Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Wednesday, December 3, 2014

..........اقرار ال حسن ...تیرے کردار کو سلام .....
.......کبھی کبھی میں سوچتا ہوں .کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ابھی تک قایم ہے .کہ پاکستان میں اقرار ال حسن جیسے لوگ موجود ہیں .پھر میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ابھی تک خدا نے اقرار کو ان ظالموں سے محفوظ رکھا ہوا ہے .اور خدا سے مزید دعا کرتا ہوں .کہ اے اللہ ان جیسے لوگوں کی ہمیشہ حفاظت فرما .جو اپنی جان پر کھیل کر اس ملک کی خدمت کرتے ہیں. بلکہ اس میں اضافہ کرتا ہوں .کہ میڈیا پر زیادہ سے اسی طرح کے پروگرام چلیں تا کہ معاشرے اور اداروں  کی برائیوں کو حکمرانوں کے سامنے پیش کیا جا سکے .گو کہ حکمران کو کوئی دلچسپی ہو یا نہ ہو .کیونکہ میرے نزدیک یہ کام حکمران اور اداروں کا ہے .مگر کیا وجہ ہے کہ ہر ادارہ اپنی ذمہداری پوری نیک نیتی .ایمانداری سے ادا نہیں کر رہا .اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام ہمارا حکمران کرپٹ ہے اور نا اہل ہے . سیاسی ٹاک شو سے زیادہ عوام کو سچ سننا سچ دیکھنا زیادہ بہتر ہے .مگر دوسری طرف ہم اگر حکمران کی دلچسپی کا اندازہ کریں .تو حکمران کی دلچسپی یہ ہے .کہ اقرار پر اور ہر سچ لکھنے اور سچ بولنے والوں پر پابندی لگا دو .یا ان کو جیلوں میں بند کر دو .نابینا اور  عام انسانوں  پر تشدد کی انتہا کرو .کہ ایک تو وہ اپنا حق کیوں مانگتے ہیں اور دوسرے وہ. وی .آئی .پی .کے گزرنے کے آگے رکاوٹ کیوں بن رہے ہیں .اعجاز چودھری اور دوسرے ورکروں پر ظلم کرو کہ جو شریف برادران کے پالتو بننے کو تیار نہ ہوں .حکمرانوں کو تو ظلم کرنے کے علاوہ کوئی فرصت ہی نہیں .اور درباری ہیں کہ واہ واہ .کرتے تھکتے نہیں .میڈیا کے کچھ اینکر حضرات کو شریف برادران کے ظلم کیوں نظر نہیں آتے .زرداری گروپ کے خلاف تو کبھی یہ اینکر حضرات اور عدالتیں بڑا بولا کرتیں تھیں .اب سب شریف برادران کے موڈ کو دیکھ کر اپنا رنگ بدل لیتے ہیں .عدالتیں بھی اب ظلم پر کوئی سو موٹو نہیں لیتیں .لگتا ہے نظریہ ضرورت والا قانون ہر دور میں نمایاں ہوتا ہے .اگر شریف برادران کی کارکردگی دیکھنے کا شوق ہو درباریوں کو ..تو صرف یہی دیکھ لیں کہ اقرار ال حسن .مبشر لقمان اور دوسرے سچ لکھنے اور بولنے والوں کی کتنی کہانیوں نے جنم لیا اور حکمران بہادر .شہنشاہ وقت نے کتنا اور کیا ایکشن لیا ..اگر آپ کے اندر ضمیر اور غیرت نام کی کوئی چیز ہو .تو ایمانداری سے تجزیہ کر لو .کارکردگی سامنے آ جاۓ گی .اور پھر اندازہ لگا لینا کہ ہمارا حکمران کہاں کھڑا ہے اور ہم کہاں ..سوچ لینا کہ کیا ہمارا حکمران فرعون و شداد کو پیچھے چھوڑ چکا ہے یا نہیں .اگر پھر بھی آپ کی غیرت نہ جاگے اور آپ اس فقرے پر اصرار کرتے رہیں کہ شریف برادران کیوں مستعفی ہوں تو پھر چلو پانی لے کر ڈوب مرو .اگر پھر بھی شرم نہ آے..تو سمجھ لو کہ تم مردہ ضمیر کے ساتھ مرنا چاہتے ہو .یہی ہماری بے ضمیری بے غیرتی کی انتہا ہے .کہ اتنے ظلم دیکھ کر بھی ہم کہتے ہیں کہ ملک میں کوئی نظام .آئین و قانون اور جمہوریت ہے .آخر میں اقرار ال حسن تجھے اور. اے .آر .وائی کو  سلام پیش کرتا ہوں .اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے.....جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, December 2, 2014

............. پختون خواہ کی حکومت ختم سمجھو .....
......لگتا ہے شریف برادران کی ہٹ دھرمی .گردن میں سریا اور اقتدار کی حوس اور مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی عمران خان کو بلآخر آخری قدم اٹھانا پڑے گا .اور کے .پی .کے..کی حکومت ختم کرنا پڑے گی .مگر یہ انتہائی قدم ابھی تک عمران خان جمہوریت کی خاطر نہیں اٹھا رہے .جبکہ احتجاج کو بھی پر امن  رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں .حالانکہ میرے جیسے  لوگ سمجھتے ہیں .کہ پاکستان کا حکمران اتنا مہذب نہیں ہے .کہ اس کو مہذب احتجاج راس آے.بلکہ پاکستان کا حکمران تو کوئی چھوٹی سی چھوٹی بات بھی نہیں مانتا .جب تک جلاؤ گھیراؤ نہ ہو .پاکستان میں انصاف حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہے .یا خریدنا پڑتا ہے یا چھیننا پڑتا ہے .اسی لئے غریب آدمی کو انصاف نہیں ملتا .افسوس ہے اس قوم کے حکمرانوں پر کہ یہ مفادات کی کرپشن کی سیاست کرتے ہیں .کاش حکمران  ملکی سالمیت کی سیاست کرتے .اگر آج تمام ادارے عمران خان کو انصاف فراہم کرنے میں  مدد نہیں کرتے .تو آخری قدم اٹھانے پر کوئی نہ کوئی ادارہ حرکت میں آے گا .پھر کیا ہو گا .گو کہ یہ حقیقت ہے کہ ملک اب مزید خون خرابے کو برداشت نہیں کر سکتا .مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ فرسودہ نظام کے ساتھ بھی اب مزید ملک نہیں چل سکتا .اب اس ملک کو دنیا کے نقشے پر اگر عزت کا مقام چاہئے .تو انصاف .صحت .تعلیم .بیروزگاری .پر توجوہ دینا ہو گی .اصلاحات کرنا ہوں گی .احتساب کرنا ہو گا .نظام کی  تبدیلی ناگزیر ہے .تو پھر اس کے آگے روڑے اٹکانا کیوں ضروری ہے .اسی لئے حکمران کو میں بار بار یہ کہتا ہوں کہ مذاکرات کرو .دھاندلی کی تحقیقات کرو .یہ اس ملک کی تقدیر کے لئے ضروری ہے ....حکمران کو کہتا ہوں ......
........لانا ہے انقلاب تو خون بہانا کوئی ضروری ہے
....بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
.......جب  یقین ہے کہ موت نے آنا ہے
..تو پھر زندگی کا جشن منانا ضروری ہے
........جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا
...........٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Monday, December 1, 2014

..............حکومت اب  مذاکرات کیوں نہیں کر رہی
.....کیونکہ اب حکومت پر کوئی  پریشر نہیں ہے .نہ فوج کی طرف سے نہ سپریم کورٹ کی طرف سے اور نہ الیکشن کمیشن نہ کوئی اور ادارہ اپنا انصاف کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے .کیونکہ پارلیمنٹ میں سب مفاد پرست اکھٹے ہو چکے ہیں .اور عمران خان متحدہ اور جماعت اسلامی کو بھی ساتھ نہیں ملا سکے .اور نہ عمران خان نے میاں صاحب کے اتحادیوں کو توڑنے کی کوشش کی .اس ملک میں حکمران صرف فوج سے ڈرتا ہے .زرداری نے پانچ سال صرف جنرل کیانی کی خاموش دوستی پر گزارے .ورنہ زرداری کا اقتدار پانچ سال پورے کرنے کا حقدار نہیں تھا .اور نہ کوئی زرداری کا کمال تھا .یہ صرف کیانی صاحب کی مہربانی تھی .اور میاں صاحب کو بھی پہلے فوج سے ڈر تھا .اس لئے مذاکرات شورع کئے.پھر حالات نے میاں صاحب کا ڈر ختم کر دیا .اور فوج کی طرف سے مطمئن ہونے کے بعد حکومت نے اپنے پر پرزے نکالے اور مذاکرات ملتوی کر دئے گہے.کیونکہ حکومت کو دھاندلی کی انکواری میں اپنی موت نظر آتی ہے .اس لئے حکومت  حیلوں بہانوں سے پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے .اور کوئی اصلاحات نہیں کرنا چاہتی جب تک اوپر سے کوئی پریشر نہ آیا .کیونکہ سب ادارے اب حکومت کی جیب میں ہیں .اسی لئے تو میر شکیل کو اپنی سرپرستی میں فرار کروایا .کیونکہ حکومت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے .ایسے میں نظام کیسے تبدیل ہو گا .جس ملک میں عمران خان جیسے لیڈر کو انصاف نہ ملے.وہاں عام آدمی کو کیا انصاف ملے گا .مگر حکومت کو اقتدار کے نشے میں اس بات کا اندازہ نہیں ہے .کہ عوام کے اندر جو غم و غصے کا لاوا پک رہا ہے .اگر یہ پھٹ گیا تو ملک میں بھوت خون خرابہ ہو سکتا ہے .یہ بات درباری سمجھ نہیں رہے .مگر نشہ اترنے کے بعد جب پتہ چلے گا تو بھوت دیر ہو چکی ہو گی .بہتر ہے حکومت عمران خان سے مذاکرات کرے اور خلوص دل سے عمران کو راضی کرے .گو کہ بھوت ساری قوتیں ملک میں امن خوش حالی نہیں چاہتیں .کیونکہ اگر عمران اور حکومت مل کر نظام تبدیل کر دیتے ہیں .تو کچھ لوگوں کو احتساب کا خوف ہے .اس لئے چور.ڈاکو .لٹیرے کبھی نہیں چاہتے کہ یہ کرپشن کا نظام تبدیل ہو .اس لئے مفاہمت والے گروپ اور کچھ ادارے اس سٹیٹس کو .کو کندھہ دے رہے ہیں .اور اندر کھاتے سازش اب بھی ملک کے ساتھ جاری ہے .اور میاں صاحب کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات نہ کرو .کیونکہ میاں صاحب خود بھی کرپشن میں سر سے پاؤں تک ڈوبے ہووے ہیں .اس لئے وہ بھی نظام کی تبدیلی کے خلاف ہیں .کیونکہ نظام کی تبدیلی سے بھوت سے برج پھانسی کے پھندے تک پنچ سکتے ہیں .اس لئے ساری قوتیں مل کر عمران خان کے خلاف ہو چکی ہیں .ویسے عمران خان کو راحیل شریف کی گارنٹی مان لینی چاہئے تھی .اب بھی وقت ہے .کہ عمران خان جنرل راحیل صاحب کو خط لکھ کر ان کی گارنٹی قبول کریں .تاکہ نظام تبدیل ہو سکے .ورنہ میاں صاحب فوج کے علاوہ خدا سے بھی نہیں ڈرتے .صرف فوج سے ڈرتے ہیں .اور فوج ہی واحد ادارہ ہے .جو اس حکومت کو نکیل ڈال سکتا ہے .کیونکہ ریاستی تشدد اپنے زوروں پر ہے .اور اسی ڈر خوف کی وجہ سے مسلم لیگ کا فارورڈ بلاک شریف برادران کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کر سکا .حکمران گھیراؤ جلاؤ شٹر ڈاؤن کی اور کتا کتا ہاۓ ہاۓ کی زبان سمجھتا ہے .وہ عمران خان کے پر امن دھرنے سے مذاکرات نہیں کریں گے .یہ بات عمران خان کو سمجھ لینی چاہئے .یہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا .جنرل راحیل صاحب سے ملاقات اور انصاف کے لئے درخواست کرنی ہو گی .ورنہ حکومت مذاکرات نہ کرے گی اور اگر کرے گی تو عمل نہیں کرے گی .چکر دے گی اور وقت برباد کرے گی .یہ شریف برادران کی پالیسی ہے .پکڑ دھکڑ .خرید و فروخت .دھونس دھاندلی .ظلم نا انصافی .انہوں نے اپنے والد ضیا ال حق سے سیکھی ہوئی ہے .اس لئے عمران خان کو پالیسی تبدیل کرنا ہو گی .شیخ رشید ٹھیک کہتا ہے .تخت یا تختہ .یا سپریم کورٹ کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دئے جایں .اور بھی بھوت سی تجاویز ہیں .یہاں نہیں لکھ سکتا ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Saturday, November 29, 2014

.................ایسی جمہوریت پے لعنت .............
....یہ کیسی جمہوریت ہے .یہ آمریت ہے .بادشاہت ہے .یا فرعونیت ہے .جس میں سڑکوں پر کنٹینر .لاری اڈے بند .روٹ پرمٹ کینسل .ورکروں کی پکڑ دھکڑ.کسی کو دھمکیاں .کسی کو فون کال .کسی کے ساتھ بد تمیزی .کسی کو وارننگ .کسی کا کاروبار بند .جج اپنی مرضی کے .کمشن اپنی مرضی کے .فیصلے اپنی مرضی کے .ٹھیکے من پسند لوگوں کو .مذاکرات نہیں کرنے بد تمیزی .بے غیرتی کی .جھوٹ کی .سینہ زوری کی انتہا .کرپشن کی انتہا .پولیس .انتظامیہ کو اپنی مرضی سے استمعال کرنا .انصاف کی دھجیاں اڑانا .دورے مہنگے .جہاز مہنگے .ہوٹل مہنگے اپنے خاندان کے ساتھ .اقتدار اور کاروبار .بلدیاتی الیکشن نہیں کروایں گے .نچلی سطح کو اقتدار منتقل نہیں کریں گے .جب مرضی ہو گی .جب چاہیں گے کریں گے .اور جو چاہیں گے کریں گے .ہر ادارے پر حکمران کا خاص چمچہ .جس کو چاہو اندر کر دو .جس کو چاہو باہر بھجوا دو .آدھی رات کو بھی عدالت لگانی پڑے تو لگا کر ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو با عزت باہر بھجوا دو .ہر روز عوام کو دھوکہ دینا .عوام سے جھوٹ بولنا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں .اور جب عدالت یہ کہے کہ یہ مجرم ہے .اس کو جیل میں بند کر دو .تو بادشاہ سلامت اس کو جہاز پر بٹھا کر بھگا دیتا ہے .واہ رے میری جمہوریت .کہاں دفن ہو ہو گیا.قرضے معاف کروانے والا کیس .کہاں چلا گیا اصغر خان کیس .کہاں دفن ہو گیا گیلانی .راجہ رینٹل کیس .کہاں چلا گیا منصور .حقانی .وغیرہ کا کیس .جس کا بڑا شور سنا تھا .کہاں دفن ہو چکا .منی لانڈرنگ .حدیبیہ شوگر مل کا کیس .سٹیل مل کے گپلے .نادرہ اور پی .آئی .اے.اور ارسلان افتخار کے گپلے .کہاں تیرے وعدے.کہاں تیری بکواس .کہاں تیرے نعرے.کہاں روٹی .کپڑا .مکان .کہاں پھانسی .کہاں احتساب .کہاں نیپ .کہاں ہے سپریم کورٹ کی پھرتیاں جو افتخار چودھری کے دور میں ہوا کرتی تھیں .کیونکہ افتخار چودھری نے بھی قوم کے ساتھ وہ ہاتھ کیا.کہ اب ہمارا عتبار ہی اچھے الفاظوں سے اٹھ چکا ہے .کہاں ہیں وہ لٹیرے جو دھرتی ماں کے نعرے لگایا کرتے تھے .کہاں چلی گئی وہ سکینڈل ہی سکینڈل والی کہانیاں .اب کوئی میڈیا والا بھی نہیں پوچھتا کہ فلاں کا فلاں کا ..کیا بنا .بس پہلے پہلے ایک سکینڈل پورا ہفتہ چلتا ہے .بعد میں مک مکا ..ہر بات پر مٹی ڈالو .پھر کچھ تجزیہ نگار جو پہلے شور کرتے ہیں .بعد میں کہتے ہیں کہ گڑھے مردے رہنے دو .نظام کو چلنے دو .پھر ان کو بھی جمہوریت کا راگ الاپنا یاد آ جاتا ہے .جو جتنا برا لکھتا ہے .جتنا برا چیختا ہے .اتنا ہی بڑا وقت آنے پر عھدے کا وارث بنتا ہے .پی.ٹی.وی .کے مالک صاحب کو دیکھ لو اور نجم سیٹھی کو دیکھ لو .یہ ہے جمہوریت .جو زرداری کے خلاف لکھے اور بولے .وہ شریف برادران سے پھل پاۓ.اور جو میاں صاحب کی کرپشن کی فایل زرداری صاحب کو پنچاۓ.وہ زرداری صاحب سے وقت آنے پر پھل پاۓ.اور جو میری طرح بے لوث خون جلاۓ.وہ جلاتا رہے .لعنت ہے ایسی جمہوریت پر .جس کو رانا سنا اللہ کہتا ہے کہ جمہوریت کا مطلب ہے وفاداری ..اس پر کسی چینل .میڈیا والے کو لکھنے اور بولنے کی توفیق نہیں ہوئی .اور اگر کوئی بول بھی لیتا تو کیا ہوتا .ہمیشہ کی طرح نتیجہ صفر.جس ملک میں عمران خان اور قادری صاحب کو اتنے زور دار احتجاج کے باوجود انصاف نہ ملے.اس حکمران سے .اس جمہوریت سے آپ کیا توقوح کر سکتے ہیں .اور اس جمہوریت اور کرپٹ .بد کردار حکمران پر لعنت نہیں بھیجیں گے تو کیا پھولوں کے ہار بھیجیں گے .یا کونسا درود بھیجیں گے .میں تو خدا سے یہی درخوست کر سکتا ہوں .کہ خدا غارت کرے ایسی جمہوریت کو اور ایسے حکمرانوں کو .یا پھر میرے جیسے غریبوں کو ہی ملیا میٹ کر دے جو بد کردار حکمران سے انصاف تو حاصل نہیں کر سکے ..لعنت ہے ایسی جمہوریت پر .جو غریب کو دو وقت کی روٹی عزت سے نہ دے سکے .. اس سے موت بہتر ہے .بھوک ہڑتالی کیمپ سپریم کورٹ کے سامنے لگا دینا چاہئے .شاید عدالت کو موت پر ترس آ جاۓ .کیونکہ دھرنہ تو سپریم کورٹ کو نظر نہیں آتا .کیونکہ یہ پر امن ہے .اور پر امن مہذب احتجاج تو پر امن مہذب قوموں کے سامنے کیا جاتا ہے .جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا
...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Monday, November 24, 2014

...........میاں نواز شریف کے نام ...................
..لانا ہے انقلاب تو خون بہانا کوئی ضروری ہے
..بدلنا ہے نظام تو پھر بہانے بنانا کوئی ضروری ہے
......جب کرنا چاہتے ہو مذاکرات آخر
.....تو پھر ڈنگ ٹپانا کوئی ضروری ہے
......جب ہے جمہوریت اور حق آزادی
.....تو پھر کنٹینر لگانا کوئی ضروری ہے
..آئین و قانون کی بالا دستی چاہتے ہو تم
..تو نا انصافی سے  روڑے اٹکانا کوئی ضروری ہے
..جب تم کو خدا واحد پر ہے یقین مکمل
تو پھر اقتدار کو فرعون بنانا کوئی ضروری ہے
جب تم کو ہے یقین کہ موت نے آنا ہے
تو پھر گردن میں سریا لٹکانا کوئی ضروری ہے
مہذب پر امن احتجاج ہے حق ہمارا
اس کو فرعونیت دکھانا کوئی ضروری ہے
انصاف کے طلبگار ہیں جو تم سے
ان کو جیلوں میں بند کروانا کوئی ضروری ہے
............جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...
................پرویز رشید کے الزامات .............
........مبارک ہو صاحب بہادر کو .کہ کچھ نہ کچھ تو عمران خان کے دھرنوں کے جراثیم حکومت اور حکومت کے کارندوں تک  پنہچنے شروع ہو چکے ہیں .جو کہتے تھے کہ دھرنہ فضول ہے .احتجاج بیکار ہے .ان کو خود ہی یہ اقرار کرنا پڑ گیا ہے .اور سمجھ آنی شروع ہو چکی ہے .کہ قوم اب حکمرانوں کا احتساب چاہتی ہے .انکم ٹیکس ریٹرن ہر حاکم کی دیکھنا چاہتی ہے .وی .آئی .پی.کلچر.کا خاتمہ چاہتی ہے .اور پروٹوکول پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب قوم مانگ رہی ہے .یہ اچھا ہوا کہ پرویز رشید نے بغض .حسد .عمران خان سے نفرت اور خان کے خوف سے کچھ نہ کچھ اگلنا شروع کر دیا ہے .یہ بات اب بھوت دور تک جاۓ گی .لندن .سوئزر لینڈ کے اور دیگر بنکوں تک بھی جاۓ گی .اور جن جن ملکوں میں شریف برادران کے چیلے ہیں .میاں صاحب کی دولت کو سنبھالنے والے وہ سب آخر کار منظر پر آ جایں گے .جو اٹلی میں شریف برادران کی دولت کو سفید کرنے میں میاں صاحب کی مدد کرتے ہیں .ان کو میں جانتا ہوں .کیونکہ میں اٹلی میں رہتا ہوں .اس طرح شریف برادران نے ہر ملک میں اپنے کارندے پالے ہووے ہیں .جو کرپشن کی رقم کو پوری دنیا میں ایڈجسٹ کرتے ہیں .مجھے کیا  ملال ہے کہ جہانگیر ترین پر الزام لگے یا نہ لگے .جہانگیر ترین میرے چچا کا بیٹا تھوڑا ہی ہے .مجھے خوشی تو اس بات کی ہے .کہ چلو انقلاب کا .احتساب کا .نظام کی تبدیلی کا راستہ تو ہموار ہو رہا ہے .کیونکہ اسی طرح پرویز رشید .اور شریف برادران کی ٹیکس ریٹرن بھی  تو سامنے آ جاۓ گی .پھر ہم دیکھیں گے .کہ باہر کے ملکوں میں جو پاکستانی خون بنکوں میں جمع ہے .اس کی تفصیل کیا ہے .اور آہستہ آہستہ قوم کو یہ بھی علم ہونا شروع ہو جاۓ گا .کہ حکمران کے ہر غیر ملکی دورے پر قوم کا کیا نفح نقصان ہوا .کون کون دورے میں شامل تھا اور کیوں ..یہ عمران خان کے دھرنے کا نتیجہ ہے .یہ وہ شعور ہے کہ جو عوام میں پہلے آیا اور حکمرانوں تک دیر سے پنچ رہا ہے .کیونکہ پہلے حکمران حلوہ کھاتے تھے اور گہری نیند سو جاتے تھے .راستے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی .مخمل کے گدے تھے اور ریشمی بستر تھا .بس عیاشی ہی عیاشی تھی .اب سڑکوں پر سپیڈ بریکر اور کنٹینر ہیں .جو حکمران کو عمران خان کی اسلام آباد میں موجودگی کا احساس دلواتے رہتے ہیں .پہلے گردن میں سریا والے فرعون بادشاہ کو علم ہی نہیں تھا کہ دھرنے والوں کا آجنڈہ کیا ہے .اب علم ہو چکا ہے .چلو اچھا ہوا دیر آید درست آید..ویسے پرویز رشید نے یہ نہیں بتایا قوم کو ..کہ جو عدالت سے پرویز رشید کے ورنٹ نکلے تھے ان کا کیا بنا ..کیا دو کروڑ پرویز رشید نہ جمع کروا دے ہیں .یا ہڑپ کر چکے ہیں .اتنے پاک صاف پرویز رشید بھی نا دھندہ ہیں .ویسے پرویز رشید کی انکم ٹیکس ریٹرن بھی سنبھال کر رکھنے والی ہے .کیونکہ اس میں بھی بھوت کچھ پوشیدہ راز ہیں .ذرا پردہ اٹھا ہی دیں جناب کسی دن .ورنہ ہم کہیں گے تو برا مان جاؤ گے ..کیونکہ عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ عمران خان کیا ہے .کون ہے .پیدل جلسے کرے یا جہاز پر .عوام کو صرف اس بات سے اتفاق ہے .کہ جو عمران خان کہ رہا ہے وہ درست ہے .کیونکہ ہر پاکستانی یہ سمجھ چکا ہے .کہ ہمارا ملک اب مزید کرپٹ حکمران کرپٹ نظام کے ساتھ نہیں چل سکتا .یہ سچ ہے یہی حقیقت ہے .اس کو تسلیم کرنا پڑے گا ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Saturday, November 1, 2014

.........رانا سناالله کے مطابق جمہوریت کیا ہے .....
.......ٹاک شو پر گفتگو کرتے ہووے رانا  سناالله صاحب فرماتے ہیں .کہ جمہوریت کا نام ہے وفاداری .یہ قول انہوں نے اس وقت فرمایا .جب وہ نون لیگ میں فارورڈ بلاک بننے پر تبصرہ کر رہے تھے .آج کل کی جمہوریت کا صحیح نقشہ کھینچا ہے جناب نے .بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی .ساتھ ہی انہوں نے فرمان جاری کیا  کہ کوئی فارورڈ بلاک نہ بن سکتا ہے نہ طاقت پکڑ سکتا ہے .کیونکہ طاقت کا سر چشمہ شریف برادران کے پاس ہے .گو کہ رانا صاحب نے آزادی راۓ کو تبدیل کر کے وفاداری کا نام رکھ دیا ہے .مگر موصوف نے سچ فرمایا ہے .کیونکہ جب ہم جیسے عام لوگ جمہوریت پر نقطۂ چینی کرتے ہیں تو کوئی غور نہیں کرتا .بلکہ ہم کو پاگل کہا جاتا ہے جب ہم جمہوریت کو چند کلمات سے نوازتے ہیں .کہ پاکستان میں کوئی جمہوریت نہیں صرف بادشاہت ہے .فرعون کی طرح فرمان جاری کئے جاتے ہیں .اور جو شریف برادران چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے .بغیر کسی کے مشورے کے .اور اس جمہوریت کو چند گھر کے افراد اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں .جس طرح زرداری صاحب سارے ملک کو صدارتی ہاؤس سے پانچ سال چلاتے رہے .دنیا میں کہیں بھی پاکستان کی طرز کی جمہوریت نہیں ہے .اللہ بھلا کرے رانا صاحب کا .کہ جنہوں نے ایک ہی فقرے میں ہمارا بھرم بھی رکھ دیا .اور جمہوریت کے ٹھیکیداروں کے منہ پر تھپڑ بھی رسید کر دیا .اور پاکستان کے کرم فرماؤں کی اصلاح بھی کر دی اور جمہوریت کا مطلب بیان کر کے ڈکشنری میں اضافہ کر دیا .اگر ہم کہتے تو تخت شاہی کو تکلیف بھی ہوتی اور کئی لوگ برا مان جاتے ..چلو اچھا ہوا کہ رانا سناالله نے خود ہی پاکستانی جمہوریت سے پردہ اٹھا دیا .یہ بتا کر کہ پاکستانی جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے .وفاداری .خوشامد پرستی .مفاد پرستی .اللہ بھلا کرے رانا صاحب آپ کا ..اب آپ کے فارورڈ بلاک کو سمجھ آ چکی ہو گی .کہ پرویز رشید کیوں وزیر بنے .اور پرویز مشرف کے ساتھی شریف برادران کو کیوں پیارے ہیں ...وغیرہ وغیرہ ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .