Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Thursday, October 10, 2013

............................شیر کی ١٠٠ دن کی زندگی .....................
...........جو لوگ جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں وہ اپنی جگہ پر شاید سچے ہوں ..مگر پاکستانی جمہوریت پر لعنت بھیجنے والوں میں بھی  کمی نہیں آئی بلکہ   فرسٹریشن - اکتاہٹ اور ناامیدی میں اضافہ ہوا ہے ..اور جو لوگ پرویز مشرف اور زرداری کی جمہوریت سے تنگ تھے وہ شیر کی ١٠٠ دن کی کارکردگی سے نہ تو مطمئن ہیں  بلکہ بد دل ہو چکے ہیں ....شیر کی زندگی سمجھوتوں پر چل رہی ہے ..عالمی طاقتوں اور دوستوں اور بیوروکریسی کو خوش رکھنے پر چل رہی ہے اور ٦٥ سالوں کی تاریخ کے مطابق غریب کی زندگی اجیرن کر دی گئی  ہے ...١٠٠ دن کے اندر مشرف - زرداری اور الطاف بھائی کے ساتھ سمجھوتے کئے  گہے ..احتساب اور انصاف کا گلہ  گھونٹا گیا ..کیانی صاحب کو پردے کے پیچھے سے راضی کیا گیا ..پرانی ڈگر پر  چل کر وفاداروں کو چن چن کر محکموں کا سربراہ لگایا گیا اور ابھی یہ مشن جاری ہے ..اور پہلے  کی طرح سینارٹی کو پش پشت ڈال کر چمچے تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے ...١٠٠ دن کی کارکردگی میں کرپشن ..مہنگائی ..بیروزگاری ..لوٹ مار اور بجلی .گیس .پیٹرول  میں اضافہ سرے فہرست ہے ...کوئی نظام نہیں بدلہ اور نہ بدلنے کی طرف گامزن ہیں ....تھانے - پٹواری - کچہری - سب کے سب پہلے کی طرح اپنی کرپشن کی انتہا میں ہیں ....لاکھوں  پْرانی تھانے  کی رپورٹ پہلے کی طرح گل سڑ رہی ہیں ...کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ..شریف برادران کی تمام تر دماغی قوت  اس نقطے پر خرچ ہو رہی ہے کہ کس طرح  اقتدار کو دوام بخشا جاۓ ..کس طرح طاقت کا سر چشمہ کوئی ضیاء بٹ کی طرح لانے کی دوبارہ کوشش کی جاۓ ..تاکہ خلافت کا خواب پورا کیا جا سکے ...اور کس طرح پلاننگ کے تحت پہلے چار سال عوام کا کچومر نکالا جاۓ اور آخری سال بینظیر سکیم کی طرح خزانے کا بیڑہ غرق کر کے اپنوں میں ریوڑیاں بانٹی جایں ..تاکہ کوئی لیپ ٹاپ وغیرہ کی طرح  رشوت عوامی خزانے سے دے کر پھر ووٹ خریدے جایں ..اب تک زرداری کی ملی بھگت سے باری باری  خزانے کو لوٹنے اور عوام  کو بکرے کی طرح ذبح کیا گیا ہے اور مزید یہ کام جاری رہے گا ..کیونکہ انصاف کے ساتھ  احتساب کرنے والوں نے نیپ کا چیئرمین اپنی مرضی کا لگا کر انصاف کا حساب برابر کر دیا گیا ہے ....اب عمران خان کو مجبور کر دیا گیا ہے اور مجبور کر کے کہا جاۓ گا کہ کر لو جو کرنا ہے ....اور عمران خان بھی آخر کار یہ بات سمجھ جاۓ گا کہ اس ملک میں یہ بےغیرت جمہوریت نظام نہیں بدل سکتی ...کیونکہ جس طرح دھاندلی کے مناظر منظر عام پر آ چکے ہیں اور ہر چہرہ عیاں ہو رہا ہے ...مہذب معاشرہ مہذب جمہوریت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ الیکشن ایک بار پھر فوج کی موجودگی میں جلد از جلد کروا دئے جایں ...مگر منافق حکمران یہ کبھی بھی نہیں ہونے دے گا ..کیونکہ ایسا ان ملکوں میں ہوتا ہے جو مہذب ہوتے ہیں ..مگر ہم اس الفاظی جملوں سے بھی بھوت آگے نکل چکے ہیں ...ہم بھوک ننگ - اغوا - ڈاکوں اور قتل و غارت گری میں مر رہے ہیں اور ہمارا حکمران ہم کو آزادی کا اور امید کا اور صبر کا لیکچر دیتا ہے ......١٠٠ دن کی کارکردگی کو اگر تفصیل سے ایک ایک کارکردگی کے پس منظر میں جاؤں تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ...کہ کیوں اداروں کو فروخت کرنے  کے بارے میں سوچا جا رہا ہے ..کس طرح اور کیوں  نندی پر پراجیکٹ پر کرپشن کی گئی ....کس طرح اور کیوں حمزہ شہباز ہزاروں گاڑیوں کی درآمد کر رہا ہے ...یہ سب میرے حکمران کے نزدیک قصے کہانیاں ہیں ..کیونکہ میں نیپ کا چیئرمین نہیں ہوں ..ورنہ  حسین  حقانی کب کا  ملک واپس لا کر حساب اور انصاف کیا جا چکا ہوتا  ..نہ مشرف کی ضمانت ہوتی اور اب تک زرداری کی تمام کرپشن عوام   کے سامنے بھی  آ چکی ہوتی ....یہ ١٠٠ دن کی کارکردگی شیر کو زیب نہیں دیتی . زرداری کے نعرے تو لگتے لگتے ٹل گہے تھے ...مگر  ..وہ وقت اب قریب ہے کہ شیر کے نعرے ضرور لگیں گے ...اگر شیر اپنے شکار کے لئے بھوکا ہے تو وہ بھوک  مٹانے  کے لئے دوڑے گا مگر آخر کار عوام  جیت جایں گے .. جب  عوام زندگی بچانے کے لئے دوڑیں  گے انشااللہ .....
........جاوید اقبال چیمہ....میلان ....اطالیہ ......١٠...١٠...٢٠١٣
 

Sunday, October 6, 2013

............................
من موہن سنگھ کا بیان .................

.............

میں ہندوستان کے حکمرانوں کی اقوامے متحدہ میں کارکردگی پر ان کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں ...یہ ان کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے بےغیرت حکمرانوں کو آئنہ دکھاتے رہیں ..تاکہ جو انڈیا کے ساتھ تجارت کی فیشن کی . میوزک کی . امن کی پینگیں چڑھاتے رہتے ہیں .ان کی آنکھیں کھل جایں ..یا ان میں غیرت اور ضمیر جاگنے کا کوئی عمل شورع ہو جاۓ ...امن کی آشہ والوں کی بھی شاید غیرت جاگ جاۓ ..اور وہ اپنا قبلہ تبدیل کر لیں ...اس سے زیادہ اور کیا پاکستان کی بےعزتی ہو گی ..کہ بغل میں جھری منہ میں رام رام والوں نے ہمارے منہ پر ایک اور تھپڑ رسید کر دیا ...میرے حکمرانوں کو چلی میں پانی لے کر ڈوب مر جانا چاہئے ..جو بار بار انڈیا کے حکمرانوں کے تلوے چاٹتے ہیں ..صرف اپنی کرسی کی خاطر ...میرے حکمران کو پاکستان کی سالمیت عزیز نہیں ہے ..ان کو عالمی ٹھیکیداروں کی خوشنودی عزیز ہے ..پاکستان کا حکمران اپنا کیس صح طرح پیش کرنے میں ناکام رہا ....ہم ہر وقت یہی کہتے رہے کہ اب کی مار سالے ....مگر اب تو یہ بھی طاقت ختم ہو چکی ہے ...اللہ خیر کرے اور میرے حکمران کو استقامت دے ..کہ وہ ہندوستان کو کبھی تو یہ کہ سکیں ...کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں ہے بلکہ ہندوستان ایک دہشت گرد ملک ہے ..انڈیا پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہا ہے ...پانی ..کشمیر ..بلوچستان کے مسلۂ کو اٹھاتا ..جو ظلم انڈیا کے مسلمانوں پر ہو رہا ہے وہ اٹھاتا ...پاکستان کو اقوام متحدہ میں صاف صاف کہنا چاہئے تھا ..کہ انڈیا افغانستان کے اندر ٢٠ قونصل خانے کھول کر کیا کر رہا ہے ..کیا مونگ پھلی کی خرید و فروخت کا کاروبار کر رہا ہے ..یا دہشت گردوں کی ٹریننگ کر رہا ہے اور کیوں ....پاکستان کے حکمران بھی کیسے حکمران ہیں ..کہ وہ تو اتنی طاقت بھی نہیں رکھتے کہ اس بےغیرت مشرف کو ہی پھانسی دے دیں ..جس نے اس آگ والی جنگ میں چھلانگ لگا کر فتنہ فساد کھڑا کیا ....اور پاکستان کا صرف امن ہی تباہ و برباد نہیں کیا ..بلکہ پاکستان کی سالمیت بھی داؤ پر لگا کر چلا گیا ...اس جنگ نے پاکستان کے اندر ہر برائی کو جنم دے دیا ہے ..جس کا کوئی حل بھی نہیں ہے ..اور ہمارا حکمران اتنا بےحس ہو چکا ہے کہ وہ ہر غریب کے گھر ہونے والے ماتم سے بے خبر ہے اور اپنی عیاشی میں مگن اور کرسی کو بچانے کے چکر میں ہے ...ملک کی عزت کو من موہن سنگھ دنیا میں برباد کر گیا اور ہم دیکھتے رہ گہے ..یہ آج نہیں ہوا ..میرے پالیسی ساز نے ہمیشہ یہی وطیرہ اپنایا ہے ...کیونکہ میرا پالیسی ساز ہی ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے ...ہم کو ہندوستان کے سفارتی ..تجارتی .مذاکراتی ..تمام کے تمام حتہ کہ اخلاقی دروازے بھی بند کر دینے چاہئیں ...اور انڈیا کو کہ دینا چاہئے ..کہ کھل کر کھیل .....ہم تو مر ہی چکے ہیں ..برباد بھی ہو چکے ہیں ..دنیا میں بدنام بھی ہو چکے ہیں ...اب اس سے زیادہ کیا ہو گا ...مردے کو قیامت سے کوئی غرض نہیں ہوتی ..اس کے لئے ووہی قیامت کا دن ہوتا ہے ..جس دن اس کا سانس اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے ......انڈیا سے اچھائی کی امید رکھنے والا بھی بےغیرت اور غدار ہے .......ٹھیک کہا تھا میرے بزرگوں نے کہ ظالم اتنا بےغیرت نہیں ہوتا ..جتنا ظلم سہنے والا بےغیرت ہوتا ہے .......میری ہر برائی کی جڑھ میرا حکمران ہے ..میری تھوڑی سی نفرت کا سبب بھی یہی ہے ...میری ہر اخلاق سے گری ہوئی حرکت کا ذمہ دار میرا حکمران ہے ...جو لوگ یہ کہتے کہ جیسی عوام ویسا حکمران ..ان کو حکمران کا فرض نہیں بھولنا چاہئے ..عوام کا کیا قصور ہے ..عوام نے کبھی بھی حکمران منتخب نہیں کے ...ہمیشہ ایک خاص منصوبے کے تحت بیوروکریسی -اسٹیبلشمنٹ -اور کبھی عالمی طاقتیں اپنی اپنی مرضی کا کھیل کھیلتی ہیں اور سٹیج سجاتی ہیں ..٦٥ سالوں سے تھانیدار -پٹواری اور کارپوریشن کا نظام تو حکمران دے نہیں سکا ..کیونکہ حکمران کو کرپشن . اقرباپروری عزیز ہوتی ہے .ورنہ اسحاق ڈار وزیر خزانہ کبھی نہ ہوتا ......امن کی آشہ والے اور موہن سنگھ زندہ باد اور میرا حکمران اور پالیسی ساز مردہ باد ...........جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ ...

Saturday, September 28, 2013

........................حکمران .. معاشرہ  اور عالمی بینک  .......................
................یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے . حقیقت ہے ..اس کو نہیں جھٹلایا جا سکتا ..کہ دین اسلام کے اپنانے سے . اس  کے اصولوں ضابطوں کو اپنانے سے معاشرے کی برائیوں کا تدارک کیا جا سکتا ہے ....مگر اس وقت اگر حالات  و واقعات کا بغور جائزہ لیا جاۓ ..تو  یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے ..کہ معاشرے کی بربادی میں کرپٹ .نا اہل اور بد کردار حکمران کا عمل دخل واضح نظر آتا ہے ..بلکہ میرے نزدیک تو سب برائیوں کی جڑھ  ہی بد کردار حکمران ہے ...کیونکہ آپ اس حقیقت سے کبھی بھی انکار نہیں کر سکتے کہ معاشرے کی بربادی کی بڑی وجہ . مہنگائی .بیروزگاری اور انصاف کے ناپید ہونے کی وجہ سے ہے ..کیونکہ حکمران اقربا پروری . سفارش اور رشوت والا نظام چاہتا ہے ....کیونکہ حکمران نا اہل ہے اس لئے نظام تبدیل کرتے ہوۓ  ڈرتا ہے ..بزدل ہے اور مکار بھی ہے ..اس لئے اپنی کرسی کو بچانے کے لئے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیلتا ہے اور عالمی بینک سے قرضے لیتا ہے اور ان کی شرایط  کو تسلیم کرتا جاتا ہے اور مہنگائی  کرتا جاتا ہے ...حتہ کہ معاشرے میں ہر برائی جنم لے  لیتی ہے ...ساری برائیوں کی جڑھ یہ کشکول ہے جو حکمران چند غداروں کی وجہ سے تھام لیتا ہے ..کیونکہ وہ نقشہ ہی ایسا  پیش کرتے ہیں کہ بدکردار حکمران کو کشکول کے بغیر کرسی دن میں بھی گھومتی  نظر آتی ہے .....آپ پوری دنیا کے ملکوں پر غور کر لیں .نظر دوڑا لیں کہ جن جن ملکوں نے بھی عالمی بنکوں سے قرض لئے وہ کبھی خوشحال نہیں ہوۓ ...چند ایک نے جو صحیح مصرف کیا ..صحیح طریقے سے صحیح عوامی منصوبوں پر خرچ کیا وہ تو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گے   ..مگر زیادہ تر اپنے کرپٹ حکمران کی وجہ سے معاشرے کو ایسی دلدل میں پنچا گہے ..جہاں سے واپسی کا سفر سواۓ انقلاب اور خون خرابے کے کچھ بھی اور کبھی بھی نہیں  نکلے   گا ...اگر میں یہاں انڈونیشیا یا کی دوسرے ملکوں کی مثالیں دوں ..یا مختلف ملکوں کا جایزہ پیش کروں جن ملکوں کا سفر کر چکا ہوں اور جو میں دیکھ چکا ہوں تو بات لمبھی ہو جاۓ گی ..کہ کس طرح ایک سازش کے تحت مسلمان ملکوں کے عوام کو مجبور کیا گیا اور بیروزگاری  . مہنگائی . جیسی لعنت کی وجہ سے لڑکیوں کو گھر سے روزگار کی خاطر نکلنا پڑا ..اور پھر اس گھر سے نکلی ہوئی فاطمہ نے کیا کیا گل کھلاۓ ..لکھنا اور دیکھنا زیب نہیں دیتا ....اسی لئے یہ ملالہ وغیرہ جیسے ڈرامے کرواۓ جاتے ہیں اور اسی لئے ہر روز بجلی . گیس . پیٹرول کی قیمتیں  میں اضافہ کیا جاتا ہے ..یہ سب ڈرامے کرپشن کرنے مال بنانے اور عالمی سازش کو پروان  چڑھانے کے لئے کئے  جاتے ہیں ..یہ ایک گہری سازش ہے ..جس سے ہمارے معاشرے کو تباہ کر دیا گیا ہے ..یہ میوزیک اور فیشن شو بھی اسی کا حصہ ہیں ..ہر حکمران نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے ...اب معاشرہ ذہنی طور پر .اخلاقی طور پر اور معاشی طور پر تباہ  ہو  چکا  ہے ......اب ملک میں زنا .ریپ ..اغوا .ڈکیتیوں اور لوٹ مار  .منافقت . ملاوٹ اور مادیت پرستی  پر قابو مشکل  ہے ..اب انقلاب ہی آخری حل  ہے ..جو نظام بھی بدلے گا اور بد کردار حکمران اور کشکول کو بھی توڑے  گا .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ ...
......................................انقلاب  بغاوت ...........................
..............اٹھو ہم وطنو اب انقلاب  کی  ریاضت  کرنا ہو گی 
.............عمر  فاروق جیسی   اب  دعوت  خلافت  کرنا  ہو  گی 
............با ضمیرو وقت  ہے اب  ضمیر  کی سخاوت کرنا ہو گی 
............مکرو  فریب  کی  سیاست  کے  خلاف بغاوت  کرنا ہو گی 
...........اپنے لئے  تو  سبھی  کرتے  ہیں 
...........اب  حکمران  کے  لئے  بھی عبادت کرنا ہو گی 
............ہر  روز  کے  مرنے  سے  بہتر  ہے 
...........اب  موت  کی بھی   عیادت  کرنا  ہو گی 
...........حکمران  چور لٹیرا  کرپٹ  اور غدار ہے 
..........اب  اس  کے خلاف بھی  بغاوت کرنا ہو گی 
...........یہ فرسودہ نظام ایسے  نہیں  بدلے  گا 
.........اب  قطرہ  خون  کی  خیرات  کرنا ہو گی 
...........قبر  کی  جگہ  ملے  نہ  ملے 
.........اب  کفن   باندھنے  کی استقامت کرنا ہو گی 
...........ہر  تجزیہ  نگار ہے یہاں براۓ  فروخت  جاوید 
..........لفظوں  کی نہیں اب  عملی خطابت  کرنا ہو گی 
..............................جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ 
...........٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧...٣٣٣٩........

Friday, September 27, 2013

................................کوئی خفیہ طاقت ہم کو چلا رہی ہے .............
.............اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر میں تو ھکه بھکہ رہ گیا ..کیونکہ ایسی  مسکراہٹ میں اسے کبھی نہیں دیکھا تھا ..بارش سے کپڑے بھیگے ہوۓ اور سانس پھولا ہوا تھا ..مگر اس حال میں بھی مسکراہٹ ...اس کے بولنے سے پہلے ہی میں نے سوال کر دیا ..کہ کیا اطالیہ کے کنفرم کاغذات مل گہے  ہیں یا کوئی لاٹری نکل آئی ہے ..مگر وہ تو پاگلوں کی طرح ہنستا ہی جا رہا تھا ...آخر کار میں نے اسے بیٹھنے کا کہا اور تولیہ دیا کہ اپنی تھوڑی سی صفائی کر لو اور آرام سے بتاؤ کہ کیا ماجرا ہے ...اس نے بالاخر جو جملہ کھا ...اس نے مجھے بھی چونکا دیا ..کہنے لگا کہ پاکستان کے سی .ڈی .اے ..اسلامآباد سے خوشی کی خبر آئی ہے ..     میں نے کہا کہ پاکستان اور خوشی کی خبر ... بھر حال بتاؤ ...تو اس نے بتایا ....کہ کافی ساری اسلام آباد کی  عمارتیں بغیر نقشہ  پاس کرواۓ بنائی  گئی  ہیں اور غیر محفوظ بھی ہیں ..کسی وقت بھی کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے ....میں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ   یار یہ کوئی خوشی کی خبر ہے ...یہ تو تمہارا پاگل پن ہے جو دوسروں کی بربادی پر خوشی منہ رہے ہو ...اور یہ بھی بتا دو کہ تم کو  خبر  کے کونسے حصے پر خوشی ہوئی ہے ..جبکہ مجھے ذاتی طور پر تم سے دونوں باتوں پر اختلاف ہے ....وہ کہنے لگا کہ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ پاکستان میں نقشے کے بغیر گھر بنانا یا بلڈنگ بنانا ..مگر اسلام آباد میں یہ گھپلے اچھی روایت  نہیں ہے ..خوشی کی خبر یہ ہے کہ چند اہم عمارتیں بھی غیر محفوظ ہیں ....اس پر بھی میں نے عتراض کیا ..کہ کسی اہم عمارت  کے غیر محفوظ ہونے پر بھی کوئی خوشی کی خبر نہیں بنتی ...کیونکہ اس سے کونسا ملک میں انقلاب آ جاۓ گا ....کہنے لگا کہ یہی دو نقطے سمجھنے والے ہیں کہ اگر فرض کرو کہ زرداری صاحب کو کوئی یہ کہے ..کہ ملک ریاض نے جو تم کو محل بنا کر دیا ہے اس میں خفیہ ٹرانسمیٹر .خفیہ آلات رکھے  گہے  ہیں ..تو بتاؤ کہ وہ سکون  سے وہاں عیاشی  کر سکیں گے ..بلکہ محل تو ویران ہو جاۓ گا ....اسی لئے اسلام آباد سے  یہ شوشہ چھوڑا  گیا ہے ..کہ حکمران کی نیند میں خلل ڈالا گیا ہے ...تاکہ میاں صاحب اس فرسودہ نظام تبدیل کرنے کا حکم جاری فرما دیں ..کیونکہ تم جانتے ہو کہ نظام نے اس وقت تبدیل ہونا ہے ..جب حکمران کی اپنی گردن شکنجے میں آے  گی ...جب کہ ابھی تک غریب کی گردن شکنجے میں ہے ..اسی لئے تم کو خوشخبری سناتا ہوں کہ تمہارا انقلاب کا خواب اب پورا ہونے والا ہے ..یہی میری خوشی ہے اور دوسری خوشی یہ ہے کہ یہ اچھا ہوا ہے کہ یہ خبر زرداری صاحب کی حکومت میں نہیں آئی ...ورنہ ساری عمارتوں کو گرانے کا اور ملک ریاض اور دوسرے ٹھیکیداروں  کو اپنے اپنے بریف کیس کے وژن کے حساب سے ٹھیکے  دئے  جانے کا حکم صادر  ہو جاتا ...اور اس طرح ہم کو عالمی بینک سے مزید ٥٠ سال کے لئے گروی رکھ  کر قرض لے لیا جاتا ..مگر امید ہے نواز شریف اتنی گری ہوئی حرکت نہیں کرے گا اور وہ سکون  سے خدا پر بھروسہ رکھ  کر سویا کرے گا ..ہاں البتہ غفلت برتنے پر ایک انکوائری کمیٹی ضرور بنا دے گا ..جو مزید نواز حکومت تک..سی ..ڈی ..اے ..کے ساتھ کام یکجہتی کے ساتھ کرتی رہے گی اور اپنے حصے کے پلاٹ وغیرہ لیتی رہے گی ..اللہ ..اللہ ...خیر سلہ ............میں اپنے دوست کی خوشی پر رو رہا تھا اور اس کی ذہانت کو داد دے رہا تھا ....کہ اس نے جو خبر دی ہے .اس کے اثرات عنقریب ضرور ظاہر ہوں گے ..یہ ایک گہری سازش سے خبر نشر کروائی ہے ..عنقریب آپ کو اس کی گہرائی  اور تہ تک لے کر جاؤں گا ......مگر اس وقت صرف ایک ہی بات سوچ رہا ہوں ...کہ ہم کو  کوئی  خفیہ طاقت ہی چلا رہی ہے ..ہمارا پاکستان کو چلانا کوئی اہمیت  نہیں رکھتا اور نہ ہم اس قابل  ہیں .....بس صرف خدا کی واحد ذات ہے جو ہم کو چلا رہی ہے 
.........................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ ..٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩......   
.....................نواز شریف حکومت عالمی طاقتوں کے نرغے میں ..............
.............میرے دوست نے کہا  سناؤ ..جو بزرگ کہا  کرتے تھے ووہی ہو رہا ہے نہ ......کہ نواز شریف لوگوں سے کہ رہا ہے کہ اگر ووٹ دئے  ہیں تو مزہ بھی لے لو.....یعینی دوسرے الفاظوں میں وہ کہ رہا ہے کہ ...ہور  چوپو ..ہور چوپو .....مگر میں نے دوست سے عرض کیا ...نہیں ایسا نہیں ہے ..نواز شریف دل کا برا نہیں ہے .وہ مسکین  بن کر بات کرتا ہے ...سلطان راہی  مرحوم کی طرح بھڑکیں نہیں مارتے اور نہ شہباز شریف کی طرح جزباتی ہو کر چھوٹے نعرے  نہیں مارتے ..نواز شریف مکمل طور پر بےقصور ہیں ..وہ پرویز رشید اور اسحاق ڈار کے ورغلانے میں آ چکے ہیں ..ویسے بھی وہ اقتدار کے بھوکے ہیں ..اور جو لوگ ان کو اقتدار تک لاۓ  ہیں ..ان  کی بات تو مان  کر چلنا ہو گا ...باقی اگر کوئی میاں صاحب سے یہ کہے کہ پانچ سال زرداری کی طرح پورے کریں ...تو لازمی بات ہے وہ یہی کریں گے ...اور عوام جاۓ جھنم میں ....بجلی .گیس ..بد امنی ..مہنگائی اور بیروزگاری سے میاں  صاحب کو کیا لینا دینا ....الیکشن کے دنوں میں وہ کشکول توڑنے کی بات کیا کرتے تھے اب وہ اسحاق ڈار .بیوروکریسی اور عالمی ایجنٹوں کے کہنے پر کشکول کو بھرنا چاہتے ہیں ...مگر پھچلے سالوں سے کافی سیاسی دوستوں کے قرض بھی  اتارنے  ہیں .جس کی وجہ سے کشکول بھرا ہی نہیں جا رہا ....ملک منشاء .ملک ریاض . ایئر بلو کے عبّاسی  صاحب کو بھی خوش کرنا ہے ...خزانے کو ان لوگوں  کی شان میں لوٹانا بھی ہے ...ریلوے .پی.آئی .اے ...سٹیل مل اور دوسری فیکٹریوں کو کوڑیوں کے مانند فروخت بھی کرنا ہے ..کچھ کو پلاٹ  زمین دے کر نوازنا بھی ہے ..جہاں اتنے سارے کام کرنے والے ہوں ..وہاں بیچارہ نواز شریف خزانے کو کس کے خون سے سیراب  کرے گا ..آخر کار عوام کس لئے ہیں ..کیا عوام سڑکوں کو گیس کو بجلی کو پیٹرول کو استمعال نہیں کرتے ...تو پھر زرداری کو بھی عوام نے برداشت کیا ...تو پھر کیا وجہ ہے ..کہ جو زرداری صاحب کرتے تھے وہ نواز شریف کریں تو عتراض کس بات پر ...جب نواز . زرداری . بھائی  بھائی  ہیں ..تو پھر عوام کو کیا تکلیف ہے ..عوام تو غنڈہ گردی کرتے ہیں ..نواز ، زرداری کی زمین پر جان بوجھ کر فساد پیدا کرتے ہیں ...سیاسی لٹیرے تو ایک دوسرے کے خلاف تسبیح پر منافقت کا ورد کرتے ہیں ..فرق صرف اتنا ہے کہ زرداری کے زمانے میں سیدھا ورد ہو رہا تھا .اب الٹا کیا جا  رہا ہے ....یاد رکھو بزرگ کہا  کرتے تھے ..کہ اگر لوٹ مار یا موت کا الٹے اور سیدھے راستے یعینی دونوں طرف  سے  خوف ہو ..تو پھر بہتر ہے کہ سیدھا راستہ ہی اپنایا جاۓ ...تو میرا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کشکول توڑنے سے بھی نواز شریف عوام کے ساتھ یہی ظلم برپا کرنے والے ہیں ..تو بہتر ہے ایسے کشکول کو توڑ  دیا جاۓ ..جس سے عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی .....اگر اسی طرح عوام نے روز روز مرنا ہے ...تو بہتر ہے ایک ہی دفعہ ذبح کر دو ......تو  میاں صاحب آپکی نذر  کرتا ہوں بڑے ادب کے ساتھ .......جرات سے تو افکار دنیا سے گزر کیوں نہیں جاتا 
...............................شاہین  ہے تو پھر آشیانے کا فکر کیوں نہیں جاتا 
.............................گزرنا ہے تو اس پل صراط سے گزر کیوں نہیں جاتا 
.........................کرنا ہے گر یہ فیصلہ تو پیا  یہ زھر کیوں  نہیں  جاتا 
........................معشیت  کا پہیہ  تو  جام  ہو  ہی  چکا   ہے 
.......................غداروں کی آخرت کا سامان کر کیوں نہیں جاتا 
......................موت برحق ہے تو یہ زندگی کا فکر کیوں نہیں جاتا 
.....................ہر روز مرنے سے بہتر تو اک دن مر  کیوں نہیں جاتا 
...................کل  ہی مرجھا جانا ہے جس   پھول   نے  آخر 
.................وہ آج ہی فضاؤں میں  خوشبو سے  بکھر کیوں  نہیں جاتا 
..................آخر کوئی تو ہو گا جو نکلے گا باندھ  کے   کفن 
.................احتساب  کا  مرد  قلندر  ہے  تو بن  نر  کیوں نہیں جاتا 
................بدلنا ہے نظام . آنا  ہے  انقلاب  نے  یہاں  اک  دن 
...............تو ہی بدل کے نظام  بن  امر  کیوں  نہیں  جاتا 
...................آمریت کے آمر  کا تو نہیں بگاڑ سکتا کچھ 
..................جمہوریت کے ہی راز  افشاں کر کیوں نہیں جاتا 
...............بقول جاوید .تو نے ڈال رکھا ہے قوم کو بھول  بھلیوں  میں  
..............آ  سامنے یا  بتا  نظریہ  ضرورت کا شر کیوں نہیں جاتا 
..........................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ 
..............٠٠٣٩..٣٢٠...٣٣٧....٣٣٣٩................

Sunday, September 22, 2013

............................نواز شریف کی سکیمیں ........................
...........اگر میرے ملک کے وزیر اعظم  نے عوام  کے ساتھ مخلص ہونے کا یہ ثبوت  دیا ہے ..کہ عوام سے اپنی سکیموں کے بارے میں راۓ  طلب کی ہے ..تو میرا فرض بنتا ہے کہ اپنی راۓ  کو بیوروکریسی کی ردی کی ٹوکری تک ضرور پنچاؤں ..جنہوں نے میاں  صاحب کو یہ سیاسی نمبر بنانے کی سکیموں کے بارے میں پٹی  پڑھائی  ہے ..... اس  ملک کی یہی بد قسمتی ہے ..کہ جو بھی آتا ہے اس کو بیوروکریسی نئی  نئی پٹیاں  پڑھاتی رہتی ہے ....٦٥ سالوں سے یہی ہو رہا ہے ....اور یہی ہوتا رہے گا ..جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا ....ضرورت نظام کو تبدیل کرنے کی ہے ...تاکہ  نوجوان کو پتہ ہو کہ جب وہ سکول . کالج  یا  یونیورسٹی سے باہر نکل کر اپنے روزگار کی طرف رجوح کرنا چاہتا ہے ..تو اسے کون سا دروازہ کھٹکھٹانا ہے ..بس وہ  سیدھا  اپنے مقام پر چلا جاۓ ..نہ کہ سیاسی گوماشتوں کے بنگلوں پر سجدہ کرتا رہے اور دھکے کھاتا کھاتا چور ڈاکو بننے پر مجبور ہو جاۓ ....٦٥ سالوں میں کبھی تندور روٹی سکیم ..کبھی ٹیکسی سکیم .کبھی بینظیر سکیم ..کبھی لیپ ٹاپ ..کبھی قرضے ..کبھی ٹریکٹر سکیم .........سب عارضی سکیمیں کیوں بنتی ہیں ..ہمارے  ہاں مستقل بنیادوں پر سکیمیں کیوں نہیں بنتیں ...یہ سب بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی اجارہ داری کو قائم  رکھنے کے لئے ہوتا ہے ...اور صرف پاکستان کے خزانے کو نقصان پنچایا جاتا ہے ...یہ سیاسی رشوت ہے ..جو اپنی جیب سے نہیں ..بلکہ ملکی خزانے سے ادا کی جاتی ہے...یہ  سیاسی رشوت اور بیہودہ  سکیموں کا سلسلہ ایوب خان کے دور سے جاری ہے ...جس سے ملک کا بربادی والا جشن تا حال جاری ہے  .....میں نواز شریف صاحب سے یہ درخواست  کرتا ہوں .١..کہ قرضے اور پلاٹ  دینے کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا جاۓ ..قانون ہر ایک لئے برابر کر دو ..٢..یہ قرضے دینے والا کام ہر بینک آزادی کے ساتھ  پرائویٹ  طریقہ پر کرے ....حکومت کے خزانے سے نہیں ...٣....روزگار کے مواقیح حکومت پیدا کرے ...سڑکیں ..پل .نہریں..بجلی ..گیس ..ریلوے ..فیکٹریاں بناۓ یا پرائویٹ بنواۓ .....٤..حکومت یا تو یہ قانون بنا دے کہ ہر تعلیم سے فارغ ہونے والا اپنے علاقے کی یونین کونسل میں رپورٹ کرے ....ہر یونین کونسل اس کی ٹریننگ کا بدوبست کرے اور اس کو فارغ کرنے کے بعد اس کے باقائدہ محکمے میں بھیجنے کا بھی بندوبست کرے ...جو وظیفہ بھی دینا ہو وہ یونین کونسل کے ذریعہ  دیا جاۓ ....یا یونین کونسل اسے اپنے علاقے میں روزگار دے ..ورنہ وفاق سے سفارش کرے کہ نوجوان اس ٹیلنٹ کا ہے اسے ایڈجسٹ کیا جاۓ ...٥...یا پھر حکومت  فوجی ٹریننگ لازمی کر دے اور وہ فنڈ آرمی کے حوالے کر دے .....دو سال کی ٹریننگ کے بعد ہر بچے یا بچی کو اس کے محکمے میں جانے کا بندوبست کیا جاۓ ......بھر حال نظام تو آپ کو تبدیل کرنا ہو گا ...ورنہ لوگوں کو ان کاغذی کاروائیوں اور بیوروکریسی کی چالاکیوں اور سیاسی سفارشوں کی آگ میں نہ پھینکا جاۓ .....چند کو فایدہ ضرور مل جاۓ گا اور سیاسی سکور میں بھی اضافہ ہو جاۓ گا ..مگر خزانہ ضرور برباد ہو گا ..اور کچھ بیچارے میری طرح  سفارش ہی ڈھونڈتے ڈھونتے مر جایں  گے .....کیونکہ میرے گھر میں بھی تین ماسٹر ڈگری ہولڈر اور ایک بی .اے ..ہے ........بتا دو کیا بہتر ہے .....ایک مستقل قانون ہر کے لئے یا عارضی خانے پوری الیکشن  میں ذاتی مفادات کے لئے .....یہاں غریب پھر پیچھے رہ جاۓ گا اور سفارش والے قرضے لے بھی جایں گے اور ہڑپ بھی کر جایں گے ...میاں  صاحب کیوں کرتے ہو ظلم غریب پر ...اگر خدا نے تم کو پھر حکمران بنا دیا ہے ..تو اس فرسودہ نظام کو ہی بدل دو ....تاکہ ہر آدمی سفارش اور رشوت کے بغیر اپنا کام انجام تک پنچانے  میں کامیاب ہو سکے .....ان سکیموں سے کوئی فایدہ نہ ہو گا ..آئندہ کے لئے پلاننگ کرنا ہو گی ..منصوبے بنانے ہوں گے ..انویسٹمنٹ للانی ہو گی اور انویسٹمنٹ کرنا ہو گی ...پرایویٹ اداروں کو سہولتیں دینا ہوں گی ..انویسٹر کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی ...حکومت کے اداروں سے کرپشن ختم کرنا ہو گی ....اگر آپ زیادہ سے زیادہ منصوبے کاغذی کاروائی سے آگے لے کر جایں ....کام شروع ہوں گے تو روزگار ملے  گا ......اگر صرف منصوبے کاغذوں پر ہی رہے تو پھر عالمی بینک سے قرضے لے کر لیپ ٹاپ دینا کہاں کی عقلمندی ہے ...ایسے شوشے نہ جھوڑیں جایں اور نہ ایسی سکیموں کے ساتھ کھیلا  جاۓ ..جس سے خزانے کو نقصان پنچنے  کا عمل دخل ہو..................نہ بدلے جس سے نظام وہ انقلاب افکار نہیں ہوتا ..............................بہ جاۓ جو قوم کی خاطر وہ لہو بیکار نہیں ہوتا ...... ........جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ .....٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩