Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Monday, December 30, 2013

......................
انقلاب ..سیاست ..اور جمہوریت .................

................

انقلاب کے نام کو تماشا بنانے والے صرف وہ سیستدان ہیں ..جو سیاست اور جمہوریت کا دن رات راگ الاپتے ہیں .....مگر سیاست اور جمہوریت کو بدنام بھی کرتے ہیں اپنی کرپشن ..چھوٹ ..لوٹ مار ..بد دیانتی اور منافقت کی وجہ سے ......کیونکہ سیاست اور جمہوریت کوئی منافقت کا دوسرا نام نہیں ہے ..یہ صرف پاکستان کی بیدقسمتی ہے ہُم کو جمہوریت اور سیاست میں بھی بدترین آمریت ملتی آئی ہے ...اسی لئے مُلِک کو ایک انقلاب کی ضرورت ہے ..اور اس انقلاب کو دعوت دینے والے اور پاکستان کو اس مقام تک پنچانے والے یہی بےغیرت جمہوریت اور کرپٹ سیاستدان ہیں ..جو ایک دوسرے کا احتساب نہیں کرتے ..بلکہ دفاح کرتے ہیں ....اور ان بغیرتوں کی حرکتوں کی وجہ سے انقلاب نے آنا ہے ...اس انقلاب کے آگے جتنے مرضی پل باندھ لو ..یہ آے گا اور آ کر رہے گا ....اگر بلاول زرداری اور مریم نواز کی آپس میں شادی بھی حکمران کروا دے تو بھی انقلاب کو نہیں روکا جا سکتا .......شہباز شریف تو زرداری کو سڑکوں پر نہیں گھسیٹ سکے ..مگر ان سب کو سڑکوں پر گھسیٹنے والا انقلاب جلد آ جاۓ گا .....چاہے وہ انقلاب عمران خان ..جماعت اسلامی ..قادری صاحب ..شیخ رشید ..دفاع پاکستان کے گٹھ جوڑ سے آے..یا پھر کوئی آمر لاۓ...انقلاب نے تو آنا ہے ..مگر پرویز رشید ...رانا سنا الہ اور دیگر مشورے دینے والوں کے غلط مشوروں کی وجہ سے آے گا .......اور جو یہ کہتے ہیں کہ انقلاب جمہوریت اور قانون کے دائرے میں رہ کر لایں.....تو وہ بکواس کرتے ہیں .....یہ باتیں وہاں کی جاتی ہیں ..جہاں قانون اور جمہوریت کی حکمرانی ہو .....اور جہاں خاندانی وراثت اور خلافت ہو ..وہاں قانون اور جمہوریت کی بکواس نہیں کرنی چائے ......وہاں آنے والا اور نظام بدلنے والا بھی کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا ..میں ضیاء اور مشرف کو بےغیرت اور غدار اس لئے نہیں کہتا کہ انہوں نے مارشل لا کیوں لگایا ..بلکہ اس لئے کہتا ہوں کہ انہوں نے یہ نظام کیوں نہ بدلہ ....جبکہ وہ نظام تبدیل کر سکتے تھے ..مگر انہوں نے اپنی کرسی کی خاطر چوروں لٹیروں کو ساتھ ملا کر حکومت کی ....ہم ہر آنے والے کے لئے مٹھایاں تقسیم کرتے آے ہیں اور اب بھی کریں گے ..کیونکہ میرے جیسے لوگوں کو اس بےغیرت جاگیروں کے نظام سے نفرت ہے .........ہمارے سیاستدان کی سب سے بغیرتی یہ ہے ..کہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں ..تو ان کا رویہ ..بھڑکیں ...اور بیانات کچھ اور ہوتے مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان کے قول اور فعل میں تضاد ہوتا ہے ....یہی اس ملک کی بدقسمتی ..تباہی اور بربادی کی وجہ ہے ....اسی لئے انقلاب نے آنا ہے انشااللہ .............................

...............

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧..٣٣٣٩.....

Sunday, December 29, 2013

...........
جناب قادری صاحب ......نہ تو آپ کے دفتر سے کوئی جواب موصول ہوتا ہے...اور نہ آپ کوئی عملی اقدامات انقلاب کے لئے کرتے ہیں ..نہ کوئی ٹھوس لاۓمہ عمل سامنے آتا ہے ...صرف بیانات ہی بیانات ہیں ..ان بیانات سے اس قوم کا درد ختم ہونے والا نہیں ہے ..نہ اس طرح پاکستان کی قسمت بدلے گی اور نہ یہ نظام ..تو پھر آپ کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں .....کیا ہم سب نظام کی تبدیلی کے خواب دیکھتے دیکھتے اس دنیا سے چلے جایں گے ...کیا آپ کو اپنی موت کے وقت کا پتہ ہے ...اگر نہیں تو انتظار کس بات کا ..اگر خدا نخواستہ کل کو آپ فوت ہو جاتے ہیں..تو ہم کو پھر کسی لیڈر کے آنے کا ٥٠ سال انتظار کرنا ہو گا ....یا آپ بتا دو ..ہم اپنا رونا کس کے آگے رونے جایں ......خدا کا واسطہ دیتا ہوں ایک گنگار مسلمان ہونے کی حثیت سے کہ خدا راہ ہم کو ان چور ..لٹیروں سے نجات کے لئے ..اس فرسودہ نظم سے ..اس بےغیرت جمہوریت سے نجات کے لئے میدان میں آ جایں ...زندگی کا کوئی بھروسہ نہ ہے ....یا پھر ہمیشہ کے لئے انقلاب انقلاب پر صرف بیانات دے کر ہمارے زخموں پر نکم مت چھڑکیں.....نہ مذمت سے اور نہ بیانات سے ہُل ہوتے ہیں ...اگر عمل نہیں تو میں مسلمان نہیں .....یاد رکھو خدا کو کیا جواب دیں گے ..ہم سب اپنی اپنی کتابیں یا بے سود تقریریں خدا کو پیش کریں گے ....خدا اور رسول کا پھر واسطہ دیتا ہوں ..کہ اگر نیت نیک ہے ..ٹھیک ہے ..تو دوبارہ غلطی مت کرو اور حافظ صید ..عمران خان ..شیخ رشید ..جنرل حمید گل اور دوسرے محب وطن لوگوں کو ساتھ ملا کر نکلیں ..جو نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں ..پی.پی.پی.اور نواز شریف اور گجرات والے چودھری ..یہ سب چور .لٹیرے ہیں ..یہ نظام کی تبدیلی نہیں چاہتے ..اس لئے ان پر عتبار مت کرنا .....اور خدا اور نبی کا نام لے کر نکلو ...پوری قوم تیار ہے ..اور کسی لیڈ کرنے والے کی انتظار کر رہی ہے ......اکیلے اکیلے مت نکلو ...متحد ہو کر نکلو ..اتحاد میں برکت ہے ..ورنہ یہ نظام نہیں بدلے گا ..مگر آپ سب کی کاروباری دکانیں چلتی رہیں گی ..اب یہ بات آپ پر ہے ..کہ ملک ..قوم اور دین اسلام کے ساتھ مخلص ہیں ..یا اپنی اپنی کاروباری دکانوں سے مخلص ہیں ....قوم کو بیوقوف مت بناؤ سیاسی بازیگروں کی طرح اور ڈالروں سے کھیلنے والے اینکروں کی طرح اور غدار کالم نگار .تجزیہ نگار اور چینل مالکان کی طرح.......ہم سب نے آخر کار مرنا ہے ..قبر میں سب کو حساب دینا ہے ......سوچ لو ..اور مجھے واپسی جواب دو ....اگر تمہارے پاس نظام نہیں ہے تو میرے پاس ہیں نظام لکھ کر دینے والے .......ویسے اسلام اور مسجد سے آگے کوئی نظام نہیں ہے ......نظم ہر محلے کی مسجد سے نکلے گا ......سب فیصلے دہلیز پر ہوں گے ................

...........

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ......

.......

٠٠٣٩...٣٢٠...٣٣٧.....٣٣٣٩.......
...................
مشرف غدار ے وطن ہے .......................

..............

اگر حکمران یہ حق رکھتا ہے ..کہ وہ اپنی قوم کو ذلت کی موت مارے ...تو پھر ہم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم بھی اپنی صوابدید میں اپنی راۓ دیں....حکمرانوں نے ہم کو ٦٥ سالوں سے کیا دیا ہے ....ہر حکمران کے کارنامے قوم کے سامنے ہیں ....کسی نے ملک کو لوٹا ..کسی نے غداری کی ..کسی نے کرپشن ..کسی نے اقرباپروری ..ہر ایک نے ابتک جتنی بغیرتی کر سکتا تھا کی ہے ..کوئی کسر نہ چھوڑی گئی ہے ....اب ملک اور عوام اپنی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں .......اور ہمارے ٹی.وی ..چنیل غدار مشرف کو ہر روز پروگراموں میں بلا کر ہیرو ثابت کر رہے ہیں .....ایک غدار کو کس کے اشارے پر ہیرو بنایا جا رہا ہے ....اس سے سوال کرنے والے ووہی پارٹ پلے کر رہے ہیں ..جس طرح ملالا پر پروگرام کروانے کے لئے اینکر حضرات کو دوبئی بلا کر کھا جاتا تھا ..کہ ملالا پر پروگرام کرو ......ہر پروگرام کے پیچھے مافیا ہوتی ہے ..کوئی ملک ریاض کی شکل میں ..کوئی ڈالر کی شکل میں ......نوٹ کماۓ جا رہے ہیں مشرف کو پروموٹ کر کے ....یہی میڈیا کی بھی سیاسدانوں کی طرح بدکرداری کا ثبوت ہے ....کوئی مشرف سے سوال نہیں کرتا ..کہ اگر تم اتنے دلیر تھے ..تو کالاباغ ڈیم کیوں نہ بنا ...امریکہ کو اڈے کیوں دئے...اڈے نہ دینے پر اختلاف کرنے والے جرنل کو کیوں نوکری سے نکال دیا گیا ....امریکا کی جنگ میں بزدلی سے کیوں گیا .....دہشت گردی ..غنڈہ گردی ..ٹارگٹ کلنگ ..بھتہ خوری کو ہوا کیوں دی ....چوروں لٹیروں کو ساتھ ملا کر حکومت اور اقتدار کا مزہ کیوں لیا ....نظام تبدیل کیوں نہ کیا ..میرے جیسے کو اقتدار دے دو ..ایک ہفتے کے اندر نظام تبدیل نہ کر دوں ..تو مجھے پھانسی پر لٹکا دینا ..مشرف کو نظام بدلنے کے لئے کتنے سال درکار تھے ...بلدیاتی نظام تو گجرات والوں کی ضرورت تھی ....ایک طرف میڈیا کہ رہا ہے کہ پھانسی دینے کا دوسری طرف باہر بجھنے کا اگریمنٹ ہو گیا ہے .....کیا کیا بکواس میڈیا پر چل رہی ہے ...حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ نواز شریف جیسا بزدل لیڈر صرف میرے جیسے کو تو نقصان پنچا سکتا ہے مشرف کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ..یہ صرف ڈرامہ ہے ....عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ....راتوں رات میڈیا افتخار چودھری کے خلاف بول رہا ہے اور مشرف کے گیت گا رہا ہے ....یہی ہماری بدقسمتی ہے ..اسی لئے کہتا ہوں کہ یہاں انقلاب کے سواۓ کوئی چارہ کار نہ ہے ..اگر پاکستان نے قائم رہنا ہے تو انقلاب نا گزیر ہے ...اگر مشرف کو سزا نہ دی گئی.....تو نواز شریف اور زرداری بھی پھانسی کے لئے تیار ہو جایں......اب کی بار سب کا احتساب کرنے والا آے گا انشاالہ.......چوروں لٹیروں کو لٹکانے والا آے گا .....تب پاکستان میں تبدیلی آے گی ....................................

......................

جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ.......

............................

٠٠٣٩...٣٢٠...٣٣٧..........٣٣٣٩.......

Wednesday, December 25, 2013

.....................انقلاب نا گزیر ہے .........قسط نمبر ٢ ................
..............معاشرے میں ہونے والی منافقت ، بد عنوانی ، ملاوٹ ...غلیظ کاروبار ..بے راہروی..ڈاکے ..چوریاں ..گینگ  ریپ ..سفارش .رشوت...ناانصافی ..اقرباپروری...پلاٹوں ..زمینوں پر قبضے ..چادر اور چار دیواری کی حفاظت ..مہنگائی اور بیروزگاری ...سب سے بڑا ووہی ہے ..جو کن  ٹوٹا بدمعاش ہے ..جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا  معاملہ  ہے ...چور اچکا چودھری اور غنڈی رن پردان والا معاملہ  ہے ....اسلہ کے  لاسنس  کا کاروبار ..اسلہ کی چوری ..اسلہ کے انبار ..جہاں گرنیٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو ..کلانشنکوف کے آگے عزت اور غیرت کی کوئی اہمیت نہ ہو ...جہاں مادیت پرستی اپنی آخری حدود کو پنچ چکی ہوں ..جہاں بچے براۓ فروخت ہوں ...جہاں بیروزگاری کی وجہ سے کوئی اپنی ماں .بہن .بیٹی کی عزت کا پاس نہ کر سکتا ہو ...جہاں کوئی کسی کی بات سننے والا نہ ہو ..جہاں صرف چھوٹ اور منافقت اینکر حضرات اپنے چنیل کی ریٹنگ کی غرض کے لئے اور اپنی مشہوری کے لئے اور مادیت پرستی کے لئے پروگرام کے جا رہے ہوں ....جہاں ہر پروگرام کے پیچھے ڈالرك کاروبار ہو ..جہاں افغان مہاجرین کی  دوکان صرف ڈالر سے چل رہی ہو ..جہاں جنگ ہماری کہنے پر اور ملالا کے اوپر پروگرام کرنے پر ڈالر ملتے ہوں .....وہاں انقلاب نہیں آے گا ..تو کیا طوفان نوح آے گا ...اور اگر قوم اسی کا انتظار کر رہی ہے تو اس سے زیادہ اور اس قوم کی بدقسمتی کیا ہو گی ...کہ ہر روز لاشیں اٹھانے والی قوم کو پھر بھی جمہوریت سے امیدیں وابستہ ہیں ..جہاں ہر روز قیامت صغرا کا گزر ہوتا ہے ..مگر افسوس ہم دوسرے کے گھر آنے والی قیامت کو قیامت نہیں سمجھتے .....انڈیا سرے عام مداخلت کر رہا ہے اور ہماری جرات ..دلیری ..بردباری ..سالمیت ..غیرت..ملی جزبہ ہمارے حکمران کی دور اندیشی کسی اور ہی انقلاب کا شاخسانہ ہے ......پھر بھی ہم بیوروکریسی کی طرح ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر گامزن ہیں ..اور حکمران جب اقتدار میں نہیں ہوتا تو انقلاب لانے کی بکواس کرتا ہے اور انقلابی  اشعار پڑھ کر انقلابی شیر بنتا ہے ...اور جب  اقتدار میں آتا ہے تو انقلاب کے خون سے لوگوں کو ڈراتا ہے ..اور خود بھی اپنے احتساب کی خاطر انقلاب سے خوف کھاتا ہے اور نظام بدلنے اور تقدیر بدلنے کے سنہرے خواب دکھانے والا صرف اپنی تقدیر بدلنے کے لئے دن رات ایک کر دیتا ہے اور اس فرسودہ نظام سے کھیلتا ہے ..کیونکہ بد کردار حکمران جانتا ہے کہ اگر نظام تبدیل ہو گیا ..تو سب سے پہلے  حکمران کی گردن کے گرد پھندہ تنگ  ہو گا ...اسی لئے کہتا ہوں کہ انقلاب ناگزیر ہے ..مگر آپ سوال کرتے ہیں کہ کونسا انقلاب اور کون لاۓ گا .....اس پر قریب قریب ٧٠ کالم لکھ چکا ہوں ....میری ویب سائٹ وزٹ کر لیں ........مختصر یہ ہے ..کہ اس وقت پاکستان میں ایک ایماندار ..دلیر .نڈر ..بیباک لیڈر موجود ہے اور وہ ہے عمران خان ........جو اگر الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کرتا تو انقلاب آ چکا ہوتا ...مگر افسوس .....اب اگر عمران خان  ساری اپوزیشن کو ساتھ مل کر تحریک چلاۓ.....تو نظام تبدیل ہو سکتا ہے ...خاص کر شیخ رشید ..جماعت اسلامی ....دفاہ پاکستان ...حافظ سعید..قادری صاحب ...جنرل حمید گل ...ڈاکٹر قدیر...اور محب وطن ساتھیوں کی مدد  سے نظام کی تبدیلی والا کام ہو سکتا ہے اور انقلاب آ سکتا ہے ..جب نظام تبدیل ہو جے گا ..پھر الیکشن کروا لو ..عام آدمی الیکشن میں حصہ لے گا ..چور .لٹیرے ..کن ٹوٹے ..ملک سے بھاگ جایں گے ......اس بات کی میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں ....کہ اس گند کو پاک کرنے کے بغیر الیکشن اور جمہوریت فضول ہے ....اور اگر  عالمی سازشی عناصر اور چند پاکستانی غداروں کی وجہ سے عمران خان نظام تبدیل نہ کر سکا .....تو آج میرے جیسے پاگل کی بات لکھ لو ..کہ پھر راتوں رات کوئی مرد مجاہد آے گا اور نظام بھی تبدیل ہو گا اور چند کو لٹکاۓ گا بھی .......کیونکہ اب کی بار آنے والا مشرف اور ضیاء کی طرح بےغیرت نہیں ہو گا ...اور انشاءاللہ انقلاب آے گا اور یہ فرسودہ نظام تبدیل ہو گا ..انقلاب نا گزیر ہے ........میں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا .............
.............آنے والا انقلاب اب تجھے بتا کے آے گا
...........آنے سے پہلے تیرے اندر ہلچل مچا کے آے گا
..........اب  کی بار تاج اچھالے نہیں جایں گے
..........اب کی  بار  تاج و تخت جلا  کے آے گا
.................جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ.........نائب صدر ..آل اطالیہ پریس کلب اطالیہ
.........................٠٠٣٩...٣٢٠...٣٣٧....٣٣٣٩.....،
.........جاری ہے ...................تیسری قسط .......................کل انشاالله.......
..............انقلاب ناگزیر ہے .............
............یا تو ہم لوگوں کو انقلاب کے نام سے چڑ ہے ...یا خوف زدہ ہیں ..یا انقیاب کو  صرف خون بہانے کا نام دیتے ہیں ..یا پھر دنیا کی تاریخ کو اٹھا کر نہیں دیکھتے یا تاریخ سے سبق سیکھنا گوارہ نہیں کرتے یا پھر آنکھیں بند کر کے جینا چاہتے ہیں یا من و سلوا کے انتظار میں ہیں ....اتنے سوالات ان ان لوگوں کی طرف سے موصول کرتا ہوں جن کو میں تعلیم یافتہ  سمجتا ہوں ...تو کئی دفعہ اپنی قوم کے شعور سے پریشان ہو جاتا ہوں ..کہ ہم کس دنیا میں سفر کر رہے ہیں .....ایک دوسرے سے اختلاف کرنا ہم سب کا حق ہے ..مگر حقیقت سے آنکھیں چرانا ہمارا حق نہیں ہے ..یہ بد دیانتی ہے ..منافقت ہے اور قوم سے پاکستان سے غداری ہے ..میں نے اپنے ہزاروں کالم میں تفصیل سے لکھا کہ انقلاب کیا ہے ..کس جانور کا نام ہے ........انقلاب کیوں ضروری ہے ..انقلاب آنے والا ہے اور انقلاب کے بغیر ہماری کوئی بھی پالیسی نہیں بن سکتی ..اور نہ ہم اپنا  وقار دنیا میں بھال کر سکتے ہیں ..وغیرہ وغیرہ .....مگر آج میں آپ کے سامنے  کافی سوال چھوڑے جا رہا ہوں ..آپ لوگوں کے جوابات کا انتظار رہے گا....اور امید کرتا ہوں کہ آپ مجھ سے اختلاف رکھنے کے باوجود سوچنے پر مجبور ضرور ہو جائیں گے .......مزید تفصیل میری ١٢ کتابوں میں ہے اور میری ویب سائٹ میں ہے ..........١..کیا ہم اس طرح کی منافقت والی ..خود غرضی والی ..بادشاہت والی  جمہوریت سے نظام تبدیل کر سکتے ہیں .٢..کیا ہم اس بےغیرت.فرسودہ ..گندے  بیوروکریسی کے نظام سے ملک کو ایک اچھا نظام دے سکتے ہیں ..٣..کیا ہم اس بےغیرت جمہوریت سے عدالتوں سے انصاف لے سکتے ہیں ..٣..کیا ٦٥ سالوں کا گند ختم کر سکتے ہیں ..٤..کیا انقلاب کے بغیر اس نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں ..٥..کیا ہم عدالتوں کے تمام مقدمات ایک مہینے میں ختم کر سکتے ہیں ..٦..کیا انقلاب کے بغیر سارے ملک میں ایک اسلامی طریقہ تعلیم رائج کر سکتے ہیں ..٧..کیا ملک کو مذھبی تفرقہ بازی سے پاک کر سکتے ہیں ..٨..کیا انقلاب کے بغیر سیاسی اور بیوروکریسی کی مافیا سے ٦٥ سالوں کے قرضے واپس لے سکتے ہیں ...٩..کیا ہم قرضے دینے اور واپس لینے اور قرضے معاف کروانے والوں کو کوئی قانون کا صفہ یا آرٹیکل دکھا سکتے ہیں ..١٠..کیا کسی قرض  نا دہندہ کو پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں ....١١..کیا ملک کے خزانے کو لوٹنے والوں  کے لئے  پھانسی کا قانون بنا سکتے ہیں ....١٢....کیا ایم....این ..اے....اور ایم...پی ..اے ...کے فنڈ بند کر کے یونین کونسل کو دے سکتے ہیں ..١٣....کیا انقلاب کے بغیر ہم کہ سکتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے اور ضیاء دور والی جنگ بھی  ہماری نہیں  تھی ...١٤...کیا انقلاب کے بغیر ہم کہ سکتے ہیں کہ ضیاء اور مشرف دونوں نے غلط جنگ کا بیج بھویا ....١٥..کیا نظام تبدیل کئے بغیر ہم نوجوانوں کو میرٹ پر ملازمت دے سکتے ہیں ...کیا گورنر اور صدر کا انتخاب عوام کر سکتے ہیں ..١٦....کیا دہلیز پر انصاف دے سکتے ہیں ..١٨..کیا انقلاب کے بغیر  وارثت کی سیاست اور چند خاندانوں کی سیاست کی اجارہ داری خگتم کر سکتے ہیں ..١٩..کیا زرداری اور نواز شریف سے لوٹی ہوئی رقم واپس لے سکتے ہیں ...٢٠...کیا انقلاب کے بغیر ہم انڈیا سے دو ٹوک بات کر سکتے ہیں ..٢١..کیا کالا باغ ڈیم بنا سکتے ہیں اور کیا کالاباغ ڈیم پر ہونے والے اخراجات کا حساب چکا سکتے ہیں ..٢٢..کیا کشمیر کا مسلہ حل  ہو سکتا ہے ..٢٣..کیا عام آدمی  کو اقتدار مل سکتا ہے ..٢٤..کیا انقلاب کے بغیر آپ تمام گیس.پٹرول پمپ اور دوسری اجنسیاں ختم کر سکتے ہیں ..٢٥.کیا یورپ کی طرز کا یا اسلامی ٹیکس کا نظام دے سکتے ہیں ..٢٥..کیا ہر آدمی کو پنشن اور فری ہسپتال کی سہولت دے سکتے ہیں ..٢٦..کیا کسی تھانیدار اور پٹواری کو سیاست سے پاک کر سکتے ہو ...٢٧..کیا کسی محکمے کے سربراہ کو لگانے کے لئے کوئی سیاست کے بغیر قانون بنا سکتے ہو ..٢٨..کیا نوجوان کو یونیورسٹی سے نکلنے کے ساتھ اس کو ٹریننگ دے سکتے ہو ...٣٠..کیا میڈل سیاسی وابستگی کے بغیر دے سکتے ہو ..٣١..کیا کبھی کسی اخبار یا چنیل کے مالک  کی دولت کا حساب لے سکتے ہو ..٣٣..کیا دوبئی..جدہ .انگلینڈ ..امریکا ..سویزرلنڈ اور دوسرے ملکوں میں پڑی ہوئی پاکستانی دولت کو واپس لا سکتے ہو..٣٤..کیا بیوروکریسی کے شہنشاہوں سے پوچھ سکتے ہو کہ ان کے بچے کس کی دولت سے باہر کے ملکوں میں پڑھ رہے ہیں ...٣٥..کیا کالے دھن کو سفید بنانے کے کاروبار کو ختم کر سکتے ہو اور سب سے بڑی بات کہ کیا ایک با عزت قوم ہونے کے ناتے کشکول توڑ کر امریکا کی غلامی سے نکل سکتے ہو اور کیا انقلاب کے بغیر نظام تبدیل کر سکتے ہو ....جاری ہے ...باقی کل  انشااللہ ..........
..............جاوید اقبال چیمہ ..میلان ..اطالیہ...نایب صدر آل اطالیہ پریس کلب ........
...........٠٠٣٩..٣٢٠..٣٣٧.....٣٣٣٩...

Sunday, October 27, 2013

.......................ملالا چند گماشتوں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے ..................
.............میں نے آج تک ملالا کے بارے کچھ نہیں لکھا اور نہ لکھنا چاہتا تھا ..کیونکہ  مجھے اس ڈرامہ کے کرداروں پر شروع سے ہی شک تھا ...اس لئے نہ میں نے اس کے حق میں اور نہ اس کے خلاف لکھا ....مگر اس کی بھوت زیادہ مشہوری اور حد سے زیادہ پزیرائی پر مجھے اس لئے حیرانی ہوئی ..کہ آجکل کے دور میں مشہور ہونے کے لئے اور راتوں رات دولت مند بننے کے لئے اور یورپ کی. دنیا میں نام کمانے کے لئے چند بغیرتی کے پیمانے ہیں اگر آپ ضمیر فروش ہیں  .غدار ہیں ..اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ..میوزک اور فیشن شو کروا سکتے ہیں یا ماڈل بننے کی خواہش رکھتے ہیں ..یا آپ پاکستانی یا مسلمان عورت  کو یورپ جیسی آزادی دینے کے حق میں کالم لکھو یا لیکچر دو ....یا پھر میڈیا تم پر مہربان ہو جاۓ ..مگر میڈیا بھی ایسے ہی مہربان نہیں ہوتا ..وہ بھی ڈکٹیشن لیتا ہے ....اس کو ڈکٹیشن ملتی ہے ڈالر کی شکل میں ..پھر وہ اپنے اینکر حضرات کو حکم دیتا ہے ..کہ فلاں کو بلاؤ ..یا فلاں شخسیت پر پروگرام کرو ..جس طرح ملالا کے ڈرامہ میں میڈیا نے کردار ادا کیا ..وہ آپ کے سامنے ہے ...کہ کس طرح چنیل کے مالکان نے اپنے ہاں حکم دیا کہ ملالا پر پروگرام کرو ...کس طرح اینکر حضرات کو دوبئی بلا کر کہا گیا کہ ملالا پر پروگرام کرو ......بلکہ حیرانگی کی بات ہے کہ ایک چنیل والے نے تین مہینے سے ملازموں کو تنخواہ بھی نہیں دی تھی تو اس نے دوبئی بلا کر جب حکم دیا تھا تو یہ بھی کہ تھا کہ ملالا پر پروگرام کرنے کے بعد ملازموں کو ادائگی کر دی جاۓ گی ..تو ایسا ہی ہوا ....میں تیس سال سے لکھ رہا ہوں ..١٢ کتابیں بھی چھپوا چکا ہوں ..میڈیا مہربان نہیں ہے اس لئے میں ہیرو نہیں زیرو ہوں ...نہ میں اینکر بن سکا نہ کروڑ پتی ...کیونکہ ٤٥ سالوں سے صرف مزدوری کر رہا ہوں .......اگر ملالا کے نام سے کتاب نہ لکھی جاتی تو بہتر تھا ...نہ ملالا کے چہرے سے نقاب ہٹتا اور نہ  ملالا کا اصل چہرہ میرے سامنے آتا ...اور نہ میں پریشان  ہوتا .....یہاں میڈیا اور مافیا جس پر مہربان ووہی ہیرو .....مگر ملالا کے ڈیڈی نواز شریف کا کیا بنے گا جو  ڈاکٹر  عافیہ صدیقی  کا ڈیڈی تو نہ بن سکا .....ملالا کی کتاب سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سلمان رشدی بن جاؤ ....پیسہ کماؤ ..نمبر بناؤ ....مشہور ہو جاؤ ...دنیا کا ہر میڈل اپنے سینے پر سجاتے جاؤ .....طالبان نے  جو  ظلم کیا سو کیا ..مگر ملالا کا باپ جو عالمی گوماشتوں کے ہاتھوں کھیل کر اپنی پھول جیسی بچی کے ساتھ ظلم کر چکا ہے اور مزید کرے گا .....وہ آہستہ آہستہ تم بھی دیکھو میں بھی دیکھوں  گا .....اگر میڈیا کو کتاب پر تبصرے سے روک دیا گیا تو اور بات ہے ..ورنہ یہ کتاب مسلمانوں اور خاص کر پاکستانیوں کے لئے ایک متنازعہ کتاب ثابت ہو گی ....کیونکہ لکھنے اور  لکھانے والا باپ اور نام بیچاری ملالا کا .......میں اوریہ مقبول جان اور انصار عباسی سے بھی متفق ہوں ..مگر دوسرے غیر ذمےدار تبصرہ نگاروں سے متفق نہیں ہوں جو دوغلی .منافقانہ پالیسی اختیار کرتے ہوۓ یہ کہتے ہیں کہ کتاب میں ایسی کوئی بات نہیں ہے مگر اس کتاب کو پاکستان نہیں آنا چاہئے ..اس منطق کو میں نہیں سمجھ سکا اگر آپ سمجھ گہے ہیں تو قوم کو اگاہ کر دیں .....میں تو بار بار ایک ہی عرض کر رہا ہوں ..کہ ہماری تمام برائیوں کی جڑھ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے ....نا اہل .کرپٹ ..بد دیانت حکمران ..غلط فرسودہ . دقیانوسی نظام کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں تماشہ بن چکے ہیں ...ہم زوال کی طرف گامزن ہیں ہمارہ معاشرہ تباہ ہو چکا ہے .....یہاں صفائی کی ضرورت ہے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ..یہ کام اب صرف انقلاب سے ممکن ہے جمہوریت سے نہیں ہو گا ...کیونکہ جمہوریت کے ان ٹھیکیداروں کی وجہ سے ہی ہم برباد ہوۓ ہیں ......جتنا خون ہم ہر روز بھا رہے ہیں ..اگر میرا حکمران نظم تبدیل کر دیتا تو ملک میں کب کا سبز انقلاب آ چکا ہوتا .............اسی لئے اپنی کتاب میں حکمران سے کہا .....
..........لانا ہے انقلاب تو پھر خون بہانا کوئی ضروری ہے
.........بدلنا ہے  نظام  تو پھر بہانے  بنانا کوئی ضروری ہے
..........جب یقین ہے  کہ  موت  نے  اک  دن   آنا   ہے
.........تو  پھر زندگی  کا  جشن  منانا  کوئی  ضروری  ہے
....................جاوید اقبال چیمہ .....میلان ..اطالیہ

Friday, October 25, 2013

..................نواز شریف کا ناکام ترین دورہ ........................
........نہ تو میں قصیدہ لکھ سکتا ہوں ...نہ جھوٹ بول سکتا ہوں ...نہ میرا ضمیر اجازت دیتا ہے کہ کالے کوے کو سفید لکھ سکوں ...نہ  مجھے نواز شریف سے دشمنی ہے ....نواز شریف کا کچھ نہں بگڑا .....اگر نقصان ہوا ہے تو قوم کا ....اگر بےعزتی کی گئی ہے تو پاکستانی قوم کی ...اگر مذاق کیا گیا ہے تو پاکستانی قوم کے ساتھ کیا گیا ہے ....اگر اس دورے کی ناکامی کی وجوہات پر غور کیا جاۓ ..تو یا تو بیوروکریسی شامل ہے یا وہ لوگ جنہوں نے یہ دورہ آرگنائیز کیا تھا ...انہوں نے ملکر نواز شریف اور پاکستان کی مٹی پلید کی ہے ....اگر کامیابی ہوئی ہے تو صرف اتنی کہ جی حضوری اور چاپلوسی اگر اسی طرح جاری رہی تو نواز شریف کی نوکری پکی اور عوام کے لئے چکی ......امریکا کامیاب ہو گیا تھا  جب میرے حکمران کے منہ سے یہ الفاظ پردیس میں نکلے ..کہ ہم کو اپنا گھر ٹھیک کرنا ہو گا اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو کاروائی کرنا ہو گی ...یہی تو امریکا چاہتا ہے کہ ہم وزیرستان میں کاروائی کریں اور دنیا مزید ہماری بربادی کا تماشا دیکھے ..اور ہو سکتا ہے کہ ١٩٧١ والے حالات پیدا کر دئے جایں ...کیونکہ کشمیر ..عافیہ صدیقی اور ڈرون کے معاملہ  پر امریکا نے ہمارے منہ پر پھر انڈیا کی طرح تماچہ رسید کر دیا ہے ...اور ہم صرف ہاتھ سینے پر رکھ کر باادب ہونے کا مظاھرہ کر کے واپس آ گہے ....نواز شریف کی توہین کی مرتکب بیوروکریسی نے اس طرح کی ہے ..جیسے کوئی پرانا بدلہ لیا گیا ہے ....یا میں نواز شریف کی ناہلی کہوں ..کہ اس کو جلدی میں امریکا کا دورہ نہیں کرنا چاہئے تھا ..ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد یہ دورہ کرتے تو اچھا ہوتا ..اور کچھ نہ کرتے مگر یہ ڈکٹیشن نہ لیتے کہ مذاکرات کامیاب نہ ہووے تو ہم چڑھائی کر دیں گے ..کیونکہ یہی تو ہمارا دشمن چاہتا ہے ... دورے سے پہلے عافیہ صدیقی کا معاملہ طے کر لیا جاتا ..تو اچھا ہوتا ..کم از کم عزت تو رہ جاتی .......اب نہ صنم نہ وصال صنم والی بات نہ ہوتی ............کیا کہوں کشکول والے حکمرانوں اور نا اہل بزدل حکمرانوں کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے .......کاش قصیدہ لکھنے والوں کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی ....اور وہ ضمیر کی آواز سے حکمران کو بتا سکتے کہ  اپنے قبلے اور مقصد اور نیت کو ٹھیک کرو اور اپنی ترجیحات کو قوم کے  سامنے رکھو ...اور قوم کے ساتھ ظالمانہ سلوک مت کرو ...کشکول کو توڑ دو ..نظام کو بدل دو ..تاکہ مشورے دینے والے خود بخود بدل جایں ....تاکہ گھر کی بات گھر میں کہ  دو ..یہ بات امریکا میں کہنے والی نہ تھی ...ڈکٹیشن کے بعد .......باقی آخر میں ایک عرض اگر جان  کی آمان  پاؤں ......تو یہ ہے کہ گھر خود بخود ٹھیک  ہو جاۓ گا اگر میرا حکمران ٹھیک ہو جاۓ تو .............کاش ...کاش ....کاش  کہ تیرے دل میں اتر جاۓ میری یہ بات ..............تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تیرا نہ من ............
.............جاوید اقبال چیمہ ...میلان ..اطالیہ .........