Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Sunday, May 26, 2013


،،،،،،،،امتحانات  ہی امتحانات ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،امتحانات  تو ہیں ،،حکومت کرنے والوں کے لئے بھی اور اپوزیشن کے لئے بھی ،،،چیلنج بھی کافی ہیں ،،جوڑ توڑ بھی ہوں گے ،،ہزاروں مسایل ہیں ،جن کا بار بار ذکر کرنا فضول ہے ،نواز شریف کس طرح ان سے نبرو آزما ہوتے ہیں ،زرداری سے اور لوٹی ہوئی دولت سے کس طرح مقابلہ کرتے ہیں ،،یہ ایک سوالیہ نشان ہے ،،مگر میں نواز شریف کے بارے میں فکر مند نہیں ہوں اور نہ ان سے مجھے کوئی امید ہے کہ وہ ان عالمی ٹھیکھداروں کے خلاف کچھ بولنے کی جرات رکھتے ہیں ،جو ان کو لے کر آے ہیں ،،اور جو ان کی مدد بھی کریں گے اور اپنا کام بھی لیں گے ،،مجھے اگر کوئی پریشانی ہے تو نظام کے بدلنے  کی ،،اور اس شخس کے مستقبل اور پاکستان کے مستقبل  کی ،،،اور وہ ہے عمران خان جس نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ،،،جاگنا اس لئے نہیں کہ رہا کہ ابھی عوام پوری طرح جاگی نہیں ہے ،،،پریشانی اس لئے ہے کہ سب سے زیادہ امتحانات عمران خان کے لئے ہیں ،،اس کو مشورے کیا دوں ،پہلے اس نے کون سے میرے مشوروں پر عمل کیا ہے جو اب کرے گا ،،کہاں  اس نے زبان کھولنی ہے ،کہاں بند رکھنی ہے ،،کہاں کس معاملے میں نواز شریف کا ساتھ دینا ہے اور کہاں اختلاف کرنا ہے ،،کس طرح سرحد والی حکومت کو چلانا ہے ،،سب سے امتحانات عمران خان کے لئے ہیں کیونکہ غدار کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ عمران خان سرحد میں کامیاب ہو جاۓ اور وفاقی سطح پر احتساب کا عمل شروح کروا سکے ،،کیونکہ اگر وہ دونوں جگہ پر کامیاب ہو جاتا ہے ،تو غدار اپنی موت آپ مر جاتا ہے ،،ورنہ دوسری صورت میں عمران خان اپنی پوزیشن کھو بھیٹھے گا اور نظام بدلنے اور تبدیلی کا نعرہ کوئی اور اڑا لے جاۓ گا ،،،میں تو پاگل ہوں میری نظر میں عمران خان کا زرداری کی طرف ایک قدم چلنا اور جھکاؤ بھی عمران خان کی موت ہو گا ،،جس الیکشن کو قبول کروانے کے لئے امریکہ کا سفیر سیاستدانوں کو کول ڈاون کر رہا ہے میری راۓ میں عمران خان کو الیکشن کے نتایج کو قبول نہیں کرنا چاہئے تھا ،اور اپنے قدم انقلاب کے لئے اور تبدیلی کے لئے بھڑانے چاہئے تھے ،،مگر عالمی طاقتوں نے وقت سے پہلے ہی اپنا کام کر دکھایا ،،،ایک فقرہ ہی سب سیاستدانوں کو رام کر گیا اور ووہی  کہانی عوام کو پڑھائی جا رہی ہے کہ پاکستان بڑےنازک  دور سے گزر رہا ہے ،،جبکہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ہی نازک دور سے گزرا ہے اس کو ان حالات پر پنچانے والے بھی یہی کرپٹ سیاسدان اور نظام ہے ،،عمران خان کو زرداری سے دور رہنا ہو گا اور اسے گھر بیجھنا ہو گا اور نواز شریف کو مجبور کرنا ہو گا کہ وہ ہونے والی کرپشن کا حساب لے ،،،اور نواز شریف اور ہر لیڈر کے لئے صرف ایک ہی مشوره ہے کہ اگر وقار سے جینا ہے تو عالمی بینک کی بجاۓ اپنے وسایل پر انحصار کرنا ہو گا ،کشکول کو توڑنا ہو گا ،،ورنہ قوم بےغیرت نہیں صرف میرا حاکم بےغیرت ہے ،،غدار ہے ،سازشی ،منافق اور موقعہ پرست ،اور مفاد پرست ہے ،،ایک لیڈر کا کام ہی امتحانات سے سرخرو ہو کر قوم کو آگے لے کر چلنا ہے ،،کتوں کی طرح سیاست کرنے والوں نے قوم کو اس حال پر پنچایا ہے ،،عمران خان اور نواز شریف، جماعت اسلامی  کو مل کر انقلاب لانا ہو گا ،،،اب بھی وقت ہے چوروں لٹیروں کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا ،،،قوم اب بک بک کی سیاست سے تنگ آ چکی ہے ،،ورنہ وہ آ جاۓ گا جو سب کو لٹکا دے گا ،،،اس لئے بہتر ہے ابھی نظام تبدیل ہو جاۓ ،،یہی قوم کے لئے بہتر ہے ،،،عمران خان کو نظام کی تبدیلی کے شرااعت کے ساتھ نواز شریف کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہو گا ،،،،،،،،،،،عمران خان مہربانی کر کے نواز شریف کے ساتھ چل کر اس کو اتنا مجبور کر دو کہ وہ یا تو نظام بدلنے پر مجبور ہو جاۓ یا عوام اس کا اصل چہرہ دیکھ لیں ،،کہ کون  سچا ہے اور کون جھوٹا ہے ،،سب کام ابھی ہو سکتے ہیں ،اگلے الیکشن کا انتظار مت کرو ،،موت کا کوئی وقت نہیں ہوتا ،،جو کام آج ہو جاۓ ووہی بہتر ہے ،،،
،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان،،،اطالیہ ،،،،،،

Saturday, May 25, 2013


،،،،،،،،،،انقلاب سے مت ڈرو ،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،کبھی کبھی انسان وہ کچھ لکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،،جو وہ عام حالات میں نہیں لکھنا چاہتا ،،،مگر کیا کریں اور کیا کہیں ،،کہ نہ تو ہر کالم نگار ،تجزیہ نگار ،،.اینکر ،اور نہ ہر افسر ،اور نہ ہر سیاستدان غلط ہے اور نہ غدار ہے ،،کچھ غدار ہیں جو ہم پر مسلط ہیں ،،کمانڈ کرتے ہیں ،،باقی ہم جانور ہیں جن کو ایک ریوڑھ کی طرح ہانکا جا رہا ہے ،،،میں یہ تسلیم کرتا ہوں ،،کہ ہم سب اس حمام میں ننھگے ہیں ،،کچھ نہ کچھ غلطیاں ہم سب میں ہیں ،،جس کی وجہ سے ہم آپس میں لڑتے ہیں ،،گلی گلوچ ہوتے ہیں اور سردار ،وڈیرہ ،جاگیردار ،سرمایا دار ،کرپٹ سیاستدان ،،مذھبی ٹھیکیدار ،،کن ٹھٹہ ،بدمعاش ،کرپٹ حکمران ، ہمارا تماشا دیکھتے اور خوش ہوتے ہیں ،،کیونکہ جتنے ہم فرقوں اور لسانی ، گروہی ، مفاد پرستی کے گروہوں میں تقسیم رہیں گے ،،اتنا ہی ہمارا  قومی وقار تباہ ہوتا رہے گا ،،اور ہم دنیا میں ذلیل ہوتے رہیں گے ،،قومی سوچ پیدا نہیں ہوتی اور ہم انسان،،مسلمان اور پاکستانی بننے کی بجاۓ ،،ہم نواز شریف ، زرداری ،الطاف ،اور عمران کے بنتے ہیں ،،ہماری سوئی کیوں ایک جگہ پر اٹکی رہتی ہے ،،ہم کو ہر جگہ حق کا ساتھ دینے کی عادت کیوں نہیں ہے ،،آپ میرے ساتھ اختلاف رکھو ،،مگر یہ مت کھو ،،کہ انقلاب باہر بیٹھ کر نہیں آتے ،،تو بھائی آپ کی بات بھی ٹھیک ہے ،مگر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ انقلاب یا تو شعور سے آتے ہیں یا تنگ آمد بجنگ آمد آتے ہیں ،،تو فکر نہ کرو ،،نہ مجھے للکارو ،،شعور تو ہمارے اندر ہے نہیں ،،لیڈر کوئی ہے نہیں ،جو لیڈ کرے ،،تو جب ہمارے گھر کا زیور اور برتن بک جایں گے ،،باہر  کے ملکوں سے عزیزوں کا سہارا بھی ختم ہو جاے گا ،،بل ادا کرنے کے لئے رقم نہیں ہو گی ،،سب راستے بند ہو جائیں گے تو پھر دمادم  مست قلندر ہو گا ،،،پھر کوئی مٹھی کھولے گا یا بند کرے گا ،،،انقلاب خود بخود اپنا راستہ تلاش کر لے گا ،،،،اور اس سارے خون خرابے کا ذمہ دار میرا غدار ،کرپٹ ،بےغیرت،نا اہل ،بزدل حکمران ہو گا ،،جس نے پھینستھ سال سے نظام کو تبدیل نہیں ہونے دیا ،،،باقی رہی میری بات تو میں سات دن کے اندر نظام بدل سکتا ہوں ،،،قادری صاحب کی جگہ اگر میں ہوتا تو کبھی اسلام آباد سے واپس نہ آتا،،عزت کی موت یا قوم کی زندگی لے کر آتا ،،،باقی تم نے کہا ہے کہ میں موت سے ڈرتا ہوں ،،تو میرا تم کو چیلنج ہے ،،میری موت کے پھانسی کے سارے انتظام تم کرو ،پارلیمنٹ کے سامنے ،،،اور قوم کو گارنٹی دے دو کہ جب تک موت کی تصدیق نہ ہو جاۓ،،مجھے پھانسی کے پھندے سے اتارا نہ جاۓ ،،،میری موت انقلاب کے لئے پہلی موت ہو گی ،،،گالیاں مت دو ،،انتظام کرو ،،،اور مجھے میڈیا کے ذریعہ اطلاح دے دو ،،میں آ جاؤں گا ،،کفن باندھ کر آؤں گا ،،،مجھے یہ طعنہ مت دو کہ میں کس کی ایما پر لکھتا ہوں ،،،میں ہر ایماندار ،سچے ،،مخلص ،،نڈر ،،لیڈر کی قدر کرتا ہوں اور کروں گا جو اس ملک کا فرسودہ ،گھٹیا ، نظام تبدیل کرے گا ،،،اگر زرداری صاحب بھی کر جاتے تو ان کے بھی تلوے چاٹتا،،،مگر افسوس ابھی تک تو کوئی غیرت مند حکمران ملا نہیں کہ جس کو اقتدار ملا ہو ،،تو اس نے غریب کے لئے کوئی قانون بنایا ہو ،،،باقی تم کہتے ہو کہ شریف برادران ملک کی تقدیر بدل دیں گے ،،میں بھی دکھوں گا تم بھی ایمانداری سے دیکھو ،،،مگر اتنا ضرور مجھ پر احسان کر دو ،،کہ میری دو سال  پہلے ہونے والی ڈکیتی کی ،ایف،،ائی،،آر ،،کا شہباز شریف سے جواب ضرور دلوا دو ،،،تم کو پھر واضح کرتا چلوں ،،کہ انقلاب ہی واحد حل ہے ،ان چوروں ،لٹیروں ،،غداروں ،،کا احتساب کرنے کے لئے ،،کوئی اور راستہ نہیں ہے ،،،،،باقی آئندہ ،،،،،،،،
،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

،،،،،،،،،،،،انسانی حقوق اور عالمی فلاحی تنظیمیں ،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،میں کیسے تسلیم کر لوں ،کہ پاکستان میں انسانی حقوق اور این ،جی،،اوز ،،،جیسی تنظیمیں کچھ نہیں جانتی کہ دہشت گرد کون ہے ،،بتھہ خور کون ہے ،،ٹارگٹ کلنگ کون کیسے کرواتا ہے ،،اسلہ کہاں سے آتا ہے ،کون سپلائی کرتا ہے ،کون لاسنس دیتا ہے ،،کراچی کا امن کون تباہ کرتا ہے ،پاکستان میں  بدمعاشی کون کرتا ہے ،،ڈرون حملے کس کی مرضی سے ہوتے ہیں ،،انڈیا کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت کون دیتا ہے ،،انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کروانے میں  ذمہ دار ہے ،،جبکہ افغانستان اور امریکا خود تسلیم کرتے ہیں ،،،،وغیرہ  وغیرہ ،،،،میں کیسے تسلیم کر لوں کہ گجرات والے چودھری ، یا رانا سناالله،،یا نتھو، خیرو  ، اگر کسی کو پولیس میں یا کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دیتا ہے تو وہ ملازم ان کی وفاداری نہیں کرے گا ،،،وہ تو ہر حال میں پہلے چودھریوں کا وفادار ہو گا ،،بعد میں پاکستان کا ،،،،بلکہ اگر یہ کہ جاۓ تو غلط نہ ہو گا ،،کہ پاکستان کی وفاداری پے  عمل کرنے والے اب کم ہی نظر آتے ہیں ،بلکہ جو ہوتے ہیں ان کو  کھڈے لاین لگا دیا جاتا ہے اور ان پر ایسے نظر رکھی جاتی ہے جیسے وہ غدار ہیں ،،اور غداروں کو تمغے اور گولڈ مڈل دے جاتے ہیں ،،جس طرح حسین حقانی ہر حکومت کا پیارا ہوا کرتا تھا ،،،میں  ماضی  کو دیکھتے ہووے کیسے تسلیم کر لوں کہ شریف برادران  اس نظام کو تبدیل کر دیں گے ،،اور فیصلے میریٹ پر کریں گے ،،جو خود کن ٹوٹے اور بدمعاشی کے ذریعہ خلیفہ بننے کے خواب دیکھتے ہیں ،،جو صرف پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر  کا مسلہ حل نہ کر سکے ،،،میں کیسے تسلیم کر لوں کہ ایک نا اہل ،بزدل ،اور خود اپنے داغ دھبھوں کے ساتھ  کوئی جرات کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت شریف برادران میں ہے ،،، میں کیسے تسلیم کر لوں کہ پریذیڈنگ افسر بھی میرا ہو اور الیکشن ریٹرننگ افسر بھی میں نے ٹرانسفر کروا کے اپنے حلقے میں لگوایا ہو ،،اور مجھے جتانے  میں میری مدد نہ کرے ،،میں کیسے تسلیم کر لوں کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی ،،،میں کیسے تسلیم کر لوں کہ پنجاب اور سندھ میں اپنی مرضی کے افراد نہیں لگاۓ گہے تھے ،،،مگر انسانی حقوق والی چمپین عاصمہ جہانگیر کی طرح خاموش ہیں ،،تاکہ میاں صاحب سے کوئی عھدہ مل جاۓ گا ،،یا شاید کوئی میڈل ہی مل جاۓ گا ،،کیونکہ پاکستان کی تاریخ یہی ہے ،،جس ملک میں ملک ریاض جیسی مافیا زرداری اور میاں صاحب کی دوست ہو ،،وہاں حکمران کوئی انقلاب لے آے گا نظام بدل کر ،،،،،میں کیسے تسلیم کر لوں ،،،،میرا کام رونا ہے اپنا خون جلانا ہے ،،سو میں جلا رہا ہوں ،،مت مجھ پے فیس بک پے الزام لگاو کہ کوئی مجھ کو فنڈنگ کرتا ہے ،،جس ملک میں قادری صاحب ،جمت اسلامی ،عمران خان ،ڈاکٹر قدیر،،حمد گل ،زاہد حامد،،اوریہ مقبول جان ،،شیخ رشید ،، سلیم بخاری ،،جیسے لوگ انقلاب نہیں لا سکے ،،وہاں میرے جیسے لوگ کیا انقلاب لے کر ایں گے ،،انقلاب اگر صرف مرنے سے آتا ہے تو سب سے پہلے مجھے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے پھانسی پر لٹکا دو ،،،،میں تیار ہوں ،،،ورنہ تم بھی بک بک نہ کرو ،،،کیونکہ میں بکواس کر رہا ہوں ،،اور یہ میرا تجزیہ ہے ،،کہ انقلاب ہی اس ملک کے تمام مسایل کا حل ہے ،،بغیر انقلاب کے تم کو غدار نظام تبدیل کرنے نہیں دے گا ،،،،،،،،
،،،،،،نہ بدلے  جس سے نظام  وہ انقلاب افکار  نہیں ہوتا
،،،،بہ جاۓ  جو لہو قوم  کی خاطر وہ  بیکار  نہیں ہوتا
،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

Thursday, May 23, 2013


,،،،،،،،،،،،،،،،،،الیکشن کمیشن کی پھرتیاں اور انقلاب ،،،،،،،،،،،
،،،،،،،کیوں کہتا ہوں کہ اس ملک میں انقلاب نا گزیر ہو چکا ہے ،،،اس ملک کے تمام مسایل کا حل اب انقلاب میں ہے ،،اب یہ حکمران پر منحصر ہے ،،کہ وہ گرین انقلاب لاتا ہے یا خونی انقلاب ،،،کیونکہ آپ نے پھچلے الیکشن کی طرح اس بار بھی الیکشن کمیشن کی پھرتیاں ملاحضہ فرما لیں ،،اور دیکھ لیا کہ انھوں نے کس طرح اپنی مرضی کے فیصلے کئے،،،اور کس طرح عوام کو پھر بیوقوف بنایا،،باشٹھ ،،ٹریشتھ ،کا شور ،،قرضوں کی واپسی ، جعلی ڈگری ،کرپشن ،بدعنوانی ،،کا شور اور نا اہلی کے قصے کہانیاں ،،،اور پھر کھوده پھاڑ نکلا چوہا،،،،،ہوا کچھ نہیں ،صرف عوام کی آنکھوں  میں دوهل جھونک دی گئی ،، اور ایک ایسا ڈرامہ ،،کھیل،،فراڈ ،،کھیلا گیا عوام کے ساتھ جس کا اینڈ بھی ڈرامائی انداز میں ہوا ،،فخرو بھائی کا کوئی کردار نہ تھا مگر بدنام آخری عمر میں ووہی ہووے ،،،کمانڈ کوئی اور کر رہا تھا ،،انہی نادیدہ ہاتھوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کیا ہے ،،اور اب دیکھو الطاف صاحب کی بین بازیاں ،،عمران خان کن لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا ،جنہوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد نہ ہونے دیا ،،، میاں صاحب کا بدلتا رویہ ،،مفاہمت کا ورد منافقت کے روپ میں ،،،کراچی میں فوج کی نگرانی میں الیکشن کیوں نہ کرواۓ گہے،،سوچنے کی بات ہے ،اس پر تجزیہ کروں تو بات بھوت دور نکل جاۓ گی ،،کہ سندھ ،بلوچستان ،پنجاب ،سرحد ،کس کس پارٹی کے سپرد کیا گیا ہے اور کیوں ،،،یہ سب خونی انقلاب کی دعوت دی گئی ہے ،،عمران خان کو بدنام کرنے کے لئے ،،،کیونکہ کچھ نا دیدہ ہاتھ نہیں چاہتے کہ نظام کو بدلہ جاے،،،ہر حکومت سرحد اور دوسروں صوبوں میں اس کے پس منظر کو دیکھتے ہووے پہلے بھی اور اب بھی دی گئی ہے ،،،سرحد میں پہلے جمت اسلامی کو بدنام کیا گیا ،پھر والی خان گروپ کو ڈالر بنانے کا موقعہ دیا گیا اور ان سے یہ کام لیا گیا کہ وہ ہر وقت یہ تسبیح کریں کہ یہ جنگ ہماری ہے ،حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،یہ مسلہ ہمارا ہے جسے ہم حل کرنے کی جرات نہیں رکھتے ،،،پہلے زرداری  نے مفاہمت کے نام پر ملک تباہ کیا اور اب میاں صاحب نے ورد شروع کر دیا ہے ،،،اللہ خیر کرے ،،،،دیکھنا یہ ہے کہ قتل و غارت گری ، دہشت گردی ،اور غنڈہ گردی ، اسی طرح چلتی ہے یا اس میں کوئی بہتری آتی ہے ،،،،لگتا تو یہی ہے کہ اسحاق ڈار جیسے لوگ ملک کی کیا تقدیر بدلیں گے ،،،اگر فری اینڈ فیئر ہو جاتے ،،تو ملک کا نقشہ بدل جاتا ،،،اسی لئے کہتا ہوں ،،کہ بہت سی کباحتیں ہیں جن کو نظام تبدیل کئے بغیر دور نہیں کیا جاسکتا ،،سوال یہ ہے کہ نظام کون بدلے گا ،،،یہ سوچنے والی بات ہے ،،میری ناقص سوچ کے مطابق انقلاب نا گزیر ہے ،،،،انقلاب ایک فرد واحد بھی لا سکتا ہے ،اور عوام تحریر چوک بنا کر بھی لا سکتے ہیں ،،،تم بھی دیکھو میں بھی  شہباز شریف  کا جوشے خطابت اور انداز حکمرانی دکھوں گا اور میاں صاحب کی مفاہمت کو دکھوں گا ،،اور دیکھوں  گا کہ میاں صاحب اپنی حلف برداری تقریب میں انڈیا کے حکمران کو بلا کر کس طرح کشمیر کے مسلہ کو حل کرتے ہیں ،،اور کس کے اشارے پر مفاہمت کا ورد کر رہے ہیں ،،مفاہمت سے لوگوں کا احتساب نہیں کیا جا سکتا ،،،قرضے  معاف   تو ہو سکتے ہیں وصول نہیں کئے جا سکتے ،،،الیکشن کمیشن کی پھرتیوں کو سلام ،،،جس نے میرے جذبات کے ساتھ کھیلا ،،،،کون جاۓ گا کورٹ میں عوام کا کیس لے کر ،،،،،،،کون یہ جنگ لڑے گا ،،کون نکلے گا سڑکوں پر ،،کون کرے گا احتجاج ،،،کیا رنگ لاین گے یہ الیکشن ،،،،کیا نا دیدہ ہاتھ اپنا مقصد اور ہدف حاصل کر پائیں گے ،،،جس کے لئے الیکشن کا ڈرامہ کھیلا گیا ،،،
،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،میلان،،،،اطالیہ،،،،،،،

Saturday, May 18, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،الیکشن ٢٠١٣ ،،قسط ٢ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،آھستہ آھستہ سب پارٹیوں پر الیکشن کی دھاندلی کے خدو خال نمایاں ہوتے جا رہے ہیں ،،گو کہ اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ غداروں کی گردن تک ہاتھ نہیں پنچ پاتا،،،کیونکہ ہمیں وہ چلا رہے ہیں ، جو صرف ڈالر کی زبان جانتے ہیں ،،اور پھر سیاستدانوں کو رام کرنے کے لئے اور خوش کرنے کے لئے امریکا کے سفیروں سے ملایا جاتا ہے ،،جس سے معاملہ  رفہ دفعہ کر لیا جاتا ہے ،،جو سلسلہ شروح کر دیا گیا ہے ،،جس طرح ہمارا کلچر ہے ، کہ جب کوئی نہیں مانتا تو اس کو شہر کے بڑے بدمعاش ،کن ٹوٹے راہے راست پر لانے کے لئے کافی ہوتے ہیں ،،جس طرح لاہور کے بیکری والے ملازم کے ساتھ ہوا تھا ،،اس نے  عدالت میں بیان بدل دیا تھا ،،کہ مجھے مارنے والا شریف برادران کا جوائی نہ تھا ،،یہ کام ایک کن ٹوٹے سے لیا گیا تھا ،،،اور اس کو اسمبلی کا ممبر بنا دیا گیا ہے ،،یہ ہے پاکستان کا نظام ،،جس کے تحت ہم ہر کسی کی مٹی پلید کرنے کے مجاز ہیں ،،،خواہ الیکشن قومی ہوں یا کونسلر کے ،،،،چھوٹے چھوٹے بدمعاش بڑے ایک بدمعاش کے سہارے چلتے ہیں ،،،اسی لئے ہم غداروں کو بھی پاکستانی جھنڈے میں دفناتے ہیں ،،یہ عزاز بھی صرف پاکستانی نظام کو حاصل ہے ،،اسی لئے کہتا ہوں کے اس ملک کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے انقلاب ،،،جو احتساب بھی کرے گا ،،قرضے واپس ،اسلہ واپس ،جاگیریں واپس ،بھی لے گا اور وڈیرہ شاہی اور ہر شاہی کو ڈنڈا بھی دے گا ،،،اور پھر ایسا نظام بدلہ جاۓ گا ،،جس سے میریٹ والا ،نڈر ،بیباک ،جذبے والا نوجوان وزیر بنے گا ،،،اس نظام میں یہ نہیں دیکھا جاۓ گا ،،کہ اس نوجوان کے پاس تجربہ ہے کہ نہیں ،،جس طرح شریف برادران طنزیہ کہتے ہیں کہ عمران خان کا نوجوان ناتجربہ کار ہے ،کیا حکومت چلاۓ گا ،،،میں پوچھتا ہوں کہ کوئی بھی ماں کے پیٹ سے تجربہ لے کر نہیں چلتا ،،،ان پرانے ،بےغیرت،کرپٹ سیاستدانوں سے زیادہ بہتر اس ملک کو چلا سکتا ہے ،،،میرا  عمران خان کو مشوره ہے کہ اس دھاندلی والے الیکشن میں جو اس کو امتحان میں ڈالا گیا ہے اور بدنام کرنے کی سازش کی گئی ہے ،،اس کا حل یہ ہے کہ پرویز خٹک کی بجاے کسی نوجوان ناتجربہ کار کو وزیر اعلیٰ سرحد بنا کر خود مانیٹر کریں ،اور بھونکنے والے کتوں کو ڈلیور کر کے دیکھا دیں،،نظام بدل کر دیکھا دیں،،یا اپوزیشن میں چلے جایں،،ورنہ یرہاد یہ تحریک انصاف کو بدنام کر دیں گے اور نوجوانوں کا نظام بدلنے والا خواب ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گا ،،،میڈیا ابھی سے عمران خان کے خلاف زھر اگل رہا ہے ،،اور عمران خان اپنی پڑتی سے ان تین لوگوں کو نکال دیں جو فیصلوں میں ڈنڈی مار رھے ہیں ،،،اس الیکشن میں دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑ کر عمران خان کو وزیر اعظم کی دوڑ سے باھر جان بوجھ کر رکھا گیا ہے ،،یہ سازش ہے ،،اس کا مقابلہ صرف دو طریقوں سے کیا سکتا ہے ،،یا تو عمران خان الیکشن کا بائیکاٹ کر کے انقلاب کی طرف نکل جاتے ،،مگر حادثہ کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکا ،،اب آخری راستہ ہے ،،کہ سرحد میں نظام بدل کر اقتدار نوجوانوں کے حوالے کر دیا جاۓ ،،تاکہ سب کتوں کا احتساب کیا جا سکے ،،سرحد کو غداروں سے پاک کر دو ،،،واضح پیغام دے دو ،،کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،،،،
،،،،،،،،،،،،میری کتاب خون کے آنسو ،کے چند الفاظ عرض کرتا ہوں ،،تو ناحق  خون بھا رہا ہے ہمارا ،،یہ جنگ ہماری نہیں ہے ،،،،،،،،یہ دہشت  گرد  ہے  تمارا ،،،یہ جنگ ہماری نہیں  ہے
،،،،،،،یہ  سازش  ہے  تمہاری ،،،،،یہ جنگ ہماری نہیں  ہے
،،،،،،یہ  امتحان  ہے  ہمارا ،،،،،،،یہ جنگ ہماری نہیں ہے
،،،،اگر عمران خان  اس امتحان میں سرخرو نہ ہووے ،تو وہ سازشی کامیاب ہو جایں گے جو نظام کو بدلتا نہیں دیکھنا چاہتے ،،،،،،نظام بدلنے کے ووہی خلاف ہے ،،جو بےغیرت ہے ،غدار ہے ،،ملک میں افراتفری چاہتا ہے ،،ملک دشمن ہے ،،،
،،،،،،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان ،،اطالیہ،،،،،،

Thursday, May 16, 2013


،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،الیکشن  ٢٠١٣ ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،،،،،الیکشن ٢٠١٣ ، ایک ناکام  ریاست ہونے کا منہ بولتا سبوت ہے ،،،بیوروکریسی کے کمالات میں سے ایک کمال ہے ،،،،پہلے کی طرح یہ الیکشن بھی پری پلانڈ تھے ،،کون  الیکشن کو مانیٹر کر رہا تھا ،،ان دیکھے ہاتھ  کہاں ہیں ،،بھوت سے سوالات گردش کر رہے ہیں ،،،عمران خان نے الیکشن کے خلاف تحریک چلانے کا کیوں علان نہیں کیا ،،،وہ باہر کیوں نہیں نکلے ،،اب کیا ہو گا ،،جوتوں میں ڈال کس طرح  بانٹی جاۓ گی ،،،،سب کچھ میں پہلے لکھ چکا ہوں ،،میری ویب سائٹ پر جا کر میرا ایک ایک کالم پڑھ لیں ،،،جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے ،،،مگر الیکشن کمشن کے سیکٹری کو تو اوباما صاحب کے الفاظ یاد ہیں ، ان کو ہمارے سچ سے کوئی غرض نہ ہے ،،،فخرو بھائی کے بس کا روگ نہ تھا اور نہ ہے اور نہ کوئی کردار تھا ،،اصل کردار ہر کوئی جانتا ہے ،،،جو میں لکھ چکا ہوں ،اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا ،،کہ ہر پارٹی کے اندر خرابی کہاں ہے ،،اور کیوں ہے ،،،صرف یہ دیکھو کہ بلوچستان میں مینگل صاحب کے چیخنے چلانے کے باوجود بھی نتایج کو تبدیل کیا گیا ،،سندھ میں کراچی والے گروپ نے کس طرح دس دس ووٹ دونوں ہاتھوں سے ڈالے،،،،،سندھ سے جماعت اسلامی ،تحریک انصاف ،اور فنکشنل ، کو  کس طرح اقتدار سے دور رکھا گیا ،،،پنجاب میں کم از کم تیس  سیٹوں پر تحریک انصاف کو نقصان پنچایا گیا ،،،اور سرحد میں تحریک انصاف کو گندہ کرنے کے لئے اور امتحان میں ڈالنے کے لئے جان بوجھ کر کمزور حکومت بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے ،،جو پہلے دن سے ہی پرویز خٹک کی وجہ سے عمران خان کی بدنامی کا ذریعہ بن چکی ہے ،،اور میڈیا کے ذریعہ عمران خان پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے ،،،،مجھے پتہ ہے کہ عمران خان سے فیصلے کروانے والے کون لوگ ہیں جو کافی مرتبہ عمران خان کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں ،،،،مگر عمران خان اکیلا بیچارہ کیا کرے ،،،،اور یہی حال نواز شریف کے ساتھ کیا گیا ہے ،،کھل کر وہ بھی نہیں کھیل  سکیں گے ،،آخر کار ووہی ہو گا جس طرح بیوروکریسی چاہے گی ،،،جس طرح ریمنڈ ڈیوس کا فیصلہ راتوں رات ہوا تھا ،،اسی طرح کے فیصلے ہوں گے ،،،نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری ،،،نواز شریف تو سمجھوتہ کر لیں گے ،،کیونکہ ان کو اقتدار سے دلچسپی ہے ،،،مگر عمران خان جلد ہی سرحد کی حکومت سے علیحدہ ہوتے دیکھ رہا ہوں ،،کیونکہ ایک  سچا ،دیانت دار ،اصولوں والا  جذباتی آدمی اس گلے  سوڑے، ،بیہودہ ،بےغیرت،،فرسودہ  نظام کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چل سکتا ،،،،ویسے جتنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ،،اس سے تو اب تک انقلاب آ جانا چاہئے تھا ،،مگر افسوس ایک تو جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو اکٹھا نہ ہونے دیا گیا اور دوسری وجہ عمران خان کو حادثہ کی وجہ سے فیصلہ کرنے میں دیر ہو گئی ،،،اب اگر کراچی کا مسلہ کسی ڈرامائی انداز میں حل نہ کیا گیا ،،تو ہو سکتا ہے ،کہ یہ آگ پورے ملک میں پھیل جاۓ،،،اور الیکشن کا ڈرامہ سجانے والوں کے ہاتھ سے کمال   ے  ہنر مندی کا نسخہ بکھر جاۓ ،،،،مگر ابھی تک ڈرامہ رچانے والوں نے بری مہارت سے سب لیڈروں سے بیان بازی کروا دی ہے ،،کہ ہم ہر ایک کے مینڈٹ کو تسلیم کرتے ہیں ،،،جبکہ یہ مینڈٹ نہیں ،،یہ اقتدار کی بندر بانٹ کی گئی ہے ،،جس  طرح کتوں کے آگے ہڈی ڈال کر خاموش کر دیا جاتا ہے ،،یا روٹی کا ٹکڑا ڈال کر دھیان کو تبدیل کر دیا جاتا ہے ،،،اس الیکشن کے رزلٹ سے پتہ چلتا ہے ،،کہ سب کو راضی کیا گیا ہے ،،،،،،باقی کل ،،جاری ہے ،،،،،،،،
،،،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،،میلان    ،،اطالیہ،،،،،،،،

,,,,,,,,,,,,,,,,,زرداری اور نواز شریف ،،،،،،،،،،،،
،،،،،،،یہ تو خدا جانتا ہے ،،کہ نواز شریف اب کون سا ایگریمنٹ زرداری سے کرتے ہیں ،،ان کا احتساب کون کرے گا ،،،یا جو شہباز شریف پھانسی کی باتیں کرتے تھے یا نثار صاحب جو چیخ  چیخ کر پارلیمنٹ میں باتیں کرتے تھے ،،کیا اب ان کا کوئی جواز باقی ہے ،،یا رات گئی بات گئی ،،،اب عوام بیوقوف نہیں بنے گی ،،،اور نہ کوئی بنا سکے گا ،،،،ویسے اخلاقی طور پر زرداری صاحب استفہ دے دیتے ،تو ان کا قد کاٹھ بڑا ہو جاتا ،،،اور وہ عوام کی عدالت میں جا کر کہ دیتے ،،،کہ دیکھوں گا الزام لگانے والوں کو کہ کون غیرت مند ہے اور کون بےغیرت اور چور ہے ،،،،مگر نہ تو زرداری صاحب نے اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ نواز شریف نے ابھی اندر کی کہانی بیان کی ہے ،،ویسے چند دنوں میں دھند واضح ہو جاۓ گی ،،،،کہ کون کہاں کھڑا ہے ،،،،،،ویسے میں ساری قوم سے ایک سوال کرتا ہوں ،،مجھے اس کا جواب چاہئے ،،کہ جو عشآیه زرداری نے اپنے جیتنے والے پارٹی کے ممبران کو دیا ہے ،،اس کی رقم قومی خزانے سے دی گئی ہے ،،تو کیوں ،،،،،،،،کیا پاکستان کے پرانے اور نئی حکمران اس کو نظام کہتے ہیں ،،کہ دوستوں کو ریوڑیاں  تقسیم کی جایں،،سرکاری خزانے سے ،،،،،،،سارا پاکستان جواب دے ،،،،،،خون میرا اور آپ کا ہے ،،،،،رایگان نہیں جانے دیں گے ،،،،،کیا ہمارے ساتھ ہمیشہ زرداری ، نواز شریف اور سارے حکمران یہی کرتے رہیں گے ،،،،،ان کے پاس اپنا ذاتی پیسہ نہیں ہے ،،کیا یہ میری طرح کنگلے ہیں ،،یا زکات کے حق دار ہیں ،،،،،،سوچو اور جاگو پاکستانی قوم ،،،،نہ یہ فون ،بجلی گیس اور پانی کا بل دیتے ہے ،،الٹا ہمارا خون کب تک چوستے رہیں گے اور کب تک یہ مردار کھاتے رہیں گے ،،،،،،،
،،،،،،جاوید اقبال چیمہ ،،ملن ،،اطالیہ،،،،،،،
،،،،،،،،،،٠٠٣٩،،،،٣٢٠،،،٣٣٧،،،٣٣٣٩،،،،،،،