Mission


Inqelaab E Zamana

About Me

My photo
I am a simple human being, down to earth, hunger, criminal justice and anti human activities bugs me. I hate nothing but discrimination on bases of color, sex and nationality on earth as I believe We all are common humans.

Friday, August 28, 2015

======انصاف اور جسٹس کاظم علی ملک =====
=اس سے پہلے کہ کوئی الفاظ لکھوں میں جسٹس کاظم علی ملک کو سلام پیش کرتا ہوں .اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس ملک میں انصاف دینے والے انصاف کے فیصلے لکھنے والے اور انصاف کے لئے جد و جہد کرنے والے عطا فرما .کیونکہ میرے نزدیک جس ریاست میں نہیں ہوتا اس ریاست کو اسلامی ریاست کہنا توہین ہے .یہ سرا سر اسلام کے ساتھ زیادتی ہے کہ آپ مسلمان حکمران ہوں اور عوام کو انصاف فراہم نہ کر سکیں .٦٥ سالوں سے اس ملک میں انصاف کے نام پر لوگوں کو زندگیاں اجیرن بنائی گئیں .لوگ انصاف کے حصول کے لئے در در دھکے خانے پر مجبور کئے گیے.چھوٹے ججوں کو تو چھوڑ دو .پاکستان کی سپریم کورٹ بھی قوم کو انصاف دینے میں ناکام رہی .ہر فیصلے میں حکمران کی خوشنودی نظر آئی اور نظریہ ضرورت کی جھلک نظر آئی .بھوت کم لوگوں نے جج کی انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر لوگوں کو انصاف فراھم کیا .میں کاظم علی ملک صاحب کے بارے میں تھوڑا بھوت جانتا ہوں .یہ گوجرانوالہ میں بھی جب جج تھے .تو ان کے کافی فیصلوں کو جانتا ہوں .ان کے خلاف گوجرانوالہ کے وکیلوں نے ہرتال بھی کی تھی .اس بنیاد پر کہ یہ ہم کو ریلیف نہیں دیتے .اس ریلیف کے کافی مطلب ہیں .آپ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں .وکیل چاہتے ہیں تاریخوں پر تاریخیں دی جایں .فیصلے میں جلدی نہ کی جاۓ .مقدمہ کو طول دیا جاۓ .تاکہ سائل کے گھر کے سارے برتن بک جایں.وغیرہ وغیرہ .میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ جہاں حکمران انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے وہاں چند وکلا اور بار کا بھی کچھ رول ہوتا ہے .جو ہر وقت ججوں کو انڈر پرشیر رکھتے ہیں .مگر اس کے باوجود جس جگہ جج یا کوئی افسر ہوتا ہے .اس کے بارے میں اس علاقہ میں ایک تاثر ضرور قایم ہو جاتا ہے کہ یہ آدمی کس قماش کا ہے .مجھے یاد ہے اپنا ذاتی تجربہ .کہ جب ١٧ جولائی ١٩٧٦ کو بھٹو صاحب نے کچھ فیکٹریوں کو قومی تحویل میں لیا .تو مجھے ایریا مینجر پسرور لگا کر بیجھا گیا .میں ہائی وے ریسٹ ہاؤس پسرور میں ٹھہرا ہوا تھا .میرے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر اکرام صاحب تھے .تو چند دن بعد مجھے انہوں نے بتایا کہ آپ بھوت سخت ہیں .لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک چیمہ تھانیدار ١٩٤٧ میں آیا تھا اور یہ چیمہ جو آج آیا ہے .جو کرپشن نہیں کرتا .باقی ہم نے آج تک کوئی افسر کرپشن کے بغیر نہیں دیکھا .اس وقت میرے انچارج اور زونل منیجر خالد لطیف تھے .جو بعد میں دو دفعہ کمشنر گوجرانوالہ رہے .ان کا اپنا سٹایل تھا .تو ہر ایک کا اپنا اپنا کام کرنے کا انداز ہوتا ہے .یہ جسٹس کاظم علی ملک صاحب جب ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن تھے .اس وقت بھی بیوروکریسی ان کے خلاف تھی .کیونکہ پاکستان کی بیوروکریسی بڑی ظالم چیز ہے .جس کو ہر حال میں سیاستدان کو خوش رکھنا ہوتا ہے .اور کافی غلط مشورے سیاستدانوں کو یہی دیتے ہیں .تو اس وقت بھی بیوروکریسی نے یہ کہا تھا کہ اگر یہ شخص بیوروکریسی کی کرپشن پر اسی طرح ہاتھ ڈالتا رہا تو حکومت اگلا الیکشن ہار جاۓ گی .تو ان کو ہٹا دیا گیا تھا .با اصول با ضمیر شخص چند بیوروکریٹ اور سیاستدانوں کو اس ملک میں راس نہیں آتا .ذولفقار چیمہ کی طرح کافی مثالیں موجود ہیں .سب سے سوچنے والی اور حیران کن بات یہ ہے .کہ جسٹس کاظم علی ملک کے ٦ نکات جو انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھے ہیں .کیا سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کو اپنے فیصلوں پر کبھی لاگو کیا ہے .سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ جوڈیشنل کمیشن دھاندلی والا ہی اٹھا کر دیکھ لو .باقی اصغر خان کیسس اور کرپشن اور غداری کے کیس چھوڑ دو .کیا کسی فیصلے میں ان ٦ نکات کو مد نظر رکھا گیا .اگر کاظم علی ملک صاحب کے ٦ نکات کو مد نظر رکھا جاتا .جو ایک جج کی ضمیر کی آواز ہے .تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی .مگر ہم نے تو ہر ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم سے لے کر ہر بادشاہ ہر خلیفہ ہر نام نہاد جمہوریت کے ڈکٹیٹر کو تحفظ فراہم کیا .پھر کہتے ہیں کہ عوام کا قصور ہے ڈکٹیٹروں کا قصور ہے .جنہوں نے اس ملک کو تباہ کیا .نہیں میں عرض کرتا ہوں کہ اس ملک کو ان ججوں نے تباہ کیا ان کے فیصلوں نے تباہ کیا .جنہوں نے نظریہ ضرورت کو مقدم رکھا اور ریاست کو قوم کو پیچھے رکھا .ججوں نے اپنی ذات کو پروان چڑھایا اپنی خود غرضی خود نمائی کو اولیت دی .افتخار چودھری کی طرح ..آخر وہ ٦ نکات ہیں کیا .جس کو کاظم علی ملک نے ضمیر کی آواز دے کر تحریر کیا =١.کیا میں صرف خورد و نوش کے لئے پیدا کیا گیا ہوں =٢.کیا میں کھونٹے پر بندھے اس جانور کی طرح ہوں جسے صرف اپنے چارے کی فکر ہوتی ہے =٣.کیا میں ایک بے لگام درندہ ہوں جسے کھانے کے سوا کسی چیز سے سرو کار نہیں ہوتا =٤.کیا مجھ میں دین .ضمیر یا اللہ کا خوف نہیں ہے =٥.کیا مجھے اس کائنات میں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے =٦.کیا مجھے یہ حق ہے کہ  میں صراط مستقیم کو چھوڑ کر باطل قوتوں کی راہوں میں بھٹکتا رہوں .یہ ہیں وہ ٦ سوال جس پر حکومت وقت کو تکلیف ہوئی .حالانکہ آپ سب اپنے خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں اور پھر جوابات حاصل کریں .کہ واقه تن ہم اسلامی معاشرے میں زندہ ہیں .اور کیا واقیہی ہم اپنے اللہ اور رسول کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہووے ہیں .اور جو کچھ ہم اپنے ملک کے ساتھ مذھب دین اسلام کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں .وہ ٹھیک کر رہے ہیں یا غلط ..اور کیا یہ نظام اسلامی ہے یا فرھنگی ..اور اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں .فیصلہ آپ پر ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 
=====لکھنے والے پاگل سوچتے ہیں کیا لکھیں ===
==اتنے عنوان اتنے ٹاپک اتنے سکینڈل اتنے بیانات .اتنی مذمتی قرادادیں .کیا کریں میری طرح لکھنے والے سوچتے ہیں کیا لکھیں کس مضمون پر لکھیں .انڈیا کی جارحیت پر لکھیں انڈیا کی بدمعاشی یا انڈیا کے پاگل پن لکھیں .جنگی جنوں پر لکھیں .بغل میں چھری منہ میں رام رام پر لکھیں .کشمیر کا مسلح حل ہونے جا رہا ہے .پاک بھارت ایٹمی جنگ ہونے جا رہی ہے .ہندو بنئے کی گندی غلیظ ذھنیت بےنقاب ہونے جا رہی ہے .مودی دنیا کے نقشے پر فتنہ فساد پھیلانے والا ایک بغیرتی کا میڈل اپنے سینے اور ماتھے پر سجانے والا ہے .جنگ ہو گی کشمیر آزاد ہو گا .اور لعن تان دنیا کی پھٹکار مودی کے حصہ میں آے گی .خود بھارت والے مودی پر تھوکیں گے .کس پر لکھوں کیا امریکا کے پاک بھارت مذاکرات کے بے معنی بیانات پر لکھوں .کھوکھلے اور منافقانہ رویہ پر لکھوں .کیا یہ عالمی گماشتے کشمیر کا مسلح حل نہیں کر سکتے .کر سکتے ہیں ایک منٹ میں کر سکتے ہیں مگر کرنا نہیں چاہتے .یہ صرف تماشہ دیکھنا اور اپنا اسلح بیچنا  چاہتے ہیں .ہم مسلمان ملک امریکا کی اسلح کی منڈی ہیں .اگر ہمارے مسلمان ملکوں میں جنگ لڑائی بند ہو جاۓ تو امریکا کی فیکٹریاں بند ہو جایں گی .اور امریکا یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کشمیر کا مسلح حل ہو اور مسلمان ملکوں میں امن ہو .حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جنگجو دہشت گرد بھی اسلح امریکا اور انڈیا اسرائیل سے حاصل کرتے ہیں اور ہم جو دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ بھی امریکا سے اسلح مانگتے ہیں .یعینی بندر کے ہاتھ انصاف کے لئے  انصاف کا ترازو دے بیٹھے ہیں .واہ میرے مسلمان حکمران .جس لونڈے نے تجھے اس حال میں پنچایا .اسی سے طبیب سمجھ کر دوا لے رہا ہے .کس پر لکھوں برما کے مسلمانوں کو بھول جاؤں .یا یہ لکھوں کہ برما کے مسلمانوں کے لئے امریکا اور مسلمان حکمرانوں نے کیا کیا .یا افغانستان میں دہشت گرد پاکستانی جوانوں کو کیوں خون میں نہلاتے ہیں .کیوں افغانستان سے ہم پر حملے ہوتے ہیں .کیا دنیا یا امریکا نہیں جانتا کہ بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کو ٹریننگ دیتا ہے .انڈیا نے ٢٥ قونصل خانے کھول رکھے ہیں .ان قونصل خانوں میں انڈیا کیا مونگ پھلی کا کاروبار کرتا ہے .کیا = یو .اے .ای .کے بارے میں لکھوں کہ  وہاں کیا گل کھلاۓ جا رہے ہیں وہاں مسلمانوں کے خلاف کیا سازشیں ہو رہی ہیں .اور پاکستان کا سارا گندہ کاروبار یہاں بیٹھ کر ہو رہا ہے .حتہ کہ منی لانڈرنگ تک .پاکستان کی ماڈلز .پاکستان کے سیاستدان اور بیوروکریٹ وہاں کیا کرتے ہیں اور امریکا اور انڈیا کیا پلاننگ کر رہا ہے کونسی سازش کون کون یہاں بیٹھ کر تیار کر رہا ہے .کیا لکھوں کس کس چہرے کو بےنقاب کروں .ہم ایک گورنر سندھ کو عھدے سے ہٹا نہیں سکے جو انڈیا کا سب سے بڑا اجینٹ ہے ملک کا غدار ہے .مقدموں میں ملوث ہے الطاف کا یار ہے .میں کیا لکھوں میں تو اس خوش فہمی پر زندہ ہوں .کہ اب سب بڑی بڑی مچھلیاں پکڑی جایں گی .لوٹی ہوئی دولت واپس آے گی .زرداری .شرجیل میمن .ڈاکٹر عاصم کے حواری گرفتار ہوں گے .توقیر صادق کے قصے منظر عام پر آیں گے .شوگر ملیں حکومت کی تحویل میں ہوں گی .تمام لینڈ مافیا .ہاوسنگ سوسایٹیاں.بلڈرز.چائنہ کٹنگ .تمام قاتل .چور.لٹیرے .کرپٹ .پکڑے جایں گے .جنہوں نے اونے پونے داموں ملک کی زمینیں خیرات میں تقسیم کیں .وہ واپس ہوں گی .ملک ریاض پر ہاتھ ڈالو اس کے داماد عامر پر ہاتھ ڈالو .حمزہ شہباز .مونس الہی .رانا سنا اللہ .رانا مشہود .بھتہ خوروں .غداروں پر ہاتھ ڈالو .منی لانڈرنگ کرنے والوں پر ہاتھ ڈالو .جس جس نے باہر کے ملکوں میں جائداد خریدی .سب پر ہاتھ ڈالو .یہ سب کچھ کون کرے گا .ان سب بیوروکریٹ پر ہاتھ ڈالو جس جس نے ملک کی ترقی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا .کس کس نے انڈیا کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی بات کی .امن کی أشه اور تماشہ کس نے جاری کیا .ریلوے .پی.آئی .اے .سٹیل مل کو کس کس نے لوٹا .کس کس نے نج کاری پر کاروکاری کی .کس نے اصغر خان کیس کو لٹکایا .وہ سو موٹو والا غدار افتخار چودھری کہاں ہے .کیوں اس کو زیادہ مراعات دی گیں .کوںنجم سیٹھی کو ریاض کیانی کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا .جنرل اشفاق کیانی کے بھائیوں پر تفتیش کرو .ڈاکٹر عاصم سے میں نے دو سوال کے تھے جب یہ وزیر تھا .اس نے جواب نہیں دیا تھا .اب اس سے جواب حاصل کرو .پہلا یہ کہ ایک ڈاکٹر کا کیا کام کہ وہ وزیر پٹرولیم بن جاۓ .دوسرا یہ کہ جتنی بار پٹرول کی قیمتیں بڑھای.کس کو فایدہ پنچایا .آجکل کے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی بھی زیرو ہے .ان سے پوچھو آپ کو اور کتنی دولت اور وقت درکار ہے قطر سے معاہدہ کرنے میں .اور .پی.آئی .اے.کے شجاعت عظیم سے مل کر اور پی.آئی .اے.کو کتنا تباہ کرنا ہے .لیاری کے عزیر بلوچ کو میدان میں اتارو .اس سے پوچھو کہ تم کو سپپوورٹ کون کرتا تھا .خالد شاہ کا قتل کس نے کروایا .بے نظیر کے قتل کا مسلح حل ہو جاۓ گا .کس پر لکھوں .بندرگاہ پر لکھوں بھری جہازوں کی کہانیاں لکھوں .بابر غوری کے شپنگ پر لکھوں یا اس کے جہازوں پر لکھوں .سی پورٹ پر لکھوں یا ڈرائی پورٹ پر لکھوں .یا یہ لکھوں کہ اسلامی نظام ملک میں نافذ کیوں نہ ہوا .کون نظام کی تبدیلی کے خیلاف ہے .کون دو نمبر دوایاں بناتا اور بیچتا ہے .یہ آئفرڈرن کیا ہے اس کے کیس کیوں بنتے ہیں .اجینسیاں کون دیتا ہے مال پانی کیسے بنتا ہے کس کس کو مال ملتا ہے .کیوں پاکستان میں شراب وافر مقدار میں ہر جگہ آسانی سے ملتی ہے .اگر چھاونی کے علاقوں میں شراب داخل ہوتی ہے تو پھر اسلح بھی داخل ہونے کے امکانات ہیں .کیا لکھوں کہ ایک دن گھر سے مسجد کی طرف نکلا تو ٹھیک اپنے لان سے ملحقہ جگہ پر دو خالی شراب کی بوتلوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا..کیونکہ میں فوجی علاقے میں رہتا ہوں . .سوچتا ہوں ریمنڈ ڈیوس پر لکھوں یا حسین حقانی  غدار پر لکھوں .اگلی قسط پر آپ کو  چند  واقعات سے نوازوں گا .اگر زندگی رہی تو ..دکھتی رگ پر ہاتھ رکھوں گا ...جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Thursday, August 27, 2015

=====دہشت گردی.سیاست  اور جنرل راحیل شریف ====پہلے مذھب کے ٹھیکیداروں کو تکلیف ہوئی جو اسلام کا نام بدنام کر رہے تھے اور خود کش حملے کروا رہے تھے اور خوب مسلمانوں کا اور پاکستان کا نام بدنام کیا اور جب جنرل راحیل شریف نے ان کے اوپر ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کہ یہ انڈیا کی فنڈنگ پر چل رہے تھے اور ابھی تک چل رہے  ہیں .اور را اجنسی افغانستان میں ان کو ٹریننگ اور اسلح اور مراعات فراہم کرتی تھی اور کرتی ہے .جب راز کھلا تو کئی کی چیخیں نکل گئیں .کچھ بھاگ گیے.کچھ جھنم واصل کر دے گیے.اور مولانا فضل ار رحمان ڈیزل جیسے لیڈر بھی منہ چھپانے کے قابل نہ رہے .مگر ڈھیٹ تو آخر ڈھیٹ ہوتا ہے .اس کا علاج ہونا باقی ہے .یہ مرض کافی سیاستدانوں میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے .جس کا بھی جلد راحیل شریف بندوبست کر لیں گے .انشااللہ .جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا انڈیا سے رشتہ تو پرانہ ہے کوئی ڈھکا چھپا نہیں .ورنہ اب تک کالاباغ ڈیم بن چکا ہوتا اور پاکستان دہشت گردی سے پاک سر سبز ملک بن چکا ہوتا .پھر دہشت  گردی میں ملوث .بھتہ خوری .ٹارگٹ کلنگ .لینڈ مافیا اور را کے اجنٹ الطاف حسین کو تکلیف ہوئی اور متحدہ کی کمائی اور عیاشی پر ہاتھ ابھی دلا ہی گیا تھا کہ انڈیا کو مدد کے لئے پکارنے کا سلسلہ جاری ہو گیا.اور پاکستانی فوج کو متنازعہ بنانے کی کوشش شوروح کر دی گئی .اور پھر جب کرپشن کے بادشاہ زرداری کی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی .تو زرداری نے کہا ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے .اور خورشید شاہ صاحب جو خود بھی کرپشن کی دہشت گردی میں ملوث ہیں .فرما دیا ہے کہ اگر زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو جنگ ہو گی .یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی جنگ کس کے ساتھ ہو گی .کیا جنگ دہشت گردی کے ساتھ ہو گی یا راحیل شریف کے ساتھ یا نواز شریف کے ساتھ یا فوج رینجر کے ساتھ .ذرا کھل کر خورشید صاحب بولیں .جب دہشت گرد کرپشن والی  بلی تھیلے سے باہر آ ہی چکی ہے .یا آپ کا ضمیر جاگ ہی چکا ہے تو کھل کر بات کریں عوام سچ بتائیں .کہ آپ جمہوریت .فوج اور میاں نواز شریف کے ساتھ نہیں تھے .آپ ملک کو نہیں اپنی دہشت گرد کرپشن کو بچا رہے تھے .آپ کو الہام ہو چکا ہے کہ زرداری .گیلانی اور راجہ رینٹل جیسے سب لوگ پکڑے جائیں گے .تو آپ نے الطاف حسین کی طرح شور مچانا شروح کر دیا ہے .آپ کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ آپ کا نام بھی کرپشن کی دہشت گردی میں شامل ہے .اور میرا ایمان ہے کہ اس مرتبہ بھی اگر آپ لوگ بچ نکلے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے .اگر راحیل شریف ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم نہ کر سکا تو پھر کوئی مائی کا لال اس ملک کو خونی انقلاب سے نہیں بچا سکتا .تو خورشید شاہ صاحب  میرا مشورہ آپ کو یہ ہے .شور مت ڈالیں چپ چاپ اپنے آپ کو عزت کے ساتھ احتساب کے لئے پیش کر دیں.اور لوٹا ہوا مال واپس خزانے میں جمہ کروا دیں.آخر آپ کی اوقات کیا تھی ایک آپریٹر ہی تو تھے آپ ..پھر سیاست میں آ کر خوب مال بنایا .اور اگر اب تھوڑا سا مال خیرات کے طور پر ملکی خزانے میں جمع کروا دیں گے تو کونسی قیامت آ جاۓ گی .اور ڈاکٹر عاصم کو بھی سمجھایں کہ پار سے مان جاۓ .لتر پریڈ کی نوبت نہ آے.میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ کرپٹ چور لٹیرے جب کرسی پر بیٹھ کر فرعون و شداد ہوتے ہیں اور جب جیل جاتے ہیں تو میڈیکل سرٹیفکیٹ کے نیچے چھپتے ہیں پھر ان کو ہزاروں بیماریاں لگ جاتی ہیں .خورشید صاحب کی کسی بات سے اتفاق نہیں کرتا صرف ایک بات سے اتفاق کرتا ہوں .کہ سارے پاکستان کی بڑی بڑی اور گندی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جاۓ .کرپشن صرف سندھ میں نہیں پنجاب میں اس سے بھی زیادہ ہے .مگر خورشید شاہ صاحب ذرا یہ بھی تو سوچیں کہ کبھی آپ کی دھمکیاں کبھی زرداری الطاف کی دھمکیاں کبھی انڈیا کی باڈر پر سازش کبھی افغانستان کی طرف سے انڈیا کی طرح کا ساز بجانا اور دوسری طرف اکیلا مرد مجاہد جنرل راحیل شریف ..اس پر بھی غور کر لیں .اس لئے صبر سے کام لو شاہ صاحب .ہم کو علم ہے کہ جب پنجاب کی دوم پر پاؤں آیا تو خواجہ آصف .خواجہ سعد رفیق .پرویز رشید اور رانا سناالله کی بھڑکیں بھی سننے کو ملیں گی .اس لئے خورشید شاہ صاحب اب وقت ہے اگر جمہوریت کو ملک کو .اس پیاری دھرتی کو ہر قسم کی دہشت گردی سے بچانا چاہتے ہو تو اداروں سے تعاون بھی کرو اور اداروں کو آزاد بھی کرو .اداروں کو سیاست سے آزاد رہنے دو .ان کو آپس میں گتھم گتھا نہ کرو .یہی اس ملک کے لئے بہتر ہے یہی تمہارے لئے بھی بہتر ہے .سب اداروں کے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ فوج رینجر اور جنرل راحیل شریف سے تعاون کیا جاۓ .جو پہلی مرتبہ اس ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے .اللہ سے دعا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی اپنے کرم اپنے فضل سے  غیب سے مدد فرماۓ.اآمین ..جاوید اقبال چیمہ .اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Wednesday, August 26, 2015

====تجزیے .تبصرے .مشورے .اور حکمران ===
====حکمران کے لئے ہمارے تبصرے تجزیے مشورے سب کے سب بیکار ہے اور بیکار تصور ہوتے ہیں .جب تک کہ حکمرانوں کے درباری گندی ذہنیت رکھنے والے ہوں .ہماری باتیں حکمران کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں .ہاں اگر یہی باتیں ہمارے مشورے چرا کر درباری قصیدہ خوان حکمران کے سامنے پیش کرے تو درباری کی مانی بھی جاتی ہے قدر بھی ہوتی ہے اور حکمران کی نظر میں اس درباری کی قدرو منزلت میں بھی اضافہ بھی ہو جاتا ہے .اور کبھی کبھی تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کو حکمران عھدہ بھی عطا کرتا ہے اور میڈل بھی .یقین نہ آے تو عرفان صدیقی .پرویز رشید اور .پی.ٹی.وی .کے ایم.ڈی.مالک صاحب کو دیکھ لو .مزید یقین نہ آے تو نجم سیٹھی کو دیکھ لو .کس طرح کرکٹ کو تباہ بھی کر رہا ہے .اور مال بھی کما رہا ہے .احسن اقبال کو دیکھ لو کہ کس طرح صمدی کو ہاکی فیڈریشن کا انچارج بنا دیا گیا ہے .ہر جگہ صمدی ہر جگہ رشتے دار ہر جگہ کمیشن دینے والے دوست .سیف و  رحمان  جیسے .ان لوگوں جیسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں .کہ جن لوگوں کا کوئی حلقہ نہیں ہوتا کوئی ووٹ بینک نہیں ہوتا .وہ سپیشل سیٹ اور سپیشل عہدوں پر لگا دے جاتے ہیں .کوئی کسی وزیر کا رشتہ دار ہوتا ہے اور کوئی چمچہ کوئی قصیدہ خوان .سب تھانیداروں .پولیس افسروں .ڈی.آئی .جی ..اور آئی .جی.اور بیوروکریٹ کا ڈیٹا چیک کر لیں .کسی نہ کسی سے تعلق  ضرور ہو گا .کوئی جس شاخ پر بیٹھا ہے وہ یا سفارش سے بیٹھا ہے یا رشوت کے بل بوتے پر بیٹھا ہے .اور جو ٹیلنٹ کے زور پر بیٹھا ہے وہ صرف اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے جب تک کسی حکمران کی نظر نہیں پڑتی .تو کبھی کبھی یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ جب حکمران آپس میں نجی محفلوں میں بیٹھتے ہیں .تو ہم جیسے لوگوں کو بھونکنے سے تشبیح دیتے ہیں .کہتے ہیں یہ کتے ہیں بھونکنے دو .کیونکہ حکمرانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ جتنا مرضی لکھ لیں جتنا مرضی شور مچا لیں .آخر کار فیصلے تو حکمران نے کرنا ہے .کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا یہ وہ جانتا ہے .حکمران ہماری انقلابی سوچ پر ہنستا ہے مسکراتا ہے .اور وہ ہمارا مذاق اڑانے میں حق بجانب بھی ہے .کیونکہ ہم پاگل ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں آزاد ہیں آزاد ملک کے باشندے ہیں .ہمارا کل روشن ہو گا ہم قوم کے کل کے لئے جد و جہد کر رہے ہیں .مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں .کہ جج حکمران کا عدالت حکمران کی .تھانیدار حکمران کا .ہر افسر حکمران کا ہر ادارہ حکمران کا .اور ہم چلے نظام کو بدلنے ..کیونکہ ہماری سوچ یہ سمجھتی ہے کہ ہم جمہوری دور میں آزاد معاشرے میں جی رہے ہیں .جبکہ ایسا نہیں ہے .اس ملک کی تقدیر بدلنے کے لئے .نظام بدلنے کے لئے .حکمران کی سوچ بدلنے کے لئے .حکمران کی ترجیحات بدلنے کے لئے .ایک انقلاب کی ضرورت ہے .میں نے اپنی ١٢ کتابوں میں بار بار انقلاب کا ذکر کیا .اور کہا کہ جمہوریت ابھی اس قابل نہیں ہے کہ نظام تبدیل کر سکے .اس لئے صرف انقلاب کے ذریعہ ہی نظام تبدیل کیا جا سکتا ہے .اور ملک کو پٹری پر ڈالا جا سکتا ہے .مگر بد قسمتی پاکستان کی کہ پاکستان میں ایک انقلاب تو عوام کی طرف سے آ سکتا تھا .مگر کوئی لیڈ کرنے والا نہ تھا .پھر نظریں بھٹو .ضیاء اور مشرف پر تھیں .مگر پھر بد قسمتی پاکستان کے مقدر میں آئی .اور سبز انقلاب نہ آ سکا .اور اقتدار کی ہوس والے اور عالمی سازشی ٹھیکیدار جیت گہے.اور اب پھر میرے انقلاب کا خواب پورا ہونے کی امید کی کرن روشن ہونے کی گھڑی آ پنہچی ہے .عوام اور پاکستانی قوم کی نظریں جناب جنرل راحیل شریف کی طرف دیکھ رہی ہیں .کہ وہ مرد مجاہد اس ملک میں انقلاب لا سکتا ہے .جو کچھ وہ مرد مجاہد اب تک کر چکا ہے اور مزید کر رہا ہے .وہ سب کردار قابل تحسین  ہے .اور قوم امید رکھتی ہے .کہ اگر جنرل راحیل شریف ملک کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنبھال لے .تو پھر امید کی جا سکتی ہے .کہ پاکستان میں انقلاب آ سکتا ہے .کالا باغ ڈیم بن سکتا ہے .دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے .انڈیا .اس کے حواریوں اور غداروں کو .کرپٹ لوگوں کو نکیل ڈالی جا سکتی ہے .اور پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام دنیا کے نقشے پر حاصل کر سکتا ہے .کشکول کو توڑا جا سکتا ہے .معدنی وسائل کو برووے کار لایا جا سکتا ہے .مگر جو جمہوریت اس وقت دیکھی جا رہی ہے .اس جمہوریت کی چھتری تلے انقلاب لانا نظام تبدیل کرنا مشکل لگتا ہے .اس کی وجہ سب سے بڑی یہ ہے .کہ حکمران خود بذات خود کرپشن میں شامل ہے .اور انصاف اور احتساب کے آگے دیوار ہے .خارجہ پالیسی میں حکمران ناکام ہو چکا ہے .انڈیا کو وہ جواب نہیں دیا گیا جس کا وہ مستحق تھا .ہمارا وزیر اعظم قازکستان جاتا ہے تو ائیرپورٹ پر استقبال وزیر خارجہ کرتا ہے .سوچو ذرا میرے مہربان ..افغانستان بھی انڈیا کی طرح چالیں چلتا نظر آ رہا ہے .سب کے سب اور عالمی طاقتیں بھی جنرل راحیل شریف کے جرات مندانہ اقدامات پر خوش نہیں ہیں .مگر پاکستانی قوم خوش بھی ہے اور دعا گو بھی .میرے انقلاب کی تعبیر کو حتمی شکل دینے والا شخص جنرل راحیل شریف ہے .ہم لوگوں کو جو نظر آ رہا ہوتا ہے .جو دیکھتے ہیں ووہی لکھتے ہیں .جو پہلے ہماری سوچ پر پورے نہیں اتر سکے .اس میں عوام کا  میرا اور آپ کا کیا قصور ..اللہ اس کی مدد فرماۓ .آمین .ثم آمین ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Tuesday, August 25, 2015

====تعصب تعصب تعصب اور دھرنا نمبر دو ====
===رانا سناالله صاحب .پرویز رشید صاحب .سعد رفیق اور دوسرے سارے نون لیگ کے لیڈر ٹھیک اور درست  فرما رہے ہیں .اب جب حکمران خود ہی اقرار جرم کر رہا ہے کہ پاکستان میں نہ کوئی انصاف ہے نہ احتساب اور نہ کوئی نظام ہے نہ آئین و قانون ہے .یہاں صرف تعصب ہی تعصب ہے .یہاں جنگل کا قانون ہے .جس کی لاٹھی اس کی بھینس ..تو پھر میرے دوست میرے مہربان وہ مان کیوں نہیں لیتے کہ جو ہر نزلہ عوام پر ڈالتے ہیں کہ عوام کا قصور ہے جو نا احل چور لٹیرے حکمرانوں کو ووٹ دیتے ہیں .جبکہ ایسا نہیں ہے .اب وقت نے ٦٥ سالوں بعد ثابت کر دیا .کہ یہاں مینڈیٹ چرایا جاتا ہے .یہاں جج عدالتیں .پریزایڈنگ افسر .ریٹرننگ افسر خریدے جاتے ہیں .یہاں ہر شخجس کی قیمت لگتی ہے بولی لگتی ہے .جو نہ خریدہ جاۓ تو اس کو گولی مار دی جاتی ہے .ٹرانسفر کر دی جاتی ہے یا گھر بھیج دیا جاتا ہے .یہاں خریدنے کے لئے ہر حربہ استمعال کیا جاتا ہے .یہاں  ضمیر فروشوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور با ضمیروں کی کوئی جگہ نہیں ہے .یہاں ووہی کامیاب ہے جو بکتا ہے جھوٹ بولتا ہے مکار ہے چلاک ہے فریبی اور دھوکے باز ہے .اب پاکستان میں ایماندار آدمی یا بھوکا مر سکتا ہے یا کلاشنکوف اٹھا سکتا ہے یا کہیں کونے کھدرے میں چپ چاپ اپنا خون جلا کر زندگی کے باقی دن پورے کر سکتا ہے .ہر حکمران ہر صحافی ہر ادارے کے سربراہ کو ہر تھانیدار کو معلوم ہوتا ہے کہ کہاں کہاں جوا شراب نشہ چرس فیم کا کاروبار ہوتا ہے کہاں دو نمبر فیکٹری چل رہی ہے کہاں ملاوٹ اور ضمیر فروشی اور عصمت فروشی کا کاروبار ہو رہا ہے .ہر کوئی چپ ہے یا اپنا حصہ وصول کرتا ہے یا میری طرح ڈرپوک ہے اور طاقتور سے ڈرتا ہے .یا اوپر پنچ نہیں ہے .بھر حال بات ہو رہی تھی .تعصب کی .نون لیگ کے وزیر مشیر سب ٹھیک کہ رہے ہیں .تعصب ہی تعصب ہے .جس جس نے نون لیگ کو ٢٠١٣ کے الیکشن میں جتوایا وہ سب اپنا اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں کچھ وصول کر چکے ہیں .آپ غور کر لیں یہ ریاض کیانی اور نجم سیٹھی وغیرہ وغیرہ کس باغ کی مولی ہیں ان کے سر پر کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ میاں صاحب ان کو اداروں کے اوپر مسلط کیا ہوا ہے .جو با ضمیر لوگ ہوتے ہیں وہ تو اخلاقی طور پر اس بغیرتی کی زندگی سے نوکری سے علیحدہ ہو جاتے ہیں .مگر یہ کتنے بےغیرت ہیں کہ ابھی تک چمٹے ہووے ہیں اور دوسرے دھرنے کو للکار رہے ہیں .کہ کر لو جو کرنا ہے .اور بھوت سارے فنکار ہیں جو دھاندلی کے کھیل میں شامل تھے اور اپنا اپنا حصہ وصول کر رہے ہیں .اگر افتخار چودھری .پی.پی.پی.کے وزیروں کو تنگ کرے تو وہ تعصب نہیں .اگر پانچ سال خادم اعلی کو حکم امتناعی پر چلایا جاۓ تو یہ تعصب نہیں .اگر سعد رفیق کو حکم امتناعی پر وزیر چلایا جاۓ تو یہ تعصب نہیں .اگر نادرہ کا چیرمین جھوٹی رپورٹ دے تو یہ تعصب نہیں .اگر فیصلہ چار مہینے کی بجے ڈھائی سال میں آے تو یہ تعصب نہیں .اگر جوڈیشنل کمیشن تھیلے کھول کر ردی نہیں دیکھنا چاہتا تو یہ تعصب نہیں .اگر جوڈیشنل کمیشن  کے جج بک جاتے ہیں .تاریخ کا بد ترین فیصلہ لکھتے ہیں تو یہ تعصب نہیں .بھٹو کو پھانسی دینا تعصب نہیں .میاں صاحب کے خاندان کو الیکشن جتوانے کے لئے رقم دینا .منی لانڈرنگ اور کرپشن کے سکینڈل منظر عام پر نہ لانا تعصب نہیں .انڈیا کے ساتھ تجارت کرنا پینگیں چڑانا .مودی کو آموں کی پیٹیاں بھیجنا تعصب نہیں .انڈیا سے ہر روز تھپڑ کھانا کوئی عدالت نوٹس نہ لے یہ تعصب نہیں .وزیر پٹرولیم دو سال سے قطر کے ساتھ گیس کا معاہدہ کرنے میں ناکام .کرپشن پر .کوئی عدالت نوٹس نہیں لیتی تعصب نہیں .پاکستان کا اربوں روپے کا نقصان کافی پراجیکٹ پر ہوا اور کیا گیا .کوئی سو موٹو نہیں ہوا .یہ تعصب نہیں .اب عدالتیں عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا نوٹس کیوں نہیں لیتیں .کیا یہ تعصب نہیں .انڈیا کے ساتھ اوفا معاہدہ میں کشمیر کا لفظ  نہیں لکھا گیا .کیا وزیر عظم ذمہدار نہیں .عدالت کہاں ہے جج کہاں ہیں .کوئی نوٹس نہیں لیتا یا تعصب نہیں .ماڈل ٹاون سمیت پنجاب میں ہزاروں غلط فیصلے ہووے .ہزاروں جوڈیشنل کمیشن انکواری جعلی فیصلے .کیا یہ تعصب نہیں .کالاباغ ڈیم پر .نندی پر پر .گوجرانوالہ کے عزیز کراس چوک پر اور بجلی گیس پر ٹیکس پر اور بھوت سارے معاملات پر قوم سے جھوٹ بولا گیا .کیا کسی نے سو موٹو لیا .یہ تعصب نہیں .ایک فیصلہ صحیح آنے پر آپ کو تعصب نظر آنے لگ جاتا ہے .واہ جی واہ .عمران خان کو مشورے دینے والے بھوت ہیں اس لئے وہ فلاپ ہو جاتا ہے کئی بار .ورنہ وہ حکمرانوں کو ان کی کرپشن پر نا اہلی پر ناکوں چنے چبھا سکتا تھا .جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ الیکشن کمیشن کے یہ چاروں سربراہ چور لٹیرے ہیں تو میاں صاحب ان کو گھر کیوں نہیں بھیجتے .کیا یہ تعصب اور چور بازاری  .ہٹ دھرمی .نہیں ہے سینہ زوری اور مکاری نہیں ہے .اس پر سپریم کورٹ کا نوٹس نہ لینا تعصب نہیں ہیں .کیا وزیروں مشیروں کو عوام کے ساتھ  ہونے والی نا انصافیوں پر تعصب نظر نہیں آتا .صرف اپنی چارپائی کے نیچے حکمران کو تعصب نظر آتا ہے .واہ میرے چالباز مکار ڈاکو فریبی حکمران .تجھے ایک بھی جگہ قانون کی حکمرانی والا فیصلہ گوارہ نہیں ہے .عوام مہنگائی .نا انصافی .اور بیروزگاری کی چکی میں پستی نظر نہیں آ رہی .یہاں تجھ کو تعصب دکھائی نہیں دیتا .بجلی کی مد میں اوور بلنگ پر پر اگر کوئی سو موٹو نہیں لیتا تو مجھے تو تعصب نظر آتا ہے مگر میرے پیارے حکمران تجھ کو صرف ایک اچھے فیصلے پر تعصب نظر آ گیا .باقی میرے اوپر کیا گزر رہی ہے اس پر تجھے کوئی تعصب نظر نہیں آتا .اگر میرے حکمران تجھ کو ٹریبونل کے ایک فیصلے پر تعصب نظر آتا ہے .تو مجھ کو بھی یہ حق پنچتا ہے کہ میں یہ کہوں کہ سپریم کورٹ کے ججوں میں مجھے تو تعصب نظر آتا ہے .ورنہ اگر عدالتیں آزاد ہوتیں ملک میں انصاف و احتساب کا قانون ہوتا .یا آئین و قانون کی حکمرانی ہوتی .تو خدا کی قسم زرداری اور میاں برادران اور ان کے سب حواری اس وقت تک جیل میں ہوتے .اور میڈیکل سرٹیفکیٹ دے رہے ہوتے کہ فلاں فلاں مرض لاحق ہو چکا ہے .پرویز مشرف اگر تم کو جیل کی سلاخوں کے اندر بھیجے تو تم کو نظر آتا ہے تعصب .اور اگر ضیاء تم کو کرپشن کے موقعہ دے تو وہ تعصب نہیں .واہ میرے حکمران تو کرتا جا .تعصب .جھوٹ کا مذاق پوری قوم سے .یہ تیرے اختیار میں ہے .مگر یاد رکھ.اگر تو ان لوگوں سے بلدیاتی الیکشن کرواتا ہے جن کے اوپر دھاندلی کے الزام ہیں تو پھر مجھے تعصب کی خوشبو آ رہی ہے .بہتر ہے ان کو الیکشن کمیشن سے فارغ کر دے .اور اگر عمران خان اسی الیکشن کمیشن کے سیٹ اپ کے نیچے بلدیاتی الیکشن لڑتا ہے تو عمران خان لیڈر نہیں کچھ اور ہی ہے .صاف ظاہر ہے حکمران اگر الیکشن کمیشن کے ان بیغیرتوں کو گھر نہیں بھیجتا تو دوسرے دھرنے کی عمران خان کو دعوت دے رہا ہے .اور میں دیکھ رہا ہوں کہ حکمران کا تعصب .الیکشن کمیشن کا تعصب اور ہٹ دھرمی اور سپریم کورٹ کا حکمران کو تحفظ فراھم کرنے کا سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہتا ہے .تو اس تعصب کے خیلاف دھرنا جایز اور قانون کے مطابق  ہے .کیونکہ یہ کہاں کا قانون ہے کہ میرے ساتھ زیادتی بھی ہو اور انصاف بھی نہ دیا جاۓ تو میں احتجاج بھی نہ کروں .یہ دھرنہ اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک  الیکشن کمیشن کے یہ غدار کرپٹ گھروں کو نہیں چلے جاتے .سپریم کورٹ کے ججوں میں اگر کوئی ذرا برابر بھی غیرت ہے .تو انصاف کو بچانے  کی خاطر اور ٹریبونل کے فیصلے کو سراہتے ہووے اس تعصب تعصب کہنے والوں کو سزا دیں .ورنہ ہر کوئی میری طرح آپ کو بھی کرپٹ سمجھے گا .انصاف کے رکھوالوں سے گزارش ہے انصاف کا قتل نہ ہونے دیں .ورنہ ہر عدالت سے میرا اعتماد اٹھ جاۓ گا .جس سے حکمران کو اور سپریم کورٹ کو وقتی طور پر کوئی فرق شاید نہ پڑے گا .مگر ایک وقت آے گا جب آپ سب کو اس تعصب کا حساب چکانا ہو گا .کاش سپریم کورٹ کے چیف کو میری بات سمجھ آ جاۓ ...جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ....٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Saturday, August 22, 2015

=الیکشن ٢٠١٣ فرشتے ذمہ دار ہیں =======
پاکستانی قوم کو مبارک ہو کہ عدالتوں نے جوڈیشنل کمیشن نے ایسے فیصلے دئے ہیں .جن پر صرف آنسو بہانے کو جی کرتا ہے .یہاں حکومتیں وزیر مشیر اور سپیکر قومی اسمبلی حکم امتناعی پر چلتی ہیں .چور کبھی آسانی سے نہیں مانتا کہ میں نے چوری کی ہے .جب چھتر پریڈ ہوتی ہے یا چھترول ہوتی ہے تو ماں جاتا ہے .سوچنا اس بات پر ہے کہ ٢٠١٣  الیکشن کا کون ذمہدار تھا اور کس کو چھترول کا سامنا کرنا پڑا .سوال تو یہ ہے کہ جس کے گھر میں چوری ہوئی ہے وہ تو کہ رہا ہے کہ چوری ہوئی ہے .عدالت کہ رہی ہے کہ چور فلاں  نہیں فلاں ہے .تو عدالت کی نظر میں جو چور تھا یا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے .یہ سب کنفیوزن کے زمرے میں آتا ہے .قربان جاؤں جوڈیشنل کمیشن اور الیکشن کمیشن تم پر اور تمھاری کارکردگی پر .کہ تھیلوں میں ردی نکلی ہے .سیمنٹ کے تھیلے نکلے ہیں .٢٥٠٠٠ ہزار ووٹ تصدیق نہیں ہو سکے .فارم ١٤ اور فارم ١٥ موجود نہیں ہیں .افسروں کے دسخط غایب ہیں .مگر الیکشن میں دھاندلی کوئی نہیں ہے .بے ضابطگی ہے .ذمہدار کوئی نہیں ہے .تو اس کا مطلب ہے ذمہدار فرشتے ہیں .اب سوال یہ ہے کہ فرشتوں کو کون پکڑے گا .واہ واہ کیا بات ہے انصاف کی .عدالت کی .واہ واہ کیا بات ہے .میرے محسن تو ہی بتا کہ کس کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کروں .سارے شہر نے تو دستانے پہنے ہووے ہیں .یہ ہے پاکستان کا نظام .انصاف اور احتساب .جس کی وجہ ہم تباہ و برباد ہو رہے ہیں .معاشرہ برباد ہوا .جس کے ہاتھ میں ہے کمانڈ اینڈ کنٹرول .وہ ہے میرا حکمران .ہر برائی کی جڑھ..اسی لئے جوڈیشنل کمیشن کے فیصلے کے بعد میں نے لکھا تھا کہ میں جوڈیشنل کمیشن کے فیصلے سے متفق نہیں ہوں .کس کس کو خریدو گے میرے حکمران .مزید میں نے لکھا تھا کہ اگر کوئی بھی پاکستان میں اس دھاندلی میں شریک نہیں تھا تو تھیلوں کے اندر ردی ڈالنے والے عوام تھے یا میں تھا .تو براۓ مہربانی مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جاۓ.تا کہ کوئی تو عبرت کا نشان بنے .ونہ پھر اگلے الیکشن میں بھی  یہی ہو گا یا کوئی اور حربہ استمعال کر لیا   جاۓ گا .کہاں ہے انصاف و قانون کی حکمران .کہاں ہے آئین و قانون کی حکمرانی .کہاں ہیں اخلاقیات .عدالتوں ججوں پر پریشیر بھی حکمران کی طرف سے ہوتا ہے میری طرف سے یا عوام کی طرف سے نہیں ہوتا .پاکستان میں ہر وقت ہر دور میں سپریم کورٹ نے اپنا اہم کردار ادا نہیں کیا .ہر وقت نظریہ ضرورت ہی دیکھنے کو ملا .یہ قوم کے ساتھ کیا مذاق ہے . نیچے والی عدالتیں اور ٹریبونل فیصلے کریں اور سپریم کورٹ اس فیصلے کو رد کرے یا حکم امتعنائی کی صورت میں قانون کے ساتھ کھیلے اور پھر دو دو یا تین تین سال حکم امتناعی کی چھتری میں چوروں ڈاکوؤں کو تحفظ فراہم کرے .مزید قوم کے ساتھ مذاق یہ ہے کہ ٦٥ سالوں کی تاریخ میں ہم قوم کو یہ نہیں بتا سکے کہ دھاندلی ہوتی کیا ہے اس کی تشریح کیا ہے .ہر عدالت بے ضابطگی بے ضابطگی لکھ کر چوروں کو تحفظ دے رہی ہے .تو پھر دھاندلی کس بلا کا نام ہے .بے ضابطگیاں کس کے لئے کی گیں اور کیوں .فایدہ کس نے اٹھایا .یہاں ٦٥ سالوں سے سب بغریتیاں ہو رہی ہیں اور دھاندلی کس کس طرح ہوتی اور کروائی جاتی ہے .سب کو علم ہے .کبھی اجنسیوں کی طرف سے لسٹ بنتی ہے کبھی عالمی طاقتوں کے کچھ مہرے ہوتے ہیں .کبھی این .آر .او .ہوتا ہے .کبھی ریٹرننگ اور پریزایڈنگ افسروں کی اور کبھی بیوروکریسی انتظامیہ کی بے غیرتیاں ہوتی ہیں .کبھی را الیکشن میں فنڈنگ کرتی ہے کبھی عالمی قوتیں .این .جی .اوز .کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرتی ہیں .مگر دھاندلی میں ملوث فرشتے کبھی منظر عام پر نہیں آے.مجھے موللانا ضیاء ڈکٹیٹر کا زمانہ یاد آ رہا ہے .کہ جس نے غیر جماعتی الیکشن کرواۓ .ریفرینڈم کروایا اور بعد میں پچاس پچاس لاکھ میمبروں کو دے کر خریدہ گیا جونیجو کے لئے .اور غیر جماعتی کو جماعتی بنایا .روٹ پرمٹ دے کر اور مراعات دے کر ایوب خان نے بھی یہی کام کیا .جناب مشرف صاحب نے بھی یہی کام کیا کہ جو کرپٹ چور ڈاکو لوٹا اس کے ساتھ مل گیا وہ پاک صاف .اور جو نہیں ملا وہ غداری.بغاوت .کے زمرے میں آیا اور چور ڈاکو ٹھہرایا گیا .یہ معیار ہے حکمران کی دھاندلی کا .ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے .سنتے چلیں .ہم گوجرانوالہ غلام دستگیر صاحب کے گھر میں تھے جہاں وزیر اعلی پنجاب غلام حیدر وائیں صاحب تشریف فرما تھے .تو اس وقت کے .ایم .پی.اے.مہر محمد سلیم صاحب نے کہا کہ وزیر اعلی صاحب مسلم لیگ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے کہ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ کو جتوانے کے لئے ڈپٹی کمشنر اختر علی مونگا نے ہم سے  پچاس  لاکھ رشوت لی ہے .تو وزیر اعلی نے اس مسلم لیگ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا .جو شاید کبھی بھال نہ ہو سکے .تو یہ ہے حکمرانوں کے نزدیک  دھاندلی کا معیار .پاکستان کے ہر ہونے والے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور لگاتار ہوتی ہے .مگر قربان جاؤں اپنی عدالتوں پر ججوں پر اور سپریم کورٹ پر کہ اس کو کبھی کوئی دھاندلی نظر نہیں آئی .بس بڑی بڑی بے ضابطگیاں نظر آتی ہیں .جس کے لئے ہر کوئی بے بس ہے کہ بے ضابطگی کے لئے کوئی قانون نہیں ہے .کیا کریں کس کو پکڑیں .کسی راہ چلتے فقیر کو پکڑیں کہ وہ سڑک پر چلتے چلتے لوگوں کو بتا رہا تھا کہ فلاں سکول کے فلاں کمرے میں اور فلاں ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ٹھپے لگ رہے ہیں .کیا کریں کس کس بد عنوانی بے غیرتی .نا انصافی پر آہو زاری کریں .قربان جاؤں حکمران کے مشیروں پر جنہوں نے منظم دھاندلی کا لفظ لکھ کر عمران خان کے شطرنج کے مہروں کو ایسے مات دی جیسے لارڈ ماونٹ بیٹن اور فرھنگی سرکار پاکستان کو کشمیر کے معاملہ پر مات دے گیا تھا .اور قربان جاؤں سپریم کورٹ پر جوڈیشنل کمیشن کے ججوں پر جنہوں نے یہ کہ کر بادشاہ سلامت کو خوش کر دیا کہ منظم نہیں بے منظم فرشتوں کی غلط حرکتوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے .دھاندلی نہیں ہوئی .جیسے یہ اللہ کی طرف سے مدد نہیں تھی .اللہ نے تو کافروں کے لشکر کو ختم کرنا تھا .سو اس نے ابابیل کو حکم دیا .اپنی چونچوں میں کنکریاں لے لو اور مار دو کافروں کے لشکر پر .اور جب پاکستان کی سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ چلا تو معزز جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی مدد نہیں تھی .یہ تو بس غیبی طاقت تھی اور نصرت تھی مدد نہیں تھی .جیسے آجکل کہا جاتا ہے دھاندلی نہیں بے ضابطگی تھی ..یہ ایسے بھی ہے مثال کے طور پر کہ امیر کا بچہ سڑک پر پاخانہ کر رہا ہو تو وہ پیار سے مہذب طریقے سے اخلاقی طریقے سے گگاہ کر رہا ہوتا ہے اور یہی کام اگر غریب کا بچہ کر رہا ہو تو وہ گند پھیلا رہا ہوتا ہے .واہ میری انصاف دینے والی عدالتو .ایک سپریم کورٹ کا جج بغض معاویہ میں وزیر اعظم کو گھر بھیج دیتا ہے .دوسرا جج ایک پنجاب کی حکومت کو پانچ سال حکم امتعنائی پر چلا دیتا ہے .یہ ہیں پاکستان کی عدالتیں جو محب وطن کو پھانسی پر لٹکا دیتی ہیں اور غداروں کو آدھی آدھی راتوں میں عدالتیں لگا کر اندھیرے میں با عزت چھوڑ دیتی ہیں ..واہ میرے فرشتو .قربان جاؤ تم پر تمھارے فیصلوں پر .میں تو تمھارے فیصلوں سے  مطمئن نہیں ہوں .یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ قاتل کو یہ کیہ کر چھوڑ دیں کہ آلہ قتل تو اس کے گھر سے برآمد ہوا ہے .ریوالور پر اس کی انگلیوں کے نشانات بھی ہیں .مگر قاتل کہ رہا ہے کہ گواہ لاؤ .اور گواہ ڈرتے ہیں کہ ہمارے بال بچوں کو مروا دے گا .اور حکومت گواہ کو تحفظ نہیں دے سکتی اس لئے قاتل کو با عزت بری کیا جاتا ہے .اس بنیاد پر کہ گواہ عدالت کو بتا چکا ہے کہ قاتل خطرناک ہے .اب فرشتوں کو بولو وہ گواہی  بھی دیں.تحفظ بھی فراھم کریں اور تفتیش بھی کریں .کیونکہ انصاف دینا عدالتوں کا ججوں کا کام نہیں ہے .ججوں کا کام تو بادشاہ سلامت کی خوشنودی ہے .حکمران کی زبان سے نکلے ہووے الفاظوں جملوں کو فتوؤں کی صورت میں لاگو کرنا .چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے .اگر اس ملک میں رہنا ہے تو اس ملک کے آئین و قانون کو سمجھنا ہو گا .ورنہ جنگل میں چلے جاؤ .جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے ...جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..٠٠٩٢٣٠٢٦٢٣٤٧٨٨ 

Thursday, August 20, 2015

======عمران خان کی ایک اور غلطی========
ہر انسان کا اپنا اپنا نقطۂ نذر ہوتا ہے .اپنی اپنی راۓ رکھنا اس حد تک جایز ہے .جس کی حدود میں اللہ اور نبی کے احکامات نہ آئیں.جہاں اللہ اور میرے نبی کا حکم آے.وہاں میری راۓ زیرو .مگر سیاست میں سب چلتا ہے یہاں جھوٹ فریب دھوکہ لوٹ کھسوٹ چوری اچکاری سینہ زوری سب الفاظوں کے  مطلب میرے اپنے ہوتے ہیں .کوئی رشوت کو کرپشن کو ڈاکے کو اپنا حق سمجھتا ہے .کوئی بد دیانتی کو خیانت کوئی خیانت کو بھی اپنا حق اور زور بازو سمجھتا ہے .غرض کہ جب انسان پٹری سے اترتا ہے تو پھر اترتا ہی چلا جاتا ہے .ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں .خیر چھوڑیں یہ لمبا ٹاپک ہے سیاست میں سب چلتا ہے خاص کر پاکستانی سیاست ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی.جہاں یہ کہا جا سکے کہ میں عبادت کر رہا ہوں یا پاکستان کی سالمیت کی حفاظت کے لئے میدان میں آیا ہوں یا عوام قوم کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں ہوں .چند لوگوں کو چھوڑ دیں.وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جو شاید اس منزل پر گامزن ہوں .مگر باقی ٩٥ پرسنٹ اللہ معاف کرے .ان کا مقصد پیسہ بنانا شہرت حاصل کرنا اور دنیا سمیٹنا ہے .دوسری گزارش یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ جمہوریت کی روح کو سمجھ سکے .یہاں اقتدار میں بھی اور پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت نہیں بادشاہت اور ڈکٹیٹرشپ ہے .یہاں سیاست خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے .خاص کر جو پارٹیاں اقتدار تک پہنچتی ہیں ان کا قد کاٹھ خاندانی ہوتا ہے جمہوریت نہیں .سواۓ جماعت اسلامی کے .تیسری بات جو پاکستان کی سیاست میں اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہماری سیاست میں کن ٹوٹے بدمعاش .جاگیردار .وڈیرے .سرمایادار کا بھوت عمل دخل ہے .پراڈو .پجارو اور چار غنڈے کلاشنکووف والوں کے بغیر سیاست کیسے ہو سکتی ہے .عام آدمی کی تو تھانیدار بات نہیں سنتا .ابھی ہم یورپ کے مقابلے میں ٩٨ پرسنٹ پیچھے ہیں .میں اٹلی میں رہتا ہوں تو میں نے آج تک پولیس سٹیشن جا کر کبھی سفارش یا رشوت کا سہارا نہیں لیا .اس لئے پاکستان میں ابھی تک عام آدمی پارٹی آگے نہیں بڑھ سکی .کیونکہ فنڈ اور فنڈنگ کے بغیر یہاں کوئی ہیرو نہیں بنتا .مقرر نہیں بنتا .شاعر نہیں بنتا .کالم نگار .تجزیہ نگار نہیں بنتا .عالم .خطیب .مولانا .حضرت .وغیرہ وغیرہ نہیں بنتا .مثال کے طور پر پیپلز پارٹی سے زرداری اور بھٹو خاندان کو نکال دو .باقی پارٹی عام آدمی پارٹی رہ جاۓ گی اور بن جاۓ گی .ایم.قیو.ایم .سے الطاف کو نکال دو .پارٹی عوامی ہو جاۓ گی ..جے .یو .آئی .سے ملنا فضل رحمان عرف ڈیزل کو نکال دو .پارٹی عام پارٹی ہو جاۓ گی .عوامی نیشنل پارٹی سے ولی خان باچا خان سرمایا دار نکال دو .عام آدمی پارٹی رہ جاۓ گی .نہ انڈیا سے ڈوللر ملیں گے نہ کالا باغ ڈیم کی مخالفت ہو گی .قاف لیگ سے چودہری گروپ نکال دو .باقی دیکھ لو کیا رہ جاۓ گا .نون لیگ سے شریف خاندان نکال دو .پارٹی ختم ہو جاۓ گی .سوچو ذرا کیا رانا سناالله اور شیر علی پارٹی چلا لیں گے .کیا ایک میان میں دو دو تلواریں سمو دو گے .کیا خواجہ آصف اور چودہری نثار نون لیگ چلا سکتے ہیں .نہیں ایسا نہیں ہے .کچھ لوگ اپنے والدین کی وراثت کی سیاست کما رہے ہیں .کچھ خاندان ہیں جن کا انچارج نہ ہونا پارٹیوں کے چلنا دشوار ہوتا ہے پاکستان میں .یہ پاکستان کا کلچر ہے .جس کو تبدیل کرنے کی بات عمران خان کر رہا ہے .مگر یہ کلچر تبدیل کرنے کے لئے جو طریقہ عمران خان ڈونڈھ رہا ہے .وہ غلط ہے .اب ایک ایسا نسخہ میں عمران خان کو بتا کر اس کو ذلت سے بچا لوں .کیوں .کیا عمران خان میرے چاچے کا پتر ہے .پہلے ہی میں اس کو اتنے نسخے مخت میں بتا چکا ہوں .مجھے کیا ملا .میں تو لوٹوں کا مخالف ہوں .لوٹے کیا ملک کی تقدیر بدلیں گے .ضیاء اور مشرف کے لوٹے کونسا نظام تبدیل کریں گے .کچھ بےغیرت اقتدار کی خاطر تحریک انصاف میں چلے گہے ہیں .کچھ میاں برادران کے ساتھ پھر حلوے پر حلوہ کھاے جا رہے ہیں .لوٹوں کی ہر دور میں عیاشی ہے .خواجہ آصف .خواجہ سعد رفیق .چودہری گروپ .چودہری نثار وغیرہ اور بھوت سارے اپنے والدین کی کمائی کھا رہے ہیں .کسی کے والد نے انگریزوں کے کتے نہلاۓ.کسی کے والد نے ایوب کا ساتھ دیا اور فاطمہ جناح کی مخالفت کی .کوئی اسلام کے نام پر کوئی مہاجروں کے نام پر قوم کو بیوقوف بنا رہا ہے .ہم کو بھی شرم آتی ہے جب فضل رحمان ڈیزل کے والد کے بارے میں سوچتے ہیں تو .کیونکہ وہ واقیی ایک اچھے کھرے مسلمان پاکستانی تھے .مگر یہ کیا ہے اللہ معاف کرے مجھے .تو یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد کیا تھا کہ عمران خان کو بتاؤں کہ تم غلطیاں کر رہے ہو .تم پاکستان کی عوام کو سمجھو .معاشرے کو سمجھو .سیاست کی بغیرٹیوں کو سمجھو .یہاں موروثی سیاست چلتی ہے .سیدھی انگلیوں سے یہ گھی نہیں نکلے گا .یہ برادری سسٹم بدمعاشی والا نظام فرھنگی والا نظام اتنی آسانی سے نہیں بدلے گا .جاگیروں کا نظام ختم کرنے کے لئے جاگیرداروں کو سرمایداروں کو وڈیروں کو کن ٹوٹے بدمعاشوں کو پارٹی سے باہر نکالنا ہو گا .تب جا کر عام آدمی پارٹی بنے گی .تب انقلاب آے گا .تب نظام بدلے گا .ایک جاگیردار وڈیرے سرمایا دار کو نکالو گے تو وہ اکیلا رہ جاۓ گا اور اگر ایک ورکر دل برداشتہ ہو گا تو ١٠٠ ورکر کا نقصان ہو گا .ھری پور ایبٹ آباد میں نتیجہ دیکھ لیا .لوٹے تیرے ساتھ مخلص نہیں نہ ملک سے مخلص ہیں یہ صرف اپنے مفادات کے لئے تحریک انصاف میں آ رہے ہیں .چودھری سرور کس قماش کا انسان ہے اس کی کیا حیثیت ہے یہ زیرو تھا .شریف برادران نے ایک مردہ قبر سے نکال کر گوورنر بنایا تا کہ نہ بولے نہ چل پھر سکے گا نہ ہم کو تنگ کرے گا .اب آپ اس کو ہیرو بنا رہے ہو .گوجرانوالہ کا میرا عزیز ناصر چیمہ کونسا نظام تبدیل کر کے تجھے دے گا .یہ لوگ اقتدار کے بھوکے لوگ ہیں .لوٹے کبھی ادھر کبھی ادھر .جو لوگ اقتدار کے مزے لے چکے ہیں .ان میں چند لوگ ہیں جو واقعی نظام کی تبدیلی کے حق میں ہیں .ہر پارٹی کے اندر کچھ کریم ہوتی  ہے اور ہے مگر ان کی کوئی کم ہی سنتا ہے .اسی لئے وہ بد دل ہو کر کنارہ کر لیتے ہیں .اور اگر عمران خان یہ سب کچھ انقلاب کے بغیر تحریک چلاۓ بغیر یہ سمجھتا ہے کہ پارلیمنٹ  سے جمہوریت سے جمہوری طریقے سے انقلاب لانا ہے نظام تبدیل کرنا ہے .ان چوروں لٹیروں کو استمعال کر کے .فیصلے پارلیمنٹ میں خود اکیلا کرے گا .اور ان سے پیشگی استفاہ لے کر ان کو پارٹی ڈسپلن کا پابند کرے گا .تو پھر ٹھیک ہے .ہاتھ پاؤں باندھ کر منزل مل سکتی ہے .مگر اگر ان سے پوچھا گیا تو یہ لوٹے وقت آنے پر جاوید ہاشمی کی طرح دغا دے دیں گے .تو میں اپنی اصل بات کی طرف آتا ہوں تمہاری غلطی کی طرف .کہ جب تم سب کچھ اس ماحول اس معاشرے اس کلچر اس نام نہاد منافقت والی جمہوریت کے اندر رہتے ہووے کرنا چاہتے ہو .تو پھر یہ سمجھ لو کہ ریہام خان کا سیاست میں رہنا تحریک انصاف میں رہنا پارٹی کے مفاد میں ہے .ورکروں کے مفاد میں ہے .عمران خان اگر تم کو کچھ ہو جاتا ہے تو ریہام خان صرف پارٹی کو سنبھال سکتی ہے .ورنہ پارٹی عمران خان کے بعد ختم .تم اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرو .ریہام خان کو پارٹی قیادت کے لئے سیاست میں ڈالو .ہری پور کا الیکشن ریہام خان کی وجہ سے نہیں ہارے .ریہام خان کی وجہ سے تحریک انصاف کو فایدہ ہو گا نقصان نہیں ..اس کی اور وجہ ہے .عمران خان کی سب سے بڑی غلطی وہ تھی جب اس نے راحیل شریف کی گارنٹی کو ٹھکرایا تھا .بھوت سارے مشورے تجھ کو دینا چاہتا  ہوں .مگر تمہارے لیڈروں کی وجہ سے بد دل ہو چکا ہوں .پھر کبھی سہی. جب تم کو میری ضرورت پیش آے گی .ویسے آج کل سب پارٹیوں کے لیڈر ایک جیسے ہی ہوتے جا رہے ہیں .مادیت پرست .فیصلہ ورکروں پر چھوڑتا ہوں ..جاوید اقبال چیمہ ..اٹلی والا ..