Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, April 15, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب  نا  گزیر  ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،کل مورخہ چودہ اپریل کو عرض کیا تھا ،کس اس ملک میں جتنے مرضی الیکشن کروا لو ،،ملک کی اور غریب کی حالت نہیں بدلے گی ،،جب تک آپ اس فرسودہ گلے سڑے بےغیرت نظام کو تبدیل نہیں کرتے ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کو کون  بدلے گا ،،،اس کے پوری دنیا میں دو ہی طریقے ہیں ،،ایک اماندار ،،بے لوث،نڈر ،قیادت ، جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہو ،،،اور دوسرا طریقہ انقلاب کا ہے ، جو عوام کی طرف سے لایا جاتا ہے ، یا راتوں رات ایک موہب وطن آتا ہے ،،جو بے غیرتوں ،غداروں ،،چوروں ،،کرپٹ لوگوں کو لٹکاتا ہے ،،اور فیصلے کر کے ان پر امپلمنٹ کرواتا ہے ،،،جو کام ضیا، اور مشرف کر سکتے تھے ،مگر انھوں نے ملک سے غداری کی اور کرسی سے سمجھوتہ کیا اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتے رہے ،،اور بیوروکریسی کے ہاتھوں میں یر غمال بنتے رہے ،،،انقلاب کون نہیں چاہتا،،صرف جاگیر دار ،،وڈیرے ،،چودھری لٹیرے ،،کن ٹوٹے بدمعاش ،،بیوروکریسی ،،اور کرپٹ ،بےغیرت ،غدار ،حکمران ،،،،،یہ سب چاہتے ہیں کہ نظام تبدیل نہ ہو ،،اس لئے انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،،،اور انقلاب کو روکنے کے لئے ان طاقتوں نے شریف برادران اور عمران خان اور جماعت اسلامی کو آپس میں الجھایا ہوا ہے ،،تاکہ نہ ہو بانس اور نہ  بجے بانسری ،،اسی لئے ان طاقتوں نے بڑی منصوبہ بندی سے ان پارٹیوں کے اندر ان لوگوں کو داخل کیا ہوا ہے ،،جو پارٹی قیادت کو غلط مشورے بھی دیتے ہیں اور ورکروں کی بھی حق تلفی کرواتے ہیں ،،،اور عوام کو تقسیم کر کے اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں ،،وہ مقصد کیا ہے کہ نہ ایماندار قیادت کے پاس  اکثریت ہو گی اور نہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہو گی ، نہ نظام بدلے گا نہ ملک کی تقدیر ،،،اسی لئے کہتا بلکہ بکواس کرتا ہوں ،،کہ انقلاب ناگزیر ہے ،،،کیونکہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ،،اس لئے اپنا خون جلاتا رہتا ہوں ،،انشا اللہ ،اس ملک میں انقلاب آے گا ،،نظام بدلے گا ،،،تب یہ بےغیرت پرانے  چہرے نہ الیکشن لڑیں گے نہ الیکشن لڑنے کے قابل رہیں گے ،،تب جا کر فیصلے سہی ہوں گے جب ایماندار لوگ اقتدار میں ہوں گے ،،الیکشن کے بعد دیکھ لینا جب جوتوں میں دال بانٹی جاۓ گی ،،،اس منظر کے  بعد انقلاب آے گا ،،انشا الله ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب  نا  گزیر  ہے ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،کل مورخہ چودہ اپریل کو عرض کیا تھا ،کس اس ملک میں جتنے مرضی الیکشن کروا لو ،،ملک کی اور غریب کی حالت نہیں بدلے گی ،،جب تک آپ اس فرسودہ گلے سڑے بےغیرت نظام کو تبدیل نہیں کرتے ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کو کون  بدلے گا ،،،اس کے پوری دنیا میں دو ہی طریقے ہیں ،،ایک اماندار ،،بے لوث،نڈر ،قیادت ، جو پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہو ،،،اور دوسرا طریقہ انقلاب کا ہے ، جو عوام کی طرف سے لایا جاتا ہے ، یا راتوں رات ایک موہب وطن آتا ہے ،،جو بے غیرتوں ،غداروں ،،چوروں ،،کرپٹ لوگوں کو لٹکاتا ہے ،،اور فیصلے کر کے ان پر امپلمنٹ کرواتا ہے ،،،جو کام ضیا، اور مشرف کر سکتے تھے ،مگر انھوں نے ملک سے غداری کی اور کرسی سے سمجھوتہ کیا اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنتے رہے ،،اور بیوروکریسی کے ہاتھوں میں یر غمال بنتے رہے ،،،انقلاب کون نہیں چاہتا،،صرف جاگیر دار ،،وڈیرے ،،چودھری لٹیرے ،،کن ٹوٹے بدمعاش ،،بیوروکریسی ،،اور کرپٹ ،بےغیرت ،غدار ،حکمران ،،،،،یہ سب چاہتے ہیں کہ نظام تبدیل نہ ہو ،،اس لئے انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہیں ،،،اور انقلاب کو روکنے کے لئے ان طاقتوں نے شریف برادران اور عمران خان اور جماعت اسلامی کو آپس میں الجھایا ہوا ہے ،،تاکہ نہ ہو بانس اور نہ  بجے بانسری ،،اسی لئے ان طاقتوں نے بڑی منصوبہ بندی سے ان پارٹیوں کے اندر ان لوگوں کو داخل کیا ہوا ہے ،،جو پارٹی قیادت کو غلط مشورے بھی دیتے ہیں اور ورکروں کی بھی حق تلفی کرواتے ہیں ،،،اور عوام کو تقسیم کر کے اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں ،،وہ مقصد کیا ہے کہ نہ ایماندار قیادت کے پاس  اکثریت ہو گی اور نہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہو گی ، نہ نظام بدلے گا نہ ملک کی تقدیر ،،،اسی لئے کہتا بلکہ بکواس کرتا ہوں ،،کہ انقلاب ناگزیر ہے ،،،کیونکہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ،،اس لئے اپنا خون جلاتا رہتا ہوں ،،انشا اللہ ،اس ملک میں انقلاب آے گا ،،نظام بدلے گا ،،،تب یہ بےغیرت پرانے  چہرے نہ الیکشن لڑیں گے نہ الیکشن لڑنے کے قابل رہیں گے ،،تب جا کر فیصلے سہی ہوں گے جب ایماندار لوگ اقتدار میں ہوں گے ،،الیکشن کے بعد دیکھ لینا جب جوتوں میں دال بانٹی جاۓ گی ،،،اس منظر کے  بعد انقلاب آے گا ،،انشا الله ،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

Monday, April 1, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،نظام کی تبدیلی ،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،نظام کی تبدیلی کے بغیر ہم قوم نہیں ایک ہجوم ہیں ،،جس ہجوم کو حیوانوں کا ریوڑھ سمجھ کر چند بےغیرت ، غدار ،،کرپٹ ،جاگیردار ،،وڈیرے ، اور بیوروکریسی کے فرعون، پھچلے کئی سالوں سے ہانک رہے ہیں ،،یہ بےغیرت ، کتے ،چور ،لٹیرے،اس کو نظام کہتے ہیں ،،جس میں نہ روٹی ،کپڑا ،مکان ،،نہ ،بجلی ،پانی ، گیس اور نہ روزگار ، نہ انصاف ،،یہ نظام فرھنگی  چند خاندانوں کو تو توھفظ دیتا ہے ،،مگر غریب کے لئے صرف دھکے ہی دھکے ہیں ،،،سوال یہ ہے کہ نظام کب بدلے گا ،،کب جاگیریں واپس لی جایں گی ،،کب قرضے واپس لئے جایں گے ،،کب پلاٹ دینے کا سلسلہ بند ہو گا ،،،یہ نظام ہے کہ جمشید دستی جب تک پارٹی میں رہتا ہے ،،تو کوئی کیس نہیں بنتا ،،چھوڑتا ہے تو جعلی ڈگری یاد آ جاتی ہے ،،یہ نظام ہے کہ حنا ربانی کھر اپنی فیکٹری کے کروڑوں واجبات ادا نہ کرے تو کوئی کچھ نہیں کہتا ،،،یہ نظام ہے کہ ہر کوئی غیر ملکی دوروں پر کروڑوں خرچ کرے ،،بنگلوں کو رنگ روغن سرکاری خرچ پر ،،بچے سرکاری خرچ پر ،،سکول اور شاپنگ کے لئے مفت پیٹرول ،مفت ٹرانسپورٹ ،،مفت علاج ،،،،،مفت بجلی ، گیس ،ٹیلی فون ،،،،اب تو ماشااللہ بیوروکریٹ ،جرنیلوں ،سیاستدانوں ، کے بچے لندن ،امریکا ، دوبئی، میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ،،یہ نظام ہے کہ وزیر تعلیم کی بھی جعلی ڈگری ہوتی ہے ،،،جج کچہری میں آنے سے پہلے ہی رات کو بک چکے ہوتے ہیں ،،کچہری میں لوگ وکیل اس کو کرتے ہیں ، جس کےتعلقات جج کے ساتھ ہوں ،،اب تعلیم اور قانون کی کتابوں پر کیس نہیں جیتے جاتے بلکہ رشوت اور سفارش سے فیصلے ہوتے ہیں ،،یہ نظام ہے کہ گاؤں کا ایک بدمعاش سارے گاؤں کو یرغمال بنا کر رکھتا ہے ،،ہر کوئی اس سے ڈرتا ہے ،،ووٹ بھی ووہی لیتا ہے ،،کسی کی کیا مجال کہ کن ٹوٹے بدمعاش کے خلاف جاۓ،،،یہ نظام ہے کہ جس نے معاشرے کو برباد کر کے رکھ دیا ہے ،،ڈگری رکھنے  والے بھی روٹی کے لئے چور ،ڈاکو ،،بناۓ جا چکے ہیں ،،یہ نظام کی خرابی اور حکمرانوں کی بد مستی کہ فرسٹریشن اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے ،،یہ نظام ہے کہ حسین حقانی ،ریمنڈ ڈیوس،کو واپس بھیج دیا جاتا ہے ،،یہ نظام ہے کہ بڑے بڑے چوروں اور غداروں کو وزیر اعظم ہاؤس میں رکھا جاتا ہے ،،یہ نظام ہے کہ جس جج کو ،،تفتیشی  افسر کو ،،تھانیدار کو جب چاہو اپنی مرضی سے تبدیل کر دو اور اپنی مرضی کے فیصلے کروا لو ،،یہ نظام ہے جب چاہو جس کو چاہو وزیر ، مشیر بنا لو ،اپنا پیسہ بناؤ ،،،قوم کا پیسہ ، لیپ ٹاپ اور بینظیر سکیم میں برباد کر دو ، مگر بجلی کا پلانٹ نہ لگواؤ ،،،،یہ نظام ہے کہ چوروں ،منافقوں کو اپنی کرسی کے لئے ہڈی ڈال کر اپنا مفاد حاصل کرو ،،مگر کالا باغ ڈیم پر بات مت کرو ،،یہ نظام ہے کہ اپنے مفاد کی خاطر ڈرون حملے ملک میں کرواتے رہو اور جنگ ہماری کہ کر ڈالر بناتے رہو ،،یہ نظام ہے کہ عاصمہ جہانگیر جیسے غداروں کی بات سنی جاۓ اور عام آدمی کی بات کی پرواہ نہ کی جاۓ ،،،یہ نظام ہے کہ ملک ریاض جیسے لوگوں کی جیب میں جرنیل ،جج اور بیوروکریٹ بھی ہوں پرویز مشرف  اور میاں شہباز شریف اور زرداری صاحب بھی ہوں ،،یہ نظام ہے کہ نگران کابینہ بھی سیاسی لوگ اپنے آدمی بھیج کر مکمل کریں ،،،،واہ کیا بات ہے کہ چوروں کو ملک کے خزانے کا رکھوالا بنا دیا گیا ہے ،،یہ ہے ہمارا نظام جس نے ایک دن تبدیل ہونا ہے ،،اور وہ تبدیلی اب نزدیک ہے ،،چند کو پھانسی پر لٹکایا جاۓ گا ،،باقی خود ہی سیدھے ہو جایں گے ،،سوال یہ ہے کہ یہ کون کرے گا ،،،تو یہ سارا کام  کرپٹ حکمران کرنے جا رہا ہے ،،جمہوریت ،جمہوریت اور الیکشن کا راگ الاپنے والوں کی آنکھوں سے پردہ اٹھنے والا ہے اور اقتدار سے چمٹے رہنے والوں کا منصوبہ اور کافی راز فاش ہونے والے ہیں ،،جب یہ سب دُندہ عمران خان ،جماعت اسلامی ،شیخ رشید ،اور جنرل حمید جیسے لوگوں کی آنکھوں سے صاف ہو جاۓ گی ،،تو پھر اسلامآباد کی طرف مارچ بھی ہو گا اور تحریر چوک بھی بنے گا اور پھر اس وقت کچھ لوگوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو گا اور وہ اماندار لوگوں کو دو سال کے لئے اقتدار دیں گے ،،تاکہ نیا نظام تشکیل دیا جاۓ اور جاگیروں ،وڈیروں اور فرھنگی کے بیوروکریٹ اور پلاٹوں کا کاروبار بند کیا جاۓ  گا اور پھر آرٹکل ٦٢ اور ٦٣ اور احتساب کی شقوں پر عمل بھی ہو گا ،،جس کے اوپر صدر زرداری صاحب بھی پورے نہیں اترتے ،،،اور سب غداروں کو پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ گا مشرف کے ساتھ ،،،،،،،،،،تب فیصلہ کرنے والے آئیں گے کہ اس جنگ میں کس حکومت نے کیا کیا کیا گل کھلاۓ اور یہ جنگ کس کی ہے ،،جس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہم دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں ،،حتہ کہ جس سانپ کو ہم چلوں سے دودھ پلاتے رہے ،،آج ووہی ہمارا  دشمن بن چکا ہے اور انڈیا کی مدد کر رہا ہے ،،تاکہ پاکستان میں دہشت گردی سے ہر روز لاشوں کے اٹھانے کا کاروبار جاری رہے اور وہ کشمیر ،،پانی ،،اور کارگل کی طرف نہ سوچے ،،پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے ،،اگر نظام تبدیل کرنے کے لئے جنرل اشفاق کیانی نے کوئی کردار ادا نہ کیا تو ،،،،،،میں یہ نہیں کہتا کہ کیانی صاحب حکومت سبھال لیں اور چوروں ،کتوں ،بے غیرتوں کو مشرف کی طرح ساتھ ملا لیں ،،،ورنہ انقلاب سب کو بھا کر لے جاۓ گا ،،اس کا انجام برا ہو یا اچھا نکلے ،،یہ بھی حکمرانوں کی سوچ کا منہ بولتا سبوت ہو گا ،،،،،آئندہ کوئی بھی کسی طرح کی حکومت بنے ،اگر اس میں پرانے چہرے ہوتے ہیں ،،تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ،،ہمیں تباہ ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی ،،سواۓ اللہ  کے ،،،،،،،خدا حافظ ،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،٠٠٣٩،،٣٢٠،،،٣٣٧ ،،٣٣٣٩ ،،،،،،،،،،،،،،،،،یکم اپریل ،،،،،،،،،،،،،،،،

Saturday, March 30, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،پاکستان کا مستقبل ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب ے افکار نہیں ہوتا
،،،، بہ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو  بیکار  نہیں  ہوتا
،،،،،،،،،اگر کرپٹ ، بدیانت،منافق ،،سیاستدانوں ،اور بیوروکریسی کی پھرتیوں کو دیکھوں،اور جاگیرداروں اور وڈیروں کے نظام کو اور فرھنگی کے دئے ہوۓ بےغیرت، فرسودہ ، نظام کو دیکھوں، اور پانچ سال کے منافق حکمرانوں کی کارکردگی کو دیکھوں ، تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں نظر آ رہا ہے ،اور ناامیدی کی بلندی پر ہوں ،،مگر صرف خدا اور نبی ،کی طرف سے امید ہے کہ میرا خدا اس پاک دھرتی کو بچانے کے لئے کوئی نہ کوئی خالد بن ولید یا عمر فاروق ضرور بھیج دے گا ،،،،میرے نزدیک اس ملک کو الیکشن کی نہیں اک انقلاب کی ضرورت ہے ،،مگر نہ جانے کن نادیدہ قووتوں نے عمران خان ، ڈاکٹر قدیر ،،جنرل حمید گل ،جماعت اسلامی اور ڈاکٹر طاہر قادری صاحب کو خاموش کروا دیا ہے ،،اور کیوں عمران خان الیکشن کی طرف سے پر امید ہیں ،،جبکہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اگر پچاس الیکشن بھی کروا لئے جایں،،تو بھی پاکستان کا نظام نہیں بدل سکتا ،،میرے نزدیک الیکشن کروانا فضول ہیں اور وقت کا ضیاہ ہیں ،،،اس سے ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی ،،،بلکہ مزید کرپٹ لوگوں کو فایدہ ملنے کی امید ہے ،،،جب تک احتساب نہیں ہوتا ،،بیوروکریسی اور سیاسدانوں کو لگام ڈالنے کے لئے  نئی طرز کا نظام نہیں بنایا جاتا ،،ہر ایک سے انصاف والا ، اور قرضوں کی واپسی کا  نظام  نہیں بنایا جاتا ،،آپ کوئی بھی امید مت لگائیں کہ ملک سے دہشت گردی ختم ہو جاۓ گی ،،آپ کو دہشت گردی والی جنگ سے نکلنا ہو گا ،،بجلی ، گیس ،لا اینڈ آرڈر ،مہنگائی،بیروزگاری ،کا بندوبست کرنا ہو گا ،،،یہ کام صرف انقلاب سے ہو گا ،،،کیونکہ ایماندار لوگ صرف انقلاب سے اقتدار میں آ سکتے ہیں ،،الیکشن سے نہیں ،،کیونکہ عوام میں شعور نہیں ہے ،،اور شعور بد دیانت حکمرانوں نے آنے نہیں  دیا ،،،،کیونکہ سکولوں اور ہسپتالوں میں گدھے باندھ کر حکمرانی کی گئی ،،،،،فرھنگی کے نظام کو صرف انقلاب بدلے گا ،،،ورنہ لوٹے ،،چور ،،غدار ،،کرپٹ ،،لوگ  پاکستان کے ساتھ کھیلتے رہیں گے ،،اور ، این ،،آر ،،و ،،ہوتے رہیں گے اور ملک برباد اور بدنام ہوتا رہے گا ،،انقلاب آ سکتا تھا ،اگر قادری صاحب چوروں ، لٹیروں ، کو ساتھ نہ ملاتے ،،بلکہ گھر سے ہوم ورک کر کے چلتے اور عمران خان ،،جماعت اسلامی ،،جنرل حمید گل ، ڈاکٹر قدیر ،  جیسے ،ایماندار لوگوں  کو ساتھ ملا کر چلتے  تو انقلاب آ چکا ہوتا ،،چند پھانسی پر لٹکاۓ جا چکے ہوتے ،،عمران خان کو بھی جلد سمجھ آ جاۓ گی ،،اور نوجوانوں کو جب انقلاب کی کال دیں گے ،،تو انشااللہ انقلاب آ جاۓ گا ،،،،نظام غلط ہے ،،ہر بار ووہی لوگ ،،،،،،،یہ کہاں کا نظام ہے ،،،،،ملک میں عنقریب انقلاب آنے والا ہے ،،لعنت بھیجتا ہوں ،،جمہوریت پر ،،زرداری اور مشرف پر ،،اور ان منافقوں پر ،،جنھوں نے پانچ سال منافقت کی اور اقتدار کو کندھا دیتے رہے ،،،،صرف دو بار اقتدار میں جانے کی اجازت ہونی چاہے ،،،ایم،،پی ،،اے ،،،،،ایم ،این ،اے ،اور سینٹ میں ،بھی صرف دو بار سے زیادہ نہیں ،،،،،اس گندے پراگندے نظام سے کوئی تبدیلی نہیں آے گی ،،،پری پلاننگ کے تحت الیکشن کو ہائی جیک کرنے کا پروگرام بن چکا ہے ،،،،عمران خان اور جماعت اسلامی ،قادری صاحب اور شیخ رشید اور جنرل حمید گل اور سب ایماندار لوگ سر جوڑ کر بیٹھ جایں،،عنقریب بہت کچھ ہونے والا ہے ،،،،کسی خوش فہمی میں نہ رہا جاے،،،،خدا حافظ ،،،پھر ملیں گے انشااللہ ،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،٣٠،،٠٣،،،٢٠١٣،،،

،،،،،،،،،،،،،،،،،،پاکستان کا مستقبل ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب ے افکار نہیں ہوتا
،،،، بہ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو  بیکار  نہیں  ہوتا
،،،،،،،،،اگر کرپٹ ، بدیانت،منافق ،،سیاستدانوں ،اور بیوروکریسی کی پھرتیوں کو دیکھوں،اور جاگیرداروں اور وڈیروں کے نظام کو اور فرھنگی کے دئے ہوۓ بےغیرت، فرسودہ ، نظام کو دیکھوں، اور پانچ سال کے منافق حکمرانوں کی کارکردگی کو دیکھوں ، تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں نظر آ رہا ہے ،اور ناامیدی کی بلندی پر ہوں ،،مگر صرف خدا اور نبی ،کی طرف سے امید ہے کہ میرا خدا اس پاک دھرتی کو بچانے کے لئے کوئی نہ کوئی خالد بن ولید یا عمر فاروق ضرور بھیج دے گا ،،،،میرے نزدیک اس ملک کو الیکشن کی نہیں اک انقلاب کی ضرورت ہے ،،مگر نہ جانے کن نادیدہ قووتوں نے عمران خان ، ڈاکٹر قدیر ،،جنرل حمید گل ،جماعت اسلامی اور ڈاکٹر طاہر قادری صاحب کو خاموش کروا دیا ہے ،،اور کیوں عمران خان الیکشن کی طرف سے پر امید ہیں ،،جبکہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اگر پچاس الیکشن بھی کروا لئے جایں،،تو بھی پاکستان کا نظام نہیں بدل سکتا ،،میرے نزدیک الیکشن کروانا فضول ہیں اور وقت کا ضیاہ ہیں ،،،اس سے ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی ،،،بلکہ مزید کرپٹ لوگوں کو فایدہ ملنے کی امید ہے ،،،جب تک احتساب نہیں ہوتا ،،بیوروکریسی اور سیاسدانوں کو لگام ڈالنے کے لئے  نئی طرز کا نظام نہیں بنایا جاتا ،،ہر ایک سے انصاف والا ، اور قرضوں کی واپسی کا  نظام  نہیں بنایا جاتا ،،آپ کوئی بھی امید مت لگائیں کہ ملک سے دہشت گردی ختم ہو جاۓ گی ،،آپ کو دہشت گردی والی جنگ سے نکلنا ہو گا ،،بجلی ، گیس ،لا اینڈ آرڈر ،مہنگائی،بیروزگاری ،کا بندوبست کرنا ہو گا ،،،یہ کام صرف انقلاب سے ہو گا ،،،کیونکہ ایماندار لوگ صرف انقلاب سے اقتدار میں آ سکتے ہیں ،،الیکشن سے نہیں ،،کیونکہ عوام میں شعور نہیں ہے ،،اور شعور بد دیانت حکمرانوں نے آنے نہیں  دیا ،،،،کیونکہ سکولوں اور ہسپتالوں میں گدھے باندھ کر حکمرانی کی گئی ،،،،،فرھنگی کے نظام کو صرف انقلاب بدلے گا ،،،ورنہ لوٹے ،،چور ،،غدار ،،کرپٹ ،،لوگ  پاکستان کے ساتھ کھیلتے رہیں گے ،،اور ، این ،،آر ،،و ،،ہوتے رہیں گے اور ملک برباد اور بدنام ہوتا رہے گا ،،،،،خدا حافظ ،،،،،،.جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،

Monday, March 25, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،انقلاب  جنجال ،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،،اقتدار کے ایوانوں میں بھونچال آنے والا ہے
،،،،،،،،،،،جس کا تھا انتظار ووہی دجال آنے والا ہے
،،،،،،،،،،،فتنہ فساد حکمران کی سوچ کا آئنہ دار تھا
،،،،،،،،،،کرپشن کی شیطانیت کا کرشمہ وبال آنے والا ہے
،،،،،،،،،،کنگلا کر دیا ملک کو جمہوری  آمر منافقوں  نے
،،،،،،،،،اب اس کو سمبھالنے کوئی انقلاب کنگال آنے والا ہے
،،،،،،،،  نیا نویلا نئی انداز کا اب بہے گا مزید  خون یہاں
،،،،،،،،جھپٹنے ، پلٹنے والا اب انقلاب لا محال آنے والا ہے
،،،،،،،،ڈوبنے لگے گی کشتی جب ملک ے خدا داد کی
،،،،،،،تو   ملاح کو بھی اپنی  غلطی پے ملال آنے والا ہے
،،،،،،،اقتدار والوں کو جب آے گا نظر پھانسی کا پھندہ
،،،،،،تو پھر تبدیلی نظام کا ان کو بھی خیال آنے والا ہے
،،،،،،،،ضیاء ،مشرف ،زرداری ، نے برباد کی تھی جو عمارت
،،،،،،،اس عمارت پے نقش و نگار سجانے با کمال آنے والا ہے
،،،،،،،الیکشنوں سے نہیں سلجھیں گی یہ گھتھیاں  کبھی
،،،،،،ان گھتھوں کو سلجھانے انقلاب جنجال آنے والا ہے
،،،،،،انقلاب ہی حل ہے اس ملک کا پہلا اور آخری

،،،،،، ،تنگ آمد ، بجنگ آمد ، انقلاب نو نہال آنے والا ہے
،،،،،آمریت اور جمہوریت کی حقیقت دیکھی ہے قوم نے جاوید
،،،،،ماضی کو دفنانے ، مستقبل بنانے،ایسا  حال آنے والا ہے
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،،،،،

Wednesday, March 20, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،دولت اور بھوک ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،دولت انسان کو کبھی  فرعون بنا دیتی ہے
،،،،،،،بھوک و ننگ بھی کبھی عزت مٹا دیتی ہے
،،،،،دولت  بھی کسی کسی کو شیطان بنا دیتی ہے
،،،،،بھوک  و ننگ بھی کسی کو انسان بنا دیتی ہے
،،،،،،دولت انسان کو کبھی کبھی  حیوان بنا دیتی ہے
،،،،،دولت کبھی کبھی انسانوں کو با ادب بنا دیتی ہے
،،،،بھوک  و ننگ کبھی کبھی ہر آداب بھلا دیتی ہے