Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Tuesday, September 30, 2014

........................................بکرا ..................................
..............بکرا  عید پر ہم  نے بھی کرنا ہے قربان  اک بکرا
.............سفید پوشی کی  بھرم  کا   ہے قدر دان    اک   بکرا
.............خون تو پہلے ہی بھوت بہ رہا ہے ہر طرف
............چڑھاوا جمہوریت کے لئے  ہے  شان  اک  بکرا
............آمریت  سے نکلا  تو پھنس گیا شکنجہ جمہوریت میں
............مجبوری کے پس منظر میں ہے انقلاب امتحان اک بکرا
...........جب چاہتا ہے یہاں   سارے  گر  آزما  جاتا  ہے
..........واہ  امریکا   کے  لئے   ہے  پاکستان  اک  بکرا
...........ذبح کرنے  سے  ہو  گا  قایم  دنیا  میں  امن
...........اسرئیل  کی  نظر  میں ہے  مسلمان  اک  بکرا
..........اتار  لو کھال میری  بہا دو  خون میرے حاکم
.........تیرے اقتدار کے لئے میں ہوں حکمران . اک  بکرا
.........گو نواز  گو کہتا ہوں مگر تجھے سمجھ  نہیں  آتی
.........انسانوں کی زبان کو بھی سمجھتا ہے زبان  اک  بکرا
.........خرید  لو  مجھے  اور  لے  لو  گوشت  کا مزہ جاوید
........لکھا  لو قصیدہ اپنا کہ میرا بھی ہے   قلمدان  اک بکرا
............جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Saturday, September 27, 2014

...........................سوچنے بولنے سمجھنے  کا شعور کس نے دیا ..............................
..........حمزہ شہباز تقریر چھوڑ کر چلے گے .کیونکہ ایک تو حسب روایت..بیوروکریسی کی عادت کے مطابق لیٹ آے..دوسرے تقریر اپنے مضمون کے خلاف جاری تھی ..تھے سارے مسلم لیگی نوجوان .مگر شعور کی بات دیکھئے کہ نوجوان اور بزرگوں سے یہ برداشت نہ ہوا .اور وہ اپنے ہی .وی.آئی .پی.کلچر کے خلاف اٹھ کھڑے ہووے اور تقریر کے دوران ہی انہوں نے حمزہ شہباز کو سمجھانا شروح کر دیا .مگر جب حمزہ نے پبلک کی ڈیمانڈ کے خلاف بات جاری رکھی تو لوگوں نے .گو.نواز.گو.کے نعرے لگانا شروح کر دے .جس سے لیڈر تقریر چھوڑ کر بھاگ گیا .بلکہ بیوروکریسی اپنی روایت کے مطابق حالات کو دیکھتے ہووے بھگا کر لے گئی.اب آئندہ ہال کے اندر ووہی داخل ہوا کرے گا .جو یہ ضمانت دے گا کہ وہ .گو.نواز گو..کے نعرے نہیں لگاۓ گا ..یہ خاندانی سیاست کے خلاف ..بجلی .گیس .کے بلوں کے خلاف .کرپشن کے خلاف .لوگ کیوں احتجاج کر رہے ہیں .لندن .امریکا .اٹلی .فرانس .بلجیم .ہالینڈ .آسٹریلیا .افریکا اور پورے ملک اور دنیا  میں لوگ سراپا احتجاج کیوں ہیں ..انصاف کیوں مانگ رہے ہیں ...کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کیوں چاہتے ہیں ..نظام کے خلاف کیوں ہو چکے ہیں .انقلاب اور تبدیلی کیوں چاہتے ہیں ..عوام بد کردار حکمران کو اپنا آجنڈہ کیوں بتا رہے ہیں ..عوام چنیل پر جاوید چودھری جیسے لفافہ اینکر کو کیوں پہچان جاتے ہیں .یہ سب شعور کی وجہ سے ہے ..یہ سب شعور عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنوں نے دیا ہے ..لوگوں کو خواب غفلت سے جگا دیا گیا ہے .لوگوں کو اپنے حقوق کا علم ہو رہا ہے ..لوگوں کو کرپٹ حکمرانوں کا اصل چہرہ نظر آ چکا ہے .لوگ اب جھوٹ بولنے اور سچ بولنے والوں کی پہچان کرنے لگے ہیں ..لوگ سمجھنے لگے ہیں .کہ پاکستان کا مستقبل اگر روشن کرنا ہے دیکھنا ہے تو پھر بلاول .حمزہ اور دوسرے خاندانی لٹیروں سے بچانا ہو گا ..آج کل تو لوگوں میں اتنا شعور آ چکا ہے .کہ وہ ہر پولیس افسر اور ہر جج کو جانتے ہیں کہ کون کرپٹ ہے اور کون کتنے پانی میں ہے اور کس کا آدمی ہے ..جب کوئی کمشن بنتا ہے .تو لوگ جج کے فیصلے سے پہلے جان جاتے ہیں کہ کا فیصلہ ہو گا .ابھی ابھی خبر آئی کہ نواز شریف کی نا اہلیت کے لئے تین رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے .اسی وقت دوست کا فون آیا جو کہ رہا تھا یار چیمہ یہ جو جواد خواجہ ہے یہ افتخار چودھری کا دوست ہے .یہ شعور کی بات ہے .پھر بھی میں نے دوست سے کہا حوصلہ رکھو ...اگر عمران خان اور قادری صاحب بہتر سمجھیں گے تو اعتراض داخل کر دیا جاۓ گا ..ہر زی شعور اب اپنے تحفظات کا ذکر خوف خطرے کے بغیر کر دیتا ہے ..کیونکہ دھرنوں میں ہر روز بد کردار ..نا اہل حکمران کی کرپشن اس انداز میں چیلنج کے ساتھ پیش کی جاتی ہے .جس کا جواب حکمران کے پاس نہیں ہے ..کیونکہ جب نواز شریف اور شہباز .زرداری .اکھٹے لنچ .ڈنر .کرتے ہیں .اور کہتے ہیں کہ دھرنے والوں کا آجنڈہ کیا ہے ..تو لوگ ہنستے ہیں .قہقے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں .کہ جب نواز .شہباز .کے ہر جلسہ میں .گو .نواز .گو .کے نعرے لگتے ہیں .تو حکمران کو قوم کے اجنڈے کا پتہ نہیں چلتا ..ویسے اندر کی بات ہے .کہ کل گوجرانوالہ میں ایک جگہہ بیٹھا ہوا تھا .وہاں پی.پی.پی.کے چند دوست مجھے بلاول بھٹو کے ساتھ اپنی تصویریں دکھا رہے تھے اور رازداری کے ساتھ بتا رہے تھے کہ زرداری صاحب خوش ہیں .جو کچھ بے عزتی نواز خاندان کی ہو رہی ہے ..ان کو پارٹی منظم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے .اور اشاروں اشاروں میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے .کہ ٢٠١٥ میں الیکشن ہونے والے ہیں ..تو بات ہو رہی تھی .کہ کن ٹٹوں.بدمعاشوں .جاگیرداروں .وڈیروں .کرپٹ افسروں کے خلاف نفرت کیوں اجاگر ہو رہی ہے .نا انصافیوں کے خلاف آواز کیوں بلند ہو رہی ہے ..کیونکہ عوام میں شعور آ رہا ہے .اور اس شعور دینے کا سہرہ عمران خان اور قادری صاحب کے سر جاتا ہے .ان دھرنوں کو جاتا ہے .انقلاب .آزادی مارچ کو جاتا ہے ..اور وہ جو کہتے ہیں کہ دھرنے فیل ہو چکے ہیں .ان کے چہروں سے نقاب اٹھتا ہے .کہ وہ اپنی قیمت لگوا چکے ہیں .آج ہی خبر آئی ہے .کہ میاں لطیف صاحب شریف خاندان کے لئے جھوٹ بولنے والے پاک صاف دامن رکھنے والے جھوٹے ..دو دفعہ بجلی اور گیس چوری کرتے پکڑے جا چکے ہیں ...لوگوں کو تمیز آ چکی ہے .کہ جھوٹا اور سچا کون ..لوگ پرکھ لیتے ہیں .دیکھ لیتے ہیں .اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں .کہ شیباز شریف کی فوٹو کے ساتھ جو اشتہار چل رہا ہے .وہ اشتہار قوم کے خون پسینے سے کیوں ہے .لوگ ٣٥ سال کی کرپشن کا شریف خاندان سے حساب مانگ رہے ہیں .لوگ جان چکے ہیں .کہ عدالتوں سے اپنے سارے کرپشن کے کیس ختم کروا رہے ہیں .مال ہضم .پیسہ حزم .لکڑی  ہضم..لوہا ہضم..سارے قرضے ہضم...قوم کآ خزانہ باہر دوسرے ملکوں میں ....سب کچھ واضح ہو چکا ..دودھ کا دودھ .پانی کا پانی ..عوام چاہتے ہیں .احتساب چاہتے ہیں .میریٹ .روزگار .چاہتے ہیں ..اب اگر انہوں نے جلدی میں بھرتی سے پابندی اٹھائی ہے .تو عوام اس چالبازی .مکاری کو سمجھ چکے ہیں ..یہ سب شعور کی کہانیاں ہیں ..جو لوگ نندی پر پراجیکٹ کو بھی سمجھ چکے ہیں اور اس پر ہونے والے خرچے اشتہاروں کو بھی جان چکے ہیں ...یہ شعور دینے .عوام کو جگانے پر عمران خان اور قادری صاحب کو مبارک باد  پیش کرتا ہوں ..اور جو لوگ مفاد پرست حکمران کو ڈیفنڈ کرتے ہیں .ان کا شکریہ ..کہ قوم کا مغالطہ .غلط فہمی دور ہو چکی ..کہ نظام کے koon  خلاف ہے .کون جاگیرداروں .وڈیروں .کے خلاف ہے اور کون ملک میں اسلامی نظام چاہتا ہے ..کوئی بات اب قوم سے پوشیدہ نہیں ہے ..چھوٹے چھوٹے صوبے ..اور بدیاتی حلقے وقت کی اہم ضرورت ہے ...یہ ہے دھرنوں سے پیدا ہونے والا شعور .....جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا .....٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Thursday, September 25, 2014

..............................انقلاب اپنا پہلا مرحلہ طے کر چکا ..................
.........میں نے اپنی ١٢ کتابوں میں اور اپنی ویب .انقلاب ے زمانہ .پر انقلاب کی قسمیں .اور تمام دنیا کے انقلاب کے بارے میں تفصیل اور انقلاب کی تعریف .اور بھوت کچھ انقلاب کے بارے میں لکھا .مگر آج مختلف مگر  مختصر لکھ رہا ہوں .کہ پاکستان کے آج کے منظر نامہ کی طرف دیکھتا ہوں .تو بھوت سے بھیانک چہروں سے اور پردہ نشینوں کے چہروں سے نقاب اٹھے ہیں .کہ جو سال ہا سال سے مجھے اور عوام کو بیوقوف بنا رہے تھے .کہ وہ ملک میں فرھنگی نظام کے خلاف ہیں .اسلامی نظام چاہتے ہیں .کچھ جاگیرداروں .وڈیروں کے خلاف تھے .کچھ کرپٹ خاندان اور مافیا اور بیوروکریسی کی منافقت کے خلاف تھے .اور انقلاب کے حق میں تھے اور نظام کی تبدیلی چاہتے تھے ..مگر خدا کی قدرت دیکھئے کہ جب اس قوم کو انقلاب اور نظام کی تبدیلی بھوت نزدیک دکھائی دے رہی تھی .اور دیوار گرنے کے قریب تھی .تو قوم کو وہ چہرے وہاں نظر ہی نہیں آے..جہاں دیوار کو گرانے کے لئے دھکے کی ضرورت تھی ..جبکہ الٹ ہوا .قوم حیران رہ گئی یہ دیکھ کر کہ وہ چہرے دیوار کو سنبھالا دینے میں لگے ہووے ہیں ..جن پر تکیہ تھا ووہی پتے ہوا دینے لگے ..جبکہ پوری قوم نے دیکھا کہ چور .لٹیرے .گندے .کرپٹ نظام کو بچانے کے لئے جائنٹ سیشن میں جھوٹ بول کر قوم کا اربوں روپیہ زیاہ کر کے پارلیمنٹ کا تقدس پامال کر کے گھروں کو جا چکے ہیں ..قوم کا ٦٥ سال کے بعد یہ سمجھ جانا ہی انقلاب ہے .اس شعور کا نام ہی انقلاب ہے ..کیونکہ عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنے نے جو قوم کو شعور دیا ہے .قوم کی آنکھیں کھولی ہیں .کرپٹ حکمرانوں کی اصلیت ظاہر کر دی ہے .یہی انقلاب ہے ..قوم کو پہلی بار پتہ چلا ہے ..کہ چند ہزار .چند لاکھ ووٹ لینے والے .پارلیمنٹ میں بار بار ٢٠ کروڑ کو بدنام کرتے رہے ..چند اینکر .جاوید چودھری جیسے اور چند صحافیوں .چند عتزاز حسن جیسے وکیلوں .چند مافیا گروپ .چند چینل .چند اخبار ...مولانا فضل رحمان .اچکزائی .اور پی .پی.پی..جیسی پارٹیوں کے چہروں سے نقاب تو اٹھا .مگر جماعت اسلامی .مفتی .دینی جماتیں .اور ایم.قیو .ایم.نے کرپٹ نواز شریف اور کرپٹ نظام کا ساتھ کیوں دیا .یہ میری سمجھ سے باہر ہے ..کیا یہ انقلاب نہیں ہے .کہ قوم کو کرپشن اور اس کے طریقہ واردات کا بھی علم ہو چکا ہے .٦٥ سالوں کے سارے چہرے قوم کے سامنے آ چکے ہیں .کیا یہ انقلاب نہیں ہے .کہ شہباز شریف اشتہار تو اپنی فوٹو سے لگاتا ہے .مگر پیسہ قوم کا خرچ ہوتا ہے .مشہوری اپنی کرواتا ہے .فوٹو سیشن قوم کا پیٹرول خرچ کر کے کر رہا ہے .رلیف کیمپپ لگتے ہیں .جب شیباز شریف چلا جاتا ہے تو تمام سمیٹ لئے جاتے ہیں ..جلسوں میں .گو .نواز .گو .کے نعرے لگتے ہیں .کیا یہ شعور نہیں ہے انقلاب نہیں ہے ..مگر یہ سچ ہے .حقیقت ہے .کہ کرپٹ حکمران کے نزدیک توڑ.پھوڑ.خون بہنے اور بہانے کا نام انقلاب ہے ..تو یہ سچ ہے کہ جو انقلاب حکمران اور جاوید چودھری جیسے لوگ دیکھنا چاہتے تھے وہ ابھی نہیں آیا ..اور جو میں جماعت اسلامی .متحدہ .عمران خان .قادری صاحب اور دینی مخلص مسلمان جماتوں کے اتحاد کی شکل میں دیکھنا چاہتا تھا . وہ ابھی نہیں آیا .مگر جلد امکان ہے .انشااللہ ..کیونکہ میں خدا اور نبی سے نا امید نہیں ہوں ..اور عمران خان .قادری صاحب کی اب تک کی کارکردگی سے مطمئن ہوں .کہ جتنی ایماندار سے انہوں نے شعور دے دیا ہے .قوم کو جگا دیا ہے .اس حد تک پر امن انقلاب اب تک کامیاب ہے ..اور دوسرے مرحلے کا انقلاب جو حکمران چاہتا ہے کہ کرپٹ اور کرپشن والے نظام کو بچایا جاۓ .تو وہ دوسرے مرحلے میں نہ نظام نہ کرپٹ حکمران بچے گا ..کیونکہ عمران خان نے ابھی تک ٹکٹ ہولڈر .یا ٹکٹ مانگنے والوں پر دس دس آدمیوں کو بھی لانے کا حکم نہیں دیا ..اور نہ کراچی کو بلاک کرنے کا پروگرام دیا ہے اور نہ ہر شہر شہر میں .گو.نواز .گو.ریلی کا حکم دیا ہے .نہ نظام حکومت دھرم بھرم کیا ہے ..نہ پارلیمنٹ پر قبضے کا پروگرام دیا ہے ..اور نہ ہجوم کا رخ رائونڈ کی طرف موڑا ہے ..ابھی دوسرے مرحلے میں بھوت کچھ ہونا باقی ہے .نواز شریف کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے ..کہ  تحریک انصاف  پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی نواز شریف کو گھر بھیجے بغیر گھر نہیں جاۓ گی ..اور جو .کتا .کتا ..ہاۓ..ہاۓ..والا انقلاب .نواز شریف اور اس کے حواری دیکھنے کے خواہش مند ہیں ..وہ سٹیج اب .گو .نواز .گو..کے بعد سجنے والا ہے ...انقلاب بھی آے  گا .نظام بھی تبدیل ہو گا .٢٠ صوبے بھی بنیں گے .بلدیاتی اور وفاقی اصلاحات بھی ہوں گی .دہلیز پر انصاف بھی ملے گا اور دما دم مست قلندر بھی ہو گا .کیونکہ حکمران عمران .قادری اور غیرت مند قوم کو احتجاج کے لئے مجبور کر رہا ہے ..یہاں تحریر اسکور بھی بنے گا ..کیونکہ نواز شریف .حسنی مبارک کی طرح ذلیل ہو کر بے عزت ہو کر جانا چاہتا ہے .لاتوں کے بھووت باتوں سے نہیں مانتے ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ...٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Monday, September 22, 2014

.....................الیکشن کمشن کا اعتراف جرم ..........................
.............یہ میری خوش قسمتی اور اللہ کی خاص کرم نوازی ...جس کا میں اگر ساری زندگی خدا کا شکر ادا کرتا رہوں .تو شاید نہ کر سکوں .اور بھوت ساری نعمتوں کے ساتھ ..کہ اللہ نے ایک خاص اسلامی ملک پاکستان میں مجھے پیدا کیا..اور پھر مسلمان گھرانے میں پیدا کیا..جبکہ میں نے خدا سے کوئی درخواست  بھی نہیں کی تھی .یہ ایک خاص کرم ہے نا ..جس کی طرف  غور کروں .تو شاید جا نماز سے اٹھنے کو دل ہی نہ کرے ..مگر بد قسمتی کی انتہاء دیکھئے .کہ ہم نام کے مسلمان رہ چکے ہیں ..دین اسلام کی کونسی ایسی خوبی ہمارے اندر ہے .نماز .روزہ .حج زکات .صدقہ .خیرات کو چھوڑو .ہم میں تو وہ  اخلاقی قدریں بھی نہیں ..جو ایک انسان اور حیوان میں فرق دیکھنے کے لئے ہوتی ہیں ..ایک پاکستانی ہونے کے ناتے بھی مجھ میں کوئی قانون اور آئین نام کی کوئی چیز نہیں ہے .لگتا ہے میں ایک جنگل میں رہتا ہوں ..سانپ .چیتا.شیر .کتا ..بھیڑیا..جس جس کا جس شکار سے پیٹ بھرتا ہے .وہ اپنا کام کرتا جاۓ ..شیر کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور نہ پاپندی ہے .کہ وہ شریف جانور ہرن کا شکار نہ کرے .یا یہ کرے وہ نہ کرے .وغیرہ وغیرہ ..اور بھوت سی خوبیاں بھی ان جانوروں میں ہیں جو ہم پاکستانیوں میں نہیں ہیں ..ذرا خود ہی غور کر لینا .میں عرض کروں گا تو سارے اخلاقی تقاضوں کی خود ہی نفی سر زد ہو جاۓ گی ..حالانکہ میں خود بھی ہر روز اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرتا ہوں کہ حکمران کو گالیاں لکھتا ہوں .برا بھلا کہتا ہوں .بد کلامی سے پیش آتا ہوں .غلط زبان استمعال کرتا ہوں .غلط نعرے پیارے پاکستان کے حاکم خلیفہ کے بارے میں لگاتا ہوں ..کیونکہ میرا حکمران مجھے پھانسی نہیں دیتا .میرے خلاف سپریم کورٹ میں نہیں جاتا ..صرف میرے اوپر آنسو گیس کے بمب پھینکتا ہے .سیدھی گولیاں چلاتا ہے .میری دھولایی کرتا ہے .ناجایز پرچہ کاٹتا ہے .ناجایز اندر بند کرتا ہے .ناجایز تشدد کرتا ہے اور وہ ناجایز حربے میرے ساتھ کرتا ہے .جو نہ آئین و قانون اجازت دیتا ہے اور نہ کوئی اخلاق ..میں تو اخلاق پڑھنے اور پڑھانے والوں سے اور سپریم کورٹ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اخلاقی تقاضوں کی تشریح تو کر دیں..کہ جب پارلیمنٹ میں ہر کوئی  اور وزیر بھی یہ تسلیم کر لیں .کہ دھاندلی ہوئی تھی اور ہر ادارہ رو رو کر دھائی دے رہا ہو کہ کچھ تھوڑا بھوت ہوا ہے اور الیکشن کمشن خود یہ اعتراف کر چکا ہو کہ ہاں ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں ..تو پھر کونسا اخلاق یا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے ..کونسا قانون باقی ہے ..جو اس بات کی اجازت دیتا ہے ..کہ حکومت چلتی رہے .آئین و قانون جاۓ جھنم میں ..نہ الیکشن کمشن .نہ سپریم کورٹ نہ کوئی اور ادارہ اخلاق و غیرت کا مظاھرہ کرنے کو تیار ہے اور نہ وزیر اعظم کسی اخلاقی سبق کو یاد کرنے کو تیار ہو ..تو لازمی بات ہے پھر میرے اندر سارے اخلاق تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جاۓ ..کیونکہ جب جنگل ہے تو پھر جس جس جگہ پر جس جس کا ہاتھ پنچے گا ..وہ اپنے پیٹ کی آگ بھی بھجاۓ گا اور اپنا خون بھی جلاۓ گا ..کیونکہ جنگل میں طاقتور خون پیتا ہے میرے حکمران کی طرح .اور کمزور خوں جلاتا ہے غریب کی طرح .....جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ میرے ملک میں نظام ہے .ان کے منہ پر الیکشن کمشن کا اعتراف ایک تماچہ ہے ....مگر شعور والوں کے لئے ..حلال اور حرام تمیز رکھتا ہے ................جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ...٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ .............
...............................جائنٹ سیشن پارلیمنٹ سے بے آبرو ہو کر نکلا ...........
.............جائنٹ سیشن ستمبر ٢٠١٤ اپنے اعتبار سے ایک تاریخی حیثیت حاصل کرنے کے بعد اپنے انجام کو پنچ چکا ہے .قوم کو بھوت کچھ دے گیا..عوام عوام کا دم بھرنے والوں کا پول کھول دیا .عوام کے غم میں آنسو بہانے والوں کو بےنقاب کر دیا ..حکمرانوں کا اصل چہرہ قوم کو دکھا گیا..اور ایک ایسا شعور قوم کے غریب طبقے کو دے گیا..جو شاید اب تک حاصل نہ کر پاۓ تھے ..یہ کریڈٹ تو بھر حال عمران خان اور قادری صاحب کو جاتا ہے ..کہ جنہوں نے جان کو ہتھیلی پر رکھ کر عوام کو قوم کو شعور .ولولہ .حوصلہ .جزبہ .جنوں ایسا دیا ..کہ قوم کو اپنی عزت .غیرت ملی .انصاف .قانون و آئین کا  تفصیل سے علم بھی ہوا اور آگاہی بھی ہوئی ..کیونکہ پارلیمنٹ کی تقریروں کے بعد ہر روز شکوہ جواب شکوہ کا مظاھرہ عمران خان اور قادری صاحب کی طرف سے ہوتا رہا ..گو کہ عوام کے ہجوم کو قوم  بننے میں    ابھی مزید وقت درکار ہے .کیونکہ کافی گلو بٹ ابھی موجود ہیں ..مگر پھر بھی سمجھتا ہوں  کہ اگر مڈ ٹرم الیکشن ٢٠١٥ میں ہو جاتے ہیں .تو ٦٠ پرسنٹ پاکستانی اپنے حقوق کے تحفظ کی خاطر آواز بلند کرنا سیکھ جایں گے .اور اگر بلدیاتی الیکشن اس ملک میں باقائدگی سے ہونے لگ جایں .تو جاگیرداروں .وڈیروں کی مٹی پلید ہو جاۓ گی ..کیونکہ ہم سب ہمیشہ ان لیڈروں کے دھوکے میں آ جاتے ہیں اور آ جاتے تھے .مگر بھلا ہو عمران صاحب .قادری صاحب اور میڈیا کا .جس نے  سب کچھ پارلیمنٹ سے براہ  ے راست دکھا کر میرے محسنوں کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ..ورنہ میں ہمیشہ دھوکے میں رہتا .کہ میرے لیڈر پارلیمنٹ میں بیٹھ کر میرا رونا روتے ہیں ..مگر جائنٹ سیشن میں کسی نے بھی عوام کا رونا نہ رویا..نہ قوم کی ترجمانی کی ..بس اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑتے رہے ..سب  سے اہم بات جو پارلیمنٹ میں کامن نظر آئی ..وہ یہ تھی کہ ساری پارلیمنٹ نے یہ تسلیم کیا..کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی .مگر اتنی اخلاقی جرات کسی میں نہ آئی کہ وزیر اعظم سے کہتے کہ تحقیقات کروانی چائے ..یا کوئی ایماندار اٹھتا اور سپریم کورٹ جاتا .درخوست دیتا کے تحقیقات کریں ..بلکہ الٹا یہ ہوا کہ ملک کا وزیر اعظم جھوٹ پے جھوٹ بولتا رہا .عوام کو قوم کو .دنیا کو بیوقوف بناتا رہا اور مفاد پرست تالیاں بجاتے رہے ..واہ واہ .پارلیمنٹ اور جمہوریت کے گماشتے زندہ باد...ہر ایک نے تسلیم کیا کہ شریف خاندان کی گردن میں سریا ہے .یہ خاندان کرپٹ ہے .بلکہ روزانہ کی بنیاد پر کرپشن ہو رہی ہے اور ٣٠ سال سے کرپشن کر رہے ہیں .مگر اخلاقی جرات .غیرت .کسی میں نہ آئی کہ دو لفظ     عوام کے  حق میں بول دیتے کہ یار عوام کا مزید خون مت نچوڑو ..اور عوام کو انصاف دینے کے لئے روزگار دینے کے لئے اور مہنگائی سے نجات دینے کے لئے کچھ نہ کچھ نظام میں تبدیلی کی جاۓ ..شاید میرے حکمرانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے .کہ پاکستان اب زیادہ دیر اس دلدل میں نہیں چل سکتا .نہ ان کرپٹ حکمران .کرپٹ مافیا کے سہارے چل سکتا ہے ..ان کے دن گنے جا چکے ہیں ..حکمران احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہو گا .جلد ہو گا ..اور اگر تبدیلی نہ آئی .نظام تبدیل نہ کیا گیا..حکمران نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش نہ کیا..جمہوری رویہ نہ اپنایا ..تو پھر ملک میں ایسا انقلاب آنے والا ہے .کہ جو مشترکہ قبروں کا بھی محتاج نہیں ہو گا ..سڑکوں پر خون ہی خون ہو گا اور پارلیمنٹ کے چوروں لٹیروں کا خون نچوڑا جاۓ گا .مگر کسی گلو بٹ کو بھی معاف نہیں کیا جاۓ گا ...ملک میں جو کچھ بھی ہو گا ..اس کا کریڈٹ کرپٹ حکمران اور اس نام نہاد بےغیرت.بد کردار پارلیمنٹ کو جاۓ گا ..اگر میں جنرل راحیل شریف یا ظہیر اسلام کی جگہ پر ہوتا تو اس پارلیمنٹ کو تمغہ امتیاز .تمغہ جرّت .تمغہ حرام اور سب تمغوں سے نواز دیتا ..مگر بد قسمتی دیکھئے اس ملک  کی ..کہ کوئی ادارہ بھی ایسا نہیں .جو کرپٹ .غدار .بےغیرت حکمرانوں کو نکیل ڈال سکے ..اسی لئے کہتا ہوں ..نا انصافی مردہ باد..پارلیمنٹ زندہ باد .کرپٹ حکمران پایندہ باد ...اور میری پیاری فوج میرے دکھ درد کی رکھوالی میری سرحدوں کی محافظ کو کونسا نعرہ لکھوں جس کی گرفت میں بھی نہ آ جاؤں ..وہ یہ ہے ..کہ تم بھی بے بس میری طرح ..تم بھی تماشہ دیکھو میری بے حسی کا ..میری بد قسمتی کا ..میری بے بسی کا ..آ مل کر کرتے ہیں آھو زاری ...لوٹ رہے ہیں سب مجھے باری باری ....جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا .............٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ .........

Saturday, September 20, 2014

...................مڈ ٹرم الیکشن .جمہوریت اور تیسری قوت .......................
..........اب جبکہ نا اہل کرپٹ حکمران اور سیاستدان .جمہوریت .جمہوریت  کا دن رات راگ الاپنے والے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں .اور جمہوریت بھی نافذ نہیں کر سکے ..بھوت سارے مفاد پرستوں کے ٹولے نے ملک کی پرواہ کئے بغیر نظام کی تبدیلی کے آگے دیوار کھڑی کر رکھی ہے . یہ پارلیمنٹ کا کردار دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے .کہ ہمارے حکمران کیوں چھوٹ بولتے ہیں کیوں عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ..اصل میں بات ووہی سچ ہے جو عمران خان اور قادری صاحب کہ رہے ہیں .کہ یہ تو پیسہ بنانے آتے ہیں اور پھر کچھ صدر سے معاف کروا لیتے ہیں .کچھ عدالتوں کو خرید کر معاف کروا لیتے ہیں ..اور پاک صاف شفاف بن جاتے ہیں ..اور ہر حکمران دوسرے بد کردار حکمران کو تحفظ فراھم کرتا ہے .اور اس طرح یہ بلی چوہے کا کھیل جاری رہتا ہے .اور ٦٥ سالوں سے جاری ہے ..اور پروٹوکول کے ساتھ عوام کو دکھانے کے لئے دورے اس طرح کرتے ہیں .جس طرح گلہری درخت پر سیر کرتی ہے .کبھی اوپر سے نیچے اور کبھی نیچے سے اوپر ..بس ان کی بےسود آنیاں اور جانیاں دیکھو ..بیچارے پاخانہ بھی عوامی مفاد میں کرتے ہیں ..ہر بار یہ مختلف قسم کے نعرے لگاتے ہیں .کبھی بجلی گیس کے .کبھی بیروزگاری .مہنگائی ختم کرنے کے نعرے.کبھی روٹی .کپڑا .مکان کے نعرے..کبھی کالاباغ ڈیم بنانے کے .کبھی مزید صوبے بنانے کے نعرے..کبھی گوادر کو دوبئی بنانے کے نعرے.کبھی کشکول توڑنے کے نعرے.کبھی اپنے معدنی وسایل سے استفادہ کرنے کے نعرے.کبھی نظام کو تبدیل کرنے .اور جاگیرداروں .وڈیروں سے زمینیں واپس لینے کے نعرے..کبھی عوام کی دہلیز تک انصاف پنچانے کے نعرے...مگر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی دیر ہوتی ہے .سب وعدے ختم .صرف مال بنانے اور مال باہر منتقل کرنے پر زور ..اور بس اقرباپروری ..اور ہر شاخ پر ڈاکو بٹھا کر عوام کا خون نچوڑنے کی واردات ..بس یہی کچھ ہو رہا ہے ..مگر میرے جیسا پاکستانی سوچتا ہے .کہ اگر حکمران پاک صاف ہے .عوام میں مقبول ہے .تو مڈ ٹرم الیکشن میں جانے سے کیوں ڈرتا ہے .نظام تبدیل کرنے سے کیوں ڈرتا ہے .یونین کونسل کے الیکشن کروانے سے کیوں ڈرتا ہے ..اور پھر اگر کرپٹ حکمران بےلگام ہو ہی چکا ہے .ملک کو برباد کرنے پر تل ہی چکا ہے .اور جب یہ بات ثابت ہو چکی ہے .کہ عالمی سازشوں کے ہاتھوں کھیل رہا ہے .ہندوستان کے ہاتھوں کھلونا بن چکا ہے .کشمیر اور پانی کا ایک بھی مسلہ حل نہیں کر سکا .جبکہ کراچی کا امن بھی بھال نہیں کر سکا .اور جیو .جنگ گروپ جیسے غداروں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ..تو پھر تیسری قوت کیا دیکھ رہی ہے ..اس کا مطلب ہے کہ قوم کو اب فوج سے بھی مایوس کروایا جا رہا ہے ..میں یہ نہیں کہتا کے فوج مارشل لا لگا دے ..مگر اپنا کردار تو ادا کرے .کم از کم چند اصلاحات کے بعد مڈ ٹرم  الیکشن تو کروانے کے لئے تو اپنا کردار ادا کر سکتی ہے ..میری فوج اتنی بھی گئی گزری نہیں .کہ وہ قوم کو اس بحران سے بھی نہ نکال سکے .جبکہ پاکستان کی تاریخ میں فوج نے ہر قسم کے کردار ادا کئے ہیں ..میں مارشل لا کے خلاف ہوں .مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک تباہ ہوتا رہے اور فوج دیکھتی رہے ..آخر کسی نے تو ان کرپٹ سیاستدانوں کو نکیل ڈالنی ہے .نظام کو تبدیل ہونا ہے .تو وہ کوئی باہر سے آے گا .یا اوبامہ صاحب آ کر ہمارا نظام تبدیل کریں گے .کیونکہ پارلیمنٹ والوں نے تو ثابت کر دیا ہے .کہ وہ نظام کی تبدیلی کے آگے دیوار ہیں .تو وہ کون ہو گا .جو ان سے کہے گا .کہ انسان بن جاؤ .اور اپنی جمہوریت کو سبھالو .اسے لگام ڈالو .پٹری پر چڑھنے دو .ورنہ کرین کو فوجی ڈرایور کی ضرورت پڑ جاۓ گی ..میں دست بستہ فوج سے تیسری قوت سے عرض کرتا ہوں .کہ جناب ضیا صاحب اور مشرف بہادر صاحب نے پہلی غلطی یہ کی .کہ مارشل لا لگایا .دوسری غلطی یہ کی کہ سیاستدانوں کو ساتھ بھی ملایا اور چارہ بھی ڈالا ..مگر خدا راہ اب  تماشہ دیکھنے والی غلطی نہ کرو ..تیسری قوت بھی غلطی پے غلطی نہ کرتی جاۓ .کیونکہ اگر کیانی صاحب افتخار چودھری کو بھال کروا سکتے تھے ..ناممکن کو ممکن بنا سکتے تھے .اور ملک کو بحران سے نکال سکتے تھے ..تو آج آپ اتنا سا کردار ادا کیوں نہیں کر سکتے ..کہ اپنی نگرانی میں اصلاحات کروا کر مڈ ٹرم الیکشن کروا دیں..تاکہ جمہوریت پٹری پر چڑھ جاۓ ..جبکہ سیاستدان فیل ہو چکے ہوں ..اور ویسے بھی اپنے گھر میں خود سر اولاد کو راہ راست پر لانے کے لئے کسی تھانیدار کی ضرورت تو ہوتی ہے نہ آخر ..اس میں ہرج ہی کیا ہے .کہ میری بگڑی ہوئی اولاد کو کوئی گھر کا بڑا سمجھا دے اور گھر کی بات گھر میں ہی رہ جاۓ ..اور اگر تیسری قوت تماشا دیکھنا چاہتی ہے ..تو پھر پاکستان میں انارکی پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور شاید عراق سے بد تر صورت حال کا سامنا کرنا ہو گا .تب فوج کیا تماشا ہی دیکھے گی ..آخر کب تک ..مرض کا علاج گولیوں اور کیپسول اور کڑوے شربت سے ہو جاۓ .تو بہتر ..ورنہ آپریشن آپریشن ہی ہوتا ہے .چاہے چھوٹا ہو یا بڑا..آپریشن سے بچنا چاہئے ..تیسری قوت میرا علاج کر لو . اس سے پہلے کہ آپریشن کی نوبت آ جاۓ ..ویسے اس دفعہ آپریشن بڑا سخت دیکھ رہا ہوں ..سیاستدان جمہوریت کے نشے میں مد حوش ہیں ..اس دفعہ بھوت سارے لوگوں کو پھانسی کے پھندوں تک جانا ہو گا .اگر صدام کی طرح ہٹ دھرمی کو نہ چھوڑا..اور نوشہ دیوار نہ پڑھا تو ....بہتر ہو گا حکمران ہوش کے ناخن لے ..
......جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ....٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ ........

Monday, September 15, 2014


.............عمران خان کا پیغام .حکمرانوں کے نام ............................
..............جزبہ قوم اور امن کی شمع جلانے نکلے ہیں
.............دستور شعور آگہی تجھے سمجھانے نکلے ہیں
.............آزاد امن پسند غیرت مند قوم ہیں ہم
............تجھے اور دنیا کو یہ باور کروانے نکلے ہیں
.................................یہ  تمہیں بتانے نکلے ہیں
................................ہم  ملک بچانے نکلے ہیں
...........غداروں بے ضمیروں کو بھگانے نکلے ہیں
..........دھرتی کا ہر پرانا قرض چکانے نکلے ہیں
.............باندھ   کے   سر  پے  کفن
.........شمع تبدیلی نظام جلانے نکلے ہیں
..............................یہ تمہیں بتانے نکلے ہیں
.............................ہم ملک بچانے نکلے ہیں
........عشق محمد سولی پے چڑھنے سے نہیں ڈرتا
.......یہ میڈل سینے پے سجانے  نکلے  ہیں
......ہماری عزت  و غیرت پر تو نے کیا حملہ
.....اب تیری غیرت کو بھی دفنانے نکلے ہیں
.....تیری امداد کی بیساکھیوں پر  نہیں جینا
......تیرے کشکول کو ہٹانے  نکلے  ہیں
......اپنے سر  کو  جھکایا  نہیں ہم  نے
......اس  سر  کو  کٹانے  نکلے  ہیں
..........................یہ تمہیں بتانے نکلے ہیں
.........................ہم ملک بچانے نکلے ہیں
.........تیری فرونیت کو خاک میں ملا دیں گے
.......تیری کرپشن کو سمندر میں بھا دیں گے
.......بدل کر نظام دنیا کو  دکھا دیں  گے
......تخت شاہی پر انقلاب کا  دیا جلا دیں گے
......................یہ تمہیں بتانے  نکلے  ہیں
....................ہم  ملک  بچانے  نکلے  ہیں
......آزادی لانگ مارچ سے  تیرا چہرہ زرد ہے
.......تیرے پیٹ میں بس یہی اک  درد  ہے
.......انقلاب  پاکستان  کے آگے دیوار  ہے  تو
......اس  دیوار کو گرانے میں تیار  ہر فرد ہے
........................یہ تمہیں بتانے نکلے  ہیں
......................ہم  ملک بچانے  نکلے  ہیں
........مذاکرات کا ذکر اب بار بار نہ کر
......چھوڑ میرے مستقبل کو اپنی فکر  کر
.....ہم  بدلنا  چاھتے ہیں نظام  کو
.....تو رکاوٹ میں اگر مگر نہ کر
.......................یہ تمہیں بتانے نکلے ہیں
......................ہم  ملک بچانے  نکلے  ہیں
......ہم نے لانا ہے انقلاب اس ملک میں
.....بدل دیں گے  ہم  اس  فرسودہ  نظام  کو
....تیری نا انصافی .کرپشن سے بیزار ہیں ہم
.......بدل  دیں گے  تیری  ہر رنگین شام کو
...................یہ تمہیں بتانے نکلے ہیں
..................ہم ملک بچانے نکلے ہیں
.........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اٹلی والا ..٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨