موسیٰ وقت کے فرعون کے لئے بھیج دے گا .......ورنہ اگر میں اپنے اعمال کو دکھوں ..تو اس سے بھی بد تر دن دیکھنے کو ملیں گے .....مگر وہ رب ہے وہ اپنے محبوب کی امت پر اتنا ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکے گا ..اور ضرور کوئی نہ کوئی حل نکالے گا .......انشاله ان چوروں ..لٹیروں سے نجات کا بندوبست کر دے گا .....انشاللہ.............................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩...