Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Wednesday, March 18, 2015

........حکمران کی ترجیحات کچھ اور ہیں ...
......امن .بیروزگاری . مہنگائی .انصاف .احتساب .پانی .بجلی .گیس .صحت .تعلیم .ٹریفک . .اسلام .اسلہ سے پاک معاشرہ .وغیرہ وغیرہ .یہ چند لوازمات حکمران کی  ترجیحات میں شامل ہی نہیں .حکمران کی ترجیحات .کرپشن .مال بنانا .بد معاشی سے حکومت کرنا .اقتدار کو کس طرح پھر حاصل کرنا ہے .اور اقتدار کو کس طرح اوچھے ہتھکنڈوں سے طول دینا .اور کون کون سی آئین میں تبدیلی ضروری ہے اقتدار کے لئے .کس طرح مال بنانا ہے کس طرح مال کو ٹھکانے لگانا ہے کس طرح بیرون ملک منتقل کرنا ہے .اور خاندانی سیاست کو کس طرح قابو میں رکھنا ہے .حکمران کو عوامی مسایل سے کوئی دلچسپی نہیں .اگر کرنا چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے .بغیر آلہ دین کے چراغ سے .ہر چوک پر ٹریفک کا ہجوم .لمبی.لمبی قطاریں .انتظار ہی انتظار .بے ہنگم ٹریفک کے ہجوم کے لئے کوئی پل یا کراس نہیں .صرف پیلی ٹیکسی .لیپ ٹاپ .جنگلہ بس .تندوری روٹی .ان کی ترجیحات ہیں عوام کو دھوکہ دینے کے لئے .گلہری کی طرح ان کی حرکتیں دیکھو .کبھی درخت کے اوپر کبھی نیچے .بس میری پروٹوکول کی آنیاں جانیاں دیکھتے جاؤ .میرے ہوٹر .میری میٹنگ .میرے جلسے .میرے سیمینار .میری بک بک .میرے نوٹس پے نوٹس لینا دیکھتے جاؤ .نتیجہ صفر.کارکردگی صفر.بس جہاں ذاتی مفاد .وہاں پھرتیاں دن رات ایک .واہ کیا بات ہے میرے منافق حکمران کی .سمجھتا ہے کہ میرے سوا کوئی اس ملک کو چلا ہی نہیں سکتا .اگر اسی طرح ملک چلانا کہتے ہیں .تو اس سے بہتر ایک گھوتی رہڑھی والا اور چاۓ کے گھوکھے والا چلا سکتا ہے .کرنا کیا ہے . حلوہ کھانا ہے اور ناموں کی تختیاں لگا کر افتتاح افتتاح ہی  کرنا ہے .اگر حکمران نے عقل کے ناخن نہیں لئے .ہوش نہ آیا .اقتدار کے نشے سے حکمران باہر نہ نکلا .عوام کو مزید مایوس کرتا رہا .تو وہ دن دور نہیں جب پاگل ہجوم بار بار اپنا ہی سر نہیں پھوڑے گا .بلکہ حکمران کی دہلیز تک احتجاج پںچنے والا ہے .اور کتا کتا ہاۓ ہاۓ..دما دم مست قلندر .ہونے والا ہے .کیونکہ حکمران تو چوروں .لٹیروں کا احتساب نہیں کر سکا .مگر عوام اک دن ضرور حکمران کا احتساب کریں گے .یہ احتجاج کا خطر ناک طریقہ توڑ پھوڑ.گھیراؤ .جلاؤ .اس طرف اشارہ کرتا ہے .کہ عوام کا عتماد سیاستدانوں کی منافقت اور مفاہمت کی پالیسی سے ختم ہو چکا ہے .لگتا ہے اب فیصلے سڑکوں پر ہوا کریں گے .یہ سب کچھ کیوں ..صرف اور صرف حکمرانوں کی نا اہلی اور دھوکہ دیہی اور فراڈ کی وجہ سے ...اگر عوام کو حقوق نہ دئے گہے.تو حقوق چھینے جانے کا سلسلہ شروح ہو جاۓ گا .جو بھوت خطرناک ہو گا .حکمران کو سوچنا ہو گا اپنی ترجیحات تبدیل کرنا ہوں گی ..کیونکہ یہ حکمران کی ذمہ داری ہے .کہ اگر ڈیلیور کر سکے تو ٹھیک .ورنہ اقتدار چھوڑ دے ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Thursday, March 12, 2015

.............مارشل لاء کیوں ضروری ہے ..............
..........پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس بات کو رد کرتا ہوں .کہ اس ملک میں بار بار مارشل لاء لگا .جس کی وجہ سے ملک کے حالات خراب ہووے .کیونکہ میں یہ ماننے کو تیار نہیں .اس لئے کہ اس قوم نے ابھی مارشل لاء دیکھا ہی نہیں .وہ مارشل لاء ہی کیا .کہ جس میں کرپٹ سیاستدان عیاشی کریں .. مارشل لا کے خلاف بیان بازی کرنے والوں سے کوئی پوچھے تو سہی .کہ آپ کس کی پیداوار ہیں .مگر ہم کو وہ مارشل لا دیکھنا ہے جو ٦٥ سالوں میں نہیں آیا .اب کی بار ایسا مارشل آے  گا کہ میری قوم کے سارے دکھ دور ہو جایں گے ..میں مانتا ہوں کہ ضیا اور مشرف صاحب کے مارشل لا نے قوم کو مایوس بھی کیا .مارشل لا کے نام کو بدنام بھی کیا اور کرپٹ .لوٹوں کو جنم بھی دیا .جو آج بھی وہ لوٹے حکومت کے مزے لے رہے ہیں .مگر کسی کا نہ احتساب ہوا .نہ لوٹی ہوئی دولت واپس آئی .نہ نظام تبدیل ہوا اور نہ کوئی انقلاب آیا .کیونکہ ہم سب جانتے ہیں .کہ پاکستانی قوم اور حکمران کوئی مہذب نہیں ہیں .ہم ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں .اگر انقلاب مہذب انداز میں آنا ہوتا .تو قادری صاحب لے آتے .اور اگر مہذب انداز میں نظام تبدیل ہونا ہوتا تو عمران خان کر چکے ہوتے .یہ دونوں کام نام نہاد جمہوریت سے ممکن نہیں ..ملک میں انقلاب اور نظام کی تبدیلی صرف ایک سخت قسم کے مارشل لا سے ممکن ہے .ملک سے کرپٹ اور گندے سیاستدانوں کا خاتمہ ہو ہی نہیں سکتا بغیر مارشل لا کے .کیونکہ یہ سیاستدان اپنی دوغلی پالیسیوں سے ملک کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں .جب فوجی جرنل سامنے ہوتا ہے تو یہ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں .اور جب باہر نکلتے ہیں تو جھوٹ .مکاری .اور منافقت کا دامن تھام لیتے ہیں .اگر یہ کرپٹ سیاستدان ملک سے مخلص ہے .تو اسلح کے لاسنس کیوں جاری کرتا ہے .تمام لاسنس منسوخ کر کے پاکستان کو اسلح سے پاک کیوں نہیں کر دیا جاتا .اسلح سے پاک معاشرہ کیوں نہیں بنایا جاتا .کیونکہ خود سیاستدان مافیا ہے .ورنہ اسلح کی کیا ضرورت ہے .نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری .مگر چونکہ سیاستدان خود کن ٹوٹا بدمعاش ہے .اسے اسلح کے زور پر بدمعاشی کرنی ہے .اس نے قتل کروانے ہیں .بھتہ وصول کرنا ہے اغوا کروانے ہیں .تو اسلح پر پابندی کیسے لگواۓ گا .تو یہ سارے گند کو صاف کون کرے گا .آسمان سے فرشتے تو نہیں آیں گے .یہ کام ایک انقلابی مارشل لا سے ہو گا .ایک ایسا مارشل لا جس میں کوئی سیاستدان نہیں ہو گا .جو نظام بھی تبدیل کرے گا .احتساب بھی کرے گا .اصلاحات بھی کرے گا .انصاف کی راہ بھی ہموار کرے گا .اور اداروں کو بھی نکیل ڈالے گا ..اور جو جمہوریت جمہوریت کا رونا روتے ہیں .ان کو جمہوریت بھی سکھاۓ گا .انشااللہ ..ایسا مارشل لا اب اس ملک کی ضرورت بن چکا ہے .ورنہ کوئی بیماری بھی اس قوم کا پیچھا نہیں چھوڑے گی .بیماری کی جب آخری سٹیج ہو .تو کسی بڑے آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے .اب بڑا آپریشن صرف انقلابی مارشل لا ہی ہے ....جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ...٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Wednesday, March 11, 2015

..........پاکستان میں ہر برائی کا ذمہ دار حکمران ہے ......اس سے پہلے کہ کچھ لکھوں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں .کہ چند میل موصول ہوئی تھیں .جن میں دو اہم تھیں .ایک یہ تھی کہ ہر برائی کا ذمہ دار عوام ہیں .میں حکمران کو کیوں قصوروار ٹھہراتا ہوں .تو اس کا جواب آج دے رہا ہوں .کل دوسری میل کا جواب دوں گا کہ پھر مارشل لاء کیوں ضروری ہے .میں حکمران کو ٩٠ پرسینٹ ہر برائی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں .ایک کالم میں حکمران کی سب برائیوں کا  احاطہ نہیں کر سکتا .اس لئے کچھ ذکر دوسرے کالم میں ہو گا .چند ایک وجوہات حاضر خدمات ہیں .کاش کہ تیرے دل میں اتر جاۓ میری بات ..١.اسلہ کے لائسنس حکمران دیتا ہے .٢.بجلی .گیس .نہ دے کر کارخانے بند کرتا ہے .بیروزگاری پیدا کرتا ہے .بحران خود حکمران پیدا کرتا ہے .٣.نوجوانوں کو روزگار نہ دے کر فرسٹریشن اور جرائم میں مبتلا کرتا ہے .٤.ٹی.وی .چینل کو اشتہارات میں کھلی چھٹی دے کر اور پروگراموں کو کنٹرول نہ کر کے بے حیائی بے شرمی کو عام کرتا ہے .٥..غلط لٹریچر کو چھپنے سے نہیں روکتا .٦.وال چیکنگ کو کنٹرول نہیں کرتا .٧.میرٹ کی دھجیاں اڑاتا ہے .٨.ایماندار افسروں کو کام نہیں کرنے دیتا .ٹرانسفر کر دیتا ہے .٩.سفارش اور اقرباپروری کو ہوا دیتا ہے .١٠.کن ٹوٹے .بد معاشوں.لینڈ مافیا .بھتہ مافیا .ٹارگٹ کلنگ .کو کنٹرول نہیں کرتا .بلکہ خود ملوث ہوتا ہے .١١.عوام کو انصاف نہیں دیتا .١٢.نچلی سطح پر اقتدار منتقل نہیں کرتا .١٢.حکمران اپنی کرپشن .نا اہلی کی وجہ سے فرسٹریشن .بد امنی .پھیلاتا ہے .١٣..اسلام کی تشہیر کرنے اور سپورٹ کرنے کی بجاۓ .یورپ کی طرح پابندیاں لگاتا ہے اور فرقہ بندی کو ختم کرنے کی بجاۓ. اس کو ہوا دیتا ہے .١٤.ووٹ حاصل کی خطر عوام کو گروپوں میں تقسیم کرتا ہے اور اشتعال انگیزی کو ہوا دیتا ہے .١٥..عوام سے  جھوٹ بولتا ہے .مکاری کرتا ہے .دغا بازی کرتا ہے .اسلام اور قومی سالمیت کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتا ہے .١٦.خارجہ پالیسی عوامی امنگوں کی ترجمان نہیں بنا سکا .١٧.اسلامی اور معاشرتی قدروں کا تحفظ کرنے میں ناکام .١٩.کیا ریمنڈ ڈیوس اور حسین حقانی جیسے لوگوں کو عوام نے چھوڑا تھا یا حکمران نے .٢٠.کیا دہشت گردی کی جنگ میں عوام نے چھلانگ لگائی تھی یا حکمران نے .٢١.کیا امریکا  کو اڈے اور راہداری اور انڈیا سے آلو. پیاز .عوام کی مرضی سے یا حکمران کی مرضی سے .٢٢.نوجوانوں کو کلانشنقوف پکڑنے پر کس نے مجبور کیا..٢٣..مجبور و بے کس لڑکیوں کو عصمت فروشی پر کس نے مجبور کیا.٢٤..تھانے .عدالتیں .کس کے حکم پر بکتے ہے .بلکہ ٹھیکے پر کس کے حکم پر چلتے ہیں .٢٥..ہر دفتر میں اوپر تک جو رقم جاتی ہے .کیا حکمران اس سے نا آشنا ہے .٢٦.کیا حکمران جو کمیشن وصول کرتا ہے وہ حکومت میں جمع کرواتا ہے یا اپنی جیب میں ..٢٧.ہر ادارے کو اپنی حدود میں رکھنا .صحیح چلانا حکمران کی ذمہ داری ہے یا عوام کی ..٢٩.اسلام کی طرف راغب کرنے کی بجاۓ.حکمران نے ایسے اقدامات کئے.جس سے عوام کو اسلام کی تعلیمات سے دور کیا گیا .جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے .ہم اسلام سے جتنا دور ہوتے جایں گے .اتنے ہی مسایل بڑھتے چلے جایں گے .اور یہ کارنامہ بھی حکمران نے انجام دیا .٣٠..معاشرے کو تباہی کے دہانے تک پنچانے میں پاکستانی حکمران نے اہم رول ادا کیا ہے .٣١.مسجدوں .مدرسوں .پر اتنی کدغن یورپ نے نہیں لگائی .جتنی پاکستانی حکمران لگا رہا ہے .اسلامی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے میں پاکستانی حکمران یورپ سے بھی آگے نکل چکا ہے .٣٢..جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکمران عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے .وہ بھی غلط ..ہر دفعہ حکمران یا تو عالمی معاہدوں سے حکمران بنتا ہے یا دھاندلی سے .دھاندلی کبھی بیوروکریسی .کبھی عدالتیں .کبھی اجنسیاں کرواتی ہیں ...یہ کھیل ٦٥ سالوں سے جاری ہے ...٣٣..کیا کالاباغ ڈیم ..سونا .تامبے .کوئلے کے زخائر..نندی پر پراجیکٹ اور دوسرے سارے کھیل میں عوام کا کیا قصور ہے .فیصلہ آپ کریں ..حکمران  کے کرشمے .کارستانیاں ..ابھی جاری ہیں ..پہلے ملک دو ٹکرے ہوا تھا .ہم سمینار کرتے چلے آ رہے ہیں .اب تباہ و برباد ہونے جا رہا ہے .ہم مال و دولت سمیٹنے میں لگے ہووے ہیں ...آگے آگے دیکھو .ہوتا ہے کیا .مجھے لوگ کہتے ہیں کہ تم نا امیدی کی باتیں کرتے ہو .میں نے اپنی بارہویں کتاب  ..انقلاب کاروں ..میں لکھا تھا ...خدا اور نبی سے نا امید نہیں جاوید ....................حکمران سے نا امید لکھوں یا بد گمان لکھوں ...تو ہی بتا کیا لکھوں ..سوچتا ہوں کیا لکھوں ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, March 10, 2015

...... ...اے.پی .سی .اور سیاسی مفادات ...........
.......ملک میں سب سے زیادہ سیاسی مفادات کو تحفظ  دینے کے لئے جو آجکل چھتری استمعال کی جا رہی ہے .وہ ہے .اے.پی .سی اور جمہوریت ..نہ تو قوم کو ان کانفرنسوں سے اور نہ  نام نہاد جمہوریت سے کوئی فائدہ  ملا ہے اور نہ سکون..ہاں البتہ کرپٹ سیاسدانوں کو اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے اور کرپشن کو ھضم کرنے کے لئے اور عوام کا خون  چوسنے کے لئے .بیوقوف بنانے کے لئے اور قوم کو ٹرک کی پتی کے پیچھے لگانے کے لئے زرداری .نواز شریف نے منافقت کی سیاست کو عروج پر پنچا دیا ہے .جس کا نتیجہ انشااللہ ایک ایسے انقلاب کے روپ میں نکلے گا ...جس سے  کرپٹ سیاستدانوں کا گند صاف ہو جاۓ گا انشااللہ ..وہ وقت جلد آنے والا ہے .یہ کام کوئی اور نہیں ہماری فوج کا سپاہ سالار کرے گا انشااللہ ..کیونکہ منافقت .کرپشن .جھوٹ .فریب .دغابازی .مکاری  .نا انصافی . نا اہلی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے .جب ہر اپنے مفادات کے لئے ہر روز .اے.پی .سی .بلائی جا سکتی ہے .تو کالاباغ ڈیم پر .مہنگائی .بیروزگاری .کرپشن .بجلی بحران .گیس بحران .نا انصافی پر .نظام کی بہتری پر .اے.پی.سی .کیوں نہیں بلائی گئی ...عوامی مفاد پر کیوں نہیں بلائی جاتی .کیا حکمران کی طرف سے اتنا ہی کہ دینا کافی ہے کہ پاکستان عنقریب صومالیہ بن رہا ہے .پانی ختم ہونے والا ہے .فلاں فلاں بحران آنے والا ہے .ہر بحران کا تدارق کرنے کے لئے قوم کو بتا دیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں .واہ کیا بات ہے .حکمران کے پاس کرپشن اور کمشن لینے کے .جنگلہ بس .لیپ ٹاپ .تندور روٹی .تھر کوئلہ .بلوچستان کا سونا اور چنیوٹ کے تامبے کے ذخایر پر فوٹو سیشن کروانے کے لئے وسائل ہیں .مگر جن منصوبوں سے قوم کو کچھ ملنا ہوتا ہے .اس کے لئے حکمران کے پاس وقت نہیں ہے .سارا زور اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ہے .واہ میرے پیارے بد کردار حکمران تو سمجھتا ہے کہ مزید ٦٥ سال اس قوم کو اندھیرے میں رکھے گا .مزید لولی پاپ دے گا .تو یہ تیری بھول ہے .آخر کب تک .اک دن تو فرعون کو بھی رخصت ہونا پڑا تھا .تو کس باغ کی مولی ہے .تجھے بھی اک دن قبر کی اندھیری کوٹھری میں جانا ہے .مگر شاید تم کو یاد نہیں .وزیروں کو بھی صرف بیانات دینے کی فرصت ہے .اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی سے زیادہ ضروری جوڑ توڑ کی سیاست ہے .یا مال بنانا ..میرے حکمران کبھی پانی پر .کشمیر پر .بلوچستان میں دخل اندازی پر انڈیا سے بات کرنے کے لئے اور کالاباغ ڈیم بنانے کے لئے .یا احتساب کے قانون پر بھی ذرا کسی دن .اے.پی .سی .بلا .میرے حکمران ..مجھے بھی پتہ چلے کہ تو کتنا ملک اور قوم کا ہمدرد ہے .سارے کام چھوڑ.قوم کو بجلی .گیس .دے ..کارخانے چلا .روزگار چلا ..اور پھر دیکھ میری بک بک اور بند کر میرا بھونکنا..کیونکہ میں جب تیرے مطلب کی چاپلوسی نہ کر سکوں .تو تو کہتا ہے .کہ میں بھونک رہا ہوں ...دیکھ اپنی کارکردگی کو .میرا بھونکنا خود بخود بند ہو جاۓ گا ...ذرا  عوامی مسایل پر بھی کوئی .اے.پی .سی .بلا کر دیکھ ..کوئی قانون بنا .کوئی احتساب کر .کوئی مگر مچھ پکڑ.کوئی لوٹی ہوئی دولت باہر کے بنکوں سے لا .اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کر ..تاکہ مجھے بھی پتہ چلے کہ تو محب وطن ہے .کوئی جوڈیشنل کمیشن بنا .کوئی اصلاحات لا .کوئی دھاندلی .کرپشن .اقرباپروری کا راستہ روک .فنڈ بلدیاتی اداروں کے سپرد کر .تمام شوگر کی فیکٹریاں قومی تحویل میں لے لے میرے حکمران .ریلوے .پی.آئی .اے..کو از سرے نو تعمیر کر ...تاکہ مجھے تیری اہلیت تو نظر آے ..چمچے .اور چاپلوسی والے حضرات کو اداروں سے نکال دے .نجم سیٹھی جیسے لوگ اپنے سے دور کر لے ...ورنہ جتنی مرضی .اے.پی.سی ..بلا اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے ..اک دن یہ سب ادارے ریت کی دیوار کی طرح گر جایں گے .انشااللہ ....جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا .....٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Sunday, March 8, 2015

.........فوج کا جرنل کب اپنا کردار ادا کرے گا .....
........جب کوئی ادارہ  بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہ ہو .جب کسی ادارے کا انچارج بھی سیاسی اثرو رسوخ سے باہر نکلنے کو تیار نہ ہو .جب  سیاسی حکمران ہر ادارے کو اپنی مرضی منشاء کے مطابق چلانے کی کوشش کرے گا .تو بہتری کہاں دیکھنے میں آے گی .نظام کب بدلے گا .عام  آدمی کو دہلیز پر سستا اور تیز رفتار انصاف کب ملے گا .جب ملک میں افراتفری .خودغرضی .اقرباپروری.من پسند .کرپشن کی سیاست ہو گی ..قانون اور آئین بھی فرعون جیسا ہو گا .حکمران بھی فرعون و شداد ہوں گے .تو تبدیلی کب آے گی .معاشرہ ٹھیک نہیں ہو گا .بلکہ مزید تباہی کی طرف جاۓ گا .اس طرح ملک کب تلک چلے گا .بغیر انصاف کے .بغیر احتساب کے .سارے قانون صرف غریب پر آزماۓ جایں گے .حکمران کے لئے قانون صرف ایک ربڑ کی سٹک ہو گی .کرپشن بھی نہ ختم ہو .نظام بھی کام نہ کرے .اور چند خاندان فرعون حکمرانی کرتے رہیں .اور جمہوریت جمہوریت کا شور بھی ہو .تو ایسی منافقت کے ساتھ یہ براۓ نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کب تک اپنا سفر اپنی صہی سمت جاری رکھ سکے گا .مشکل ہے .صحیح وقت پر اگر صحیح فیصلے حکمران نہ کر سکتا ہو .تو ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا .اور نہ اسلامی معاشرہ  پروان چڑھ سکتا ہے .میں یہ نہیں کہتا کہ ملک میں مارشل لاء لگا دیا جاۓ.مگر یہ ضرور عرض کرتا ہوں کہ جب جرنل صاحب کو معلوم ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے کوئی ادارہ اپنا رول ادا نہیں کر رہا .تو اسی لئے جرنل صاحب نے دہشت گردی کو ختم کرنے میں سیاستدان سے دو قدم آگے نکل کر کافی بولڈ سٹیپ لئے ہیں .تو کیا ہی اچھا ہوتا .کہ جوڈیشنل کمیشن بھی بن جاتا .اصلاحات ہو جاتیں .احتساب پر کوئی پیش رفت ہو جاتی .اور جمہوریت کو صحیح پٹری پر گامزن کر دیا جاتا .کیونکہ سیاستدان تو جمہوریت کی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے .تو پھر میں پاکستانی جرنل سے نہ کہوں تو کیا انڈیا کے جرنل سے کہوں کہ وہ آ کر میرے کرپٹ سیاستدان سے کہے کہ کرپشن چھوڑ دو اور انسان بن جاؤ .آپ ہی بتا دیں کہ کس سے کہوں .کیونکہ میرا حکمران مہذب انداز کو سمجھتا ہی نہیں .تو اسی لئے جرنل صاحب سے گزارش کرتا ہوں .کہ جہاں آپ اتنے اچھے اچھے کام کر رہے ہیں یا سیاستدان حکمران سے کروا رہے ہیں .تو پھر چند اور کام بھی پاکستان کی سالمیت اور بقا کے لئے کرواتے جایں.اس سے پہلے کہ ہم ہاتھ اٹھا کر خدا سے کسی عمر فاروق کو مانگنے کی التجا کریں .بہتر ہو گا کچھ فیصلے تاریخی کر ہی لئے جایں..تاکہ قوم کسی برے اور بڑے امتحان سے بچ جاۓ...حکمران نا اہل ہے .نظام فلاپ ہو چکا ہے ..ہر ادارہ نظریہ ضرورت پر چل رہا ہے ..ہر ادارہ بکنے والا ہے .ٹھیکے پر چل رہا ہے ..صرف فوج کا سپاہ سلار ہی اس کشتی کو پار لگا سکتا ہے ...ورنہ ملک ٹھیکے پر تو چل ہی رہا ہے .بس ٹھیکیدار کبھی کبھی تبدیل ہو جاتا ہے ..کاش اس ملک میں جمہوریت ہوتی تو مجھے یہ سب کچھ نہ کہنا پڑتا ....جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا 

Saturday, February 28, 2015

..................سینٹ انتخابات اور حکمران ..........
......میرا حکمران کتنا مکار .کتنا چالباز .کتنا ہوشیار .کتنا عقل و فہم و فراست والا ہے .چور مچاۓ شور والا معاملہ ہے .جب کسی کام میں اپنی دلچسپی ہوتی ہے .تو قانون بھی بن جاتے ہیں .آئین کی موٹی موٹی کتابوں میں ترامیم بھی ہو جاتی ہے .اپنے ہر مفاد کی خاطر .کرسی کو بچانے کی خاطر .ہر قانون راتوں رات بن بھی جاتے ہیں اور پاس بھی ہو جاتے ہیں .مگر دھاندلی کو منظر عام پر لانے کے لئے کوئی جوڈیشنل کمشن نہیں بن سکتا .عوام کے لئے قوم کے لئے کالاباغ ڈیم نہیں بن سکتا .بجلی .گیس .کا اور امن و امان کا مسلہ حل نہیں ہو سکتا .تھر کا کوئلہ .پیٹرول .تامبا .سونا .چاندی .نکلنے کے شور تو بھوت قوم کو سناۓ جاتے ہیں .مگر افسوس کہ قوم کو کوئی نتایج نہیں مل پاتے .چور .ڈاکو .لٹیرے .ہی لوٹ کر کھا جاتے ہیں .بد کردار .کرپٹ حکمران .نہ اپنا احتساب کرتا ہے اور نہ  دوسرے دوست چوروں کا .بس نیپ کا اور ایف .آئی .اے.کی طرح ادارے تو بھوت ہیں .مگر شاید ہر ادارہ .ہر محکمہ .ہر عدالت .نظریہ ضرورت پر عمل کرنے کے لئے حکمران نے رکھا ہوا ہے .یا شاید ہمارے ادارے صرف حکمران کے تیور اور موڈ کو دیکھ کر قانون کی رسی کو موڑ لیتے ہیں .جہاں ضرورت ہوتی ہے حکمران آئین و قانون کو استمعال کر لیتا ہے .پاکستان کا حکمران اسی طرح ملک کو چلا رہا ہے .جس طرح پرانے زمانے کے بادشاہ سلامت چلایا کرتے تھے .با ادب با ملاحضہ ہوشیار بادشاہ سلامت کی سواری گزرنے والی ہے .تمام اپنی اپنی گردنیں جھکا لو .بلکہ اس سے بڑھ کر مجھے فرعون.نمرود .شداد والا معاملہ نظر آتا ہے .جس پر نظر جم گیی.اس کو نواز دیا .مالا مال کر دیا .جس کو مرضی کنگال کر دیا .سینٹ کے الیکشن سے پہلے ممبران صوبائی اسمبلی کو حکمران گھاس نہیں ڈالتا تھا .اب ہر روز بڑے کھانوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے .ناز و نخرے اٹھائے جا رہے ہیں .دنیا کہاں سے کہاں پنچ چکی ہے .ہم ابھی تک سینٹ کے ممبران اور گورنر کو سیدھا سیدھا عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں کر سکے .کیونکہ ہم گورنر .صدر اور سینٹ کو سب کچھ اپنے نیچے رکھنا چاہتے ہیں .کسی کی آواز کو سننا پسند ہی نہیں کرتے .پھر بھی ہم کو جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتے شرم نہیں آتی ..اب جو اتنا شور ہے .کوئی کہتا ہے ہاتھ کھڑے کرو .کوئی کہتا ہے خفیہ رکھو .کوئی کہتا ہے یہ جمہوریت کا حسن ہے .کوئی کہتا ہے اس طرح کرنے سے جمہوریت کا حسن مزید نکھر جاۓ گا .سب اپنے اپنے مفادات کو جمہوریت کا حسن کہتے ہے .واہ کیا بات ہے میرے حکمرانوں کی ..مگر میرے جیسا پاگل یہ سمجھتا ہے .کہ اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے .جتنا جتنا حصہ بنتا ہے .اپنے اپنے مہرے لے لو .بات ختم .نہ رہے بانس نہ بجے بانسری .نہ ممبران کو خریدنے کی ضرورت .نہ کھانے کھلانے کی ضرورت .نہ ترقیاتی فنڈ کا بیڑہ غرق کرنے کی ضرورت ..کیونکہ ویسے بھی رانا سنا اللہ جیسے درباری کا قول ہے .کہ جمہوریت کا نام ہے اپنے آقا سے وفاداری ..تو اگر جمہوریت کا دوسرا نام وفاداری ہی ہے تو پھر اتنا افرا تفری کا ہنگامہ کیوں برپا ہے ...واہ میرے حکمران تو سلامت رہے تاکہ ملک سلامت رہے ..کیونکہ جب تیری سلامتی خطرے میں پڑتی ہے تو تیرے منہ سے غلط باتوں کا شور سنتا ہوں .کہ اس وقت یکجہتی کی ضرورت ہے .ملک بحرانوں میں ہے ..جب کہ پاگل یا سمجھتا ہے .کہ ملک بحرانوں میں صرف میرے بد کردار .کرپٹ حکمران کی وجہ سے ہے ..ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے .میرا حکمران سب سے بڑا خطرہ ہے ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان .اٹلی والا 

Sunday, January 25, 2015

..........کیا پاکستان میں کوئی حکومت ہے ..........
..........کہنے کو تو پاکستان میں جمہوریت .پارلیمنٹ .سینٹ.قانون .آئین.عدالتیں .محکمیں .ادارے .سب کچھ ہے .مگر جب ذرا غور کیا جاۓ..کارکردگی کے حوالے  تو کچھ بھی نظر نہیں آتا .نہ پیٹرول ہے .نہ گیس ہے .نہ بجلی ہے .نہ روزگار ہے .نہ کہیں انصاف نام کی کوئی چیز نظر آتی ہے .ویسے تو آجکل کے حکمران بھوت تجربہ کار ہیں .پچھلے ٣٥ سال سے لگاتار حکمرانی کرتے چلے آ رہے ہیں .ہر دفعہ ملک پر حکومت کرنے کے تجربات کے انداز مختلف ہوتے ہیں .ہر دفعہ نئی انداز کے تجربے کرتے ہیں .مگر اس دفعہ حکمرانی کے انداز .کرپشن کے انداز اور طرز حکمرانی کچھ بدلے بدلے ہیں .پچھلے ادوار میں شریف برادران فوج سے پنگہ لیتے تھے .اب نہیں .پہلے کرپشن شریفانہ طریقے سے کرتے تھے .اب بدمعاشی سے زور بازو سے .مغروری سے .ہٹ دھرمی سے .بانگ دہل کرپشن کرتے ہیں .جیسے کہ رہے ہوں کہ کر لو جو کرنا ہے .حکمرانی بد معاشی سے اس طرح بھی کر رہے ہیں .کہ اپنی مرضی کے جج لگاتے ہیں پولیس افسر لگاتے ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں اور اپنی مرضی کے کمیشن بناتے ہیں اور پھر مرضی سے کلین چٹ بھی لیتے ہیں .مجال ہے کہ کسی کی پرواہ کریں .ماڈل ٹاون .فیصل آباد .جہلم .نابینا حضرات پر ظلم ہو یا بچوں .نرسوں .ڈاکٹروں پر ظلم ہو .سب کلین چٹ شریف برادران کے پاس ہے .کوئی پوچھنے والا نہیں .فرعون کی طرح طاقتور ہیں .فرعون .نمرود .شداد .کی یاد تازہ کرتے نظر آ رہے ہیں .اگر کوئی ایماندار افسر اپنے ضمیر کی آواز سننا چاہتا ہے تو اس کو خاموش کروا دیا  جاتا ہے .کس کی جرات ہے کہ فرعون حکمران کے سامنے کچھ بولے ..ویسے قوم بھی بے حس ہو چکی ہے .ہر ظلم خندہ پیشانی سے برداشت کر رہی ہے .مگر کب تک ..قوم کی بے حسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے .مجھے تو لگتا ہے حکمران کے طرز حکمرانی کی وجہ سے کوئی بڑا انقلاب آنے والا ہے .اگر انقلاب نہ آیا تو مارشل لاء ضرور آ جاۓ گا ..ویسے میری نظر میں ایسی حکمرانی سے بہتر ہے کہ  مارشل لاء ہی آ جاۓ....جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..