Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, September 8, 2014


...........................میں اسلام آباد دھرنے میں کیوں آیا ہوں
.........................نظام کی تبدیلی کا پیغام نواز شریف کے نام
..............شان اور آئین پاکستان کے  محلات دیکھنے آیا  ہوں
.............کچھ  تجھے روشنی کچھ اپنا  جلوہ  دکھانے آیا  ہوں
............یہ  عمران .قادری . نے جو  سجائی  ہے  محفل
............اس  محفل  کی تم  کو  للکار  سنانے آیا   ہوں
............تم  ہی  کہتے تھے  کہ  مجھے  نہیں معلوم آجنڈہ ان کا
...........اس  اجنڈے  کی الف .ب .تم کو سمجھنے  آیا  ہوں
...........تیرے نزدیک عمران ابھی سیاست میں  بچہ  ہے
..........اس  بچے  کی آھو پکار تم  کو  سنانے  آیا  ہوں
...........عمران خان تو خون دینے  کے لئے ہے تیار
...........اپنے خون کا بھی تھوڑا سا رنگ جمانے آیا ہوں
.............تو کہتا ہے  ممی . ڈیڈی..برگر  ہیں  ہم
............اس  برگر  کا زائقہ  تم کو چکھانے آیا  ہوں
..........تو نے کر دی بنجر  زمین  میرے وطن  کی
.........بس قطرہ خون  سے وہ سیراب کرنے آیا  ہوں
..........ہر عمارت کو نیا نظام سے غسل دلوانے آیا ہوں
..........پارلیمنٹ میں تیری ساری کرپشن دفنانے آیا ہوں
......................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ......
....................٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ ............


..........................کرپٹ حکمران نواز شریف کے نام .........................
..........................تیری اکڑی ہوئی گردن کو مروڑ کے رکھ دوں گا
........................تیرا کرپشن والا خون بھی نچوڑ کے  رکھ دوں  گا
.......................ہاں  اگر  میں  باغی  بغاوت  پے  آیا
........................تو  تجھے  بھی  جھنجھوڑ  کے رکھ دوں گا
........................چھوڑ دے ہٹ دھرمی دے دے  استعفا
.......................ورنہ تیری ٹانگیں بھی توڑ کے رکھ دوں گا
.....................صرف عمران قادری کو اکیلا اکیلا مت سمجھ
....................ورنہ سارے غیرت مند پاکستانی جوڑ کے رکھ دوں گا
....................میرے لیڈر کو راستے سے ہٹانے کی کوشش مت کر
...................ورنہ اپنے خوں سے تیرا حلیہ بگاڑ کے رکھ دوں گا
..................اگر کبھی مل گیا تو  مجھے  کہیں اکیلا
.................اپنے سر سے تیرا سر بھی پھوڑ کے رکھ دوں گا
................تو تو  زرداری  سے  بھی  بد تر  ہے
................تیری کرسی اقتدار توڑ کے رکھ دوں گا
................یہ  انقلابی  جاوید  کہ  رہا ہے تم سے پھر
..............ہو جا مستعفی ورنہ نا انصافی کی دیوار توڑ کے رکھ دوں گا
..................بدلنے  دے  نظام  کو  سبز  انقلاب  سے
..............ورنہ انقلاب کا رخ رائونڈ موڑ کے رکھ دوں گا
.........................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ......٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

......................................میاں نوز شریف کے نام ادب کے ساتھ ............
............جب انصاف نہ دینا ہو تو ڈنگ ٹپا لو
...........کمیٹیاں بٹھا لو مذاکرات کا طبل بجا لو
...........٦٥ سالوں کی تاریخ ہے میرے وطن کی
..........عوام کے ہی خون سے ہر سٹیج سجا  لو
..........انصاف کے راستے کی رکاوٹ ہو تم
.........جب چاہو نیا اور پرانے سب کیس کھلوا لو
.........تمہارے سارے پول کھل جایں گے اک دن
..........چاہے جتنے مرضی آنسو کے قطرے بھا لو
..........پارلیمنٹ کے ہر فرد کا بھی احتساب ہو گا
.......ماتم تمہارا ہو گا چاہے جتنے مرضی کمیشن بٹھا لو
.........یہ انقلاب و آزادی مارچ کا سفر رہے گا جاری
..........چاہے دفعہ ١٤٤ لگا لو یا سڑکیں بند کروا لو
..........سڑکوں پر کتا .کتا .ہاۓ ہاۓ .ہونے سے پہلے
.........بہتر ہے مستعفی ہو کر اپنی عزت بچا لو
..........تم چور.لٹیرے اور غدار وطن  بھی  ہو
.........تبدیلی نظام کے آگے  ہر دیوار  ہٹا  لو
..........پھانسی پر چڑھنے سے پہلے بہتر  ہے
........ جاوید کہتا ہے .بھاگ جاؤ. اپنی  جان  بچا  لو
..........................جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....
........................٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ .....................

Sunday, September 7, 2014


......................................عمران خان کے نام ..........................................
...................عمران خان کے پرستار ہیں ہم
...................انصاف کے طلبگار ہیں ہم
..................سارے چہرے ہٹا دو میرے سامنے سے
.................نیا نظام نیا  پاکستان  کی پکار ہیں  ہم
................پھانسی دے دو یا تختہ دار پر لٹکا دو
................باغی اور بغاوت کے شاہکار ہیں  ہم
................میدان کربلا سے سبق ہم نے سیکھا ہے
...............جھکانا نہیں  سر کٹانے کو تیار ہیں ہم
..............باغی ہوں بغاوت ہے پیشہ  میرا
............ہر ظالم فرعون کے آگے دیوار ہیں ہم
............جاوید کاٹ کر رکھ دیں گے ہر نا انصافی کو
............عمران خان کے بلے سے تراشی تلوار ہیں ہم
...........................................جاوید اقبال چیمہ
...................................٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

...................نیا پاکستان . نیا نظام اور عمران خان ....................
.............جو پہاڑوں سے ٹکراتا ہے اسے طوفان کہتے ہیں
............جو طوفانوں سے ٹکراتا ہے اسے عمران خان کہتے ہیں
......اس میں کوئی شک کی اب گنجایش نہیں ہے کہ ہر پاکستانی نظام کی تبدیلی چاہتا ہے .ملک میں انصاف اور احتساب کا قانون چاہتا ہے ..ہر پاکستانی تھانوں .کچہری .عدالتوں .پٹواری .تعلیم .صحت .بجلی .گیس .مہنگائی .بے روزگاری  وغیرہ وغیرہ سے مکمل تنگ ہے اور شعور آہستہ آہستہ آ چکا ہے عوام میں ..مگر پارلیمنٹ کے چور .اچکے .لٹیرے .غدار .شاید شعور سے عاری ہیں .یا منافقت سے کام لے رہے ہیں ..پارلیمنٹ کے مفاد پرستوں کو یہ مان لینا چاہئے کہ بھٹو کے بعد اب عمران خان کی سوچ پوری قوم کی سوچ بن چکی ہے ..جتنی مرضی انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے آگے دیواریں کھڑی کر لو اب نظام کو تبدیل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا .ورنہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں رہے گی ان چوروں لٹیروں پارلیمنٹ کے ٹھیکیداروں کی وجہ سے ...اب وقت آ چکا ہے کہ یا ملک رہے گا یا یہ چور .لٹیرے .مفاد پرست خاندان کرپٹ رہیں گے ..جبکہ یہ میرے اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے .کہ اس ملک نے قائم رہنا ہے .جو کلمہ کے نام پر معرض وجود میں آیا ہے ..اس لئے کرپٹ خاندان اور غداروں کو حساب دے کر اس ملک سے جانا ہو گا یا پھانسی کے پھندے پر لٹکنا ہو گا ...یہ بھوت جلد ہونے والا ہے ...میں دھرنے کے اندر اسلامآباد میں جو جوش و جنوں .جزبہ اور شعور دیکھ چکا ہوں ..وہ اس وقت بیان نہیں کر سکتا ..جب تفصیل لکھوں گا تو کئی فرعون حیران رہ جایں گے ...ہر روز ہزاروں واقعات ہووے ..جب میں اپنے انقلابی اشعار سے اور جذباتی تقریروں سے لوگوں کے جنون میں اضافہ کرتا ہوں .تو عام لوگوں کے خیالات کرپٹ خاندانوں کے بارے میں اس طرح ہوتے تھے .کہ خدا کی قسم اگر ان کے ہتھے کوئی لٹیرا لگ جاۓ تو یہ اس کی تکہ بوٹی کر دیں...اتنی اتنی غلیظ گالیاں حکمرانوں کو دیتے میں نے سنا ہے کہ خود مجھے بھی اب حکمرانوں کو گالیاں دینے کی عادت پڑ چکی ہے ..حتہ کہ ایک دن ایک ٹی.وی . چینل کو انٹرویو دیتے ہووے میرا مہذب انداز بھی چینل کو پسند نہ آیا ..کیونکہ مہذب انداز میں بھی حکمران کے خلاف اتنی نفرت تھی کہ میں اپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکا ...اور وہ کچھ کہ گیا جو چینل پر چل ہی نہیں سکتا تھا ..اور یہ نفرت جب عام ہو گی ..تو عنقریب سڑکوں پر کتا ..کتا ..ہاۓ..ہاۓ...ہو گا ..اور پھر جو انقلاب آے گا ..وہ خونی انقلاب ہو گا ..جس کا ذمہ دار میرا کرپٹ .بد کردار .کمیشن کھانے والا حکمران ہو گا ....چند دن پہلے دھرنے میں جب میں مجمہ میں تقریر کر رہا تھا .تو ایک مہذب عورت آئی ..جس نے میرے سے اجازت لے کر دو فقرے پڑھے ..وہ سن لیں ....مہذب انداز میں جذبات ...اور فکر مند چہرے سے چلی گئی..........اونچی عمارتوں میں گر  گیا  میرا   مکان .....کچھ لوگ میرے حصے کا  سورج بھی لے گہے ..........غریب ے شہر تو فاقوں سے مر گیا ہو گا ...امیر ے شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی ...............یہ تھے اس نامعلوم میری بہن کے جزبات جو دھرنے سے نکل کر پوری قوم تک پنچ چکے ہیں ..ہر کوئی کرپٹ خاندانوں سے تنگ ہے .....ظالموں کے دن گنے جا چکے ہیں .احتساب کا وقت اب قریب ہے ...انشااللہ .......جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨

Saturday, September 6, 2014


............................نواز شریف کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو ..................
.............آج میرا دل سری پاۓ کھانے کی فرمائش کر رہا تھا ..اس لئے جس ہوٹل کی طرف جا رہا تھا .وہاں میں نے غیر معمولی رش دیکھا جیسے وہاں کوئی حادثہ ہو چکا ہے .جب وہاں پنچا تو معلوم ہوا کہ میاں نواز صاحب سری پاۓ سے لطف اندوز ہونے آ چکے ہیں ..میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ میاں صاحب سے دو چار باتیں کرنے کا اچھا موقعہ ہے مگر اندر داخل ہونا ایک مسلہ تھا ..اچانک میرے ذہن کے کمپیوٹر نے کام کیا ..میں واپس اپنی گاڑی کی طرف گیا وہاں سے اپنی ١٢ کتابیں نکالیں اور ہوٹل کے اندر اپنے شناسا کو ڈھونڈنے لگا . کہ اچانک اس کو تلاش کیا اور ساری کہانی اس کو بتا دی ..وہ اندر چلا گیا اور پھر چند منٹ بعد  مکمل پروٹوکول کے ساتھ میں میاں صاحب کے سامنے حاضر تھا ..مگر میاں صاحب نے ١٢ کتابوں کا تحفه تو وصول کر کے اپنے پی اے کو دے دیا .کیونکہ انہوں نے کونسا ان کتابوں کو پڑھنا تھا مگر انٹرویو دینے سے انکار کر دیا کہ میں  انٹرنشنل لیڈر ہوں اور انٹرویو صرف  سی .این .این اور بی .بی. سی .کو دیتا ہوں .مگر میرے  واقف کار بٹ صاحب کی منت سماجت کے بعد وہ آف دی ریکارڈ گفتگو کرنے پر رضامند ہو گہے..تو سب سے  پہلے میں نے التجا کی کہ ملک تباہ و برباد ہو رہا ہے آپ استفیٰ کیوں نہیں دے دیتے تو میاں صاحب نے فرمایا کہ ملک کو تو پرویز مشرف نے برباد کیا تھا اس وقت تم کہاں تھے زرداری صاحب اور پرویز الہی نے برباد کیا تھا اس وقت تم کہاں تھے .اگر میری وجہ سے تھوڑا سا برباد ہو رہا ہے تو تم بکواس کرتے ہو .جبکہ مجھے تو امریکا نے کہ دیا ہے کہ دھرنوں سے جتنا نقصان ہو گا وہ مزید قرض دے کر پورا کر دیں گے .اسی لئے میں آہستہ آہستہ اس مسلہ کو حل کرنا چاہتا ہوں چاہے ٥ سال لگ جایں .میں مستعفی نہیں ہوں گا کیونکہ پھر آئین میں وزیر عظم بننے کی گنجایش نہیں ہے .میں  پاگل نہیں ہوں جو عمران خان کا مطلبہ ماں لوں ..مزید میری گفتگو کے جواب میں میاں صاحب نے فرمایا کہ ہم قرضے اس لئے لیتے ہیں کہ اس میں عالمی گماشتوں کا مفاد ہوتا ہے اور ہم کو بھی کمیشن ملتا ہے اور پھر ویسے بھی یہ قرضہ کونسا ہم نے اپنی جیب سے ادا کرنا ہوتا ہے ..ہم پیٹرول .بجلی .گیس اور ٹیکس میں اضافہ کر دیں گے ..عوام خود دے دی گی .ورنہ بجلی کا میٹر کاٹ دیں گے ..ویسے بھی جو قوم مشرف کو برداشت کر سکتی ہے اسے مجھے برداشت کرنے میں کیا مجبوری ہے ..میں نے کہا میاں صاحب قوم نے منصوبوں پر کمیشن کا سنا تھا مگر قرضوں پر کمیشن کا نہیں سنا تھا .کہنے  لگے بھولے بادشاہ جو مزہ قرضوں پر کمیشن لینے کا ہے وہ مزہ منصوبوں پر کمیشن لینے سے کھین زیادہ ہے ..منی لانڈرنگ بھی آسان ..بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ بھی آسان ..ملک کو دیوالیہ پن کے خوف کے قریب رکھنا بھی آسان اور معشیت کو برباد  کرنا بھی آسان ...مگر میاں صاحب اس سے آپ کو کا فایدہ ملے گا تو کہنے لگے بھولے بادشاہ اس سے بھوت زیادہ فوائد ہیں .مگر صرف تین تم کو بتاۓ دیتا ہوں باقی صیغہ راز میں رہنے دو .١.عالمی دوست ہمارے معدنی  وسایل پر قبضہ جماۓ رکھتے ہیں اور ہمارے تخت کی حمایت کرتے ہیں ..٢..فوج اور کوئی طاقت اقتدار لینے کے لئے تیار نہیں ہوتی کیونکہ ملک چلانا اتنا آسان نہیں ہوتا ..٣.اور تیسری اہم بات کہ خلافت کے لئے راستہ ہموار ہوتا چلا جاۓ گا ..جب پیسہ چند خاندانوں کے پاس رہ جاۓ گا .تو اقتدار کا حق صرف امرا کو ہو گا جن کا ملک کے وسایل پر قبضہ ہو گا ..اس طرح میرے بعد ١٥ سال شہباز اور پھر ١٥ سال حمزہ شہباز اور پھر ١٥ سال مریم نواز حکومت کرے گی .وغیرہ وغیرہ ...پھر میں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کے ارادے تو خطرناک ہیں ..تو انہوں نے کہا کہ میرے نہیں مجھ سے استفه مانگنے والوں کے ارادے خطر ناک ہیں ..کیونکہ جتنی دیر وہ زیادہ دھرنہ دیں گے میرے لئے اتنا ہی بہتر ہے .جتنا زیادہ ملک کا نقصان ہو گا میرے حق میں اتنا ہی بہتر ہے ..باقی مجھے عدالتی کمیشن وغیرہ کا کوئی خوف نہیں .کیونکہ سارے جج میرے بھرتی کئے ہووے ہیں ..شریف خاندان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آ سکتا ..یہ عمران اور قادری صاحب کی بھول ہے ..پھر میں نے کہا کہ  میاں صاحب عزت .غیرت .اخلاق .مذهب .دین ..اسلام .قبر ..آخرت .ملک ہمدردی .ملکی سالمات بھی کچھ تقاضہ کرتی ہے کہ آپ ملک کی خاطر مستعفی ہو جایں .تو انہوں نے  فرمایا کہ اقتدار سے اہم کوئی بات نہیں ہوتی یہ بات آئین میں لکھی ہوئی ہے .اگر مجھ پر یقین نہیں ہے تو اچکزئی .اور مولانا فضل رحمان .یا اپوزیشن یا میرے وزیروں سے پوچھ لو ..اگر سب اقتدار پر متفق ہیں تو مجھے کونسا اسلام کا سبق پڑھا رہے ہو ..پھر میں نے کہا کہ میاں صاحب .حسنی مبارک .صدام حسین اور قذافی کو دیکھ لو .کھین نشان عبرت نہ بن جانا ..تو  میاں صاحب نے فرمایا کہ فکر نہ کرو امریکا بہادر میرے ساتھ ہے ..تو میاں صاحب اٹھنے لگے تو میں نے ان کے کان میں کہا کہ آپ نے فوج کو کافی بدنام کیا ہے اس لئے فوج آپ سے خوش نہیں ہے جیو اور جنگ گروپ کے معاملہ پر بھی ..تو فرمانے لگے کہ میں نے امریکی سفیر کو سب بتا دیا ہے امریکی سفیر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سب سبھال لے گا .کیونکہ زرداری صاحب نے بھی فوج سے اپنا پرانا حساب چکانا ہے ..اس لئے ہم سب قوتیں بمعہ انڈیا کے پاکستانی فوج کو سبق سکھا دیں گے ..پھر میں نے کہا کہ میاں صاحب آپ مستعفی ہو جایں میں ملک کے لئے بھوت فکر مند ہوں ..تو کہنے لگے ہاں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ عمران .قادری کے جلسوں میں میرے خلاف نظمیں پڑھ رہے ہیں اور مجھے پیغام دے رہے ہیں کے کتا کتا .ہاۓ ہاۓ ہونے سے پہلے مستعفی ہو جاؤں ورنہ آپ میری اکڑی گردن مروڑ کے رکھ دیں گے ...تو آپ اپنا کام کرتے جایں اپنی انرجی زیاح کرتے جایں اپنا وقت برباد اور ملک برباد کرتے جایں ..ہو گا ووہی جو امریکا چاہے گا ...تو پھر میں نے آخر میں کہا کہ سر وہ میری تین عدد ایف .آئی . آر کا کوئی بندوبست کر دیں تو کہنے لگے کہ شہباز سے بات کرو میں نے کہا کہ سر وہ مجھ جیسے غریبوں سے ہاتھ نہیں ملاتا  .اس کو کینسر کا خطرہ ہے وہ صرف امریکی سفیر. زرداری  اور آرمی چیف سے ہاتھ ملاتا ہے تو وہ کہنے لگے . شہباز ٹھیک کرتا ہے ....تم لوگ جو ہمارے خلاف بولتے ہو ہمارے خلاف لکھتے ہو ..تم لوگوں کو میں .پی .ٹی.وی .کا ایم.ڈی..تو نہیں بنا سکتا .....پھر جاتے جاتے کہنے لگے کہ ہاں یہ سری پاۓ کا بل ادا کر دینا کیونکہ آف دی ریکارڈ گفتگو کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ...جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ....٠٠٩٢..٣٠٢..٦٢٣٤٧٨٨...

Friday, September 5, 2014


...........................پارلیمنٹ میں کیا دیکھا .........................
.........سواۓ ایک دو کے سب کے چہروں پر حرام خوری دیکھی ..منافقت دیکھی ..جمہوریت .پارلیمنٹ .آئین..قانون کو ماں ماں کہنے والوں کو اپنی ماں کے منہ پر تھپڑ مارتے دیکھا ...پارلیمنٹ کو ماں کا تقدس کہنے والوں کو ماں کی بےعزتی کرتے دیکھا ..سفید جھوٹ بولتے دیکھا ..نہ پاکستان میں نظام ہے نہ حکمران کا احتساب ہے اور نہ انصاف نام کی کوئی چیز ہے ..٦٥ سالوں سے قوم کا خون چوسنے والے اپنے آپ کو قوم کا نجات دھندہ سمجھتے ہیں .نہ یہ ٢٠ کروڑ کے عوامی نمایندے ہیں ..یہ چور.لٹیرے .خود ہی اپنے آپ کو منصف اور خود کو ہی عدالت سمجھتے ہیں ..عوام کو پارلیمنٹ کے اندر چھوٹ بول کر سبق دیتے ہیں ..کہ کر لو .جو کرنا ہے ..ہم تمہارے نمایندے ہیں .جبکہ میں ان مکاروں .دغابازوں اور اداکاروں کو اپنا نجات دھندہ نہیں بلکہ وقت کا فرعون سمجھتا ہوں ..اور ان کا وجود اپنے ملک کے لئے خطرناک سمجھتا ہوں .اور یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک یہ کرپٹ حکمران اور کرپٹ نظام ہے ..نہ یہ ملک ترقی کر سکتا ہے .نہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے .نہ اس ملک کی اور غریب کی تقدیر بدل سکتی ہے ..اس نظام کے سہارے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاۓ گا .اور دنیا کے نقشے پر پاکستان کبھی سرخرو نہیں ہو سکے گا ..میں نے پارلیمنٹ میں کسی قوم کے ہمدرد سے یہ نہیں سنا ..کہ غریب کو انصاف نہیں ملتا .روٹی نہیں ملتی .غریب بچے فروخت کرنے پر مجبور ہے .مہنگائی اور بیروزگاری کا سد باب کرنا چاہئے ..بجلی . گیس .پیٹرول کو سستا کریں .اپنے وسائل کو بروۓ کار لایں..کشکول توڑیں .وغیرہ وغیرہ ...جتنے بولے سب اپنے اپنے مفادات کی بات کرتے رہے .نواز شریف کو تحفظ دینے کی رٹ لگاتے رہے ..ہر کوئی اس لحاظ سے بولتا رہا .جتنا اس کی ٹینکی میں پیٹرول ڈالا گیا تھا ..کوئی بھی پارلیمنٹ میں ایسا نہیں تھا جو عوام کے حقوق کی بات کرتا نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتا .سب اللہ اور نبی کو بھول کر اسلام کو بھول کر قبر اور آخرت کو بھول کر صرف اپنے اپنے مفادات کی بات کرتے نظر آے..واہ یہ میرے نمایدے تھے یہ ٢٠ کروڑ کی نمایندگی کر رہے تھے .جبکہ ١ لاکھ ووٹ لینے والے بھی ٢٠ کروڑ پر  احسان کر رہے تھے ..اور یہ سب الیکشن کے دوران ملک میں انقلاب لانے اور نظام بدلنے کے دعوے دار تھے .مگر جب اقتدار مل گیا تو صرف مال کمانے اور مال بنانے کے لئے پارلیمنٹ کو ماں ماں پکار رہے تھے ..لعنت ہے ایسی جمہوریت پے..لعنت ہے  ایسی پارلیمنٹ پے..جہاں صرف مفادات اور منافقت کا کھیل کھیلا جاۓ اور عوام کو بیوقوف سمجھا جاۓ ...لعنت ..لعنت ..دھاندلی اور کرپشن سے بننے والی پارلیمنٹ پر ایک کھرب دفعہ لعنت ....غداروں پر لعنت ..فوج کو بدنام کرنے والی پارلیمنٹ پر لعنت ..جیو اور جنگ گروپ کو بند نہ کرنے والی پارلیمنٹ پر لعنت ..وزیر عظام نے اندر چھوٹ بولا ..اس پر بھی اور اس کی پارلیمنٹ پر لعنت ..لعنت  ایسی پارلیمنٹ پر جہاں غریب کو انصاف نہ ملے..اور غریب کے بارے میں بات نہ ہو ...تین سال میں میرے ساتھ تین ڈکیتیاں ہو چکی ہیں .١٧ لاکھ کا نقصان صرف میرا ہوا ہے ..تین پولیس کی رپورٹ میرے پاس ہیں ..کہاں انصاف تلاش کروں ..پنجاب کے خادم اعلی پر بھی لعنت ..ان سب جاگیرداروں .وڈیروں .کن ٹوٹے بدمعاشوں پر لعنت جو چور لٹیرے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہووے ہیں ....جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.....٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ ...